نئے جوتے

 فلسطین کے ایک سکول میں استانی نے بچوں سے ٹیسٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والوں کو انعام کا وعدہ کیا کہ جو بھی فرسٹ آیا اس کو نئے جوتے ملیں گے ٹیسٹ ہوا سب نے یکساں نمبرات حاصل کیے اب ایک جوڑا سب کو دینا نا ممکن تھا اس لیے استانی نے کہا کہ چلیں قرعہ اندازی کرتے ہیں جس کا بھی نام نکل آیا اس کو یہ نئے جوتے دیں گے اور قرعہ اندازی کے لیے سب کو کاغذ پر اپنا نام لکھنے اور ڈبے میں ڈالنے کا کہا گیا۔ 

استانی نے ڈبے میں موجود کاغذ کے ٹکڑوں کو مکس کیا تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہوجائیں اور پھر سب کے سامنے ایک اٹھایا جوں ہی کھلا تو اس پر لکھا تھا وفا عبد الکریم سب نے تالیاں بجائی وہ اشکبار آنکھوں سے اٹھی اور اپنا انعام وصول کیا۔ کیوں کہ وہ پٹھے پرانے کپڑوں اور جوتے سے تنگ آگئی تھی۔ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا اور ماں لاچار تھی اس لیے جوتوں کا یہ انعام  اس کے لیے بہت معنی رکھتی تھی۔ 

جب استانی گھر گئی تو روتی ہوئی یہ کہانی اپنے شوہر کو سنائی جس پر اس نے خوشی کا اظہار کیا اور ساتھ رونے کی وجہ دریافت کی تو استانی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی کہ مجھے رونا وفا عبد الکریم کے جوتوں سے زیادہ دیگر بچوں کی احساس اور اپنی بے حسی پر آتا ہے۔ جب میں نے ڈبے میں موجود دیگر کاغذ کے ٹکڑوں کو چیک کیا تو سب نے ایک ہی نام لکھ دیا تھا “وفا عبد الکریم” ان معصوم بچوں کو وفا عبد الکریم کے چہرے پر موجود لاچاری کے درد اور کرب محسوس ہوتا تھا لیکن ہمیں نہیں جس کا مجھے افسوس ہے۔


میرے ایک استاد بتایا کرتے تھے کہ بچوں کے اندر احساس پیدا کرنا اور عملا سخاوت کا درس دینا سب سے بہترین تربیت ہے۔ ہمارے کئی اسلاف کے بارے میں کتابوں میں موجود ہے کہ وہ خیرات، صدقات اور زکوات اپنے ہاتھوں سے نہیں دیتے بلکہ بچوں کو دے کر ان سے تقسیم کرواتے تھے جب پوچھا گیا تو یہی وجہ بتائی کہ اس سے بچوں کے اندر بچپن سے انفاق کی صفت اور غریبوں و لاچاروں کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

دھوکہ مت دیجیے

عرب کے ایک بوڑھے کے پاس ایک بہت خوبصورت اور تیز رفتار گھوڑا تھا. لوگ اس کى منہ مانگی قیمت پر خریدنے پر تیار تھے مگر وہ اسے کسى قیمت پر فروخت کرنے کو تیار نہیں تھا. جہاں گھوڑے کی خوبیاں تھی وہاں اسے فروخت نہ کرنے کی ایک وجہ اس گھوڑے سے اس کی گہری محبت بھی تھی۔

 گھوڑے کى شہرت سُن کر ایک روز عرب کا نامى گرامی شہسوار اس بوڑھے کے پاس آیا اور ایک خطیر رقم کے عوض گھوڑے کا سودا کرنا چاہا۔

لیکن بوڑھے نے کسى قیمت پر گھوڑا نہ دینے کا پکا ارادہ کر رکھا تھا۔

شہسوار جاتے وقت بولا " ایک بات یاد رکھنا جو چیز مجھے پسند ہوتی ہے میں اسے حاصل کر کے رہتا ہوں "

خیر وقت گزرتا گیا اور بوڑھا شخص کچھ دنوں بعد اس بات کو بھول چکا تھا۔ ایک روز وہ بوڑھا اپنے گھوڑے پر سوار کسى جنگل سے گزر رہا تھا کہ اس نے راستے میں ایک کمزور اور بیمار آدمی دیکھا جو کسى سواری کا محتاج تھا۔ اس نے بوڑھے سے اپنی مجبوری اور ضرورت کا حال انتہاٸی درد انگیز الفاظ میں بیان کیا اور  مدد کی درخواست کی۔بوڑھا نہایت رحم دل تھا اسے اس مجبور انسان پر فورا ترس آگیا۔ چنانچہ بوڑھے نے بغیر حیل و حجت کے اسے اپنا قیمتی گھوڑا دے دیا۔ وہ آدمی گھوڑے پر سوار ہوتے ہى تندرست و توانا اور خوش نظر آنے لگا۔ اب اُس نے اپنے چہرے سے چادر اُتارى تو بوڑھا حیران ھو گیا کہ یہ تو وہی شہسوار تھا۔

 شہسوار نے ہنستے ہوئے زہر بھرے لہجے میں کہا اے بوڑھے میں نے کہا تھا نا کہ مجھے جو پسند ہو وہ میں لے کر ہی دم لیتا ہوں ۔ دیکھو میری مہارت کہ تم نے خود اس گھوڑے کی لگام اور ملکیت مجھے سونپ دی ہے 

اس کی بات سن کر بوڑھے نے کہا اب گھوڑا تمھارا ہی ہے تم نے واقعی اسے حاصل کر لیا ہے اب میں تم سے اسے واپسی کا مطالبہ نہیں کروں گا البتہ میری تم سے ایک التجا ہے کہ اگر لوگ تم سے اس گھوڑے کے بارے میں پوچھیں تو کہنا کہ بوڑھے نے تحفہ دیا ہے۔ شہسوار نے کہا میں ایسا کیوں کہوں۔

بوڑھے نے کہا : اگر یہ کہو گے کہ مجھ جیسے بوڑھے کو تم نے ایک ضرورت مند بن کر بیوقوف بنایا اور اپنی من پسند چیز حاصل کر لی تو لوگ ضرورت مندوں پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیں گے اور کوئی کسى کى مدد نہیں کرے گا کہ کہیں ہمیں بیوقوف تو نہیں بنایا جا رہا...

منقول

زیادہ چھان بین نہ کرو

 امام عبدالرحمن الباھلی نے، اپنے ایک خطبہ میں، خانگی معاملات میں حد سے زیادہ سیانے پن کا مظاہرہ کرنے، بال کی کھال اتارنے اور شک کے ماحول میں رہنے کے نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے ایک واقعہ سنایا: 

"میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ ساحل پر ٹھہر کر غروب آفتاب کا خوبصورت منظر دیکھتے ہوئے اس کے  دل میں ایک خیال آیا اور اس نے ایک پریکٹیکل تجربہ کرنے کا ارادہ کیا۔ ڈوبتے سورج سے بنی شفق کی روشنی  سے سحر انگیز منظر کی ویڈیو بنائی اور اسی ویڈیو کے درمیان میں اپنی آواز میں پیغام ریکارڈ کرتے ہوئے کہا: میری عالی القدر پیاری بیوی: ان خوبصورت لمحات میں تمہیں یاد کیا، اپنے دل کو تمہارے پیار سے لبریز پایا، اور تم جیسی بیوی کو پانے پر اللہ جل شانہ کا شکر ادا کرتے ہوئے الحمد للہ پڑھا"۔ 

شیخ الباھلی کے مطابق ان کے اس دوست کی دو بیویاں تھٰیں، اس نے وقت بچانے کے لیے یہ کلپ بیک وقت ہی اپنی دونوں بیویوں کو علیحدہ علیحدہ بھیج دیا۔ اس کا مقصد دونوں کے لیے خوبصورت پیغام دینا اور پیار کے جذبات کا اعادہ کرنا تھا۔ 

کلپ بھیجتے ہی ایک بیوی کا پیغام ملا کہ اللہ پاک آپ کو سلامت رکھیں، آپ کے چہرے کا نور سلامت رہے، ایمان اور صحت کی سلامتی ملے۔ آمین۔ یاد رکھنے اور بہت ہی پیارا اور خوبصورت کلپ بھیجنے کا بہت بہت شکریہ۔ 

دوسری بیوی کا بھی اسی لمحے پیغام ملا: یہ کلپ میرے لیے ہی بنایا ہے یا اپنی دوسری چہیتی کے لیے؟ دیکھ لو غلطی سے تو نہیں بھیج دیا مجھے۔ 

الباھلی کہتے ہیں: اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے: کس نے اس لمحے کو کیش کرایا ہے اور دل جیتا ہے؟ پہلی نے یا دوسری نے؟ دیکھئے: عائلی اور خانگی زندگی میں زیادہ سیان پتی کو چھوڑیے، اپنی زندگی کو جئیں، مزے کو خراب کرنا بند کیجیے۔ کچھ عورتیں اپنی زندگی کو اپنی ضرورت سے زیادہ دانائی کی وجہ سے برباد کرتی ہیں۔ تغاباؤ: نادان اور جاہل بننے کی کوشش کیا کرو، یاد رکھو کہ نادان کبھی بھی اپنی قوم کا سردار نہیں ہوا کرتا مگر قوم کا سردار وہی ہوتا ہے جو اپنے آپ کو نادان اور ناسمجھ بنا کر رکھتا ہے۔ (لیس الغبی بسید بقومہ، لکن سید القومہ المتغابی)۔ یعنی وہ سب سمجھتا ہے لیکن چشم پوشی کرتا ہے اور معاملات چلنے دیتا ہے۔ اپنے معاملات کو چلتے رہنے دیا کرو، زیادہ چھان بین اور جانچ پڑتال نہ کیا کرو۔


بشکریہ ڈاکٹر عدنان شہدی

ﻧﯿﻠﺴﻦ ﻣﯿﻨﮉﯾﻠﮧکی معافی


ﻧﯿﻠﺴﻦ ﻣﯿﻨﮉﯾﻠﮧ ﺩﻭ ﺩﮨﺎﺋﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻭﻗﺖ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﺎﻵﺧﺮ ﺳﺎﻭﺗﮫ ﺍﻓﺮﯾﻘﮧ ﮐﮯ ﺻﺪﺭ ﺑﻦ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﯿﮑﻮﺭﭨﯽ ﭨﯿﻢ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺷﮩﺮ ﮔﮭﻮﻣﻨﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﯿﮟ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮨﻮﭨﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﮯ۔

ﻭﮨﺎﮞ ﺍُﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺁﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ

ﻧﯿﻠﺴﻦ ﻣﯿﻨﮉﯾﻠﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﯿﮑﻮﺭﭨﯽ ﺍﻓﺴﺮ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺍُﺱ ﺷﺨﺺ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮭﺎﺋﮯ۔

ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺁﮔﯿﺎ، ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍُﺳﮑﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﺮﯼ ﻃﺮﺡ ﮐﺎﻧﭗ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺧﺘﻢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻭﮦ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻧﯿﻠﺴﻦ ﻣﯿﻨﮉﯾﻠﮧ ﮐﺎ ﺳﯿﮑﻮﺭﭨﯽ ﺍﻓﺴﺮ ﺑﻮﻻ ﯾﮧ ﺷﺨﺺ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺳﮑﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﺎﻧﭗ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺣﺎﻟﺖ ﺑﮭﯽ ﭨﮭﯿﮏ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ۔

ﻧﯿﻠﺴﻦ ﻣﯿﻨﮉﯾﻠﮧ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﺭﺍ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺷﺎﯾﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﮨﯽ ﺳﻠﻮﮎ ﮐﺮﻭﻧﮕﺎ ﺟﻮ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻋﺎﺩﯼ ﺗﮭﺎ۔

ﻧﯿﻠﺴﻦ ﻣﯿﻨﮉﯾﻠﮧ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﺗﮭﺎ ﯾﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﮔﺎﺭﮈ ﺗﮭﺎ، ﯾﮧ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺷﺪﯾﺪ ﺗﺸﺪﺩ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﺎ، ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮉﮬﺎﻝ ﮨﻮ ﮐﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺮ ﭘﺮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ

ﺁﺝ ﺍﺳﮑﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﺎﻧﭗ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺻﺪﺭ ﮨﻮﮞ ﺍﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﻘﺎﻡ ﻟﻮﻧﮕﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻧﺘﻘﺎﻡ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﺟﺰﺑﮧ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻗﻮﻡ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺩ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﺮﺑﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺻﺒﺮ ﺍﻭﺭ ﺻﻠﮧ ﺭﺣﻤﯽ ﮐﺎ ﺟﺬﺑﮧ ﻗﻮﻡ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺩ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ۔۔

ﻧﯿﻠﺴﻦ ﻣﯿﻨﮉﯾﻠﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﯾﮏ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﺳﭻ ﺍﻥ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ " ﮐﻤﺰﻭﺭ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺧﯿﺮ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ۔