کامن چیز

 ہاورڈ یونیورسٹی میں گزشتہ ساٹھ ستر سال کا ڈیٹا جمع کرکے ایک ریسرچ کی گئی۔۔۔جس کے مطابق ہاورڈ کے ٹاپ گریجویٹس کو فالو کیا گیا ان کی زندگیوں کا جائزہ لیا گیا۔

* ان سٹوڈنٹس میں سے دو تین امریکہ کے صدر بنے۔۔

*کچھ آسٹروناٹس بنے۔۔

* کچھ سائنس دان بنے ۔۔

*کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے نوبل انعام حاصل کیا۔۔

*ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو کنوکٹ ہوے اور جیلیں کاٹی۔۔۔

*کچھ نے خود کشیاں کی اور کچھ ایسے بھی تھے جو کہ آرٹسٹ بنے۔۔ 

ان تمام طلباء کی لائف کو سٹڈی کرکے دیکھا گیا کہ ان میں سے کون اپنی زندگی سے خوش تھا اور کون ناخوش تھا۔

تو آپ یہ جان کر حیران ہونگے کہ اس ساری اسٹڈی میں جو" سینس آف ویل بینگ" ہے۔

۔خوش اور مطمئن زندگی پانے والوں کا جب کرائٹیریا دیکھا گیا۔۔تو اس میں ایک چیز کامن تھی۔۔۔۔

وہ کامن چیز پیسہ نہیں تھا۔۔۔کوئی عہدہ بھی نہیں تھا۔۔۔کوئی ڈگری بھی نہیں تھی۔۔وہ بچوں کی تعداد یا بچوں کی کامیابی بھی نہیں تھی۔۔

وہ " کامن چیز " یہ تھی کہ جن لوگوں نے اپنے رشتے نبھاے۔۔جن کے اندر ریلیشن شپ ڈویلپ کرنے کی صلاحیت تھی۔۔وہ لوگ بہت خوش رہے۔۔جو لوگ رشتوں کو بنا سکے، رشتوں کو نبھا سکے۔۔آپسی معاملات میں کوئی تنازعہ آجاے تو اسکو برداشت کرسکے۔۔یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے اعتماد کے ساتھ زندگی گزاری۔

بوڑھے کی نصیحت

 کہتے ہیں قاہرہ سے اسوان جانے والی گاڑی میں سوار اس عمر رسیدہ شخص کی عمر کم از کم ساٹھ تو ہوگی اور اوپر سے اس کی وضع قطع اور لباس، ہر زاویے سے دیہاتی مگر جہاندیدہ اور سمجھدار بندہ لگتا تھا۔ 

ایک اسٹیشن پر گاڑی رکی تو ایک نوجوان جوڑا سوار ہوا جو اس بوڑھے کے سامنے والی نشست پر آن بیٹھا۔ 

صاف لگتا تھا کہ نوبیاہتا ہیں۔ 

مگر افسوس کی بات یہ تھی کہ لڑکی نے انتہائی نامناسب لباس برمودہ پینٹس کے ساتھ ایک بغیر بازؤں کی کھلے گلے والی شرٹ پہن رکھی تھی جس سے اس کے شانے ہی نہیں اور بھی بہت سارا جسم دعوت نظارہ بنا ہوا تھا۔

مصر میں ایسا لباس پہننا کوئی اچھوتا کام نہیں، اور نا ہی کوئی ایسا لباس پہنے کسی لڑکی کو شوہدے پن سے دیکھتا یا تاڑتا ہے۔ 

مگر دوسرے مسافروں کے ساتھ ساتھ لڑکی کے خاوند کی حیرت دید کے قابل تھی کہ اس بوڑھے نے لڑکی کو دیدے پھاڑ پھاڑ کر دیکھنا شروع کر دیا تھا۔

چہرے سے اتنا پروقار اور محترم نظر آنے والے شخص کی حرکتیں اتنی اوچھی، بوڑھے کی نظریں تھیں کہ کبھی لڑکی کے شانوں پر تو کبھی لڑکی کی عریاں ٹانگوں پر۔ 

اوپر سے مستزاد یہ کہ بوڑھے نے اب تو باقاعدہ اپنی ٹھوڑی کے نیچے اپنی ہتھیلیاں ٹیک کر گویا منظر سے تسلی کے ساتھ لطف اندوز ہونا شروع کر دیا تھا۔

بوڑھے کی ان حرکات سے جہاں لڑکی بے چین, پہلو پر پہلو بدل رہی تھی وہیں لڑکا بھی غصے سے تلملا رہا تھا، 

بالآخر اس نے پھٹتے ہوئے کہا: 

بڑے میاں، کچھ تو حیا کرو، 

شرم آنی چاہئے تمہیں، 

اپنی عمر دیکھو اور اپنی حرکتیں دیکھو، اپنا منہ دوسری طرف کرو اور میری بیوی کو سکون سے بیٹھنے دو۔

بوڑھے دیہاتی نے لڑکے کی بات تحمل سے سنی اور متانت سے جواب دیا: 

لڑکے، میں نا تو جوابا تجھے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تو خود کچھ شرم و حیاکر۔ 

نا ہی تجھے یہ کہوں گا کہ تجھے اپنی بیوی کو ایسا لباس پہناتے ہوئے شرم نہیں آتی؟ 

تو ایک آزاد انسان ہے، 

بھلے ننگا گھوم اور ساتھ اپنی بیوی کو بھی گھما۔

لیکن میں تجھے ایک بات ضرور کہنا چاہتا ہوں، کیا تو نے اپنی بیوی کو ایسا لباس اس لئے نہیں پہنایا کہ ہم اسے دیکھیں۔ آگر تیرا منشا ایسا تھا تو پھر کاہے کا غصہ اور کس بات کی تلملاہٹ؟

بوڑھے نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا؛ دیکھ میرے بیٹے، تیری بیوی کا جتنا جسم ڈھکا ہوا ہے اس پر تیرا حق ہے کہ تو دیکھ، مگر اس کا جتنا جسم کھلا ہوا ہے اس پر تو ہم سب عوام کا حق بنتا ہے کہ ہم دیکھیں۔ 

اور اگر تجھے میرا اتنا قریب ہو کر تیری بیوی کو دیکھنا برا لگا ہے تو میرا نہیں میری نظر کا قصور ہے جو کمزور ہے اور مجھے دیکھنے کیلئے نزدیک ہونا پڑتا ہے۔

بوڑھے کی باتیں نہیں اچھا درس تھا مگر ذرا ہٹ کر، 

لوگوں نے جان لیا تھا کہ بوڑھا اپنا پیغام اس جوڑے تک پہنچا چکا ہے۔ 

لڑکی کا چہرہ آگر شرم سے سرخ ہو رہا تھا تو لڑکا منہ چھپائے چلتی گاڑی سے اترنے پر آمادہ۔ 

اور ہوا بھی ایسے ہی، 

اگلے اسٹیشن پر لڑکے نے جب گاڑی سے اترنے کیلئے باہر کی طرف لپکنا چاہا تو بوڑھے نے پیچھے سے آواز دیتے ہوئے کہا؛

 بیٹے ہمارے دیہات میں درخت پتوں سے ڈھکے رہیں تو ٹھیک، ورنہ آگر کسی درخت سے پتے گر یا جھڑ جائیں تو ہم اسے کلہاڑی سے کاٹ کر تنور میں ڈال دیا کرتے ہیں۔ 

Copied

حق تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے

 ابنِ جوزیؒ لکھتے ہیں کہ اصفہان کا ایک بہت بڑا رئیس اپنی بیگم کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھا ہوا تھا۔ دسترخوان خدا کی نعمتوں سے بھر ہوا تھا ۔ اتنے میں ایک فقیر نے صدا لگائی کہ خدا کے نام پر کچھ کھانے کے لیے دے دو ۔

فقیر اس رئیس کے دروازے پر کھڑا تھا ، اس شخص نے اپنی بیوی کو حکم دیا کہ سارا دسترخوان اس فقیر کی جھولی میں ڈال دو۔ بیوی نے اس کے حکم کی تعمیل کی ، جس وقت اس نے فقیر کا چہرہ دیکھا تو دھاڑیں مار کر رونے لگی ۔

اس کے شوہر نے اس سے پوچھا ، ’’ جی بیگم ! آپ کو کیا ہوا ؟ ‘‘ ۔

بیوی نے بتایا کہ جو شخص فقیر بن کر ہمارے گھر کے دروازے پر دستک دے رہا تھا ، وہ چند سال پہلے اس شہر کا سب سے بڑا مالدار اور ہماری اس کوٹھی کا مالک اور میرا سابق شوہر تھا ۔

چند سال پہلے کی بات ہے کہ ہم دسترخوان پر ایسے ہی بیٹھے کھانا کھا رہے تھے جیسا کہ آج کھا رہے ہیں ، اتنے میں ایک فقیر نے صدا لگائی کہ میں دو دن سے بھوکا ہوں ، خدا کے نام پر کھانا دے دو ۔ یہ شخص دسترخوان سے اُٹھا اور اس فقیر کی اس قدر پٹائی کی کہ اسے لہولہان کر دیا ۔ نہ جانے اس فقیر نے کیا بدعا دی کہ اس کے حالات بد سے بدتر ہوگئے ۔ سارا کاروبار ٹھپ ہوگیا اور وہ شخص فقیر و قلاش ہوگیا ۔ اس نے مجھے بھی طلاق دے دی ۔

اس کے چند سال گزرنے کے بعد میں آپ کی زوجیت میں آگئی ۔

شوہر بیوی کی یہ سب باتیں سن کر کہنے لگا ۔

بیگم ! کیا میں آپ کو اس سے زیادہ تعجب خیز بات بتاؤ ؟

اس نے کہا ، ضرور بتائیں ۔

شوہر کہنے لگا ، جس فقیر کی آپ کے سابق شوہر نے پٹائی کی تھی ، وہ کوئی دوسر نہیں ، بلکہ میں ہی تھا ۔

گردش زمانہ کا یہ عجیب نظارہ تھا کہ حق تعالیٰ نے اس بدمست مالدار کی ہرچیز ، مال ، کوٹھی حتٰی کہ بیوی بھی چھین کر اس شخص کو دے دی ، جو فقیر بن کر اس کے گھر آیا تھا اور چند سال بعد پھر حق تعالیٰ اس شخص کو فقیر بنا کر اسی کے در پر لے آیا ۔ یقیناً حق تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے ۔

تاریخ ایسے سبق آموز واقعات سے بھری پڑی ہے ۔ شرط ہے کہ انسان اس سے عبرت پکڑے ۔

( کتاب العبر )

بیگم صاحبہ کے چودہ نکات

الحمد للہ ، اب میری بیگم بھی ساس بننے والی ہیں ۔ کل میں نے ان سے پوچھا ، تم بہو لانے کے بعد اپنے گھر کا ماحول خوشگوار رکھنے کے لئے کیا کچھ کرو گی ۔ وہ اس وقت تو  چپ رہیں ۔  لیکن آج صبح میں سو کر اٹھا تو تکیئے کے نیچے اس کی یہ تحریر پڑی تھی ۔ میں آپ کو  لکھ کر دے رہی ہوں اور وعدہ کرتی ہوں کہ بیٹے کی شادی کے بعد ۔۔۔۔

1 :  میرا بولنا اور  میرا چپ رہنا ، سب گھر کے خوشگوار ماحول کے لئے ہوگا ۔

2 : بہو  کی ہر اچھی بات اور اچھے کام پہ اس کی تعریف کروں گی ، اور اسے دعائیں دوں گی ۔

3 : شادی شدہ بیٹیوں کو اپنے گھر میں مداخلت کی اجازت نہیں دوں گی ۔

4 : اپنے کسی رشتہ دار ، بہو کے رشتہ دار ، کسی پڑوسی ، اور کسی بھی جاننے والے کے سامنے ، اپنی بہو کی برائی نہیں کروں گی ۔

5 : گھر میں جو چاہے ہو جائے ، اس کے  میکے کے کسی بھی  فرد سے اس کی شکایت نہیں کروں گی ۔

6 : اسے ، اس کی کسی ایسی بات پہ نہیں ٹوکوں گی ، جس سے میرے گھر یا میری ذات کا کوئی نقصان نہ ہو ۔

7 : وہ میرے بیٹے کے ساتھ جہاں بھی جائے ، اور رات کو جب بھی واپس آئے ، اسے کچھ نہیں کہوں گی ۔

8 : اس کے لباس ، اس کے پکوان اور اس کے اخلاق کی تعریف کرتے رہنے کو اپنی روٹین بنا لوں گی ۔

9 : اپنے  بیٹے کے آرام ، سکون ، سہولت ،  لباس اور خوراک کا خیال رکھنے پر ، وقتاً فوقتاً اپنی بہو کا شکریہ ادا کرتی رہوں گی ۔

10 : اس کے میکے والوں کے سامنے ، اس کے اچھے کاموں اور اچھی باتوں کو سراہتی رہوں گی ۔

11 : وقتاً فوقتاً بہو کی موجودگی میں ، اس کے ماں باپ کا شکریہ ادا کیا کروں گی ، کہ انہوں نے اپنے جگر کا ٹکڑا کاٹ کر ، ہمیں گفٹ کر دیا ہے ۔

12 : اس کے صبح لیٹ اٹھنے کو گھر کا مسئلہ نہیں بناؤں گی ۔ کیونکہ اس کے پاس چند ہی سال ایسے ہوں گے  ۔ جب بچے سکول جانے لگے ، خود ہی جلد اٹھنا شروع ہو جائے گی ۔

13 : اس کے تجربے اور فہم کا ، اپنے تجربے اور فہم سے مقابلہ نہیں کروں گی ۔ اور جنریشن گیپ کے مسائل کو بہو کی کمزوریاں تصور نہیں کروں گی ۔

14 : میں پہلے ہی دن سے  ان سب باتوں کا دھیان رکھوں گی تاکہ بعد میں کوئی جھجک ،   میرے  وعدوں کی تعمیل میں حائل نہ ہو ۔

اللہ میرا حامی و ناصر ہو ۔ اور مجھے ان میں سے زیادہ سے زیادہ نقاط پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے ۔ تاکہ میں خود بھی خوش رہ سکوں اور بہو کو بھی اک پرسکون ماحول ملے ۔۔آمین

(منقول از اشفاق احمد)