مکھی
خراسان کا بادشاہ شکار کھیل کر واپس آنے کے بعد تخت پر بیٹھا تھا٬ تھکاوٹ کی وجہ سے اس کی آنکھیں بوجھل ہو رہی تھیں٬ بادشاہ کے پاس ایک غلام ہاتھ باندھے مؤدب سے کھڑا تھا٬ بادشاہ کو سخت نیند آئی ہوئی تھی مگر جب بھی اس کی آنکھیں بند ہوتیں تو ایک مکھی آ کر اس کی ناک پر بیٹھ جاتی تھی اور نیند اور بے خیالی کی وجہ سے بادشاہ غصے سے مکھی کو مارنے کی کوشش کرتا لیکن اس کا ہاتھ اپنے ہی چہرے پر پڑتا تھا اور وہ ہڑبڑا کر جاگ جاتا تھا۔
جب دو تین دفعہ ایسا ہواتو بادشاہ نے غلام سے پوچھا‘ تمہیں پتہ ہےکہ اللہ نے مکھی کو کیوں پیدا کیا ہے‘ اس کی پیدائش میں اللہ کی کیا حکمت پوشیدہ ہے؟ غلام نے بادشاہ کا یہ سوال سنا تو اس نے ایسا جواب دیا
جو سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے-
غلام نے جواب دیا‘بادشاہ سلامت! "اللہ نے مکھی کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ بادشاہوں اور سلطانوں کو یہ احساس ہوتا رہے کہ وہ خود کو کہیں خدا نہ سمجھ بیٹھیں کیوں کہ وہ خود سے
ایک مکھی کو بھی قابو نہیں کرسکتے۔"
ذہنی دباؤ سے کیسے بچا جائے؟
دنیابھر میں ڈپریشن ایک خطرناک اور جان لیوا نفسیاتی بیماری کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں مختلف عمروں کے 26کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ لوگ اس بیماری میں مبتلا ہیں جن میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔ یہ تعداد دنیا کی کل آبادی کا 4.4فیصد ہے۔
ڈپریشن نہ صرف بذات خود ایک خطرناک بیماری ہے بلکہ بہت سی مہلک بیماریوں کا موجب بھی بن سکتی ہے جیسے دل کی بیماری ، ذیابیطس ، جن سے انسانی زندگی خاصی حد تک متاثر ہوتی ہے، اور جن کی وجہ سے انسانی صحت کے ساتھ ساتھ اس کے باقی معمولات زندگی پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان کے مختلف علاقوں میں ڈپریشن کے مرض کی شرح 22سے 60 فیصد تک ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اس کی شرح 47 فیصد ہے۔ پاکستان میں بھی عورتوں کی بہت بڑی تعداد ڈپریشن کا شکار ہے۔ ڈپریشن جب حد سے بڑھ جاتا ہے تو اس کی آخری اور خطرناک صورت یہ ہے کہ انسان کو خودکشی کے خیالات آنے لگتے ہیں اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک جان لیوا مرض ہے۔ آئیے ! دیکھتے ہیں کہ اس مرض کی علامات کیا ہیں؟ اور اس سے بچنے کے لئے ہم کیا تدابیر اختیار کرسکتے ہیں؟
ذہنی دبائو / ڈپریشن کو پہچانیے
ڈپریشن اور ذہنی دبائو سے بچنے کے لئے سب سے پہلے ضروری یہ ہے کہ ہم اس کو پہچانیں۔ اور پھر اپنے آپ کا اور اپنے اردگرد کے لوگوں کا جائزہ لیں کہ کہیں ہم یا ہمارے عزیز و اقارب ، دوست احباب اس پھیلتی ہوئی نادیدہ بیماری کا شکار تو نہیں۔ آپ کی معلومات میں اضافہ کی غرض سے ڈپریشن کی چند علامات ذیل میں بیان کی جارہی ہیں جو ذہنی دبائو ، ڈپریشن کی بیماری کی پہچان کراسکتی ہیں۔
٭ مستقل مایوسی اور بے چینی ،
٭ ایسے کاموں سے بے زاری جو کبھی دلچسپی کا باعث تھے،
٭ احساس کمتری،
٭ نیند میں واضح کمی،
٭سوچنے اور توجہ دینے کی قوت میں کمی
٭ سستی اور کاہلی میں اضافہ
ڈپریشن کی علامات کے حوالے سے یہ مکمل فہرست نہیں ہے۔ اس کی دیگر علامات بھی ہوسکتی ہیں۔ تاہم مذکورہ بالا علامات اہم ترین ہیں۔
آپ اکیلے نہیں ہیں
ڈپریشن کا شکار فرد اپنی زندگی میں بہت زیادہ نقصان کا سامنا کرتا ہے، اپنے کاروبار میں ، اپنی ملازمت میں۔ اگر وہ طالب علم ہے و سکول، کالج میں اس کی کارکردگی متاثر ہوگی۔ اپنی گھریلو زندگی میں وہ خود بھی مسائل کا سامنا کرتا ہے اور اس کی وجہ سے باقی افراد خانہ بھی پریشان رہتے ہیں۔ تاہم ڈپریشن کے مریض کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ اس مرض کے ساتھ تنہا نہیں ہے۔
حقائق جانیے اور مفروضوں سے گریز کیجیے
ڈپریشن کے مریض کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس بیماری کے حوالے سے غلط اور درست باتوں میں تمیز کرے۔ غلط باتوں یعنی مفروضات پر کسی بھی صورت میں یقین نہ کرے۔
٭مفروضات
ڈپریشن بہت کم لوگوں ہوتا ہے اور یہ مجھے نہیں ہوگا۔
ڈپریشن کمزوری کی علامت ہے۔
جسے ڈپریشن ہو وہ پاگل ہوتا ہے۔
٭ حقائق
ڈپریشن کسی کو بھی ہوسکتا ہے۔
ڈپریشن کا فطری مضبوطی سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ ایک بڑی بیماری ہے جیسے ذیابیطس، دل کا عارضہ ، دمہ وغیرہ۔
ڈپریشن کا شکار فرد مریض ہوتا ہے پاگل نہیں۔
ڈپریشن کے اسباب
ڈپریشن کی وجہ کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ ہوسکتا ہے جس پر قابو پانا مشکل ہو ، جیسے کاروبار میں نقصان، کسی عزیز کی موت ، ملازمت کا چھن جانا وغیرہ۔
علاج
بہرحال ڈپریشن ، ذہنی دبائو ایک ایسی حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا ۔ اس کا بر وقت علاج ضروری ہے۔ خوش قسمتی سے ڈپریشن قابل علاج ہے۔ آپ مندرجہ ذیل ہدایات پر عمل کرکے ذہنی دبائو پر کسی حد تک قابو پاسکتے ہیں۔
1۔ بھرپور نیند
ذہنی دبائو کی وجہ سے آپ کی نیند کافی حد تک متاثر ہوتی ہے۔24گھنٹوں میں نیند کے دورانیہ کو صحت مند رکھیں یعنی اس قدر نیند لیں جتنی ایک صحت مند فرد کے لئے ضروری ہوتی ہے۔ ایک عام انسان کو روزانہ 8 سے 10گھنٹے کی نیند پرسکون کرتی ہے۔ سوتے وقت اپنی منفی سوچوں کو قابو میں رکھیں۔
2۔باقاعدگی سے ورزش
مختصر دورانیے کی ورزش (20سے 30 منٹ ) بھی آپ کے موڈ پر اچھا اثر ڈالتی ہے۔ یقین کریں کہ باقاعدگی سے بیس سے تیس منٹ کی ورزش آپ کو نفسیاتی مسائل سے نکال سکتی ہے۔
3۔صحت مند خوراک
آپ کے دماغ میں موجود ہر کیمیکل براہ راست یا بالواسطہ آپ کی غذا سے ہی بنتا ہے۔اس لئے غذا کی اہمیت مسلمہ ہے۔ صحت مند غذا کا انتخاب آپ کو ذہنی دبائو سے بچا سکتا ہے۔
4۔سماجی اور خاندانی تعلقات
انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک سماجیجانور ہے۔ جب ہم ہنسی مذاق کے لئے یا مل جل کر کام کرنے کے لئے اپنے دوستوں یا گھر والوں کے قریب ہوتے ہیں تو اس وقت دراصل ہم اپنی بھلائی کا احساس برقرار رکھنے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں۔
5۔ مراقبہ (Meditation)
آپ اپنے ذہن کو ایک قدم پیچھے لاکر ، اپنے خیالات اور احساسات سے آگاہ ہوکر ، اپنی مدد آپ کے تحت ذہنی دبائو یا تفکرات کی علامات کا پتہ لگا کر ، ان احساسات پر قابو پاسکتے ہیں۔ اپنے آپ کو پرسکون رکھنے کیلئے لمبی اور گہری سانسیں لیں۔ مثبت سوچ اور مثبت رویہ اختیار کریں۔
ہمارے بچے اور تعلیم
پہلی محبت کا ذکر تو اکثر ہی کیا جاتا ہے، البتہ پہلی نفرت کا تذکرہ شاذ و نادر ہی ملتا ہے۔ مجھے پہلی نفرت پرائمری اسکول کے زمانے میں نادیہ سے ہوئی۔
نادیہ میری کلاس فیلو اور سب سے اچھی دوست تھی۔ وہ میری پڑوسن بھی تھی۔ ہم دونوں ہی پڑھنے میں اچھی سمجھی جاتی تھیں، لیکن میری طبیعت ذرا لا اُبالی سی تھی، سب آتے جاتے بھی کچھ بے وقوفانہ غلطی کر جاتی۔ میرا حافظہ بھی نادیہ جیسا نہیں تھا۔ وہ مضمون پورا رٹ کر ویسے کا ویسا ہی لکھ دیتی اور پورے نمبر لے لیتی۔ میں خود سے مضمون لکھتی اور اسپیلنگ یا گرامر میں نمبر کٹ جاتے۔ یوں نجانے میری وجہ سے اہل خانہ کی ناک کتنی بار کٹی۔
31 مئی کا دن میرے ہم عصر کہاں بھلا سکتے ہیں۔ سورج سوا نیزے پر نہ سہی، یہی کوئی سوا دو سو کلومیٹر پر ہوا کرتا تھا، جب گراؤنڈ میں میدان سجتا، چمکیلی ٹرافیاں سجائی جاتیں اور اول، دوم، سوم آنے والے فخر سے سر بلند کرکے وہ وصول کرتے۔ اور ایک میری قسمت میں چہارم آنا لکھ دیا گیا تھا۔ اپنے چہارم آنے کے غم سے زیادہ یہ غصہ ہوتا کہ یہ نادیہ کیوں پہلی تین پوزیشنوں میں آجاتی ہے اور ایک چمکیلی ٹرافی اس کے گھر پہنچ جاتی اور شام ڈھلنے سے پہلے مٹھائی کی پلیٹ ہمارے گھر پہنچ جاتی۔ اور میں سوچا کرتی یہ لڈو تو ابو کی ناک ہے، برفی جیسے امی کی ناک ہے، جلیبی جیسے خالہ کی ناک ہے، سب کٹ گئیں۔
میرے اور نادیہ کے گھر کے بیچ میں کرن باجی کا گھر تھا، جہاں ہم سپارہ پڑھنے جاتے تھے۔ ایک دن ان کی امی نے بتایا کے رمضان کی طاق راتوں میں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ بس اب تو جب طاق رات آئے میری یہی دعا ہو یا اللہ یا تو نادیہ کو فیل کردے یا پھر ہم دونوں کو اتنا دور کردے کہ کبھی شکل نہ دیکھیں۔ یہ دعا کرکے میں خود بھی رو پڑتی، کیونکہ میری نالائقی اور اس کی لائقی کے علاوہ ہمارے درمیان کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ لیکن اس کی پوزیشن اور نمبر میرے لیے برداشت کرنا اب ممکن نہیں رہا تھا۔ مجھے اس کی شکل دیکھ کر مٹھائی اور مٹھائی دیکھ کر کٹی ہوئی ناکیں یاد آجاتی تھیں۔
پھر ہوا یوں کہ دعا قبول ہوگئی اور امی کا تبادلہ اسلام آباد سے کراچی ہوگیا۔ برسوں بیت گئے، نادیہ کی خبر نہیں۔ نادیہ ابڑو کہاں گئی، کیسی ہے؟ پہلی محبت تھی یا پہلی نفرت؟ آج بھی اچار پراٹھے کی خوشبو کسی کے لنچ باکس سے اٹھے تو آنکھیں نم ہوجاتی ہیں کہ جیسے ابھی وہ بولے گی تم کیوں نہیں کھاتیں اچار پراٹھا؟
کراچی پہنچ کر میں خوش تھی کہ چلو نادیہ سے جان چھوٹی۔ لیکن مجھے معلوم نہیں تھا کہ نادیہ تو ایک کردار ہے۔ بچوں کی ڈرائنگ روم ہراسگی تو ہمارا کلچر ہے۔ جب کوئی آئے ’’بیٹا تمہاری لکھائی تو اچھی ہے، ذرا چھٹا کلمہ تو سناؤ۔ نہیں آتا؟ بھئی میرے بیٹے کو تو چھ کلمے بمع ترجمہ یاد ہیں۔
پھر کوئی آنٹی آتیں تو کہتیں ’’لو اتنا اچھا لکھا اور ڈرائنگ اتنی بری۔ لگ ہی نہیں رہا انسان کا کان ہے یا بندر کا (ڈارونزم تب آتا تو آنٹی کو پڑھا دیتی)۔ پھر کسی رشتے دار کی آمد ہوتی ’’اوہو بیٹی تھرڈ آئی ہے۔ بیٹا تھرڈ پوزیشن تو تھرڈ کلاس ہوتی ہے۔ بھئی ہمارا بیٹا تو فرسٹ کلاس فرسٹ ہے‘‘۔
میرے امی ابو کبھی نہیں کہتے تھے کہ ہماری ناک کٹ گئی، لیکن اندر ہی اندر یہ دکھ مجھے مارتا تھا کہ میں فرسٹ کیوں نہیں آتی اور یہ بات حیران بھی کرتی تھی کہ ہر کلاس میں تیس چالیس بچے ہوتے ہیں، پھر ہمارے جاننے والوں میں سب کے بچے فرسٹ کیسے آتے ہیں۔ جو بچے کوئی پوزیشن نہیں لیتے یا فیل ہوتے ہیں وہ کدھر ہیں؟ مجھے یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ جب کوئی آتا ہے کلاس روم کیوں کھل جاتا ہے۔ مجھے کسی کا بھی آنا برا لگتا تھا۔ میں تنہائی پسند ہوتی گئی۔
میری امی ٹریننگ کےلیے فلپائن گئیں تو وہاں ایک خاتون سے دوستی ہوگئی۔ کچھ عرصے بعد وہ فلپائنی خاتون پاکستان آئیں تو ہمارے گھر بھی آئیں۔ جب میری ان سے ملاقات ہوئی تو وہ میری جیسی چھوٹی کرسی پر آکر بیٹھ گئیں۔ میں نے دل میں سوچا اب کٹے گی ناک پوری قوم کی کہ کتنے نالائق بچے ہیں پاکستان کے۔ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہایت شفقت آمیز لہجے میں پوچھنے لگیں ’’کیسی ہو؟‘‘
میں نے کہا ’’ٹھیک‘‘۔ انہوں نے پوچھا ’’تمہارا پسندیدہ کھیل کون سا ہے؟‘‘
میں نے حیرت سے پوچھا ’’کھیل؟‘‘ کیونکہ مجھے لگا ہر ایک کی طرح پوچھیں گی ’’مضمون‘‘۔ انہوں نے مسکرا کر کہا ہاں کھیل۔ میں نے کہا ’’برف پانی۔‘‘ کہنے لگیں ’’واہ زبردست نام ہے۔ کیسے کھیلتے ہیں؟‘‘
جتنی دیر میں امی دہی بھلے اور پکوڑے لے کر آئیں ہم نے برف پانی سے بادام والی قلفی، چینجو سے گولا گنڈا، عینک والا جن سے عید مبارک والے غبارے تک ڈھیروں باتیں کیں اور ڈھیر سارے قہقہے لگائے۔ مجھے لگا شاید ان کے بچے نہیں تھے اس لیے انہوں نے پڑھائی کا ذکر نہیں کیا۔ لیکن جب انھوں نے مجھے اپنی بیٹی کی تصویر دکھائی تو وہ بالکل میرے جتنی تھی۔ اس کی بھی انھوں نے ڈھیروں باتیں کیں، شرارتیں بتائیں۔ لیکن کہیں مجھے یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ مجھ سے بہتر ہے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ میری امی جب فلپائن میں تھیں تو سیڑھیوں سے گر کر بے ہوش ہوگئی تھیں۔ انہیں جب ہوش آیا تو بس میرا نام لیتی تھیں اور بتاتی تھیں کہ میں ان کا فخر ہوں، میں محنتی اور ذہین ہوں۔
مجھے بہت اچھا لگا اور سمجھ آگیا کہ معاشرے میں جو لوگ ہمیں صرف اپنے بہتر ہونے کا احساس دلاتے ہیں وہ ہمارے خیر خواہ نہیں۔
آج میں خود ایک ماں ہوں۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ماں اور میں اپنے بچوں کو ایسے لوگوں سے ملنے پر مجبور نہیں کرتی جو آتے ساتھ ہی بچوں کا وائیوا شروع کردیتے ہیں۔ جو بچوں کو کمتری کا احساس دلاتے ہیں۔ بے شک محنت میں عظمت ہے لیکن نفسیاتی طور پر ہراساں کرکے ہم بچوں کو کامیابی نہیں دلا سکتے۔ ہمیں یہ ڈرائنگ روم ہراسگی اور ٹو کا ٹیبل کلچر ختم کرنا ہوگا، تب ہی جاکر بیٹا ’’میٹرک کے نمبر کتنے آئے‘‘ کا خوف ختم ہوگا۔ اور ’’ابھی تک ماں باپ کا کھا رہے ہو، نوکری ملتی نہیں یا کرتے نہیں‘‘ جیسے واہیات مذاق ختم ہوں گے۔
ہمیں اپنی ناکوں کو اتنا مضبوط کرنا پڑے گا کہ ان کی سربلندی یا کٹ جانا ہمارے بچوں کے نمبروں، نوکریوں اور تنخواہوں پر منحصر نہ ہو۔ ہمیں لوگوں کو اپنے بچوں سے دل دکھانے والی باتیں کرنے سے روکنا ہوگا۔
کورونا کی وجہ سے دنیا بھر میں بچوں کا تعلیمی نقصان ہوا۔ امتحان آن کیمپس ہوں یا آن لائن، یہ ایک الگ بحث ہے لیکن بحیثیت والدین ہمیں اپنے بچوں کو بٹھا کر نفسیاتی طور پر انہیں یہ باور کرانا چاہیے کہ ہم ان کی محنت، ان کا جذبہ دیکھتے ہیں، نمبرز کی اہمیت نہیں۔ کس کے زیادہ آئیں کس کے کم۔ زندگی ایک دوڑ نہیں۔ سب کی ایک منزل نہیں۔ اچھے نمبر آنا اچھے مستقبل کی گارنٹی نہیں۔ اچھے مستقبل کی گارنٹی محنت ہے۔ نمبروں میں عظمت نہیں، محنت اور لگن میں عظمت ہے۔
شاید اس بات سے آپ کو اختلاف ہو لیکن ذرا سوچیے ہم زندگی کو نوکری تک ہی کیوں دیکھتے ہیں۔ یہ زندگی ہر ایک کا ایک الگ امتحان لاتی ہے۔ ہر ایک کا پرچہ مختلف ہے۔ ضروری نہیں کہ ہیلی برٹن میں پہلی نوکری کرنے والا ہمیشہ شاد و آباد رہے۔ یا سی ایس پی افسر بننے والا کسی پریشانی سے نہ گزرے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم صرف ذہانت پر توجہ دیتے ہیں، جذباتی ذہانت یا ایموشنل انٹیلی جنس کی پرورش کےلیے محنت نہیں کرتے۔ ہمیں اپنے بچوں کے دل میں پڑھائی کی لگن پیدا کرنی ہے، نہ کہ دوسرے بچوں کے زیادہ نمبروں کی حسد یا نوکری نہ ملنے کا خوف۔ ہمیں اس بات پر یقین رکھنا ہوگا کہ کبھی کبھی بہترین یونیورسٹی سے ٹاپ کرنے والا بھی زندگی کی دوڑ میں ایک میٹرک پاس سے پیچھے رہ جاتا ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو خوف سے آزاد کرنا ہوگا، ورنہ شاید کم نمبر آنے کی وجہ سے ماں باپ کا سامنا نہ کر پانے کے خوف سے بچے خود سوزی کرتے رہیں گے۔
بے شک ہمیں اپنے بچوں کو پیار و محبت سے تعلیم کے ساتھ منسلک رکھنا چاہیے لیکن ہمیں ان کا دوست بن کر ان کے کھیل کود، ان کی پسند کی باتیں بھی کرنی چاہئیں۔ ہمیں ان کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ وہ ای گیمنگ/ فٹبال/ کرکٹ میں بہترین ہیں، ان کے کھیل اور اسکلز سے ہم متاثر ہیں۔ اس طرح وہ ہمیں اپنا دوست محسوس کریں گے۔ جب وہ پڑھ رہے ہوں ان کے ساتھ بیٹھ کر ہمیں بھی کوئی کتاب پڑھنی چاہیے۔ اس طرح وہ یہ نہیں سمجھیں گے کہ ہم بس نظر رکھ رہے ہیں بلکہ ہم پڑھائی کے عمل کا حصہ بن جائیں گے۔ ہمیں اپنی پسند اور سمجھ کے مضمون پر ان سے باتیں بھی کرنی چاہئیں اور ان کی سمجھ کو سراہنا بھی چاہیے۔ اس طرح پڑھائی ہمارے گھر کا حصہ بن جائے گی۔
اگر ہم اپنے بچوں کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں ہمیں ان کا ساتھی بن کر ان کے ساتھ وقت گزارنا ہوگا۔ محض ٹی وی کا چینل بدلتے ہوئے آواز دے کر ’’نالائق انسان پڑھ لے، پھر بلال کے تم سے زیادہ نمبر آجائیں گے‘‘ کہہ کر ڈرامہ یا خبروں میں گم ہوکر ہم ان کو ایک مضبوط کامیاب انسان نہیں بنا سکتے۔ ہمیں ان کی ڈھال بننا ہے۔ ان کا دوست بننا ہے۔ خیرخواہ تو ہم ہیں، لیکن دوست بننے کےلیے ان کی دماغی سطح پر جاکر ان کے ساتھ وقت گزارنا ہے۔ ان کی حوصلہ افزائی کرنی ہے اور انہیں بے خوف ہوکر محنت کرنے پر مائل کرنا ہے۔
اگر آپ کے بچے چھوٹے ہیں تو آپ پراعتماد طریقے سے اپنے ملنے جلنے والوں کو بتائیے آپ ملنے جلنے کے وقت بچوں سے اے بی سی سننا پسند نہیں کرتے۔ آپ کے گھر کھیل، پڑھائی ہر چیز کا ٹائم ہے اور آپ بچوں کے مقابلے بھی پسند نہیں کرتے۔ کس کو کیا آتا ہے کس کو نہیں؟ جیسے سیلف میڈیکیشن نقصان دہ ہے ویسے بچوں کی سیلف اور تقابلی اسیسمنٹ بھی نقصان دہ ہے۔ بتا بتا کے، جتا جتا کے۔
یقین جانیے آج یہ سب لکھنے کےلیے ایک بچے کی ٹویٹ نے مجبور کردیا جس نے لکھا تھا ’’میں خودکشی کرنا چاہتا ہوں کیوں کہ میں آن لائن اچھا پڑھ نہیں پایا، اب برے نمبروں سے ماں باپ کو شرمندہ دیکھنے سے بہتر ہے وہ مجھے مردہ دیکھیں‘‘۔
اپنے بچوں کے نمبروں سے زیادہ ان کی دماغی و نفسیاتی حالت کو دیکھیے۔ ان کا ساتھی بنیے۔ یقیناً اس مشکل سال بچوں کو حکومت کے درست فیصلوں کے ساتھ ساتھ ماں باپ، دوستوں اور رشتے داروں کی طرف سے ملنے والی پراعتمادی اور شفقت کی ضرورت ہے۔
از قلم : عینی علی
بچے 'بہت بڑا' مسئلہ پیدا کریں تو والدین کیا کریں؟
ایک دفعہ ام ایمن رضی اللہ عنھا نبوی میں داخل ہوئیں اور آپﷺ کو بتایا امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنھما کھو گئے ہیں،
دونوں بہت ہی کم سن بچے تھے تو نانا کا پریشان ہونا فطری۔۔۔ساتھ میں حسن و حسین سے گہری محبت نے یقینا ایک تڑپ سی پیدا کر دی ہوگی۔
تو آپ ﷺ اور صحابہ کرام فورا ان کی تلاش میں نکل گئے۔۔۔وہ دونوں ایک ویرانے میں ملے جہاں ایک خطرناک سانپ ان پر حملے کو تیار تھا اور دونوں بچے خوف سے ایک دوسرے سے چمٹے ہوئےتھے۔
راوی کے مطابق سانپ اور رسولﷺ کی درمیان گفتگو شروع ہو گئی۔۔۔۔یہ گفتگو کیا تھی اور کیسی ہوئی، یہ یقینا ایسا معاملہ ہے جہاں ہم اندازہ ہی لگا سکتے ہیں۔۔۔۔
خیر سانپ فورا اس جگہ سے نکل گیا۔۔۔۔
اب سوچیں ہمارے زمانے میں یہ ہوتا تو سب سے پہلے والدین یا بزرگوں کا ردعمل کیا ہوتا؟
چیخنا۔۔۔چلّانا۔۔۔ایک دو چپتیں اور دیر تک لیکچر وغیرہ وغیرہ
ایسے موقع پر جب بچے پہلے ہی خوف سے سن ہو اور محبت کی لہروں اور الفاظ سے 'پرسکون' ہونا چاہتا ہو تو یہ اشتعال انگیز رویہ کیا شخصیت ڈویلپ کرے گا؟
خیر تو آپ ﷺ نےجلدی سے انہیں اٹھایا اورسر سہلانے لگے اور ایک کو ایک کندھے اور دوسرے کو دوسرے کندھے پر اٹھا لیا اور کہا کہ تم اللہ کی نظر میں اتنے مکرم ہو کہ تمہیں بچانے کے لیے جو مجھ سے ہو سکا میں وہ کروں گا۔ (رواہ الطبرانی)
والدین کیا کریں؟؟؟
1۔سیرت کو جاننے۔۔۔سمجھنے۔۔۔اور روح میں اتارنے کی 'شدید ترین تڑپ' پیدا کریں
2۔یہاں اہم نکتہ یہ ہے کہ ہو سکتا ہے آپ کا بچہ کچھ خطرناک یا غلط کر دے تو پہلے سے خوفزدہ بچے کو فورا ہی برا بھلا یا ڈانٹنا نہ شروع کر دیں۔۔۔۔۔۔۔
3۔ ایسے کسی موقع پر'کمفرٹ' فراہم کریں۔۔۔۔گلے لگا کر، محبت بھرے الفاظ سے ۔
4۔ جیسے رسولﷺ گمشدگی سنتے ہی فورا اٹھ کر چلے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔بچے کو تکلیف پر فورا رسپانس دیں۔
5۔ یہ جانتے رہیں کہ آپ کے بچے کس وقت۔۔۔۔ کیا کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
6۔ اپنے بچوں کو آج کے سانپوں سے بچانے کے لیے 'ہمہ وقت' الرٹ رہیں۔
#ننھے صحابہ۔۔۔۔تربیت نبی ﷺ کے سائے میں
گرمیوں کی چھٹیوں میں سربراہ ادارہ کیا کام کر یں؟
موسم گرما کی چھٹیوں میں طلبہ تعلیمی و با مقصد سرگرمیوں میں مصروف رکھنا ایک اہم ترین ہدف ہے ، تاکہ چھٹیوں سے پہلے پڑھاۓ گئے اسباق چھٹیوں کے دوران یا بعد میں بھی یادرہ سکیں ۔ عصر حاضر میں طلبہ و طالبات کوگر میوں کی چھٹیوں کے دوران مصروف رکھتا اساتذہ کے لیے ایک بہت بڑا پینج ہے۔ معاشرے میں موجود بے شارنی تفریحی ذرائع اور طلبہ وطالبات کو ان کے ہدف کے راستے سے بھٹکانے والے عوامل کی موجودگی میں طلبہ وطالبات کو موسم گرما کی چھٹیوں کے دوران بھی مصروف پر رکھنا بہت بڑی ذمہ داری ہے ۔ لہذامدرسین کو اس چینج سے عہدہ برآ ہونے کے لیے غور وخوض کی بہت ضرورت ہے اورایک مثالی اور ذ مہ دار سر براہ ادارہ ہی اس ذمہ داری سے کما حقہ نبردآزما ہوسکتا ہے ۔
سر براہ ادارہ کی ذمہ داریاں سکول کے دنوں میں جہاں سر براہ ادارہ مختلف سرگرمیاں سرانجام دے کر تدری عمل کو یقینی بنا تا ہے ، وہاں چھٹیوں میں میذ مہ داری دوگئی ہو جاتی ہے ۔ گرمیوں کی تعطیلات میں سر براہ ادارہ درج ذیل کام کر کے بہتر طور پراستفادہ کر سکتے ہیں ۔ سکول کے اندر عمارت، درخت ودیگر اشیا کی حفاظت کے لیے پالیسی بناۓ ۔ پودوں کو پانی دینے کی ذمہ داری لگاۓ اور با قاعدگی سے چھٹیوں کے دوران
چیک کرنے کا اہتمام کرے۔ سکول کی عمارت کو چھٹیوں میں کو چنگ کلاسز یا اکیڈمی کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ اس مقصد کے لیے اپنے کسی استاد اسا تذہ کی کمیٹی بنائی جاسکتی ہے۔ اس
کے علاوہ سکول میں کھیلوں کے مقابلے کروائے جا سکتے ہیں۔ چھٹیوں میں طلبہ و طالبات کو با مقصد علمی ، ادبی اور تفریحی سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کرے، جیسے مطالعہ کی عادت پیدا کر نے کے لیے لائبریری ممبرشپ دلوائی جاۓ مختلف لینگویج کورسز کا اہتمام کیا جاۓ ،کمپیوٹر میں مہارت پیدا کر نے کے لیے کورسز کر واۓ جائیں ،خوشخطی کی کلاسز منعقد کی جائیں تعلیمی سیر عجائب گھر ،سائنس میوزیم ، تاریخی مقامات وغیرہ کا اہتمام کیا جاۓ ،معلومات پر بنی ٹیلی ویژن پروگرامز دیکھنے کے حوالے سے بتا یا جاۓ اور اخبار بینی کی عادت پیدا کی جاۓ ۔ بچوں میں لکھنے کی عادت پیدا کر نے کے لیے روزانہ ڈائری لکھوانے کا اہتمام کیا جاۓ۔
چھٹیوں کا ہوم درک صرف تحریری نہ ہو بلکہ بچوں کو خقیقی اور تخلیقی Projects دیے جائیں تا کہ ان میں تعلیمی | مہارتیں پیدا ہوں ۔ ساجی بہبود کے حوالے سے کوئی نہ کوئی ڈمہ داری بچوں کو ضرور دی جاۓ مثلا گھر کے بزرگ یا بچے کی دیکھ بھال وغیرہ ۔سکول کے اندر سمر کیمپ کے ذریعے بھی طلبہ و طالبات کو موسم گرما کی چھٹیوں میں روزانہ یا ہفتہ وانعلی سر گرمیوں میں مصروف رکھا جا سکتا ہے ۔ اس سلسلے میں صبح سے لے کر دو یا تین گھنٹے تک مختلف سرگرمیوں کوسرانجام دیا جائے۔ طلبہ و طالبات کوروزانہ کی بنیاد پر ٹائم ٹیبل تیار کر کے بھی دیا جا سکتا ہے ۔ تا کہ وہ دن کا مخصوص حصہ صرف تعلیمی سرگرمیوں میں گزار سکیں۔
لکھائی کی مہارت کے لیے انگریزی اور اردو مضامین ، سائنس مضامین کے ماڈلز کی تیاری ، اخبارات ، میگزین اور کتابیں پڑھنا،علم کے اضافے کے لیے معلوماتی پروگرامات دیکھنا، انگریزی کی لکھائی اور بولنے کی مہارت کے لیے انگریزی پروگرامات دیکھنا اور چارٹس کی تیاری وغیرہ کا اہتمام کیا جا سکتا ہے ۔ اسا تذہ کے لیے فاصلاتی یا فارمل ریفریشر کورسز کا اہتمام کرے ۔ اس حوالے سے مختلف اداروں کی خدمات لی جاسکتی ہیں ۔ ٹیچر ٹر ینگ پر خصوصی تو جہ دے۔
یہ بھی بہتر ہے کہ تمام اسا تذہ چھٹیوں میں ایک ہفتے کے لیے آئیں سلپس پڑھیں اور سلیس کی تکمیل کے لیے پلانگ کر لیں ۔ یوم آزادی کے حوالے سے سکول میں اچھا پروگرام منعقد کروانے کے لیے تیاری ان چھٹیوں میں کروائی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ عیدمن کے حوالے سے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران طلبہ و طالبات کو با مقصد تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کے لیے روایتی طریقہ ہوم ورک سے ہٹ کر جد ید تقیقی قسم کے منصو بہ جات کی با مقصد اور تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کے لیے تحمیل پر مبنی ہوم ورک Assign کر نا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ چھٹیوں کا کام اتنا ہوجس کو بچے آسانی سے کر سکیں ،اتنازیادہ نہ ہو کہ طلبہ کی باقی تمام دلچسپیاں ختم ہوکر رہ جائیں ۔ اعلی نتائج کے لیے بہترین یہ ہے کہ چھٹیوں کا کام اتنا ہو کہ طلبہ بآسانی اس کو پایمیل تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ کچھ وقت سیر وتفریح اور کھیل کود کے لیے بھی نکال سکیں ۔ کیوں کہ ایک صحت مند جسم میں ہی ایک صحت مند دماغ ہوتا ہے ۔اس لیے ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے سیر وتفریح اور کھیل کو دنہایت ضروری ہے ۔
سکول کی ایڈورٹائزمنٹ کے لیے چھٹیوں کو بطریق احسن استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے مقامی کمیونٹی اور سوسائٹی کے نامورافراد سے ملاقاتیں کی جا سکتی ہیں ۔ والد ین سے رابطہ کیا جائے ۔ انھیں کانوں تاں سکول کی تو قعات اور والدین کی ذمدار اواں سے آ کاو یا جائے ۔ والدین اس حوالے سے کمزوریوں کوم سے کم کرنے کے لیے دار ادا کر سکتے ہیں ۔ اس حوالے سے 67 منصوبہ بندی ے کے والد ین کو گائیڈ کیا جہات اور ٹھیں بچوں کی کاور ہاں کو سجھنےاور انہیں دور کر نے کی رہنمائی دی جا سکتی ہے ۔ چیک لسٹ بنائی جاسکتی ہے کہ بچے کی چھٹیوں سے قبل کسی بھی مضمون یا صلاحیت میں کمزوری کے قابل نظر صورتحال کیا ہے اور بعد میں رفتہ رفتہ کیا پریشان ہو گی۔
کمزوری کے پیش نظر سرگرمیاں ترتیب دی جائیں اور انہیں لاگو کرنے کے لیے نظام الاوقات مرتب کیا جاۓ ۔
بچوں کی مشاورت سے چھٹیوں کا ایک ٹائم ٹیبل بنا کر والد ین کود یا جہاے جس میں پڑھنے کھیلنے سونے ،نماز ، تلاوت قرآن ، کھانے ،دوستوں رشتہ داروں سے ملنے، سیر اور ورزش ، ہوم ورک لکھنے اور سبق یاد کرنے کے اوقات کار درج ہوں ۔ ٹائم ٹیبل میں بچے کے آرام اور دلچسپی کا ہرمکن حد تک خیال رکھا جاۓ اور اس کے مطابق عمل کو یقینی بنایا جائے ۔ والدین بچے کی تمام سرگرمیوں کی گمرانی کر میں، بالخصوص ہوم ورک ساتھ ساتھ چیک کر یں ۔ زیادہ بہتر ہے کہ تفویض کیے گئے ہوم ورک کے ایام کے حساب سے حصے بنالیے جائیں تا کہ جائزہ لینا اور ہوم ورک مکمل کرنا آسان ہو جاۓ که روزانہ کتنا ہوم ورک کر نا ضروری ہے ۔
قرآن مجید پڑھنا اور سمجھنا بحیثیت مسلمان ہماری اولین ذمہ داری ہے ۔ اس حوالے سے والد ین کو بدف دیا جاۓ کہ گرمیوں کی چٹیوں میں ناظر و قرآن بچے کو ہر صورت پڑھانا ہے ۔ اس کے لیے صبح اور شام قریبی مسجد یا مدر سے میں بچے کو داخل کروائیں یا خود پڑھائیں ۔
حفظان صحت کے پیش نظر بچوں کو موسم کی شدت اور گرمی اور دھوپ سے بچانا بھی بے حد ضروری ہے ۔اس کے لیے والدین کو دن کے اوقات میں ان ڈور سرگرمیاں بنا کر دیں اور سہ پہر کے بعد کھیلنے کودنے یا باہر نکلنے وغیرہ کا ٹائم میں د یا جا
ۓ۔۔گرمی میں مشروبات اور سادہ غذا کا شیڈول بنایا جا سکتا ہے۔ رمضان کا مبارک مہینہ بھی چھٹیوں کے اندر آ رہا ہے۔ اس حوالے سے بچوں کو روزے رکھنے، درس و تدریس سنے، نماز میں پڑھنے ، ذکر واذکار کرنے ، پاک صاف اور با وضو ر ہنے اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں اور ثواب سمیلنے کی بھی ترغیب دیں۔ روزانہ کی بنیادوں پراحادیث ، آیات ، دعائیں وغیرہ کا نصاب بنا کر بچوں کو یادکرنے کے لیے با قاعدہ ہوم ورک دیں تا کہ اس کا جائزہ بھی لیا جا سکے ۔
پڑھائی پر بچوں کی توجہ کیسے بڑھائیں؟
بچوں کی توجه ( Concentration ) بڑھانے کے 10 آسان طریقے
بچوں کے لیے جتنا ضروری اپنی تعلیم کو وقت دیتا ہے انتاہی ضروری یہ بھی ہے کہ وہ اس وقت میں توجہ سے پڑھائی کریں تا کہ جو کچھ انہیں سیکھنا چاہیے ،سکھ سکیں۔ لیکن کم و بیش سب ہی بچوں کے ساتھ ایک مشکل یہ پیش آتی ہے کہ وہ پڑھتے ہوئے توجہ نہیں دے پاتے اور ان کی توجہ ادھر ادھر دیگر کاموں کی طرف رہتی ہے ۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بہت سادقت پڑھتے رہنے اور کتابوں کے سامنے بیٹھے رہنے کے باوجود وہ بہت کم سیکھ پاتے ہیں۔ کچھ بچوں کے ساتھ تو یہ مسئلہ کچھ زیادہ ہی ہوتا
ہے اور اس کی وجہ سے والد ین بھی پر یشان ہو جاتے ہیں۔ بچوں کو جب ہوم ورک کے لیے کہیں یا کوئی کتاب پڑھنے کے لیے دیں تو بچے کچھ ہی دیر میں اکتا جاتے ہیں اور اس کام کو نچوڑ کر دیگر دلچسپیوں کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ ذیل میں ہم ای چند آسان اور قابل عمل
تجاویز درج کرر ہے ہیں جن کی مدد سے والدین بچوں کو اپنی توجہ پڑھائی پر مرکوز کرنے اور یکسوئی سے پڑھائی کرنے میں ان کی مدد کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کے بچے کے ساتھ بھی عدم تو بہی کا مسئلہ در پیش ہے تو ہماری گزارش ہے کہ بچوں کو ڈانٹنے ڈپنے یامار پیٹ سے پہلے ان تجاویز کو ضرور آزمائے اور پھر ہمیں تائے کہ آپ نے انہیں کتا مفید پایا۔
بڑے کاموں کو چوٹے چھوٹے کاموں میں تقسیم کیے:
بچے کام کی زیادہ مقدار دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں ، انہیں یہ کام کرنا مشکل محسوس ہو تا ہے اور وہ اس سے فرار کی راہیں تلاش کرنے لگتے ہیں۔ کوشش کیے کہ بچوں کو ان کے کام چوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کرکے دیں تاکہ وہ باآسانی کر سکیں۔
تو جہ بٹانے والی اشاء بٹاد یجیے:
جب بچے اپنا ہوم ورک یار یڈ نگ و غیر و کر ر ہے ہوں توان کے قریب کوئی ایساکام نہ ہو جس سے ان کی توجہ بٹ سے۔ مثال کے طور پر ٹی وی وغیر ہ بند ہو نا چاہیے ۔ نیز والدین کو بھی چاہیے کہ آپی گفتگو کسی اور جگہ کریں اور بچے کو یکسوئی سے پڑھنے دیں۔
بچوں کے پاس ٹی وی یا موبائل نہ ہو :
دوسروں کے بات کرنے بتنا نقصان دہ یہ بھی ہے کہ بچوں کے پاس کوئی موبائل فون یا ٹی وی وغیرہ موجود ہو اور وہ بچوں کی دسترس میں ہو۔ اگر ایسا ہوگا تو یقینا بچے ان چیزوں کی جانب متوجہ ہوں گے اور اپنے کام پر توجہ نہیں دیں گے۔
ہوم ورک یا سٹڈی ٹائم طے کیجیے:
بچوں کا ٹائم ٹیبل بنایئے اور ان کے لیے مختلف کام کر نے کو وقت مختص کیے ۔ لینی انہیں معلوم ہو کہ اب پڑھائی کا وقت ہے اور اب کھیل کا۔ اسی طرح اگر کوئی اضافی مطالعہ یار یڈ نگ کروائی جارہی ہے تو روزانہ ایک ہی وقت میں کروائی جائے۔
جسمانی سرگرمیوں میں اضافہ کیجیے:
سست اور کابل بچے کسی طرف اپنی توجہ مبذول نہیں کر پاتے ۔ بچوں کو جسمانی طور پر ایٹ اور چاق و چوبند بنائے ۔ ان کے لیے جسمانی کھیل کھیلنے کا بند و بست کیجے تا کہ ان کا جسم مضبوط ہو اور مضبوط جسم کے ساتھ کاموں پر توجہ دے سکیں۔
وقت کے لحاظ سے مقاصد کا تعین کیجیے:
بچوں کو بتائے کہ ان کے پاس ہر کام کے لیے ایک محدود وقت ہو تا ہے اور اس میں اپنا مقصد حاصل کر نا چاہیے ۔ مختلف کاموں کے ختم کر نے کا وقت لینی ڈیڈ لائن طے کیے اور انہیں اسی وقت میں اپنے کام نبٹانے اور اہداف حاصل کر نے کا عادی بنائے ۔
بچوں کے آرام کا خیال رکھیے:
بچوں کے لیے مناسب نیند اور آرام بہت ضروری ہے اور ان کی غیر موجود گی میں کام کی رفتار اور کوالٹی متاثر ہوتی ہے۔ بچوں کو رات کے علاوہ دن میں سونے کے لیے ایک دو گھنٹے ضرور دیجیے تاکہ وہ فریش ہو سکیں۔
کھیل کود کامناسب و قت دیجیے:
مسلسل پڑھتے رہنانہ توکامیابی کی ضمانت ہے اور نہ اس سے بچوں میں دلچپی پید اہو تی ہے۔ بچوں کو کھیل کو دکے لیے مناسب وقت دیجیے ۔ ہاں کھیل کے دوران انہیں اپنا خیال رکھنا، قوانین کی پاسداری کر ناد غیر و غیر ہ ضرور سکھاۓ۔
اچھی خوراک کھائیے:
بچوں کو ہمیشہ انچا کھانا د یے ۔ مختلف اقسام کے پھل اور میوہ جات یادداشت اور ذہانت میں اضافہ کرتے ہیں جبکہ بے آرامی، ناقص خوراک اور بازاری غذائیں بچوں کی صحت اور توجہ دونوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
دھوپ میں لو لگنے سے موت کیوں ہوتی ہے؟
ہم سب دھوپ میں گھومتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کو دھوپ لگ جانے کی وجہ سے اچانک موت کیوں ہو جاتی ہے؟
👉 ہمارے جسم کا درجہ حرارت ہمیشہ 37 ° ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے، اس درجہ حرارت پر ہی ہمارے جسم کے تمام اعضاء صحیح طریقے سے کام کر پاتے ہیں.
👉 پسینے کے طور پر پانی باہر نکال کر جسم 37 ° سینٹی گریڈ درجہ حرارت برقرار رکھتا ہے، مسلسل پسینہ نکلتے وقت پانی پیتے رہنا انتہائی مفید اور ضروری ہے.
👉 اس کے علاوہ بھی پانی بہت کارآمد ہے، جسم میں پانی کی کمی ہونے پر ہمارا جسم پسینے کے ذریعے ہونے والے پانی کے اخراج کو روکتا ہے. (یعنی بند کر دیتا ہے)
👉 جب باہر درجہ حرارت 45 ° ڈگری سے زائد ہو جاتا ہے اور جسم کا کولنگ سسٹم ٹھپ ہو جاتا ہے، تب جسم کا درجہ حرارت 37 ° ڈگری سے زیادہ ہونے لگتا ہے.
👉 جسم کا درجہ حرارت جب 42 ° سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے تب خون گرم ہونے لگتا ہے اور خون میں موجود پروٹین پکنے لگتا ہے.
👉 پٹھے کڑک لگتے ہے اس دوران سانس لینے کے لئے ضروری پٹھے بھی کام کرنا بند کر دیتے ہیں.
👉 جسم کا پانی کم ہو جانے سے خون گاڑھا ہونے لگتا ہے، بلڈ پریشر low ہو جاتا ہے، اہم عضو (بالخصوص دماغ) تک خون کی رسائی رک جاتی ہے.
👉 انسان کوما میں چلا جاتا ہے اور اس کے جسم کے ایک کے بعد ایک عضو دھیرے دھیرے کام کرنا بند کر دیتے ہیں، اور اس کی موت واقع ہو جاتی ہے.
👉 گرمی کے دنوں میں ایسے مسائل ٹالنے کے لئے مسلسل پانی پیتے رہنا چاہئے، اس سے ہمارے جسم کا درجہ حرارت 37 ° ڈگری برقرار رہ پائے گا اس بات پر ہمیں توجہ دینا چاہئے.
گرمی سے بچیے
آج پاکستان کے زیادہ تر علاقوں میں درجہ حرارت 44 سے 49 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہا۔
آنے والے کچھ دنوں میں Equinox اكونكس (وہ وقت جب سورج خط استوا کو قطع کرتا ہے اور دن اور رات برابر ہوتے ہیں) کے گہرے اثرات پاکستان کے موسم پر پڑیں گے. کئی علاقے اس کی زد میں ہوں گے.
براہ مہربانی دوپہر 11 سے سہ پہر 4 بجے کے درمیان زیادہ سے زیادہ گھر، کمرے یا آفس کے اندر رہنے کی کوشش کریں.
درجہ حرارت 44 ڈگری کے آس پاس ہوگا.
موسم کی یہ سختی جسم میں پانی کی کمی اور لو لگنے والی صورت حال پیدا کر دے گی.
یہ اثرات خط استوا کے ٹھیک اوپر سورج چمکنے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں.
براہ مہربانی خود کو اور اپنے متعلقین کو پانی کی کمی میں مبتلا ہونے سے بچائیں.
بلا ناغہ کم از کم 3 سے 5 لیٹر پانی ضرور استعمال کریں. گردے کی بیماری والے فی دن کم از کم 6 سے 8 لیٹر پانی پینے کی کوشش کریں..
جہاں تک ممکن ہو بلڈ پریشر پر نظر رکھیں. کسی کو بھی لو لگنا یعنی ہیٹ اسٹروک ہو سکتا ہے۔ٹھنڈے پانی کے ساتھ نہائیں. گوشت کا استعمال بند یا کم از کم کریں. پھل اور سبزیاں کھانے میں زیادہ استعمال کریں. پھل کھانے کے بعد پانی ہرگز نہ پیئں.
گرمی کی لہر کوئی مذاق نہیں ہے. ایک غیر استعمال شدہ موم بتی کو کمرے سے باہر یا کھلے میں رکھیں، اگر موم بتی پگھل جاتی ہے تو یہ سنگین صورت حال ہے.
سونے کے کمرے اور دیگر کمروں میں 2 نصف پانی سے بھرے اوپر سے کھلے ٹب یا برتنوں کو رکھ کر کمرے کی نمی برقرار رکھی جا سکتی ہے.
اپنے ہونٹوں اور آنکھوں کو نم رکھنے کی کوشش کریں. اور مفاد عامہ میں اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں.
اس پیغام کو مفاد عامہ کے لیے فرسٹ ایڈ پروگرام انجمن ہلال احمر پاکستان کی طرف سے جاری کیا گیا.
صحبت کا اثر
ایک جگہ تھوڑا سا پانی گرائیں اس پانی کے ایک طرف ٹشوپیپر کا ایک کونا رکھ دیں، اس کونے کے علاوہ باقی سارا ٹشوپیپر پانی سے باہر ہوگا۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد دیکھیے گا کہ ٹشوپیپر کا ایک بڑا حصہ گیلا ہوچکا ہے، خاموشی کے ساتھ پانی ٹشوپیپر میں سرایت کرتا جائے گا۔۔۔..اور یہ عمل بہت دلچسپ معلوم ہوتا ہے۔۔...!!
سرایت کرنے کا عمل نہایت خاموشی اور سرعت کے ساتھ نظر آئے گا۔...اس عمل کو سائنسی اصطلاح میں Capillary Action کہا جاتا ہے .....یہی حال نیک صحبت یا بری صحبت کا ہے .....!!
آپ تھوڑا وقت گزاریں یا زیادہ وقت، صحبت کے اثرات اسی طرز پر آپ کے قلب پر مرتب ہونگے اور شروع میں آپ کو معلوم بھی نہ ہوپائے گا ۔۔۔۔
جتنی زیادہ صحبت، اُتنے زیادہ اثرات ۔۔۔۔۔!!!!
صحبت کے اثرات ازخود سرایت کرتے جائیں گے اس لیے صحبتِ نیک رکھیے اور بری صحبت سے اعتراض کیجیے تاکہ دنیا اور آخرت میں سرخرو رہیں..
تین بھائی اور مہمان
کسی گاؤں میں تین بھائی رہتے تھے. ان کے گھر پر پھل کا ایک درخت تھا جسکا پھل بیچ کر یہ دو وقت کی روٹی حاصل کرتے تھے. ایک دن کوئی مہمان کا اکرام بھی ہو گیا اور کھانے کی کمی کا پردہ بھی رے گیا آدھی رات کو مہمان اٹھا جب تینوں بھائی سو رہے تھے ایک آری سے وہ درخت کاٹا اور اپنی اگلی منزل کی طرف نکل گیا. صبح اس گھر میں کہرام مچ گیا سارا اہل محلہ اس مہمان کو کوس رہا تھا جس نے اس گھر کی واحد آمدن کو کاٹ کر پھینک دیا تھا.اللہ والا انکا مہمان بنا. اُس دن بڑا بھائی مہمان کے ساتھ کھانے کیلئے بیٹھ گیا اور دونوں چھوٹے بھائی یہ کہہ کر شریک نہ ہوئے کہ ان کو بھوک نہیں.
مہمان کا اکرام بھی ہو گیا اور کھانے کی کمی کا پردہ بھی رے گیا آدھی رات کو مہمان اٹھا جب تینوں بھائی سو رہے تھے ایک آری سے وہ درخت کاٹا اور اپنی اگلی منزل کی طرف نکل گیا. صبح اس گھر میں کہرام مچ گیا سارا اہل محلہ اس مہمان کو کوس رہا تھا جس نے اس گھر کی واحد آمدن کو کاٹ کر پھینک دیا تھا.
ملکہ زبیدہ کا خواب
ﺧﻠﻔﯿﮧ ﮨﺎﺭﻭﻥ ﺍﻟﺮﺷﯿﺪ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺯﺑﯿﺪﮦ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﻮ ﺑﻈﺎﮨﺮ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ‘ ﺟﺒﮑﮧ ﺯﺑﯿﺪﮦ ﺑﮍﯼ ﻋﺎﺑﺪﮦ‘ ﺯﺍﮨﺪﮦ‘ ﻧﯿﮏ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻭﺍﻟﯽ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺗﮭﯽ‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭼﻮﺭﺍﮨﮯ ﭘﺮ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺁﺭﮨﺎ ﮨﮯ‘ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺎ ﺍﺭﺗﮑﺎﺏ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ‘
ﺍﯾﮏ ﻋﺎﺑﺪﮦ ﺯﺍﮨﺪﮦ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﻧﻈﺮ ﺁﻧﺎ ﺑﮍﺍ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﮦ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ‘ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺟﻮﻧﮩﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺳﺨﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﻟﺌﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﺱ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﻨﺴﻮﺏ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﻣﺎﯾﮧ ﻧﺎﺯ ﻣﻌﺒﺮ ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﻦ ﺳﯿﺮﯾﻦؒ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﭘﻮﭼﮭﻮ‘
ﺯﺑﯿﺪﮦ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻣﻨﻊ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻧﺎﻣﻌﻠﻮﻡ ﺍﺱ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﮨﻮ ﺟﻮ ﺭﺳﻮﺍﺋﯽ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﺣﮑﻢ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﻦ ﺳﯿﺮﯾﻦؒ ﮐﮯ ﭘﺎ
ﺱ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻗﺴﻢ ﮐﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ‘ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﮨﮯ؟
ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﻦ ﺳﯿﺮﯾﻦؒ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﻨﺎ ﺗﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﯾﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺧﻮﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ‘ ﺍﯾﺴﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﮨﺮ ﮐﺲ ﻭ ﻧﺎﮐﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﺎ‘ ﯾﮧ ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﺧﻮﺵ ﻧﺼﯿﺐ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﮨﮯ‘ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﭻ ﺳﭻ ﺑﺘﺎ ﮐﮧ ﮐﺲ ﮐﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﮨﮯ‘ ﭘﮭﺮ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﺑﺘﺎؤﮞ ﮔﺎ‘
ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ! ﺟﺲ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺧﻮﺍﺏ ﮨﮯ‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻧﺎﻡ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻣﻨﻊ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ‘ ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﻦ ﺳﯿﺮﯾﻦؒ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻟﻮ ﻭﺭﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ بتاؤﮞ ﮔﺎ۔
ﺧﺎﺩﻣﮧ ﺯﺑﯿﺪﮦ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺭﯼ ﺑﺎﺕ ﻧﻘﻞ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺍﺑﻦ ﺳﯿﺮﯾﻦؒ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﺘﺎو ﭘﮭﺮ ﺗﻌﺒﯿﺮ بتاؤﮞ ﮔﺎ‘
ﺯﺑﯿﺪﮦ ﻧﮯ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﺑﺘﺎ ﺩﻭ ﮐﮧ ﺯﺑﯿﺪﮦ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ‘ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﻦ ﺳﯿﺮﯾﻦؒ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺧﻮﺍﺏ ﺯﺑﯿﺪﮦ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ‘
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﺎﻡ ﺧﻮﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ‘ ﯾﮧ ﮐﺴﯽ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺖ ﮐﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﮨﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻣﻠﮑﮧ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﺻﺪﻗﮧ ﺟﺎﺭﯾﮧ ﻗﺎﺋﻢ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺭﮨﺘﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﺗﮏ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﮔﺎ‘ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯ ﺯﺑﯿﺪﮦ ﮐﻮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺟﺐ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﺗﻮ ﺯﺑﯿﺪﮦ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺑﻈﺎﮨﺮ ﺧﻮﺍﺏ ﺗﻮ ﺑﮍﺍ ﻋﺠﯿﺐ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﯽ ﭘﺎﺋﯽ۔
ﭘﮭﺮ ﭼﻨﺪ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﺎﺭﻭﻥ ﺍﻟﺮﺷﯿﺪ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺣﺞ ﭘﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﻠﮑﮧ ﺯﺑﯿﺪﮦ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﮭﯽ‘ ﺁﺝ ﺳﮯ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺑﺎﺭﮦ ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﺎﺭﻭﻥ ﺭﺷﯿﺪ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﮑﮧ ﻣﮑﺮﻣﮧ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺑﮯ ﺣﺪ ﺗﻨﮕﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﺎﺟﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺩﺳﺘﯿﺎﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﺻﯽ ﻣﺸﻘﺖ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﺐ ﮨﺎﺭﻭﻥ ﺍﻟﺮﺷﯿﺪ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﮑﮧ ﻣﮑﮧ ﻣﮑﺮﻣﮧ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﻠﮑﮧ ﺯﺑﯿﺪﮦ ﮐﮯ ﻧﺮﻡ ﺩﻝ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﺎﺭﻭﻥ ﺭﺷﯿﺪ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﻣﻠﮑﮧ ﺯﺑﯿﺪﮦ ﺳﮯ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ ﻣﮑﮧ ﻣﮑﺮﻣﮧ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮨﮯ‘ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺳﻤﺠﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﮩﺎﮞ ﺑﺎﺁﺳﺎﻧﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ‘
ﻣﻠﮑﮧ ﺯﺑﯿﺪﮦ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﺍﮨﻢ ﺟﮕﮧ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﻠﮑﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮒ ﺁﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ‘ ﺍﻥ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻗﻠﺖ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮨﮯ‘ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﻥ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺩﻭﺭ ﮨﻮﻧﯽ ﭼﺎﮨﺌﮯ۔ ﺯﺑﯿﺪﮦ ﻧﮯ ﮨﺎﺭﻭﻥ ﺍﻟﺮﺷﯿﺪ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﭼﺎﮨﯽ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺟﻠﺪ ﮨﯽ ﻣﻞ ﮔﺌﯽ‘ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﺳﻼﻡ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﺒﺎﺏ ﭘﺮ ﺗﮭﺎ‘ ﮐﺎﻓﺮ ﻃﺎﻗﺘﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺯﯾﺮ ﻧﮕﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ‘ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﻏﺎﻟﺐ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮈﻧﮑﺎ ﺑﺞ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ‘ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮨﺮ ﻓﻦ ﮐﮯ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﻣﺎﮨﺮﯾﻦ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﮯ‘ ﻣﻠﮑﮧ ﺯﺑﯿﺪﮦ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﯾﮧ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮﻭﺍ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺟﮩﺎﮞ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺎﮨﺮ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮ ﮨﯿﮟ‘ ﻭﮦ ﺳﺐ ﻣﮑﮧ ﻣﮑﺮﻣﮧ ﺁﺟﺎﺋﯿﮟ‘ ﺍﻋﻼﻥ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﺷﮩﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻣﺎﮨﺮﯾﻦ ﺟﻤﻊ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﮨﺮﯾﻦ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﻭﮨﺎﮞ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ‘
ﻣﻠﮑﮧ ﺯﺑﯿﺪﮦ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺑﻼ ﮐﺮ ﯾﮧ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﺠﮫ ﻣﮑﮧ ﻣﮑﺮﻣﮧ ﮐﮯ ﮐﻮﻧﮯ ﮐﻮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﻠﯽ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﭼﺎﮨﺌﮯ‘ ﮐﯿﺴﮯ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ؟ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ؟ ﯾﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ۔
ﺳﺎﺭﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮ ﺳﺮ ﺟﻮﮌ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﮯ‘ ﺳﺐ ﻧﮯ ﺑﺎﮨﻢ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﻘﺸﮧ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﮑﮧ ﻣﮑﺮﻣﮧ ﮐﮯ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻃﺮﻑ ﻧﮩﺮ ﺯﺑﯿﺪﮦ ﮐﺎ ﺟﺎﻝ ﺑﭽﮭﺎ ﺩﯾﺎ‘ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﭘﮩﺎﮌﯼ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺸﻤﮧ ﺟﺎﺭﯼ ﺗﮭﺎ‘ ﯾﺎ ﻧﺎﻟﯽ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ‘ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﻮ ﻧﮩﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ‘ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﭼﻮﺩﮦ ﻣﯿﻞ ﻟﻤﺒﯽ ﯾﮧ ﻧﮩﺮ ﺍﺱ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺳﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﺟﮕﮧ ﺟﮕﮧ ﺍﯾﺴﮯ ﭨﯿﻨﮏ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﮔﺌﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮨﻮ ﺗﻮ ﮈﮬﮑﻦ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﻥ ﺫﺧﯿﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ۔ ﺟﺐ ﻧﮩﺮ ﺯﺑﯿﺪﮦ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮ ﺟﻮ ﺍﺱ ﭘﻮﺭﮮ ﻣﻨﺼﻮﺑﮯ ﮐﺎ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﺗﮭﺎ‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﻭ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﻓﺎﺋﻞ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﻐﺪﺍﺩ ﺣﺎﺿﺮﯼ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﮑﮧ ﺯﺑﯿﺪﮦ ﮐﮯ ﻣﺤﻞ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎ‘ ﻣﻠﮑﮧ ﺯﺑﯿﺪﮦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺩﺟﻠﮧ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺗﻔﺮﯾﺢ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻃﻼﻉ ﺩﯼ ﮐﮧ ﻣﮑﮧ ﻣﮑﺮﻣﮧ ﺳﮯ ﻧﮩﺮ ﺯﺑﯿﺪﮦ ﮐﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ‘
ﺯﺑﯿﺪﮦ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮ ﮐﻮ ﻃﻠﺐ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻓﺎﺋﻞ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻣﻠﮑﮧ ﺻﺎﺣﺒﮧ! ﯾﮧ ﻧﮩﺮ ﺯﺑﯿﺪﮦ ﮐﮯ ﻣﻨﺼﻮﺑﮯ ﮐﯽ ﺗﮑﻤﯿﻞ ﮐﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﻭ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﻓﺎﺋﻞ ﮨﮯ‘ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺟﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ‘ ﻭﮦ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ‘ ﻣﮑﮧ ﻣﮑﺮﻣﮧ ﮐﯽ ﮔﻠﯽ ﮔﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﭼﮯ ﮐﻮﭼﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﻭﺍﻓﺮ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ‘ ﺍﺏ ﻣﮑﮧ ﻣﮑﺮﻣﮧ ﮐﮯ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺣﺞ ﻭ ﻋﻤﺮﮦ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻧﺸﺎﺀﺍﻟﻠﮧ ﮐﺴﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﯽ‘ ﯾﮧ ﺣﺴﺎﺏ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﮯ‘ ﺁﭖ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﮯ ﻟﯿﺠﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮫ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﯾﺠﺌﮯ۔ ﺯﺑﯿﺪﮦ ﻧﮯ ﻭﮦ ﻓﺎﺋﻞ ﻟﯽ‘ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺩﺳﺘﺨﻂ ﮐﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮎ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺩﺟﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺟﻤﻠﮧ ﮐﮩﺎ ﺟﻮ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﮨﮯ‘ ﺑﻮﻟﯿﮟ: ”ﮨﻢ ﻧﮯ ﺁﺧﺮﺕ ﮐﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ‘ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻃﺮﻑ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺴﺎﺏ ﻧﮑﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻟﮯ ﻟﻮ‘ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻃﺮﻑ ﮐﭽﮫ ﻧﮑﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﯿﺎ۔“
(ﺍﺻﻼﺣﯽ ﺑﯿﺎﻧﺎﺕ ﺹ 22 ﺗﺎ ‘26 ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻣﻔﺘﯽ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮؤﻑ ﺳﮑﮭﺮﻭﯼ)
کم سن بچوں کو پڑھائی کی طرف کیسے راغب کیا جائے؟
✍ والدین کا مثال بننا
ہمارے ہاں والدین کو معلوم نہیں ہوتا کہ بچوں کو
پڑھائی کی عادت ڈالنے کا درست طریقہ کیا ہے۔؟
بچوں
کا سکول، کتابوں اور سکول کے کام سے متعلق ابتدائی تاثر بہت اہم ہوتا ہے جس کے بعد
فیصلہ ہوتا ہے کہ بچے کی لکھنے پڑھنے سے دوستی ہوگی یا دشمنی، وہ اس سے مسرت پائے
گا یا اسے جبری مشقت سمجھے گا۔
بہرحال بات یہ تھی کہ ایسے ماحول میں بچوں کو
لکھنے پڑھنے پر لگانا والدین کی خصوصی مگر سمجھ دار توجہ مانگتا ہے۔
میں نے جب اپنے پہلے بچے کو سکول داخل کرایا تو گھر میں سختی سے تاکید کی کہ اسے کتابیں کھولنے اور پڑھنے کا کبھی نہ کہا جائے۔ اسے یہ احساس نہ ہو کہ یہ کوئی کام ہے جسے مشقت سمجھ کر کرنا ہوتا ہے، یا کوئی ڈیوٹی ہے جسے انجام دینا اس عمر میں اس پر لاگو کر دیا گیا ہے۔
چنانچہ جس وقت ہم چاہتے کہ
✍
بچہ سکول کا کام کرنے بیٹھے ہم اس اس کی کتابیں خود لے کر بیٹھ جاتے۔ اس کی پنسل
اور کلرز لے کر خود کچھ بنانے اور رنگ بھرنے لگتے۔
🎨
بچہ فورا ہی متوجہ ہو کر چلا آتا۔ ہم سے کتابیں لے کر سبق دہرانے لگتا، قرطاس کار
(ورک شیٹ) نکال کر کام شروع کر دیتا اور ہم فقط رہنمائی کرتے رہتے۔
یہ سلسلہ تقریباً دو سال چلتا رہا یہاں تک کہ اسے پڑھائی کی عادت ہو گئی۔
🏏
بچے کی پسندیدہ سرگرمی کے وقت پڑھائی کی ہدایت کرنا
دوسری
ہدایت میں نے یہ دے رکھی تھی کہ
📺
بچہ جب ٹی وی دیکھ رہا ہوں، اپنا من پسند کوئی کھیل کھیل رہا ہوں یا دوسرے بچوں کے
ساتھ انجوائے کر رہا ہو، اس وقت اسے سکول کا کام کرنے کا ہرگز نہ کہا جائے، ورنہ
اسے یہ تاثر ملے گا کہ سکول کا کام لطف اندوزی کے مقابل کوئی ناگوار کام ہے۔
ہمارے ہاں والدین کا خاص وتیرہ ہے کہ جیسے ہی
بچہ اپنا من پسند کام، مشغلہ کھیل یا کوئی پروگرام دیکھنا شروع کرتا ہے، عین اسی
لمحے والد اور والدہ کو ان کے سکول کا کام یاد آ جاتا ہے۔ لطف کے لمحات زبردستی
چھڑائے جاتے ہیں اور پڑھنے بٹھا دیا جاتا ہے۔
اس
وقت بچے کو کتابیں زہر لگتی ہیں، رقیب محسوس ہوتی ہیں۔ ہم اسے اپنی کامیابی سمجھتے
ہیں کہ بچے کو پڑھنے بٹھا دیا اور بچہ کتاب سے مستقل دشمنی پال لیتا ہے۔
والدین
اگر بچے کی ابتدائی سکول کی عمر میں یہ نا مناسب حرکتیں نہ کریں تو کتاب اور سکول
کے کام سے بچے دوستی ہو سکتی ہے، جو اگلے مراحل میں کہ جب پڑھائی مشکل ہو جاتی ہے
اور تقریباً ہر بچے کی پڑھائی میں دلچسپی میں کمی آنے لگتی ہے تو بھی اس سے وحشت پیدا
نہیں ہوتی۔ کتاب اور کام سے لطف کا پہلا تاثر کبھی ختم نہیں ہوتا اپنا کام کرتا
رہتا ہے۔ 👍
🌺
سہولتوں کی فراہمی
گھر میں اگر کتابیں موجود ہوں، گھر والوں کے زیر
مطالعہ آتی ہوں تو یہی محرک کافی ہوتا ہے بچوں کو پڑھائی پر لگانے کے لیے۔ والد
صاحب اگر کاروبار یا ملازمت کے مسائل کے علاوہ کوئی بات کرنے کے قابل نہ ہوں، اور
والدہ دن بھر کی روٹین کے تذکرے کے علاوہ کوئی علم و عقل کی بات کرنے کے لائق نہ
ہو، تو بچوں کو ہر طرح کی سہولتیں فراہم کرنے سے بھی وہ پڑھائی کی طرف مائل نہیں
ہو جایا کرتے۔
بلکہ
زیادہ
سہولیات بچوں کو پڑھائی سے دور کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ ‼
لیکن
نا سمجھ والدین، اپنی کمی کوتاہیوں کو پیسے کے ذریعے سے سہولیات دے کر پورا کرنے کی
کوشش کرتے ہیں تاکہ بعد میں بچوں کا الزام دے سکیں کہ ہم نے تو کوئی کمی نہ چھوڑی
تھی، ہر خواہش پوری کی لیکن اس نے پڑھنے لکھنے کی ہماری خواہش پوری نہیں کی۔
یاد رکھیے۔۔۔
پڑھائی لکھائی ایسی چیز نہیں جو دوسری کی خواہش
پر کی جا سکے۔ یہ فرد اپنی ہی خواہش سے کر پاتا ہے۔
والدین کی تربیت
حقیقت یہ
ہے کہ *بچوں سے پہلے والدین کی تربیت ضروری ہے۔۔۔
ورنہ
ہمارے نا تربیت یافتہ والدین کی اکثریت کی وجہ سے اسی قسم کے افراد اس سماج میں
سامنے آتے رہیں گے جیسا کہ آج ہمارے درمیان موجود ہیں، جن کا تعلیم سے جبری تعلق
ہے، کتاب سے دوستی نہیں اور یوں سطحی ذہانتیں ہمارے سماج میں پھیلتی چلی جا رہی ہیں۔
انہیں پڑھائی سے زیادہ اچھے گریڈز لینے کی فکر ہے، جنہی ں تعلیم سے شعور نہیں ڈگری
کا حصول مقصود ہے، جو امتحان دیتے ہی کتابیں ردی والے کو دے کر گھر کی صفائی کرتے
ہیں۔
⚖
بچوں کا آپس میں موازنہ ( مقابلہ ) کرنا
اکثریت کے لحاظ سے ہمارا سماج نیم پڑھے لکھوں
کا سماج ہے۔ کئی گھرانوں میں جدید تعلیم کی طرف توجہ موجودہ نسل میں ہوئی ہے۔ ایسے
نیم پڑھے لکھے _والدین کے لیے اپنے بچوں کا ان کے کزنز سے ہر کام ہر چیز میں
موازنہ ایک مستقل مسئلہ ہے۔
ہر
بچے کا اپنا انداز ہوتا ہے، اپنا ہنر ہوتا ہے، اپنا رجحان ہوتا ہے۔
یہاں حالت یہ ہے کہ خاندان میں کوئی ایک شخص تعلیم کے کسی میدان میں
کامیاب ہو جائے تو پورے خاندان کے لیے واحد نمونہ عمل بن جاتا ہے۔ اب سب کے لیے وہی
میدان علم چننا گویا لام قرار دے دی جاتا ہے۔
بچوں
کی صلاحیت اور رجحان جانچنے کا کوئی تصور ہی نہیں پایا جاتا۔
ضروری
نہیں کہ خالہ کا بیٹا اگر ریاضی میں ماہر ہے تو اپنا بیٹا بھی اس میں ماہر ہونا
چائے۔ معلوم کیجیے شاید وہ پولٹری میں مہارت حاصل کرنے کے لیے پیدا ہوا ہو۔
غرض یہ کہ
*بچوں کی ابتدائی عمر میں ان کے رجحانات کو درست
سمت دینا والدین کی ذمہ داری ہے۔
اس
کے لیے بڑی سمجھ داری کی ضرورت ہے۔ جتنا شوق والدین بننے کا ہوتا ہے اس سے زیادہ
بچوں کی درست تربیت کی فکر مندی ہونی چاہیے۔














