حسب ونسب یا کسب

 دو لفظ آپ نے بھی بہت دفعہ سنے ہیں اور میں نے بھی وہ ہیں حسب و نسب یا کسب۔

میں نےآج تک نوکری کے لئے جتنی بھی درخواستیں دیکھی ہیں اس میں کسی جگہ کے اوپر بھی نسب کے متعلق نہیں پوچھا گیا یعنی آپ کی قوم کیا ہے، قبیلہ کو نسا ہے ۔زیادہ سے زیادہ نام اور ولدیت پوچھی جاتی ہے ۔یورپ اور امریکہ میں تو ولدیت بھی نہیں پوچھتے ۔ یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ آپ کون ہیں، کس علاقے سے ہیں، آپ کا رنگ کالا ہے، پیلا ہے، آپ کاقدکیا ہے ،شکل کیا ہے، آپ کےوالد صاحب کیا کرتے ہیں، دادا کیاکرتے ہیں، پدرم سلطان،پدرم بادشاہ بھی کوئی کسی نے نہیں پوچھا، کیوں نہیں پوچھا؟کبھی آپ نے غور کیا کہ گاؤں میں تو ان چیزوں کے بے حد اہمیت ہے ۔ ہمارا تعلق ہے اتنے بڑے خاندان سے ،ملک ہیں ،چوہدری ہیں, امیر ہیں,خواجہ ہیں۔
لیکن کام کرنے وقت، ملازمت کی درخواست دیتے وقت ہمیں تو یہ کوئی پوچھتا نہیں ہے ان چیزوں کی تو اہمیت ہی نہیں ہے۔ اہمیت کیسے ہو سکتی ہے؟
میرے پیارےدوستوں خواتین وحضرات آپ نے کیا کبھی آپ نے کسی ڈاکٹر سے دوائی لینے سے پہلے اسکا نسب پوچھا ہے، کبھی نہیں پوچھا، آرکیٹیکٹ رکھتے ہوئے آپ نے اس کانسب پوچھا ہے ،کبھی نہیں پوچھا، کسی دکان پر جائیں اور اچھی دکان پر جائیں تو آپ پوچھتے ہیں کہ نہیں یہ فلاں کی دکان ہو گی تو سودا لوں گا، یہ کبھی نہیں پوچھا۔ یہ نسب کی جو بات تھی وہ تو چودہ سو سال پہلے کہہ دی گئی تھی۔ ہمارے قرآن میں بار بار اس کا ذکر آیا کہ اللہ کے نزدیک جو ہے وہ تو تقویٰ ہے۔تقویٰ مجموعہ ہے آپ کی دیانت کا،آپ کی شرافت کا ،ربِ کائنات سےڈرنے کا،نبی پاکﷺ کی باتوں پر عمل کرنے کا، اللہ کے کنبے کاخیال کرنے کا ۔انہی چیزوں کا نام تو تقوی ہے کہ آپ اللہ سے کتناڈرتے ہیں۔ وہاں بھی بےشمار لوگ موجود تھے جس کے نسب بڑے عالی ، لیکن جس نے کعبے کی چھت پرکھڑے ہو کر آذان دی تھی تو نسب کے لحاظ سےتو بہت دور کی بات تھی، وہ تو ان کے قبیلے کا بھی نہیں تھا۔، اس کے سامنے تو سردارانِ قریش بیٹھےتھے۔
اور ابھی یہ حال ہی کے اندر امریکہ کا ایک صدر دودفعہ صدارت کر کے گیا ہے، کیا تھا اس کا نسب آپ اسے بلیک مین کہہ سکتے ہیں اوروہ ایک افریقی آدمی تھا اس کا والدافریقہ سے تعلق رکھتا تھا۔ ابھی جس کو صدر ٹرمپ کے ساتھ نائب صدر رکھا گیاہے وہ ایک خاتون ہے جس کے والدین کا تعلق ساؤتھ انڈیا اور افریقہ سے ہے۔ وہاں اب انہوں نے اس کا نسب نہیں دیکھا اور انہوں نے یہ نہیں دیکھا یہ کون ہے کس قبیلے سے ہے۔ انہوں نے یہ دیکھا اگر یہ قابل ہے اور ہمارے ملک کی اچھی خدمت کر سکتی ہے تو اس کا کسب دیکھاہے نسب نہیں ۔
ہمارے ہاں اس مقام تک پہنچنے کافی وقت لگے گا کہ ہم لوگوں کے کسب پہ بات کریں نہ کہ نسب پہ۔ ہاں ہم نےاتنا تو کرنا شروع کر دیا ہے کہ پرائیویٹ نوکریوں کے اندر ہم صرف کسب دیکھتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سرکاری معاملات کےاندر خاص طور پر ہم اپنے سیاسی قائدین کے انتخاب کے وقت لازماًاور لازماًکسب کی بجائے نسب پر بات کرتے ہیں، ان کے حسب پہ بات کرتے ہیں ان کے قبیلے پہ بات کرتے ہیں۔کیا یہ ضروری ہے؟
ایک دفعہ میرا ایک دوست تھا اُردن سےاس کا تعلق تھا میرے ساتھ ٹیکسٹائل کالج میں پڑھتا تھا ۔ اس وقت شاہ حسین ان کا صدرتھا اور ملک کا بادشاہ تھا اور اس کے بعد اس کا بیٹا بن گیا تو میں نے اس سےاس بات پر بحث کی میں نے کہا یار آپ کے وہاں یہ بادشاہت ابھی تک ہے تو بادشاہ کے بعد بادشاہ کا بیٹا ہی ملک کا بادشاہ بن سکتا ہے، تو اس نے کہا کیوں کہ وہ بہت لائق فائق ہے اور یہ ہے،وہ ہے اور فلاں ہے۔میں نے کہا وہ لائق فائق نہیں اس کی ایک ہی قابلیت تھی کہ اس کاوالد بادشاہ تھا۔ اب بھی جہاں بھی بادشاہت ہے وہی پر سارا کچھ یہی اسی طرح ہے۔
اس لیے میرے دوستوں اور بھائیوں جب بھی ہم سلیکشن کرتے ہیں تو کسب کی بنیادپر کرتے ہیں۔ اس کو کیا کام آتاہے اس کی صلاحیت کیا ہے ،نسب کی بنیاد پر نہیں کرتے، اس لیے آپ کانسب کوئی آپ سے چھین نہیں سکتا۔ آپ جس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں وہ خاندان تعارف کے لیے ہیں۔ قرآن کریم ہمیں یہ فرماتا ہے،وہ صرف آپ کا تعارف ہے نہ کہ آپ کی کسی قابلیت کی نشانی ۔ آپ کی یہ قابلیت نہیں ہے کہ آپ فلاں قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں نسب کی کسی بھی طریقے سے نفی نہیں کر رہا۔ قبیلے اپنےمخصوص خصائص کی بنیاد پر پہنچانے جاتے ہیں ۔ لیکن اچھے برےہونے کا تصور قبیلے سے نہیں جوڑا جا سکتا۔
پنجابی اچھا بھی ہو سکتا ہے، برا بھی ہو سکتا ہے،لیکن اس کی کچھ عادات ہیں۔ اورکے پی کے کا آدمی ،سندھ کا آدمی, انگریز,بلوچ, کوئی بھی ہو ، وہ مخصوص عادات کا مالک تو ہو سکتا ہے۔ ان کی شکل و صورت میں فرق ہو سکتا ہے لیکن کسب کا تعلق نسب سے نہیں ہے۔
آئیں کوشش کریں کہ اپنےکسب کو بڑھائیں، اپنے کام کوبڑھائیں، ہم کتنے مفید ہیں اتنی ہی ہماری قدرہے۔
بڑا سادہ سافارمولا ہے، بیس لائن ہے جو میں نے سیکھی ہے جو سمجھی ہے وہ یہ ہے کہ آپکی قدر اتنی ہے جتنا آپ لوگوں کے لیےمفید ہو سکتے ہیں۔اس کو پلے باندھ لیں، انشااللہ اللہ کے فضل سے آپ کامیاب ہوں گے۔۔۔ روزِ آخرت بھی کسب ہی کی بات ہو گی۔ نسب پر فیصلے نہیں ہوں گیں۔ نسب کا فیصلہ تو اس نے کیا تھا۔ اس پر میرا اور آپ کا تو اختیا ر ہیں تھا۔ جس کا ہمیں اختیار نہیں تھا، اس بارے میں ہم جواد دہ نہیں ہو سکتے۔ جس جواب کسب کا دینا ہے تو کسب پر ہی توجہ دینی چاہیے۔
کسی وکیل کو ہم دس ہزار بھی دینے کو تیارنہیں ہوتے۔ کبھی وکیل کی تو تھوڑی فیس بھی بھاری لگتی ہے۔ لیکن کسی وکیل کو ہم لاکھوں بھی دے دیتے ہیں۔ کئی ڈاکٹر ایسے ہیں جن کو ہم دس ،دس ہزار فیس بھی اور مہینوں انتظار بھی کرتے ہیں ۔دنیا میں قدر کا پیمانہ ایک ہی ہے، جو میرے پاس ہے جو آپ کے پاس ہے کہ یہ شخص میرے لیے کتنامفید ہے۔ جتنا وہ میرے لیے مفید ہو گا اتنی ہی میری نظر میں اسکی قدر ہو گی۔ اگر آپ چاہتے کہ دنیا آپ کی قدر کریں تو یہ سوچیں کہ آپ کتنے مفید ہیں۔
آخر میں ایک مثال دے کر اپنی بات کو مزید واضح کروں گا، کسی زمانے میں شارٹ ہینڈلکھنے والے بہت لوگ ہوتے تھے۔ ان کی بڑی قدر ہوتی تھی۔ دفتر میں سب سے قریب مالک کے ،چیئرمین کے ،ایم ڈی کے وہی ہوتے تھے۔ ہر وقت ان کے دفتر میں بیٹھے رہتے شارٹ ہینڈ کرتے تھے۔ پھر وہ ٹائپ کرتےتھے ،خط لےجاتے تھے اور دفتر کے سب لوگ ان سے جلتے تھے۔آج ان کی قدر نہیں ہے اس لیے کہ شارٹ ہینڈ کا دور گزر گیا۔ اب آپ موبائل پکڑے ٹک ٹک کر بولیں وہ لکھتاجائے گا۔اب کمپیوٹر آگیا ہے تو کوئی ضرورت نہیں ہے، اُس وقت جس کی ضرورت تھی آج اس کی ضرورت نہیں ہے۔
آئیں ایساکسب کمائیں جو آج کے لوگوں کی ضرورت پوری کرتا ہو اور جتنی ہم ان کی ضرورت پوری کریں گے اتناہی آپ کی قدر اور منزلت میں اضافہ ہوگا۔
ہمارے اس پیغام کو آگے پہنچا کر ایک عظیم مقصد کے حصول میں اپنا فرض ادا کریں ۔۔۔جو ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔۔۔
ڈاکٹر مشتاق مانگٹ

ادھورے کام اور نفسیاتی دباؤ۔۔چھٹکارا ممکن ہے۔۔مگر کیسے؟

بہت سارے میرے دوست اور آپ کے بھی جاننے والے ہوں گے جنہوں نے کام کی ایک لمبی لسٹ تیار کر رکھی ہوتی ہے اور جب بھی آپ ان سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں یار میں نے یہ بھی کام کرنا ہے ، میں نے وہ بھی کام کرنا ہے۔ اس ساری چیزوں کے اوپر نفسیات کے اندر ایک تھیوری بھی ہے اس کو Unfinished Agenda کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

مجھے اس کے موجد کا نام یاد نہیں لیکن یہ تھیوری میں نے Therapy Works میں کورس کرتے ہوئے پڑھی تھی ۔ میں نے اس کا نام ادھورے کام رکھ لیا ہے۔
میں خود آپ کو اپنے تجربے کی بنیاد پر بات کر سکتا ہوں،کہ اگر آپ نے صبح سوچا کہ میں نے ایک شخص کو کا ل کرنی ہےاور سارا دن آپ نے کال نہیں کی۔تو رزلٹ یہ ہوگا کہ وہ کام آپ کے دماغ کے کچھ حصہ کے اوپر بیٹھ جائے گا۔ پھر آپ نے دوسرا کام کیا،ایمرجنسی آگئی تو آپ نے تیسرا کام شروع کر دیا،لیکن جو پہلا کام تھا وہ ابھی ختم نہیں ہوا،پھر تیسرا آگیا،حتیٰ کہ وہ سارے کام آپ کے دماغ کہ اندر اکھٹے ہو جائیں گے۔
اس تھیوری کےمطابق آپ کے ہاتھ میں گیند ہوتے ہیں، وہ نیچے سے اوپر آتے ہے،جب تک وہ نیچے لیٹ نہ جائیں اس وقت تک وہ واپس آتے رہتےہیں۔ ہوتا کیا ہے؟ آپ کوئی کام کرتے ہیں اور آپ نے سوچا کہ میں نے یہ ایک خط لکھناہے،اتنی دیر میں آپ کو ایک ایمرجنسی کال آتی ہے اور ایمرجنسی میں چلے جاتے ہیں۔یعنی ہوا کیا ہے آپ کے ہاتھ میں ایک کام تھا خط لکھنے کا، ایک اور ایمرجنسی آگئی تو آپ نے اس کو نیچے پھینک دیااور اس ایمرجنسی کو ڈیل کرنا شروع کردیا،اب وہ نیچے سے بونس کرتا رہے گا،اور اس وقت تک کرتا رہے گا جب تک آپ اسے ختم نہیں کرتے۔
ادھورے کام انسان کو نفسیاتی مریض بنا دیتے ہیں۔ میں یہ بات بڑی ذمہ داری سے کہہ رہاہوں،اور میں بہت بڑی statement دے رہا ہوں، عموماً میں statement نہیں دیتا،تو یہ statement دینے کا مقصد یہ ہے کہ اگر آپ نے کاموں کو ادھورا چھوڑا تو شام تک وہ بہت سی کھڑکیاں آپ کے دماغ میں کھلی رہیں گی اور ایک بھی بند نہیں ہوگی ۔
علاج کیا ہے؟
علاج یہ ہے کہ جس کام کو بھی پکڑیں اس کو ایک دفعہ کنارے تک پہنچادے۔ مثال کہ طور پر میں نے خط لکھنا ہے ،میں نے فون کرنا ہے،میں نے کسی سے ملاقات کے لیے جانا ہے،یہ پانچ ،چھ،سات کام میرے ذمے ہیں۔اچھا آج نہیں کل کروں گا،اگلے گھنٹے کر لوں گا،دو گھنٹے بعد کر لوں گا۔ وہ میرے دماغ کے اوپر بوجھ بنا رہتا ہےاور وہ اترتا نہیں ہے۔میرے ساتھ بھی خود یہ ہوتا ہے۔آج کی تاریخ میں مجھے ایک صاحب سے ملنے جانا ہے،اچھا کل جاتا ہوں،شام کو جاتا ہوں،پرسوں جاتا ہوں،اور پھر دیر کر دیتا ہوں منیر نیازی کے مطابق میں ہر بار دیر کر دیتا ہوں اور پھر یہ ہوتا ہے کہ خدا نخواستہ وہ کام نہ ہوسکا۔اس سے آپ کسی پریشانی میںمبھی مبتلا ہو سکتے ہیں ۔ آپ نے ٹکٹ لینی تھا آپ نےکہیں جانا تھا ، جانا بھی ضروری تھا، نہیں جاسکے ۔۔۔ مشکل پیدا ہو سکتی ہے۔
میرے دوستوں!
اگر آپ نفسیاتی طور پر صحت مند رہنا چاہتے ہیں۔تو ادھورے کام اپنے دماغ میں اکھٹے نہ کریں،اپنے ذہن میں اکھٹے نہ کریں،اپنی میز پر اکھٹےنہ کریں۔آپ نے دس کام کرنے ہیں آپ کی میز پر دس کاغذ بکھرے پڑے ہیں۔آپ یقین کریں کہ اگر آپ پانچ منٹ بھی دیکھتے ہیں تو پانچوں منٹ میں آپکے ساتھ اوہ میرے اللہ یہ بھی کرنا،وہ بھی کرنا اور وہ ختم نہیں ہو نگے ۔
جیسے ایک گیند نیچے گرےگی پھر اوپر آئے گی،اور پھر آئے گی ایمرجنسی آپ ڈیل کرتے رہیں گےاور پھر وہ گیند اوپر آجائے گا۔اس تھیوری کے مطابق اورمیری ذاتی سوچ کے مطابق بھی اگر آپ صحت مند نفسیاتی زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور کسی طرح کی پریشانی ذہن میں نہیں رکھنا چاہتے تو ادھورے کام نہ چھوڑیں ،جس کام کو بھی پکڑیں ۔اس کومکمل کریں آپ یقین کرےجب ایک کام کو مکمل کر کے یوں رکھ دیں گے،باقی آپ کا کام آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو جائے گا۔
بالکل اسی طرح سے فائلوں کاڈھیر لگاہوا ہے اورآ پ نےایک فائل اٹھا کر اِدھر رکھ دی اس سے آپ کے دماغ کا بوجھ کم ہو جائیگا ۔ ورنہ یہ پندرہ کام نفسیاتی طور پر آپ کے دماغ میں بوجھ کی شکل میں رہے گےاور یہ کبھی نہ ختم ہونے والاسلسلہ ہےآپ کو نقصان پہنچاسکتاہے۔
آئیں طے کریں جو بھی کام کرنا ہے، اس کو ادھورا نہیں چھوڑنا،اور اس کو مکمل کرنا ہے۔ Unfinished Agenda نہیں ہونا چاہیے،تاکہ ہمیں کسی طرح کی کوئی دقت یا پریشانی نہ ہواور کسی نفسیاتی بوجھ کا ہم شکار نہ ہوجائے۔
ڈاکٹر مشتاق مانگٹ

چھوٹی چھوٹی پریشانیوں میں خوشیوں کی تلاش

 ایک خاتون کی عادت تھی کہ وہ روزانہ رات کو سونے سے پہلے اپنی دن بھر کی خوشیوں کو ایک کاغذ پر لکھ لیا کرتی تھی۔

ایک شب اس نے لکھا کہ:
میں خوش ہوں کہ میرا شوہر تمام رات زور دار خراٹے لیتا ہےکیونکہ وہ زندہ ہے اور میرے پاس ہے نا۔
یہ اللّٰه کا شکر ہے۔
میں خوش ہوں کہ میرا بیٹا صبح سویرے اس بات پر جھگڑا کرتا ہے کہ رات بھر مچھر،کھٹمل سونے نہیں دیتے یعنی وہ رات گھر پہ ہی گزارتا ہے آوارہ گردی نہیں کرتا۔
اس پر بھی اللّٰه کا شکر ہے۔
میں خوش ہوں کہ ہر مہینہ بجلی، گیس، پانی،پٹرول وغیرہ کا اچھا خاصا ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے یعنی یہ سب چیزیں میرے پاس میرے استعمال میں ہیں نا۔۔ اگر یہ نہ ہوتی تو زندگی کتنی مشکل ہوتی۔
اس پر بھی اللّٰه کا شکر ہے۔
میں خوش ہوں کہ دن ختم ہونے تک میرا تھکن سے برا حال ہوجاتا ہے یعنی میرے اندر دن بھر سخت کام کرنے کی طاقت ہے نا۔۔۔
اور یہ طاقت اور ہمت صرف اللّٰه ہی کے فضل سے ہے۔
میں خوش ہوں کہ روزانہ اپنے گھر کا جھاڑو پونچا کرنا پڑتا ہے اور دروازے کھڑکیاں صاف کرنا پڑتی ہیں شکر ہے میرے پاس گھر تو ہے نا۔۔ جن کے پاس نہیں ان کا کیا حال ہوتا ہوگا۔
اس پر اللّٰه کا شکر ہے۔
میں خوش ہوں کہ کبھی کبھار تھوڑی بیمار ہو جاتی ہوں یعنی میں زیادہ تر صحت مند ہی رہتی ہوں۔۔
اس پر بھی اللّٰه کا شکر ہے۔
میں خوش ہوں کہ ہر سال عید پر تحفے اور عیدی دینے میں پرس خالی ہو جاتا ہے یعنی میرے پاس چاھنے والے میرے عزیز رشتہ دار دوست احباب ہیں جنہیں تحفہ دے سکوں۔ اگر یہ نہ ہوں تو زندگی کتنی بے رونق ہو۔
اس پر بھی اللّٰه کا شکر ہے۔
میں خوش ہوں کہ روزانہ الارم کی آواز پر اٹھ جاتی ہوں یعنی مجھے ہر روز ایک نئی صبح دیکھنا نصیب ہوتی ہے۔۔۔
ظاہر ہے یہ اللّٰه کا ہی کرم ہے۔
جینے کے اس انمول فارمولے پر عمل کرتے ہوئے اپنی بھی اور اپنے سے وابستہ لوگوں کی زندگی پرسکون بنانی چاہیے
"چھوٹی چھوٹی پریشانیوں میں خوشیوں کی تلاش…"
"خوش رہنے کا عجیب انداز…"

کاروبار کو کامیاب بنانے کے پانچ اہم اورسنہری اصول

میں نے زندگی میں بہت سے بالکل سادہ لوگوں کو دیکھا ہے، جن کے پاس کوئی بہت زیادہ تعلیم بھی نہیں تھی لیکن انہیں اپنے کاروبار کو بہت ہی خوبصورت طریقے سے چلاتے دیکھا ہے ۔ وہ بھلےکوئی چنے لگانے والا ہو، جوس بیچنے والا ہو یا کوئی مٹھائی بیچنے والا ہو، اپنے علاقے میں ان کا بڑا نام ہوتا ہے۔ لوگ کراچی سے لاہور آتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ جی ہمیں فلاں جگہ کےبسکٹ لینے ہیں ، فلاں جگہ کی خطائی لینی ہے،فلاں جگہ کا حلوہ لینا ہے اور کبھی کبھی چھٹی کے دن کہ آج ہم نےفلاں جگہ پہ جا کر چنے کھانے ہیں۔

میں یہ سوچتا رہا کہ ان لوگوں کا یہ نام کیسےہوا ہے؟ کاروبار چھوٹا ہو سکتا ہے، بڑا ہو سکتا ہے۔ضروری نہیں ہے کہ صرف بڑا کاروبار ہی اچھا ہوتا ہے۔ کاروبار کچھ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہر کاروبار میں میں نے دیکھا ہے کہ لوگ کسی خاص دکان کو ترجیح دیتے ہیں،بھلےوہ چنے کی دکان ہو، حلوے کی دکان ہو، مٹھائی کی دکان ہو، شربت کی دکان ہو کوئی بھی چیز ہو حتیٰ کہ درزی ہو۔
یہ سب دیکھ کر میں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اس کی کیا وجہ ہے؟ ان لوگوں نے اسی معاشرے میں رہتے ہوئے اپنےمقابلے والوں سے اچھا نام کمایا،لوگ سودُکانیں چھوڑ کر ان کی دکان پر جاتے ہیں۔( میں پھر یہی کہوں گا کاروبار چھوٹے اور بڑے ہو سکتے ہیں۔) پھر میں نے ان لوگوں کاجائزہ لینا شروع کیا ،اور بہت ہی گہرے طریقے سے میں نےان کا جائزہ لیا۔ ان کے پاس گیا ،کبھی بیٹھا رہا ،کبھی دیکھتا رہا،ان کےرویے کو دیکھا،ان کی باتوں کو سنا ،ان کے چہرے کی حرکات کو دیکھا،ان کے بات کرنے کے انداز کو، اپنے کاریگروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے دیکھا۔ پھر میں نے دیکھا کہ ان میں بہت سی چیزیں عام سی ہیں، بہت ساری چیزیں مشترک نہیں ہے لیکن کچھ چیزیں خاص ہیں۔
جب میں نے وہ خاص چیزوں کو ڈھونڈنا شروع کیا تو مجھے یہ پانچ چیزیں نظر آئیں۔ اور وہ میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ میرامشاہدہ یہ ہے کہ کامیابی کے لیے ان پانچ چیزوں پر عمل کرنا بے حد مفید ہو سکتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا ،کہ ان کے علاوہ آپ کسی چیز پرعمل نہ کریں لیکن میرے مشاہدے کے مطابق ج کامیابی کے لیےیہ پانچ بنیادی اجزاء ہیں ۔ ان کے بغیر دیرپا ترقی ممکن نہیں ہے۔اگر آپ ان پر عمل کریں تو یہ ممکن نہیں ہے کہ بازار میں لوگ آپ کو ترجیح نہ دیں ۔ میں یہ نہیں کہتایہ بات سو فیصد درست ہو سکتی ہے ، ہو بھی سکتا ہےلیکن میں نے جو مشاہدہ کیا تھاان میں یہ پانچ چیزیں ہیں۔
سادگی اور سادہ طرزِ زندگی
سب سے پہلی چیز جونظر آئی کہ وہ لوگ انتہائی سادہ تھے۔ ان کی زندگی میں، ان کے لباس میں، ان کےدفتر میں، ان کی چیزوں میں، ان کے اٹھنے بیٹھنے میں سادگی کاعنصر بہت ہی واضح اور نمایاں تھا۔
ایمانداری اور دیانت
دوسرا وصف جو میں نےدیکھا کہ وہ لوگ اپنے معاملات کے اندر انتہائی ایماندار تھے۔ اگر انہوں نے کسی کو کوئی چیز دینی ہے تو پھر یہ نہیں کرنا کہ بھئی اس میں سے چار پیسے بچتے ہیں تو ہم اس میں کم کر لیں۔ آپ کے لیے بھی یہ واقعہ دلچسپ ہو گا، اور میرے لیے بھی بہت دلچسپ ہے ۔اور اس واقعہ کی عمر کم از کم کوئی چالیس سال کے قریب تو ہو گی۔ لاہور شہر کے شمال میں ایک علاقہ ہے جسے ہم شمالی لاہور کہتے ہیں یہاں پر ایک چوک ناخدا ، میں وہاں پر گیا تو وہاں پر ایک دو دھ دہی کی دکان تھی۔ وہ آدمی ہاتھ سے دہی کو بلو کر لسی بنا کر بیچ رہا تھا، اور وہاں پر میرے سمیت کوئی بیس پچیس لوگ کھڑے تھے ۔ وہاں کھڑے کسی آدمی نے یہ بات کہی کہ “پہلوان جی این اے بندے کھڑےنیں، تسی کوئی مشین ای رکھ لوں”یہ بات دکان دار نے سنی اور میں نے بھی سنی۔ اب میں سوچ رہاتھا کہ جواب پتہ نہیں کیا ہوگا؟ وہ کیا کہے گا ؟کہ پیسے نہیں ہیں، وغیرہ وغیرہ ۔ لیکن جو اس نے جواب دیا وہ سونے سے لکھنے والا تھا۔
ان کا جواب اس کی دیانتداری کو ظاہر کرتا تھا جس کی بنیاد پر لوگ باقی دکانوں کو چھوڑ کر پچیس کی تعداد میں اس کےسامنے کھڑے تھے۔ اس نے کہا کہ’’ با ؤ جی اوکونے وچ مشین پئی جے۔ میں مشین نوں کوئی چار یا پنج دن ورتیا سی،اودے نال میں لسی بنا کے لوکاں نوں دتی۔ فیر میں ایک دن حساب لایا کہ کونڈے میرے اوہی سو لگ دے نیں۔ پہلے اگر مینوں کوئی پانچ ہزار روپے بچ دےسی ہن مینوں چھ ہزار کتہوں بچن لگ پئیے نیں، نہ میں ریٹ ودایا،نہ میں کونڈے ودائے، نہ میں دہی ودائی، اے پیسے زیادہ کیوں آن لگ پئیے نیں ؟ میں کچھ دن اس پریشانی وچ مبتلا ریا۔ فیر اک دن مینوں خیال آیا کہ اے جیڑی میری مشین لیائی اے نا، اے بوت تیزی نال دہی رِڑک دی اے۔ جیدی وجہ نال بوت ساری جھگ بن دی اے تے گاہک نوں مٹیریل کٹ جاندا اے تے جگ زیادہ جاندی اے۔ اے گل میں سوچ کے با ؤ جی او مشین کونے وچ رکھ دتی میں اپنے گاہک نوں جو میں سوچیا اے، جنا گاہک کو سودا چاہی دا اے میں اس توں کٹ نی دے سکدا”۔ یہ بات آج بھی مجھے یاد ہے۔
رحم دلی اور خدا ترسی
تیسری بات وہ لوگ رحم دل ہوتے ہیں ،وہ کبھی سختی نہیں کرتے، وہ سخاوت کرتے ہیں وہ اپنی دکان پر آنے والے کو جھڑکتے نہیں ہیں۔ جو ان کے بس میں ہوتا ہے اس کی وہ خدمت ضرور کرتے ہیں اور وہ نرمی برتتے ہیں ۔
کام میں مہارت
چوتھی چیز وہ اپنے کام میں ماہر ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس کولسی نہ بنانی آتی ہو، چنے نہ بنانے آتے ہو، ٹائر نہ تبدیل کرنا آتاہویا شربت نہ بنانا آتاہو۔ وہ ایک انتہائی ماہرآدمی ہوتا ہے۔ لاہور کے اندر ایک صاحب گراٹو جلیبی بناتےہیں۔ آپ کسی وقت بھی شام کو چلے جائیں تو آپ رش کا ندازہ کر سکتے ہیں ۔ میں نے بیس بیس بندےلائن میں کھڑے ہوئے دیکھے ہیں۔ اور ہم بھی کبھی کبھی گراٹو جلیبیاں لاتے ہیں ، کئی سالوں سے لا رہےہیں۔ ایسا نہیں ہوا کہ آج سے پانچ سال پہلے جو چیز ہم لاتےتھے وہ اب نہیں ہے۔وہ اتنے ماہر ہیں کہ اپنے اجزاء کا خیال رکھتے ہیں، اپنے کام کا خیال رکھتے ہیں، اپنی پراڈکٹ کا بھی خیال رکھتے ہیں۔اگر وہ سمجھیں کہ یہ ٹھیک نہیں ہے تو وہ بالکل کہہ دیتے ہیں کہ یہ چیز آپ کے معیار کی نہیں ہے، ہم آپ کو نہیں دے سکتے۔ میرے ساتھ بھی اس طرح کا واقعہ ہواہے۔
محنت اور مشقت کے عادی لوگ
پانچویں بات ، وہ محنتی لوگ ہوتے ہیں، وہ محنت سے جی نہیں چراتے ،وہ وقت پر دکانوں پہ آتے ہیں، وقت پر دکانیں کھولتے ہیں،کبھی گرمی وسردی کا بہانہ نہیں کرتے۔ پوری محنت کے ساتھ اپنی دکان پربیٹھتے ہیں ،پوری تندوہی کے ساتھ اپنا کام کرتے ہیں۔
یہ پانچ چیزیں میرے خیال کے اندر ہمیں بھولنی نہیں چاہیے۔ سادگی ،دیانتداری ،مہارت ،محنت اور رحمدلی۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اللہ کے بھروسے پر آپ نکلیں، اس سے پوری امید رکھیں اور ان پانچوں چیزوں کا آپ خیال رکھیں انشاءاللہ العزیز لوگ سو دکانیں چھوڑ کر آپ کی دکان پر آئیں گے۔ دکان چھوٹی ہو چاہے بڑی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
تعاون فاؤنڈیشن کا یہی ایک مقصد ہے ،کہ ہم وہ چیز جو خود اپنے لیے ٹھیک سمجھتے ہیں یاکہیں سے ہمیں ملتی ہے، تو ہم وہ بات آپ تک پہنچائیں۔ اب ہم آپ سے بھی یہی توقع کرتے ہیں کہ نیکی پھیلانے سے کم نہیں ہوتی،آپ کے ثواب میں کمی نہیں آئے گی ، نہ میرے ثواب میں کمی آئے گی، انشاءاللہ۔یہ بڑھتا جائے گا اور وہ صدقہ جاریہ ہمارے لیے ہوگا اور قیامت کے روز ہماری بخشش کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے،
ڈاکٹر مشتاق مانگٹ

نوجوانوں کا عالمی دن۔۔۔ملکی ترقی اور نوجوان

 بارہ اگست دنیا میں نوجوانوں کا  عالمی دن منایا جاتا ہے ۔قوموں کی جب بات کی جاتی ہے، تو کچھ قوموں کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ بوڑھی قوم ہے۔ جہاں پر اسی سال اور ان سے زیادہ کی عمر کے بے شمار لوگ  ہیں اور ان کی تعدادمیں ہر روز  اضافہ بھی  ہوتا جاتا ہے۔ اور کچھ قوموں  کو کہاجاتا ہے کہ یہ جوان قوم ہے۔ پاکستان اس فہرست میں ہے جسے  جوان قوم کہا جاتا ہے۔

پاکستان کی  تقریباً بیس  کروڑ کی آبادی ہے۔ اور اس میں ساٹھ فیصد سے زائد وہ لوگ ہیں جو انتیس سال کی عمر سے کم ہیں۔اور  اس ساٹھ فیصد میں سے کوئی تیس فیصد ایسے ہیں، جو پندرہ اور انتیس سال کے درمیان ہیں۔

یہ سب کہنے کا مطلب ہے کہ جو آج لوگ  اس سے بھی نیچے ہیں،اور جو پندرہ سال سے نیچے ہیں اس میں بھی اگلےچند سالوں  کے اندرجو  بہت سارے بچے وہ جوان ہو جائیں گے۔

دنیا بھر کے اندر نوجوان ایک اثاثہ گنے جاتے ہیں۔ وہ صرف ملکی سطح پہ اثاثہ نہیں گنے جاتے۔ بلکہ اگر ہم اسے دیکھیں تو گھر میں بھی جب کوئی  بچہ نوجوان ہو جاتا ہے تو گھر کی امیدیں بھی اس پہ آجاتی ہیں، اس کو بھی اثاثہ سمجھتے ہیں،اور اس پہ بھی آس لگاکر بیٹھتے ہیں۔ اسی طرح سے کسی معاشرے کے اندر جب نوجوانوں کی تعداد بڑھ جائے گی،وہی وہ لوگ ہوں گے ،جو کام کرنے والے ہوں گے،جو آگے بڑھ کر کسی چیز کی اصلاح کریں گے۔ پاکستان کے اندر ان نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے۔ ہمارے چند مسائل ہیں اور دیکھتے ہیں  کہ ان مسائل سے ہم کیسے نمٹ سکتےہیں؟ آج کا  ہمارا موضوع بھی اسی بات پر ہے ۔


میرے نزدیک آج کے نوجوان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے، کہ اس کوکوئی راہ دکھلانے والا نہیں ہے ،وہ بے مقصدیت کاشکار ہے۔ اس کے ساتھ منصوبہ بندی  کی کمی جڑی ہوئی ہے، کوئی نہیں  بتاتا کہ کہ اس کو کیا کرنا ہے؟ اس کو کہاں جانا ہے ؟دنیا بھر میں اس کےفیصلے تو چار سےپانچ سال کی عمر میں ہو جاتے ہیں ،کہ اس کو پلیئربننا ہے ، ڈاکٹر بنناہے، انجینئربننا ہے، پروفیسر بننا ہے،وکیل بننا ہے یا اس کی ذہنی صلاحیت  کے مطابق فیصلے ہو جاتے ہیں اور ہمارےنوجوان بہت دیر تک فیصلے نہیں کر پاتے۔

یہ میرے خیال میں سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اگر آج آگے بڑھ کر ہمارے نوجوانوں کو مقصدیت سکھا دیں  ، زندہ رہنے کےلیے زندگی کا مقصد بتا دیں ،کہ زندگی کا مقصد کیا  ہوتا ہے؟ کیا صرف نوکری کی، پنشن لی ، ریٹائر ہوئے اور فوت ہوگئے نہیں یہ نہیں ہے؟ زندگی کا مقصد تو اس سے کہیں اوپر ہے ۔وہ اللہ رب العزت کے کنبے کی خدمت ہے، اپنے ملککی خدمت  ہے۔دنیامیں کوئی بڑا مقصد حاصل کرنے کے لیے ایک کوشش ہے، اسی کو زندگی کا مقصدکہتے ہیں۔ اگر آپاپنی زندگی  میں کوئی مقصدلے آئیں، تو میں آپ کوپورے یقین سے کہتا ہوں آپ کے پاس مایوسی کبھی نہیں آئے گی۔ اب ہمیشہ سرکردہ رہیں گے کہ مجھے یہ مقصد حاصل کرنا ہے۔

ہمارےنوجوانوں کا دوسرا مسئلہ یہ ہے ،کہ ہم بہت شارٹ کٹ لگاناچاہتے ہیں، ہنر نہیں ہے لیکن کمانا چاہتے ہیں، مہارتنہیں ہے، آگے بڑھنا چاہتے ہیں، علم نہیں ہے دنیا پہ حکمرانی کرنا چاہتے ہیں ۔

میرےنوجوان دوستو،اگر آپ کے پاس تعلیم نہیں،علم نہیں، آگاہی نہیں ، شعور نہیں۔ تو آپ یقین جانیں آج تو شاید کوئیآپ کو ملازم رکھ لے لیکن آنے والے دنوں میں ٹیکنالوجی کا دور آج سے بھی بڑھ جائے گا تو شاید آپ کو کوئی ملازم نہرکھے۔ آپ کہیں  گے کہ میرے پاس ڈگری ہے،لوگ کہے گے ڈگری آپ کے پاس اس لیے ہے کہ آپ تشریف لائے اور ہمنےآپ کواندر آنے کی اجازت دی ہے اور اپنے سامنے بٹھایا ہے۔اس ڈگری نے آپ کو یہاں تک پہنچایا ہے۔ تو اس کے بعدآپ کیاکام کرتے ہیں ؟یہ پھر آپ کی ذمہ داری ہے، آپ مسئلے کو کیسےحل کرتے ہیں؟ اس کا تجزیہ کیسے کرتے ہیں؟ڈگری کی اہمیت سےانکار ایک لمحے کے لیے بھی نہیں ہے لیکن ڈگری آپ یوں سمجھے جیسے پاسپورٹ ہے۔ جو آپ کوکسی جگہ پہ داخل ہونے کے لیے مدددیتا ہے۔

تیسرا مسئلہ ہمارا نوجوانوں کا جو ہے، وہ تھوڑی منفی بات ہے۔جس کا ذکرمیں نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن میرا خیال یہ ہےکہ اس کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ ہمارے بہت سارے نوجوان منشیات کےساتھ جڑ چکے ہیں۔ یہ ان کو کہاں سے ملتی ہے ؟کیسے ملتی ہے؟اور کس طریقے سے یہ پروان چڑھ رہی ہے ۔اس میں کوئی ہمارے کالجزنہیں بچے ،کوئی سکول نہیں بچے، یونیورسٹیاں نہیں بچی ہوئیں۔جب بھی کوئی تحقیق سامنے آتی ہے تو وہ رونگٹے کھڑی کر دیتی ہے۔اس میں لڑکےاور لڑکیاں بھی شامل ہیں۔کچھ امیر اور غریب گھروں سے بھی ہیں۔ تو خدارا منشیات کے قریب بھی نہ جائیں۔اگر آپ کوعلم ہو کہ آپ کے دوستوں میں کوئی منشیات استعمال کرتا ہے تواس سے جتنا دور ہو سکتے ہیں، دور ہوجائیں۔

اور چوتھی بات میرے نوجوان دوستوں، میں آپ کو جو بتانا چاہتا ہوں، وہ یہی ہے کہ اس سب کے باوجود اگر آپ کو اپنی مقصدِ حیات کا نہیں پتا، کہ آپ کے رب نے آپ کو دنیا میں کس مقصد کےلیے بھیجا ہے۔ تو میں پورے یقین سے کہہ سکتاہوں، بے مقصد زندگی کاکوئی فائدہ نہیں ہے آپ  دنیاوی مقاصد جتنے بڑے مرضی حاصل کر لیں لیکن در جوانی توبہ کرداشیوائے پیغمبری۔ جوانی تو ایسی چیزہے کہ جس میں اللہ کو بھی نوجوانی کی عبادت پسند ہے، اور نوجوانی کے اندرکیے ہوئے کام انسانوں کوپختہ کر دیتے ہیں۔ وہ اسی پختگی کے ساتھ ان کاموں کے اوپر جوڑا رہتا ہے، اس پر عمل کرتارہتا ہے۔ بس یہی آپ سے کہنا ہے آپ ہمارا اثاثہ ہیں، آپ صرف ملک کا اثاثہ نہیں ، امت مسلمہ کا اثاثہ نہیں ، اس دنیا کااثاثہ نہیں  بلکہ آپ اپنے گھرکا بھی اثاثہ ہیں، اپنے قبیلے کا بھی ، اپنے گاؤں اور شہر کا بھی اثاثہ ہیں۔ اور وہ جو کسینے کہا مجھے ٹھیک سے یادتو نہیں ہے۔" وہی جوا ں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا "۔ آپ ہماری آنکھ کے تارے ہیں۔ ہم نےآپ سے بہت امیدیں وابستہ کی ہیں۔

اگر آپ نے جوانی   میں  محنت مشقت نہ کی تو آپ بڑھاپے میں  آرام کی زندگی نہیں  گزار سکیں گے۔ بڑھاپے میں  محنت مشقت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ آپ محنت مشقت کریں گے تو آپ  کے والدین ایک آرام کی زندگی گزار سکتے ہیں۔

آئیں مل کر یہ طے کریں کہ زندگی کا مقصد  کیاہے؟ جس میں  آپ دنیاوی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہ ڈگریوں سےکہیں آگے ہیں، اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں، دنیا میں اپنا اور اپنے قبیلے کا، اپنے خاندان کا ،اپنے ملک کا،اپنی امت کا نام روشن کرنا چاہتے ہیں۔ تو یقیناً آپ ہماری آنکھوں کے تارا ہوں گےاور ہم آپ کو اپنے سروں پر بٹھائیں گے۔

امید ہے کہ آپ سوچیں گے ضرور کہ مجھے اپنی جوانی کے وقت کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ یہ سیکھنے اور عمل کرنےکا وقت ہے۔

 ڈاکٹر مشتاق مانگٹ

چھوٹےبچوں کے لیے عمر کے مطابق کھلونے

 بچے فطری طور پر کھیلنا چاہتے ہیں اور کھیلنے کے لیے انھیں کھلونے چاہیےہوتے ہیں۔ بچے کھیل کھیل میں بہت سی صلاحیتیں حاصل کرتے ہیں۔ کھلونے کھیلنے سےبچوں کے  ہاتھوں اور انگلیوں کی گرفت مضبوط ہوتی ہے اوراُن کی دست ونگاہ میں مطابقت پیدا ہوتی ہے۔ بچوں کو کھیلنے سے اطمینان اور خوشی محسوس ہوتی ہے۔وہ کھیل میں ایسے مگن ہوتے ہیں کہ انھیں وقت گزرنےکا احساس ہی نہیں ہوتا اسی وجہ سے ان کا توجہ سے کام کرنے کا دورانیہ بھی بڑھ جاتاہے۔ کھلونے حقیقی دنیا کا عکس ہوتے ہیں ۔ بچے جو کام اپنے والدین کو روزانہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں وہی کام وہ خود بھی کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے کھلونےاصل اشیا جیسے بنائے جاتے ہیں ۔ چند رہنما اُصول درج ذیل ہیں:

  • بچوں کے لیے گھر کا کوئی ایک حصہ یا کمرے کاایک کوناکھیلنے کے لیے مخصوص کیجیے۔ جہاں بچے آرام سے اپنے کھلونے کے ساتھ گھنٹوں کھیل سکیں۔
  • کھلونوں کو کسی الماری میں ترتیب سے رکھیے تاکہ بچےکھلونوں سے کھیلنے کے بعد انھیں واپس اپنی جگہ پر رکھنے کے عادی بنیں۔
  • نہ ہی بہت مہنگے کھلونے خریدیں اور نہ اتنے سستے جو ذراسے کھیل سے ٹوٹ جا ئیں۔ہمیشہ معیار اور افادیت کو مدِنظر رکھ کر کھلونے خریدیں ۔
  • اگر گھر میں کھلونے نہ بھی ہوں تو گھر کی اشیا کو کھلونوں کے طور پر دیا جاسکتا ہے۔ جیسے پتیلا، ڈھکن، چمچہ، چھلنی، بیلن، گھر کا پرانا سامان وغیرہ۔
  • ہمیشہ بچوں کی عمر کے مطابق اور اُن کی تعلیمی صلاحیتوں کو بڑھانے والے کھلونوں کا انتخاب کیجیے ۔ بچوں کو ایسے کھلونے دلائیےجن کے ذریعےسے اُن کی بصری ، صوتی اور لمس کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو ،اور ان کے ساتھ کھیلنے میں بچے اپنے حواسِ خمسہ کا زیادہ سے زیادہ استعمال کر سکیں۔
  • نوکیلے اور تیز دھار والے کھلونے چھوٹے بچوں کو ہر گز نہ دیں۔ ہمیشہ بچوں کے تحفظ کا خیال رکھیے۔
  • بنیادی رنگوں کا خیال رکھیے۔ نیلا ،ہرا ،لال اور پیلایہ چاروں رنگ چھوٹے بچوں کے کھلونوں میں ضرورہونے چا ہییں ۔

از: ڈاکٹربشریٰ خان

شائع شدہ ، ماہنامہ طفلی، شمارہ نومبر۲۰۱۸

بچوں کو بڑھتی عمر میں نماز اور قرآن کا پابند کیسے

 بچے چھوٹے ہوں تو اکثر نماز کے وقت والد یا والدہ کے ساتھ آکر کھڑے ہو جاتے ہیں۔۔اپنی سمجھ کے مطابق چھوٹے چھوٹے ایکشن کرتے ہیں۔کبھی تو اپنے کھلونوں کی بھی جماعت کرواتے ہیں۔یہ منظر دل کو کتنا بھلا لگتا ہے ۔۔۔لیکن جوں جوں بچے بڑے ہوتے ہیں تو نماز سے بے رغبت اور لاپرواہ نظر آتے ہیں۔۔ٹین ایج تک پہنچنے تک یہ ایک مستقل صورت اختیار کر جاتی ہے کہ وہ بچے پہلے بہت کہنا ماننے والے تھے ۔۔دن رات مائیں نماز کے لئے کہہ کہہ کر تھک جاتی ہیں۔۔

آئیے کچھ نکات اس حوالے سے آپ کے سامنے رکھوں جو ہر عمر کے بچوں کے لئے ہیں۔۔۔

والدین کو تربیت کے لئے ہر مرحلے پہ یہ بات ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ اگر بچوں کو نیک پروان چڑھانا چاھتے ہیں تو ۔۔خود نیکی پہ قائم رہنا ضروری ہے۔۔نیکی کی طرف راغب ہونا خود بھی تاکہ بچوں کو بھی اس راہ پہ لگایا جا سکے۔۔نیکی کا مجموعی ماحول فراہم کرنا اور اس کی کوشش کرنا بھی والدین کے ذمہ ہے۔۔ہم یہ امید نہیں کر سکتے کہ خود تو ہم نیکی کے حریص نہ ہوں اور ہماری اولاد نیکی کے لئے کوشاں ہو۔۔الا ماشااللہ ۔۔

اس کی بہترین مثال ہمیں سورہ کہف میں حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت موسی علیہ السلام کی گفتگو میں ملتی ہے جس میں وہ ایک گرتی ہوئی دیوار کی تعمیر صرف اس لئے کرتے ہیں کہ ان یتیم لڑکوں کا والد نیک شخص تھا۔۔

اس آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ والدین کی نیکی آخرت میں باعث اجر تو ہے ہی دنیا میں بھی اللہ تعالی اس کے ثمر ات دکھاتے ہیں۔۔۔

بچوں کو ہوش سنبھالنے کے ساتھ ہی اللہ تعالی کی ذات کا شعور کروائیں کہ اللہ تعالی بہت رحیم بھی اور کریم بھی ہیں تو سمیع و بصیر بھی۔۔اطاعت کے دو محرکات ہوتے ہیں ایک محبت اور دوسرا خوف۔۔۔بچے والدین کی اطاعت انہیں محرکات کے نتیجے میں کرتے ہیں مثلا والدہ سے زیادہ قریب ہوتے ہیں کیونکہ وہ سراپا محبت ہے اور والد کے رعب میں ہوتے ہیں کیونکہ ڈر کا محرک شامل ہوتا ہے اسی طرح خود سے زیادہ اللہ کی ذاتی صفات متعارف کروایا جائے اور عمر کے کسی بھی حصے میں ہو اللہ کی محبت اور خوف دونوں ہی محرکات کی بہترین نگہداشت کریں۔۔

اگر والدین یا کوئی دیکھنے والا نہ بھی موجود ہو لیکن اللہ تو ضرور دیکھنے والا ساتھ موجود ہے۔۔

جیسے آجکل سی سی ٹی وی کیمرے ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔۔اور ہمیں نظر آتے ہیں لیکن ایک خاص بات نوٹ کرنے کی ہے کہ ان کے نیچے موٹے حروف میں لکھا ہوتا ہے کہ کیمرے کی آنکھ ہمیں دیکھ رہی ہے ۔۔۔بالکل اسی طرح اللہ کی ذات کا شعور کہ وہ دیکھ رہا ہے اس کی یاد دہانی ہر عمر میں ضروری ہے۔۔

تھکے اور مایوس ہوئے بغیر یاد دہانی ضروری ہے۔۔ جیسے سورہ العصر میں نیکی کی تلقین اور صبر کی تاکید اہل ایمان کے لئے ضروری ہے۔

ترمزی کی حدیث 407 ہے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

سات سال کی عمر سے بچے کو نماز کی تلقین کرنی اور دکھانی چاھیے اور دس سال میں اگر وہ نہ پڑھے تو نہ پڑھنے پہ اس کو سزا دینی چاھئے۔۔

یعنی سات سال سمجھ کی عمر شروع ہو جاتی ہے اور بچے کی یاد داشت بہترین ہوتی ہے ۔۔ڈسیپلن اور مینرز بھی ہم اسی یا اس سے بہت پہلے سے سکھانے شروع کرتے ہیں۔۔

خود اپنے ساتھ نماز میں ساتھ کھڑا کریں۔۔۔کبھی بچوں کی باجماعت نماز کروائیں۔۔بڑے بہن بھائیوں کو ٹاسک دیں کے چھوٹوں کو وضو کرنا سکھائیں۔۔والد کے ہمراہ مسجد بھجوائیں۔۔۔باہمی ہم آہنگی سے والدین میں یہ بات طے ہو کہ بچوں کو یاد دہانی اور عملی اقدامات کرنے ہیں۔خود بھی اول وقت میں نماز ادا کریں تاکہ بچے بھی یہ دیکھیں کہ نماز کا وقت ہوتے ہی والدہ سب کا چھوڑ کر پہلے نماز پڑھتی ہیں۔۔

روٹین کے علاوہ دن میں ایک خاص وقت اجتماع اہل خانہ کے لئے ہو جس میں قرآن ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ پڑھا جائے اس پہ ڈسکشن اور حاصل مطالعہ بچوں کے ساتھ شئیر کیا جائے۔۔اسی طرح قرآن کی تلاوت کے لئے وقت مختص کیا جائے اور گھر میں تلاوت لگائی جائے اپنے پسندیدہ قاری کی آواز،میں یہ کام بچے بخوبی کر سکتے ہیں۔۔

اگر بچےٹین ایج میں پہنچ گئے اور بچوں کو نماز سکھانے کا وقت گزر گیا اور عملی اقدامات نہیں کئے گئے تو تب بھی اللہ کہ رحمت سے مایوس نہ ہوں۔حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو سب سے کم عمر یعنی 13 برس میں ایمان لانے کا شرف حاصل ہوا۔۔یہ وہ عمر ہے جس میں لا ابالی پن تو ہوتا ہے لیکن منطق کے ساتھ قبولیت اور اور استقامت بھی ہوتی ہے۔۔

اس عمر میں بچوں کو ڈانٹ کے بجائے۔۔نرمی اور دلائل کے ساتھ سمجھایا جائے۔یہ وہ عمر ہے کہ جب بچے کو اللہ کے خوف کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی باور کرانے کی ضرورت ہے کہ نماز کو ترک کرنے کے کیا نقصانات اور کیا سزائیں ہیں اور دوسری صورت میں اگر ہم نماز کی پابندی کرتے ہیں تو اللہ ہمیں کن انعامات اور فضل و کرم سے نوازتا ہے۔سیرتو ں اور احادیث کا مطالعہ کروایا جائے۔۔

گھر میں نماز سے متعلق احادیث آویزاں کی جائیں۔۔نماز کا وقت ہوتے ہی گھر کے سب کام چھوڑ کر لڑکوں سے باجماعت نماز ادا کروائی جائے۔۔۔

یاد رکھیں کوشش غفلت کو ختم کرتی ہے۔۔اللہ کو مطلوب بھی بندے کی کوشش ہے ۔۔دلوں کو نیکی پہ مائل کرنا اللہ کے ذمہ ہے اور اللہ کسی کی کوشش ضائع نہیں فرماتا۔۔۔

(ڈاکٹر سارہ شاہ)

حیا سراسر خیر ہے

 انسان میں حیا کا جذبہ فطری ہے، لباس اس حیا کا اولین مظہر ہے ۔دنیا میں آنے والے پہلے جوڑے کو اللہ تعالی نے اپنی جناب سے خلعت بھی عطا فرمائی تھی تاکہ ان کے قابلِ ستر حصے چھپائے جا سکیں۔ممنوعہ شجر کا پھل کھانے پر اللہ کی ناراضی کی بنا پر جب ان کے لباس اتر گئے تو وہ حیا کے سبب جنت کے پتوں سے اپنے ستر ڈھانپنے لگے۔یعنی حیا وہ صفت ہے جو انسان میں اول روز سے پائی جاتی ہے۔

حیا مومن مردوں اور مومن عورتوں کی زینت ہے، اور دین میں حیا کا خاص مقام ہے۔جس میں حیا نہیں اس میں انسانیت نہیں، وہ محض گوشت پوست کا انسان ہے۔اگر اخلاق میں سے حیا کو نکال دیا جائے تو کوئی مہمان کا اکرام نہ کرے، نہ وعدے کو ایفا کرنے کا اہتمام کرے، نہ امانت کی حفاظت کی جائے اور نہ کسی حاجت مند کی حاجت روی کی جائے، اور نہ انسان نیکیوں کے حصول کو چیلنج سمجھ کر قبول کرے، نہ قبیح کاموں سے باز رہنے کی کوشش کرے، نہ اپنے ستر کو ڈھانپنے کا اہتمام کرے، اور نہ فواحش سے رکنے کی کوشش کرے۔ اور اگر حیا کا جذبہ نہ ہو تو بہت سے لوگ فرائض کی ادائیگی کا اس طرح اہتمام ہی نہ کریں۔

حیاء لغوی طور پر ’’حیاۃ‘‘ سے مشتق ہے، اور اس سے مراد ایسی شرمساری ہے جو انسان کو رجوع پر مائل کر دے۔ حیا ایک وقار ہے جو بندہ اختیار کرنا چاہتا ہے تاکہ عیب دار امور سے اپنا دامن دور رکھے۔(لسان العرب، مادہ: (ح ی))

ابن حجرؒ کہتے ہیں: حیاء کو لغۃ میں’’ مد ‘‘کے ساتھ لکھا جاتا ہے، اس سے مراد انکسار یا خوف کی بنا پر عیب دار شے کو ترک کر دینا ہے ۔اور کبھی کسی سبب کی بنا پر کسی شے کو چھوڑ دینا بھی اس میں شامل ہے۔ (یعنی حیاء میں ترک کرنے کا عنصر پایا جاتا ہے، خواہ خوف یا انکسار کی بنا پر ہو یا کسی اور وجہ سے‘‘۔(فتح الباری، ۱۔۵۲)

بارش کو بھی حیاۃ کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ زمین ، نباتات اور حیوانات کی زندگی کا سبب بنتی ہے۔اور اسی طرح حیا سے مراد دنیا و آخرت کی زندگی بھی ہے۔ جس میں حیا نہ ہو وہ دنیا کا مردار اور آخرت کا شقی و بد بخت ہے۔وہ گناہوں سے لدا ہوا اور حیا سے عاری ہے، جس کی دنیا بھی برباد اور آخرت بھی! رہا حیا دار شخص، تو وہ گناہ کرتے ہوئے اللہ سے ڈرا، اور نافرمانی سے باز رہا، جب وہ اللہ سے ملاقات کرے گا، اللہ تعالی اسے سزا دینے میں حیا برتے گا۔جس نے بے باکی سے گناہ کئے اور اللہ سے حیا نہ کی اللہ بھی اسے سزا دیتے ہوئے حیا نہ کرے گا۔ (الجواب الکافی، ص۴۶)

ابنِ قیم ؒ کہتے ہیں کہ’’ جس میں حیا نہیںاس میں انسانیت کی رمق نہیں، وہ بس گوشت اور خون سے بنی ایک ظاہری صورت ہے اور اس میں ذرہ برابر بھی خیر نہیں‘‘۔

الجرجانی کہتے ہیں: حیا کسی عمل کو کرتے ہوئے طبیعت میں انقباض پیدا ہونے کا نام ہے کہ آدمی اس پر ملامت سے ڈرے اور اسے ترک کر دے۔ اور اس کی دو قسمیں ہیں:

۱۔ نفسانی؛ اور یہ کیفیت اللہ تعالی نے سب انسانوں میں پیدا کی ہے، جیسے ستر کھل جانے کو ہر انسان ناپسند کرتا ہے۔حیا کی یہ قسم انسان کی فطرت اور جبلت میں پائی جاتی ہے۔

۲۔ ایمانی؛ اور یہ کیفیت اسے اللہ کے خوف سے گناہوں کے ارتکاب سے روک دیتی ہے۔حیا کی یہ قسم اکتسابی ہے، یعنی وہ جس قدر شریعت کی پیروی اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کو بڑھائے گا، اسی قدر اس کی حیا بڑھتی چلی جائے گی اور معصیت کے صدور سے بچنے کی کوشش کرے گا۔

اخلاق انسان کے اندر نمو پاتے ہیں، اسی طرح حیا کا مسکن بھی انسان کا وجود ہے۔ایمان اخلاق کی تہذیب اور تزکیہ کرتا ہے، اور جب انسانی وجود میں ایمان پرورش پاتا ہے تو دیگر اخلاق کی مانند جذبہء حیا بھی طاقت ور ہوتا چلا جاتا ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ کئی غیر مسلموں میں بھی حیا کا جذیہ پایا جاتا ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے ہر انسان میں اس کو ودیعت کیا ہے۔دوسری جانب بعض مسلمانوں میں بھی قلتِ حیا پائی جاتی ہے، تو اس کا تعلق ان کی ایمانی کیفیت سے ہے۔

حیا اور خجل میں فرق

خجل، شرمندگی اور ندامت نفس کی اس کیفیت کا نام ہے جو کسی شک و شبہ میں مبتلا ہونے یا دلیل ِ روشن کے خلاف کرنے پر انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے، اورحیا وہ کیفیت ہے جو کچھ کرنے سے قبل طاری ہوتی ہے۔ خجل اپنے کئے پر ندامت کا احساس ہے اور حیا وہ جذبہ ہے جو کسی برے کام کے انجام دینے میں آڑ بن جائے۔

قرآن کریم میں حیا کا لفظ کئی معانی میں آیا ہے:

۱۔ اللہ تعالی کی حیا کیا ہے؟

’’اللہ تعالی حق بات کہنے سے نہیں شرماتا‘‘۔ (الاحزاب، ۵۳)

’’اللہ تعالی اس سے ہرگز نہیں شرماتا کہ مچھر یا اس سے بھی حقیر تر کسی چیز کی تمثیلیں دے‘‘۔ (البقرۃ، ۲۶)

قرطبیؒ کہتے ہیں کہ اس کی تأویل یہ ہے کہ اللہ تعالی حق کو بیان کرنے میں کسی خوف کا شکار نہیں ہوتا، اور اور نہ حق کہنے سے کوئی بات اس کو انقباض میں مبتلا کرتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ ایک روز مسجد میںاپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھے تھے، کہ تین لوگ اندر آئے، دو رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں آ گئے اور ایک واپس چلا گیا، اور سلام کیا۔ ایک کو حلقے میں جگہ ملی تو وہ اس میں بیٹھ گیا، اور دوسرا (حلقے سے باہر) ان کے پیچھے بیٹھ گیا، جبکہ تیسرا شخص واپس چلا گیا تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ فارغ ہوئے تو آپؐ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ان تین کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ان میں سے ایک نے اللہ سے ٹھکانا مانگا تو اللہ نے اسے ٹھکانا فراہم کر دیا، (یعنی مجلس میں جگہ)، دوسرے نے اللہ سے حیا برتی تو اللہ نے بھی اس سے حیا برتی، اور آخری نے اللہ سے اعراض کیا تواللہ نے بھی اس سے اعراض کیا۔ (رواہ الترمذی، ۲۷۲۴)

ان میں سے پہلا شخص طالب علم تھا اور اس کی نیت میں خلوص تھا، تو اسے رسول اللہ ﷺ کی مجلس کے حلقے میں جگہ دی گئی، کیونکہ وہ اللہ سے اسی کا امیدوار تھا، دوسرا حیا دار تھا، وہ اس نے فقط علم حاصل کرنے سے غرض رکھی اور ازدحام سے بچنے کی کوشش کی، لیکن تعلم اور صحبتِ علما چاہی تو اللہ نے اس کی حیا کی بھی قدر کی اور اسے علم حاصل کرنے کا موقع دے دیا، اور جس نے علم اور اصحابِ علم کی مجلس میں پہنچ کر بھی ان سے اعراض کیا تو اللہ نے بھی اس سے اعراض کیا۔ اس میں حیا کو پسند کیا گیا ہے اور اعراض کو اللہ کی ناراضی کی علامت بیان کیا گیا ہے۔

حضرت سلمان فارسیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالی حیادار اور کریم ہے، جب بندہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے تو اسے خالی ہاتھ نامراد واپس لوٹاتے ہوئے اسے شرم آتی ہے‘‘۔(رواہ ابن ماجہ، ۳۱۳۱) اور اللہ تعالی کی حیا بندوں کی مانند نہیں ہے، جو انکسار پر مبنی ہوتی ہے، بلکہ اس کی حیا بھی اس کے جلال اور عظمت کی شان جیسی ہے، جب بندہ اس کی نافرمانی کرتا ہے تو بھی وہ اپنی بے پناہ رحمت اور کمال جودو کرم اور عظیم در گزر کے ساتھ اسے ڈھانپ لیتا ہے، اور اس کے عیب کی پردہ پوشی کر دیتا ہے، اور اس کے گناہ کا پردہ چاک نہیں کرتا۔ ابن قیم ؒ اپنے نونیہ قصیدے میں کہتے ہیں:

وہ حیا دار ہے، اپنے بندے کی فضیحت نہیں کرتا ۔۔جب وہ علانیہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے

وہ تو اس پر پردہ ڈال دیتا ہے ۔۔وہ ہے ہی پردہ پوش اور مغفرت فرمانے والا

۲۔ حیاء دارانہ رویہ

قرآن کریم میں موسی ؑ کے قصے میں شیخ مدین کی بیٹی کی حیا کو اس طرح بیان کیا گیا:

’’پھر ان میں ایک حیا کے ساتھ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی‘‘۔ (القصص، ۲۵)

اور یہ وہی حیا ہے جو عورت کی زینت ہے، اور اس کی عفت، اسکے شرف اور فضل کی دلیل ہے۔

حیا فطری جذبہ ہے

حیا مرد و خواتین دونوں میں اللہ تعالی نے فطری طور پر رکھی ہے، اور اس کا پہلا اظہار آدم و حواؑ کے زمین پر آنے سے قبل ہوا تھا، جب ان دونوں نے ممنوعہ درخت کا پھل کھا لیا تو اللہ تعالی کی جانب سے عطا کئے گئے لباس سے ان دونوں کو محروم کر دیا گیا، ان کی کیفیت کو قرآن کریم میں یوں بیان کیا گیا ہے:

’’پھر جب انہوں نے اس درخت کا پھل چکھا تو ان کے ستر ایک دوسرے کے سامنے کھل گئے اور وہ اپنے جسموں کو جنت کے پتوں سے ڈھانپنے لگے‘‘۔ (الاعراف، ۲۲)

یعنی شرم انسان کے اندر تہذیب کے ارتقاء سے مصنوعی طور پر پیدا نہیں ہوئی ہے اور نہ یہ اکتسابی چیز ہے، بلکہ درحقیقت یہ وہ فطری چیز ہے جو اول روز سے انسان میں موجود تھی۔ (تفہیم القرآن، ج۲،ص۱۵)

ٖحیا ایمان سے ہے

حیا ایک ایمانی جذبہ ہے، اس کی افزائش کرنا چاہیے نہ کہ اسے دبایا جائے، حدیث میں ہے:

حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ایک انصاری کے پاس سے گزرے، جو اپنے بھائی کو حیا کے بارے میں نصیحت کر رہا تھا (کہ زیادہ شرم و حیا نہ کر)تو رسول اللہﷺ نے اس سے فرمایا: اسے چھوڑ دو، حیا تو ایمان کا حصّہ ہے‘‘۔ (متفق علیہ)

ابو مسعود عقبہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ’’لوگوں کے پاس کلامِ نبوت سے جو بات پہنچی ہے ان میں یہ بھی ہے: جب تجھ میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کر‘‘۔ (رواہ البخاری، ۳۴۸۳)

کلام نبوت سے مراد پہلے انبیاؑ کے احکامِ شریعت ہیں، جو منسوخ نہیں ہوئے، اور ہر آنے والے نبی نے ان کی تجدید کی ہے، ان میں حیا بھی ہے، اس کا حکم آج بھی ثابت ہے، اور پچھلی نبوتوں میں بھی اس کی تاکید کی گئی تھی۔

جب تجھ میں حیا نہ رہے تو جو جی چاہے کر، کا بیان تہدیدی ہے۔ یعنی یہ ایسا عمل نہیں جس سے معافی ملے ، اب تو مستحقِ سزا ہے۔ حیا کا جذبہ ہی برے فعل کے ارتکاب میں رکاوٹ بنتا ہے۔ جب اس رکاوٹ کو تو نے ہٹا دیا تو اب جو چاہے کر، تجھے سزا مل کر رہے گی۔

حیا سراسر خیر ہے

حضرت عمران بن حصینؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’حیا خیر ہی لاتی ہے‘‘۔ (رواہ البخاری) اور مسلم میں ہے: ’’حیا سراسر خیر ہے‘‘۔ یعنی حیا انسان کو اللہ کی نافرمانی ، بد اخلافی اور برے کاموں سے بچاتی ہے۔معاشرے میں برائیاں کم ہو جائیں تو پاکیزہ فضا نشونما پاتی ہے، جس میں برائی سکڑنے لگتی ہے، اور برے لوگ اعلانیہ برائیوں کا ارتکاب نہیں کرتے، نیکی کا چلن عام ہو جاتا ہے، ہر جانب حیا کا خیر پھیل جاتا ہے۔

حضرت ابو ہریرۃؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ایمان کی ستر سے زائد شاخیں ہیں، (یا ساٹھ سے زائد، راوی کو شک ہے)، ان میں سب سے افضل لا الہ الا اللہ کہنا ہے، اور سب سے ادنی راستے میں پڑی ہوئی تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا ہے۔ اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے‘‘۔ (متفق علیہ)

حضرت انسؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’فحش جس چیز میں بھی ہو اسے بدنما بنا دیتا ہے، اور حیا جس چیز میں ہو اسے زینت عطا کرتی ہے‘‘۔ (رواہ ابن ماجہ، الترمذی واحمد)

رسول اللہ ﷺ نے اشجع بن عبد القیس کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: ’’اس میں دو صفات ایسی ہیں جنہیں اللہ تعالی پسند فرماتا ہے: حلم اور حیا‘‘۔

رسول اللہ ﷺ کی حیا

رسول کریم ﷺ اخلاق کی بہترین حالت پر تھے، اسی لئے آپؐ کی حیا بھی مثالی تھی۔

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ’’رسول اللہ ﷺ پردے میں رہنے والی کنواری لڑکی سے زیادہ باحیا تھے‘‘۔ (رواہ البخاری، ۳۵۶۲)

یعنی ایک تو کنواری لڑکی کی حیا اور اس پر مستزاد اس کی باپردہ حالت حیا کی شدت کو ظاہر کرتی ہے، آپؐ اس سے بھی زیادہ حیادار تھے۔اور اگر آپ کو کوئی بات بری محسوس ہوتی تو اس کا اثر آپؐ کے چہرہ مبارک پر آجاتا اور وہ سرخ ہو جاتا، کیونکہ آپؐ کا چہرہ مبارک دل کا سچا آئینہ تھا۔

صحیح بخاری میں رسول کریم ﷺ کے سفرِمعراج کی حدیث تفصیل سے آئی ہے، جب رسول کریمﷺ کو پچاس نمازوں کا تحفہ ملا، اور واپسی کے سفر میں حضرت موسیؑ نے اس تعداد کو کم کروانے کا مشورہ دیا، اور پیارے نبیؐ بار بار اللہ کے حضور اس کی تخفیف کی درخواست کرتے رہے، اور پانچ کی تعداد کو بھی کم کروانے کے مشورے پر نبی اکرمؐ نے فرمایا: (استحییت من ربی)، ’’مجھے اپنے رب سے حیا آگئی‘‘۔(رواہ مسلم)

امہات المؤمنین حضرت زینبؓ کے ولیمہ کی دعوت کھانے کے بعد کچھ لوگ جم کر آپؐ کے گھر بیٹھ رہے ، اور نبی کریمؐ کو ان کے عمل سے تکلیف پہنچی مگر حیا کے سبب آپؐ نے انہیں جانے کو نہ کہا، تو اللہ تعالی نے قرآن کریم میںان کو تنبیہہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’تمہاری یہ حرکتیں نبی کو تکلیف دیتی ہیں، مگر وہ شرم کی وجہ سے کچھ نہیں کہتا، اور اللہ حق بات کہنے سے نہیں شرماتا‘‘۔ (الاحزاب، ۵۳)

بہترین حیا اللہ سے حیا ہے

بندہ جب اللہ تعالی کے عائد کردہ فرائض کی پرواہ نہ کرے، وہ غفلت کے ساتھ اس کے احکامات کو پیروں تلے روند دے، اور شریعت کی پابندیوں کو خاطر میں نہ لائے تو یہ اللہ تعالی جل جلالہ سے عدم حیا کی علامت ہے۔ اللہ تعالی سے حیا نہ کرنے کے معاملے میں انسانوں کا یہ رویہ افسوسناک ہے کہ وہ لوگوں سے تو بڑے اخلاق اور رکھ رکھاؤ سے ملیں اور ان کے سامنے کسی گناہ کا ارتکاب نہ کریں، لیکن جب وہ تنہائی میں ہوں تو اللہ سے حیا نہ کریں اور تمام پابندیوں اور حدود قیود کو توڑ دیں، گویا انہیں اللہ سے ذرا بھی حیا نہیں آتی۔

حضرت سعید بن یزید الازدیؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ سے کہا: مجھے وصیت کیجیے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اللہ تعالی سے اسی طرح حیا کرو جس طرح تم ایک صالح شخص سے حیا کرتے ہو‘‘۔ (رواہ احمد، فی الزھد، ۴۶)

ابن ِ جریرؒ کہتے ہیں کہ یہ مختصر الفاظ میں بہت بلیغ نصیحت ہے، کیونکہ فاسق شخص بھی اپنی مصلح افراد سے حیا کرتا ہے اور ان کے سامنے برائی کا ارتکاب نہیں کرتا، اور اللہ تو اپنی مخلوق کے تمام افعال سے باخبر ہے، تو بندہ جب اپنے رب سے حیا برتے اور اپنی قوم کے صلحاء اور نیک لوگوں سے بھی حیا کرے تو وہ تمام ظاہری اور باطنی معاصی سے اجتناب کرے گا۔ تو یہ نصیحت کتنی عمدہ اور جامع ہے۔(دیکھئے: فیض القدیر، ۷۴۔۳)

معصیت حیا کو ختم کر دیتی ہے

ابن القیمؒ کہتے ہیں کہ : ’’گناہوں کی سزا یہ بھی ہے کہ وہ حیا کو ختم کر دیتے ہیں، جو کہ حیاتِ قلب ہے۔اور وہ ہر خیر کی اصل ہے، اور حیا کا رخصت ہو جانا خیر کا چلے جانا ہے، کیونکہ حیا تو سراسر خیر ہے‘‘۔ (الداء والدواء، ص۱۳۱)

حضرت عمربن خطاب ؓ کا قول ہے: ’’جس میں حیا کی کمی ہو اس کی پرہیز گاری کم ہو جاتی ہے،اور جس کاپرہیز گاری کم ہو جائے اس کا دل مردہ ہو جاتا ہے‘‘۔

دنیا میں کوئی معاشرہ بھی فحاشی، منکرات اور ظلم پر قائم نہیں رہ سکتا۔ جس معاشرے میں حیا نہ ہو وہ اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے، اور اس میں خیر پنپ نہیں سکتی۔

حیا کے مظہر

حیا انسان کے عقل مند و دانا ہونے کی علامت ہے۔اسکا اظہار گفتگو میں بھی ہوتا ہے اور پوشاک میں بھی، برتاؤ میں بھی اور رویے میں بھی!

۱۔ کلام

غیر معیاری الفاظ، دروغ گوئی، گمراہ کن انداز اور احترام سے عاری کلام حیا کے منافی ہے۔ حیا کسی بھی شخص کو نرمی اور حکمت کے ساتھ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر سے باز نہیں رکھتی۔تین چیزیں دل میں حیا کے احساس کو متحرک کرتی ہیں:

۱۔ اللہ تعالی کی تعظیم اور اس سے محبت

۲۔ یہ احساس کہ ہم اللہ کی نگاہ میں ہیں اور وہ سمیع و بصیر رب ہمیں سن اور دیکھ رہا ہے۔

۳۔ اللہ تعالی سے کوئی بھی چیز اوجھل نہیں ہوتی۔

۲۔ رویہ

حیا کا اعلی درجہ یہ ہے کہ آدمی حیادارانہ رویہ اختیار کرے اور اپنے آپ سے بھی حیا کرے، اور ان فرشتوں سے بھی جو اس کے ساتھ رہتے ہیں۔اللہ تعالی سے حیا اختیار کرنا بہترین رویہ ہے، جو اللہ سے حیا کرتا ہے اللہ بھی اس سے حیا برتتا ہے۔

حیا کا یہ مطلب نہیں کہ بندہ کسی مسئلے کو پوچھنے میں حیا کر ے۔حضرت عائشہؓ کہتی ہیں: ’’انصار کی خواتین بہترین عورتیں ہیں،وہ دین سیکھنے میںحیا کو رکاوٹ نہیں بناتیں‘‘۔ (مسلم)

مجاہدؒ کا قول ہے: ’’حیا اور تکبر کرنے والا کبھی علم حاصل نہیں کر سکتے‘‘۔ (دینی معاملات میں سوال کرنے سے حیا کرنا علم کے حصول میں مانع ہو جاتا ہے۔)

حسن بصری ؒکہتے ہیں: ’’حیا اور فیاضی دو ایسی خصلتیں ہیں کہ جس میں بھی پیدا ہو جائیں اللہ تعالی اسے سربلند کر دیتا ہے‘‘۔(مکارمِ الاخلاق، ابن ابی الدنیا)

جنید بغدادیؒ فرماتے ہیں: ’’اللہ کی نعمتوں کو محسوس کرتے ہوئے اپنی خطاؤں پر نظر پڑے تو جو کیفیت پیدا ہوتی ہے اسے حیا کہتے ہیں‘‘۔

بنی اسرائیل کے ایک سمجھدار شخص کا قول ہے: ’’عورت کی زینت حیا ہے اور حکیم کی زینت خاموشی ہے‘‘۔ (ابنِ ابی الدنیا، ۶۳)

حیا کثیر الفوائد صفت ہے۔ حیا ایمانی صفت ہے، یہ ایمان کو تقویت دیتی ہے۔حیا اور ایمان باہم و لازم و ملزوم ہیں۔ حیا بہت سے گناہوں کے ارتکاب سے بچاتی ہے، اس طرح یہ مومن کی زندگی میں ایک ڈھال کا کام کرتی ہے۔ حیا دار شخص دنیا اور آخرت کی رسوائی سے بچ جاتا ہے۔حیا ایمان کی ایک مضبوط شاخ ہے، جو اللہ سے حیا برتے وہ دنیا میں بھی اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اور آخرت میں بھی کرے گا۔حیا دار شخص کو لوگ بھی پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالی بھی۔ حیا فواحش کے افشا سے روکتی ہے، اور کیچڑ میں گرے ہوئے شخص کی پردہ پوشی کر کے اسے اصلاح کا موقع دیتی ہے۔ (الاخلاق الاسلامیہ، المیدانی)

حیا کا اعلی درجہ یہ ہے کہ وہ اچھے کاموں پر ابھارے اور برے کام کرنے سے روک دے۔

جس شخص کو اللہ کی جانب سے حیاکا تحفہ ملا، وہ کمال اس کی پوری زندگی پر حاوی ہو گیا۔انسان حیا کے احساس میں مختلف درجات پر ہوتے ہیں، ہم میں سے بہت سے لوگ آج کے زمانے میں حیا کی کمی پر شکوہ کناں نظر آتے ہیں۔بازاروں میں بے حیائی عام ہے، شادی بیاہ کے مواقع ہوں یا سیر و تفریح کے مقامات، یا ہمارے تعلیمی اداروں میں نوجوان نسل کے لباس اور میل ملاقات، ہر جانب برے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ یہ سب تبدیلی ایک دن میں وقوع پزیر نہیں ہوئی، بلکہ مرحلہ وار آئی ہے۔ جوں جوں انسان کی اخلاقی حس کمزور پڑتی چلی جاتی ہے، شرم و حیا، غیرت اور حمیت مفقود ہوتی چلی جاتی ہے۔با حیا اور با حجاب زندگی چھوڑ دینے کے بعد انسانی رشتوں میں بھی بے حیائی در آتی ہے، وہ معاشرے جن میں حیا کا اعلی تصور رائج نہیں ہے، وہاں نکاح ایک غیر ضروری قید کا تصور لے کر آیا ہے۔

جس معاشرے میں حیا داری نہیں رہتی وہاں فواحش پھیلنے لگتے ہیں۔اور انسانی جذبات کو انگیخت کرنے کے لئے ادب، آرٹ، سینما، موسیقی اور رقص کے ذریعے برہنگی و بے حیائی کے مناظر عام ہو جاتے ہیں، گویا شیطان اپنے سارے لاؤ لشکر سمیت اس معاشرے پر حملہ کر دیتا ہے۔ان حرکتوں پر یہی بات صادق آتی ہے کہ جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کرو۔ایک بے حیا معاشرہ کی مثال ایسی ہی ہے جیسے آگ کے گڑھے کے کنارے کھڑے ہوئے لوگ! نجانے کس وقت بے حیائی کی آگ انہیں جلا کر خاکستر کر دے۔

خاندانی نظام اور نکاح کے ذریعے تعلقات کا فروغ حیا کو قائم رکھتا ہے اور اس دائرے سے باہر ہر تعلق یا تو زنا ہے یا مقدماتِ زنا میں سے ہے۔ (یعنی ایسی پیش قدمی جس کی انتہا زنا یا اس سے کم برائی پر منتج ہوتی ہے۔)فحش لٹریچر، ویڈیوز اور چلتے پھرتے بے حیا مردو زن معاشرے کے بگاڑ میں بڑے ذمہ دار ہیں۔

انسان اور خصوصاً عورت میں حیا کا جو مادہ رکھا گیا ہے اس کا اظہار لباس سے بھی ہوتا ہے اور طرزِ معاشرت سے بھی، اگرچہ مادہ پرست معاشروں میں اسی لغزش نے قوموں کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا ہے۔سترِ عورت اور حیا داری محض عادت نہیں بلکہ مطلوب اخلاقی رویہ ہے۔

اے بنی آدم ! ہم نے تم پر لباس نازل کیا، تاکہ تمہارے قابلِ شرم حصوں کو ڈھانکے‘‘۔ (الاعراف، ۲۶) اور پھر خواتین کو یہ بھی فرمایا: ’’اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں‘‘۔ (الاحزاب، ۵۹) نظام حیا کو قائم کرنے کے اصول وضع کئے: ’’اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور سابق دورِ جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو‘‘۔ (الاحزاب،۳۳)اور جب صنف ِ مخالف سے معاملہ ہو تو پردے کے پیچھے سے کیا جائے، اور’’ دبی زبان میں گفتگو نہ کرے، تاکہ دل کی خرابی میں مبتلا کوئی شخص لالچ میں پڑ جائے‘‘۔(الاحزاب، ۳۲) اسلام میں نکاح کو عفت مآبی اور حیا قائم رکھنے کا ذریعہ بنایا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تمہیں نکاح کرنا چاہیے کیونکہ وہ آنکھوں کو بدنظری سے روکنے اور شرم گاہ کی حفاظت کرنے کی بہترین تدبیر ہے‘‘۔ (رواہ الترمذی)اس طرح اسلامی معاشرت وہ پاکیزہ، محفوظ اور پرسکون فضا فراہم کرتی ہے، جس میں حیا کو قائم رکھتے ہوئے تعمیر ِ تمدن میں معاشرے کا ہر فرد فعال کردار ادا کر سکتا ہے۔

(ڈاکٹر میمونہ حمزہ)

تُم اپنی کرنی کر گُزرو

 انسان کے اندر اللہ کی جانب سے عطا کردہ ایک ایسی صلاحیت ہوتی ہے، جُنون ہوتا ہے جو اُس انسان کی زندگی میں سُکون لانے کا سبب بنتا ہے۔ ایک سوال خود سے کریں کہ کون سا ایسا کام ہے جس کو کرنے سے آپ کے دل کو تسلی ملتی ہے۔ جس کو کرنے سے آپ اپنی ٹینشن بھول جاتے ہیں۔ کھانا، سونا، انٹرنیٹ اور موبائل کو نکال کر سوال کریں۔ جو جواب آئے وہ آپ کا خُفیہ ٹیلنٹ ہو گا۔

لیکن یہ سوال اور جواب اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ کئی غلط جوابات کے بعد صحیح جواب آتا ہے۔ بس اُس جواب کو کھوجنے کی جُستجو اور کسی اُستاد کی حوصلہ افزائی چاہیے ہوتی ہے۔ حوصلہ شکنی کو برداشت کرنا سب سے اہم اور مُشکل کام ہے۔ کئی لوگ اس حوصلہ شکنی سے مایوس ہو کر اپنا ٹیلنٹ ڈھونڈنا یا سُدھارنا بند کردیتے ہیں۔ پوشیدہ صلاحیت کی تلاش ایک صبر آزما اور مُشکل امر ہے۔ اس میں ناکامی بہت بار ہوتی ہے۔ کئی مُغالطے بھی ہوتے ہیں۔

فیض صاحب نے کیا خُوب کہا ہے  

                     ؎   تُم اپنی کرنی کر گُزرو            جو ہوگا دیکھا جائے گا