سکول پرنسپل کیسا ہو

 اس میں کوئی شک نہیں کہ سکول کے پرنسپل کے پاس سب سے زیادہ چیلنجنگ اور اہم رول ہوتا ہے۔  ایک پرنسپل سکول کا مینٹورہوتا ہے ۔ وہ سکول کی بنیادی اقدار کا تعین کرتا ہے جن سے وہ  طلباء کو تعلیمی کامیابی اور عملے کو پیشہ ورانہ رسوخ کی طرف لے جاتا ہے۔

پرنسپل بننے کے لیے درکار پیشہ ورانہ تقاضوں کے علاوہ بہت سے ایسے  اوصاف ہیں جن سے اچھے پرنسپل  کو متصف ہونا چاہیے۔ یہ اوصاف اپنا کام بخوبی کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ کچھ نمایاں خصوصیات ایک پرنسپل کے روزمرہ میں  خود کو ظاہر کرتی ہیں۔پرنسپل سکول کی عمارت کا تدریسی رہنما ہوتا ہے۔ ایک اچھے رہنما کو اپنے سکول کی کامیابیوں اور ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرنا پڑتی ہے۔ ایک اچھا لیڈر دوسروں کی ضروریات کو اپنے سامنے رکھتا ہے۔ ایک اچھا رہنما ہمیشہ اپنے سکول کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں رہتا ہے اور پھر اس بات کا اندازہ لگاتا ہے کہ ان بہتریوں کو کیسے ممکن بنایا جائے چاہے یہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔ قیادت اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ کوئی  سکول کتنا کامیاب ہے۔ ایک موثر  پرنسپل کے بغیر ایک سکول بہت جلد ناکام ہو جاتا ہے  ۔
درکار خوبیاں 

سکول  پرنسپل خوش اخلاق، باکردار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا چاہیے۔ بااخلاق اور تہذیب یافتہ پرنسپل بچوں کے اندربھی اچھے اخلاق اور اچھی تہذیب منتقل کرسکتا ہے۔ پرنسپل کو ہنس مکھ ہونا چاہیے۔ اُس کا کمرہ صاف ستھرا اور باترتیب ہونا چاہیے۔ سکول کے سربراہ کی جو سوچ ہوگی وہی پورے ادارے میں منتقل ہوگی۔ بہترین پرنسپل ہی بہترین تعلیم و تربیت کا بندوبست کرسکتا ہے۔

بہترین پرنسپل اپنے کردار کی اہمیت کو جانتے ہیں اور عزم، مقصد اور مستقل کوشش کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے  ہیں۔اگر ہم اس بات پر غور کریں کہ وہ کون سی خوبیاں ہیں جو ایک پرنسپل کو عظیم بناتی ہیں تو  اس موضوع پر تحقیق وسیع اور متنوع ہے۔ مڈاٹلانٹک تعلیمی لیبارٹری کے مطابق درج ذیل خصوصیات اچھے پرنسپلز میں لازماً  پائی جاتی ہیں:

·         تعلیمی کامیابی کے وژن کو قائم کرنے اور شیئر کرنے کی صلاحیت

·         اساتذہ، عملے اور طلباء کے درمیان تعاون اور تعاون کی حوصلہ افزائی

·         سکول کے عملے میں قائدانہ صلاحیتوں کا فروغ

·         مسلسل سیکھنے کے مواقع ؛  اساتذہ اور طلباء کو ان کی مکمل صلاحیت  کا اظہار

·         سکول کے وسیع منصوبے تیار کرنے کے لیے لوگوں، عمل اور معلومات کی تنظیم

یہ طرز عمل ان خصائص کی عکاسی کرتا ہے جو سکول کے موثر لیڈروں کے پاس ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ موثر پرنسپلز تعلقات سازی، تنظیم، مواصلات اور ہدف کی ترتیب میں مہارت رکھتے ہیں۔

تعاون پر مبنی ماحول

پرنسپل کی  ذمہ داریوں میں منصوبہ بندی، نفاذ، معاونت، وکالت اور نگرانی شامل ہے۔ پرنسپل اساتذہ اور دیگر منتظمین کے ساتھ قیادت کا اشتراک کرکے اساتذہ کی اپنی پیشہ ورانہ کمیونٹی کو تیار کرتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ سیکھنے کے لیے ایک نتیجہ خیز ماحول ہے۔موثر پرنسپلز تعلیم کے لیے ایک سازگار ماحول بھی تخلیق کرتے ہیں جس کی  آبیاری  سیکھنے پر مبنی قیادت کے معیارات اور طریقوں کے بارے میں تحقیق کے مطابق حفاظت، تعاون اور نظم و ضبط سے ہوتی ہے۔ مجموعی طور پر، پرنسپل کو افراد کار اور وسائل کے انتظام میں ماہر ہونے کی ضرورت ہے تاکہ وہ تعاون پر مبنی سکول کا ماحول بنا سکیں۔

رشتے کی تعمیر

سکول پرنسپل روزانہ کی بنیاد پر بہت سے لوگوں سے معاملات کرتے ہیں۔ان کا اپنے زیر انتظام کام کرنے والے افراد کے ساتھ ساتھ والدین اور معاشرہ  سے کئی بار رابطہ ہوتا ہے۔  اس کے لیے نہ صرف زبردست مواصلاتی مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ جذباتی ذہانت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ  لوگوں کے ساتھ ہمدردی پیدا کر سکیں۔سکول پرنسپل کو  تعلقات استوار کرنے میں ماہر ہونا چاہیے اور سکول کے اندر اور باہر لوگوں سے رابطہ قائم کرنا چاہیے۔ ان رشتوں کی بنیاد احترام اور اعتماد پر مشتمل ہونی چاہیے۔

تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ جو سکول  پرنسپل  طلباء، اساتذہ، والدین، اور کمیونٹی کے اراکین کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دیتے ہیں وہاں  تعلیم میں بہتری اور کم تادیبی مسائل دیکھنے کو ملتے ہیں۔ مزید برآں سکول پرنسپل خاص طور پر اساتذہ کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے درج ذیل کام کریں:

·         پہچان — اساتذہ کے مرتبے اور خدمات کو  تسلیم کریں۔

·         مرئیت - سارا دن دفتر میں بیٹھے رہنے کے بجائے پورے سکول میں موجود اور شامل رہیں۔

·         دیکھ بھال—سکول سے باہر اساتذہ اور عملے اور ان کی زندگیوں کا خیال رکھیں۔

·         طاقت—چیلنجوں کا سامنا کرتے ہوئے اعتماد کا مظاہرہ کریں۔ انصاف اور مستقل مزاجی کا مظاہرہ کریں۔

روایت کی تشکیل

والیس فاؤنڈیشن کے مطابق سکول کو موثر بنانے کے لیے اور طے کردہ مقاصد حاصل  کرنے کے لیے ایک وژن اور منصوبہ رکھنا ایک پرنسپل کی سب سے اہم خصوصیات میں سے ہے۔اہداف کے حصول کے لیے سکول پرنسپل رہنمائی کرتے  اور معیارات بناتے ہیں جبکہ طلبا اور اساتذہ ان معیارات کی پیروی کرکے کامیابی کے زینے چڑھتے ہیں۔ موثر پرنسپل سکول میں ایک روایت اور ثقافت قائم کرتے ہیں جس کی روشنی میں پورے ادارے کا ماحول تشکیل پاتا ہے۔ اس کے علاوہ سکول پرنسپل کی ذمہ داری ہے کہ اساتذہ اور طلبا کے لیے تربیت کے ذرائع اور وسائل دستیاب کرے تاکہ تعلیم و تعلم کا عمل جاری رہ سکے۔

 

از قلم

مالک خان سیال

سوچنا سکھائیں ، قابل بنائیں

 یہ نوٹس کریں کہ آ پ کے بچے میں کونسی صلاحیت شاندار ہے، پڑھتا اچھا ہے، کمپیوٹر اور موبائل ہینڈلنگ میں بہتر ہے، کھیلتا اچھا ہے،قرات اچھی کرتا ہے، نعت اچھی پڑھتا ہے، سٹیج کا پرفارمر اچھا ہے، گاتا اچھا ہے ، ایونٹ آ رگنا ئزر اچھا ہے یا کچھ بھی اس طرح کا اور۔ اسکی شاندار صلاحیت کو اس کا اعتماد بڑھانے کے لئے استعمال کریں۔ ایک بار اس کو اعتماد آ گیا، ایکسیلنس کی عادت ہو گئی تو باقی سب بہت بہتر ہو جائے گا۔ 

پڑھائی میں دلچسپی بہتر کرانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اس کے سامنے پڑھیں ، دوسرے درجے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کو کمپیوٹر کی مدد سے سکھائیں ۔ 

بچے کے نمبر آ ئیں گے اور وہ روزگار اور عظمت دونوں کی معراج پر پہنچ جائے گا، یہ وقت کب کا گزر گیا ۔ قابلیت پر توجہ دیں، مختلف طریقے استعمال کریں ، کبھی وہ کلاس سے آ گے ہو گا، کبھی پیچھے ، سیکھنے دیں اسکو۔ لکھنا آ گیا تو نمبر خود ہی آ جائیں گے۔ ٹاپ کرنے کا دباؤ بالکل نہ ڈالیں ، قابلیت پر کام کرے گا تو ٹاپ کے دس پندرہ میں شامل ہو جائے گا۔ 



پیرنٹنگ کیا ہے

کیا کبھی آپ نے بطور والدین یہ سوچا ہے کہ پیرنٹنگ کیا ہے؟ 

اگر آپ نے نہیں بھی سوچا ہوگا تو آپ کا عام خیال یہی ہوگا کہ بچوں کو بڑا کرنے، کھلانے پلانے، کپڑے پہنانے اور اسکول بھیجنے کو ہی پیرنٹنگ کہتے ہیں!

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کبھی کبھی سوچتے ہوں کہ نہیں والدین کا کام اس سے کچھ بڑھ کر بھی ہے اور پھر آپ بچوں کی خواہشات پوری کرنے کو بھی اس میں شامل کرلیتے ہوں گے۔

چلیں ہم اپنی اور آپ کی بات کو ایک طرف رکھ کر دیکھتے ہیں کہ والدین کے اصل کرنے والے کام کیا ہیں؟

اسکالرز اور نفسیات، تعلیم اور بچوں کی نشوونما کے ماہرین کے نزدیک والدین صرف کھلانے، پلانے، پہنانے کے ذمہ دار نہیں بلکہ پیرنٹنگ اس سے بڑھ کر کچھ اور ذمہ داریاں قبول کرنے کا نام ہے، جس سے عام طور پر والدین جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اگر وہ یہ ذمہ داری نہ نبھائیں تو نہ صرف وہ خود بلکہ ان کا خاندان اور پورا معاشرہ بھی اس کی قیمت مستقبل میں ادا کرتا ہے۔

 پیرنٹنگ سے مراد کچھ اس طرح بھی ہو سکتی ہے 

"اس سے مراد بچوں کی جامع نشوونما اور خواندگی(لٹریسی) سے آگے بڑھ کر پوری شخصیت کی تعمیر ہے، شخصیت سے مراد اس کی روحانی، اخلاقی و سماجی، ذہنی و فکری، جسمانی اور پیشہ ورانہ یا عملی پہلوؤں کی تربیت شامل ہے، ان تمام پہلوؤں پر والدین کو محنت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔"

یہی حقیقی مجاہد اور انسان بنانے کا نسخہ ہے۔۔۔

یہی پہلو کلاسیکل تربیتی انداز خصوصا اسلامی معاشروں میں بنیاد سمجھے جاتے تھے کیونکہ کسی ایک پہلو میں کمی سے بچے کی پوری شخصیت متاثر ہو جاتی ہے۔

گدھ

 آپ آسمان پر خاموشی سے منڈلاتے گدھ دیکھیں. ان کی نظر کمال ہوتی ہے. یہ بلندی پر چکر لگاتے نیچے دیکھ رہے ہوتے ہیں. کہاں کوئی کمزور ہو کر گرے تو ان کی ضیافت کا ساماں بن جائے. کہاں کسی دوسرے شکاری نے اپنا شکار چھپایا وہ بھی ان کی نظر سے نہیں بچ پاتا. کیونکہ ان کے سونگھنے کی حس بھی کمال ہوتی ہے.


لیکن یہی گدھ خود شکار نہیں کر سکتے. کیونکہ ان کی اس بڑی جسامت کے باوجود ان کی چونچ اور پنجوں کے ناخن قدرت نے کمزور رکھے ہیں. مردار خوری کو ان کی مجبوری پھر سمجھا جا سکتا ہے. قدرت نے ان کو اسی کام کیلئے تخلیق کیا ہے یعنی یہ فطرت کے خاکروب ہوتے ہیں. یہی تحقیق پھر آپ کو ان سے نفرت کرنے سے روکتی ہے.

آپ دُنیا بھر میں بسے انسانی بچوں کو دیکھیں. تین کھیل ہر براعظم کے بچے شروعات عمر میں کھیلتے ہیں. پتھر پھینکنا چھوٹے جانوروں کے پیچھے دوڑنا اور چھپن چھپائی. کیونکہ صدیوں سے ہماری نفسیات میں رچ بس گیا ہے کہ انسان مردار خور نہیں ہے. ہم شکاری ہیں. پتھر ہمارا پہلا ہتھیار تھا دوڑ کر پکڑنا ہماری بہادری اور چھپن چھپائی ہمارا عقل و شعور ہے.

لیکن ہم میں بہت سے لوگ پھر بھی مردار خور گدھ بن جاتے ہیں. یہ دوسروں کے کمزور لمحے ڈھونڈتے ہیں. بجائے اپنی زندگی اپنی سوچ کے یہ دوسروں کے پیچھے ان کے گرنے کی اُمید پر دوڑ رہے ہوتے ہیں. ان کا شعور بھی گدھ کی طرح خاموش چھپ کر دوسروں کی وہ باتیں پکڑنے سونگھنے تک محدود ہو جاتا ہے جو ان کی کمزور شخصیت کو کچھ دیر کی طمانیت دے.

ایسے لوگ ہمارے آس پاس ہی رہتے ہیں . تحقیق یا آشکار ہونے پر یا تو ان سے کراہیت ہو جاتی ہے اور یا اکثر آپ حیرت سے سوچتے ہیں انہوں نے گدھ بننے کا انتخاب کیوں کیا؟. قدرت نے تو ان کو مکمل انسان بنایا ہے.

برف باری اور ڈپریشن

 گرم میدانوں کی زندگی میں بھاگ دوڑ کرتے لوگ یہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ جہاں روز برف گرتی ہو وہاں زندگی کا رنگ و ڈھنگ کیسا ہوتا ہے. کسی دن ہلکی برف باری ہوگی. آپ گرم کپڑے پہن کر روزمرہ زندگی میں سنبھل سنبھل کر قدم رکتے آہستہ آہستہ شام کر دیتے ہیں. کسی دن زیادہ برف گرتی ہے. آپ گھر سے نکلنے کیلئے بھی پہلے راستہ صاف کرتے ہیں.

کسی دن کئی فٹ برف گرے گی. آپ صفائی میں ہی اتنے تھک جائیں گے تھک کر چور واپس بستر میں گھس جائیں گے. المیہ یہ ہوگا کہ آٹھ کر آپ دیکھیں گے جو محنت آپ نے کی وہ پھر برابر ہو چکی ہے. کسی دن برفانی طوفان ہوگا آپ باہر نکلنے کی کیا بستر سے نکلنے کی بھی ہمت نہیں کریں گے. دوستو رشتوں سے کٹنا شروع ہو جائیں گے. گھر پر روزمرہ زندگی کے اسباب سمٹنے لگیں گے. سرد موسم آپ کی ہڈیوں تک میں گھس گیا ہوگا. روزانہ اس برف میں بیلچے مار کر تھکن آپ کی رگ رگ میں گھس جائے گی.

برفباری بھی موسم ہے. اس میں اتار چڑھاو آتا ہے. لیکن جہاں پرانی برف صاف نہ ہوئی ہو صاف دن کا زیادہ فائدہ نہیں ہوتا. کیونکہ گھر چھت راستے صاف کرنے کی بجائے پھر صاف دن میں بنیادی ضروریات کی فکر ہی بندے کو ہلکان رکھتی ہے. صاف دنوں میں انسان دوبارہ زندگی کا جوڑ بناتا ہے. کچھ جوڑ بنتا ہے کہ دوبارہ برفباری شروع ہو جاتی ہے.

ڈپریشن بھی کسی فرد کی زندگی کا برفانی موسم ہے. جسے ڈپریشن نہ ہو اسے اس موسم کا گرفتار کاہل نکما اور پتہ نہیں کیا کیا لگے گا. کیونکہ وہ برفانی موسم اور اس کی سختیوں سے آشنا نہیں ہوتا. ہمارے اکثر لوگ اس اذیت میں زندگی تمام کر دیتے ہیں کہ دوسرے ان کی زندگی کا موسم سمجھ نہیں پاتے. دوسرے یہ جان نہیں پاتے کہ وہ اگر تھک چکا ہے اپنی ذات سے نکلنے کا ہر راستہ اسے بند نظر آرہا ہے. وہ بے بس ہوگیا ہے  تو کیا ہوا. آس پاس کے لوگ اس تک پہنچنے کا راستہ کیوں نہیں بناتے.؟


ڈپریشن آج کی دنیا کا ویسے ہی انفرادی عفریت ہے جیسے اجتماعی دنیا کیلئے گلوبل وارمنگ ہے. اگر گلوبل وارمنگ کو آپ تسلیم کر چکے ہیں تو پھر ڈپریشن کے گرفتار کو بھی مریض تسلیم کریں. یہ سائبیریا کی اذیت ناک قید ہے. 


ریاض علی خٹک

ٹیچر اور کرکٹ میچ

 اسٹوڈنٹس نے ٹیچر سے کہا سر آپ ہمارے ساتھ کرکٹ کھیلیں 5 گیندوں پر ٹیچر نے 2 رن بنائے چھٹی گیند پر کلین بولڈ ہو گئے

 اسٹوڈنٹس نے شور مچا کر بھرپور خوشی ظاہر کی

کلاس میں ٹیچر نے پوچھا کون کون چاہتا تھا کہ میں اسکی گیند پر آوٹ ہو جاٶں؟

سب باٶلرز نے ہاتھ کھڑے کر دیئے

ٹیچر ہنس دیئے پوچھا میں کرکٹر کیسا ہوں؟ سب نے کہا بہت برے

پوچھا میں ٹیچر کیسا ہوں جواب ملا بہت اچھے



ٹیچر پھر ہنس دیئے

 صرف آپ نہیں دنیا بھر میں پھیلے ہوئے میرے ہزارہا اسٹوڈنٹس جن میں کئی میرے نظریاتی مخالف ہیں گواہی دیتے ہیں کہ میں اچھا ٹیچر ہوں راز کی بات بتاؤں میں جتنا اچھا ٹیچر ہوں اتنا اچھا اسٹوڈنٹ نہیں تھا مجھے ہمیشہ سبق یاد کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور بات سمجھنے میں وقت لگا لیکن کیا آپ بتا سکتے ہیں اسکے باوجود مجھے اچھا ٹیچر کیوں مانا جاتا ہے؟

سب نے کہا سر آپ بتائیں کیوں؟

ٹیچر نے کہا 👈 ادب، 

مجھے اچھی طرح یاد ہے اپنے ٹیچر کے ہاں دعوت کی تیاری میں انکی مدد کر رہا تھا فریزر سے برف نکالی جسے توڑنے کیلئے کمرے میں کوئی شے نہیں تھی استاد کام کیلئے کمرے سے نکلے تو میں نے مکا مار کر برف توڑ دی اور استاد کے آنے سے پہلے جلدی سے ٹوٹی ہوئی برف دیوار پر بھی دے ماری

 استاد کمرے میں آئے تو دیکھا کہ میں نے برف دیوار پر مار کر توڑی ہے انہوں نے مجھے ڈانٹا کہ تمہیں عقل کب آئیگی یوں برف توڑی جاتی ہے میں نے انکی ڈانٹ خاموشی سے سنی بعد میں انہوں نے اس بیوقوفی کا ذکر کئی جگہ کیا میں ہمیشہ بیوقوفوں کی طرح سر ہلا کر انکی ڈانٹ سنتا

 انہیں آج بھی نہیں معلوم کہ برف میں نے مکا مار کر توڑی تھی

یہ بات میں نے انہیں اسلئے نہیں بتائی کہ وہ ایک ہاتھ سے معذور تھے انکی غیر موجودگی میں میں نے جوانی کے جوش میں مکا مار کر برف توڑ دی لیکن جب انکی معذوری کا خیال آیا تو سوچا کہ میرے طاقت کے مظاہرے سے انہیں احساس کمتری نہ ہو اس لیئے میں نے برف دیوار پر مارنے کی احمقانہ حرکت کی اور لمبے عرصے تک انکی ڈانٹ سنتا رہا

 اور ایک آپ لوگ ہیں کہ ایک دوسرے کو چیخ چیخ کر ہدایات دے رہے تھے کہ سر کو یارکر مار کر آوٹ کرو

جیتنا سب کچھ نہیں ہوتا کبھی ہارنے سے زندگی میں جیت کے رستے کھلتے ہیں آپ طاقت میں اپنے ٹیچرز اور والدین سے بے شک بڑھ جاتے ہیں لیکن زندگی میں سب سے جیتنا چاہتے ہیں تو اپنے ٹیچرز اور والدین سے جیتنے کی کوشش نہ کریں آپ کبھی نہیں ہاریں گے

اللہ پاک آپکو ہر میدان میں سرخرو رکھے

آمین ثم آمین