گڑھے کی بجائے سمندر

 دو عورتیں قاضی ابن ابی لیلی کی عدالت میں پہنچ گئیں،یہ اپنے زمانے کے مشہور و معروف قاضی تھے. 

قاضی نے پوچھا

تم دونوں میں سے کس نے بات پہلے کرنی ہے؟

ان میں سے بڑھی عمر والی خاتون نے دوسری سے کہا تم  اپنی بات قاضی صاحب کے آگے رکھو.

وہ کہنے لگی قاضی صاحب یہ میری پھوپھی ہے میں اسے امی کہتی ہوں چونکہ میرے والد کے انتقال کے بعد اسی نے میری پرورش کی ہے یہاں تک کہ میں جوان ہوگئی.

قاضی نے پوچھا اس کے بعد ؟

وہ کہنے لگی پھر میرے چچا کے بیٹے نے منگنی کا پیغام بھیجا انہوں نے ان سے میری شادی کر دی،میری شادی کو کئی سال گزر گئے ازدواجی زندگی خوب گزر رہی تھی ایک دن میری یہ پھوپھی میرے گھر آئی اور میرے شوہر کو اپنی بیٹی سے دوسری شادی کی آفر کرلی ساتھ یہ شرط رکھ لی کہ پہلی بیوی(یعنی میں) کا معاملہ پھوپھی کے ہاتھ میں سونپ دے،میرے شوہر نے کنواری دوشیزہ سے شادی کے چکر میں شرط مان لی میرے شوہر کی دوسری شادی ہوئی سہاگ رات کو میری پھوپھی میرے پاس آئی اور مجھ سے کہا تمہارے شوہر کے ساتھ میں نے اپنی بیٹی بیاہ دی ہے تمہارا شوہر نے تمہارا معاملہ میرے ہاتھ سونپ دیا ہے میں تجھے تیرے شوہر کی وکالت کرتے ہوئے طلاق دیتی ہوں.

جج صاحب میری طلاق ہوگئی.

کچھ عرصے بعد میری پھوپھی کا شوہر سفر سے تھکے ہارے پہنچ گیا وہ ایک شاعر اور حسن پرست انسان تھے میں بن سنور کر اس کے آگے بیٹھ گئی اور ان سے کہا کیا آپ مجھ سے شادی کریں گے؟ اسکی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا اس نے فوری ہاں کرلی،میں نے ان کے سامنے شرط رکھ لی کہ آپ کی پہلی بیوی(یعنی میری پھوپھی) کا معاملہ میرے ہاتھ سونپ دیں اس نے ایسا ہی کیا میں نے پھوپھی کے شوہر سے شادی کرلی اور اس کے شوہر کی وکالت کرتے ہوئے اسے طلاق دے ڈالی.

قاضی حیرت سے پھر ؟

وہ کہنے لگی قاضی صاحب کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی.

کچھ عرصہ بعد میرے اس شاعر شوہر کا انتقال ہوا میری یہ پھوپھی وراثت کا مطالبہ کرتے پہنچ گئی میں نے ان سے کہا کہ میرے شوہر نے تمہیں اپنی زندگی میں طلاق دی تھی اب وراثت میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے، جھگڑا طول پکڑا اس دوران میری عدت بھی گزر گئی ایک دن میری یہ پھوپھی اپنی بیٹی اور داماد(میرا سابقہ شوہر) کو لیکر میرے گھر آئی اور وراثت کے جھگڑے میں میرے اسی سابق شوہر کو ثالث بنایا اس نے مجھے کئی سالوں بعد دیکھا تھا مرد اپنی پہلی محبت نہیں بھولتا ہے چنانچہ مجھ سے یوں مل کر اس کی پہلی محبت نے انگڑائی لی میں نے ان سے کہا کیا پھر مجھ سے شادی کروگے؟

اس نے ہاں کرلی 

میں نے ان کے سامنے شرط رکھ لی کہ اپنی پہلی بیوی(میری پھوپھی کی بیٹی) کا معاملہ میرے ہاتھ میں دیں،اس نے ایسا ہی کیا.

میں نے اپنے سابق شوہر سے شادی کرلی اور اس کی بیوی کو شوہر کی وکالت کرتے ہوئے طلاق دے دی.

قاضی ابن ابی لیلی سر پکڑ کر بیٹھ گئے  پھر پوچھا کہ 

اس کیس میں اب مسئلہ کیا ہے؟

میری پھوپھی کہنے لگی :

قاضی صاحب کیا یہ حرام نہیں کہ میں اور میری بیٹی دونوں کی یہ لڑکی طلاق کروا چکی پھر میرا شوہر اور میری بیٹی کا شوہر بھی لے اڑی اسی پر بس نہیں دونوں شوہروں کی وراثت بھی اپنے نام کرلیا۔

قاضی ابن ابی لیلی کہنے لگے:

مجھے تو اس کیس میں حرام کہیں نظر نہیں آیا،طلاق بھی جائز ہے،وکالت بھی جائز ہے،طلاق کے بعد بیوی سابقہ شوہر کے پاس دوبارہ جاسکتی ہے بشرطیکہ درمیان میں کسی اور سے اس کی شادی ہو کر طلاق یا شوہر فوت ہوا ہو تمہاری کہانی میں بھی ایسا ہی ہوا ہے.

اس کے بعد قاضی نے خلیفہ منصور کو یہ واقعہ سنایا خلیفہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگئے اور کہا کہ جو کوئی اپنے بھائی کیلئے گڑھا کھودے گا خود اس گڑھے میں گرے گا یہ بڑھیا تو گڑھے کی بجائے گہرے سمندر میں گر گئی۔

منقول

ارسطو اور سکندر

 ارسطو اپنے شاگرد سکندر کو کہا کرتا تھا کہ عورتوں سے دور رہا کرو۔

 محل کی عورتوں نے ارسطو کے پیچھے ایک خوبصورت لڑکی لگا دی ۔۔تاکہ اسے سبق سکھایا جائے اور وہ ان کے اور سکندر کے بیچ مداخلت نہ کرے

ایک دن اس لڑکی نے ارسطو سے فرمائش کی کہ اسے گھوڑے کی سواری کرنی ہے ، ارسطو گھوڑا بنا اور اس لڑکی نے سواری کی

اسی دوران سکندر کو اطلاع کر دی گئ کہ جو استاد آپ کو ہم سے روکتا ہے اسکی اپنی حالت ملاحظہ کی جائے

 جب سکندر وہاں پہنچا اور پوچھا استاد جی یہ کیا ؟؟

  ارسطو نے جواب دیا ۔۔اسی لئے تو تمہیں روکتا ہوں کہ یہ عورتیں مجھ جیسے فلسفی کو بھی گدھا بنا دیتی ہیں۔۔



ایک سُکھی گھرانے کے آزمودہ فارمولے

 بیوی:- دیکھو ناں، ہمارے پڑوسی نے 50 انچ کا LED ٹی وی خریدا ہے آپ بھی خرید لائیے ناں۔۔؟؟🙁

شوہر:- ارے ڈارلنگ ۔۔ جس کے پاس تم جیسی خوبصورت بیوی ہو۔۔ وہ کیوں کر فالتو کا وقت 📺 TV دیکھنے میں برباد کرے گا۔۔؟؟ 😉

بیوی:- اوہ آپ بھی نا۔۔ ابھی آپ کے لئے پکوڑے بنا کر لاتی ہوں

😘

بیوی:- آپ میری سالگرہ کا دن کیسے بھول گئے۔۔؟؟

😡

شوہر:- بھلا تمہاری سالگرہ کا دن کوئی کیسے یاد رکھے۔۔ تمہیں دیکھ کر ذرا بھی نہیں لگتا کہ تمہاری عمر بڑھ رہی ہے۔۔!!! 🤗

بیوی:- ( آنسو پونچھتے ھوئے) سچی۔۔ آپ کے لئے کھیر بنا کر آتی ھوں۔

😘

(شوہر بیوی میں جھگڑا ہو رہا تھا)

بیوی:- میں پورا گھر سنبھالتی ہوں۔۔!!!

کچن کو سنبھالتی ہوں۔۔!!!

بچوں کو سنبھالتی ہوں۔۔!!!

تم کیا کرتے ہو۔۔؟؟؟؟؟ 😏

#شوھر:- میں خود کو سنبھالتا ہوں۔۔ تمہاری نشیلی آنکھیں دیکھ کر۔۔!!!! 🤗

#بیوی:- آپ بھی نہ۔۔۔

چلو بتاؤ آج کیا بناؤں آپ کی پسند کا۔۔؟؟؟ 😘

رابطہ اور تعلق

ایک بوڑھے شخص (ریٹائرڈ پروفیسر) کا انٹرویو نیویارک کے ایک صحافی نے کیا۔ صحافی نے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق بوڑھے شخص سے انٹرویو شروع کیا۔

صحافی: "جناب، آپ نے اپنی ایک تقریر میں 'رابطہ' اور 'تعلق' کے بارے میں بتایا تھا۔ یہ واقعی الجھن پیدا کرتا ہے۔ کیا آپ براہ کرم وضاحت کر سکتے ہیں؟"

بوڑھے شخص نے مسکراتے ہوئے اور بظاہر سوال سے ہٹ کر صحافی سے پوچھا:

"کیا آپ نیویارک سے ہیں؟"

صحافی: "جی ہاں..."

بوڑھے شخص: "آپ کے گھر میں کون کون ہیں؟"

صحافی نے محسوس کیا کہ بوڑھا شخص سوال کا جواب دینے سے گریز کر رہا ہے کیونکہ یہ بہت ذاتی اور غیر ضروری سوال تھا۔ پھر بھی، صحافی نے کہا: "والدہ کا انتقال ہو چکا ہے۔ والد ہیں۔ تین بھائی اور ایک بہن۔ سب شادی شدہ ہیں..."

بوڑھے شخص نے مسکراتے ہوئے پھر پوچھا: "کیا آپ اپنے والد سے بات کرتے ہیں؟"

صحافی نے محسوس کیا کہ بوڑھا شخص سوال کا جواب دینے سے گریز کر رہا ہے کیونکہ یہ بہت ذاتی اور غیر ضروری سوال تھا۔ پھر بھی، صحافی نے کہا: "والدہ کا انتقال ہو چکا ہے۔ والد ہیں۔ تین بھائی اور ایک بہن۔ سب شادی شدہ ہیں..."

بوڑھے شخص نے مسکراتے ہوئے پھر پوچھا: "کیا آپ اپنے والد سے بات کرتے ہیں؟"

صحافی کا چہرہ واضح طور پر ناراض نظر آیا...

بوڑھے شخص نے کہا: "آپ نے آخری بار ان سے کب بات کی؟"

صحافی نے اپنی ناراضگی کو دبانے ہوئے کہا: "شاید ایک مہینہ پہلے۔"

بوڑھے شخص: "کیا آپ کے بھائی اور بہنیں اکثر ملتے ہیں؟ آپ نے آخری بار کب ایک خاندانی اجتماع میں ملاقات کی؟"

اس موقع پر، صحافی کے ماتھے پر پسینہ آ گیا۔

ایسا لگا کہ بوڑھا شخص صحافی کا انٹرویو کر رہا تھا۔

صحافی نے آہ بھرتے ہوئے کہا: "ہم آخری بار کرسمس پر دو سال پہلے ملے تھے۔"

بوڑھے شخص: "آپ سب کتنے دن ایک ساتھ رہے؟"

صحافی (اپنے ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے) نے کہا: "تین دن..."

بوڑھے شخص: "آپ نے اپنے والد کے ساتھ کتنا وقت گزارا، ان کے بالکل پاس بیٹھ کر؟"

صحافی پریشان اور شرمندہ نظر آیا اور کاغذ پر کچھ لکھنا شروع کر دیا...

بوڑھے شخص: "کیا آپ نے ایک ساتھ ناشتہ، دوپہر یا رات کا کھانا کیا؟ کیا آپ نے ان سے پوچھا کہ وہ کیسے ہیں؟ کیا آپ نے ان سے پوچھا کہ والدہ کے انتقال کے بعد ان کے دن کیسے گزر رہے ہیں؟"

صحافی کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

بوڑھے شخص نے صحافی کا ہاتھ پکڑا اور کہا: "شرمندہ، پریشان یا اداس نہ ہوں۔ اگر میں نے آپ کو انجانے میں تکلیف پہنچائی ہو تو معذرت چاہتا ہوں... لیکن یہ بنیادی طور پر آپ کے سوال کا جواب ہے "رابطہ اور تعلق" کے بارے میں۔ آپ کا اپنے والد سے 'رابطہ' ہے، لیکن آپ کا ان سے 'تعلق' نہیں ہے۔ آپ ان سے جڑے ہوئے نہیں ہیں۔ تعلق دل سے دل کے درمیان ہوتا ہے... ایک ساتھ بیٹھنا، کھانا شیئر کرنا اور ایک دوسرے کا خیال رکھنا، چھونا، ہاتھ ملانا، آنکھوں سے رابطہ کرنا، کچھ وقت ایک ساتھ گزارنا... آپ کے تمام بھائیوں اور بہنوں کا 'رابطہ' ہے لیکن ایک دوسرے سے 'تعلق' نہیں ہے..."

صحافی نے اپنی آنکھیں پونچھتے ہوئے کہا: "مجھے ایک عمدہ اور ناقابل فراموش سبق سکھانے کا شکریہ۔"

یہ آج کی حقیقت ہے۔

چاہے گھر میں ہو یا معاشرے میں، سب کے پاس بہت سارے "رابطے" ہیں، لیکن کوئی "تعلق" نہیں ہے۔ ہر کوئی اپنی دنیا میں مصروف ہے...

آئیے صرف "رابطے" نہ رکھیں بلکہ "تعلق" بھی رکھیں۔ ایک دوسرے کا خیال رکھنا، شیئر کرنا اور اپنے پیاروں کے ساتھ وقت گزارنا...

چڑھدے پنجاب تہ لہندے پنجاب دا انوکھا پیار

 ارشد ندیم رات گولڈ میڈل جیتے ۔سب نے خوشی کا اظہار کیا اپنے اپنے انداز میں لیکن سب سے خوبصورت ویڈیو جو میرے  دل کو چھو گئ۔جس نے میری سوئ حسرتوں  کو پھر جگا دیا کہ 

دنیا میں چند دن کے مہمان ہیں جانے کب بلاوا آجاے تو دنیا کے اس باغ میں محبت کے پودے آگا جائیں 

وہ ویڈیو تھی 👇

۔۔۔۔نیرج چوپڑا ( انڈیا ) کی والدہ کی ۔خالص ہریانوی زبان میں ممتا سے بھرپور جذبات ارشد ندیم کے لیے ۔۔۔۔

انہوں نے نفرت پھیلانے والوں کے خیالات کو بحیرہ عرب میں غرق کر دیا صرف ایک جملے کہ ۔۔۔۔ارشد بھی میرا بیٹا ھے ۔۔۔۔

تجسس بڑھا کہ ایک انڈین پاکستان کے بارے یہ جذبات کیسے رکھ سکتا ھے تو حیران رہ گیا کہ 

دونوں ایتھلیٹ حریف ھونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھے دوست بھی ہیں اور ارشد ندیم کی اپنے خوابوں کی تعبیر کے سفر کے دوران انتھک محنت کے بعد نیرج چوپڑا نے ہر قدم پر انکا ساتھ دیا اس سفر میں 

اگر یہ محبت بھری سوچ پروان چڑھ جاے دونوں طرف کہ سب سے پہلے ۔۔۔۔انسانیت ۔۔۔۔تو نفرت کے کاروبار کی بہت سی دوکانوں کو تالے لگ جائیں اور دونوں طرف کی عوام کی مشکلات میں بہت حد تک آسانیاں پیدا ھو جائیں ۔نفرت کی آگ میں جلتے سینے جو دونوں طرف بے تحاشہ دولت آگ بنانے میں جھونک دیتے ہیں اس سے دونوں ممالک اپنی عوام کو بہترین سہولیات فراہم کر سکتے ہیں 

لیکن 

۔۔۔۔ہزاروں خواہشیں ایسی ۔۔۔۔

لیکن ایک بات تاریخ میں  ہمیشہ کے لیے امر ھو گئ ھے 



اسلام کی دس بنیادی باتیں

1- اللہ کے نزدیک ، دین صرف اسلام ہی ہے۔ (ال عمران :19)

ا2-سلام کے علاوہ کوئی اور دین قبول نہیں کیا جائے گا۔ ( ال عمران : 85)

3- اس " حقیقت" کے باوجود ، اللہ ہر فکر ، ہر مذھب اور ہر رائے کو ازادی دیتا ہے۔ ( الدھر: 3 )

4- سلامی ریاست ،نماز قائم کرے گی ، نماز زکوٰۃ قائم کرے گی۔ معروفات کا حکم دے گی۔ منکرات سے روکے گی۔( الحج :41)  5-  ریاست قران و سنت کے مطابق ہوگی ، جہاں غیر مسلموں کی جان ،  مال ، عزت ابرو وغیرہ کا تحفظ کیا جائے گا۔

6- سیکیولرازم بھی ایک دین ہے، اور یہ  بھی کفر  ہے ۔ اس دین کا مطلب یہ ہے کہ دین کو گھر اور عبادت گاہوں تک محدود کردیا جائے۔ اسلام اس تحدید کو قبول نہیں کرتا۔

7- وحدت ادیان کا عقیدہ کفر ہے۔ 

دین الہی اور بہائیت کے رجحانات مسلمانوں کے لیے زہر ہیں۔

8- ایک مسلمان ، دوسرے مذاہب کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے نہیں دیکھ سکتا۔ وہ اسلام پر راضی اور مطمئن رہتا ہے۔

9- مسلمان ، دوسرے مذاہب کا مطالعہ اس نیت سے کرے کہ انہیں جان کر اسلام کی تبلیغ بہتر انداز میں کی جاسکے۔

10- اسلامی رواداری کا مطلب مسلمانوں کا دوسرے مذاہب کے مراسم ، تہذیب اور ثقافت کو قبول کرنا نہیں ہے۔

دوسرے مذاہب کو برداشت کرنا اور چیز ہے ، انہیں صحیح سمجھنا اور ان پر ایمان لانا ایک بالکل الگ چیز ہے۔


خلیل الرحمٰن چشتی 

صدقہ ایسے بھی دیا جاتا ہے

 ایک اسکول ٹیچر بس میں سوار ہوئی تو کوئی سیٹ خالی نہیں تھی....ایک غریب عورت جو سیٹ پر بیٹھی تھی۔ اِس نے بڑی عزت کے ساتھ آواز دی، آجائیے میڈم ، آپ یہاں بیٹھ جائیں ، کہتے ہوئے اس نے اپنی سیٹ پر استانی کو بیٹھا دیا اور خود کھڑی ہو گئی۔ میڈم نے شکریہ ادا کرتے ہوئے اُسے دعائیں دیتے ہوئے کہا میری تو بری حالت تھی۔یہ سن کر اس غریب عورت کے چہرے پر ایک خوش کن مسکان پھیل گئی۔

 کچھ دیر بعد استانی کی پاس والی سیٹ خالی ہو گئی، لیکن اس عورت نے ایک اور عورت کو (جو ایک چھوٹے بچے کے ساتھ سفر کر رہی تھی اور مشکل سے بچے کو اٹھا پا رہی تھی) سیٹ پر بیٹھا دیا اگلے اسٹاپ پر وہ عورت بھی اتر گئی ، سیٹ پھر خالی ہوگئی ، لیکن اس نیک دل عورت نے پھر بھی بیٹھنے کی کوشش نہیں کی بلکہ ایک کمزور اور بزرگ آدمی کو بیٹھا دیا ، جو ابھی ابھی بس میں سوار ہوئے تھے، کچھ دیر کے بعد وہ بزرگ بھی اتر گئے ، سیٹ پھر سے خالی ہو گئی ۔بس میں چند مسافر ہی رہ گئے تھے۔

 استانی نے غریب خاتون کو اپنے پاس بٹھایا اور پوچھا کہ کتنی بار سیٹ خالی ہوئی لیکن آپ لوگوں کو بٹھاتی رہیں، خود نہیں بیٹھیں، کیا بات ہے؟

 اس خاتون نے جواب دیا میڈم میں مزدور ہوں، میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ میں کچھ صدقہ خیرات کر سکوں، تو میں یہ کرتی ہوں کہ ،کبھی سڑک پر پڑے پتھروں کو اٹھا کر ایک طرف رکھ دیتی ہوں، کبھی کسی پیاسے کو پانی پلا دیتی ہوں، کبھی بس میں کسی کے لیے سیٹ چھوڑ دیتی ہوں ، پھر جب سامنے والا مجھے دعائیں دیتا ہے تو میں اپنی غربت بھول جاتی ہوں، میری دن بھر کی تھکن دور ہو جاتی ہے اور تو اور جب میں روٹی کھانے کے لیے کسی سڑک کنارے بیٹھتی ہوں، کچھ پرندے میرے قریب آکر بیٹھ جاتے ہیں، میں روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے ان کےسامنے ڈال دیتی ہوں، جب وہ خوشی سے چلاتے ہیں تو خدا کی اس مخلوق کو خوش دیکھ کر میرا پیٹ بھر جاتا ہے، سوچتی ہوں، روپے پیسے نہ سہی ، مفت میں دعائیں تو مل ہی جاتی ہیں ، یہ فائدہ ہی ہے نا اور ہمیں دنیا سےکیا لے کر جانا ہے،

 غریب عورت کی باتیں سن کر۔ استانی ہکا بکا رہ گئیں ، ایک ان پڑھ غریب عورت نےاتنا بڑا سبق انہیں پڑھا دیا۔

 اگر دنیا کے آدھے لوگ بھی ایسی خوبصورت اور مثبت سوچ اپنا لیں تو یہ زمین جنت بن جائے گی سب کے لئے، صدقہ و خیرات صرف پیسے سے نہیں دل سے بھی کیا جاتا ہے۔

زندگی کو مفید بنائیے

 سیدہ مریم کی شادی نہیں ہوئی پھر بھی ایک کامیاب خاتون تھیں۔ ان کی حیا اور عبادت گزاری کا تذکرہ ان کے نام کے ساتھ قرآن میں موجود ہے ۔

اماں خدیجہؓ کے بیٹے نہیں تھے پھر بھی رب نے انکو سلام کہلوائے۔

اماں عائشہؓ کی اولاد نہیں تھی پھر بھی ساری عمر اس غم میں نہیں کھپائی بلکہ کم عمری میں بیوگی کے باوجود بامقصد اور پروقار زندگی گزاری۔ 48 سال ترویج دین میں مشغول رہیں۔ 

حضرت آسیہ کو اچھا شوہر نہیں ملا پھر بھی آخر دم تک حق کے راستے پر ڈٹی رہیں۔

* اپنی زندگی کی محرومیوں کو اپنی کمزوری نہیں طاقت بنائیے *

لوگ بھی تبھی آپکی محرومیوں کو زبان کی نوک پر رکھ لیتے ہیں جب آپ اس بات پر خود بہت حساس ہوں۔۔

ہر حال میں رب کا شکر ادا کیجئے اور اپنی ذات کی نفی کرنے کے بجائے جو جیسا ہے اسے ویسا قبول کرنے کی صلاحیت پیدا کیجئے۔۔

جب تک زندہ ہیں زندگی کو بوجھ نہ بنائیے۔۔

زندگی کو مفید بنائیے اور اوروں کیلئے مفید بن جائیے۔



منہ بند رکھنا حکمت ہے

 کہتے ہیں کہ کسی جگہ پر بادشاہ نے تین بے گناہ افراد کو سزائے موت دی،* بادشاہ کے حکم کی تعمیل میں ان تینوں کو پھانسی گھاٹ پر لے جایا گیا جہاں ایک بہت بڑا لکڑی کا تختہ تھا جس کے ساتھ پتھروں سے بنا ایک مینار اور مینار پر ایک بہت بڑا بھاری پتھر مضبوط رسے سے بندھا ہوا ایک چرخے پر جھول رہا تھا، رسے کو ایک طرف سے کھینچ کر جب چھوڑا جاتا تھا تو دوسری طرف بندھا ہوا پتھرا زور سے نیچے گرتا اور نیچے آنے والی کسی بھی چیز کو کچل کر رکھ دیتا تھا، چنانچہ ان تینوں کو اس موت کے تختے کے ساتھ کھڑا کیا گیا، ان میں سے ایک 

 ■ایک عالم

 ■ ایک وکیل

 ■ اور ایک فلسفی

تھا. سب سے پہلے عالم کو اس تختہ پر عین پتھر گرنے کے مقام پر لٹایا گیا اور اس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو عالم کہنے لگا میرا خدا پر پختہ یقین ہے وہی موت دے گا اور زندگی بخشے گا، بس اس کے سوا کچھ نہیں کہنا. اس کے بعد رسے کو جیسے ہی کھولا تو پتھر پوری قوت سے نیچے آیا اور عالم کے سر کے اوپر آکر رک گیا، یہ دیکھ کر سب حیران رہ گئے اور عالم کے پختہ یقین کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی اور رسہ واپس کھینچ لیا گیا. 

اس کے بعد وکیل کی باری تھی اس کو بھی تختہ دار پر لٹا کر جب آخری خواہش پوچھی گئی تو وہ کہنے لگا میں حق اور سچ کا وکیل ہوں اور جیت ہمیشہ انصاف کی ہوتی ہے. یہاں بھی انصاف ہوگا. اس کے بعد رسے کو دوبارہ کھولا گیا پھر پتھر پوری قوت سے نیچے آیا اور اس بار بھی وکیل کے سر پر پہنچ کر رک گیا، پھانسی دینے والے اس انصاف سے حیران رہ گئے اور وکیل کی جان بھی بچ گئی. 

اس کے بعد فلسفی کی باری تھی اسے جب تختے پر لٹا کر آخری خواہش کا پوچھا گیا تو وہ کہنے لگا عالم کو تو نہ ہی خدا نے بچایا ہے اور نہ ہی وکیل کو اس کے انصاف نے، دراصل میں نے غور سے دیکھا ہے کہ رسے پر ایک جگہ گانٹھ ہے جو چرخی کے اوپر گھومنے میں رکاوٹ کی وجہ بنتی ہے جس سے رسہ پورا کھلتا نہیں اور پتھر پورا نیچے نہیں گرتا، فلسفی کی بات سن کر سب نے رسے کو بغور دیکھا تو وہاں واقعی گانٹھ تھی انہوں نے جب وہ گانٹھ کھول کر رسہ آزاد کیا تو پتھر پوری قوت سے نیچے گرا اور فلسفی کا ذہین سر کچل کر رکھ دیا. 



حکایت کا نتیجہ.. 

بعض اوقات بہت کچھ جانتے ہوئے بھی منہ بند رکھنا حکمت میں شمار ہوتا ہے..

ایسے گھر نہیں بستے

 کل رات ساسو ماں کی ٹانگیں دبا رہی تھی تو فرمانے لگیں اگر بہو ساس کو ماں سمجھنے لگے تو کسی گھر  میں ساس بہو کا جھگڑا نہ ہو..

تو میں نے کہا میری شدید ترین خواہش ہے کہ میں اس گھر میں ایک دن صرف ایک دن اپ کی بیٹی بن کر گزاروں اپ بھی مجھے اپنی بیٹی سمجھیں کیا برداشت کر لیں گئیں اپ ساسو ماں نہ سمجھی کی حالت میں بولی کیوں نہیں میں تو تمھیں بیٹی ہی سمجھتی ہو بیٹی سمجھ کر ہی بیاہ کر لائی تھی تم نہ سمجھو تو الگ بات ہے .

میں نے کہا آپ نے ایک گھنٹہ بھی پورا نہیں کرنا اور آپ نے فوری ساس بن جانا ہے پوچھنے لگیں  کیوں بیٹی بن کر کیا کرنا چاہتی ہو.

میں نے کہا اپنی مرضی کا دن گزارنا چاہتی ہوں آپ کے سامنے بیٹھ کر ٹی وی دیکھنا چاہتی ہوں آپ کچھ کہیں تو آپ کو ٹھوک کر جواب دینا چاہتی ہوں اونچا میوزک سننا چائتی ہوں آپ کی آواز  کو اگنور کرنا چاہتی ہوں کمرے میں آنے پر آپ کو کہنا چاہتی ہوں جاتے ہووے دروازہ بند کر جاہیں لائٹ آف کر جائیں چائے کا ایک کپ بنا دیں.

کل میری دوستیں آ رہی ہیں ان کے لیے بریانی آپ نے بنانی ہے اور وہ سب کچھ جو آپ کی بیٹیاں میرے سامنے کرتی ہیں اور آپ کو ان کی ہر بات پر پیار اور میری انھی باتوں پر غصہ آتا ہے .

ساسو ماں کو چڑھ غصہ گیا اور فوری  پیر پیچھے کھینچ لیے اور کہنے لگیں 

ایسے گھر نہیں بستے !



اسلام ایک پیارا مذہب

 کسی زمانے میں ایک غیر مسلم نے اسلام قبول کیا تو اس سے پوچھا گیا کے اسلام کی کس بات نے تجھے متاثر کیا.

تو وہ بولا کہ  صرف ایک واقعہ میری ہدایت کا سبب بن گیا.

کہا مجلس رسول صلہ اللہ علیہ وسلم لگی ہوئی تھی لوگوں کا ہجوم تھا. ایک شخص نے عرض کی حضور  میرے لیے دعا کر دیں میرا بچہ کئی دنوں سے مل نہیں‌رہا مل جائے.قبل اس کے کہ حضور کے ہاتھ اٹھتے ۔۔۔۔

ایک شخص مجلس موجود تھا کھڑا ہو گیا حضور میں ابھی ابھی فلاں باغ سے گزر کر آیا ہوں . اس کا بچہ وہاں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا.باپ نے جب سنا کے میرا بچہ فلاں باغ میں ہے تو اس نے دوڑ لگا دی.

آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا  اس کو روکو واپس بلاو۔۔ 

اس نے کہا  حضور  آپ جانتے ہیں کے ایک باپ کے جذبات کیا ہوتے ہیں.کہا اچھی طرح سے آگاہ ہوں..                                          لیکن تمہیں بلایا ہے بلانے کا بھی ایک مقصد ہے. اس نے کہا جی حضور ارشاد فرمائیں.

کہا جب باغ جاؤ بچوں کے ساتھ اپنے بچے کو کھیلتا ہوا دیکھ لو تو بیٹا بیٹا کہہ کر آوازیں نا دینے لگ جانا. جو نام رکھا ہے اس نام سے پکارنا 

کہا حضور میرا بیٹا ہے اگر میں بیٹا کہ کر بلاؤں تو ہرج بھی کیا ہے.

فرمایا تم کئی دنوں کے بچھڑے ہو تمہارے لہجے میں بلا کا رس ہو گا، اور تم نہیں جانتے کے کھیلنے  والوں میں کوئی یتیم بھی ہو. اور جب تم اپنے بیٹے کو بیٹا کہہ کر پکارو گے اتنا میٹھا لہجہ ہو گا تو اس کے دل پر چوٹ لگے گی اور کہے گا کاش آج میرا بھی باپ ہوتا مجھے  بیٹا کہ کر پکارتا.فرمایا یہ شوق گھر جا کر پورا کرنا.

آپ نے فرمایا کسی بیوہ کے سامنے اپنی بیوی سے پیار نہ کرو،غریب کے سامنے اپنی دولت کی نمائش کرنے سے روکا گیا.

حضور صل اللہ  علیہ وسلم نے یہاں تک  فرمایا کے اپنے گوشت کی خوشبو سے اپنے ہمسائے کو تنگ نا کرو.

لاھور اور دلّی میں فرق

 کسی نے خشونت سنگھ سے پوچھا ، "سردار جی آپ یہ فرمائیں کہ لاھور اور دِلّی میں کیا فرق ھے؟؟

خشونت نے سر ھِلا کر کہا ، ''بھئی جب میں لاھور گیا تو مجھے کنیئرڈ کالج میں مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا۔ تقریر کے دوران میں نے ھال میں براجمان سینکڑوں لڑکیوں میں سے کسی ایک ایسی لڑکی کو تلاش کرنا چاھا جو شکل کی اچھی نہ ھو۔ ایک بھی نہ تھی۔

پچھلے ھفتے میں یہاں دلّی کے ایک گرلز کالج میں بلایا گیا تو تقریر کرتے ھُوئے میں نے ھال میں بیٹھی ھُوئی لڑکیوں میں سے کسی ایک ایسی لڑکی کو تلاش کیا جس کی شکل اچھی ھو ، ایک بھی نہ تھی۔

یہ فرق ھے لاھور اور دلّی میں۔ 



دوستی کے درجے

 عربی میں دوستی کے 13 درجے ہیں۔   زیادہ تر لوگ 'دوست' کے لیول 5 یا اس سے نیچے کے ہوتے ہیں، اور ہم میں سے بہت سے لوگوں کا ایک بھی لیول 12 کا دوست نہیں ہے۔

       دوستی کے درجات یہ ہیں:

1. زمیل

 کوئی ایسا شخص جس سے آپ صرف ملاقات کی حد تک واقف ہوں۔

 2. جلیس

 کوئی ایسا شخص جس کے ساتھ آپ کچھ وقت بغیر کسی پریشانی کے گزار سکیں۔

 3. سمیر

 ایسا شخص جس کے ساتھ بات چیت کرنے میں آپ کو کوئی دقت نہ ہو۔

 (یہ وہ مقام ہے جہاں سے معاملات سنجیدہ ہونا شروع ہوتے ہیں)

 4. ندیم

 پینے پلانے والا ایک ساتھی (صرف چائے) جسے آپ فرصت کے لمحوں میں یاد کر سکیں۔

 5. صاحب 

 کوئی ایسا شخص جو آپ کی خیریت کے لیے فکرمند ہو۔ (اب ہم دوستی کے حقیقی مقام کی طرف بڑھ رہے ہیں)

 6. رفیق

 کوئی ایسا شخص جس پر آپ انحصار کر سکیں۔  آپ شاید ان کے ساتھ اپنی چھٹیاں بھی گزارنا چاہیں

 7. صدیق

 ایک سچا دوست، کوئی ایسا شخص جو آپ سے کسی مطلب برآری کے لیے دوستی نہیں کرتا۔ بلکہ اس سے آپ کے تعلقات کی بنیاد بےلوث اور اخلاص پر مبنی ہو

 8. خلیل

 ایک قریبی دوست، کوئی ایسا شخص جس کی موجودگی آپ کو خوش کر دے۔

 9. انیس- 

کوئی ایسا شخص جس کی موجودگی میں آپ راحت محسوس کریں

 10  نجی -

 قابل بھروسہ/اعتماد

 کوئی ایسا شخص جس پر آپ کو گہرا اعتماد ہو۔

 11. صفی- 

آپ کا بہترین دوست، کوئی ایسا شخص جسے آپ دوسرے دوستوں پر فوقیت دیتے ہیں۔

 12. قرین 

کوئی ایسا شخص جو آپ سے الگ نہ ہو اور نہ صرف آپ جانتے ہوں کہ وہ کیسا سوچتا ہے بلکہ وہ بھی آپ کے خیالات سے واقف ہو آپ دونوں ایک دوسرے کے مزاج آشنا ہوں ۔ 

13۔ حبیب

یہ دوستی کی اعلیٰ ترین شکل ہے جس میں دوستی کے باقی سب اوصاف کے ساتھ دوست محبوب کے مرتبه پر فائز ہوتا ہے۔ يعنی  . . . وہ انسان جس سے بے لوث محبت ہو۔

  آپ بتائیے آپکے اردگرد کس درجے کے اور کتنے دوست ہیں؟

انسانی زندگی کے مستعار سال

 حالانکہ یہ تلخ حقیقت ہے۔

پرانے زمانے میں کہا جاتا تھا:

کتے سے کہا گیا: "تم انسانوں کے گھروں کی حفاظت کرو گے، اور انسان کے بہترین دوست بنو گے۔ تمہیں ان کے چھوڑے ہوئے کھانے سے گزارا کرنا ہوگا، اور میں تمہیں تیس سال کی زندگی دوں گا۔"

کتے نے کہا: "تیس سال بہت زیادہ ہیں، مجھے صرف پندرہ سال چاہیے۔" چنانچہ اسے اس کی مرضی کے مطابق مل گیا۔


بندر سے کہا گیا: "تم درخت کی شاخوں پر جھولتے رہو گے، اور لوگوں کو ہنسانے کے لیے کرتب دکھاؤ گے۔ تمہیں بیس سال کی زندگی دی جائے گی۔"

بندر نے کہا: "بیس سال بہت زیادہ ہیں، مجھے صرف دس سال چاہیے۔" چنانچہ اسے اس کی مرضی کے مطابق مل گیا۔


گدھے سے کہا گیا: "تم بغیر کسی شکایت کے دن بھر کام کرو گے، اور اپنے اوپر بھاری بوجھ اٹھاؤ گے۔ تمہیں جو اور کھانا پڑے گا، اور تمہاری کوئی عقل نہیں ہوگی۔ تمہیں پچاس سال کی زندگی دی جائے گی۔"

گدھے نے کہا: "پچاس سال بہت زیادہ ہیں، مجھے صرف بیس سال چاہیے۔" چنانچہ اسے اس کی مرضی کے مطابق مل گیا۔


انسان سے کہا گیا: "تم زمین پر سب سے زیادہ عقل مند مخلوق ہو، اور تم اپنی عقل کو استعمال کر کے باقی مخلوقات پر حاکم بنو گے۔ تمہیں ایک خوبصورت زندگی دی جائے گی اور تم بیس سال تک زندہ رہو گے۔"

انسان نے کہا: "بیس سال بہت کم ہیں! مجھے ان تیس سالوں کی بھی ضرورت ہے جو گدھے نے نہیں چاہے، اور ان پندرہ سالوں کی جو کتے نے نہیں چاہے، اور ان دس سالوں کی جو بندر نے نہیں چاہے۔" چنانچہ اسے اس کی مرضی کے مطابق مل گیا۔


تب سے انسان بیس سال تک انسان کی طرح زندہ رہتا ہے، پھر شادی کے بعد:

تیس سال گدھے کی طرح کام کرتا ہے، صبح سے شام تک مشقت کرتا ہے اور بوجھ اٹھاتا ہے۔

پھر جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں، تو پندرہ سال کتے کی طرح گھر کی حفاظت کرتا ہے، دروازے بند کرتا ہے اور کم کھاتا ہے یا اپنے بچوں کے چھوڑے ہوئے کھانے پر گزارا کرتا ہے۔

پھر جب بوڑھا ہو جاتا ہے اور ریٹائر ہو جاتا ہے، تو دس سال بندر کی طرح زندہ رہتا ہے۔ ایک گھر سے دوسرے گھر، ایک بیٹے سے دوسرے، ایک بیٹی سے دوسری، اور اپنے پوتے پوتیوں کو ہنسانے کے لیے کہانیاں سناتا ہے۔


تو، اے ابن آدم، کیوں غرور کرتے ہو؟

(منقول فرضی کہانی)

بچے کہنا کیوں نہیں مانتے

بچے کہنا کیوں نہیں مانتے

👈🏻  اس لیے کہ

آپ کو اپنی بات منوانے کا طریقہ نہیں آتا..!!

ہمارے استاد کہتے ہیں

ٹریننگ بچوں کی نہیں تمہاری ہونی چاہیئے

میں نے کہا استاد پھر بتائیے

بچے کیسے ہماری بات مان لیں...؟

✔ وقت پر پڑھائی کریں

✔ کھانا  ٹھیک سے کھائیں

✔  اپنے سامان کپڑے، کھلونے سمیٹ کر رکھیں

✔  اپنا کمرہ صاف رکھیں

✔  وقت پر ہوم ورک کر لیں

✔  بڑوں کے ساتھ  تمیز سے پیش آئیں

✔  بچے آپس میں لڑائی جھگڑا نہ کریں

وغیرہ وغیرہ وغیرہ...!!!


استاد محترم نے جواب دیا

بچے ہر بات مان لیں گے

بس انہیں زبان سے کہنا چھوڑ دو..!

اور اپنی برین پاور سے کام لو

ابھی 

تم سارا سارا دن رات صبح شام ہفتوں ان کے ساتھ

جھک جھک کرتے ہو

اور صرف ایک منفی لائن بار بار دھراتے ہو

🥀 تم ایسا کیوں نہیں کرتے..!

🥀 تم پڑھائی کیوں نہیں کرتے.!

🥀 تم کھانا کیوں نہیں کھاتے.!

🥀  تم اتنا لڑتے کیوں ہو.!

🥀  تم اتنے گندے کیوں رہتے ہو.!

🥀 تم آپس میں لڑتے کیوں ہو.!

🥀 تم نے میرا دماغ کھا لیا ہے.!

تم

تم

تم

♨ آپ نے بچوں سے شکوہ کر کر کے

ان تک منفی انرجی پہنچا کر انہیں تھکا دیا ہے..!

🧠 ان کے دل دماغ میں منفی سوچوں کا انبار لگ گیا ہے

وہاں کسی اچھے کام کی پازیٹو سوچ کو رکھنے کی جگہ ہی نہیں ہے

اور تم نے خود ایسا کیا ہے

اب

آپ ان سے

ان ہی کے بھلے کی فائدہ کی کوئی بات

کہتے ہو

وہ اس کا الٹ کرتے ہیں

وجہ آپ خود ہو

آپ انہیں زبان سے ھدایات دینا بند کر دو

اب ایک نیا تجربہ کرو 

اور چوبیس گھنٹے میں دو بار 

رات کو جب بچے سوئے ہوں

اور صبح انہیں جگاتے وقت 

ان کے قریب بستر پر بیٹھ کر

کان کے پاس سرگوشی کے انداز میں

✔ ان کے اچھے کاموں کی تعریف کرو

✔ انہیں ایپریشیٹ کرو

✔ انہیں حوصلہ دو

✔  ان سے کہو:

🌷 تم بہت سمجھدار ہو

🌷 تم بہت ذہین ہو

🌷 تم بہت ذمہ دار ہو

🌷  تم بہت تمیز دار ہو 

غرض یہ کہ

آپ ان میں جو جو خوبی دیکھنا چاہتے ہو

اور ان کی جو بھی کی خراب عادات تبدیل کرنا چاہتے ہو

ان کے لاشعوری ر ذہن میں محفوظ کر دو

یاد رکھو! 

جو بات لاشعور میں محفوظ ہوگئی

وہ زندگی بھر اسے یاد رکھیں گے

اور اس پر عمل پیرا ہونگے

رات  کو بچوں کے سونے کے فوری بعد اور صبح

انہیں جگاتے وقت ان کے سب کانشز مائنڈ سے

گفتگو کرو

زیادہ بہتر ہے یہ گفتگو زبان کی بجائے

اپنی مائنڈ سے کی جائے

پھر دن اور رات

میں اپنی عبادات کے بعد کچھ وقت مراقبہ

بھی کیجئے

👈🏻 اس مراقبہ کے دوران اپنے بچوں کو

اپنے رشتوں کو، دوست احباب اہل خانہ کو

ان سب کو جنہیں آپ بہت اچھا دیکھنا چاہتے ہیں

اپنی مثبت سوچ، پازیٹو انرجی

ان تک پہنچاؤ

پھر دیکھو

چند روز میں

مشکل سے مشکل بچہ

یا کوئی بھی اور رشتہ کس طرح

تمہاری بات مانتا ہے

🤚🏻 ایک اور بات

🤚🏻🤚🏻  بہت ہی اہم بات

بچوں اور دیگر رشتہ داروں سے 

❌ گلے شکوہ کرنا چھوڑ دو 

نہ ان سے کوئی شکوہ کرو

نہ ان کے بارے میں کسی اور سے گلے شکوے کرو

یہ گلہ، شکوہ، طعنہ، طنز یہی وہ

بیڈ انرجی ہے

جو آج کل بچوں کو، رشتوں کو

تعلقات کو سخت نقصان پہنچا رہی ہے

ابھی دیر نہیں ہوئی..!

آج سے اپنے سمجھانے کے انداز کو بدل کر

زبان کی بجائے مائنڈ سے شروع کر کے دیکھو

پھر

🤝🏻 خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں

یا اللہ اس ہوٹل پر رش لگا دے

ھمارے آفس کے قریب ایک ناشتہ پوائنٹ ھے

اکثر وھاں ناشتہ کرنے جاتے ھیں.. کافی رش ھوتا ھے ناشتے والے کے پاس

میں نے کافی دفعہ مشاھدہ کیا کہ ایک شخص آتا ھے اور کھانا کھا کر بھیڑ کا فائدہ اُٹھا کر چُپکے سے پیسے دئیے بغیر ھی نکل جاتا ھے جھانسہ دے کر

ایک دن جب وہ کھانا کھا رھا تھا تو میں نے چُپکے سے ناشتہ پوائنٹ کے مالک کو بتا دیا کہ وہ والا بھائی ناشتہ کر کے بغیر بِل دئیے رش کا فائدہ اُٹھا کر نکل جاتا ھے.. آج یہ جانے نہ پائے.. اس کو رنگے ھاتھوں پکڑنا ھے آج

میری بات سُن کر ناشتے والا مالک مُسکرانے لگ گیا اور کہنے لگا کہ اسے نکلنے  دو.. کُچھ نہیں کہنا اس کو.. بعد میں بات کرتے ھیں.

حسبِ معمول وہ بھائی ناشتہ کرنے کے بعد ادھر اُدھر دیکھتا ھوا جھانسہ دے کر چُپکے سے نکل گیا.

میں نے ناشتے والے مالک سے پُوچھا کہ اب بتاؤ اُسے کیوں جانے دیا.. کیوں اُس کی اس حرکت کو نظر انداز کیا؟؟؟

جو جواب اُس ناشتے والے مالک نے دیا وہ جواب میرے چودہ طبق روشن کر گیا.

کہنے لگا کہ اکیلے تُم نہیں بہت سے بندوں نے اس کو نوٹ کیا اور مجھے بتایا.. نہ بھی کوئی بتاتا تو مجھے خُود بھی پتہ ھے اس کی اس حرکت کا ھمیشہ سے

کہنے لگا کہ یہ سامنے بیٹھا رھتا ھے اور جب دیکھتا ھے کہ میری دوکان پر رش ھو گیا ھے تو چُپکے سے آ کر کھانا کھا کر نِکل جاتا ھے.

میں ھمیشہ اس کو نظر انداز کر دیتا ھوں اور کبھی نہیں روکا.. نہ پکڑا نہ کبھی بے عزت کرنے کی کوشش کی

کیونکہ مجھے لگتا ھے کہ میری دوکان پر رش ھی اس بندے کی دُعا سے لگتا ھے.. یہ سامنے بیٹھ کر دُعا کرتا ھو گا کہ یا اللہ اس ہوٹل پر رش  لگا دے تاکہ  میں اپنی کاروائی ڈال سکوں.......... اور سچ میں رش ھو جاتا ھے ھمیشہ جب یہ آتا ھے.....

میں اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان اس دُعا اور قبُولیت کے معاملے میں ٹانگ اڑا کر اپنی بدبختی کو دعوت نہیں دینا چاھتا... یہ میری طرف سے نظر انداز ھی ھوتا رھے گا اور ھمیشہ ایسے کھانا کھاتا رھے گا تو بھی میں کبھی اس کو پکڑ کر بے عزت نہیں کروں گا ۔

نیکی کا انجام بدی

ایک شخص جنگل کے درمیان سے گزر رہا تھا کہ اس نے جھاڑیوں کے درمیان ایک سانپ پھنسا ہوا دیکھا ، سانپ نے اس سے مدد کی اپیل کی تو اس نے ایک لکڑی کی مدد سے سانپ کو وہاں سے نکالا، باہر آتے ہی سانپ نےکہا کہ میں تمہیں ڈسوں گا۔ اس شخص نے کہا کہ میں نے تمہارے ساتھ نیکی کی ہے تم میرے ساتھ بدی کرنا چاہتے ہو ، سانپ نے کہا کہ ہاں نیکی کا جواب بدی ہی ہے ،اس آدمی نے کہا کہ چلو کسی سے فیصلہ کرالیتے ہیں ۔

چلتے چلتے ایک گاۓ کے پاس پہنچے اور اس کو سارا واقعہ بیان کرکے فیصلہ پوچھا تو اس نے کہا کہ واقعی نیکی کا جواب بدی ہے کیونکہ جب میں جوان تھی اور دودھ دیتی تھی تو میرا مالک میرا خیال رکھتا تھا اور چارہ پانی وقت پہ دیتا تھا لیکن اب میں بوڑھی ہوگئی ہوں تو اس نے بھی خیال رکھنا چھوڑ دیا ہے۔

یہ سن کرسانپ نے کہا کہ اب تو میں ڈسوں گا اس آدمی نے کہا کہ ایک اور فیصلہ لے لیتے ہیں ، سانپ مان گیا اور انہوں نے ایک گدھے سے فیصلہ کروایا ، گدھے نے بھی یہی کہا کہ نیکی کا جواب بدی ہے، کیونکہ جب تک میرے اندر دم تھا میں اپنے مالک کے کام آتا رہا جونہی میں بوڑھا ہوا اس نے مجھے بھگا دیا۔

سانپ اس شخص کو ڈسنے ہی لگا تھا کہ اس نے منت کرکے کہاکہ ایک آخری موقع اور دو ، سانپ کے حق میں دو فیصلے ہوچکے تھے اس لیے وہ آخری فیصلہ لینے پہ مان گیا ، اب کی بار وہ دونوں ایک بندر کے پاس گئے اور اسے سارا واقعہ سناکرکہا کہ فیصلہ کرو۔

اس نے آدمی سے کہا کہ مجھے ان جھاڑیوں کے پاس لے چلو ، سانپ کو اندر پھینکو اور  پھر میرے سامنے باہر نکالو ، اس کے بعد میں فیصلہ کروں گا۔

وہ تینوں واپس اسی جگہ گئے ، آدمی نے سانپ کو جھاڑیوں کے اندر پھینک دیا اور پھر باہر نکالنے ہی لگا تھا کہ بندر نے منع کردیا اور کہا کہ اس کے ساتھ نیکی مت کر ، یہ نیکی کے قابل ہی نہیں۔

خدا کی قسم وہ بندر پاکستانی عوام سے زیادہ عقل مند تھا ، پاکستانیوں کو بار بار ایک ہی طرح کے سانپ مختلف ناموں اور طریقوں سے ڈستے ہیں لیکن ہمیں یہ خیال نہیں آتا کہ یہ سانپ ہیں ان کے ساتھ نیکی کرنا اپنے آپ کو مشکل میں ڈالنے کے برابر ہے۔

یہ کبھی بھی آپکے ہمدرد نہیں ہوسکتے۔۔

مون سون بارشوں میں محتاط رہیں

 آج کل پاکستان میں مون سون عروج پر ہے اور ایسے مو سم میں نمی اور حبس بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے، جس کی وجہ سے انواع واقسام کے کیڑے مکوڑے اور طرح طرح کے رینگنے والے حشرات الارض اپنے بلوں سے باہر آجاتے ہیں۔ ایسے میں چند احتیاطی تدابیر کی اشد ضرورت ہے تاکہ ناگہانی تکلیف سے۔۔۔ اللہ کی مدد کے ساتھ بچا جا سکے۔

1۔ کپڑے اور جوتے ہمیشہ جھاڑ کر پہنیں، کپڑوں کو تین مرتبہ جھاڑ کر پہننے کا حکم ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دیا ہے۔

2۔ اپنے دھلے یا میلے کپڑوں کو غسل خانوں میں مت لٹکائیں۔

3۔ میلے کپڑوں کی باسکٹ یا ٹب بھی غسل خانوں میں نہ رکھیں اور اگر رکھنا ہی ہو تو کوشش کریں کہ یہ ڈھکن والے ہوں۔

4۔ گھر کی صفائی ستھرائی کی چیزیں جیسے جھاڑو یا فرش اور صفائی والا کپڑا جھاڑ کر استعمال کریں۔

5۔ گیراج، صحن یا کوریڈور میں پڑی چیزوں کو دیکھ بھال کے اٹھائیں۔

6۔ ننگے پاؤں نہ پھریں۔

7۔ گھر میں موجود ڈرینیج اور پائپوں کے منہ کو اچھی طرح جالیوں سے بند کریں۔

8۔ باورچی خانے میں کوئی بھی چیز ڈھکے بغیر نہ رکھیں خاص طور پر رات کے وقت۔

9۔ پانی کے برتنوں اور کھانے پینے والی چیزوں کو بھی ڈھانپ کر رکھیں۔

10۔ رات کے وقت کوئی بھی کھانے کی چیز کو فرش پر پڑا نہ رہنے دیں۔

11۔ اگر گھر کے صحن، گیراج، چھت یا کسی اور جگہ اینٹیں روڑے پتھر وغیرہ پڑے ہیں اور انہیں ہٹانا ہو تو بہت دھیان سے ہٹائیں کیونکہ ایسی جگہیں حشرات الارض کو بہت پسند ہوتی ہیں۔

12۔ ایک بڑی بوتل میں کیڑے مار دوائی کا مکسچر تیار رکھیں اور اور بوقت ضرورت چھڑک دیں۔ بوتل کے اوپر سپرے والی نوزل لگا لیں جو کہ بازار سے آسانی مل جاتی ہے۔ اس بوتل کے اوپر کاغذ پر لکھ کر چپکا دیں کہ اس میں کیا ہے اور بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔

13۔ گھر کے کونوں کھدروں اور صوفوں بیڈز وغیرہ کےنیچے دھیان سے صفائی کریں۔

14۔ پانی یا کوئی بھی کھانے پینے والی چیزوں کو دیکھے بغیر مت استعمال کریں۔

15۔ گھر میں موجود الماریوں کے پٹ چیزیں نکالنے یا رکھنے کے بعد کھلے نہ چھوڑیں۔

16۔ اگر کسی الماری کےخانے میں کپڑے عرصہ دراز سے تہہ ہوئے پڑے ہیں تو انہیں احتیاط سے اٹھائیں اور استعمال کریں۔

17۔ اس کے علاوہ بجلی کی چیزوں کو ننگے پاؤں اور گیلے ہاتھوں اور گیلے کپڑوں کے ساتھ ٹچ نہ کریں۔

18۔ اگر پانی کی موٹر صحن میں ہے تو اسے پلاسٹک شیٹ سے ڈھانپ کر رکھیں۔

19۔ ایسا کوئی بھی سوئچ بورڈ جو ایسی جگہ ہے جہاں بارش کا پانی آتا ہے، اسے لکڑی کی چھڑی سے، خشک جوتے سے، خشک ہاتھوں یا خشک کپڑوں سے ٹچ کریں۔

20۔ بچوں سے ہرگز پانی کی موٹر کا  یا دیگر سوئچ آن آ ف نہ کروائیں۔

21۔ خواتین کچن میں کام کرتے ہوئے اور الیکٹرک ہوم اپلا ئینسز استعمال کرتے وقت اپنا خاص خیال رکھیں اور بالکل بے احتیاطی نہ کریں۔

22۔ اس کے علاوہ گیلے فرش پر قدم جما کر اور احتیاط سے چلیں۔

23۔ اپنے گھر کے بزرگوں کا خاص طور پر خیال رکھیں کہ ان کے آنے جانے کی جگہ خشک ہو، اگر زیادہ ضعیفی ہو تو انہیں چھڑی پکڑ کر چلنے پر اصرار کریں۔

24۔ گھر میں کوئی پالتو جانور ہیں یا باڑے میں مویشیوں کے لیے خشک اور صاف جگہ کا بندوبست کریں۔

25۔ احتیاط کیجیے، زندگی بہت قیمتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے بچوں، ہمارے بزرگوں، ہماری خواتین اور سب چھوٹے بڑوں کو حادثات اور آفات ناگہانی سے محفوظ رکھے۔

آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

منقول