بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت اُن میں خود اعتمادی پیدا کرتی ہے

  بچے آنگن کے پھول ہوتے ہیں، جب تک یہ پھول آنگن میں نہیں کھلتے گھر بھی بے رونق اور خوشیوں سے خالی ہوتا ہے۔اولاد اللہ پاک کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اس کی قدر ان سے پوچھیے جن کے آنگن میں یہ پھول نہیں کھلتے۔ بچہ جب اس دنیا میں آتا ہے تو بالکل کورا کاغذ ہوتا ہے ہم جو چاہیں اس پر تحریر کردیں۔ بچے کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہوتی ہے مگر بچہ اپنے باپ کا بہت اثر لیتا ہے۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ’’ ایک باپ اپنی اولاد کو جو کچھ دیتا ہے اس میں سب سے بہتر اس کی تعلیم وتربیت ہے۔‘‘

بچے اپنی اخلاقی قدریں نہ صرف اپنے خاندان بلکہ اپنے اطراف سے بھی سیکھتے ہیں۔ اولاد کی صحیح تربیت والدین کا اوّلین فرض ہے۔ اولاد کی نیک تربیت کے بے شمار فوائد و ثمرات ہیں۔تربیت یافتہ اولاد والدین کی نیک نامی کا سبب بنتی ہے۔ان کے بڑھاپے کا سہارا اوران کے مرنے کے بعد ان کے لیے صدقۂ جاریہ بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر اولاد کی تربیت اچھی نہ کی جائے تو وبالِ جان بن جاتی ہے۔والدین کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو اخلاقِ حسنہ سکھائیں اور نیک تعلیم دیں۔
بچوں کی تربیت میں لازمی ہے کہ بچے کے ساتھ محبت اور شفقت بھرا رویہ اختیار کریں۔ ہر وقت ان پر ذہنی بوجھ نہ ڈالیں اس سے بچہ نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوجاتاہے۔والدین بچوں کے ساتھ کھیلیں اور ہنسی مذاق کریں ۔ کھیل کود بچوں کی زندگی میں حیات بخش اثر رکھتا ہے۔ کھیل کود کے دوران بچہ بہت سے تجربات کشید کرتا ہے، سیکھتا ہے اور مہارت حاصل کرتا ہے۔ مختصر یہ کہ بچہ کھیل کود کے ذریعے دیکھنے، سننے ،چلنے، دوڑنے اور دوسروں سے میل جول کے طورطریقے سیکھتا ہے۔بچوں کو بچپن ہی سے بڑوں کا ادب کرنے کی تلقین کرنی چاہیے اور انھیں فرماں برداری کا درس دینا چاہیے۔جب بچے کو بات نہ ماننے پر سزا ملے تو بچہ سوچے سمجھے بغیر فرماں بردار ہوجاتا ہے ۔ دوسری صورت میں یہی بچہ جب اپنے ماں باپ کو اپنے والدین کی فرماں برداری کرتے دیکھتا ہے تو خود بھی فرماں برداری سیکھ جاتا ہے۔ جس پر ہم سب بچے کی تعریف کرتے ہیں اور یہ تعریف اس کے لیے انعام کا درجہ رکھتی ہے۔ اور اس طرح وہ ہماری ہر بات ماننے لگتا ہے۔
بچوں کی تربیت کرتے وقت لازمی ہے کہ والدین اپنے رویوں کا بھی جائزہ لیتے رہیں ۔ بچے بہت ہشیار ہوتے ہیں وہ آپ کی غلطیوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ماں باپ بچوں کے سامنے کسی کی برائی نہ کریں۔مشہور قول ہے کہ’’ جو باپ اپنے بچے کو ادب سکھاتا ہے وہ اپنے دشمن کو ذلیل و خوار کرتا ہے۔‘‘ کیونکہ جب بچہ ادب سیکھ جاتا ہے تو مال، مرتبہ، عزت و شہرت سب کچھ حاصل کرلیتا ہے۔حضرت عمرؓ کا فرمان ہے کہ ’’ پہلے اپنے بچوں کو ادب سکھاؤ پھر تعلیم دو۔‘‘ اولاد کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دین کی تعلیم بھی دینی چاہیے۔ بچے کے ذہن میں کسی قسم کے منفی خیالات نہ آنے دیں ،ان سے ان کے حوصلے پست ہوجاتے ہیں۔ اگر امتحان میں بچوں کے نمبرز کم آئیں تو ان سے سختی سے پیش آنے کے بجائے انھیں سمجھایا جائے کہ آپ کے نمبر بھی اچھے آسکتے ہیں بس اس کے لیے تھوڑی سی محنت کی ضرورت ہے۔
ایسے بچے جن کے والدین اُن کاذرا ذرا سا کام خود کرتے ہیں ان بچوں کو والدین پر انحصار کا عادی بنا دیتے ہیں۔والدین کو چاہیے کہ بچوں کو تھوڑی سے ذمے داری سونپیں۔ا ن کے سارے کام خود نہ کریں بلکہ بچوں کو خود کام کرنے کا موقع دیں، اس طرح ان میں اعتماد پیدا ہوگا۔
آج کے والدین کے لیے اپنی اولا کو بُرے ماحول سے بچانا اور متبادل خیر کا پیغام اپنی نسلوں کو دینا بہت ضروری ہے۔گھر اور بچے ہی معاشرے کی اکائی ہیں، اگر یہیں گرفت مضبوط ہو جائے تو آگے معاشرہ بھی پابند ہوجاتا ہے اور اقدار کی حفاظت ہوسکتی ہے۔لہٰذا دینی اصولوں سے آگاہی اور مذہبی افکار کی روشنی میں بچوں کی تربیت انتہائی ضروری ہے۔ایک مشہور دانشور کا کہنا ہے کہ’’ یتیم وہ بچہ نہیں ہے جسے اس کے والدین دنیا میں تنہا چھوڑ گئے ہوں، اصل یتیم تو وہ ہیں جن کی ماؤں کو تربیت اولاد سے دلچسپی نہیں ہے اور باپ کے پاس انھیں دینے کے لیے وقت نہیں۔‘‘

بچوں کی تربیت میں والد کا کردار اور اس کے اثرات

 میں اکیلی ہوں، گھر کے کاموں کے لیے بھی اور بچوں کی ہوم اسکولنگ کے لیے بھی،' ایک باہمت خاتون نے جب ہوم اسکولنگ کے حوالے سے مشورے کے لیے رابطہ کیا تو اپنی مشکلات کے حوالے سے بتانے لگیں۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ 'مزید یہ کہ اگر گھر کے کام پورے نہ ہوں یا کچھ بھول چوک ہوجائے تو شوہر الگ غصہ ہوجاتے ہیں'، ان سے بات کرنے والی خاتون نے ان سے پوچھا کہ ' کیا آپ گھر میں اکیلی ہوتی ہیں بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے؟'

انہوں نے بتایا کہ 'میرے شوہر گھر پر ہی ہوتے اور گھر سے ہی کام کر رہے ہیں'۔

لیکن مسئلہ یہ تھا کہ گھر کے کام اور بچوں کی تعلیم و تربیت اکیلے کرنے کی وجہ سے وہ کافی پریشان تھیں کیونکہ ان کے شوہر بچوں کے حوالے سے کسی قسم کی ذمہ داری اٹھانے پر تیار نہیں تھے۔

دیکھا جائے تو تعلیم و تربیت کی بنیادی ذمہ داری ماں کے ہاتھ میں ضرور ہے لیکن باپ کے تعاون اور متحرک کردار کے بغیر بچوں کی بنیادی تربیت ہونا انتہائی دشوار ہے۔

ماہرین بھی مانتے ہیں کہ بچوں کی تربیت میں والد کا کردار اہم ہوتا ہے، تو اس ضمن میں جانتے ہیں کہ والد کے کردار کیا فوائد ہیں اور ان کا کردار کیوں ضروری ہے؟

والد کے متحرک کردار ہونے کے فوائد

حقیقت یہ ہے کہ بچوں کی صحت مند نشوونما اور کامیاب مسقبل میں والد کا کردار کلیدی ہوتا ہے، جن گھروں میں باپ مثبت اور متحرک انداز میں بچوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں وہاں بچوں کے اندر کئی خصوصیات خود بہ خود پیدا ہوتی چلی جاتی ہیں، جن میں کچھ درج ذیل ہیں۔

  • بچے پر اعتماد ہوتے ہیں۔
  • پڑھنے لکھنے سمیت سماجی صلاحیتوں میں بہتر ہوتے ہیں۔
  • خود پر قابو پانے کے قابل بن جانتے ہیں، اپنے رویوں سے مسائل پیدا نہیں کرتے۔
  • دوسروں کے معاملات اور مشکلات کے حوالے سے زیادہ حساس یا خیال رکھنے
    والے ہوتے ہیں-
  • منشیات یا دیگر نشوں میں پڑنے کا امکان کم ہوتا ہے۔
  • ذہنی مسائل کے شکار کم ہوتے ہیں۔
  • جنسی بے راہ روی میں پڑنے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔
  • کسی قسم کی زیادتی یا نظر انداز کیے جانے کی کیفیت کا شکار ہونے کا 
    امکان کم ہوتا ہے

یاد رکھیں کہ جہاں والد کا کردار بچے کی بہتر تربیت کے لیے اہم ہوتا ہے، وہیں کئی افراد والد کے کردار کو سمجھنے کے بجائے ان کے کردار کے حوالے سے غلط رائے قائم کر لیتے ہیں اور عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ بچوں کی بہتر تربیت کے لیے والد کو سخت ہونا چاہیے اور اسے اپنے بچوں سے محبت سے کم پیش آنا چاہیے جو کہ غلط ہے۔

اس حوالے سے معاشرے میں والد کے حوالے سے پائی جانے والی کچھ غلط فہمیاں درج ذیل ہیں۔

  • یہ سمجھا جاتا ہے کہ ماں کے ہوتے ہوئے والد کے کردار کی ضرورت نہیں ہوتی یا بچوں کو اسکول بھیجنے کی صورت میں باپ کو متحرک کردار ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔

  • معاشرے میں والد کو سخت گیری کی علامت سمجھا جاتا ہے، یہ بات بری سمجھی جاتی ہے کہ باپ اپنے بچوں سے بہت زیادہ محبت کا اظہار کرے یا گھل مل کر رہے۔

  • یہ سب سے بڑی غلط فہمی ہے کہ والد کا اصل کام صرف بچوں کی مادی ضروریات یا پیسوں سےمتعلق اشیا کی فراہمی ہے، پیسے کی فراہمی کا یہ چکر باپ کو
    بچوں سے دور اور مزید دور کرتا چلا جاتا ہے۔

  • ایک بڑی غلط فہمی یہ ہوتی ہے کہ شیر خوار بچے صرف ماں پر منحصر ہوتے
    ہیں، یہ سوچ، بچوں کو شروع سے ہی باپ سے دور کرتی چلی جاتی ہے۔

  • ہمارے معاشرے میں بڑے ہوتے ہوئے بچے اور باپ کے درمیان دوری کو فطری
    سمجھا جاتا ہے خصوصا لڑکیوں کے حوالے سے حالانکہ لڑکیوں کی بہت سی ذہنی اور جذباتی ضروریات باپ ہی پوری کرسکتا ہے۔

ان غلط فہمیوں کا توڑ یہی ہے کہ معاشرے کی عمومی سوچ پر چلنے کے بجائے والد کے کردار کو گھر اور بچوں کے معاملے میں متحرک کیا جائے اور اس ضمن میں والد کے اپنے بچوں سے تعلق بنانے کے درج ذیل طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔


درج ذیل چھوٹے مگر مؤثر طریقوں سے باپ، اپنے بچوں کے ساتھ تعلق کو خوشگوار، گرم جوش اور گھربھر کے لیے فائدہ مند بنا سکتا ہے۔

  • ہفتے میں کسی ایک دن آپ اپنے بچوں کو کھانا کھلانے کی ذمہ داری قبول کریں۔
  • چھوٹے بچوں کو گود میں یا جھولا دیتے ہوئے سلائیں۔
  • بچوں سے بات کریں، نظمیں گائیں اور ان کے ساتھ ان کے پسند کے کھیل کھیلیں۔
  • گھٹنے چلتے بچوں کو کتابیں پڑھ کر سنائیں۔
  • مختلف گیمز سوچیں اور ان میں بچوں کو مصروف کریں۔
  • بچوں کو نرم دل، خیال رکھنے والا اور ایماندار بن کر دکھائیں اور سکھائیں۔
  • بچوں کے ساتھ کھانا کھائیں۔
  • بچوں سے ان کی روز کی مصروفیات پوچھیں۔
  • ان کے دوستوں سے ملیں، انہیں جانیں اور اچھے دوست بنانے میں رہنمائی کریں۔
  • ان سے مستقبل کے خواب کے بارے میں پوچھیں۔
  • ان کی پسندیدہ نظمیں ان کے ساتھ سنیں۔
  • ٹین ایجر بچوں کی غیر نصابی سرگرمیوں میں شرکت کریں۔
  • ٹین ایجر بچوں کو محبت سے گلے لگائیں۔
  • کثرت سے 'مجھے آپ سے محبت ہے' کہنے کی عادت ڈالیں۔

منقول

بچوں کی تربیت: چند عملی باتیں

 بعض مرتبہ مصروفیت اور مشاغل کی کثرت کی وجہ سے والدین یا ان دونوں میں سے کوئی ایک یہ سمجھتا ہے کہ بچوں کی تربیت کرنا ایک مصیبت ہے یا بہت مشکل کام ہے یا میرے بس کی بات نہیں یا کوئی اور اس کام کو انجام دے دے چاہے میں اس کو پیسہ دے دوں، اس کی تنخواہ مقرر کردوں، تنخواہ کے علاوہ کچھ الگ سے دے دوں، لیکن یہ بوجھ میرے سر سے ہٹ جائے۔۔۔۔ اس لیے کہ میں بہت مصروف ہوں، میرے پاس وقت نہیں یا مجھے غصہ بہت جلدی آجاتا ہے، میں بچوں کو سمجھا نہیں سکتا یا مجھے مزہ ہی نہیں آتا، دل ہی نہیں لگتا، وغیرہ۔ ان سب باتوں کا حل یہ ہے کہ آپ اس کو بوجھ نہ سمجھیں، اس کو مصیبت و زحمت نہ سمجھین، اس کو مشکل اور اپنے بس سے باہر نہ سمجھیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اس کو اپنی سعادت سمجھا جائے، اپنے لیے صدقہ جاریہ اور اپنی دعاؤں کے قبول ہونے کا ذریعہ تصور کیا جائے۔ بچوں کی تربیت اور ان کو بیٹھ کر اچھی طرح سمجھانا، ان کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرنا، اخلاق و آداب کے اعلیٰ معیار تک پہنچانے کی کوشش کرنا، دس پندرہ منٹ تک ہاتھوں کو اٹھا کر ان کا نام لے لے کر دعائیں مانگنا، اللہ تعالیٰ سے ان کو دین کی خدمت کے لیے قبول کروانا، دعاؤں کے ذریعے دنیا و آخرت کے انعامات دلوانا، سب امور اپنی سعادت بھی ہیں اور اپنی ضرورت بھی۔ کیوں کہ اولاد معاشرہ میں ایک بہترین فرد کے آنے کا ذریعہ ہے اور ان کی قربت اپنی آنے والی نسل پر احسان۔ اس لیے ضروری ہے کہ اپنی شریک حیات کے ساتھ اس معاملے میں تعاون کیاجائے تاکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ ہو۔

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اپنی اولاد کو عزت دو اور ان کی اچھی تربیت کرو۔‘‘

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے:’’اپنے بچوں اور گھر والوں کو بھلائی کی تعلیم دو اور ان کی تربیت کرو۔‘‘

ان تمام فوائد کو سوچتے ہوئے میاں بیوی دونوں سوچیں کہ بچے کی تربیت سے دنیا و آخرت کے کیا کیا فوائد ہمیں حاصل ہوں گے، کتنے منافع ہمیں ملیں گے، کبھی ایسا ہوسکتا ہے کہ شوہر بیوی سے کہے کہ تم چار فائدے سوچ کر رکھنا اور میں بھی چار فائدے سوچوں گا۔ پھر اسی طرح بیوی شوہر کے ساتھ بیٹھ کر اس کے نہ کرنے کے نقصانات سوچے، پھر اسی طرح دوستوں سے مذاکرہ کریں کہ اگر ہم نے بچے کی تربیت پر توجہ نہ دی، اس کے لیے اپنا وقت فارغ نہ کیا، اسکول و مدسہ کے حالات کی خبر نہ رکھی، گھر سے باہر کن دوستوں اور سہیلیوں میں وہ وقت گزارتا/ گزارتی ہے، کون سی کتابیں دیکھتا ہے، ٹی وی سے ہم نے اس کو نہ بچایا، برے ماحول اور برے دوستوں سے نہ بچایا اور اس کے اساتذہ کرام سے وقتاً فوقتاً حالات معلوم نہ کیے تو اس کے کیا کیا نقصانات ہوں گے۔

ان شاء اللہ جب آپ اس طرح ان فوائد کا مذاکرہ کریں گے اور نقصانات کو بھی سامنے لائیں گے تو تعلیم و تربیت کا شوق پیدا ہوگا، پھر بچوں کے لیے وقت دینا، ان کو سمجھانا، ان کی دینی ذہن سازی کرنا، اللہ جل جلالہ کی عظمت و کبریائی ان کے دلوں میں بٹھانا، حضور اکرمﷺ کی سچی محبت ان کے دلوں میں پیدا کرنے کی کوشش کرنا، بڑوں کا ادب چھوٹوں پر شفقت سکھلانا، اسکول اور مدرسہ کا ہوم ورک کروانا، اسکول اور مدرسوں کی حاضریوں پر کڑی نگاہ رکھنا، ان تمام امور کا اہتمام کرنا آپ کو آسان و دلچسپ معلوم ہوگا۔

پھر جس طرح دوستوں کی محفل اور مجلس میں بیٹھنے میں مزہ آتا ہے، اس سے زیادہ بچوں کی تربیت میں مزہ آئے گا۔ پھر جس طرح اخبار پڑھنے میں اور فضول کہانیوں میں وقت لگانے میں سرور حاصل ہوتا ہے، اس سے زیادہ بیوی بچوں کے پاس بیٹھ کر ان کے مسائل کی گتھیاں سلجھانے میں سرور حاصل ہوگا، پھر جس طرح کاروبار میں کسی سودے کے ہونے پر طبیعت خوش ہوتی ہے، اس سے زیادہ بچوں کو عملی طور سے اخلاق پر لانے میں خوشی محسوس ہوگی، اور جس طرح ملازم کو اوور ٹائم نہ ملنے پر غم ہوتا ہے، یا تنخواہ کٹنے پر غم ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ بچے کی اسکول و مدرسہ کی چھٹی پر غم ہوگا اور اس کی آہ نکلے گی کہ بیٹا! آج تم نے مدرسہ کی چھٹی کیوں کرلی؟ ایک کاروباری کو جس طرح ایک آرڈر ملنے کے بعد پھر وہ آرڈر کسی وجہ سے منسوخ ہوجائے تو جس طرح غم ہوتا ہے، اسی طرح بچے کے امتحان میں فیل ہونے پر غم ہوگا۔

اب میاں بیوی بیٹھ کر سوچیں کہ ہم کس طرح اس بچے کی تربیت کریں، جب تربیت پر وقت لگانے کے فوائد و منافع سامنے آگئے اور اس پر وقت نہ لگانے کے نقصانات بھی سامنے آگئے تو اب ان فوائد و منافع کے حاصل کرنے کا بہتر طریقہ کیا ہے؟ اور ان نقصانات سے بچنے کا بہتر طریقہ کیا ہے؟ اس پر غور کریں اور اس موضوع پر شوہر بیوی سے پوچھے اور بیوی شوہر سے۔ پھر خود سوچ کر ایسی راہ متعین کریں، جس سے بچے کی تعلیم و تربیت کی نگرانی کی پوری ذمہ داری ادا ہو۔ کیوں کہ یہ کام والدین کے علاوہ کسی اور کے سپرد نہیں ہوسکتا۔ کتنا ہی شفیق و ماہر استاد ہو، کتنا ہی اچھا اور معیاری اسکول و مدرسہ کیوں نہ ہو، لیکن آپ اپنی اس ذمہ داری کو اور اس اجر و ثواب کو اور اللہ تعالیٰ کے راضی کرنے کے ذریعہ کو ہرگز ہرگز کسی کے سپرد کر کے مطمئن نہ ہوجائیے بلکہ خود ہی فکر کیجیے۔ ہاں استاد اور پرنسپل و مہتمم، آپ کے معاون ضرور ہوں گے لیکن ایسے سرپرست کامل نہیں ہوسکتے جن کے حوالے کر کے بچے کی تربیت سے والدین مطمئن ہوجائیں۔ اس سے انشاء اللہ وہ تمام شکایتیں دور ہوجائیں گی جو بہت سے والدین کو ہوتی ہیں کہ

٭ فلاں اسکول میں تو جاکر میرا بچہ بگڑ گیا، کوئی توجہ نہیں ہے، کوئی خیال نہیں رکھتے، اتنی فیس دے کر بھی وقت ضائع ہوا۔

٭ فلاں مدرسہ میں تو میرے بچے کا صحیح طور پر حفظ بھی نہیں ہوسکا، قاری صاحب بار بار چھٹیوں پر چلے جاتے تھے، بچے کی منزل بھی کچی رہ گئی، پارے بھی پکے نہ ہوسکے، حفظ بھی مکمل نہ ہوسکا، وہاں تو بہت وقت لگ گیا وغیرہ۔

یہ سب شکایات ان شاء اللہ تعالیٰ دور ہوجائیں گی، جب آپ براہِ راست توجہ دیں گے، اگر آپ بہت زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں ، یا آپ کو اسکول و مدرسہ کے بارے میں تفصیلی حالات کا علم نہیں ہے، لیکن آپ یہ تین کام تو کرسکتے ہیں۔

٭ ہر ماہ بچے کی حاضری کا ریکارڈ اسکول و مدرسہ سے منگوائیں، غیر حاضری پر بہت سختی سے گرفت ہو، ہر قسم کی تادیبی کارروائی جو اس عمر کے بچے کے لیے مناسب ہو کریں، غیر حاضری کے نقصانات بچے کے دل و دماغ میں اتنے شدت سے پیوست کرنے کی کوشش کریں کہ وہ غیر حاضری کو ناقابل معافی جرم سمجھے، دنیا و آخرت کی تباہی و بربادی غیر حاضری میں سمجھے، اور اسے مستقبل میں پشیمانی و پریشانی کا سبب سمجھے۔

٭ امتحانات (ٹسٹ) وغیرہ کی رپورٹ دیکھیں، امتحانات سے چند دن پہلے اپنے پاس بٹھا کر پڑھائیں، امتحانات میں پڑھائی کا خاص ماحول تیا رکرنے کی کوشش کریں۔ امتحانات میں پاس ہونے پر انعامات دیں، کم نمبر آنے پر پچھلے امتحانات سے کم نمبر ہونے پر افہام و تفہیم سے کام لیں، وجہ و سبب معلوم کریں کہ پچھلے امتحان میں یہ حال تھا اب کس وجہ سے ایسا ہوا، پھر اس کی بتائی ہوئی وجوہات پر آپ ہی مشورہ کریں، پھر سوچیں کہ کہاں ہماری غلطیاں ہیں، کہاں بچے کی کمی کوتاہی ہے اور اس کے تدارک کی تدبیر کریں۔

٭ اس کے دوستوں کے بارے میں فکر رکھیں۔ خاص طور پر جن رشتہ داروں کے گھر وہ جاتا ہے ماموں زاد، پھوپھی زاد وغیرہ اگر کسی کے اخلاق و عادات نامناسب ہوں تو ان سے بھی تعلق کم کرائیے، بچے کے ماموں اور خالہ کے لڑکے بھی اگر آپ کے بچے کی تربیت میں مانع ہوں تو مناسب کارروائی اور تربیتی اقدامات ضروری ہیں۔ مثلاً آپ نے بچے کو ٹی وی سے دور رکھا ہے، لیکن اگر یہ خدشہ ہو کہ وہ ماموں و خالہ کے گھر جاکر اس گندی و بری عادت میں مبتلا ہوجائے گا تو اس کو وہاں جانے سے روکیں، یا آپ نے بچے کو اسکول و مدرسہ کے ہوم ورک کرنے کا پابند بنایا ہے اور خالہ و پھوپھی کے بچوں کا حال اس طرح نہیں ہے یا آپ کی بچی اسکارف و دوپٹہ کی پابند ہے اور وہاں یہ ماحول نہیں، آپ نے عشاء کی نماز کے فوراً بعد سونے کی عادت بنائی ہے اور وہاں دیر سے سونے کی عادت ہے اسی طرح محلہ کے بعض غیر دینداروں کے بچے جن کے ہاں تربیت کا اہتمام نہیں تو آپ اپنے بچوں کو برے ماحول سے، برے دوستوں سے ایسے ہی بچائیے جیسے سانپ اور بچھو سے بچایا جاتا ہے۔ کیوں کہ برا ماحول، برے دوست والدین کی ساری کی کرائی محنت کو ضائع کردیتے ہیں۔lll