دھیرے سے مرنا ترک کردو

 تم دھیرے سے مرنا شروع کر دیتے ھو"

اگر تم سفر نہیں کرتے،

اگر تم مطالعہ نہیں کرتے،

اگر تم زندگی کی آواز(پکار) کو نہیں سنتے،

اگر تم اپنی حوصلہ افزائی نہیں کرتے،


"تم دھیرے سے مرنا شروع کر دیتے ھو"

اگر تم اپنی عادات کے قیدی بن گئے ھو،

اگر تم روز ایک ہی پگڈنڈی(راہ) پر چلتے جاتے ھو،

اگر تم اپنی روزانہ کی معمولات میں تغیر نہیں لاتے،

اگر تم مختلف رنگوں میں نہیں ڈھلتے،

اگر تم انجانے لوگوں سے باتیں نہیں کرتے،


"تم دھیرے سے مرنا شروع کر دیتے ھو"

اگر تم انکی جوش کی تپش اور ھنگامہ خیز جذبات کو محسوس کرنا ترک کردیتےھو،

اور وہ جو تمہاری آنکھوں میں چمک پیدا کردیں اور دل کی دھڑکنوں کو تازیانہ دیں۔


" تم دھیرے سے مرنا شروع کر دیتے ھو"

اگر تم اپنے خوابوں کا پیچھا نہیں کرتے،

اگر تم زندگی میں کم از کم ایک بار خود کو سمجھدار رائے(نصیحت) سے فرار کی اجازت نہیں دیتے،


" دھیرے سے مرنا ترک کردو"


" چلی کے شاعر " پیبلو نیرودا" کے کچھ اشعار کا اردو  ترجمہ"

چھوٹی لکیر

 استاد نے کلاس روم میں داخل ہوتے ہی بغیر کوئی بات کیے.

بلیک بورڈ پر چاک سے ایک لمبی لکیر کھینچ دی اور پورے کلاس کو مخاطب ہوکر کہا :

“تم میں سے کون ہے جو بلیک بورڈ پر موجود اس لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کر دے؟ ”

استاد کے سوال کا جواب کلاس میں موجود طلباء میں کسی کے پاس بھی نہیں تھا۔ سوال ہی ایسا عجیب و غریب تھا۔

ساری کلاس سوچ میں پڑ گئی کیونکہ استاد نے ایک ناممکن بات کہہ دی تھی.

کلاس کے سب سے ذہین طالب علم نے کھڑے ہو کر کہا کہ استاد محترم

“یہ ناممکن ہے ، لکیر کو چھوٹا کرنے کے لیے اسے تھوڑا سا مٹانا پڑے گا جو چھوئے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا اور آپ نے چھونے سے منع کیا ہے“ .

باقی طلباء نے بھی سر ہلا کر اس طالبعلم کی بات کی تائید کی۔

استاد نے گہری نظروں سے طلباء کی طرف دیکھا

اور کچھ کہے بغیر بلیک بورڈ پر چاک سے اس لکیر کے متوازی لیکن اس سے بڑی ایک اور لکیر کھینچ دی،

جس کے بعد سب نے دیکھ لیا کہ اب پہلے والی لکیر چھوٹی نظر آ رہی ہے،

استاد نے اس لکیر کو چھوئے بغیر ، اسے ہاتھ لگائے بغیر اُسے چھوٹا کر دیا۔

طلباء نے آج اپنی زندگی کا سب سے بڑا سبق سیکھا تھا کہ دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر , دوسروں پر تنقید کیے بغیر ، اُن کو بدنام کیے بغیر ، اُن سے حسد کیے بغیر , اُن سے آگے بڑھ جانے کا ہنر انہوں نے چند منٹ میں سیکھ لیا تھا.

کہ اپنے آپ کو اخلاق میں ، کردار میں اور عمل سے دوسرے سے آگے بڑھا لو تو تم خودبخود دوسروں سے بڑے نظر آنے لگو گے. دوسروں کو چھوٹا کر کے کوئی بڑا نہیں بن سکتا بلکہ خود بڑا ہوکر بڑا بن سکتا ہے

پچاس کا نوٹ

 ایک بجلی کے کھمبے پر ایک کاغذ چپکا دیکھ کر میں قریب چلا گیا اور اس پر لکھی تحریر پڑھنے لگا ,

لکھا تھا  .. .. .. .. .

براۓ کرم ضرور پڑھیں . .

اس راستے پر میرا کل 50 روپے کا نوٹ کھو گیا ہے, مجھے ٹھیک سے دکھائی نہیں دیتا جسے بھی ملے براۓ کرم پہنچا دے نوازش ہو گی . . . . .

 ایڈریس :....**.....*....***...       ....*.....**....**..

یہ پڑھنے کے بعد مجھے بہت حیرت ہوئی کے پچاس کا نوٹ کس کیلئے اتناضروری ہے تو اس پتہ پر جانے کا ارادہ کیا

اوراس گلی میں اس مکان کے دروازے پر آواز لگائی, 

ایک ضعیفہ لاٹھی ٹیکتی ہوئی باہر آئیں, پوچھنے پر معلوم ہوا کے بڑی بی اکیلی رہتی ہیں اور کم دکھائی دیتا ہے, 

میں نے کہا "ماں جی آپ کا 50 روپے  کا نوٹ مجھے ملا ہے ،  اسے دینے آیا ہوں '"

یہ سن کر بڑھیا رونے لگی,

بیٹا ابھی تک قریب 50 لوگ مجھے پچاس کا نوٹ دے گئے ہیں  ..!

میں ان پڑھ ہوں ٹھیک سے دکھائی بھی نہیں دیتا, 

معلوم نہیں کون میری اس حالت کو دیکھ کر میری مدد کرنے کے لیے لکھ کر چلا گیا ..   ..

بہت اصرار کرنے پر مائی نے پیسے تو رکھ لیے لیکن ایک درخواست کی کہ بیٹا وہ میں نے نہیں لکھا کسی نے میری مدد کی خاطر لکھ دیا ہے جاتے ہوۓ اسے پھاڑ کر پھنک دینا, بیٹا ..   ..  

میں نے ہاں کہہ کر ٹال تو دیا.....

لیکن میرے ضمیر نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا, کہ ان سبھی لوگوں سے بڑھیا نے وہ کاغذ پھاڑنے کیلئے کہا ہو گا, 

مگر کسی نے نہیں پھاڑا,,. 

زندگی میں ہم کتنے صحیح ہیں اور کتنے غلط یہ صرف دو ہی جانتے ہیں . . 

ایک "اللّه  تعالی"

دوسرا ہمارا " ضمیر "

 میرا دل اس شخص کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو گیا,کہ وہ شخص کتنا مخلص ہو گا جس نے بڑھیا کی مدد کا یہ طریقہ تلاش کیا, ضرورت مندوں کی مدد کے کئی طریقے ہیں . . 

میں نے اس شخص کو دل سے دعائیں دیں کہ کسی 

کی مدد کرنے کے کتنے طریقے ہیں صرف مدد کرنے کی نیت ہونی چاہیئے۔۔راستہ اور رہنمائی اللّه پاک

کی طرف سے ہو جاتی ہے۔ 

کڑواہٹ

        " مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے _" 

      وہ چائے کا کپ ہاتھ میں لیے دروازے سے اندر آتی ہوئی بولی _

       عینک کتاب پر رکھتے ہوئے میں نے پلٹ کر کہا :

    " ہاں ہاں ، کیوں نہیں ، بولو ، کیا بات ہے؟ " 

      وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی قریب والی کرسی پر آکر بیٹھ گئی _ چائے میز پر رکھتے ہوئے بولی :

     " چائے پی کر دیکھئے نا ، کیسی بنی ہے؟"

      اس سے پہلے کہ میں چائے پی کر بتاتا کہ کیسی بنی ہے؟ میں نے اس بات کا جاننا زیادہ ضروری سمجھا جو وہ کرنا چاہتی تھی _

      میں نے پوچھا :" کیا بات ہے؟ پہلے وہ بتاؤ _" 

      " ارے پہلے چائے پی کر بتائیے ، کیسی بنی ہے؟ بات بھی بتا دوں گی  _ کون سا میں کہیں بھاگی جا رہی ہوں؟" 

      میں نے اس کی بات پر مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے کپ کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اسے اٹھا کر گھونٹ بھرا _

      لیکن یہ کیا ؟ چائے میں کڑواہٹ اس قدر تھی کہ مجھے فوراً تھوکنا پڑا _

       میں نے چلاتے ہوئے کہا :

" یہ کیا؟

تمھیں چائے بنانی نہیں آتی؟

یہ کیسی چائے بنائی ہے؟

اتنی کڑوی ! "

     وہ مسکراتی ہوئی کرسی سے اٹھ کر کھڑکی میں جا کھڑی ہوئی ۔

      اس کا مسکرانا میرے غصے میں اضافہ کر رہا تھا ، لیکن میں نے برداشت کیا _ میں نے کہا :

     " ایک تو چائے ایسی بنائی ہے ، اوپر سے ہنس رہی ہو _ آخر چاہتی کیا ہو ؟"

     وہ مسکراتی ہوئی بولی :

" کچھ نہیں .... 

بس اتنا بتانا چاہتی تھی کہ آپ کا لہجہ اس چائے سے زیادہ کڑوا ہوتا ہے _

اگر آپ اس کڑوی چائے کا ایک گھونٹ حلق سے نہیں اتار سکے تو سوچیں کہ آپ کے لہجے کے بیسیوں کڑوے گھونٹ ایک نازک عورت کیسے روز سہ لیتی ہوگی ؟

    اتنا کہہ کر وہ چائے کا کپ لے کر خاموشی سے چلی گئی _

      کمرے میں موت کا سنّاٹا چھا گیا _ گھڑی کی ٹک ٹک میرے دماغ پر ہتھوڑے برسا رہی تھی _ میں نے اپنے رویّے پر غور کیا _

تخلیق ہوتی ہے محبت سے

ایک شخص روزانہ چہل قدمی کے لئے جایا کرتا تھا۔ اس راستے پر ایک کمہار کا گھر تھا، جو مٹی کے برتن بنایا کرتا تھا۔

 وہ کمہار کے پاس جا کر بیٹھ جاتا اور اسے غور سے تکتا رہتا ۔ اسے برتن بننے کا عمل دیکھنا بہت اچھا لگتا تھا ۔

ایک دن کمہار نے اس کی محویت دیکھ کر اپنے پاس بلایا اور پوچھا، "بیٹا ! تم یہاں سے روز گزرتے ہو اور میرے پاس بیٹھ کر دیکھتے رہتے ہو ، تم کیا دیکھتے ہو؟"

شخص : میں آپ کو برتن بناتے دیکھتا ہوں اور یہ عمل دیکھنا مجھے بہت اچھا لگتا ہے ۔ اس سے میرے ذہن میں چند سوال پیدا ہوئے ہیں ۔ میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں۔

کمہار : یہ تو بہت اچھی بات ہے ۔ تم پوچھو ، جو پوچھنا چاہتے ہو ۔

شخص : آپ جو برتن بناتے ہیں ، اس کا خاکہ کہاں بنتا ہے؟

کمہار : اس کا خاکہ سب سے پہلے میرے ذہن میں بنتا ہے۔

یہ سن کر وہ شخص جوش سے بولا، میں سمجھ گیا ۔

کمہار نے حیرت سے پوچھا، کیا سمجھے؟

شخص : یہی کہ ہر چیز تخلیق سے پہلے خیال میں بنتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خالق کے خیال میں ہم پہلے بن چکے تھے ، تخلیق بعد میں ہوئی ۔ اب میرا اگلا سوال یہ ہے کہ جب آپ برتن بنا رہے ہیں، تو ایسا کیا کرتے ہیں کہ یہ اتنا خوب صورت بنتا ہے؟

کمہار : میں اسے محبت سے بناتا ہوں۔ میں جو بھی چیز بناتا ہوں، اسے خلوص سے بناتا ہوں اور اسے بناتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتا ہوں تاکہ کوئی کمی کوتاہی نہ رہ جائے ۔

شخص نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا، اس کی بھی سمجھ آ گئی، کیوں کہ بنانے والا ہم سے محبت کرتا ہے ، کیوں کہ اس نے ہمیں بنایا جو ہوتا ہے ۔ اگلا سوال یہ ہے کہ آپ اتنے عرصے سے برتن بنا رہے ہیں ، کوئی ایسی خواہش ہے ، جو آپ چاہتے ہیں کہ پوری ہو ۔

کمہار : ہاں ! ہے ۔ میں چاہتا ہوں کہ ایسا برتن بناؤں کہ دنیا عش عش کر اٹھے اور پھر ویسا برتن میں کبھی نہ بنا سکوں۔۔ کمہار نے حسرت سے کہا۔

یہ سنتے ہی وہ شخص اچھل پڑا۔ واہ ! خالق ہر بار ایسی تخلیق کرتا ہے کہ دنیا بے اختیار عش عش کر اٹھے ، کیوں کہ خالق کو پتا ہے کہ میں جو یہ انسان اس دنیا میں بھیج رہا ہوں ، اس جیسا کوئی اور دوبارہ نہیں آئے گا ۔۔

آپ یونیک ہیں ، اپنے ربّ کی بہترین تخلیق ۔ آپ کے خالق نے آپ کو بہترین بلکہ احسنِ تقویم سے خلق کیا ہے۔ اپنے آپ کو فضول دھندوں میں برباد نہ کریں ۔ لوٹ آئیں اپنے ربّ کی طرف، وہ تمہاری راہ تک رہا ہے۔

دل بنا دیا

 ہندوستان میں ایک جگہ مشاعرہ تھا۔

ردیف دیا گیا:

"دل بنا دیا"

اب شعراء کو اس پر شعر کہنا تھے۔

سب سے پہلے حیدر دہلوی نے اس ردیف کو یوں استعمال کیا:

اک دل پہ ختم قدرتِ تخلیق ہوگئی

سب کچھ بنا دیا جو مِرا دل بنا دیا

اس شعر پر ایسا شور مچا کہ بس ہوگئی ، لوگوں نے سوچا کہ اس سے بہتر کون گرہ لگا سکے گا؟

لیکن جگر مراد آبادی نے ایک گرہ ایسی لگائی کہ سب کے ذہن سے حیدر دہلوی کا شعر محو ہوگیا۔

انہوں نے کہا:

بے تابیاں سمیٹ کر سارے جہان کی

جب کچھ نہ بَن سکا تو مِرا دل بنا دیا۔

حیدر دہلوی اپنے وقت کے استاد تھےاور خیام الہند کہلاتے تھے۔ جگر کے کلام کو سنتے ہی وہ سکتے کی کیفیت میں آگئے، جگر کو گلے سے لگایا،ان کے ہاتھ چومے اور وہ صفحات جن پر ان کی شاعری درج تھی جگر کے پاوں میں ڈال دیے۔

اس واقع سے قبل دہلی کے لال قلعہ میں ایک طرحی مشاعرہ تھا۔ قافیہ " دل" رکھا گیا تھا۔ اُس وقت تقریبا سبھی استاد شعراء موجود تھے۔ان میں سیماب اکبرآبادی اور جگر مرادآبادی بھی تھے۔سیماب نے اس قافیہ کو یوں باندھا۔۔۔۔۔

خاکِ پروانہ،رگِ گل،عرقِ شبنم سے

اُس نے ترکیب تو سوچی تھی مگر دل نہ بنا

شعر ایسا ہوا کہ شور مچ گیا کہ اس سے بہتر کوئی کیا قافیہ باندھے گا؟۔ سب کی نظریں جگر پر جمی ہوئی تھیں۔

معاملہ دل کا ہو اور جگر چُوک جائیں۔۔وہ شعر پڑھا کہ سیماب کا شعر لوگوں کے دماغ سے محو ہوگیا۔

زندگانی کو مرے عقدہء مشکل نہ بنا

برق رکھ دے مرے سینے میں، مگر دل نہ بنا.



مانگیں تو سہی

 مولانا رومی جس انداز سے لوگوں کو مثالوں سے سمجھاتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

کہتے ہیں محمود غزنوی کا دور تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ايک شخص کی طبیعت ناساز ہوئی تو  طبیب کے پاس گیا

اور کہا کہ  مجھے دوائی بنا کے دو طبیب نے کہا کہ دوائی کے لیے جو چیزیں درکار ہیں سب ہیں سواء شہد کے تم اگر شہد کہیں سے لا دو تو میں دوائی تیار کیے دیتا ہوں اتفاق سے موسم شہد کا نہیں تھا ۔۔

اس شخص نے حکیم سے ایک ڈبا لیا  اور چلا گیا لوگوں کے دروازے  کھٹکھٹانے لگا 

 مگر ہر جگہ مایوسی ہوئی

جب مسئلہ حل نہ ہوا  تو وہ محمود غزنوی کے دربار میں حاضر ہوا 

کہتے ہیں وہاں ایاز نے دروازہ  کھولا اور دستک دینے والے کی رواداد سنی اس نے وہ چھوٹی سی ڈبیا دی اور کہا کہ مجھے اس میں شہد چاہیے ایاز نے کہا آپ تشریف رکھیے میں  بادشاہ سے پوچھ کے بتاتا ہوں ۔

ایاز وہ ڈبیا لے کر  بادشاہ کے سامنے حاضر ہوا اور عرض کی کہ بادشاہ سلامت ایک سائل کو شہد کی ضرورت ہے ۔۔

بادشاہ نے وہ ڈبیا لی  اور سائیڈ میں رکھ دی ایاز کو کہا کہ تین بڑے ڈبے شہد کے اٹھا کے اس کو دے دیے جائیں 

ایاز نے کہا حضور اس کو تو تھوڑی سی چاہیے 

آپ  تین ڈبے  کیوں دے رہے ہیں ۔

بادشاہ نے ایاز   سے کہا ایاز 

وہ مزدور آدمی ہے اس نے اپنی حیثیت کے مطابق مانگا ہے 

ہم بادشاہ ہیں  ہم اپنی حیثیت کے مطابق دینگے ۔

مولانا رومی فرماتے ہیں ۔

آپ اللہ پاک سے اپنی حیثیت کے مطابق مانگیں وہ اپنی شان کے مطابق عطا کریگا شرط یہ ہے کہ

مانگیں تو سہی ......

قحط الرجال

 "قحط الرجال" اس حالت کو کہتے ہیں جب قوم یا ملک میں مخلص، قابل، اور باصلاحیت افراد کی کمی ہو اور عوامی امور کو چلانے کے لیے کوئی موزوں رہنما یا ماہر نہ ہو۔

صدارتی تمغوں و ایوارڈ یافتگان میں کوئی ایک بھی سائنسدان ہے جس نے اجناس یا سبزیوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کا کوئی طریقہ دریافت کیا ہو؟ 

کوئی ایک بھی آبی ماہر ہے جس نے بارش اور سیلاب کے پانی کے استعمال کا کوئی نیا طریقہ بتایا ہو؟ 

کوئی ایک بھی ڈاکٹر ہے جس نے کسی زرعی یا انسانی و حیوانی بیماری کے علاج کی دوا ایجاد کی ہو؟

کوئی ایک بھی انجینیئر ہے جس نے تعمیراتی، طبی، یا کیمیائی شعبے میں کوئی نئی ایجاد کی ہو؟ 

کوئی ایک بھی معیشت دان ہے جس نے قرضوں کی معیشت کی دلدل سے نکلنے کا کوئی طریقہ بتایا ہو؟

جب صرف گلوکار، چور، فراڈیے، بھانڈ، اور میراثی ہی قومی ہیروز اور قابلِ فخر قرار پائیں، 

یہی تو قحط الرجال ہے.

(منقول)

مولانا مودودیؒ ملتان جیل میں

 جب مجھے لاہور سے ملتان جیل لے جایا گیا تو دوپہر کا وقت تھا۔ جو کمرہ دیا گیا تھا اس میں چھت کا پنکھا نہیں تھا اور نلکے کی جگہ ہینڈ پمپ تھا۔ یہ اے کلاس قیدی کا کوارٹر تھا۔ سی کلاس کا ایک مشقتی (قیدی ملازم) دیا گیا تھا، جو بیٹھا انتظار کر رہا تھا۔ تقریبا 40 سال کا خوب تنومند آدمی تھا۔ پہلے تو اس نے مجھ کو غور سے دیکھا اور پھر یکدم اٹھ کھڑا ہوا۔ جلدی جلدی سامان سنبھالا۔ ہینڈ پمپ چلا کر غسل خانے میں پانی رکھا اور کہنے لگا: میاں جی، نہا لیجئے۔ ۔ ۔ ۔ میں غسل خانے سے نکلا تو دیکھا کہ پورے کمرے میں ریت بچھی ہوئی ہے اور اس پر پانی چھڑک کر، چارپائی بچھا کر اس پر بستر کر دیا گیا ہے۔ میں نے پوچھا: پہلے تو اس کمرے میں ریت نہیں تھی، یہ کیوں بچھائی ہے؟ تو وہ کہنے لگا: گرمی بہت ہے، میں اس ریت پر پانی ڈالتا رہوں گا تاکہ کمرہ ٹھنڈا رہے اور آپ دوپہر کو آرام کر سکیں۔ 

جتنی دیر میں مَیں نے ظہر کی نماز پڑھی، اتنی دیر میں اس نے کھانا تیار کرلیا اور بڑے سلیقے سے لا کر میرے سامنے رکھا۔ ساتھ میں بڑی معذرت کرتا رہا کہ مجھے آپ کے ذوق کے متعلق کچھ پتہ نہیں ہے، بس جلدی میں جو ہو سکا، کر لیا ہے۔ 

پھر اس مشقتی نے یہ چیز نوٹ کر لی کہ میں کس وقت کون سی دوا کھاتا ہوں۔ اس کے بعد وہ ناشتے کی، دوپہر کے وقت کھانے کی اور رات کو کھانے کی صحیح صحیح دوائیاں سامنے رکھ دیتا تھا۔ کبھی یہ کہنے کی ضرورت پیش نہیں آئی کہ تم نے صبح کے وقت کی دعا نہیں رکھی ہے۔  ۔ ۔ ۔  ابا جان نے بتایا: اس نے جیل میں میری ایسی خدمت کی اور اس محبت سے خدمت کی کہ میں حیران رہ جاتا تھا

 ایک دن اس مشقتی نے مجھ کو یہ بتایا: جب اس کوارٹر میں میری ڈیوٹی لگائی گئی تھی تو مجھے بتایا گیا تھا کہ ایک نہایت خطرناک قیدی آ رہا ہے، جس نے حکومت کو سخت پریشان کر رکھا ہے! بس اس کو راہ راست پر لانا ہے۔ اس کو اتنا تنگ کرو کہ خاموشی سے معافی نامے پر دستخط کر دے اور حکومت جو شرائط منوانا چاہے مان لے، بس تمہارا کام اسے ہر طرح سے تنگ کرنا ہے۔  کھانا اتنا بدمزہ پکانا کہ زبان پر نہ رکھا جائے۔  بس جی، میں کوارٹر میں بیٹھا آپ کا انتظار کر رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ ذرا دیکھوں تو سہی کہ آج ایسے شخص سے پالا پڑتا ہے؟ آخر میں بھی جرائم پیشہ آدمی ہوں، کسی سے کم تو نہیں ہوں۔  پھر جب آپ اندر آئے تو میں آپ کو دیکھ کر بس سوچتا ہی رہا کہ بھلا آپ جیسے شخص سے بھی کسی کو کوئی خطرہ ہو سکتا ہے؟ میاں جی، آپ کو دیکھتے ہی پہلی نظر میں آپ کی محبت نے میرے دل میں گھر کر لیا۔ 

 پھر ایک روز سپرنٹنڈنٹ جیل آئے اور پوچھا:  کوئی شکایت ہو تو بتائیں۔ میں نے کہا: مجھے تو کوئی شکایت نہیں ہے میں بالکل آرام سے ہوں۔ سپرنٹنڈنٹ جیل دوسرے تیسرے دن آتے رہے اور یہی سوال پوچھتے رہے۔ آخر ایک روز پوچھ ہی لیا کہ آپ یا تو تکلفاً یہ کہہ رہے ہیں یا پھر صحیح بات نہیں بتا رہے۔  میں نے کہا: بھائی، اگر کبھی کوئی تکلیف ہوئی تو بلا جھجھک آپ کو بتا دوں گا، فی الحال کوئی تکلیف نہیں ہے۔ اس پر سپرنٹنڈنٹ جیل نے کہا: فلاں فلاں لیڈر اور سیاستدان حضرات اسی جیل کے اسی کوارٹر میں صرف تین دن میں معافی نامے پر دستخط کرکے چلے گئے تھے، یہ معافی نامے حکومت کی فائلوں میں محفوظ رہتے ہیں اور جب یہ حضرات ذرا زیادہ ہی بڑھ بڑھ کر بولتے ہیں، تقریریں کرتے ہیں اور بیانات داغتے ہیں تو ان کو صرف ایک اشارہ کافی ہوتا ہے کہ آپ کا معافی نامہ کل کے اخبارات میں چھپوا دیا جائے گا، بس اتنا سنتے ہی ان کو سانپ سونگھ جاتا ہے اور ایک صاحب تو دو ہی دن میں رو رو کر معافیاں مانگ کر یہاں سے چلے گئے۔ آپ کس قسم کے آدمی ہیں کہ بڑے خوش بیٹھے نظر آرہے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں بالکل آرام سے ہوں۔ 

 اس پر میں نے انہیں سمجھایا: بھائی، جب زندگی ایک خاص مقصد کے حصول کے لیے گزاری جاتی ہے تو پھر یہ گرمی سردی یا جیل کی کوٹھڑی جیسی منزلیں بالکل ثانوی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں۔ میں نے یہ راستہ خوب سوچ سمجھ کر اختیار کیا ہے۔ برتر از اندیشہ سود و زیاں ہے زنگی، کے مصداق ذاتی آرام اور تکلیف سے میں بے نیاز ہو چکا ہوں۔ سپرنٹنڈنٹ صاحب پھر کہنے لگے:  آخر آپ اپنے آٹھ بچوں کو کس بات کی سزا دے رہے ہیں، ان کے بارے میں بھی تو کچھ سوچیے۔ میں نے جواب دیا: بچوں کو تو میں اللہ تعالی کے سپرد کر آیا ہوں۔ اب وہ جانے اور بچے جانیں، ان کی طرف سے میں بالکل فکر مند نہیں ہوں۔ 

کارساز ما بفکر کار ما 

فکر ما در کار ما آزار ما

( ہمارا کارساز دن رات ہمارے کام بنانے میں لگا ہوا ہے جب ہم اپنی فکر خود کرتے ہیں تو یہ ہماری جان کا آزار ہوتا ہے)

 یہ سن کر سپرنٹنڈنٹ صاحب مایوس ہو کر چلے گئے۔ معافی نامے پر دستخط کرانے کی کوششیں ناکام ہوگئیں۔

 پھر ابا جان (مولانا مودودی) نے بتایا: جب میں تفہیم القرآن لکھنے میں مصروف ہوتا تھا یا جب میں نماز پڑھ رہا ہوتا تھا تو مجھے محسوس ہوتا کہ وہ مشقتی (قیدی ملازم) ٹکٹکی لگائے مجھے دیکھتا رہتا ہے۔  کچھ عرصے بعد بقرعید آ گئی۔ اتفاق سے جو راشن جیل سے دیا جاتا تھا وہ ختم ہوچکا تھا۔ اور مزید راشن ابھی پہنچا نہیں تھا کہ عید کی چھٹیاں شروع ہوں گئیں۔ یہاں تک کہ عید کی صبح کو راشن بالکل ختم ہو چکا تھا۔ وہ سخت پریشان تھا کہ راشن پہنچا نہیں، اب آپ کو ناشتہ کیسے دوں؟ یہاں تک بات کرتے کرتے اس کے منہ سے جیل انتظامیہ کے لیے لئے ایک دو مغلظات نکل چکی تھیں۔ میں نے اس سے کہا: رات کو جو چنے کی دال اور روٹی بچی تھی وہی گرم کر کے لے آؤ۔ وہ کہنے لگا وہ تو میں آپ کو کبھی نہیں دوں گا.  بھلا عید کے دن بھی کوئی رات کی باسی دال روٹی کھاتا ہے؟ میں نے اسے سمجھایا:  بھائی، میری فکر نہ کرو، میں بڑی خوشی سے دال روٹی کھا لوں گا (چونکہ ابا جان صبح آٹھ بجے ناشتہ کرنے کے عادی تھے اور اپنے معمولات میں وقت کے سخت پابند تھے اس لئے انہوں نے آرام سے دال روٹی کا ناشتہ کر لیا۔ یہاں پر دادی اماں کی تربیت رنگ لا رہی تھی جو انہیں کبھی سونے کا نوالہ کھلاتی تھیں اور کبھی چٹنی روٹی)……… جس وقت میں ناشتہ کر رہا تھا تو کسی کے سسکیاں بھر کر رونے کی آواز آئی، پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہی مشقتی بیٹھا رو رہا تھا۔ پوچھا: کیا بال بچے یاد آرہے ہیں؟ کہنے لگا میں تو آپ کو دال روٹی کھاتے دیکھ کر رہا ہوں میں سوچ رہا ہوں کہ عید کے دن رات کی باسی دال روٹی تو ہم غریبوں نے بھی کبھی نہیں کھائی، آپ تو بڑے آدمی ہیں آپ نے کہاں کھائی ہوگی؟…… 

 میں نے اسے شفقت سے سمجھایا: دیکھو بھائی ، میں نے یہ راستہ سوچ سمجھ کر اختیار کیا ہے اور میں بڑی خوشی سے اس راہ پر چل رہا ہوں۔ اگر کبھی بالکل بھوکا بھی رہنا پڑا تو ان شاءاللہ آرام سے رہ لوں گا۔ میری وجہ سے رنجیدہ نہ ہوا کرو۔

 اباجان نے مزید بتایا: میں تو ناشتہ کر کے تفہیم القرآن لکھنے بیٹھ گیا لیکن اس بےچارے مشقتی نے احتجاجاً ناشتہ نہ کیا (اگرچہ اس کے لئے دال روٹی بچی ہوئی رکھی تھی ) … اتنے میں کوارٹر کا دروازہ زور زور سے کھٹکھٹایا گیا۔ مشقتی نے دروازہ کھولا تو ایک سنتری کئ ناشتے دان، بڑے بڑے پیکٹ اور گٹھڑیاں اٹھائے کھڑا کہہ رہا تھا: مولانا صاحب آپ کے چاہنے والے تو فجر کے وقت ہی یہ چیزیں لے آئے تھے اور جیل کے دروازے پر کھڑے تھے لیکن سپرنٹنڈنٹ صاحب کا دفتر عید کے بعد کھلا۔ اس کے بعد ان چیزوں کی تلاشی اور جانچ پڑتال ہوئی اس لئے دیر لگ گئی۔  اب قیدی ملازم نے وہ پیکٹ، ناشتے دان اور گٹھڑیاں کھولیں تو ان میں انواع و اقسام کی نعمتیں تھیں۔  میں نے اپنے جیل کے مشقتی ساتھی سے کہا:  دیکھو، یہ سب تمہارے لئے آیا ہے کیونکہ تم ہی اداسی میں بھوکے بیٹھے رو رہے تھے، اب خوب جی بھر کر کھاؤ اور باقی چیزیں دوسرے قیدیوں میں بانٹ  آؤ۔  آخر یہ پراٹھے، شامی کباب، حلوہ پوری، شیرخورمہ اور مٹھائیاں ان کو بھی تو اچھی لگیں گی۔ 

میں یہ کہہ رہا تھا مگر میرا مشقتی ساتھی کف افسوس مل رہا تھا: کاش وہ دال روٹی میں نے آپ کو دینے کی بجائے کووں کھلا دی ہوتی۔  میرے بہت کہنے پر اس نے ناشتہ کیا اور باقی ساری چیزیں دوسرے قیدیوں میں بانٹ آیا اور ساتھ ہی ساتھ ان سے کہتا: میرے میاں جی کے لیے یہ سب چیزیں آئی تھیں انہوں نے تمہیں بھجوائی ہیں!…۔ 

پھر ابا جان نے کہا: عید کے روز دوپہر ہوئی تو اسی طرح دروازہ کھٹکھٹایا گیا اور پھر اسی طرح ناشتے دان اور ہانڈیاں کپڑے میں بندھی ہوئی آگئیں۔ ایسے ایسے کھانے آئے کہ مشقتی ساتھی تو حیران رہ گیا۔  اس نے مجھے کھانا کھلایا اور باقی قیدیوں میں بانٹ آیا۔ رات کو پھر اتنا ہی کھانا آ گیا۔ غرض یہ کہ عید کے تین دن ہمارے رفقا نے ملتان جیل میں اتنا زیادہ اور ایسی ایسی انواع و اقسام کا کھانا پہنچایا کہ سارے جیل والے عش عش کر اٹھے۔ 

 ادھر ابا جان ہمیں یہ تفصیلات بتا رہے تھے، ادھر اماں جان ہمیں متوجہ کرتے ہوئے کہہ رہی تھیں: دیکھو ، سورہ مریم میں یہی بات کہی گئی ہے: 

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجۡعَلُ  لَہُمُ  الرَّحۡمٰنُ  وُدًّا ﴿۹۶﴾

یعنی جو اہل ایمان نیک اعمال کرتے ہیں، رحمان ان کے لئے لوگوں کے دلوں میں محبت ڈال دیتا ہے۔ 

وہ اسی طرح زندگی کے واقعات کو آیات اور احادیث کے ساتھ منطبق کر کے ہمیں ان کا مطلب سمجھایا کرتی تھیں۔ آج بھی اماں جان کے الفاظ کانوں میں گونجتے ہیں۔

" تم عمل تو کر کے دیکھو، پھر آیتیں اور حدیثیں خود اٹھ کر تم کو اپنا مطلب سمجھائیں گی"۔ 


اقتباس از ہمارے والدین۔۔  شجر ہائے سایہ دار 

 سیدہ حمیرا مودودی

بچیوں کی تربیت

 1:   اپنی بچیوں کو کبھی کسی بھی مرد ٹیچر کے پاس سکول پڑھنے،، یا قاری صاحب کے پاس قرآن پڑھنے کے لیے نہ بھیجیں! بچی چھوٹی ہو یا بڑی ہو،، ٹیچر یا قاری صاحب بڑی عمر کے سمجھ دار ہوں یا کم عمر نوجوان..  بچی ہمیشہ استانی کے پاس ہی پڑھے گی

2:   جب بچی کچھ بڑی بڑی لگنے لگے تو اسے دکان پر چیز لینے نہ جانے دیں! خواہ بچی کتنی ہی کم عمر ہو.. اگر صحت مند ہے اور خد و خال واضح ہو رہے ہیں تو دکان پر مت جانے دیں

3:   بچیوں کو کم لباس، یا تنگ لباس کر کے باہر مت بھیجیں! بلکہ گھر میں بھی مکمل کپڑے پہنا کر رکھیں! گھر میں کوئی مرد نہ ہو، صرف عورتیں ہی ہوں پھر بھی پورے ، اور کشادہ کپڑے پہننے کی عادت ڈالیں

4:   بچیوں کو چھوٹے بچوں ، یا بڑے مرد کسی کے سامنے مت نہلائیں! اور نہ ہی پیشاب وغیرہ کروائیں! حتیٰ کہ باپ کے سامنے بھی بچیوں کو برہنہ مت کریں! بچیوں کے اعضاء ستر بچپن سے ہی پردے میں رہنے چاہییں

5:   بچیوں کو بچیوں جیسا تیار کریں! سرخی پوڈر اور میک اپ کروا کر انہیں عورتوں کے مشابہ مت بنائیں! میک اپ کرکے تنگ کپڑے پہن کر چھوٹی چھوٹی عورتیں لگ رہی ہوتی ہیں ۔۔ پھر مردوں کی ہوس کی شکار بنتی ہیں ،، اور ان کی لاشیں ویرانوں سے برآمد ہوتی ہیں

6:   بالغ لڑکیوں کو،، یا قریب البلوغ بچیوں کو غیر محرم خصوصاً کزن، پھوپھا اور خالو وغیرہ کے ساتھ کبھی موٹر سائیکل پر مت بٹھائیں! اگر مجبوراً بھیجنا ہو تو ساتھ کوئی اور بچہ بھیجیں جو درمیان میں بیٹھ جائے۔

7:   بچیاں ہوں یا بچے.. ہاتھ کا مذاق ان سے کوئی نہیں کرے گا۔ نہ استاد ، نہ کوئی بڑا انکل ، نہ ہی قریبی رشتے دار..

اسی طرح گالوں پر ہاتھ پھیرنا ، گود میں بٹھانا ، گدگدی کرنا وغیرہ.. یہ سب چیزیں بالکل ممنوع قرار دیں

8:   بہنوں کے کمرے بھائیوں سے الگ ہونے چاہییں! بھائیوں کو بہنوں کے کمروں میں بلا اجازت جانے پر سخت سزا دیں! بہنوں کے گلے لگنا، گلے میں ہاتھ ڈالنا، مذاق مذاق میں ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہونا بالکل غلط ہے ۔۔ بلکہ موجودہ حالات کے پیش نظر بے ہودگی کے زمرے میں آتا ہے ۔

9: گھر میں کوئی بھی نامحرم مرد مہمان آئے ، قریب سے آئے یا دور سے،، جوان بچیاں اس سے سر پر ہاتھ نہیں رکھوائیں۔ بلکہ بہت قریبی رشتے دار نہ ہو تو سلام کرنا بھی ضروری نہیں۔ یہ بے ادبی کے زمرے میں نہیں آتا ۔

اپنی بچیوں کی جوانی کو ایسے چھپا کر رکھیں کہ کسی مرد کو ان کا سراپا ہی معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ فلاں کی لڑکی اتنی موٹی اور اتنی لمبی تھی وغیرہ ۔۔

10:   بچیوں کو گھر میں محرم رشتے داروں کے سامنے دوپٹہ لینے اور سنھبالنے کی خصوصی مشق کروائیں! دوپٹہ سر سے کبھی سرک بھی جائے تو سینے سے بالکل نہیں ہٹنا چاہیے!

اور کھلے گلوں پر سختی سے پابندی لگائیں! بچیوں کو سمجھائیں کہ دستر خوان پر کبھی کسی کے سامنے جھک کر سالن نہیں ڈالنا، کوئی چیز گر جائے تو جھک کر نہیں اٹھانی.. اور اکیلے میں بھی اگر جھک کر کوئی کام کریں تو گلے اور سینے پر دوپٹے برابر قائم رہے ۔۔ تاکہ انجانے میں بھی کسی کی نظر نہ پڑے..

یہ چند باتیں ہیں جن پر عمل کرنے سے ان شاءاللہ بہت فائدہ ہوگا،، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی بچیاں محفوظ رہیں تو ان پر عمل کریں

ورنہ یاد رکھیں کسی کو آپ کی بچیوں پر ہونے والی زیادتیوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔ان کی لاش گٹر میں ملے ، ندی نالوں میں ملے یا کسی ویرانے میں ملے۔۔  تو یہ صرف اخبار کی ایک خبر ہے ، یا ٹی وی کی نیوز...

 انصاف وغیرہ کو بھول جائیں! وہ یہاں نہیں ملتا ۔

*اس لیے بہتر ہے کہ خود ہی احتیاط کریں ۔

(منقول)

وہابی انگریز

 ہمارے ایک دور پار کے چچا بہت عرصہ غیر ملکی کنسٹریکشن کمپنی میں رہے .... طبیعت میں بذلہ سنجی کوٹ کوٹ کر بھری تھی-

ایک بار فرمانے لگے کہ 1979ء میں ہم مظفرگڑھ کے قریب کسی پراجیکٹ پر کام کر ریے تھے- ہمارا انچارج ایک انگریز تھا جو قدرے سخت مزاج واقع ہوا تھا-

ایک سرد اور دھند آلود صبح جب میں سائٹ پر پہنچا تو بلڈوزر آپریٹر اللہ بخش سخت پریشان کھڑا تھا .... 

مجھے دیکھتے ہی وہ میری طرف لپکا اور ہانپتے کانپتے اطلاع دی کہ " بابا سائیں" ناراض ہو گئے ہیں اور میرا بلڈوزر بند کر دیا ہے- خدا کےلئے میری سفارش کر دو-

میں نے حیرت سے پوچھا کونسے بابا سائیں ؟

وہ بولا قبر والا بابا سائیں ، بہت بڑی سرکار ہیں-

پھر وہ مجھے ساتھ لئے جنگلی جھاڑیوں کے بیچ بنی ایک چھوٹی سی ٹیکری پر لے گیا جو قدرے قبر سے مشابہ تھی-

 اللہ بخش کے مطابق آج صبح کوشش کے باوجود اس کا بلڈوزر  اسٹارٹ نہ ہو سکا تو اچانک اسے یہ قبر نظر آئی ....

 خیر  مشورہ ہوا کہ مسٹر اسٹیفن سے بات کر کے سڑک کی سمت تبدیل کرائی  جائے ..... یہ نہ ہو کہ بابا ہم سب کو ساڑ کر سواہ کر دے ....

وہ بولا سائیں تم خود بات کرو ، ہماری تو نہ بابا سائیں سننے کو تیار ہے نہ ہی اسٹیفن سائیں !!

میں بھاگا بھاگا مسٹر اسٹیفن کے آفس پہنچا اور ماجرا سنایا .... وہ فون پر بزی تھے .... ایک لمحے ہولڈ کہ کر  میری بات سنی ، پھر سرد لہجے میں بولے

" بُل شِٹ !!! "

میں سنی ان سنی کر کے کھڑا رہا- اس کے بعد مسٹر اسٹیفن فون پر بزی ہوگئے .... اور میں استغفار پڑھتا ہوا واپس ہو لیا-

واپس سائٹ پر آکر میں نے ٹیکری والی سرکار کو سجدہ کیا ،  پاؤں چومے اور وعدہ کیا کہ ایک بار بلڈوزر اسٹارٹ کرنے دو ، ہم ریورس کر لیں گے- اور دوبارہ ادھر کا رخ بھی نہ کریں گے- اس کے بعد میں نے خود بلڈوزر اسٹارٹ کرنے کی بہت کوشش کی ... لیکن سائیں بہت تگڑا تھا اور بلڈوزر بہت کمزور !!!

چنانچہ ایک بار پھر جوتے چٹخاتا مسٹر اسٹیفن کے سامنے جا کھڑا ہوا ....

"سر وُہ ...... بابا " میں نے بمشکل کہا-

انہوں نے غصے سے فون کریڈل پر پٹخا ، گودام سے ایک پرانا کپڑا ، لکڑی کا ڈنڈا اور پھاوڑہ لیا اور زیرِلب انگریزی میں کچھ بڑبڑاتے ہوئے میرے ساتھ سائٹ کی طرف چل پڑے-

میں ڈرا کہ یا تو آپریٹر اللہ بخش کی خیر نہیں یا بلڈوزر کو آگ لگانے کا ارادہ ہے-  بلڈوزر کے پاس آکر انہوں نے کپڑا  ڈنڈے کے ساتھ باندھ کر ٹینکی سے تھوڑا ڈیزل نکالا ....اور مشعل جلا کر بلڈوزر کا انجن گرمانے لگے .... اس کے بعد چابی لے کر بلڈوزر پر چڑھے اور پہلی ہی اگنیشن میں اسٹارٹ کر دیا....

میں اور اللہ بخش ایک دوسرے کی طرف حیرت اور شرمندگی سے دیکھنے لگے- اس کے بعد صاحب  نے چابی اللہ بخش کی طرف پھینکی ... پھر بیلچہ لے کر قبر کی اینٹ سے اینٹ بجانے لگے-

 ساتھ ساتھ وہ بڑبڑا بھی رہے تھے....

روڈ فار پیپلز  .... ناٹ فار ڈیڈ باڈیز ... انڈراسٹینڈ یو بابا بلیک شیپ  !!!!!"

میں اور عبدالکریم اس دن شام تک مسٹر اسٹیفن کے سڑ کر سواہ ہونے کا انتظار کرتے رہے ...... لیکن وہ منحوس اگلے روز بھی ہشاش بشاش ہی دکھائی دیا ، وہی مونہہ میں ادھ بجھا سگار اور وہی ٹیڑی گندی ہیٹ !!

پروجیکٹ ختم ہوتے ہی مسٹر اسٹیفن تو ولایت چلے گئے ، مجھے اور اللہ بخش کو ایک نئی ٹیکری مل گئی اور ہم نے اس پر " بابا بلڈوزر شاہ " کا جھنڈا لہرا کر ہی چھوڑا- 

 ایک روز اللہ بخش بولا ..... 

" ملک سائیں  ..... سمجھ نہیں آتی کہ بابا نے اسٹیفن گستاخ کو ساڑ کر سواہ کیوں نہیں کیا تھا ؟؟.."

میں نے ایک ٹھنڈی سانس لیکر کہا....." اللہ بخش !!! بابے صرف انہی کو ساڑ کر سواہ کرتے ہیں جو انہیں مانتے ہوں ....

اسٹیفن تو وہابی انگریز تھا ... اور وہابی تو بابوں کو مانتے ہی نہیں 

(منقول)

بچوں کی اچھی تربیت

 ‏جب بچے نوجوانی(11 سے 19 سال  ) میں داخل ہوں تو انھیں کچھ باتیں خاص طور پر بتائیں 

1- وہ اپنے ناخن ہمیشہ صاف ستھرے اور درست انداز میں کاٹ کر رکھیں اس لیے کہ لوگ سب سے پہلے آپ کے ناخن دیکھتے ہیں۔ صرف دیکھتے ہیں، کہتے کچھ نہیں، 

2:-ڈیڈورنٹ یا کوئی خوشبو ضرور لگایا کریں۔ آپ کے پاس سے کوئی بدبو نہیں آنی چاہیے، کیونکہ آپ کے پاس سے بیڈ اسمیل آنے پر آپ کے دوست، اسکول فیلو، ہمسفر، آفس کولیگز اور آس پاس کے لوگ اس سے سخت پریشان ہوں گے۔

لیکن بولیں گے کچھ نہیں۔۔۔! کیونکہ یہ بہت پرسنل معاملہ ہے 

3:-اس کے بعد اپنے دانت بہت اچھی طرح صاف رکھیں، منہ سے آنے والی بدبودار سانسیں آپ کے مخاطب کو سخت ناگوار گزرتی ہیں۔

مگر لوگ کچھ کہیں گے نہیں۔۔۔!

ایسے معاملات میں آپ کو کچھ کہہ ہی نہیں سکتے، کہیں آپ ناراض ہی نہ ہوجائیں۔۔۔

4:-گردن اور کان کی صفائی بہت توجہ سے کرنی ہے، ناک کے بال ہر ہفتے کاٹنے ہیں، گردن بہت اچھی طرح مَل کر دھونی ہے، کہ کوئی میل نظر نہ آئے۔۔۔

کیونکہ کوئی اس بارے میں سمجھاتا نہیں ہے۔۔۔

دیکھتا ہے مگر خاموش رہتا ہے۔ لیکن

نمبر کٹ جاتے ہیں۔۔۔!

پھر

ناک کان منہ میں انگلیاں نہیں ڈالنی، ناخن نہیں چبانے، بار بار ناک، چہرہ، سر نہیں کھجانا۔

ضرورت ہو تو بہت نفاست سے سلیقے سے ایسا کرسکتے ہیں۔ مثلاً ناک میں خارش ہورہی ہے تو انگلی سے نہیں، ٹشو، رومال یا الٹے ہاتھ کی پشت سے آہستہ سے کھجا سکتے ہیں۔

سیدھے ہاتھ سے تو ہرگز نہیں کیونکہ اس سے آپ نے کسی سے ہاتھ ملانا ہوتا ہے۔

اس لیے بہتر ہے رومال یا ٹشو پیپر ضرور ساتھ رکھیں۔

کیونکہ

نمبر۔۔۔۔۔۔۔!

اسی طرح جسم کے مخصوص حصوں شرمگاہ وغیرہ پر سر عام کبھی ٹچ نہ کرنا۔

چند مزید ہدایات جو کہ یاد دہانی کے لیے اکثر دہراتے رہیں۔

1۔ چاہے شلوار ہو یا پینٹ، انڈروئیر ضرور پہنیں۔

2۔ گھر سے باہر جاتے وقت منہ اٹھائے جھاڑ جھنکار یا الجھے بکھرے روانہ مت ہونا، اپنا منہ ہاتھ دھو کر، بال بنا کر، درست لباس، اچھے جوتے پہن کر جائیں۔ چاہے قریب کی مارکیٹ سے کچھ سامان ہی کیوں نہ لانا ہو۔

3۔ شوز کی پالش اور صفائی کا خاص خیال رکھیں کیونکہ

آپ کی شخصیت کے بارے میں لباس سے زیادہ آپ کے شوز بتاتے ہیں۔

4۔ آدھے پونے پاجامے، ادھوری شرٹس اور ٹائیٹس سخت معیوب لگتی ہیں، خاص طور پر لڑکوں مسجد میں جاتے ہوئے شلوار قمیض میں ہونا چاہیے۔ آدھے بازو کی چھوٹی شرٹ اور جینز کی قمیض آپ سے پیچھے کھڑے نمازیوں کو بہت پریشان کرتی ہے، ان کی توجہ متاثر ہوت

5۔ گھر کے اندر کا لباس بھی باوقار ہونا چاہیے۔

6۔ ماں باپ اور بہنوں کے کمروں میں کبھی دروازہ بجائے بغیر نہیں جانا۔ بہنوں کے کمرے اور زنان خانہ میں بلاوجہ اور دیر تک نہیں بیٹھنا چاہیے۔

7۔ لڑکیو۔۔۔ اب آپ بڑی ہو گئی ہیں، اپنے میلے کپڑے خود دھونا سیکھیں۔ انھیں واش روم میں لٹکا چھوڑ کر مت آئیں۔

8۔ اپنی ضرورت کی پرسنل چیزیں اپنی الماری میں رکھیں۔

9۔ بچے جب ٹین ایج میں داخل ہوں تو والدین بازار سے ریزر اور بلیڈز لا کر دیں اور اپنے بازو پر بال صاف کر کے سمجھائیں کہ کس طرح اپنے جسم کے اندرونی حصوں کے بال ہر ہفتے صاف کرنے ہیں؟

10۔ اپنی اور دوسروں کی پرسنل اسپیس کا بہت خیال رکھیں۔ پرسنل اسپیس ناپنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ

اپنا ہاتھ اور پورا بازو کھول لیں، یہ اندازاً ڈھائی سے تین فٹ بنتا ہے۔ نہ کبھی کسی کی پرسنل اسپیس میں جائیں۔۔۔

یعنی تین فٹ دور رہ کر بات کریں۔۔۔ نہ کسی کو زیادہ قریب آنے دیں۔ یقیناً سفر میں، کار، بس یا جہاز کی سیٹ کا معاملہ ذرا مختلف ہے لیکن اس کے بھی آداب ہیں اور سفر کے سب آداب سیکھنے چاہییں۔

11۔ بچوں کو سمجھایا جائے کہ کسی کو فون کریں یا کسی کے پاس جائیں تو سب سے پہلے ایک سانس میں یہ چار باتیں بتا دیں۔۔۔

سلام، نام، مقام، کام

یعنی پہلے سلام کریں، پھر اپنا اور اپنے علاقے یا ادارے کا نام بتائیں، پھر آنے کا مقصد بتا کر اجازت لیں کہ

آپ سے بات ہوسکتی ہے؟ میں اندر آسکتا ہوں؟ یا کرسی پر بیٹھ سکتا ہوں؟

اجازت ملے تو ٹھیک ورنہ پھر کبھی سہی۔۔۔!

12۔ بغیر اجازت کسی کی میز سے ایک بال پین یا ٹشو تک نہیں اٹھانا، کیونکہ

"یہ جرم کے زینے کا پہلا قدم ہے۔"

13۔ ایک بات جو اکثر بتائیں کہ بیٹا کسی سے فون پر بات کریں یا کسی کے پاس جائیں تو اپنے چہرے پر ہلکی سی حقیقی مسکراہٹ ضرور رکھیں۔ یہ مسکراہٹ آپ کے لیے کامیابی کے بے شمار دروازے کھول دیتی ہے۔

14۔ لڑکے کسی سے ہاتھ ملائیں تو پورا ہاتھ ملائیں، گرم جوشی سے اس کے ساتھ نظریں بھی ملائیں۔ یہ نہیں کہ منہ اِدھر، ہاتھ اُدھر بات کسی اور سے۔۔۔!

15۔ جب دسترخوان پر بیٹھیں تو ایک دوسرے کا لحاظ کر کے تمیز سے کھائیں۔۔۔ ایسا نہ سمجھیں کہ آج کے بعد کھانا نہیں ملنا۔

مزید آپ نے کون سے اصول بنائے اور اپنائے ہوئے ہیں؟

بچوں کی اچھی تربیت، ان کے لیے ہمارا سب سے اچھا تحفہ ہے۔