استاد بدلتے ہیں تقدیر

 ہم 1988 میں جب نویں کلاس میں پڑھتے تھے ، اس وقت اسکول یونیفارم میں اونٹ کے رنگ کی شلوار قمیض اور سفید جوتے ہوتے تھے ۔

ہیڈ ماسٹر صاحب یونیفارم کے معاملے میں بہت سختی سے پیش آتے تھے اس لئے تمام طلباء یونیفارم پہن کر آتے تھے سوائے دو ایک کے جو غریب تھے۔

ایک دن صبح کی اسمبلی کے دوران میٹرک کے طالب علم بیکھو مٙل بغیر یونیفارم کے اسمبلی کی قطار میں کھڑا تھا ، جیسے ہی ہیڈ ماسٹر کی نظر اس پر پڑی بہت ہی غصے میں بیکھو مٙل کو کالر سے پکڑ کر باہر لیکر آیا ، ہیڈ ماسٹر کا غصہ دیکھتے ہوئے بیکھو مل زور زور سے کہنے لگا 

سائیں میری بات سنیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری بات سنیں 

  میرا باپ باسو مل غریب آدمی ہے وہ مجھے کہاں سے یونیفارم اور جوتے لیکر دے ؟ 

مجھے آپ ماریں نہیں میں کل سے اسکول نہیں آؤں گا ۔

ہیڈ ماسٹر استاد غلام حیدر کھوکھر نے اسے چھوڑ دیا اور اسٹیج پر چڑھ کر تمام طلباء سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کے بعد بیکھو مٙل ایک ایک کلاس میں آئے گا ، آج آپ کو جو خرچی ملی ہے وہ آپ بیکھو مل کو دے دینا تاکہ وہ یونیفارم خرید کر سکے۔ 

 میرے پاس حسب معمول آٹھ آنے جیب خرچ ملتا تھا سوچا آج کے دن سموسہ نہیں کھاؤں گا وہ میں بیکھو مل کو دے دوں گا ۔

کلاس میں ابھی بیٹھے ہی تھے کہ کلاس کے ٹیچر استاد فقیر محمد حیات ہسبانی کلاس میں آ گئے ، تھوڑی دیر بعد بیکھو مٙل بھی استاد سے اجازت لیکر ہماری کلاس میں داخل ہوا ۔

اس کے ہاتھ میں ایک ایک روپے کے چند نوٹ اور کچھ سکّے تھے جو شاید اس نے اپنی کلاس سے جمع کئے تھے ۔

استاد فقیر محمد حیات ہسبانی بہت غصے میں تھے ہم سب کو منع کیا کہ کوئی بھی اس کو پیسے نہیں دے گا اور بیکھو مٙل کی جانب دیکھتے ہوئے غصے میں کہا کہ ڈوب نہیں مرتے جو بھیک مانگتے پھرتے ہو ۔ 

کیا غربت کی آڑ میں ساری زندگی بھیک مانگتے پھرو گے ؟

واپس اپنے کلاس میں جاؤ اور جن جن سے پیسے لئے ہیں ان کو واپس کر کے آؤ میں تمہیں یونیفارم لیکر دوں گا 

بیکھو مٙل استاد کے کہنے پر واپس اپنی کلاس میں گیا اور سب کو ان کے پیسے واپس کر کے آ گیا ۔

استاد فقیر محمد حیات ہسبانی نے پوچھا کہ شام کے وقت کون سا کام کر سکتے ہو ؟

بیکھو مٙل نے جواب دیا کہ میرا باپ موچی ہے ، میں بوٹ پالش کرنا اور جوتوں کی مرمت کا کام کر سکتا ہوں مگر میرے پاس سامان خرید کرنے کیلئے پیسے نہیں ہیں۔   

  استاد نے پوچھا کتنے پیسے چاہئے ہونگے ؟

اس نے کہا ایک لکڑی کی پیٹی اور چند برش ، پالش وغیرہ سب ملا کر کوئی ڈیڑھ سو روپے چاہئے ان میں سب سامان آ جائے گا ۔ 

استاد نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ڈیڑھ سو روپے گن کر دیئے اور کہا کہ یہ ادھار ہے ، تم مجھے روز کے حساب سے ہر ہفتے سات روپے واپس کرنا۔

اس کے بعد مجھ سے کاپی مانگی اور اس کے تین کورے صفحات پھاڑ کر نکال لئے اور ان پر کچھ لکھنے لگے تینوں چٹھیاں بیکھو مٙل کو دیتے ہوئے کہا ایک چٹھی رشید پنجابی کو دینا وہ تمہیں کپڑا دے گا اور تمہیں ایک روپے روزانہ کے حساب سے اس کا قرض واپس کرنا ہے ، دوسری چٹھی خالق منگی کو دینا وہ تجھے نئے جوتے دے گا اسے بھی ایک روپیہ روز کے حساب سے قرضہ واپس کرنا ہے ، یہ تیسری چٹھی یوسف درزی کو دینا وہ تمہیں یونیفارم سی کر دے گا اسے بھی ایک روپے روزانہ دینے ہیں، چار روپے قرضہ اتارنے کیلئے تمہیں ہر صورت میں اتنا کمانا ہیں تاکہ تم قرضہ چکا سکو اور اسے کے بعد تمہیں اپنی محنت کے ذریعے آگے بڑھنا ہے 

ایک بار بھیک مانگنے کی عادت پڑ گئی تو ساری زندگی بھیک مانگتے ہی گزرے گی 

بیکھو مٙل وعدہ کر کے چلا گیا بعد میں استاد نے ہمیں کہا کہ آپ لوگ اپنے جوتوں کی مرمت اور بوٹ پالش ہمیشہ بیکھو مٙل سے کروایا کریں 

وقت تیزی سے گزر گیا 12 سال پلک جھپکتے گزر گئے 

1999 میں ہائے اسکول کرونڈی میں دسویں کلاس کے طلباء کی الوداعی پارٹی ہو رہی تھی ، استادوں کے ساتھ شہر کی معززین کو بھی دعوت تھی۔

تقریر کرنے کیلئے شہر کی ایک بڑی فلور مل کے معزز جنرل منیجر بیکھو مٙل کو دعوت دی گئی ، کاٹن کے سوٹ میں ملبوس ، ماتھے پر ری بین کا چشمہ رکھے اپنی تقریر میں اسی اسکول میں پیش آئے 1988 کا قصہ سناتے ہوئے زار و قطار روتے ہوئے اسٹیج پر بیٹھے اپنے استاد فقیر محمد حیات ہسبانی کے پیروں کو چھوتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ایک کامل استاد نے مجھے بھیک مانگنے سے بچایا اور محنت کا سبق دیا ۔

 (محترم محمد ایوب قمبرانی کی سندھی تحریر کا اردو ترجمہ)

 آج کل مدد کے نام پر جو بھیک بانٹی جا رہی ہے, اس سے ھم مستقل بھکاری پیدا کئے جا رہے ہیں ، اس کی تصیح کے لئے بھی کسی استاد فقیر محمد حیات حیسبانی جیسا مرد قلندر درکار ھے

‏عربی مصنف کی تجاویز پر ہمارا تبصرہ

 ✅ اپنی یادداشت پر بھروسہ نہ کریں، تمام معاملات کاغذ پر تحریر کر لیا کریں

♧ آجکل تو یہ کام بہت آسان ہے۔ موبائل کے نوٹ پیڈ یا اپنے نام واٹس ایپ کرکے رکھ لیں۔


 ✅ اور جب آپ گھر خریدنا یا تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو 3 اہم چیزیں یاد رکھیں۔ لوکیشن، لوکیشن، لوکیشن۔

♧ اہم ترین لوکیشن سہی لیکن مکان تعمیر کرتے وقت چار باتوں کا اسی ترتیب و ترجیح سے خیال کیجئے (1) پرائیویسی (2) سیکیوریٹی (3) آرام دہ (4) خوب صورتی


 ✅ کسی کو اس کی مزدوری اس کا کام ختم ہونے سے پہلے نہ دو۔

♧ آج کل کے مزدوروں کے منفی رویوں کیلئے یہی نسخہ کارگر ہے۔ انہیں ایڈوانس کبھی نہ دیں۔ اگر یومیہ مزدوری دینی ضروری ہو تو مزدوری کا کچھ حصہ روک لیجئے تاکہ وہ اگلے روز لازمی آئے۔ بقایا اجرت کام مکمل ختم ہونے پر دیجئے۔


‏✅  کسی دوست کو قرض دینے سے پہلے یہ سوچ لیں کہ آپ دونوں کو کھو سکتے ہیں

♧ اگر قرض بڑی رقم پر مبنی ہو اور اس کی لازمی واپسی مطلوب ہو تو اسٹامپ پیپر پر

معاہدہ لکھوالیجئے اور واپسی کی تاریخ بھی، دو مشترکہ احباب کی گواہی کے ساتھ۔لیکن اگر چھوٹی موٹی معمولی رقم ہو تو اسے ہمیشہ قرض حسنہ کی نیت سے دیجئے اور کبھی تقاضا نہ کیجئے۔ واپس مل گیا تو ٹھیک ورنہ صدقہ 


 ✅  اپنے جیون ساتھی کا انتخاب احتیاط سے کریں کیونکہ وہ آپ کی 90 فیصد خوشی یا ناخوشی کا ذمہ دار ہے۔

♧ صاحب استطاعت مرد کم از دو شادیاں کریں۔ ایک کریں گے تو بیوی آپ سے لڑا کرے گی۔ دو کریں گے تو آپ کیلئے ایک دوسرے سے لڑیں گی اور آپ کی حیثیت اہم ہوجائے گی 


 ✅  اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا دن اچھا گزرے تو دیر سے نہ سوئیں۔

♧ رات دس تا صبح چار بجے کی نیند دگنی آرام دہ ہوتی ہے یعنی یہ 6 گھنٹے دیگر اوقات کے 12 گھنٹوں کی نیند کے برابر ہوتی ہے۔ اس 6 گھنٹہ کی نیند کے ساتھ دوپہر کھانے کے بعد 60-40 منٹ کا قیلولہ آپ کو بقیہ 17 گھنٹے چاق و چوبند رکھے گا ان شاءاللہ 


 ✅  اور جب آپ کسی دوست

‏کی کار ادھار لیں تو اسے واپس کرنے سے پہلے تیل کی ٹینکی بھر لیں اور بہتر ہے کہ ادھار لینے کو عادت نہ بنائیں۔

♧ گاڑیوں کا لین دین نہ کرنا ہی مفید ہوتا ہے۔ دوسروں کی گاڑی چلانے سے آپ اور گاڑی دونوں کمفرٹ زون میں نہیں رہتے۔ لیکن اگر گاڑیوں کا لین دین معمول اور ناگزیر ہو تو چلاتے وقت زیادہ احتیاط کیجئے۔


 ✅  موبائل فون کو اپنی زندگی کے خوبصورت لمحات برباد نہ کرنے دیں۔ جیسا کہ یہ فون آپ کی سہولت کے لیے بنایا گیا تھا نہ کہ اس کے لیے جو آپ کو کال یا میسج کرتا ہے۔

♧ موبائل زندگی کو خوب صورت تر، ویل انفارمڈ اور آرام دہ بنانے کیلئے استعمال کیجئے۔


‏✅  جب آپ کی والدہ کہتی ہیں کہ آپ کو ایسا کرنے پر پچھتاوا ہو گا تو آپ اکثر پچھتائیں گے۔

♧ بزرگوں بالخصوص والدین کی عام باتوں پر بھی خصوصی دھیان دیجئے کہ ان کی چھٹی اپنی اولاد کے معاملہ میں خاصی تیز ہوتی ہے


 ✅  بہادر بنو، اور اگر تم بہادر نہیں ہو تو بہادر بننے کا دکھاوا کرو۔ کوئی بھی فرق محسوس نہیں کرے گا۔

♧ لیکن بہادر بننے کا دکھاوا کرتے وقت آپ ایسا کچھ نہ کرلیں کہ مصیبت میں پڑجائیں


 ✅  جب آپ کو کوئی اچھی کتاب نظر آئے تو اسے خرید لیں بھلے آپ نے ‏وہ پہلے سے پڑھ رکھی ہو یا نا پڑھی ہو۔

♧ اگر وہ کتاب آپ کے پاس موجود ہو، تب بھی خرید لیجئے۔ اپنے کسی عزیز کو تحفہ دینے کیلئے۔


 ✅  اس شخص کے ساتھ پارٹنرشپ نہ کریں جو تین بار ناکام ہوچکا ہو۔

♧ آج کل پارٹنر شپ نہ کرنا ہی بہتر ہے۔ لیکن اگر کبھی پارٹنر شپ کرنا ناگزیر ہو تو اس پارٹنر شپ کی مدت کم سے کم رکھئے اور اس مدت کو پارٹنرشپ معاہدہ میں لکھ لیجئے تاکہ پارٹنرشپ ختم کرتے ہوئے کوئی تنازعہ پیدا نہ ہو، جو کہ بالعموم اور اکثر ہوتا ہے۔


 ✅ آپ کے بچے جب سولہ سال کی عمر میں پہنچ جائیں تو ان کے فارغ وقت میں انہیں کام کرنے کی ترغیب دیں لیکن اگر اس سے پہلے بھی ممکن ہو تو زیادہ بہتر ہے۔

♧ لیکن اگر آپ کا بچہ کوئی پیشہ ورانہ یا مشکل تعلیم حاصل کررہا ہو یا آپ صاحب حیثیت ہوں تو بچے کو کام برائے پیسہ کی بجائے شوقیہ ہنر یا مفید مشغلہ جیسے باغبانی وغیرہ میں مشغول کرائیے۔


 ✅  اگر آپ کوئی چیز دو ‏بار سے زیادہ بار ادھار لیتے ہیں تو بہتر ہے اسے خرید لیں۔

♧ ادھار یا قرض سے ممکنہ حد پر پرہیز کیجئے۔


 ✅  مشکوک جگہوں سے دور رہیں، برے واقعات صرف وہاں ہوتے ہیں۔

♧ مشکوک افراد اور مشکوک چیزوں سے بھی دور رہئے


 ✅  جو اپنا پیسہ صحیح خرچ کرنے میں ناکام رہتا ہے وہ اپنی زندگی کی ہر چیز میں ناکام ہے۔

♧ جیسے آپ پیسے کمانا سیکھتے ہیں، ویسے ہی پیسے خرچ کرنا بھی سیکھئے۔ اس کام کیلئے اپنے سے کسی سینئر دولت مند سے مشورہ ضرور کیجیے کیونکہ کمانا آنے سے زیادہ اہم خرچ کرنا آنا چاہئے۔


 ✅  جب کوئی آپ سے سوال کرے تو اس کا جواب نہ دینا ہو تو ‏مسکرا کر کہیں: آپ یہ بات کیوں جاننا چاہتے ہیں؟

♧ یاد رکھئے، ہر بات ہر ایک سے کہنے کی نہیں ہوتی۔ کسی کو کوئی بات از خود یا پوچھنے پر بتانے سے قبل یہ ضرور سوچئے کہ کیا یہ بات اسے بتانا ضروری ہے؟ کیا یہ بات جان کر یہ شخص میرے لئے فائدہ مند ثابت ہوگا یا نقصان دہ؟


 ✅  تین چیزیں آپ کو کبھی نہیں کھونی چاہئیے۔ برداشت، خود اعتمادی، اور گاڑی کی چابیاں۔

♧ چابیاں کوئی بھی ہوں، اسے کھونے سے بچائیں اور متبادل چابی ایسی جگہ رکھئے، جہاں سے بوقت ضرورت بآسانی دستیاب ہوسکے۔


 ✅  یہ توقع نہ رکھیں کہ آپ کی بدحالی میں آپ کے بچے آپ کی نصیحتیں سنیں گے۔

اپنے ریٹائرمنٹ پلان میں خود کو بچوں کا محتاج بنانے سے بچائیں۔ اپنی متبادل آمدن، کاروبار اور جائیداد کے کلی اختیارات بچوں کو دینے سے بچیں۔ البتہ کاروبار یا جائیداد کا کچھ حصہ بچوں کو دے سکتے ہیں تاکہ وہ بھی مطمئن رہیں اور آپ سے متنفر نہ ہوجائیں۔


 ✅  اور اپنی بیوی کے بہترین دوست بنیں۔

♧ یا کم از کم دوست بننے کا دکھاوا کریں۔ بیوی کو خوش رکھنے کیلئے اس سے جھوٹ بولنا بھی شرعا" جائز ہے۔ بیوی کو اپنے جملہ مالی معاملات آمد و خرچ سے کبھی آگاہ نہ کریں۔ بڑے مالی پروجیکٹ سے اسے کبھی مکمل آگہی نہ دیں نہ ہی اس سے ایسا مشورہ طلب کریں کہ یہ کام کروں یا نہ کروں؟ یہ مشورے قریبی ایسے مردوں سے کئے جاتے ہیں جو متعلقہ تجربہ رکھتے ہیں۔ البتہ اجمالا" بیوی سے پروجیکٹ کا تذکرہ کیا جاسکتا ہے۔ بیوی کے فیڈ بیک اور مشوروں کو بغور سنئے مگر کوئی وعدہ نہ کیجئے کہ آپ لازما" ان مشوروں پر عمل بھی کریں گے۔


‏✅ کبھی یہ نہ کہنا کہ میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے، تمام عظیم لوگوں کے پاس 24 گھنٹے تھے اور اس میں اضافہ نہیں ہوا۔

♧ وقت کی قلت کا شکوہ بے ہنر اور فارغ لوگ ہی کیا کرتے ہیں۔ آپ بخوشی جتنا زیادہ مفید کام کرتے جائیں گے، آپ کے وقت میں کشادگی اور برکت آتی جائے گی ان شاءاللہ 


 ✅ اور اپنے بستر کے قریب ہمیشہ ایک پنسل اور سفید کاغذ رکھا کریں، کچھ سنہری خیالات آپ کے دماغ پر بنا بتائے دستک دیتے ہیں اور اگر آپ انھیں بروقت نہیں لکھتے ‏تو ان سے محروم رہ جائیں گے

♧ آپ یہ کام موبائل پر بھی کرسکتے ہیں جو آجکل ہر فرد کے ساتھ 24 گھنٹہ ہوتا ہے۔


 ✅ تعریف ہر کسی کو پسند ہے، لہٰذا اس میں کوتاہی نہ کریں مگر منافقت سے بچیں۔

♧ شریعت میں منہ پر تعریف کرنا کوئی مستحسن عمل نہیں ہے۔ البتہ ضروت پڑنے پر یا حوصلہ افزائی کی خاطر کسی کی تعریف کی جاسکتی ہے۔ کسی کے سامنے اس کی غلط باتوں اور غلط عمل پر تنقید ضرور کرنی چاہئے، لیکن حکمت کے ساتھ اور عمدہ طریقے سے۔


✅ اپنے بچوں کے ساتھ کھیلتے ہیں تو انہیں موقع دیں کہ وہ کھیل ہی کھیل میں آپ سے جیت سکیں۔

♧ ہار جیت سے زیادہ اہم یہ ہے کہ آپ اپنے بچوں کے ساتھ مل کر کھیل اور تفریح کیلئے بھی وقت لازما" نکالیں۔


✅ اپنے بچوں کے سامنے بیوی کو تنقید کا نشانہ نہ بنائیں، چاہے کوئی بھی مسئلہ ہو۔ 

♧ اسی طرح بیویاں بھی بچوں کے سامنے شوہر سے نامناسب گفتگو یا رویہ اختیار نہ کریں۔ اپنے اختلافی معاملات کو ممکنہ حد تک بچوں سے دور رکھیں اور انہیں تخلیہ میں نمٹائیں 


‏✅ جب آپ کسی کمرے یا میٹنگ میں داخل ہوں تو اس طرح داخل ہوں جیسے آپ اس جگہ کے مالک ہوں.. اس کا مطلب ہے کہ آپ کو اپنے آپ پر اعتماد ہے۔

♧ پر اعتمادی کا مظاہرہ ضرور  کیجئے لیکن اوور کانفیڈنس ہونے سے بچئے۔ اور وہاں موجود لوگوں میں اپنی حیثیت کا ادراک کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھئے۔ کیونکہ اوور کانفیڈنس ہونے سے حادثات جنم لیتے ہیں۔ خواہ ایسا گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے ہو یا انسانوں کو ڈرائیو/ ڈیل کرتے ہوئے ہو۔


 ✅  انکار کرنا سیکھو، لیکن اس کی عادت نہ ڈالو۔

♧ ہر ایک کی ہر بات ماننے والی نہین ہوتی۔ اس لئے بوقت ضرورت احسن طریقے سے انکار کرنے کا ہنر آنا اور آزمانا ضروری ہے۔


 ✅  اور جب سب شرم سے خاموش ہوجائیں تو کھڑے ہو کر اپنی خوبصورت رائے کا اظہار کریں۔

♧ لیکن شرمندہ ہوجانے والوں کو مزید شرمندہ کئے بغیر۔ تاکہ وہ آپ کی باتوں صرف سنیں نہیں بلکہ دل دے قبول بھی کریں۔


‏✅ اپنے مالی معاملات پر ایسے لوگوں سے بات نہ کریں جن کے پاس آپ سے بہت زیادہ یا پھر بہت کم ہے۔

♧ صرف اپنے ہم پلہ اور ہم شعبہ لوگوں سے اپنے مالی معاملات پر گفتگو کریں۔


 ✅ جب آپ کسی ریستوران میں مہمان ہوں تو اپنے میزبان کی طلب کردہ سے زیادہ مہنگی چیز نہ مانگیں۔

♧ میزبان کے اصرار پر ہی اپنی پسند کا اظہار کریں۔ لیکن اگر آپ میزبان سے زیادہ اس ریستوران میں آتے جاتے ہوں تو میزبان کو یہاں کی خصوصیت سے پیشگی آگاہ کرسکتے ہیں۔


 ✅ آخر میں اپنے آپ پر رحم کریں اور بانجھ بحثوں سے دور رہ کر اپنی صحت کو محفوظ رکھیں۔

♧ بانجھ بحثوں سے دور ضرور رہیں لیکن اگر کہیں غلط بات ہورہی ہو تو دلائل کی مدد سے حکمت کے ساتھ گفتگو، مکالمہ یا بحث سے یکسر گریز نہ کریں۔

وتبتل الیہ تبتیلا

 ابو سورت المزمل کی تلاوت کر رہے تھے. جب اس آیت پر پہنچے، و تبتل الیہ تبتیلا تو ابو نے بے ساختہ چونک کر کہا تھا. کیا خوبصورت آیت ہے. سبحان اللہ.

تلاوت ختم کی تو ابو نے مجھ سے پوچھا تھا : اس کا ترجمہ آتا ہے؟ "وتبتل الیہ تبتیلا "میں نے ترجمہ بتا دیا کہ " سب سے بے نیاز ہو کر اسی کی طرف متوجہ ہو جاؤ" 

ہاں.. اور اس کا ایک ترجمہ یہ بھی لکھا جاتا ہے کہ، "سب سے ٹوٹ کر اسی کے بن رہو" ابو نے مزید کسی مفسر کا ترجمہ بتایا تھا.

جی. ویسے مجھے ذاتی طور پر لگتا ہے. یہ ممکن نہیں ہوتا. شاید بہت زیادہ نیک لوگوں کے لیے ممکن ہوتا ہو کہ ان کے دل میں بس خدا رہتا ہو. ہم جیسے لوگوں کے دل میں دوستیاں ہوتی ہیں. دنیا کی ہزار محبتیں ہوتی ہیں. دنیا سے بے نیاز ہو جانا تھوڑا سا مشکل لگتا ہے مجھے. اخیر عمر میں شاید کبھی یہ بے نیازی مل جائے ہمیں بھی. 

ابو نے بالکل یوں دیکھا تھا جیسے کوئی سمجھدار شخص کسی بے وقوف بچے کی بات پر مسکراتا ہے اور کہنے لگے : تو بھئی کون کہہ رہا ہے کہ دنیا چھوڑ دو. دوستیاں چھوڑ دو. جنگلوں میں نکل جاؤ. اللہ اللہ کرو. تو ہی دل میں خدا آئے گا یا دنیا سے بے نیازی ملے گی. دنیا سے بے نیاز ہونے کا فارمولا تو بہت ہی سادہ ہے.

تمہارے بہت سے دوست ہوں گے. لیکن کوئی ایک ایسا ضرور ہوگا جو باقیوں کی نسبت زرا سپیشل ہوگا. تم اس کا فون پہلی بیل پر اٹھا لیتی ہو گی. کسی چیز پر مشورہ کرنا پڑے تو اس کا نام سب سے پہلے ذہن میں آتا ہوگا. کوئی پوچھے کہ سب سے اچھا دوست کون ہے تو سوچے سمجھے بغیر اس کا نام منہ پر آ جاتا ہوگا. کہیں جانے سے پہلے اسے بتاتی ہوگی.

اس کی موجودگی میں تمہیں فکر نہیں ہوتی ہوگی اگر مزید کوئی ایک دوست بھی ساتھ نہ ہو تو. وہ ایک واحد sufficient ہوتا ہے. ہمیں کافی ہوتا ہے. وہ ساتھ ہو تو مزید کسی کی ضرورت نہیں رہتی. یہ سب اس ایک سپیشل ون کے ساتھ اس لئے ہوتا ہے، کیونکہ ہم نے اسے باقیوں کی نسبت ترجیح دی ہوتی ہے. اسے ذرا خاص سمجھا ہوتا ہے. وہ ہمارے لیے اہم ہوتا ہے.

خدا کے ساتھ بھی انسان کا یہی معاملہ ہے. اس سے محبت کرنے، وفاداری نبھانے اور باقی دنیا سے بے نیاز ہونے کے لیے کوئی ریاضت نہیں چاہیے ہوتی ہے. بس خدا کو ترجیح دینا شروع کر دو. وہ تمہارے لیے ساری دنیا کے مقابلے میں کافی ہو جائے گا.

اذان کی آواز آئے تو اسے ترجیح دیتے ہوئے باقی کام چھوڑ کر پہلے نماز پڑھ لو. دنیا جہان کا کوئی کام کرنے سے پہلے بس رک کر ایک سیکنڈ کے لیے سوچ لو کہ کہیں اس میں خدا کی نافرمانی تو نہیں. لوگوں کے ساتھ نرمی کا معاملہ رکھو تو نیت یہ ہونی چاہیے کہ اللہ نے صلہ رحمی کا حکم دیا ہے. اپنے کاموں کو ترتیب دیتے ہوئے اس میں نماز اور قرآن کا وقت پہلے الگ کر لو. پھر باقی شیڈول بناؤ.

یہ چھوٹے چھوٹے سے کام ہیں. ان ميں خدا کو ترجیح دینی شروع کرو. دنیا سے بے نیاز وہ خود کر دے گا. جب دل، اس کے ذات کے گرد گھوم رہے ہوں تو انسان کو اس کے علاوہ کسی اور کے متعلق کچھ سوچنے کی ویسے ہی فرصت نہیں ملتی.

خدا کو ترجیح دو گی تو وہ تمہیں ایسا بنا دے گا کہ دنیا والے تمہیں ترجیح دینے لگیں گے. لیکن اس وقت انسان کو دنیا کی پروا نہیں رہتی. وہ ایسی شاندار اور عظیم محبت چکھ چکا ہوتا ہے کہ باقی سب خودبخود بے حیثیت ہو کر رہ جاتا ہے اور یہی وہ پوائنٹ ہوتا ہے جہاں پھر کہا جاتا ہے کہ "ہمارا دل ساری دنیا سے کٹ کر اسی ایک کا ہو کر رہ گیا ہے"

وتبتل الیہ تبتیلا 

حضرت ابودحداح اور کھجوروں کا باغ

 ایک صحابی آئے یا رسول اللہ میرا پڑوسی ہے اس کی کھجور ٹیڑھی ہو کر میرے گھر میں چند اس کی شاخیں ہیں۔ اس پر جب پھل لگتا ہے اور ٹوٹ کر گرتا ہے تو میرے بچے اٹھا لیتے ہیں ہم غریب ہیں تو وہ بھاگتا ہوا آتا ہے اور آکر میرے بچوں کے منہ میں سے کھجور کو نکال لیتا ہے۔ یا رسول اللہ آپ اس کو کہیں کہ میرے چھوٹے چھوٹے بچوں پر اتنی زیادتی نہ کرے۔ آپ نے اسے بلایا وہ منافق تھا۔ آپ نے فرمایا بھئی ایک سودا کرتے ہو؟ اس نے پوچھا کون سا سودا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ کھجور کا درخت مجھے دے دو اور اس کے بدلے میں تمہیں جنت میں کھجور کا درخت لے کر دونگا۔ وہ کہنے لگا یارسول اللہ یہ اصل میں میرے بچوں کو بہت پسند ہے اگر کوئی اور کھجور ہوتی تو میں دے دیتا  تو یہ میری معزرت ہے یا رسول اللہ اور چلا گیا۔

ایک صحابی بیٹھے تھے ابو دحداح وہ کہنے لگے یا رسول اللہ اگر میں وہ کھجور کا درخت لے دوں تو مجھے جنت میں کھجور کا درخت لیں دیں گے آپ؟ آپ نے فرمایا ہاں تو مجھے لے دے اس کے بدلے میں تمہیں جنت میں کھجور کا درخت لے دوں گا۔ وہ صحابی اٹھ کر اس منافق کے پیچھے چلے گئے اور بلایا اے بھائی بات سنو، کھجور کا درخت کتنے کا بیچو گے؟ اس نے کہا میں نے اللہ کے نبی کو نہیں دیا تمہیں کیسے دے دوں۔ انہوں نے کہا اچھا بھائی منہ سے بول کتنے پیسے لو گے۔ تو اس نے جان چھڑانے کے لیے کہا کہ اپنا سارا باغ مجھے دے دے اور یہ ایک کھجور کا درخت لے لے اور باغ میں 600 کھجور کے درخت اور یہ کھجور کا درخت کسی اور کو دینا ہے وہ کہنے لگے پکے ہو؟ سودے سے پھرو گے تو نہیں؟ کہا میں پاگل ہوں کہ میں مکر جاؤں گا مجھے 600 کھجور کے درخت مل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا مجھے منظور ہے کھجور کا درخت میرا اور سارا باغ تیرا۔

 ابودحداح گئے اور باغ کے باہر کھڑے ہوگئے اندر بھی داخل نہ ہوئے اور جیب میں جو پیسے تھے وہ بھی زمین کے اندر ڈال دیے کہ یہ بھی باغ کی کمائی ہے اور باغ کا جنت کے بدلے سودا کر دیا ہے اللہ کے نبی سے اور اپنی بیوی کو آواز دی باہر آؤ یہ باغ اب ہمارا نہیں ہے، اس باغ کا اللہ کے نبی کے ساتھ سودا کر آیا ہوں بیوی نے جب اللہ کے نبی کا نام سنا تو وہ بھی بچوں کو لے کر باغ سے باہر آگئی اور کہا تم نے بہت خوبصورت سودا کیا۔

حضرت ابو دحداح اللہ کے نبی کے پاس گئے  یارسول اللہ میں نے سودا کر لیا ہے۔ فرمایا ابو دحداح کیسے کیا سودا ؟ کہا یارسول اللہ سارا باغ دے دیا اور وہ کھجور کا درخت لے لیا۔ اللہ کے نبی نے فرمایا پھر میرا سودا بھی بدل گیا اور فرمایا میرے ساتھی میں اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا ہوں اللہ نے تیرے لیے جنت میں ایک محل نہیں سینکڑوں محل بنا دیے ہیں اور ایک باغ نہیں ہزاروں باغ تیرے لیے تیار کر دیے ہیں۔ اور جب حضرت ابودحداح فوت ہوئے تو اللہ کے نبی نے فرمایا میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں ایک لاکھ جنت کے کھجور کے درخت ابو دحداح کے جنازے کے اوپر جھکے ہوئے ہیں۔


بحوالہ 

مسند عبد بن حمید: 1334

ابن حبان: 71

الطبرانی: 763

الحاکم: 2/20

شعب الایمان: 3451

سائیکل صحت افزا اور دوست سواری

 سائیکل چلانا ایک ایسی صحت مند سرگرمی ہے جو بچوں اور بڑوں کے لیے یکساں مفید ہے، اس سے جسمانی تندرستی اور چستی حاصل ہوتی ہے جبکہ بچوں کو مستعد رہنے اور توجہ مرکوز کرنے میں مدد دیتی ہے۔

سائیکل ایک سادہ، سستی، قابل اعتماد، صاف ستھری اور ماحولیاتی لحاظ سے پائیدار ذرائع آمدورفت ہے، جو ماحولیاتی انتظام اور صحت کو فروغ دیتی ہے۔

سائیکل چلانا ایک بہترین ورزش ہے جس سے ہم اپنا وزن کم کر سکتے ہیں، دل کی بیماریوں سے نجات حاصل کر سکتے ہیں اور اپنے مسلز کو مضبوط اور لچک دار بنا سکتے ہیں۔

 سائیکل چلانے کے 7 اہم فوائد 

دل صحت مند رہتا ہے

سائیکل چلانے سے دل مضبوط ہوتا ہے، یہ پھیپھڑوں کو صحت مند رکھنے کے ساتھ ساتھ دل کی ہر قسم کی صحت کو برقرار رکھ سکتے ہیں، اس سے بلڈ پریشر کم ہوتا ہے، دل کی بیماریوں اور اسٹروک سے نجات ملتی ہے۔

وزن کو قابو میں رکھنے کا آسان طریقہ

سائیکلنگ کیلوریز جلانے کا ایک موثر طریقہ ہے جس سے آپ اپنے جسم کے وزن کو قابو میں رکھ سکتے ہیں، یہ ہلکی پھلکی ورزش ہے جو کہ ہر عمر کے افراد کے لیے موثر ہے۔

مسلز مضبوط اور لچک دار بنتے ہیں

سائیکلنگ زیادہ تر جسم کے نچلے حصے کے مسلز پر اثرانداز ہوتی ہے، اس سے مجمموعی طور پر مسلز مضبوط ہوتے ہیں اور اُن کی بناوٹ اچھی بنتی ہے،  اس کے علاوہ سائیکلنگ سے گھٹنے لچک دار بنتے ہیں۔

ذہنی صحت پر مثبت اثرات

باقاعدگی سے سائیکل چلانے سے اینڈورفنز نامی ہارمُون ریلیز ہوتا ہے جس سے ہمارا مُوڈ قدرتی طریقے سے اچھا ہو جاتا ہے، اس سے ڈپریشن، بے چینی، ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے اور انسان میں بھلائی اور خوشی کی لہر دوڑتی ہے۔

پیچیدہ بیماریوں کو خطرہ کم ہوتا ہے

سائیکلنگ سے دل کی بیماریوں کے علاوہ دوسری پیچیدہ بیماریاں جیسے ٹائپ 2 ذیابیطس، کینسر اور موٹاپا ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں

سائیکلنگ ایک وزن برداشت کرنے والی ورزش ہے جس سے ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں جبکہ فریکچر اور اوسٹیوپروسس کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

جوڑوں کے کام کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے

سائیکلنگ کم اثرانداز ہونے والی ورزش ہے جس سے جوڑوں پر ہلکا دباؤ پڑتا ہے، اس سے جوڑوں خاص طور پر گھٹنوں، کو لہوں اور ٹخنوں کے کام کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔

میچلز

 یہ تصویر برطانوی شہری فرینک جے میچل کی ہے، جس کی زندگی کی ساری جمع پونجی ایک افریقی ملک میں کی گئ سرمایہ کاری میں ڈوب گئ تھی- اس وقت فرینک کی عمر محض 47 سال تھی- وہ مالی بدحالی کے ساتھ ہندوستان آگیا تھا جہاں اس کے تین بھائ مختلف کاروبار کررہے تھے- ایک بھائ کشمیر میں قالین بافی کے کاروبار سے منسلک تھے- 

فرینک نے کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹانا شروع کردیا- چند سال کے بعد وہ برطانیہ واپس گیا اور ہندوستان واپس آتے ہوئے ٹراوٹ مچھلی کے انڈے ساتھ لے آیا- پہلی کوشش ناکام رہی، لیکن دوسری کوشش کامیاب ہوگئ- کشمیر میں اس نے ٹراوٹ مچھلی کی پہلی ہیچری قائم کی اور اس بے حد قیمتی مچھلی کو اس خطے میں متعارف کروایا-  مہاراجہ کشمیر نے اسے فشریز کے محکمے کا اعزازی ڈائریکٹر بنادیا-

برطانوی راج میں گورنر پنجاب نے اسے 700 ایکڑ زمین لیز پر دے دی اور ہدایت کی کہ پھلوں کے درختوں کے تجربات کرے- انیسویں صدی کے آغاز میں فرینک جے میچل نے خیری مورت میں اٹلی سے درآمد شدہ زیتون کی مختلف اقسام کے 100 پودے لگائے- سٹرس اور انگور کے باغات بھی لگائے- اس کو جو زمین لیز پر دی گئ تھی، اس کے قریب کسان نام کا چھوٹا سا ریلوے اسٹیشن تھا- 

 بعد ازاں اس نے دو کمپنیاں قائم کیں جن میں سے ایک کا نام کسان کے نام پر رکھا جبکہ دوسری کا نام میچلز رکھا گیا-

جی ہاں، وہی میچلز جس کی مختلف مصنوعات ہمارے اکثر گھروں میں آج بھی استعمال کی جاتی ہیں-

ناکامی پرعزم لوگوں کے لئے نئے راستے کھول سکتی ہے اور مایوس لوگوں کے راستوں کو بے نشان بھی کرسکتی ہے-

فیصلہ خود انسان کو کرنا ہوتا ہے کہ امید قائم رکھنی ہے یا حوصلہ ہار جانا ہے!