موت کے بعد انسان کی آرزوئیں (Wishes of Human beings after Death)


موت کے بعد انسان کی ۹ آرزوئیں جن کا تذکرہ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ

۱- يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻣﭩﯽ ﮨﻮﺗﺎ
ﺳﻮﺭة النبأ‏ 40

۲- يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ‏( ﺍﺧﺮﯼ ‏) ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭽﮫ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺠﺮ 24

۳- يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻣﮧ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻧﮧ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺤﺎﻗﺔ 25

۴- يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻓﻼﮞ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮧ ﺑﻨﺎﺗﺎ
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺮﻗﺎﻥ 28

۵- يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﮨﻢ ﻧﮯ للہ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﯽ ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﮨﻮﺗﯽ
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻷﺣﺰﺍﺏ 66

۶- يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﻟﯿﺘﺎ
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺮﻗﺎﻥ 27

۷- يَا لَيْتَنِي كُنتُ مَعَهُمْ فَأَفُوزَ فَوْزًا عَظِيمًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﺎ
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻨﺴﺎﺀ 73

۸- يَا لَيْتَنِي لَمْ أُشْرِكْ بِرَبِّي أَحَدًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺷﺮﯾﮏ ﻧﮧ ﭨﮭﯿﺮﺍﯾﺎ ﮨﻮﺗﺎ
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻜﻬف42

۹- يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﮐﻮﺋﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﻮ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﮭﯿﺠﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﮧ ﺟﮭﭩﻼﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﮞ۔
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻷﻧﻌﺎﻡ 27

پرعزم انسان اپنا راستہ کبھی نہیں بدلتا ( A courageous man never change its path)

ایک دفعہ ایک گھوڑا ایک گہرے گڑھے میں جا گرا اور زور زور سے آوازیں نکالنےلگا
گھوڑے کا مالک کسان تھا جو کنارے پہ کھڑا اسے بچانے کی ترکیبیں سوچ رہا تھا
جب اسے کوئی طریقہ نہیں سوجھا تو ہار مان کر دل کو تسلی دینے لگا کہ گھوڑا تو اب بوڑھا ہو چکا ہے
وہ اب میرے کام کا بھی نہیں رہا چلو اسے یوں ہی چھوڑ دیتے ہیں اور گڑھے کو بھی آخر کسی دن بند کرنا ہی پڑے گا اس لیے اسے بچا کر بھی کوئی خاص فائدہ نہیں
یہ سوچ کر اس نے اپنے
اپنے پڑوسیوں کی مدد لی اور گڑھا بند کرنا شروع کر دیا
سب کے ہاتھ میں ایک ایک بیلچہ تھا جس سے وہ مٹی بجری اور کوڑا کرکٹ گڑھےمیں ڈال رہے تھے
گھوڑا اس صورت حال سے بہت پریشان ہوا
اس نے اور تیز آواز نکالنی شروع کر دی
کچھ ہی لمحے بعد گھوڑا بالکل خاموش سا ہو گیا
جب کسان نے جھانکا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جب جب گھوڑے کے اوپر مٹی اور کچرا پھینکا جاتا ہے تب تب وہ اسے جھٹک کر اپنے جسم سے نیچے گرا دیتا ہے اور پھر گری ہوئی مٹی پر کھڑا ہو جاتا ہے
یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا
کسان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر مٹی اور کچرا پھینکتا رہا اور گھوڑا اسے اپنے بدن سے ہٹا ہٹا کر اوپر آتا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اوپر تک پہنچ گیا اور باہر نکل آیا
یہ منظر دیکھ کر کسان اور اس کے پڑوسی سکتے میں آ گئے
زندگی میں ہمارے ساتھ بھی ایسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں کہ ہمارے اوپر کچرا اچھالا جائے
ہماری کردار کشی کی جائے
ہمارے دامن کو داغدار کیا جائے
ہمیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جائے
لیکن گندگی کے اس گڑھے سے بچنے کا طریقہ یہ نہیں کہ ہم ان غلاظتوں کی تہہ میں دفن ہو کر رہ جائیں
بلکہ ہمیں بھی ان بے کار کی چیزوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اوپر کی طرف اور آگے کی سمت بڑھتے رہنا چاہیے
زندگی میں ہمیں جو بھی مشکلات پیش آتی ہیں وہ پتھروں کی طرح ہوتی ہیں مگر یہ ہماری عقل پر منحصر ہے کہ آیا ہم ہار مان کر ان کے نیچے دب جائیں
یا
ان کے اوپر چڑھ کر مشکل کے کنویں سے باہر آنے کی ترکیب کریں
خاک ڈالنے والے ڈالتے رہیں
مگر پرعزم انسان اپنا راستہ کبھی نہیں بدلتا۔
(منقول)

بچوں سے گھر کے کام کروائیں (Involve children in daily chores )



پردہ (Shelter)

ایک گاؤں میں ایک باپردہ خاتون رہتی تھیں
جن کی ڈیمانڈ تھی کہ شادی اس سے کریں گی جو انہیں باپردہ رکھے گا
ایک نوجوان اس شرط پر نکاح کے لیے رضامند ہوجاتا ہے
دونوں کی شادی ہوجاتی ہے ۔ وقت گذرتا رہتا ہے یہاں تک کہ ایک بیٹا ہوجاتا ہے ۔
ایک دن شوہر کہتا ہے کہ میں سارا دن کھیتوں میں کام کرتا ہوں ۔ کھانے کے لیے مجھے گھر آنا پڑتا ہے جس سے وقت کا ضیاع ہوتا ہے تم مجھے کھانا کھیتوں میں پہنچادیا کرو
بیوی راضی ہوجاتی ہے ۔۔
وقت گذرتے گذرتے ایک اور بیٹا ہوجاتا ہے
جس پر شوہر کہتا ہے کہ اب گذارا مشکل ہے تمہیں میرے ساتھ کھیتوں میں ہاتھ بٹانا پڑے گا
یوں وہ باپردگی سے نیم پردے تک پہنچ جاتی ہے
اور تیسرے بیٹے کی پیدائش پر اس کا شوہر مکمل بے پردگی تک لے آتا ہے
وقت گذرتا رہتا ہے یہاں تک اولاد جوان ہوجاتی ہے
ایک دن یونہی بیٹھے بیٹھے شوہر ہسنے لگتا ہے
بیوی سبب پوچھتی ہے
تو کہتا ہے کہ بڑا تو پردہ پردہ کرتی تھی آخر کار تیرا پردہ ختم ہوگیا ۔۔ کیا فرق پڑا پردے اور بے پردگی کا
زندگی تو اب بھی ویسے ہی گذر رہی ہے
وہ بولتی ہے کہ تم ساتھ والے کمرے میں چھپ جاؤ میں تمہیں پردے اور بے پردگی کا فرق سمجھاتی ہوں
شوہر کمرے میں چھپ جاتا ہے
عورت اپنے بال بکھیرے رونا پیٹنا شروع کردیتی ہے
پہلے بڑا بیٹا آتا ہے ۔ رونے کا سبب پوچھتا ہے
کہتی ہے تیرے باپ نے مارا ہے
بڑا بیٹا ماں کو سمجھاتا ہے کہ اگر مارا ہے تو کوئی بات نہیں وہ آپ سے محبت بھی تو کرتے ہیں آپ کا خیال رکھتے ہیں ۔
وہ سمجھا بجھا کر چلا جاتا ہے
عورت پھر سے رونے کی ایکٹنگ کرتی ہے اور منجھلے بیٹے کو بلا کر بتاتی ہے کہ تیرے باپ نے مجھے مارا
منجھلا بیٹا کو غصہ آتا ہے وہ باپ کو برا بھلا کہتے ہوئے ماں کو سمجھا بجھا کر چپ کروا کر چلا جاتا ہے
آخر کار عورت یہی ڈرامہ چھوٹے بیٹے کے سامنے کرتی ہے
چھوٹا بیٹا تو غصہ سے آگ بگولہ ہوجاتا ہے اور زور زور سے گالیاں بکتے ہوئے ڈنڈا اٹھاتا ہے اور کہتا ہے کہ ابھی باپ کی خبر لیتا ہوں
پھر عورت شوہر کو بلا کر بولتی ہے
کہ پہلا میرے پردے کے وقت پیدا ہوا
تو اس نے تیرا پردہ رکھا
دوسرا نیم پردے کے زمانے میں پیدا ہوا
تو تیری آدھی لاج رکھ لی
جبکہ تیسرا جو مکمل بے پردگی کے زمانے میں ہوا
تو وہ مکمل طور پر تیرا عزت کا پردہ اتارنے گیا ہے
حاصل کلام:
پردہ عورت کا فطری تقاضا ہے
جو خالق مرد وزن کی طرف سے قاعدہ بھی ہے

بغیر علم (Knowledge is Important)

ﺍﯾﮏ ﺳﻨﺎﺭ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮍ ﮔﯿﺎ.ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﻻﻟﮯ ﭘﮍ ﮔﺌﮯ.
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﻧﯿﻠﻢ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮨﺎﺭﺩﮮ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ 'ﺑﯿﭩﺎ، ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭼﭽﺎ ﮐﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﻟﮯ ﺟﺎﺅ.
ﮐﮩﻨﺎ ﯾﮧ ﺑﯿﭻ ﮐﺮ ﮐﭽﮫ ﭘﯿﺴﮯ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ.بیٹا ﻭﮦ ﮨﺎﺭ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭼﭽﺎ ﺟﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﯿﺎ.
ﭼﭽﺎ ﻧﮯ ﮨﺎﺭ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺩﯾﮑﮫ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﮐﮫ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ بیٹا، ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﻨﺎ ﮐﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ
ﺑﮩﺖ ﻣﻨﺪﺍ ﮨﮯ.تھوڑا ﺭﮎ ﮐﺮ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮﻧﺎ ، ﺍﭼﮭﮯ ﺩﺍﻡ ﻣﻠﯿﮟ ﮔﮯ.
ﺍﺳﮯ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﺳﮯ ﺭﻭﭘﮯ ﺩﮮ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﮐﻞ ﺳﮯدﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺁﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﻨﺎ. اﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﺎ ﺭﻭﺯ ﻣﺮﮦ ﺩﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ ﮨﯿﺮﻭﮞ ﻭ ﺟﻮﺍﮨﺮﺍﺕ ﮐﯽ ﭘﺮﮐﮫ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﺳﯿﮑﮭﻨﮯ
ﻟﮕﺎ.
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﺑﮍﺍ ﻣﺎﮨﺮ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ.
ﻟﻮﮒ ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﯿﺮﮮ ﮐﯽ ﭘﺮﮐﮫ ﮐﺮﺍﻧﮯ ﺁﻧﮯ لگے
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﭽﺎ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، ﺑﯿﭩﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﻭﮦ ہاﺭ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺗﯿﺰﯼ ہﮯ، اﺱ ﮐﮯ ﺍﭼﮭﮯ ﺩﺍﻡ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ.
ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﺎﺭ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﺮﮐﮭﺎ ﺗﻮ ﭘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺗﻮ جعلی ﮨﮯ.
ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﺮ ﮨﯽ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺩﮐﺎﻥ ﻟﻮﭦ ﺁﯾﺎ.
ﭼﭽﺎ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ، ﮨﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﻻﺋﮯ؟
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، ﻭﮦ ﺗﻮ ﺟﻌﻠﯽ ﺗﮭﺎ.
ﺗﺐ ﭼﭽﺎ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﺐ ﺗﻢ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﮨﺎﺭ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ، اﺳﻮﻗﺖ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺟﻌﻠﯽ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮐﮧ ﺁﺝ ﮨﻢ ﭘﺮ ﺑﺮﺍ ﻭﻗﺖ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﭼﭽﺎ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﭼﯿﺰ کو ﺑﮭﯽ ﺟﻌﻠﯽ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ.
ﺁﺝ ﺟﺐ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﻋﻠﻢ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﭼﻞ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﮨﺎﺭ ﻧﻘﻠﯽ ﮨﮯ.
ﺳﭻ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻠﻢ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ سوﭼﺘﮯ، ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺳﺐ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ.

وائس پرنسپل کی ذمہ داریاں (Duties of a vice principal)



بچوں کو اردو پڑھنا سکھائیے (Train children in Urdu reading)



بچوں میں خود اعتمادی پیدا کیجیے (Produce confidence in children)

بچوں میں خوداعتمادی کی کمی کی وجہ!
والدین جب اپنے بچوں سے شفقت کا معاملہ کرتے ہیں تو بچوں کو اس سے بڑھ کر کوشش ہوتی ہے کہ وہ بھی اپنے والدین کو خوش رکھیں اور کسی معاملے میں شکایت کا موقع نہ دیں ایسے بچوں میں فرمانبرداری اور خوداعتمادی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے اس کے برعکس وہ والدین جو اپنے بچوں سےسختی کامعاملہ کرتےہیں تو ایسی صورت حال میں بچے باغی ہوجاتے ہیں اور خوب بدتمیزی کرتے ہیں‘ بچوں پر سختی صرف ان کی اصلاح کے لیے کرنی چاہیے۔ بے جاروک ٹوک بچوں کو ضدی اور ہٹ دھرم بنادیتی ہے۔ یہی پودے جب تناور درخت بن جاتے ہیں تو ان کو سیدھا کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ والدین اس بات پر توجہ دیں۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ باپ معمولی بات پربچوں کے سامنےشور شرابا کرنا شروع کردیتا ہے یا بچوں کی غلطی پر بجائے نرمی اور اصلاح سے کام لینے کےانہیں سب کے سامنے خوب بے عزت کیا جاتا ہے‘ اس طرح بچے احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں اور یہ احساس محرومی بچوں میں خوداعتمادی کے پرخچے اڑا دیتا ہے

بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے 8 مفید مشورے
والدین اپنے بچوں کو زیادہ سے زیادہ ذہین دیکھنے کے خواہاں ہوتے ہیں تاکہ بچے حصول علم کے میدان میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرسکیں۔ اس مقصد کے لیے والدین خصوصا ماؤں کی جانب سے مختلف طریقے بھی اختیار کیے جاتے ہیں۔ دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے کہ بہت سے بچے کم سنی میں تنہائی، لا پرواہی جیسی عادات کے ساتھ بول چال میں نہایت کمزور واقع ہوتے ہیں مگران کے بعض جسمانی اور نفسیاتی عوارض کو دور کردیا جائے تو وہ بچے کامیاب سائنسدان،علماء، موسیقار ، موجد اور فن کار بن کر ابھرسکتے ہیں۔,,
مصرکے ایک ممتاز ماہر نفسیات ڈاکٹر مجد العجرودی نے اخبار ’الیوم السابع‘ سے بات کرتے ہوئے ایسے آٹھ مفید مشورے بیان کیے ہیں جو تمام والدین بالخصوص ماؤں کے لیے ان کے بچوں کی ذہنی نشونما کے حوالے سے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ وہ مفید مشورے کیا ہیں؟ آپ بھی جانیے۔
* 1۔ بچے میں خود اعتمادی پیدا کرنا۔ چونکہ بچہ اپنے ماں باپ کی آنکھوں میں خود کو دیکھتا ہے۔ اگر بچے کی زیادہ سے زیادہ تعریف وتوصیف کی جائے گی تو اس میں خود اعتمادی میں اضافہ ہوگا اور یوں اس کی ذہنی صلاحیتوں کی بہتر انداز میں نشو ونما ہوسکے گی۔
* 2۔ بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش صرف والدین تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ بچے کو ’محدود ذہنیت‘‘ کا الزام نہیں دینا چاہیے بلکہ ماؤں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے لیے اس کے اساتذہ اور دوستوں کو بھی اس بات پرقائل کریں کہ وہ بچے میں خود اعتمادی کےفروغ کی کوشش کریں۔
* 3 ۔ بچے کو ڈرانے دھمکانے اور اسے دوسرے بچوں کی نظر میں گرانے سے گریزکریں، چاہے وہ بار بار غلطی کیوں نہ کرے۔ بار بار کی ڈانٹ ڈپٹ سے بچہ اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔
* 4 ۔ بچے کی ان خوبیوں کو تلاش کریں جو اسے دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں۔ اس کی آواز اور قدرت کلام کو بہتر بنانے پر توجہ دییجیے۔ اسے گھر میں ایسا ماحول فراہم کیجیے تاکہ وہ اسکول میں بھی اپنے اوپر اعتماد پید اکرسکے۔
*5 ۔ بچے کی ذہانت سے زیادہ اس پر کام کا بوجھ نہ ڈالیے۔ ایسا نہ ہو کہ کام کے بوجھ تلے دب کر بچہ ناکام ہواور مایوس ہوجائے۔
بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ
*6 ۔ بچے کی محدود صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں ہمہ وقت اس کی مدد جاری رکھیں۔ پینٹنگز پر توجہ دینےکے بجائے بچے کے تدریسی مواد مثلا اس کی لکھائی پڑھائی میں اس کی مدد کیجیے۔
*7 ۔ دوسرے بچوں کے سامنے اپنے بچے کو نفسیاتی طورپر گرانے کی کوشش نہ کیجیے بلکہ دوسروں کے سامنے بھی اپنے بچے کی تعریف کیجیے۔
*8 ۔ بچے کے پسندیدہ [مثبت] مشاغل میں اس کی مدد کیجے تاکہ اس میں دوسرے بچوں کے درمیان رہتےہوئے خود اعتمادی کا احساس پھلتا پھولتا رہے۔

ہمیں پیار ہے پاکستان سے (We love our Pakistan)



موبائل کی لت



زیارتِ قبور کے آداب


یومِ دفاع کی مجوزہ سرگرمیاں