پیٹ سے اُدھار
ایک اللہ کا بندہ بازار سے گزر رہا تھا ، قصائی نے آواز دے
کر کہا:
میاں جی گوشت لے جاؤ ۔
کہنے لگے: میرے پاس پیسے نہیں ۔
قصائی بولا: کوئی بات نہیں ، ادھار کرلیں ۔
انھوں نے فرمایا:
” تجھ سے ادھار کرنے سے بہتر ہے ، میں اپنے پیٹ
سے ادھار کرلوں ۔ “
ایک دانا کا قول ہے:
امیر
وہ نہیں ہوتا جس کی آمدن زیادہ ہو ، امیر وہ ہوتا ہے جس کے اخراجات آمدن سے کم ہوں
۔
ہم لوگ نہ پیٹ سے ادھار کرتے ہیں اور نہ اخراجات کم کرنے کی
کوشش کرتے ہیں ، بس غُربت کا رونا روئے جاتے ہیں ۔
1: آمدنی بڑھانے کی کوشش ضرور کریں ، لیکن
اخراجات بھی کم کریں ۔
2: ضرورتیں پوری کرنے پر توجہ دیا کریں ،
خواہشیں پوری کرنے پر نہیں ۔
3: ہروقت کھاتے رہنےاور نِت نئے چَسکے لگانے
سے بندہ صحت مند نہیں ہوتا ۔
وقت پر کھائیں ، سادہ اور مناسب غذا استعمال کریں ۔
4: ملبوسات ( ٹوپی ، عمامہ ، رومال ، کپڑے ،
جوتے وغیرہ ) قیمتی خریدنے کے بجائے ، آرام
دہ اور کم قیمت خریدیں ۔
ہم مسجد سے دور کیوں ہو گئے؟
ہم مسجد سے دور کیوں ہو گئے؟
آصف محمود
کیا کبھی آپ نے غور کیا کہ ہم مسجدوں سے دور کیوں ہوگئے؟
علی کی عمر چارسال ہے۔میرے گھر کا آنگن بہنوں کے ساتھ اس کی شرارتوں سے مہک رہا ہے۔ہمارے گھر کے قریب ہی ایک مسجد ہے۔ جو قاری صاحب گھر پر بچوں کو قرآن پڑھانے تشریف لاتے ہیں وہی اس کے امام ہیں۔ کچھ دنوں سے میں محسوس کر رہا تھا کہ علی مسجد میں دل چسپی لینے لگا ہے۔ہم سامنے سے گزر رہے ہوتے تو وہ رک جاتا اور اس کی متجسس نگاہیں مسجد کا جائزہ لینے کی کوشش کرنے لگتیں۔ ایک دو دن کے بعد اس کا تجسس سوال میں ڈھلنے لگا : مسجد کیا ہوتی ہے؟ یہاں کون رہتا ہے؟ اسے بتایا کہ یہ اللہ کا گھر ہے اور لوگ یہاں نماز پڑھنے آتے ہیں۔
اب اگلا سوال یہ تھا کہ اگر یہ اللہ کا گھر ہے اور لوگ یہاں نماز پڑھنے آتے ہیں تو آپ نماز پڑھنے مسجد کیوں نہیں جاتے؟ اذان کی آواز آتی تو وہ میرے پاس آ کھڑا ہوتا کہ اذان ہو رہی ہے آپ مسجد کیوں نہیں جاتے۔آ پ گھر میں نماز کیوں پڑھتے ہیں ؟ آپ نماز پڑھنے مسجد کیوں نہیں جاتے؟اس تکرار کے ساتھ اس نے سوال اٹھایا کہ مجھے مسجد جانا ہی پڑا۔
چند روز گزرے تو اس نے کہنا شروع کر دیا کہ اب وہ بھی مسجد جائے گا۔میں اسے مطالعاتی دورے پر مسجد لے گیا اور اسے دکھا لایاکہ مسجد ایسی ہوتی ہے۔لیکن اس کا کہنا تھا کہ اسے صرف مسجد نہیں جانا اسے وہاں جا کر دوسرے لوگوں کے ساتھ نماز بھی پڑھنا ہے۔میں نے اس سے وعدہ کر لیا کہ کل شام آپ کو بھی مسجد لے جائوں گا۔
عروہ تو اب سمجھدار ہو چکی ہے لیکن عائشہ جو ابھی کلاس ٹو کی طالبہ ہے اور ہمارے گھر کی تحریک انصاف ہے اس نے تحریک انصاف کے مخصوص اندازمیں فیصلہ سنا دیا کہ صرف علی کیوں جائے گا وہ بھی ساتھ جائے گی۔اس کے پاس ایک دلیل بھی تھی: ’’یا تو مسجد علی کا گھر ہو تو پھر صرف علی جائے۔ جب مسجد اللہ کا گھر ہے تو پھر صرف علی کیوں جائے۔میں بھی جائوں گی۔جب اللہ صرف علی کا نہیں سب کا ہے تو اس کے گھر صرف علی کیوں جائے گاــ‘‘۔
اب اس سوال کا میرے پاس تو کیا میرے پورے معاشرے کے پاس کوئی جواب نہیں تھا کہ اللہ کے گھر کے دروازے لڑکیوں اور عورتوں پر کیوں بند ہیں اور روایات کو مذہب پر فوقیت کس نے دے رکھی ہے؟
\
بے شک عورت کا گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے لیکن رسالت مآب ﷺ کا یہ فرمان ہمیں کیوں بھول گیا کہ اپنی عورتوں کو مسجد میں جانے سے مت روکو۔ خیر عائشہ کو مطمئن کر کے میں علی کو ساتھ لے کر مسجد پہنچا۔ جماعت کھڑی ہونے میں ابھی وقت تھا۔علی بہت خوش تھا۔ مسجد پہنچ کر اس نے کہا کہ مجھے تو نماز پڑھنی ہی نہیں آتی میں کیسے نماز پڑھوں گا۔ پھر خود ہی اس نے حل نکال لیا کہ میں آپ کے ساتھ کھڑا ہو جائوں گا اور جیسے آپ پڑھتے جائیں گے ویسے ہی میں بھی پڑھتا جائوں گا۔
لیجیے صاحب نماز کھڑی ہو گئی۔علی میرے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ابھی پہلی رکعت ہی جاری تھی کہ ایک صاحب تشریف لائے، انہوں نے علی کو پکڑ کر پرے کر دیا اور خود میرے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ اتنے میں ایک اور صاحب آئے ، انہوں نے اسے مزید پرے دھکیل دیا اور اس کی جگہ پر خود کھڑے ہو گئے۔
پہلی ہی رکعت میں ایک اور صاحب تشریف لائے اور انہوں نے علی کو مزید پرے دھکیل کر اس کی جگہ پر قبضہ فرما لیا۔ پھر غالبا ایک اور صاحب آئے اور انہوں نے اسے مزید پرے دھکیل دیا۔نماز ختم ہوئی تو میں نے علی کو اپنے پاس بلایا۔ اس کی آنکھوں میں شوق ، خوشی اور تجسس کی جگہ اب پریشانی اور دکھ تھا۔آنکھوں کی نمی بتا رہی تھی کہ اس تجربے کے بعد آئندہ وہ مسجد کا رخ نہیں کرے گا۔
میرے ساتھ جو صاحب بیٹھے تھے میں نے انہیں غور سے دیکھا ۔یہ ایک نوجوان تھے۔ مجھے ان پر شدید غصہ تھا لیکن آداب مسجد مانع تھے۔ میں نے ان سے عرض کی کہ آپ کس جماعت کے خدائی فوجدار ہیں۔کہیں آپ صالحین میں سے تو نہیں جو ساری دنیا میں اسلامی انقلاب کے لیے کوشاں ہیں۔
نوجوان گڑ بڑا گیا۔وہ جمعیت ہی سے تھا ۔ اس نے شائستگی سے کہا : سر کوئی غلطی ہو گئی ہے؟اس کے لہجے کی شائستگی نے میرا آدھاغصہ ختم کر دیا۔ میں نے اس سے کہا کہ اس بچے کو میں مسجد نہیں لایا تھا۔ یہ بچہ مجھے مسجد لایا تھا۔آپ اس کے ساتھ کھڑے ہو جاتے تب بھی آپ کی نماز ہو جانی تھی ۔لیکن آپ سے آپ کا زعم تقوی نہیں سنبھالا جا رہا تھا آپ نے اس کو پرے دھکیل دیا۔
ساتھ والے صاحب آپ سے بھی زیادہ نیک تھے انہوں نے اسے اور پرے دھکیل دیا ۔ اس کے بعد ایک صاحب تشریف لے آئے ، ان کا خیال تھا وہ آپ دونوں سے زیادہ پارسا ہیں ، انہوں نے اسے اور پرے دھکیل دیا ۔یہ بچہ شوق سے مسجد آیا تھا ، اس نے آئندہ بھی آنا تھا لیکن آج کے واقعے کے بعد یہ مسجد نہیں آئے گا۔ آپ اپنے تقوی کی روشنی میں میری رہنمائی فرما دیجیے کہ اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟
خیریت گزری کہ تینوں حضرات نے اپنی غلطی تسلیم کر لی اور معذرت کر لی ۔لیکن اس دن کے بعد سے آج تک علی نے مسجد کا نام نہیں لیا ۔ اس نے ایک دفعہ نہیں کہا کہ اسے مسجد جانا ہے۔ جو بچہ ابھی انگلی پکڑ کر چلتا ہو اس کو آپ کا زعم تقوی دھکیل کر اس کے باپ سے دور ایک کونے میں کھڑا کر دے تو اس عمر میں اس کے لیے اس سے خوفناک تجربہ کوئی نہیں ہو سکتا۔وہ دوبارہ اس تجربے سے کیوں گزرے؟
یہ قریب قریب ہر مسجد کی کہانی ہے۔ بچوں کے ساتھ نفرت ، حقارت اور رعونت سے برتائو کیا جاتا ہے۔جدید تہذیب کی یلغار نے پہلے ہی لوگوں کو مسجد سے دور کر دیا ہے جو تھوڑے بہت اس سے وابستہ رہ گئے ہیں ان کا بچوں سے سلوک اتنا توہین آمیز ہے کہ اس کے بعد بچوں کے لیے مسجد کا رخ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
آ ج کے یہ بچے کسی پارک ، کسی شاپنگ مال ، سکول جہاں کہیں بھی جاتے ہیں انہیں خوش آمدید کہا جاتا ہے لیکن یہ مسجد چلے جائیں تو ان کی توہین اور تذلیل کی جاتی ہے۔ انہیں یوں بھگایا جاتا ہے جیسے شیطان آ گیا ہو جو اہل تقوی کی عبادات میں خلل ڈال دے گا۔آج مسجد میں بچوں کا وجود آپ کو برداشت نہیں تو آپ کیسے توقع کر سکتے ہیں کل یہ جوان ہو کر مسجد کا رخ کریں گے؟
تاریخ اسلام ہمارے سامنے ہے۔ خود رحمت دو جہاں ﷺ سجدے میں تھے اور نواسہ رسول اوپر بیٹھ گئے تو آپ ﷺ نے سجدہ طویل کر دیا ۔ نہ خفا ہوئے نہ ڈانٹا۔سراپا محبت۔ سراپا شفقت۔ذرا بخاری اور مسلم کو کھول کر پڑھیے تو سہی کہ آقائے دو جہاں ﷺ کی گود میں جب امامہ بنت زینب ؓ آ کر بیٹھ جاتیں تو آپ کی نماز کا عالم کیا ہوتا تھا۔
آپ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ مسجد میں سیدنا حسن ؓ اور سیدنا حسین ؓ تشریف لائے۔ نئے کپڑے پہن رکھے تھے اور پھسل گئے۔ آپ ﷺ نے خطبہ روک دیا ، منبر سے اترے انہیں گود میں لے لیا اور پھر واپس منبر پر تشریف لے گئے۔ ہمیں اپنے بچوں کو مساجد سے مانوس کرنا ہو گا اور اس کے لیے لازم ہے کہ ہم اپنے اپنے زعم تقوی کو گھر چھوڑ کر آیا کریں۔ عاجزی اور محبت سے مسجد کا رخ کیا کریں۔
ہمارے بزرگ خدا جانے ہر وقت جلال میں کیوں ہوتے ہیں۔میں نے مسجد میں بچوں کو ڈانٹ کھاتے ہی دیکھا ہے ۔حالانکہ انہیں پیار سے بھی بہت کچھ سمجھایا جا سکتا ہے۔ بچے تو بچے ہیں ۔ انہیں گنجائش دینا ہو گی۔ہمارے ہاں عالم یہ ہے کہ ریٹائرڈ بزرگان نے محلے کی مساجد میں کرفیو نافذ کر رکھا ہے اور بچوں کا داخلہ ممنوع اور ناپسندیدہ ہے۔
چنانچہ مساجد خالی ہوتی جا رہی ہیں اور ہمارے شکوے بڑھتے جا رہے ہیں کہ نوجوان دین سے دور ہو رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا ہم اپنے رویے بدلنے کو تیار ہیں؟
. (گزشتہ سال اگست میں شائع ہونے والا کالم)
ادب پہلا قرینہ ہے محبّت کے قرینوں میں
وہ
ایک ڈاکٹر ۔
اکثر ایسا ہوتا کہ وہ نسخے پر ڈسپنسر کے لیے لکھتے
کہ اس مریض سے پیسے نہیں لینے۔
اور جب کبھی مریض پوچھتا کہ ڈاکٹر صاحب آپ نے پیسے کیوں نہیں لیے؟
تو وہ کہتے کہ مجھے شرم آتی ہے
کہ جس کا نام صدیق ہو، عمر ہو، عثمان ہو، علی ہو یا خدیجہ، عائشہ اور فاطمہ ہو
تو میں اس سے پیسے لوں۔
ساری عمر انہوں نے خلفائے راشدین، امہات المومنین
اور بنات رسولﷺ کے ہم نام لوگوں سے پیسے نہ لیے۔
یہ ان کی محبت اور ادب کا عجیب انداز تھا۔
کہ اس مریض سے پیسے نہیں لینے۔
اور جب کبھی مریض پوچھتا کہ ڈاکٹر صاحب آپ نے پیسے کیوں نہیں لیے؟
تو وہ کہتے کہ مجھے شرم آتی ہے
کہ جس کا نام صدیق ہو، عمر ہو، عثمان ہو، علی ہو یا خدیجہ، عائشہ اور فاطمہ ہو
تو میں اس سے پیسے لوں۔
ساری عمر انہوں نے خلفائے راشدین، امہات المومنین
اور بنات رسولﷺ کے ہم نام لوگوں سے پیسے نہ لیے۔
یہ ان کی محبت اور ادب کا عجیب انداز تھا۔
امام
احمد بن حنبل نہر پر وضو فرما رہے تھے
کہ ان کا شاگرد بھی وضوکرنے آن پہنچا،
لیکن فوراً ہی اٹھ کھڑا ہوا اور امام صاحب سے آگے جا کر بیٹھ گیا۔
پوچھنے پر کہا
کہ دل میں خیال آیا کہ میری طرف سے پانی بہہ کر آپ کی طرف آ رہا ہے۔
مجھے شرم آئی کہ استاد میرے مستعمل پانی سے وضوکرے۔
کہ ان کا شاگرد بھی وضوکرنے آن پہنچا،
لیکن فوراً ہی اٹھ کھڑا ہوا اور امام صاحب سے آگے جا کر بیٹھ گیا۔
پوچھنے پر کہا
کہ دل میں خیال آیا کہ میری طرف سے پانی بہہ کر آپ کی طرف آ رہا ہے۔
مجھے شرم آئی کہ استاد میرے مستعمل پانی سے وضوکرے۔
اپنے
سگے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہﷺ نے پوچھا
کہ آپ بڑے ہیں یا میں؟
(عمر پوچھنا مقصود تھا)
کہا یا رسول اللہﷺ بڑے تو آپ ہی ہیں البتہ عمر میری زیادہ ہے۔
کہ آپ بڑے ہیں یا میں؟
(عمر پوچھنا مقصود تھا)
کہا یا رسول اللہﷺ بڑے تو آپ ہی ہیں البتہ عمر میری زیادہ ہے۔
مجدد
الف ثانی ؒ رات کو سوتے ہوئے یہ احتیاط بھی کرتے
کہ پاؤں استاد کے گھر کی طرف نہ ہوں
اور بیت الخلا جاتے ہوئے یہ احتیاط کرتے
کہ جس قلم سے لکھ رہا ہوں اس کی کوئی سیاہی ہاتھ پر لگی نہ رہ جائے۔
کہ پاؤں استاد کے گھر کی طرف نہ ہوں
اور بیت الخلا جاتے ہوئے یہ احتیاط کرتے
کہ جس قلم سے لکھ رہا ہوں اس کی کوئی سیاہی ہاتھ پر لگی نہ رہ جائے۔
ادب
کا یہ انداز اسلامی تہذیب کا طرہ امتیاز رہا ہے
اور یہ کوئی برصغیر کے ساتھ ہی خاص نہ تھا
بلکہ جہاں جہاں بھی اسلام گیا اس کی تعلیمات کے زیر اثر ایسی ہی تہذیب پیدا ہوئی
جس میں بڑوں کے ادب کو خاص اہمیت حاصل تھی
کیوں کہ رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد سب کو یاد تھا
کہ جو بڑوں کا ادب نہیں کرتا اور چھوٹوں سے پیار نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں۔
اور یہ کوئی برصغیر کے ساتھ ہی خاص نہ تھا
بلکہ جہاں جہاں بھی اسلام گیا اس کی تعلیمات کے زیر اثر ایسی ہی تہذیب پیدا ہوئی
جس میں بڑوں کے ادب کو خاص اہمیت حاصل تھی
کیوں کہ رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد سب کو یاد تھا
کہ جو بڑوں کا ادب نہیں کرتا اور چھوٹوں سے پیار نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں۔
ابھی
زیادہ زمانہ نہیں گزرا
کہ لوگ ماں باپ کے برابر بیٹھنا،
ان کے آگے چلنا اور ان سے اونچا بولنا برا سمجھتے تھے
اور اُن کے حکم پر عمل کرنا اپنے لیے فخر جانتے تھے۔
اس کے صدقے اللہ انہیں نوازتا بھی تھا۔
اسلامی معاشروں میں یہ بات مشہور تھی
کہ جو یہ چاہتا ہے کہ اللہ اس کے رزق میں اضافہ کرے
وہ والدین کے ادب کا حق ادا کرے
اور جو یہ چاہتا ہے کہ اللہ اس کے علم میں اضافہ کرے وہ استاد کا ادب کرے۔
کہ لوگ ماں باپ کے برابر بیٹھنا،
ان کے آگے چلنا اور ان سے اونچا بولنا برا سمجھتے تھے
اور اُن کے حکم پر عمل کرنا اپنے لیے فخر جانتے تھے۔
اس کے صدقے اللہ انہیں نوازتا بھی تھا۔
اسلامی معاشروں میں یہ بات مشہور تھی
کہ جو یہ چاہتا ہے کہ اللہ اس کے رزق میں اضافہ کرے
وہ والدین کے ادب کا حق ادا کرے
اور جو یہ چاہتا ہے کہ اللہ اس کے علم میں اضافہ کرے وہ استاد کا ادب کرے۔
ایک
دوست کہتے ہیں کہ
میں نے بڑی مشقت سے پیسہ اکٹھا کر کے پلاٹ لیا تو والد صاحب نے کہا
کہ بیٹا تمہارا فلاں بھائی کمزور ہے
یہ پلاٹ اگر تم اسے دے دو تو میں تمہیں دعائیں دوں گا۔
حالاں کہ وہ بھائی والدین کا نافرمان تھا۔
اس (دوست) کا کہنا ہے کہ
عقل نے تو بڑا سمجھایا کہ یہ کام کرنا حماقت ہے
مگر میں نے عقل سے کہا کہ اقبال نے کہا ہے،
اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے،
چناں چہ عقل کو تنہا چھوڑا اور وہ پلاٹ بھائی کو دے دیا۔
کہتے ہیں کہ والد صاحب بہت خوش ہوئے
اور انہی کی دعا کا صدقہ ہے کہ آج میرے کئی مکانات اور پلازے ہیں
جب کہ بھائی کا بس اسی پلاٹ پر ایک مکان ہے۔
میں نے بڑی مشقت سے پیسہ اکٹھا کر کے پلاٹ لیا تو والد صاحب نے کہا
کہ بیٹا تمہارا فلاں بھائی کمزور ہے
یہ پلاٹ اگر تم اسے دے دو تو میں تمہیں دعائیں دوں گا۔
حالاں کہ وہ بھائی والدین کا نافرمان تھا۔
اس (دوست) کا کہنا ہے کہ
عقل نے تو بڑا سمجھایا کہ یہ کام کرنا حماقت ہے
مگر میں نے عقل سے کہا کہ اقبال نے کہا ہے،
اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے،
چناں چہ عقل کو تنہا چھوڑا اور وہ پلاٹ بھائی کو دے دیا۔
کہتے ہیں کہ والد صاحب بہت خوش ہوئے
اور انہی کی دعا کا صدقہ ہے کہ آج میرے کئی مکانات اور پلازے ہیں
جب کہ بھائی کا بس اسی پلاٹ پر ایک مکان ہے۔
والدین
کی طرح
استاد کا ادب بھی اسلامی معاشروں کی ایک امتیازی خصوصیت تھی
اور اس کا تسلسل بھی صحابہ کے زمانے سے چلا آر ہا تھا۔
استاد کا ادب بھی اسلامی معاشروں کی ایک امتیازی خصوصیت تھی
اور اس کا تسلسل بھی صحابہ کے زمانے سے چلا آر ہا تھا۔
حضور
ﷺ کے چچا کے بیٹے ابن عباس
کسی صحابی سے کوئی حدیث حاصل کر نے جاتے تو جا کر اس کے دروازے پر بیٹھ رہتے۔
اس کا دروازہ کھٹکھٹانا بھی ادب کے خلاف سمجھتے
اور جب وہ صحابی خود ہی کسی کام سے باہر نکلتے
تو ان سے حدیث پوچھتے
اور اس دوران سخت گرمی میں پسینہ بہتا رہتا، لو چلتی رہتی
اور یہ برداشت کرتے رہتے۔
وہ صحابی شرمندہ ہوتے اور کہتے
کہ آپ تو رسول اللہ کے چچا کے بیٹے ہیں آپ نے مجھے بلا لیا ہوتا
تو یہ کہتے کہ میں شاگرد بن کے آیا ہوں، آپ کا یہ حق تھا کہ میں آپ کا ادب کروں
اور اپنے کا م کے لیے آپ کو تنگ نہ کروں۔
کسی صحابی سے کوئی حدیث حاصل کر نے جاتے تو جا کر اس کے دروازے پر بیٹھ رہتے۔
اس کا دروازہ کھٹکھٹانا بھی ادب کے خلاف سمجھتے
اور جب وہ صحابی خود ہی کسی کام سے باہر نکلتے
تو ان سے حدیث پوچھتے
اور اس دوران سخت گرمی میں پسینہ بہتا رہتا، لو چلتی رہتی
اور یہ برداشت کرتے رہتے۔
وہ صحابی شرمندہ ہوتے اور کہتے
کہ آپ تو رسول اللہ کے چچا کے بیٹے ہیں آپ نے مجھے بلا لیا ہوتا
تو یہ کہتے کہ میں شاگرد بن کے آیا ہوں، آپ کا یہ حق تھا کہ میں آپ کا ادب کروں
اور اپنے کا م کے لیے آپ کو تنگ نہ کروں۔
کتنی
ہی مدت ہمارے نظام تعلیم میں یہ رواج رہا
(بلکہ اسلامی مدارس میں آج بھی ہے)
کہ ہر مضمون کے استاد کا ایک کمرہ ہوتا، وہ وہیں بیٹھتا اور شاگرد خود چل کر وہاں پڑھنے آتے
جب کہ اب شاگر د کلاسوں میں بیٹھے رہتے ہیں
اور استاد سارا دن چل چل کر ان کے پاس جاتا ہے۔
(بلکہ اسلامی مدارس میں آج بھی ہے)
کہ ہر مضمون کے استاد کا ایک کمرہ ہوتا، وہ وہیں بیٹھتا اور شاگرد خود چل کر وہاں پڑھنے آتے
جب کہ اب شاگر د کلاسوں میں بیٹھے رہتے ہیں
اور استاد سارا دن چل چل کر ان کے پاس جاتا ہے۔
مسلمان
تہذیبوں میں یہ معاملہ صرف والدین اور استاد تک ہی محدود نہ تھا
بلکہ باقی رشتوں کے معاملے میں بھی ایسی ہی احتیاط کی جاتی تھی۔
وہاں چھوٹا، چھوٹا تھا اور بڑا، بڑا۔
چھوٹا عمر بڑھنے کے ساتھ بڑا نہیں بن جاتا تھا بلکہ چھوٹا ہی رہتا تھا۔
بلکہ باقی رشتوں کے معاملے میں بھی ایسی ہی احتیاط کی جاتی تھی۔
وہاں چھوٹا، چھوٹا تھا اور بڑا، بڑا۔
چھوٹا عمر بڑھنے کے ساتھ بڑا نہیں بن جاتا تھا بلکہ چھوٹا ہی رہتا تھا۔
ابن
عمر جار ہے تھے کہ ایک بدو کو دیکھا۔
سواری سے اترے، بڑے ادب سے پیش آئے اور اس کو بہت سا ہدیہ دیا۔
کسی نے کہا کہ
یہ بدو ہے تھوڑے پہ بھی راضی ہو جاتا آپ نے اسے اتنا عطا کر دیا۔
فرمایا کہ یہ میرے والد صاحب کے پاس آیا کرتا تھا
تو مجھے شرم آئی کہ میں اس کا احترام نہ کروں۔
سواری سے اترے، بڑے ادب سے پیش آئے اور اس کو بہت سا ہدیہ دیا۔
کسی نے کہا کہ
یہ بدو ہے تھوڑے پہ بھی راضی ہو جاتا آپ نے اسے اتنا عطا کر دیا۔
فرمایا کہ یہ میرے والد صاحب کے پاس آیا کرتا تھا
تو مجھے شرم آئی کہ میں اس کا احترام نہ کروں۔
اسلامی
تہذیب کمزور ہوئی تو
بہت سی باتوں کی طرح حفظ مراتب کی یہ قدر بھی اپنی اہمیت کھو بیٹھی۔
اب برابر ی کا ڈھنڈو را پیٹا گیا اور بچے ماں باپ کے برابر کھڑے ہوگئے
اور شاگرد استاد کے برابر۔
جس سے وہ سار ی خرابیاں در آئیں جو مغربی تہذیب میں موجود ہیں۔
بہت سی باتوں کی طرح حفظ مراتب کی یہ قدر بھی اپنی اہمیت کھو بیٹھی۔
اب برابر ی کا ڈھنڈو را پیٹا گیا اور بچے ماں باپ کے برابر کھڑے ہوگئے
اور شاگرد استاد کے برابر۔
جس سے وہ سار ی خرابیاں در آئیں جو مغربی تہذیب میں موجود ہیں۔
اسلام
اس مساوات کا ہر گز قائل نہیں کہ جس میں گھوڑا اور گدھا برابر ہو جائیں
اور ابوبکر اور ابو جہل برابر۔
اور ابوبکر اور ابو جہل برابر۔
اسلام
کا یہ کہنا ہے کہ لاکھ زمانہ بدلے مگر
ابوبکر، ابو بکر رہے گا اور
ابو جہل، ابوجہل ۔
گھوڑا، گھوڑا رہے گا اور
گدھا، گدھا۔
اسی طرح استاد، استاد رہے گا اور شاگرد، شاگرد۔
والد، والد رہے گا اور بیٹا، بیٹا۔
سب کا اپنا اپنا مقام اور اپنی اپنی جگہ ہے
اُن کو اُن کے مقام پر رکھنا
اور اس کے لحاظ سے ادب و احترا م دینا ہی تہذیب کا حسن ہے۔
ابوبکر، ابو بکر رہے گا اور
ابو جہل، ابوجہل ۔
گھوڑا، گھوڑا رہے گا اور
گدھا، گدھا۔
اسی طرح استاد، استاد رہے گا اور شاگرد، شاگرد۔
والد، والد رہے گا اور بیٹا، بیٹا۔
سب کا اپنا اپنا مقام اور اپنی اپنی جگہ ہے
اُن کو اُن کے مقام پر رکھنا
اور اس کے لحاظ سے ادب و احترا م دینا ہی تہذیب کا حسن ہے۔
مغربی
تہذیب کا مسلمان معاشروں پہ سب سے بڑا وار (شاید) اسی راستے سے ہوا ہے
جب کہ مسلمان عریانی اور فحاشی کو سمجھ رہے ہیں۔
عریانی اور فحاشی کا برا ہونا سب کو سمجھ میں آتا ہے
اس لیے اس کے خلاف عمل کرنا آسان ہے
جب کہ حفظِ مراتب اور محبت کے آداب کی اہمیت کا سمجھ آنا مشکل ہے
اس لیے یہ قدر تیزی سے رُو بہ زوال ہے
جب کہ مسلمان عریانی اور فحاشی کو سمجھ رہے ہیں۔
عریانی اور فحاشی کا برا ہونا سب کو سمجھ میں آتا ہے
اس لیے اس کے خلاف عمل کرنا آسان ہے
جب کہ حفظِ مراتب اور محبت کے آداب کی اہمیت کا سمجھ آنا مشکل ہے
اس لیے یہ قدر تیزی سے رُو بہ زوال ہے
مسلمانوں کو اب مساجد میں کچھ تبدیلی کرنے ہی پڑے گی
مسلمانوں
کو اب مساجد میں کچھ تبدیلی کرنے ہی پڑے گی
مساجد کو صرف نماز پڑھنے کی
جگہ ہی نہ بنائیں بلکہ اسلامی کمیونٹی سنٹر کی طرز پر
* وہاں غريبوں کے کھانے کا انتظام ہو۔
* ڈپریشن میں الجھے لوگوں کی کائونسلنگ ہو۔
* ان کے خاندانی جھگڑوں کو سلجھانے کا انتظام ہو۔
* مدد مانگنے والوں کی مناسب تحقیق کے بعداجتماعی و انفرادی طور پر مدد کی جا سکے۔
* اپنے گھروں کے فالتو سامان کو نادار افراد کیلئے عطیہ کرنے کی غرض سے مساجد کا ایک حصہ مخصوص ہو۔
* آپس میں رشتے ناطے کرنے کیلئے ضروری واقفیت کا موقع ملے۔
* نکاح کا بندوبست سادگی کیساتھ مساجد میں کیےجانے کو ترجیع دی جائے۔
* قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کیلئے اجتماعی کوششوں کا آغاز مساجد سے ہو۔ کیونکہ صدقات و خیرات کرنے میں ہم مسلمانوں کا کوئی ثانی نہیں۔
* بڑی جامعہ مساجدسے ملحق مدارس میں دینی تعلیم کیساتھ دنیاوی تعلیم کا بھی اہتمام ہو۔
* ہماری مساجد میں ایک شاندار لائبریری ہو، جہاں پر مکمل اسلامی و عصری کتابیں مطالعہ کے لئے دستیاب ہوں۔
* وہاں غريبوں کے کھانے کا انتظام ہو۔
* ڈپریشن میں الجھے لوگوں کی کائونسلنگ ہو۔
* ان کے خاندانی جھگڑوں کو سلجھانے کا انتظام ہو۔
* مدد مانگنے والوں کی مناسب تحقیق کے بعداجتماعی و انفرادی طور پر مدد کی جا سکے۔
* اپنے گھروں کے فالتو سامان کو نادار افراد کیلئے عطیہ کرنے کی غرض سے مساجد کا ایک حصہ مخصوص ہو۔
* آپس میں رشتے ناطے کرنے کیلئے ضروری واقفیت کا موقع ملے۔
* نکاح کا بندوبست سادگی کیساتھ مساجد میں کیےجانے کو ترجیع دی جائے۔
* قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کیلئے اجتماعی کوششوں کا آغاز مساجد سے ہو۔ کیونکہ صدقات و خیرات کرنے میں ہم مسلمانوں کا کوئی ثانی نہیں۔
* بڑی جامعہ مساجدسے ملحق مدارس میں دینی تعلیم کیساتھ دنیاوی تعلیم کا بھی اہتمام ہو۔
* ہماری مساجد میں ایک شاندار لائبریری ہو، جہاں پر مکمل اسلامی و عصری کتابیں مطالعہ کے لئے دستیاب ہوں۔
بہت
ہو چکا مساجد کے در و دیوارکے رنگ و روغن پر، بیت الخلاء کے سنگ مرمرپر، قمقموں
فانوس و جھومر پر، ائیرکنڈیشن اور کولروں پراور نفیس قالینوں پر خرچ . . .
مناسب حد تک وہ بھی کرتے رہیں مگراب وقت آگیا ہے کہ ترجیحات بدل کر کچھ ضروری جگہوں پربھی اپنا مال خرچ کیا کریں۔
مگر کیسے۔۔۔؟
قوم میں صلاحیت مند افراد کی کمی نہیں ہے ان پڑھ یا کم پڑھے لکھے سمجھدار لوگوں کو اس کارخیر کیلئے استعمال کریں۔
اپنے ٹرسٹوں کے شاندار اسپتال اور اسکول و کالج کھولے جائیں جہاں بلا تفریق مذہب و ملت ہر کسی کو انتہائی رعایتی قیمت میں بہترین علاج اور اعلی تعلیم کے حصول کا موقع ملے۔ خدارا اپنے اندر سر سید احمد اور سر گنگا رام جیسے لوگ پیدا کریں۔
مناسب حد تک وہ بھی کرتے رہیں مگراب وقت آگیا ہے کہ ترجیحات بدل کر کچھ ضروری جگہوں پربھی اپنا مال خرچ کیا کریں۔
مگر کیسے۔۔۔؟
قوم میں صلاحیت مند افراد کی کمی نہیں ہے ان پڑھ یا کم پڑھے لکھے سمجھدار لوگوں کو اس کارخیر کیلئے استعمال کریں۔
اپنے ٹرسٹوں کے شاندار اسپتال اور اسکول و کالج کھولے جائیں جہاں بلا تفریق مذہب و ملت ہر کسی کو انتہائی رعایتی قیمت میں بہترین علاج اور اعلی تعلیم کے حصول کا موقع ملے۔ خدارا اپنے اندر سر سید احمد اور سر گنگا رام جیسے لوگ پیدا کریں۔
ان
میں سے کوئی بھی تجویز نئی نہیں ہے تمام کاموں کی نظیر 1400 سال پہلے دور نبوی
صلعم کے مدینہ میں ہوتے تھے
جیسے ہی ہم نے ان شاندار روایات کو چھوڑا ہم بربادی کی طرف بڑھتے چلے گئے ... اور چلے ہی جا رہے ہیں۔
جیسے ہی ہم نے ان شاندار روایات کو چھوڑا ہم بربادی کی طرف بڑھتے چلے گئے ... اور چلے ہی جا رہے ہیں۔
خدارا
اب رک جائیں، سوچیں اور اپنی ترجیحات بدل لیں۔۔۔!
اس
پبلک ویلفیئر میسج کو ضرور شیئر کریں۔ جزاک اللہ

























