صحابہ کے دور کا آدمی

یہ قصہ ہے،محبت کی اک بے مثل داستان کا 

اور بے مثل محبت پر مالک کی لازوال عطا کا قصہ!

وہ ایک گمنام بوڑھا شخص تھا، جسے اپنی مادری زبان بلوچی کے علاوہ کوئی اور زبان نہ آتی تھی، عربی تو کجا اسے اردو تک نہ آتی تھی، اس کی ساری زندگی دوسروں کی بکریاں چراتے اک جھونپڑی میں گزری تھی۔ جھونپڑی جو اس کی اپنی زمین پر نہ تھی، سردار کی زمین پر مجبور اور موسموں کی شدت سے شرمسار کھڑی  تھی، جھونپڑی بس  ایسی تھی کی آسمان سے ساری دھوپ ، ساری گرمی سردی اور بارشوں کا سارا پانی اس میں سے گزر کے بابا جی پر آ برستا تھا۔ بابا مگر اسی میں خوش تھے ، شکوہ کیا ہوتا ہے؟ شائد بابا یہ جانتا بھی نہ تھا، جتنا میسر تھا، اس سے زیادہ کی اسے پروا بھی نہ تھی۔ نہ اس بات کی پروا کہ اس کے پاس پکا چھوڑ موسموں سے بچانے والا کوئی کچا کوٹھا تک تھا، نہ اس کا ملال کہ اس کے پاس زیست کرنے کو معمولی سا سامان بھی نہ تھا، نہ اس کی فکر کہ اس کا روزگار بس اجرت پر دوسروں کی بکریاں چرانا تھا،  اس کے سوا کچھ نہ تھا۔ عجیب شخص تھا کہ وہ  بکریاں چرانے کی انبیاء کی سنت پر ہی عمل پیرا نہ تھا، اس کے دل میں ایک اور سنت بھی چپکے چپکے پل رہی تھی اور بڑھ رہی تھی، وہ آرزو تھی سوہنے کا گھر دیکھنے کی آرزو، زیارت بیت اللہ کی سعادت پالینے کی انبیا کی سنت۔ نبی کی بستی سے آنکھیں ٹھنڈی کر لینے کی سعادت کی آرزو۔ 

زاد راہ اس کے پاس کیا ہوتا کہ جس کے پاس زاد زندگی ہی نہ تھا۔ مگر تمنا تھی اور بڑی منہ زور تمنا تھی، وہ بکریاں چراتا رہا، اجرت پر چرائی بکریوں سے اپنے حصے کے بچے وصولتا رہا، جونہی  کوئی ایک اور بچہ اس کے حصے میں آتا، اسے لگتا سوہنے کا گھر اس کے نصیبے کے کچھ اور قریب آ لگا ہے۔ وہ ہر ایسے اجرت میں آئے بچے کے ساتھ سوہنے کا گھر دیکھنے کی اپنی خواہش  بھی پالتا رہا۔ 

پھر ایک دفعہ جب تن پر اچھے کپڑے نہ تھے، پاؤں میں  مناسب جوتا نہ تھا، جھونپڑی میں موسموں کی شدت روکنے کی موزوں صلاحیت نہ تھی، اس کے پاس بکریوں کی اجرت کے کچھ پیسے جمع ہو گئے۔ تب اس کا چاؤ دیکھا نہ جاتا تھا کہ اس کے دل نے الارم بجایا، سوہنے کا گھر دیکھنے کا ٹائم آ گیا۔ عشق کے امتحان مگر ابھی اور بھی تھے، ابھی محبوب کے ہاں حاضری کا ٹائم نہ آیا تھا انسانیت پر کورونا  کا امتحان آ گیا تھا۔ اس نے رضا کی گردن جھکائی اور  تمنا بغل میں داب لی، وہ  انتظار کی سولی پہ ٹنگ گیا۔ کورونا گزرا تو در محبوب تک جانے کیلئے زاد راہ اور بڑھ گیا تھا۔ اسی دوران اس کے پاس مگر کچھ بکریاں آ گئی تھیں۔ ان بکریوں کا ، عمر بھر کی جمع پونجی کا، زندگی بھر کی محنت کا اور بھلا کیا مصرف ہو سکتا تھا؟ اس نے بکریاں بیچیں اور در یار دیکھنے کو چل دیا۔ نہ ساتھ کوئی ساتھی  اور نہ رشتے دار،  مگر اس راہ کا ہر مسافر اپنا ہی تو ہوتا ہے۔ ایک تھیلا بغل میں دابے بالآخر اک سویر وہ سوہنے کے مدینے میں کھڑا تھا۔  اسے اپنے نصیبے پر یقین نہ آتا تھا، وہ ڈھلکے کندھوں کے ساتھ بہت آرام سے حرکت کرتا تھا کہ یہ مدینہ تھا، بلوچستان کی اک جھونپڑی کا باشندہ مدینے کی شان دیکھ کے دنگ رہ گیا۔

آہ!  کہاں فقیر عجم اور کہاں سلطان عرب۔ اسی حیرت میں گم وہ اپنی کل متاع، اپنا جوتے اور جوڑے والا تھیلا بھی گم کر بیٹھا۔ عین یہی وہ لمحہ تھا ،جب وہ کلک ہو گیا۔ جب وہ اپنے تن کے آخری چیتھڑے بھی سوہنے کے در پہ گم کر بیٹھا تھا تو عین یہی وہ لمحہ تھا جب عرش والے کا اس سادہ مزاج محبت کی معراج پر التفات اور قبول عام برس اٹھا تھا۔ عین اسی لمحے آسمانی میڈیا حرکت میں آیا اور 'صحابہ کے حلیے والا بزرگ ' کے نام سے وہ عرب و عجم کے میڈیا پر وائرل ہو گیا۔ گویا جبرئیل کے ذریعے عرش سے اس بندے کے قبول عام اور محبوب عوام و خواص ہونے کا اعلان ہوگیا۔ اب خود اسے معلوم نہ تھا کہ وہ جو اپنے تئیں گم ہوا پھرتا ہے، اس سے زیادہ مدینہ اور اہل مدینہ کی  دنیا میں مشہور کوئی نہیں۔ سبھی جانتے ہیں، کوئی تیس لاکھ کے قریب اس بار زائرین ارض مقدس میں تھے، ان میں کروڑ پتی بھی ہوں گے اور ارب پتی بھی، وہاں تین دفعہ کا وزیراعظم بھی تھا اور جانے کون کون رستم زماں، محدث زماں وہاں موجود تھا، جو بھی تھا گمنام ہی تھا، یہاں کا مشہور شخص اور زبان زد عام شخص مگر آج کے دن ایک ہی تھا، اور وہ تھا وہ بابا جو پندرہ سال سے لوگوں کی بکریوں کے ساتھ اپنی ایک تمنا پال کے یہاں آ کے گم ہو گیا تھا۔ وہ بکری پال تھا تو یقینا اس کا مالک بھی تو بڑا لجپال تھا۔ اس نے اسے فرش  سے اٹھایا اور عرب و عجم میں نامور کر دیا، تاجروں اور تاج وروں سے زیادہ تاجور کر دیا۔ اب عرب و عجم سے اس بابے کو پکارا جا رہا ہے، میڈیا اور عرب کے مخیر حضرات حج پہ بلانے کو اس کے پیچھے پڑے ہیں۔ ہم تم کی خدا نے ڈیوٹی لگا دی کہ اس کی کہانیاں کہیں اور سنیں، سنیں اور سنائیں۔ سارے پڑھے لکھے اک ان پڑھ کی کہانی سنیں اور سنائیں۔

 اللہ اللہ! 

یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے،

یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔

تو صاحبو! عرض کی تھی، یہ قصہ ہے،

محبت کی اک بے مثل داستان کا 

اور بے مثل محبت پر مالک کی لازوال عطا کا قصہ! باقی سب تفصیل ہے۔ صرف تفصیل!


امتحانات سے فارغ اسٹوڈنٹس کیا کریں ؟

یہ سوال اسٹوڈنٹس اور والدین دونوں کو پریشان کرتا ہے -

کیرئیر منتحب کرنے کی اس اسٹیج پر دو ہی آپشن ہوتے ہیں ۔

یا تو لوگوں کو دیکھا دیکھی پرانے انداز سے خود کو سادہ تعلیم تک محدود رکھا جائے یا خود کو جدید سکلز کے ساتھ آنے والے دور کے لیے تیار کیا جائے ۔

 آپ مہنگائی کو کنٹرول نہیں کر سکتے لیکن اپنی آمدن کے ذرائع ضرور بڑھا سکتے ہیں

حالیہ تحقیق یہ حقیقت واضح کر چکی ہے کہ جو لوگ اسکول کالج کی تعلیم کے ساتھ دنیا کی جدید ترین سکلز میں اپنی مہارت کا سکہ منوا لیتے ہیں کامیابی اور ترقی ان کے مقدر کی زینت بن جاتی ہے۔

مالی مسائل اور مہنگائی کے اس پر اذیت دور میں روایتی ڈگریاں صرف بے روزگاری اور مایوسی کو فروغ دے رہی ہیں -

جبکہ سیلف ڈویلپمینٹ اور علوم و فنون کی دوڑ میں آپ دوسروں سے سبقت حاصل کر لیتے ہیں

امتحانات کے بعد کیرئیر کا انتحاب اسٹوڈنٹ کی زندگی کا سب سے اہم اور فیصلہ کن موڑ ہوتا ہے جہاں پر ذرا سی غلطی یا غفلت سارا کیرئیر برباد  کردیتی ہے اور ایک بہترین حکمت عملی اور صحیح فیصلہ آپ کا لائف اسٹائل اور قسمت سب کچھ بدل دیتا ہے ۔

ہمارے معاشرے کے وہ افراد اور ادارے جو خود کو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ اور اپ گریڈ نہیں کرتے وہ قصہ ماضی بن جاتے ہیں جیسے ریڈیو ، الارم کلاک ، اخبار ، وی سی آر ، کیمرے وغیرہ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔

یاد رکھیں آپ کے خوابوں کی تکمیل آپ کی سوچ کے اندر چھپی ہوئی ہے اپنے سوچنے کے انداز بدلیں -

سادہ ڈگریوں سے نہ جاب ملتی ہے نہ ہی کوئی اور کام ۔

کبھی غور کر کے دیکھیں کہ جتنی تیزی سے وقت اور زمانے کے انداز بدلیں ہیں  کیا آپ نے بھی خود کو اتنی ہی تیزی سے بدلا  ہے؟

 آپ کتنے ہی پڑھے لکھے اور سمجھدار کیوں نہ ہوں اگر آپ کے پاس کوئی ہنر نہیں تو آپ ایک ڈگری یافتہ بے بس اور بے روزگار انسان ہیں ۔

 یاد رکھیں کہ کامیابی کا حصول ایک آرٹ ہے جو محنت سےنہیں پلاننگ سے ممکن ہوتا ہے۔

آج کل جس دور میں آپ زندگی گزار رہےہیں  وہاں اب سب کچھ مینول سے ڈیجیٹل سسٹم پر شفٹ ہو چکا ہے آرٹیفیشل انٹیلیجینس اور چیٹ جی پی ٹی نے انسانی سوچوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے-

آئی ٹی کے موجودہ انقلابی دور میں پیسہ کمانے کے انداز بدل چکے ہیں اب جو شخص جتنا زیادہ آئی ٹی ایکسپرٹ ہے اتنا ہی کامیاب ہے ۔ لوگ قصبوں دیہاتوں شہروں میں گھر بیٹھ کر یوٹیوب ، فری لانسنگ ، آن لائن بزنس وغیرہ سے دنیا بھر سے  اپنی محنت کے عوض ہزاروں لاکھوں کما رہے ہیں -

آج کل فری لانسنگ سائٹس پر اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے شعبے میں دنیا آن لائن کام  کرنے والوں کومنہ مانگے پیسے دیتی ہے -

اگر آپ واقعی زندگی میں خوشحالی چاہتے ہیں تو وہ پیسہ جو فضول کے کاموں، پارٹیز، موبائل فونز، دوستوں اور فضول خرچی پر لگتا ہے وہی کسی مفید اسکل سیکھنے اور اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے پر لگادیں اور تمام عمر جتنا چاہیں کماتے رہیں ۔

آنیوالے وقتوں میں فائدے میں وہی لوگ ہوں گے جن کے پاس ڈیجیٹل اسکلز ہوں گی اور وہ آن لائن کمانے، آن لائن جاب کرنے اور آن لائن بزنس کرنے کے راز بھی جانتے ہوں گے

آپ باہر سے ڈالر لائیں گے تبھی ملکی کی معیشت اور آپ کی مالی حالت بہتر ہو گی کیوں کہ اس وقت بینکوں میں ڈالر ختم ہوچکے ہیں یا مافیاز کے قبضے میں جاچکے ہیں۔

آن لائن ورکنگ کے شعبے میں آپ گھر، شہر اور ملک کی قید سے آزاد ہوجاتے ہیں ساری دنیا آپ کی کسٹمر ہوتی ہے ۔

آج کی آپ کے اپنے اوپر کی گئی انویسٹمینٹ ۔۔

آپ کے پورے مستقبل کو محفوظ بناسکتی ہیں۔۔

اگر آپ سوچیں تو ۔۔

انسانی گردے کی قیمت

 مُفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ کراچی میں گردے کے ایک اسپیشلسٹ ہیں، ان سے ایک مرتبہ میرے بھائی نے پوچھا کہ آپ ایک انسان کے جسم سے گردہ نکال کر دوسرے انسان کو لگا دیتے ہیں، لیکن اب تو سائنس نے بہت ترقی کرلی ہے تو کوئی مصنوعی گردہ کیوں نہیں بنا لیتے، تاکہ دوسرے انسان کے گردے کو استعمال کرنے کی ضرورت ہی نہ پیش آئے؟ 

 وہ ہنس کر جواب دینے لگے، کہ اول تو سائنس کی اس ترقی کے باوجود مصنوعی گردہ بنانا بڑا مشکل ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے گردے کے اندر جو ایک چھلنی لگائی ہے وہ اتنی لطیف اور باریک ہے کہ ابھی تک کوئی ایسی مشین ایجاد نہیں ہوئی جو اتنی لطیف اور باریک چھلنی بنا سکے۔ اگر بالفرض ایسی مشین ایجاد ہو بھی جائے اور ایسی چھلنی بنا بھی لی جائے تو اس پر اربوں روپے خرچ ہوں گے، اور اگر اربوں روپے خرچ کر کے ایسی چھلنی بنا لی جائے تب بھی گردے کے اندر ایک چیز ایسی ہے جو ہماری قدرت سے باہر ہے، وہ چیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے گردے کے اندر  ایک دماغ بنایا ہے جو فیصلہ کرتا ہے کہ اس آدمی کے جسم کو کتنا پانی ضرورت ہے ، کتنا پانی جسم میں رکھنا ہے اور کتنا پانی باہر پھینکنا ہے۔ ہر انسان کا گردہ اس انسان کے حالات کے مطابق ، اس کے جسم کے مطابق اور اس کے وزن کے مطابق یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کتنا پانی اس کے جسم میں رہنا چاہیے اور کتنا باہر پھینکنا چاہیے۔ اور اس کا فیصلہ سو فیصد درست ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ اتنا پانی جسم میں روکتا ہے جتنے پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور ضرورت سے زائد پانی پیشاب کی شکل میں جسم سے باہر پھینک دیتا ہے۔ لہذا اگر ہم اربوں روپے لگا کر مصنوعی گردہ بنا بھی لیں تب بھی ہم اس کا وہ دماغ نہیں بنا سکتے جو اللہ تعالیٰ ہر انسان کے گردے میں پیدا فرمایا ہے۔۔۔۔۔!! 

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَان 

 "تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟" 

بحوالہ: "اسلام اور ہماری زندگی"

بھلائی پلٹ کر آپ کے پاس ہی آتی ہے

 وہ سکاٹ لینڈ کا ایک غریب کسان تھا. کھیتوں کی طرف جاتے اس نے چیخنے کی آواز سنی. آواز کی سمت جا کر دیکھا کہ ایک بچہ دلدل کے ایک جوہڑ میں ڈوب رہا ہے. دلدل میں آپ جتنا زیادہ نکلنے کی کوشش کرتے ہیں. زیادہ تیزی سے ڈوبتے ہیں. کسان نے اسے تسلی دی پرسکون کیا اور درخت کی ایک شاخ توڑ کر بچے سے کہا یہ پکڑ لو. میں تمہیں کھینچ لیتا ہوں. کچھ دیر بعد بچہ باہر تھا. کسان نے اسے کہا کہ چلو میرے گھر تمہارے کپڑے صاف کرا دیتا ہوں. لیکن بچے نے کہا میرے والد پریشان ہوں گے اور دوڑ لگا دی.

اگلی صبح ایک شاندار بگھی کسان کے گھر کے سامنے کھڑی ہوئی. ایک رعب دار شخصیت بگھی سے نکلی اور کسان کا شکریہ ادا کرنے کہ بعد کہا میں آپ کو کیا صلہ دوں کیونکہ آپ نے میرے بیٹے کی جان بچائے. غریب کسان نے کہا شکریہ جناب لیکن میری جگہ کوئی بھی ہوتا تو یہی کرتا. مجھے کسی صلے کی طلب نہیں. بہت اصرار کے بعد بھی جب کسان نے کچھ قبول نہ کیا تو جاتے جاتے اس رئیس کی نظر کسان کے بیٹے پر پڑھی. پوچھا کیا یہ آپکا بیٹا ہے.؟؟ کسان نے محبت سے بیٹے کا سر سہلاتے کہا جی جناب یہ میرا بیٹآ ہے.

رئیس نے کہا ایک کام کرتے ہیں. میں اسے اپنے ساتھ لندن لے جاتا ہوں. اسے پڑھاتا ہوں. بیٹے کی محبت میں اس پیشکش پر کسان راضی ہوگیا. اسکا بیٹا لندن چلا گیا. پڑھنے لگا اور اتنا پڑھا کہ آج دنیا اسے الیگزینڈر فلیمنگ کے نام سے جانتی ہے. وہ فلیمنگ جس نے پنسلین ایجاد کی. وہ پنسلین جس نے کروڑوں لوگوں کی زندگی بچائی. وہ رئیس جس کے بیٹے کو کسان نے دلدل سے نکالا تھا. وہی بیٹا جنگ عظیم سے پہلے ایک بار پھر ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا. اور اسی فلیمنگ کی پنسلین سے اس کی زندگی بچائی گئی. وہ رئیس روڈولف چرچل تھے. اور انکا بیٹا ونسٹن چرچل تھا. وہ چرچل جو جنگ عظیم میں برطانیہ کا وزیر اعظم تھا. اور جس نے کہا تھا.

بھلائی کا کام کریں کیونکہ بھلائی پلٹ کر آپ کے پاس ہی آتی ہے."

مسلمان خاتون کی عظیم ایجاد

 ایک ہزار سال پرانا "کمپیوٹر"۔۔۔ مسلمان خاتون سائنس دان اور ماہرِ فلکیات کی عظیم ایجاد

کیا آپ یہ حیران کن حقیقت جانتے ہیں کہ (کمپاس) GPS سسٹم ایک مسلمان سائنس دان بلکہ ایک مسلم خاتون سائنسدان نے ایجاد کیا ہے

اس عظیم مسلمان خاتون کا نام مریم ہے۔ یہ دسویں صدی عیسوی یعنی ہزار سال پہلے کوشیار الجیلی کے گھر پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ماہر فلکیاتی سائنسدان تھے۔

انہوں نے سیف الدولہ کے دربار میں بطور سائنس دان 944 سے لیکر 967 تک 23 سال کام کیا۔ مریم نے ایک قسم کا آلہ ایجاد کیا جسے اصطرلاب کہا جاتا تھا۔ اسی نسبت سے ان کا نام ہمیشہ کے لیے مریم اصطرلابی مشہور ہوگیا

اسی اصطرلاب کے ذریعہ البیرونی نے زمین کا قُطر معلوم کیا تھا۔ اصطرلاب ایک قسم کا آسمانی آلہ ہے۔ اہلِ عرب اسے ذات الصفائح کہتے ہیں۔ اس کے ذریعہ سے ایک جگہ سے آسمان کا نقشہ بنایا جاتا ھے۔ جس کی وجہ سے اس آلے سے آسمانی مقامات کو تلاش کرنا آسان ہوتا ہے۔ اسے آپ اس دور کا آسمانی کمپیوٹر کہہ سکتے ہیں کیوں کہ اصطرلاب کے ذریعے سے خلائی اجسام مثلا چاند, سورج اور ستاروں اور وقت کا تعین کیا جاتا ھے

اصطرلاب کے ذریعہ سے دن اور رات کے اوقات کا اندازہ لگایا جاتا ھے اور معلوم کیا جا سکتا ھے کہ رات کتنی طویل ہوگی اور دن کتنا بڑا ہوگا۔ اسی اصطرلاب کے ذریعہ سے وقت و جگہ اور درست سمت کا تعین کیا جاتا ھے۔ اور اسی کے اصولوں کے مطابق آج GPS کام کرتے ہیں 

اصطرلاب پرانے زمانے کے GPS تھے۔ آج کل GPS کی اہمیت سے کون واقف نہیں ہے۔ دنیا بھر کا نظام اسی کے ذریعہ چلایا جاتا ہے۔ موبائل, سیٹلائٹ وغیرہ اسی کی مرہونِ منت ہیں۔ سیٹلائٹ لفظ بھی عربی زبان کے لفظ ساتل سے بنا ہے جس کا معنی ہے ایک دائرے میں گھومنا کے ہیں کیونکہ سیٹلائٹ ایک مدار میں گھومتا ہے اسی لیے ساتل سے سیٹلائٹ بنایا گیا۔ یہ GPS دو طرح کے ہوتے ہیں:

۔ ایک جیب میں رکھا جاتا ہے 

۔ دوسرا دو گز لمبا ہوتا ھے

اس کے ذریعے سے نمازوں کے اوقات, روزے میں سحری و افطاری کے اوقات, رمضان کے کتنے روزے ہوں گے, ایامِ حج کی معلومات, قبلہ کی درست سمت کی معلومات اور عیدوں کے دن پہلے سے متعین کیے جا سکتے ہیں۔ مزید یہ سمندری و خشکی کے راستوں کی درست نمائندگی کرتا ہے

ایسی لا جواب ڈیوائس, ایک کمپیوٹر, ایک کمپاس, ایک GPS مسلمان آج سے ایک ہزار سال پہلے ایجاد کر کے استعمال کرتے تھے

1990 میں ایک امریکی ماہر فلکیات، ہنری ای ہالٹ نے  Main asteroid belt دریافت کی تو مریم اصطرلابی کے اعزاز میں اس کا نام مریم کے نام پہ رکھا گیا

2015 میں امریکی سائنس فکشن مصنفہ نیڈی اوکورافور نے مریم کے اصطرلاب پر ایک ناول Binti لکھا۔ اس ناول پر اس نے نیبولا ایوارڈ سمیت دنیا بھر سے ادبی انعامات جیتے اور سائنسی ادب کا سب سے بڑا انعام بھی حاصل کیا تھا!

اگر آج دنیا میں کوئی ایسی قوم ہے جس نے اپنے آباء و اجداد کی تعلیمات بھلا دیں اور ان کے نام کو خاک میں ملا دیا تو وہ ہم مسلمان ہیں

اتنی عظیم ایجادات کرنے والے آباء کی اولاد ہوکر در بدر مارے مارے دھکے کھاتے پھر رہے ہیں۔۔۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اس امت کی آبیاری میں صرف مردوں کا نہیں بلکہ خواتین کا بھی کثیر حصہ شامل ہے۔ مسلم خواتین نے مکمل آزادی اور اعتماد کے ساتھ اپنے پوٹینشل کی ہر فیلڈ میں خدمات انجام دیں۔۔۔ فاعتبروا یا اولی الابصار

منقول از سید ثمر احمد

گوگل ڈوڈل ایک مسلم خاتون

2020 میں گوگل ڈوڈل ایک مسلم خاتون کو Dedicate کیا گیا۔ نام تھا ان کا  ڈاکٹر اَلِایدرِیسِیَہ۔ خواتین میں طبی حوالے سے گویا بانی خاتون۔ مسلمانوں کے دورِ عروج میں ترقی یافتہ، آزاد، مضبوط اور ذہین خواتین کی ایک نشانی

آج سے ایک ہزار سال پہلے اَلِایدرِیسِیَہ قاہرہ میں رہتی تھیں۔ وہ عظیم ترین فزیشن اور سرجن تھیں۔ انہوں نے اس دور میں ایک نہایت جامع میڈیکل انسائیکلوپیڈیا لکھا تھا۔ جس میں اناٹومی، گائناکالوجی، جراحی، فارماکولوجی کی تفصیلی معلومات کو سمو دیا گیا تھا۔ ٹیکسٹ کا نام تھا  "کتابُ المُختَارَات فی الطِّب" مطلب کہ  Book of selected medicinal remedies

مصر میں اُس وقت فاطمی خلافت تھی جو آرٹ، ادب اور علوم کی پُشتی بانی کر رہی تھی۔ اَلِایدرِیسِیَہ کا کام اتنا شان دار تھا کہ آج بھی ماہر ترین حلقوں میں اس کی بازگشت ہے اور خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے

ابنُ الندیم کی قیمتی کتاب "الفہرست" میں جب کہ شیخ محمد بن یوسف متولی شعراوی کی "تاجُ العروس" میں بھی اس انسائیکلوپیڈیا کا تذکرہ ملتا ہے۔ تاجُ العُروس اس دور کی قابلِ ذکر خواتین کے تذکروں پہ مشتمل مشہور کتاب تھی۔ اس میں اَلِایدرِیسِیَہ کا تعارف کروایا گیا کہ یہ بہت باصلاحیت معالج اور لکھاری ہیں جنہوں نے انسائیکلوپیڈیا لکھا جسے بڑے پیمانے پہ میڈیکل پروفیشنلز میں پـڑھا جاتا ہے

۔۔۔ اس سیریز میں دیکھنا اور سمجھنا یہ ہے کہ برصغیر کی ویدانتی فکر سے باہر آجائیں۔ مسلمان خاتون کو گھر میں قید کر کے مت مار دینے کی روایت زوال میں عروج کو پہنچی اور اس پہ گھڑی ہوئی یا کمزور یا من پسند تشریحات کو مسلط کیا گیا۔ ان کو مقدس بنانے اور "سوال دب جائیں" کے لیے مصنوعی مذہبی غلط رنگ دیا گیا۔۔۔ قرآن و سنت و آثار کی روشن نشانیوں کے باوجود ذاتی مزاجوں پہ یہ جرات بھی کی گئی کہ خواتین کا لکھنا پڑھنا یہود و نصاریٰ کا طریقہ اور ہزار فتنہ فساد کا دروازہ ہے لہذا حرام ہے

یوں %50 آبادی پسماندہ رہ گئی۔ نہ گھر سنبھال کے مجاہد مثبت مہذب خاندان اور نسل بنانے کے قابل رہی، نہ ہی معاشرے میں کوئی کارہاۓ نمایاں انجام دینے کے

منقول از سید ثمر احمد

تاریخ اسلام کی پہلی مارکیٹ کمشنر

 حضرت شفا بنت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تاریخ اسلام کی وہ پہلی خاتون صحابیہ ہیں جنہیں ان کی کاروباری ذہانت کی بدولت اسلام کی ’پہلی مارکیٹ کمشنر‘ مقرر کیا گیا۔

ایسے وقت میں جب مکہ میں صرف بیس پچیس لوگ پڑھنا لکھنا جانتے تھے، شفا یہ مہارت حاصل کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔

  ان کا اصل نام تو لیلٰی تھا مگر اس زمانے کے علم طب کے مطابق جڑی بوٹیوں سے ایسا کارگر علاج کرتیں کہ ’شفا‘ کے لقب سے مشہور ہوگئیں۔

مکہ میں قریش کے عدی قبیلے سے تعلق تھا اور عبداللہ ابن عبد الشمس اور فاطمہ بنت وہب کی بیٹی تھیں۔

حثمہ ابن حذیفہ سے شادی ہوئی۔ مکہ ہی میں اسلام قبول کرنے والے اولین افراد میں سے تھیں۔ سو وہ تمام سختیاں بھی برداشت کیں جو اس ابتدائی دور میں مسلمان ہونے والے افراد کو جھیلنا پڑی تھیں۔

ان دنوں علم سیکھنا سکھانا زیادہ تر زبانی یعنی سینہ بہ سینہ ہوتا تھا۔

ایسے وقت میں جب مکہ میں صرف گنتی کے چند لوگ پڑھنا لکھنا جانتے تھے، شفا یہ مہارت حاصل کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔ 

احمد بن جابر البلادوری کی کتاب ’فتوح البلدان‘ میں دور نبوی کے مختلف اصحاب اور صحابیات کا تذکرہ ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ ’دی اوریجنز آف اسلامک سٹیٹ‘ کے نام سے چھپ چکا ہے۔

شفا رضی اللہ تعالٰی عنہا شاندار خطاط بھی تھیں۔ ترکی میں چھپنے والی کتاب "خواتین خطاط : ماضی اور حال" سے علم ہوتا ہے کہ۔۔۔ 

انھوں نے خطاطی سکھائی بھی۔ ان سے خطاطی سیکھنے والے اولین شاگردوں میں پیغمبرِ اسلام کی زوج مطہرہ حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہا بھی شامل تھیں۔ 

ابو داؤد کے مطابق یہ دونوں خواتین رشتے دار بھی تھیں، اور آپس میں گہری دوست بھی رہیں۔

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ شفا رضی اللہ تعالٰی عنہا ایک ذہین خاتون تھیں اور اسلام لانے سے پہلے بھی مریضوں کا علاج کیا کرتی تھیں۔ 

جب انھوں نے اسلام قبول کیا تو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے پوچھا کہ کیا وہ علاج معالجہ جاری رکھ سکتی ہیں تو آپ نے انھیں ایسا کرنے کی ترغیب دی۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے ان سے یہ بھی کہا کہ وہ حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو بھی سکھائیں کہ وہ چیونٹی اور دیگر حشرات کے کاٹے کا علاج کیسے کریں۔

شفا رضی اللہ تعالٰی عنہا مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے والے شروع کے افراد میں شامل تھیں۔ شیخ محمد بن سعد کی کتاب ’الطبقات الکبیر‘ کے ترجمے میں لکھا ہے جو "مدینے کی خواتین" کے عنوان سے شائع ہوا ہے، کہ۔۔۔۔

مدینہ میں انھیں مسجد نبوی اور مدینے کے بازار کے درمیان ایک گھر دیا گیا جہاں وہ اپنے بیٹے سلیمان بن حثمہ کے ساتھ رہتی تھیں۔ 

حافظ احمد بن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم اکثر ان سے ملنے بھی جاتے اور کاروبار کے بہترین طریقوں کے بارے میں ان سے مشورہ بھی کرتے تھے۔ ان ملاقاتوں کے دوران شفا رضی اللہ تعالٰی عنہا ان سے دین کے بارے میں سوالات پوچھتی تھیں۔ چونکہ وہ باقاعدہ مسجد بھی جاتی تھیں اور حضور سے خوب سوالات کرتی تھیں، تو اس کے نتیجے میں ایک اچھی اسکالر بھی بن گئیں۔

حضرت شفا رضی اللہ تعالٰی عنہا سے کل 12 احادیث مروی ہیں۔

مورخین اسلام اس بات پر متفق ہیں کہ شفا رضی اللہ تعالٰی عنہا ابتدائی اسلامی معاشرے میں سب سے زیادہ علم والی اور قابل احترام خواتین میں سے ایک تھیں۔

ملائشیا کے معروف عالم دین جمال اے بداوی نے اپنی کتاب "رسول اللہ کے دور میں خواتین کا کردار" میں لکھا ہے کہ: 

شفا اسلامی قوانین تجارت اور مالیات کی ماہر تھیں اور انھیں مدینے کے بازار کی باضابطہ مبصر (نظر رکھنے والا) مقرر کیا گیا تھا۔ ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ سامان کی مناسب قیمت وصول کی جائے اور کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہ ہو۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ جب خلیفہ بنے تو شفا رضی اللہ تعالٰی عنہا سے اقتصادی پالیسی اور تجارت سے متعلق مستقل مشورہ کرتے تھے اور اُن کی رائے کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی تھی۔ 

جیسے جیسے مدینہ کا معاشرہ ترقی کرتا گیا اور آبادی میں بھی اضافہ ہوتا گیا تو یہ محسوس کیا گیا کہ یہ ضروری ہے کہ بازار کی نگرانی کی جائے جہاں لوگ خرید و فروخت کرتے ہیں۔

چنانچہ حضرت عمر نے شفا رضی اللہ تعالٰی عنہا کو مدینہ کا قضا السوق (بازار کے نظم کا ذمہ دار) اور قضا الحسبہ (احتساب کرنے والا یا محتسب) کی ذمہ داریاں سونپیں۔ تب کی عرب دنیا میں روایتی اعتبار سے خواتین کو یہ ذمہ داریاں نہیں دی جاتی تھیں لیکن اسلام آنے کے بعد جب اللہ اور اس کے رسول نے خواتین کی عظمت کی جو سطح متعین کی اس کے بعد حضرت عمر فرماتے ہیں کہ:

"اسلام سے پہلے ہم عورتوں کی کوئی عزت نہیں کرتے تھے لیکن اسلام نے عورتوں کو جو عزت اور تکریم دی، اس کے بعد ہم بہت سے معاملات میں خواتین کی رائے بھی لیتے ہیں اور انہیں عزت اور وقار میں وہی مقام دیا گیا جو مردوں کو حاصل تھا۔"

حضرت شفا رضی اللہ تعالٰی عنہا بازار میں ہونے والی تجارت کے معاملات میں اس بات کو یقینی بناتیں کہ کوئی دھوکا یا چال بازی نہ ہو اور خرید و فروخت اسلامی قوانین کے مطابق ہو۔ 

تاجروں کو یہ ہدایت کی گئی تھی کہ اگر انھیں کسی خاص لین دین کی قانونی حیثیت کے بارے میں شبہ ہو تو وہ شفا رضی اللہ تعالٰی عنہا سے پوچھ لیں۔

بازار کی منتظم یا کمشنر کے طور پر، شفا جائز تجارت کو یقینی بنانے اور دھوکا روکنے کی ذمہ دار تھیں۔ وہ دیانت داری سے انصاف کا نفاذ کرتیں۔ وہ یقینی بناتیں کہ سامان کی منصفانہ تجارت ہو، قیمتیں مناسب ہوں، اور یہ کہ تاجر اخلاقی کاروباری طریقوں کی پیروی کریں۔

یوون (مریم) ریڈلی نے اپنے مضمون "اقتصادی سرگرمیوں میں مسلم خواتین کی شرکت: ایک نقطہ نظر" میں لکھا ہے کہ۔۔۔

شفا رضی اللہ تعالٰی عنہا ایک قانونی ماہر اور جج کے طور پر بھی جانی جاتیں اور تنازعات کو بہترین طریقے سے حل کرتی تھیں۔

شفا رضی اللہ تعالٰی عنہا کا تقرر انتہائی کامیاب رہا، جس کے بعد حضرت عمر نے مکہ میں بھی ایک خاتون، سمرہ بنت نحیک، کو مارکیٹ کنٹرولر مقرر کر دیا۔

احتساب جج کے طور پر وہ افراد کے درمیان تنازعات حل کرتیں اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتیں۔ شفا رضی اللہ تعالٰی عنہا اسلامی قانون اور فقہ میں انتہائی ماہر تھیں اور وہ اپنے منصفانہ اور غیر جانبدارانہ احکام کے لیے مشہور تھیں۔

زندگی کے ہر شعبہ سے لوگ اسلامی قانون سے متعلق امور میں رہنمائی اور مشورے کے لیے ان کے پاس آتے تھے۔

مؤرخ ابن اسحاق نے آٹھویں صدی میں لکھا ہے کہ کس طرح شفا رضی اللہ تعالٰی عنہا نے ایک احتساب جج کے طور پر تنازعات کے حل کے لیے اسلامی قانون کے اپنے علم کا استعمال کیا۔

نکولس ایس ہاپکنز اور سعد الدین ابراہیم کی ادارت میں چھپنے والی کتاب "اسلام میں خواتین: تاریخی اور عصری تحقیق کے مظاہر" میں لکھا ہے کہ شفا رضی اللہ تعالٰی عنہا قانونی ماہر کے طور پر کام کرتی تھیں، انھوں نے بازار میں تنازعات میں ثالث کے طور پر کام کیا اور منصفانہ تجارتی طریقوں کو یقینی بنایا۔

شفا رضی اللہ تعالٰی عنہا کی زندگی کا ایک اور قابل ذکر پہلو اسلامی قانون، لوگوں کے عام معاشرتی مسائل اور دین کے بارے میں ان کا گہرا علم تھا۔ 

وہ مشورہ چاہنے والوں کو اپنی دانش مندی سے بصیرت انگیز رہنمائی فراہم کرتی تھیں۔ گویا کہ آج کی زبان میں وہ ایک ماہر کاونسلر یا تھیراپسٹ بھی تھیں۔ 

وہ اپنے وقت کی سب سے زیادہ تعلیم یافتہ خواتین میں سے ایک کے طور پر جانی جاتی تھیں۔ ان کی وفات حضرت عمر ہی کے دور ِخلافت میں ہوئی۔

مجموعی طور پر، شفا رضی اللہ تعالٰی عنہا کی زندگی ہمت، علم و حکمت، دانشمندی اور اسلامی تاریخ میں خواتین کے اہم معاشرتی کردار کا ثبوت ہے۔

آج ہم اپنے معاشرے میں دیکھتے ہیں کہ بڑی تعداد میں خواتین ہر قسم کے علوم اور اپنی تربیت سے بہت دور ہیں۔ نتیجہ اس کا یہ ہے کہ ہم نے آدھی آبادی کو ایک عضو معطل بنا کر رکھ دیا ہے۔ 

پھر جب یہی خواتین بیویاں بنتی ہیں، پھر مائیں بنتی ہیں تو ان کے اندر اتنی بصیرت اور گہرائی ہی نہیں ہوتی کہ وہ اپنے بچوں کی زمانے کے ضرورت کے مطابق تعلیم و تربیت میں فعال کردار ادا کر سکیں۔ اور اس سے بھی پہلے اپنے گھر اور رشتوں کو حکمت اور دانشمندی کے ساتھ نبھا سکیں۔ 

آپ خود سوچیں کی اگر ہم ایسی مائیں ہی تیار نہیں کر رہے تو مختلف شعبہ جات میں امت مسلمہ کی قیادت کا تیار ہونا تقریبا" نا ممکنات میں سے ہے۔۔۔ اس لیے بدل دو

منقول از سید ثمر احمد

دنیا کی پہلی نرس

 انہیں دنیا کی پہلی نرس بھی کہا جاتا ہے۔ مگر یہ تو یقینی ہے کہ وہ اسلام کی پہلی نرس اور سرجن تھیں۔ علمِ جراحت (سرجری) اور زخمیوں کے علاج میں جو مقام ان کا تھا، وہ کسی اور صحابی یا صحابیہ کا نہیں تھا۔ یہ تھیں حضرت رُفَیدَہ السَّلْمِیَہؓ

بنی اسلم قبیلے میں پیدا ہونے والی اس خاتون نے رسولﷺ کا مدینے پہنچنے پہ استقبال کیا۔ ان کے والد سعد اَسَّلمی ایک سرجن تھے۔ رفیدہ نے وہیں سے ابتدائی مینٹورنگ لی اور ان ہی کے زیرِ نگرانی ابتدائی کلینیکل پریکٹس کی۔ وہ ایک مہربان اور قابل معالج کے طور پہ مشہور تھیں۔ وہ بچوں کی کنسلٹنٹ بھی تھیں اور یتیم بچوں کی خبر گیری بھی کرتیں۔ ایک بہترین منتظم جس نے میڈیکل کمانڈ یونٹس قائم کیے جو مریضوں کو صحت کی طرف لاتے

دلچسپ یہ بھی کہ انہوں نے مزید خواتین کو بھی معالج اور نرس بنایا۔ اس فیلڈ میں ان کی شاگرد پیغمبرﷺ کی بیوی عائشہ بنت ابی بکر بھی تھیں۔ جناب عائشہ ایک طبیب بھی تھیں

رُفیدہؓ نے دنیا کا پہلا موبائل کئیر یونٹ بھی قائم کیا۔ وہ جنگوں میں اپنے گروپ کے ساتھ جاتیں۔ زخمیوں کی دیکھ بھال اور علاج کرتیں۔ حضورﷺ ان کی بہت تعریف کرتے۔ انہوں نے خندق اور خیبر سمیت کئی جنگوں میں حصہ لیا۔ جنگِ خندق میں ان کا خیمہ مسجد نبوی میں لگایا گیا تھا۔ حافظ ابنِ حجر عسقلانی نے "الاصابہ فی تمییز الصحابہ" میں لکھا ہے کہ مشہور صحابی سعد بن معازؓ کو زخمی حالات میں بہتے لہو کے ساتھ رُفیدہ ہی کے خیمے میں بھجوایا گیا تھا

آئر لینڈ کا رائل کالج آف سرجنز، یونورسٹی آف بحرین میں ہر سال ایک اسٹوڈنٹ کو Rufaida Al-Salmia Prize in Nursing سے نوازتا ہے۔ یہ اس اسٹوڈنٹ کو دیا جاتا جو مریضوں کی کئیر کرنے میں اپنی صلاحیت کو مسلسل امپروو کرتا رہتا ہے۔ اس کا فیصلہ سینئیر کلینیکل سٹاف ممبرز کا ایک پینل کرتا ہے

تو دوستو؛ یہ ہے کھلا، حیا دار اور مضبوط فطری مدنی معاشرہ۔ اور دوسری طرف ہے گلا پھاڑ نعرے لگاتا جذباتی کھوکھلا، بند ذہن والا برصغیری معاشرہ۔ جس نے احتیاط اور فتنے کےخوف کی بنیاد پہ خالق سے زیادہ عقل مند بننے کی کوشش کی۔ وہ خیانت تک بھی دکھائی کہ ان قصوں اور تاریخ کو بیان کرنے سے اجتناب کیا کہ عورت گم راہ نہ ہو جاۓ، فتنہ نہ پھیل جاۓ۔ یہاں تک کہ لوگوں کے ذہن میں عورت کی تصویر چار دیواری میں قید، شٹل کاک برقعوں میں لپٹی لپٹائی، ڈری سہمی بچے پیدا کرنے والی مشین کے طور پہ رہ گئی۔۔۔ اٹھو اس فرسودہ نظامِ کُہن سے بغاوت کر دو۔ اللہ اور اس کے رسولﷺ پہ غیر متزلزل اعتماد عام کر دو

منقول از سید ثمر احمد

جھوٹ کی سزا (ایک لوک کہانی)



 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت

 وفات سے 3 روز قبل جبکہ  حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  ام المومنین  حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر تشریف فرما تھے،  ارشاد فرمایا  کہ "میری بیویوں کو جمع کرو۔"

تمام ازواج مطہرات  جمع ہو گئیں۔ تو حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے  دریافت فرمایا:

کیا تم سب مجھے اجازت دیتی ہو کہ بیماری کے دن میں عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے ہاں گزار لوں؟"

سب نے کہا اے اللہ کے رسول  آپ کو اجازت ہے۔

پھر اٹھنا چاہا لیکن اٹھہ نہ پائے تو حضرت علی ابن ابی طالب اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما آگے بڑھے اور نبی علیہ الصلوة والسلام کو سہارے سے اٹھا کر سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے سے

 سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے کی طرف لے جانے لگے۔

اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس (بیماری اور کمزوری کے) حال میں پہلی بار دیکھا تو گھبرا کر ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟

چنانچہ صحابہ مسجد میں جمع ہونا شروع ہو گئے اور مسجد نبوی میں ایک رش لگ گیا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا پسینہ شدت سے بہہ رہا تھا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں کسی کا اتنا پسینہ بہتے نہیں دیکھا۔اور

 فرماتی ہیں:"میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دست مبارک کو پکڑتی اور اسی کو چہرہ اقدس پر پھیرتی

 کیونکہ نبی علیہ الصلوة والسلام کا ہاتھ میرے ہاتھ سے کہیں زیادہ محترم اور پاکیزہ تھا۔"

مزید فرماتی ہیں کہ حبیب خداعلیہ الصلوات والتسلیم سے بس یہی ورد سنائی دے رہا تھا کہ

"لا إله إلا الله، بیشک موت کی بھی اپنی سختیاں ہیں۔"

اسی اثناء میں مسجد کے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں خوف کی وجہ سے لوگوں کا شور بڑھنے لگا۔

نبی علیہ السلام نے دریافت فرمایا:یہ کیسی آوازیں ہیں؟

عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! یہ لوگ آپ کی حالت سے خوف زدہ ہیں۔

ارشاد فرمایا کہ مجھے ان کے پاس لے چلو۔پھر اٹھنے کا ارادہ فرمایا لیکن اٹھہ نہ سکے تو آپ علیہ الصلوة و السلام پر 7 مشکیزے پانی کے بہائے گئے، تب کہیں جا کر کچھ افاقہ ہوا تو سہارے سے اٹھا کر ممبر پر لایا گیا۔

یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا آخری خطبہ تھا اور آپ علیہ السلام کے آخری کلمات تھے۔

فرمایا:" اے لوگو۔۔۔! شاید تمہیں میری موت کا خوف ہے؟"

سب نے کہا:"جی ہاں اے اللہ کے رسول"

ارشاد فرمایا:"اے لوگو۔۔! تم سے میری ملاقات کی جگہ دنیا نہیں، تم سے میری ملاقات کی جگہ حوض (کوثر) ہے، اللہ کی قسم گویا کہ میں یہیں سے اسے (حوض کوثر کو) دیکھ رہا ہوں،اے لوگو۔۔۔!مجھے تم پر تنگدستی کا خوف نہیں بلکہ مجھے تم پر دنیا (کی فراوانی) کا خوف ہے، کہ تم اس (کے معاملے) میں ایک دوسرے سے مقابلے میں لگ جاؤ گے جیسا کہ تم سے پہلے (پچھلی امتوں) والے لگ گئے، اور یہ (دنیا) تمہیں بھی ہلاک کر دے گی جیسا کہ انہیں ہلاک کر دیا۔"

پھرمزید ارشاد فرمایا:"اے لوگو۔۔! نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سےڈرو۔ نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو،(یعنی عہد کرو کہ نماز کی پابندی کرو گے، اور یہی بات بار بار دہراتے رہے۔)

پھر فرمایا:"اے لوگو۔۔۔! عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، میں تمہیں

 عورتوں سے نیک سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔"

مزید فرمایا:"اے لوگو۔۔۔! ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ دنیا کو چن لے یا اسے چن لے جو اللہ کے پاس ہے، تو

 اس نے اسے پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے"

اس جملے سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا مقصد کوئی نہ سمجھا حالانکہ انکی اپنی ذات مراد تھی۔جبکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ وہ تنہا شخص تھے جو اس جملے کو سمجھے اور زارو قطار رونے لگے اور بلند آواز سے گریہ کرتے ہوئے اٹھہ کھڑے ہوئے اور نبی علیہ السلام کی بات قطع کر کے پکارنے لگے۔۔۔۔

"ہمارے باپ دادا آپ پر قربان، ہماری مائیں آپ پر قربان،ہمارے بچے آپ پر قربان، ہمارے مال و دولت آپ پر قربان....."روتے جاتے ہیں اور یہی الفاظ کہتے جاتے ہیں۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم (ناگواری سے) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنے لگے کہ

 انہوں نے نبی علیہ السلام کی بات کیسے قطع کر دی؟

 اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دفاع ان الفاظ میں فرمایا:

"اے لوگو۔۔۔! ابوبکر کو چھوڑ دو کہ تم میں سے ایسا کوئی نہیں کہ جس نے ہمارے ساتھ کوئی بھلائی کی ہو اور

 ہم نے اس کا بدلہ نہ دے دیا ہو، سوائے ابوبکر کے، کہ اس کا بدلہ میں نہیں دے سکا۔اس کا بدلہ میں نے اللہ جل شانہ پر چھوڑ دیا۔ مسجد (نبوی) میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں، سوائے ابوبکر کے دروازے کے کہ جو کبھی بند نہ ہوگا۔"

آخر میں اپنی وفات سے قبل مسلمانوں کے لیے آخری دعا کے طور پر ارشاد فرمایا:"اللہ تمہیں ٹھکانہ دے، تمہاری حفاظت کرے، تمہاری مدد کرے، تمہاری تائید کرے۔

اورآخری بات جو ممبر سے اترنے سے پہلے امت کو مخاطب کر کے ارشاد فرمائی وہ یہ کہ:"اے لوگو۔۔۔! قیامت تک آنے والے میرے ہر ایک امتی کو میرا سلام پہنچا دینا۔"

پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ سہارے سے اٹھا کر گھر لے جایا گیا۔

اسی اثناء میں حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور ان کے ہاتھ میں مسواک تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کو دیکھنے لگے لیکن شدت مرض کی وجہ سے طلب نہ کر پائے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے سے سمجھ گئیں اورانہوں نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے مسواک لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے دہن مبارک میں رکھ دی، لیکن حضور صلی اللہ علیہ و سلم اسے استعمال نہ کر پائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسواک لے کراپنے منہ سے نرم کی اورپھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو لوٹا دی تاکہ دہن مبارک اس سے تر رہے۔

فرماتی ہیں:" آخری چیز جو نبی کریم علیہ الصلوة والسلام کے پیٹ میں گئی وہ میرا لعاب تھا، اور یہ اللہ تبارک و تعالٰی کا مجھ پر فضل ہی تھا کہ اس نے وصال سے قبل میرا اورنبی کریم علیہ السلام کا لعاب دہن یکجا کر دیا۔"

اُم المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا مزید ارشاد فرماتی ہیں:"پھرآپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیٹی فاطمہ تشریف لائیں اورآتے ہی رو پڑیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھہ نہ سکے، کیونکہ نبی کریم علیہ السلام کا معمول تھا کہ جب بھی فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تشریف لاتیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم انکے ماتھے پربوسہ دیتے تھے۔

حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے فاطمہ! "قریب آجاؤ۔۔۔"پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے کان میں کوئی بات کہی تو حضرت فاطمہ اور زیادہ رونے لگیں،انہیں اس طرح روتا دیکھ کرحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اے فاطمہ! "قریب آؤ۔۔۔"دوبارہ انکے کان میں کوئی بات ارشاد فرمائی تو وہ خوش ہونے لگیں

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا سے پوچھا تھا کہ وہ کیا بات تھی جس پر روئیں اور پھر خوشی کا اظہار کیا تھا؟سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کہنے لگیں کہ پہلی بار (جب میں قریب ہوئی) تو فرمایا:"فاطمہ! میں آج رات (اس دنیاسے) کوچ کرنے والا ہوں۔ جس پر میں رو دی۔۔۔۔"جب انہوں نے مجھے بے تحاشا روتے دیکھا تو فرمانے لگے: "فاطمہ! میرے اہلِ خانہ میں سب سے پہلے تم مجھ سے آ ملو گی۔۔۔"جس پرمیں خوش ہوگئی۔۔۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں:پھرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کوگھر سے باھر جانے کا حکم دیکر مجھے فرمایا:"عائشہ! میرے قریب آجاؤ۔۔۔"

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجۂ مطہرہ کے سینے پر ٹیک لگائی اور ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے فرمانے لگے:مجھے وہ اعلیٰ و عمدہ رفاقت پسند ہے۔ (میں الله کی، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت کو اختیار کرتا ہوں۔)

صدیقہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں:"میں سمجھ گئی کہ انہوں نے آخرت کو چن لیا ہے۔"

جبرئیل علیہ السلام خدمت اقدس میں حاضر ہو کر گویا ہوئے:

"یارسول الله! ملَکُ الموت دروازے پر کھڑے شرف باریابی چاہتے ہیں۔ آپ سے پہلے انہوں نے کسی سے اجازت نہیں مانگی۔"

آپ علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا:"جبریل! اسے آنے دو۔۔۔"

ملَکُ الموت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے، اور کہا:

"السلام علیک یارسول الله! مجھے اللہ نے آپ کی چاہت جاننے کیلئے بھیجا ہے کہ آپ دنیا میں ہی رہنا چاہتے ہیں یا الله سبحانہ وتعالی کے پاس جانا پسند کرتے ہیں؟"

فرمایا:"مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے، مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے۔"

ملَکُ الموت آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے سرہانے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے:"اے پاکیزہ روح۔۔۔!اے محمد بن عبدالله کی روح۔۔۔!الله کی رضا و خوشنودی کی طرف روانہ ہو۔۔۔!راضی ہوجانے والے پروردگار کی طرف جو غضبناک نہیں۔۔۔!"

سیدہ عائشہ رضی الله تعالی عنہا فرماتی ہیں:پھر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا ہاتھ نیچے آن رہا، اور سر مبارک میرے سینے پربھاری ہونے لگا، میں سمجھ گئی کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔۔۔

 مجھے اور تو کچھ سمجھ نہیں آیا سو میں اپنے حجرے سے نکلی اور مسجد کی طرف کا دروازہ کھول کر کہا۔۔

"رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔! رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔!"

مسجد آہوں اور نالوں سے گونجنے لگی۔

ادھر علی کرم الله وجہہ جہاں کھڑے تھے وہیں بیٹھ گئے پھر ہلنے کی طاقت تک نہ رہی۔

ادھر عثمان بن عفان رضی الله تعالی عنہ معصوم بچوں کی طرح ہاتھ ملنے لگے۔

اور سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ تلوار بلند کرکے کہنے لگے:"خبردار! جو کسی نے کہا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں، میں ایسے شخص کی گردن اڑا دوں گا۔۔۔! میرے آقا تو الله تعالی سے ملاقات کرنے گئے ہیں جیسے موسی علیہ السلام اپنے رب سے ملاقات کوگئے تھے، وہ لوٹ آئیں گے، بہت جلد لوٹ آئیں گے۔۔۔۔! اب جو وفات کی خبر اڑائے گا، میں اسے قتل کرڈالوں گا۔۔۔"

اس موقع پرسب سے زیادہ ضبط، برداشت اور صبر کرنے والی شخصیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کی تھی۔۔۔ آپ حجرۂ نبوی میں داخل ہوئے، رحمت دوعالَم صلی الله علیہ وسلم کے سینۂ مبارک پر سر رکھہ کر رو دیئے۔۔۔کہہ رہے تھے:

وآآآ خليلاه، وآآآ صفياه، وآآآ حبيباه، وآآآ نبياه

(ہائے میرا پیارا دوست۔۔۔! ہائے میرا مخلص ساتھی۔۔۔!ہائے میرا محبوب۔۔۔! ہائے میرا نبی۔۔۔!)

پھر آنحضرت صلی علیہ وسلم کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا:"یا رسول الله!

 آپ پاکیزہ جئے اور پاکیزہ ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔"

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آئے اور خطبہ دیا:

"جو شخص محمد صلی الله علیہ وسلم کی عبادت کرتا ہے سن رکھے  آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور جو الله کی عبادت کرتا ہے وہ جان لے کہ الله تعالی شانہ کی ذات ھمیشہ زندگی والی ہے جسے موت نہیں۔"

سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔۔۔عمر رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:پھر میں کوئی تنہائی کی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں اکیلا بیٹھ کر روؤں۔۔۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تدفین کر دی گئی۔۔۔

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:"تم نے کیسے گوارا کر لیا کہ نبی علیہ السلام کے چہرہ انور پر مٹی ڈالو۔۔۔؟"پھر کہنے لگیں:

"يا أبتاه، أجاب ربا دعاه، يا أبتاه، جنة الفردوس مأواه، يا أبتاه، الى جبريل ننعاه."

(ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ اپنے رب کے بلاوے پر چل دیے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ جنت الفردوس میں اپنے ٹھکانے کو پہنچ گئے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ ہم جبریل کو ان کے آنے کی خبر دیتے ہیں۔)

اللھم صل علی محمد کما تحب وترضا۔


شان محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کتاب سے منقول۔