کسی کا پردہ فاش نہ کریں

ایک مصری عالم کا کہنا تھا کہ مجھے زندگی میں کسی نے لاجواب نہیں کیا سوائے ایک عورت کے جس کے ہاتھ میں ایک تھال تھا جو ایک کپڑے سے ڈھانپا ہوا تھا میں نے اس سے پوچھا تھال میں کیا چیز ہے۔

" وہ بولی اگر یہ بتانا ہوتا تو پھر ڈھانپنے کی کیا ضرورت تھی۔"

" پس اس نے مجھے شرمندہ کر ڈالا "

یہ ایک دن کا حکیمانہ قول نہیں بلکہ ساری زندگی کی دانائی کی بات ہے۔

" کوئی بھی چیز چھپی ہو تو اس کے انکشاف کی کوشش نہ کرو۔"

کسی بھی شخص کا دوسرا چہرہ تلاش کرنے کی کوشش نہ کریں خواہ آپ کو یقین ہو کہ وہ بُرا ہے یہی کافی ہے کہ اس نے تمہارا احترام کیا اور اپنا بہتر چہرہ تمہارے سامنے پیش کیا بس اسی پر اکتفا کرو۔

ہم میں سے ہر کسی کا ایک بُرا رخ ہوتا ہے جس کو ہم خود اپنے آپ سے بھی چھپاتے ہیں۔

" اللہ تعالٰی دنیا و آخرت میں ہماری پردہ پوشی فرمائے" ورنہ

جتنے ہم گناہ کرتے ہیں اگر ہمیں ایک دوسرے کا پتہ چل جائے تو ہم ایک دوسرے کو دفن بھی نہ کریں۔

جتنے گناہ ہم کرتے ہیں اس سے ہزار گنا زیادہ کریم رب ان پر پردے فرماتا ہے۔

" کوشش کریں کہ کسی کا عیب اگر معلوم بھی ہو تو بھی بات نہ کریں " آگے کہیں آپ کی وجہ سے اسے شرمندگی ہوئی تو کل قیامت کے دن اللہ پوچھ لے گا کہ جب میں اپنے بندے کی پردہ پوشی کرتا ہوں تو تم نے کیوں پردہ فاش کیا؟


سدا خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں


Copied

ایک ٹافی

 استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔

’’سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔‘‘

یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے ۔

چند لمحوں کے لیے کلا س میں خاموشی چھاگئی ،ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھااور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہورہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔

اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشال تھا. 

کچھ سالوں بعد استاد نے اپنی وہی ڈائری کھولی اور ان سات بچوں کے نام نکال کر ان کے بارے میں تحقیق شروع کی ۔ کافی جدوجہد کے بعد ان کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ اپنی زندگی میں کامیابی کے کئی زینے طے کر چکے ہیں اور ان کا شمار کامیاب افراد میں ہوتا ہے۔پروفیسر والٹر نے اپنی کلاس کے باقی طلبہ کا بھی جائزہ لیا،معلوم ہوا کہ ان میں اکثریت ایک عام سی زندگی گزار رہی تھی، جب کہ کچھ افراد ایسے بھی تھے، جنھیں سخت معاشی اور معاشرتی حالات کا سامنا تھا۔

 اس تمام تر کاوش اور تحقیق کا نتیجہ پروفیسر والٹر نے ایک جملے میں نکالا اور وہ یہ تھا. 

’’جو انسان دس منٹ تک صبر نہیں کرسکتا، وہ زندگی میں ترقی نہیں کر سکتا۔‘‘

 اس تحقیق کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی اور اس کا نام ’’مارش میلو تھیوری‘‘ پڑ گیا، کیوں کہ پروفیسر والٹر نے بچوں کو جو ٹافی دی تھی، اس کا نام ’’مارش میلو‘‘تھا. یہ فوم کی طرح نرم تھی ۔

اس تھیور ی کے مطابق دنیا کے کامیاب ترین افراد میں اور بہت ساری خوبیوں کے ایک ساتھ ایک خوبی ’’صبر‘‘ کی بھی پائی جاتی ہے، کیوں کہ یہ خوبی انسان کی قوتِ برداشت کو بڑھاتی ہے، جس کی بدولت انسان سخت حالات میں بھی مایوس نہیں ہوتا اور یوں وہ ایک غیر معمولی شخصیت بن جاتا ہے۔۔۔۔۔

مایوسی نہیں بلکے صبر رکھءے ان شاء اللہ کامیابی قدم چومے گی...


Copied

بچوں کو دنیاکی تعلیم کے ساتھ دین بھی سیکھائیں

 اولاد کو انسان کے لیے نعمت قرار دیا گیا ہے۔ ایک ایسی نعمت کہ جو انسان کو اس کی آخرت سے بھی غافل کردیتی ہے۔ محبت و شفقت کی وجہ سے اولاد کے دنیاوی اخراجات اٹھانا اور سہولیات فراہم کرنا ہر شخص بقدر استطاعت کرتا ہے۔ لیکن سچی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ اولاد کو دین کی راہ پر لگایا جائے یہی اخروی کامیابی کی ضامن ہے۔ اگر ہماری اولاد کی دنیا آرام سے گزرے مگر آخرت خراب ہو تو یہ کونسی سمجھداری اور محبت ہوئی۔

اسلام انسان کے لیے مکمل ضابطہ حیات ہے۔ وہ احکام جو ہم پر فرض ہیں ان کا سیکھنا بھی ہم پر ضروری ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ شریعت اسلامیہ ہم سے کیا تقاضا کرتی ہے۔ جس طرح دنیاوی فوائد سامنے ہونے کے ناتے دنیاوی امور انسان دوسروں کی دیکھا دیکھی بھی سیکھ لیتا ہے لیکن آخرت ہماری نظر کے سامنے نہیں ہے اس لیے اسے ہم اہمیت نہیں دیتے ۔ اگر دیکھا جائے تو وہی زندگی ابدی ہے۔ اس لیے نہ صرف ہمیں دین سیکھنا چاہیے بلکہ اپنی اولاد کو بھی دینی علوم سے آراستہ کرنا چاہیے۔

اپنی اولاد کی اچھی تربیت کے لیے ماں یعنی عورت جسے آدھی دنیا کہا جاتا ہے کی ذمے داری بہت اہم ہے۔ جامع ترمذی کی تین مختلف احادیث ہیں جن میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’اپنی اولاد کو جب وہ 7سال کی ہوجائے نماز کا حکم دیں اور جب وہ 10سال کے ہوجائی اور نماز نہ پڑھیں تو انہیں سرزنش کریں‘‘۔ ’’والد کا اپنی اولاد کو بہترین تربیت دینے سے بہتر کوئی تحفہ نہیں‘‘۔ ’’انسان اپنے بچے کو ادب سکھائے یہ اس کے لیے صدقہ کرنے سے بہتر ہے‘‘۔
ادب سے مراد پسندیدہ اعمال اور بلند اخلاق ہیں۔ جن باتوں کا شریعت نے حکم دیا ہے ان کا اہتمام کرنا اور جن باتوں سے منع کیا گیا ہے ان سے رکنا یہ سب آداب میں شامل ہیں۔ اپنے ماحول اور معاشرے میں رہنے والوں سے اچھے اخلاق سے پیش آنایعنی نہ ان سے بہت اچھے طریقے سے رہنے اخلاقات سے رہنا بھی سلیقہ آداب میں سے ہے۔

اب اگر والدین اپنی اولاد کو ان آداب سے محروم رکھے ہوئے ہیں تو یقیناًوہ شریعت کی بتائی ہوئی حدو د و قیود سے تجاوز یا کمی کر تے ہیں۔ ہمیں سوچنا ہے کہ جب ہم مسلمان ہیں تو پھر طرز زندگی غیروں کا کیوں اپنایا ہوا ہے۔ کیا ایک مسلم کو یہ لائق ہے کہ اس کے بچوں کو قرآن ، نماز چاہے آئے یا نہ انگریزی فرفر آنی چاہیے۔ پھر ایک مسئلہ جو اہم ہے کہ کچھ لوگ اپنے بچوں کو دینی تعلیم سیکھا دیتے ہیں مگر بچیوں کو بالکل بھی دینی تعلیم نہیں سیکھائی جاتی۔ اگرچہ کچھ مقامات پر تعلیم دی جاتی ہے تاہم اکثریت نہ جانے کیوں اس کو معیوب سمجھتی ہے۔ ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم کو غیر ضروری اور بکثرت مقامات پر معیوب بھی سمجھا جاتا ہے ۔ لڑکیاں ضعیف جنس ہیں ۔ مردوں سے ہر لحاظ سے کمزور ہیں ۔ بہت سے گھرانوں میں یہ مقہور و مظلوم ہوکر زندگی گزارتی ہیں چہ جائے کہ ان کے ساتھ حسن سلوک اور شفقت کا برتاؤ کیا جائے ان کے جائز حقوق بھی سلب کرلیے جاتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکیوں کی بہترین پرورش اور ان کی خیر خبر رکھنے والے کو جنت کی بشارت دی ہے فرمایا’’جس نے تین بیٹیوں/ بہنوں کی اچھی پرورش کی انہیں ادب سکھایا محبت و شفقت کا برتاو کیا یہاں تک کہ وہ اس سے بے نیاز ہوگئیں، اللہ اس کے لیے جنت واجب کردے گا‘‘۔ سوال کرنے والے نے پوچھا اگر دو ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تب بھی‘‘۔ حدیث بیان کرنے والے فرماتے ہیں ہیں کہ اگر ایک کے بارے میں بھی سوال ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تب بھی یہی فرماتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ’’جو شخص بچیوں کی وجہ سے آزمایا گیا اس کے لیے جنت واجب کردی گئی‘‘ (مسلم)

آزمانے کا مطلب یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں بیٹی کی پیدائش کو معیوب سمجھا جاتا تھا اور بیٹی کی خوشخبری پر کفار کے چہرے سیاہ ہوجاتے تبھی اسے ایک آزمائش کہا گیا۔ مگر موجودہ دور میں بھی بچیوں کی وجہ سے بہت سی آزمائشیں آتی ہیں۔ کچھ خود ساختہ ہوتی ہیں تو کچھ پیدا ہوجاتی ہیں۔ تاہم اگر کوئی اپنی بچیوں کو تعلیم کے لیے لے آنے اور لے جانے کے لیے کوشش جاری رکھے اور انہیں اچھی تربیت دے تو یہ ایک آزمائش تو ہے مگر یہ اس کے لیے جنت میں جانے کا سبب بھی ہے۔ بچیوں کی تعلیم و تربیت ان کی پرورش بھی ایک آزمائش ہے اور وہ معاشی مسائل میں والدین کا ساتھ نہیں دے پاتیں اس لحاظ سے بھی آزمائش کہا گیا۔
یہ بات تو طے ہے کہ بچیوں کی دینی تعلیم ضروری ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیوں ضروری ہے۔ عورت کا ایک روپ ماں ہے۔ ماں بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے اگر ماں باشعور اور دینی تعلیم سے بہرہ ور ہو تو کئی خاندان باشعور اور اچھی تربیت کے حامل ہوں گے۔ کسی نے کہا تھا کہ ایک اگر تم مجھے ایک پڑھی لکھی ماں دو تو میں تمہیں ایک پڑھا لکھا معاشرہ دوں گا۔

عہد نبوت میں بھی خواتین کو دینی معلومات سکھانے کے لیے الگ سے دن مقرر تھا۔ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم خصوصا خواتین سے مخاطب ہوتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آنے والی خواتین کو پیچیدہ اور مشکل مسائل سیکھاتی تھیں۔ دینی علوم سیکھانے کے پس پردہ بہت سی حکمتیں بھی شامل ہیں۔ آپ اپنی بچی کو دینی تعلیم دیں گے تو اسے یہ علم ہوگا کہ اس کے ذمے کون کون سے حقوق اللہ اور حقوق العباد ہیں۔ اس کے فرائض کیا ہیں۔ اس طرح بچیوں کو نہ صرف گھر بلکہ باہر کے مسائل سے بھی واقفیت ہوگی۔ اس کے اٹھنے بیٹھنے چلنے کھانے پینے الغرض وہ تمام مسائل معلوم ہوں گے جو وہ شاید کسی سے پوچھنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہو۔ اپنے محارم پہچان لے گی۔ اسے اپنی حدود کا پتا ہوگا۔ وہ اپنی اولاد اور خود اپنے کے لیے حرام حلال میں امتیاز کر پائے گی۔
اگر دیکھا جائے تو دینی علوم سے واقف بچیاں نہ صرف باحیا ہوتی ہیں بلکہ وہ اپنے بڑوں کا ادب کرنے والی بھی ہوتی ہیں۔ انہیں رشتوں کی پہچان ہوتی ہے۔ اپنی بچیوں کو اچھے اوربرے کی تمیز دینی ہے تو دینی ماحول سے مزین فی میل اسلامک سینٹرز میں داخلہ کروائیں۔ یاد رکھیں ماڈرن اسکول میں کھڑی چند روپوں کے عوض پڑھانے والی ٹیچر جسے خود تربیت کی ضرورت ہو کبھی بھی آپ کی بچیوں کو تربیت نہیں دے سکتی۔ اسکول اور کالج میں جانے والی آپ کی بچی اور تو بہت کچھ سیکھ جائے گی جو اسے نہیں سیکھنا چاہیے تاہم وہ سب نہیں سیکھ پائے گی جو اس کے مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے۔
روز قیامت کوئی عذر قبول نہیں کیا جائے گا۔ اپنی اولاد کو بھی دینی تعلیم دیں اور وہ خواتین جو بڑی عمر کو پہنچ چکی ہوں وہ بھی عمر یا شرم کو دین سیکھنے کی راہ میں حائل نہ ہونے دیں۔ دین سیکھیں اپنے اندر دین سیکھنے کے لیے شوق اور طلب صادق پیدا کریں ۔ اللہ دین آپ کو سکھانے کے اسباب مہیا فرمادے گا۔

از: بنتِ عطا

یقین کیا ہے؟

یقین وہ ذہنی و قلبی کیفیت ہے کہ جو اس بچے کے اندر تھی کہ 

سب بارش کے لیے اجتماعی دعا کے لیے نکلے اور وہ ایک ننھا سا بچہ اپنے ساتھ چھتری بھی بغل میں لیے چلا آیا۔

لوگوں نے پوچھا کہ چھتری کیوں لائے ہو؟

اس نے کہا کہ ہم دعا مانگے گے ناں۔۔۔۔ تو  بارش ہوگی، اس سے بچنے کے چھتری تو چاہیے ہوگی ناں؟؟

تو !!!مینٹل اسٹیٹ۔۔۔ایموشنل اسٹیٹ!!! کا مل کر کسی شک و شبہ کی کیفیت سے نکل آنا ہی "یقین" ہے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یقین کا پہلا زینہ ہے: 

خود پر یقین

یہ وہ یقین ہے جو ہر فرد کی زندگی کامیاب۔۔۔۔پرسکون۔۔۔۔خوش باش کرنے اور اپنے مقاصد و اہداف مکمل کے لیے درکار ہے یعنی

اپنی ذات۔۔۔

صلاحیتوں۔۔۔

شخصیت کی جہتوں۔۔۔

مشکلات سے نپٹنے کی استعداد۔۔۔۔

اعلی خوبیوں کے حصول کی لگن۔۔۔

کا یقین۔


والدین کو خود پر یقین کہ چیخنا و چلّانا نہیں۔۔۔مارنا نہیں۔۔۔نرمی و محبت کا مرکز بن جانا ہے بچوں کے لیے۔۔۔۔۔۔۔

بزنس مین کو یقین کہ اپنے کاروبار کو بہترین طریقے شروع کرنا، چلانا اور کامیاب کرنا ہے۔۔۔۔۔۔

اساتذہ/علماء کو یقین کہ وہ رول ماڈل بن کر نسلوں کی نسلیں "بہترین انسان" کی شکل میں ڈھال سکتے ہیں۔۔۔۔۔


دنیاوی کامیابیوں۔۔بلند و بالا اہداف و منصوبوں کو مکمل کرنا۔۔بہترین تعلقات بنائے رکھنا۔۔۔۔۔ذہنی و جسمانی صحت کو حیرت انگیز کیفیت میں رکھنا

یہ سب "خود پر یقین" کے چند فوائد و اشارات ہیں۔

کرسی کو سلام

 نوکری کے دوران بننے والے تعلقات کی حقیقت ... 

اور کرسی کو سلام


 کہتے ہیں کہ ایک کسان نے کھیتوں میں کام کرتے ہوئے بٹیرے پکڑ لیے، اس نے سوچا خود اُس نے اِن بٹیروں کا کیا کرنا ہے کیوں نہ یہ سب سے بڑے اور با اثر افسر کو تحفے میں دئے جائیں . اب بھلا پٹواری سے بڑا افسر کون ہو سکتا تھا اور پھر کسان کو پٹواری سے کام بھی تھا تو وہ  چل پڑا کہ چل کے پٹواری صاحب کو خوش کرتے ہیں...

  پٹواری کے گھر کے باہر پہنچ کر سادہ لوح دیہاتی کسان نے باہر سے ہی  آواز دی 

کسان :  پٹواری صاحب جی...

پٹواری: ہاں  اوئے رحمیاں ، کی آ

کسان: جی چودھری جی  بٹیرے کھا لیندے او ؟ 

( اسی دوران ایک ستم ظریف جو پاس سے گزر رہا تھا، اس نے آہستہ سے بتا دیا کہ پٹواری کا تبادلہ ہو گیا ہے)

پٹواری قدرے خوشی سے : آہو کھا لینے آں

کسان: چنگا فیر پھڑیا کرو تے کھایا کرو...

ہمیں پیار ہے پاکستان سے

جہیز لعنت نہیں ہے

جہیز بیٹیوں کو دیجیے اور ضرور دیجیے۔ کیونکہ یہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سب بیٹیوں کو دیا ہے۔ گر یہ لعنت ہوتی تو نبیِ محتشم کبھی بھی اپنی لخت جگر ہائے کو عطا نہ کرتے۔ فقط اتنا خیال رکھیے کہ اپنی حیثیت کے مطابق دیجیے۔ قرضہ اٹھا کر جہیز دینے کا دکھلاوا نہ کیجیے کیونکہ اسراف ہر شئے میں برا ہے۔

جس معاشرے میں ساس بہو کے ہاتھ سے اپنا گلاس چھین لے۔ جہاں بہوؤں کو حصے کی چارپائیاں گن کر دی جائیں۔

اس معاشرے میں 

جہیز۔۔ بیٹیوں کا سسرال میں مان ہے۔ 

جہیز۔۔ بیٹیوں کی سسرال میں عزت ہے۔ 

جہیز۔۔ آپکی بیٹی کا سسرال میں بھرم ہے۔

رابطہ اور تعلق

ایک دفعہ ایک صحافی اپنے  پرانے ریٹائرڈ استاد کا انٹرویو کر رہا تھا اور اپنی تعلیم کے پرانے دور کی مختلف باتیں پوچھ رہا تھا۔ اس انٹرویو کے دوران نوجوان صحافی نے اپنے استاد سے پوچھا۔۔سر ایک دفعہ آپ نے اپنے لیکچر کے دوران ۔۔contact ...اور connection ... کے الفاظ پر بحث کرتے ہوے ان دو الفاظ کا فرق سمجھایا تھا اس وقت بھی میں کنفیوز تھا اور اب چونکہ بہت عرصہ ہو گیا ہے مجھے وہ فرق یاد نہیں رہا ۔آپ آج مجھے ان دو الفاظ کا مطلب سمجھا دیں  تاکہ مجھے اور میرے چینل کے ناظرین کو آگاہی ہو سکے۔

استاد مسکرایا اور  اس سوال کے جواب دینے سے کتراتے ہوے  صحافی سے پوچھا ۔کیا آپ اسی شھر سے تعلق رکھتے ہیں ؟ شاگرد نے جواب دیا ۔۔جی ہاں سر میں اسی شھر کا ہوں۔ استاد نے پوچھا آپ کے گھر میں کون کون رہتا ہے۔ شاگرد نے سوچا کہ استاد صاحب میرے سوال کا جواب نہیں دینا چاہتے اس لیے ادھر ادھر کی مار رہے ہیں۔ بہر حال اس نے بتایا میری ماں وفات پا چکی ہے۔والد صاحب گھر میں رہتے ہیں۔ تین بھائی اور ایک بہن ہے اور سارے شادی شدہ ہیں۔

 ٹیچر نے مسکراتے ہوے نوجوان صحافی سے پوچھا ۔۔تم اپنے باپ سے بات چیت کرتے رہتے ہو؟ اب نوجوان کو غصہ بھی آیا اور کہا جی میں باپ سے گپ شپ کرتا رہتا ہوں۔ استاد نے پوچھا یاد کرو پچھلی دفعہ تم باپ سے کب ملے تھے؟ اب نوجوان نے غصے کا گھونٹ پیتے ہوے کہا ۔شاید ایک ماہ ہو گیا ہے جب میں ابو کو ملا تھا۔ 

استاد نے کہا تم اپنے بہن بھائیوں سے تو اکثر ملتے رہتے ہوگے۔ بتاو  پچھلی دفعہ تم سب کب اکٹھے ہوے تھے اور گپ شپ حال احوال پوچھا تھا؟ اب تو صحافی صاحب کے ماتھے پر پسینہ آ گیا اور لینے کے دینے پڑ گیے وہ سوچنے لگا میں تو استاد کا انٹرویو لینے چلا تھا مگر الٹا استاد میرا انٹرویو لینے لگا ہے۔ 

اس نے ایک آہ بھر کر لمبا سانس لیتے ہوۓ بتایا کہ شاید دو سال ہو گیے جب ہم بہن بھائی اکٹھے ہوے تھے۔ استاد نے ایک اور سوال داغتے ہوے پوچھا تم لوگ کتنے دن اکٹھے رہے تھے؟۔ نوجوان نے ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے جواب دیا ہم لوگ تین دن اکٹھے رہے تھے۔ استاد نے پوچھا تم اپنے والد کے پاس بیٹھ کر کتنا وقت گزارتے ہو؟ اب تو نوجوان صحافی بہت پریشان ہو گیا اور نیچے میز پر رکھے کاغذ پر کچھ لکھنے لگا۔ استاد نے پوچھا کبھی تم نے باپ کے ساتھ ناشتہ۔لنچ یا ڈنر بھی کیا ہے؟کبھی آپ نے ابو سے پوچھا وہ کیسے ہیں ؟کبھی تم نے باپ سے دریافت کیا کہ تمھاری ماں کے مرنے کے بعد اس کے دن کیسے گزر رہے ہیں؟ٍ 

اب تو انٹرویو کرنے والے صحافی کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو برسنے لگے۔ استاد نے صحافی کا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ بھائی پریشان، شرمندہ، مایوس یا اداس ہونے کی ضرورت نہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے بے خبری میں تمھیں ہرٹ کیا اور دکھ پہنچایا۔ لیکن میں کیا کرتا مجھے آپ کے سوال Contact اور connection .. کا جواب دینا تھا۔ 

اب سنو۔۔۔ ان دو لفظوں کا فرق یہ ہے کہ تمھارا contact یا رابطہ تو تمھارے ابو سے ہے مگر connection یا تعلق ابو سےنہیں رہا یا کمزور ہے۔کیونکہ تعلق یا کنکشن دلوں کے درمیان ہوتا ہے ۔ جب کنکشن یا تعلق ہوتا ہے تو آپ ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے ہیں 

ایک دوسرے کا دکھ درد بانٹتے ہیں۔ ہاتھ ملاتے گلے سے لگتے ہیں اور ایک دوسرے کے کام خوشی خوشی سرانجام دیتے ہیں۔ جیسے ایک معصوم بچے کی ماں اس کو سینے سے لگاتی ہے چومتی بغیر مانگے دودھ پالاتی ہے اس کی گرمی سردی کا خیال رکھتی ہے جب وہ چلنا شروع کرتا ہے تو ساے کی طرح اس کے پاس رہتی ہے تاکہ وہ گر نہ جاے کوئی غلط چیز نہ کھا لے۔گر پڑے تو اس بچے کو گلے سے لگا کر چپ کراتی ہے۔ تو میرے پیارے شاگرد  آپ کے باپ اور بہن بھائیوں کے ساتھ صرف contact یا رابطہ ہے مگر آپ کے درمیان connection یا تعلق نہیں ہے۔ 

نوجوان صحافی نے اپنے آنسو رومال سے صاف کیے اور استاد کا شکریہ ادا کرتے ہوے کہا سر آپ نے مجھے آج ایک بہت بڑا سبق پڑھا دیا جو زندگی بھر نہیں بھولے گا۔ 

 آج ہمارے معاشرے کا یہی حال ہے کہ ہمارے آپس میں بڑے رابطے ہیں مگر کنکشن بالکل نہیں۔ آج فیس بک پر ہمارے پانچ ھزار فرینڈز ہیں مگر حقیقی زندگی میں ایک بھی نہیں۔آج ہم صبح سویرے سیکڑوں دوستوں کو گڈ مارننگ کہ کر بغیر خوشبو کے پھول بھیجتے ہیں حقیقی زندگی میں ایک پھول کی پتی بھی نہیں ملتی آج ہمارے فیس بک پر ھزاروں ہیپی برتھ ڈے کے پیغامات اور خوبصورت کیک کی تصویریں ملتی ہیں حقیقی زندگی میں ایک بھی یار نہیں جو گھر آکے گلے سے ملکر سالگرہ کی مبارک دے اور سینے سے سینہ بھینچ کر کہے سالگرہ مبارک میرے یار۔۔ آج ہم تمام لوگ اپنے کاموں میں مصروف ہیں اور کاغذ کے بے خوشبو پھولوں ۔بڑے کیک کی تصویروں سے دل بہلاتے ہیں۔ کسی عزیز  کے بچھڑنے پہ چند تعزیتی الفاظ اور رشتوں کے سارے تقاضے پورے۔

چار چیزیں زندگی میں کبھی نہ چھوڑیں

 1- الله سبحان وتعالی کا ذکر نہ چھوڑیں ورنہ آپ اس سے محروم ہو جائیں گے کہ الله آپکو یاد رکھے. "فاذکرونی اذکرکم" : "تم میرا ذکر کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا". (سورة البقرة: آیت 152)

2- شکر نہ چھوڑیں ورنہ آپ نعمتوں میں زیادتی اور اضافے سے محروم ہو جائیں گے. "ولئن شكرتم لأ زيدنكم" "اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو مزید دوں گا". (سورة إبراهيم :آیت 7)

3- دعا کو نہ چھوڑیں ورنہ قبولیت سے محروم ہو جائیں گے "أدعوني أستجب لكم" "تم مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا". (سورة غافر :آیت 60)

4- استغفار نہ چھوڑیں ورنہ نجات سے محروم ہو جائیں گے. "وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون" "الله انکو عذاب دینے والا نہیں ہے جب کہ وہ استغفار کرتے ہوں". (سورة الأنفال :آیت 33)