چوری کی عادت، The habit of stealing

چوری کرنا یقیناً بہت بری عادت ہے اور ہم اپنے بچوں کو اس سےبچانا چاہتے ہیں۔ لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ ماں باپ کی کوشش اور سزا کے باوجود کچھ بچوں میں یہ عادت دن بدن پختہ ہوتی جاتی ہے اور وہ اس کی وجہ سے خاصے بدنام ہوجاتےہیں۔ والدین کے لیے بھی بچوں کی چوری کی عادت خاصی پریشانی اور بسا اوقات خاصی شرمندگی کا باعث بنتی ہے۔ کبھی ہمسائے شکایت کرتے ہیں کہ آپ کا بچہ ہمارے گھر سے فلاں چیز اٹھا کر لے گیا ہے اور کبھی سکول سے ٹیچر لکھ بھیجتی ہیں کہ آپ کے بچے کے بیگ سے دوسرے بچوں کی اشیاء برآمد ہوئی ہیں۔ اکثر مائیں پہلے تو یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتیں اور الٹا چڑھائی کرتے نظر آتی ہیں کہ کیا ہمارا بچہ چور ہے، اور کیا آپ نے میرے بچے کو چور سمجھ رکھا ہے۔۔ لیکن جب ٹیچر ثبوت دیتی ہیں تو پھر شرمندہ ہو کر بسا اوقات اپنے بچے کو پیٹنے لگتی ہیں۔

یہ اور ایسی دیگر کئی مثالوں سے یہ اخذ نہیں کیا جاسکتا ہے بچے چور ہوتے ہیں یا ان کی چوری کی عادت اسی طرح ہوتی ہے جس طرح خدانخواستہ کسی بڑے مجرم کی عادت۔ لیکن دوسری طرف یہ بات بھی درست ہے کہ ابتدائی عمر سے ہی بچوں کو چوری کی عادت سے بچانا چاہیے کیونکہ چھوٹی چھوٹی اشیاء کی چوری اگرچہ کوئی معنی نہیں رکھتی لیکن یہ عادت اگر پختہ ہو جائے تو بڑے جرائم کی طرف بھی راغب کرسکتی ہے۔ بچے چوری کیوں کرتے ہیں اور ان کو چوری سے کیسے بچایا جاسکتا ہے۔ ذیل میں ہم چند ایسی تجاویز پیش کررہے ہیں جن سے آپ چوری کی عادات کا استیصال کرپائیں گے۔

بچے کی صحبت کا خیال کیجیے:

بعض اوقات بچے اپنے کسی قریبی دوست یا بڑے بچے کو ایسا کرتے دیکھتے ہیں اور اس کام کو برا نہیں سمجھتے اور یہ حرکت کرتے ہیں۔لہٰذا بہت ضروری ہے کہ بچوں کے دوستوں  اور ہمجولیوں کی بابت مکمل معلومات حاصل کی جائیں۔ فرض کریں کہ سکول سے آپ کے بچے کے متعلق چوری کرنے کی شکایت موصول ہوئی ہے توٹیچر سے کہہ کر فوراً بچے کی کلاس روم میں جگہ تبدیل کروائیں۔ اگر کچھ اور بچے بھی ساتھ شامل ہوں تو ٹیچر سے کہیں کہ وہ اس گروپ کو توڑیں اور سب بچوں کو مختلف جگہوں پر بٹھائیں اور ان کی نگرانی کریں۔آپ بھی یہ کیجیے کہ روزانہ بچے کا بیگ چیک کیجیے۔ اس میں بچے کی اشیاء کم نہیں ہونی چاہییں اور ظاہر ی بات ہے زیادہ بھی نہیں ہونی چاہییں۔ اگر آپ کوئی شے زیادہ دیکھتے ہیں تو پوچھیں کہ یہ کہاں سے آئی اور کس کی ہے۔ بچے  سے اسے واپس کرنے کا کہیے اور اگر بچہ ایک دو دن نہ مانے تو خود سکول جا کر واپس کر کے آئیے۔

اسی طرح گھر میں بچہ ملازمین وغیرہ کو بھی مختلف اشیا اٹھاتے ہوئے دیکھتا ہے تو خود کرنے لگتا ہے۔ لہٰذا ملازمین کی عادات کا بھی خیال رکھیے کہ بچے ان سے اثر قبول کرتے ہیں۔ 

بچے کی من پسند چیزوں سے زیادہ نہ روکیں:

بعض مائیں گھر میں ڈسپلن کو بہت زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔ گھر میں کھانے پینے کی ایسی کئی چیزیں پڑی ہوتی ہیں جو بچے کی من پسند ہوتی ہیں، لیکن بچے پر پابندی ہوتی ہے  کہ فلاں وقت میں اور اتنی تعداد میں ہی لینی ہے۔ زیادہ لینے پر سختی کی جاتی ہے اور سزا بھی دی جاتی ہے۔ لہٰذا بچہ چپکے سے چیز اٹھا لیتا ہے۔ اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ  بچوں کو سمجھائیے ضرور تاہم بلاوجہ بہت زیادہ سختی مت کیجیے ۔ اگر بچہ کوئی گولی یا ٹافی زیادہ لے لیتا ہے تو اسے سزا مت دیجیے۔ ہاں سمجھائیے ضرور کہ اس سے دانت خراب ہوں گے وغیرہ وغیرہ۔ یا پھر اگر آپ اپنے ڈسپلن میں ذرا بھی نرمی کرنے پر تیار نہیں تو پھر ان چیزوں کو کسی لاک وغیرہ میں رکھیے تاکہ بچہ خود سے لے ہی نہ سکے۔ لیکن یہ کوئی زیادہ اچھی صورت نہیں ہوگی۔

کھلونوں کی چوری:

کھلونے چھوٹے بچوں کی زندگی کا ایک لازمی جزو ہیں۔ بعض والدین بچوں کے کھلونوں کے حوالہ سے  خاصی لاپروائی برتتے ہیں یعنی استطاعت ہونے کے باوجود بچوں کو کھلونے لا کر نہیں دیتے۔ ایسے بچے جب ہمسائے یا دوسرے گھروں میں کھلونے دیکھتے ہیں تو ان کا بھی دل ان کھلونوں سے کھیلنے کو کرتا ہے اور وہ انہیں اٹھا لاتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی سچ ہے کہ ہر کھلونا آپ بچے کو لا کر نہیں دے سکتے ۔ اس کے لیے اسے سمجھائیے۔ خود پیسے جوڑنے کی عادت ڈالیے اورکچھ آسان کھلونے خود بنانا بھی سکھائیے۔

پیسوں کی حفاظت کیجیے:

آج کل چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی یہ معلوم ہے کہ ہر چیز پیسے سے آتی ہے۔ باہر گلی میں کوئی پھیری والا آئے تو فوراً بچے آپ سے پیسے مانگنے لگتے ہیں۔ ہم کبھی تو بچوں کو دے دیتے ہیں اور کبھی انھیں ڈانٹ دیتے ہیں۔ یہ سب ٹھیک ہے لیکن ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال کریں کہ بچے خود سے پیسے اٹھا کر چیز نہ لائیں۔ اس مقصد کے لیے اپنے بٹوے وغیرہ کی حفاظت کیجیے۔ مائیں عموماً اپنے پرس وغیرہ بچوں کے سامنے ہی کہیں رکھ دیتی ہیں، یہ بچوں کو اکسانے والی بات ہے۔

بچوں سے چوری کے متعلق بات کیجیے:

شاید سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ بچوں سے وقتاً فوقتاً چوری کی عادت اور اس کے  برے نتائج پر بات کی جائے۔ ہم اکثر بچوں کو ڈانٹ تو دیتے ہیں لیکن انہیں عقلی اور منطقی طور پر برائی کے نتائج سے آگاہ نہیں کرتے۔ بچوں سے دلیل سے بات کیجیے۔ انہیں بتائیے کہ اس سے دوسروں کا نقصان ہوتا ہے بالکل ویسے ہی  جیسے اگر ان کی کوئی چیز اٹھا لے تو ان کا نقصان ہوگا  وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح بچے معاشرے میں موجود معاشی تفاوت یعنی امیر غریب کے فرق کو نہیں سمجھ پارہے ہوتے اور ہر چیز حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، اس پر بات کیجیے اور بتائیے کہ وہ پڑھ لکھ کر ، محنت کرکے سب کچھ حاصل کرسکتے ہیں لیکن چوری سے حاصل کرنا درست نہیں


حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم بحثیتِ محسنِ نسواں

باب١:قبل از اسلام عورت کا مقام

قدیم دور میں عورت

اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں تمام دنیا کی اقوام میں  عورت کی حیثیت گھریلو استعمال کی اشیاء سے زیادہ نہ تھی۔ جانوروں  کی طرح اس کی خرید وفروخت ہوتی تھی۔ اس کو اپنی شادی بیاہ میں کسی قسم کا کوئی اختیار نہ تھا اس لئے ولی جس کے حوالے کردیتے وہاں جانا پڑتا تھا ۔عورت کو اپنے رشتہ داروں کی میراث میں کوئی حصہ نہ ملتا تھا بلکہ وہ خود گھریلو اشیاء کی طرح مال وراثت سمجھی جاتی تھی اور مردوں کی ملکیت تصور کی جاتی تھی اس کی ملکیت کسی چیز پر نہ تھی اور جو چیزیں عورت کی ملکیت کہلاتی تھیں ان میں اس کو مرد کی اجازت کے بغیر کسی قسم کے تصرف کا کوئی اختیار نہ تھا ۔  یہاں تک کہ یورپ کے وہ ممالک جو آج کل دنیا کے سب سے زیادہ متمدن ملک سمجھے جاتے ہیں ان میں بعض لوگ اس حد کو پہنچے ہوئے تھے کہ عورت کے انسان ہونے کو بھی تسلیم نہ کرتے تھے۔قدیم یونان کے بہت سے فلاسفرز کے نزدیک عورت دراصل مرد کی ناقص صورت ہے۔ ارسطو سے منسوب ہے کہ عورت میں روح نہیں ہوتی۔

دین ومذہب میں بھی عورت کا کوئی حصہ نہ تھا نہ اس کو عبادت کے قابل سمجھا جاتا تھا نہ جنت کے ۔ روم  میں یہ تصور تھا کہ وہ ایک ناپاک جانور ہے جس میں روح نہیں ہے۔  عام طور پر باپ کے لئے لڑکی کا قتل بلکہ زندہ درگور کردینا جائز سمجھا جاتا تھا بلکہ یہ عمل باپ کے لئے عزت کی نشانی اور شرافت کا معیار تصور کیا جاتا تھا ۔بعض لوگوں کا یہ خیال تھا کہ عورت کو کوئی بھی قتل کردے نہ تو اس پر قصاص واجب ہے نہ خوں بہا، اور اگر شوہر مرجائے تو بیوی کو بھی اس کی لاش کے ساتھ جلا کر سَتِی کردیا جاتا تھا ۔ہندوؤں کے قوانین میں تو عورت کے قتل کو سانپ اور چھپکلی مارنے کے مساوی قرار دیا گیا ہے۔ایک طرف عورت پر جور و ستم کا یہ حال تھا تو دوسری جانب بھی انتہاپسندی کا رجحان موجود تھے۔جس میں صرف اور صرف عورت ہی سماجی و مذہبی زندگی کا محور تھی۔ بابلی اور سمیری تہذیب میں بھی یہی معاملہ تھا اور ہندوستان کی بعض ذیلی ثقافتوں میں بھی عورت کو دیوی کا درجہ حاصل تھا اور خاندان کی سربراہ بھی وہی ہوا کرتی تھی۔ 

جدید دور میں عورت

یورپین اور دوسرے ممالک میں تہذیبی و تمدنی ترقی آئی تو انھوں نے عورت کو مردوں کے اختیار سے نکالا اور مساوات کا نعرہ لگا کر عورتوں کو مردوں کے برابر لا کھڑا کیا۔ عورتوں کو گھر سے نکالا اور سیاست و معیشت کے میدان میں لا کھڑا کیا۔ 

مرد کی طرح عورت پہ بھی معاشی ذمہ داریوں کا بوجھ ڈالا ، اسی طرح مردوں کے لیے لازم کر دیا کہ وہ بھی عورتوں کی طرح بچوں کی نشوونما کریں۔ طلاق کا حق مرد کی طرح عورت کو بھی دے دیا۔ حتی کہ کچھ ممالک میں عورتوں کو یہ حق بھی دے دیا گیا کہ وہ مرد کی طرح بیک وقت ایک سے زیادہ مردوں سے ازواجی تعلق قائم کر سکتی ہے۔ 

عورتوں کو بالغ ہونے پر  ماں باپ کے اختیار سے بھی نکال دیا گیا۔ نسلوں کی افزائش کو روکنے کے لیے اشتہاری اقدامات کیے گئے۔  جن میں بچوں کو ماں کے لیے ایک بوجھ کا تصور پیدا کیا گیا۔ برتھ کنٹرول کے ہزاروں طریقے متعارف کروائے گئے اور ان کے لیے باقاعدہ اشتہارات دئیے گئے جن میں عورت کو  کھلے عام  بدکاری کی  ترغیب دی گئی۔

الغرض ان دونوں قسم کی تہذیبوں نے عورت کا مقام ختم کر دیا۔ ایک طرف  عورت کی آزادی کی وجہ سے  ازواجی رشتہ  قائم رکھنا مصیبت بن گیا تو دوسری تہذیب نے عورت کو ہر چیز سے پست کر دیا۔ایک طرف  اس کے حقوق تک صلب کر کے اسے ہر اختیار سے محروم کر دیا گیا تو دوسری طرف اسے ہر طرح کی آزادی دے دی گئی جس سے نہ صرف وہ خود تباہی کا شکار ہوئی بلکہ اپنے معاشرے کو بھی تباہی و بربادی کی طرف لے گئی۔قدیم معاشرے نے اگر ہر قدم اور ہر طرح سے عورت کو ٹھکرایا تو جدید دنیا نے اسے سیاسی و معاشی لحاظ سے مرد کے مساوی قرار دے دیا اور اسے  ) Equality مساوات) کا نام دے دیا۔

ان شکستہ حالات میں رسول اللہ ﷺ نے  عورتوں کو ان کے حقوق دلائے، مردوں کو خواتین کے احترام کا تصور دیا اور سماج میں عورت کو وہ مقام دیا جو آج کی نام   نہاد متمدن تہذیب بھی دینے سے قاصر رہی ہے۔ آپ ﷺ نے نہ ہی عورت کو دیوی قرار دیا اور نہ ہی اسے شر کا منبع تسلیم کرنے پر رضامند ہوئے۔مرد و زن کے باہم غیر فطری تصور مساوات کے بجائے آپ ﷺ نے Equality  کی  بجائے Equity   کا تصور دیا۔ نہ تو  عورت کو مرد کی غلام  و مِلک سمجھا گیا اور  نہ ہی  اندھی مساوات کے  نعرہ کے طور پر اس کے ناتواں کندھوں پہ بھاری بوجھ ڈالا۔ بلکہ آپﷺ نے  خواتین کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک  کیا اور امت کو بھی ایسا کرنے کی تاکید کی۔اپنے قول و عمل کی بنا پر آپ ﷺ نے عورت کو اس کا اصلی مقام دلایا ۔ نیز اس سے ہر وہ بوجھ دور کر دیا جو کبھی وہ غلام بن کر سہتی تھی اور کبھی آمر بن کر۔ جس کے نتیجے میں اسلامی معاشرہ توازن و رعنائی کا ایک حسین مجموعہ بن گیا ۔نیز عورت کا یہی درست مقام مسلم معاشرے کی  اخلاقی و کرداری ترقی کا موجب بنا۔اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ حضورﷺ خواتین کے حقیقی محسن تھے جنہوں نے عورت کو  انسانیت کے اس  درجے پہ فائز کروایا جو اس کا اصل حق  وضرورت تھا ۔

باب٢: رسول اللہ ﷺ بحیثیت محسنِ نسواں

 حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے اللہ کے حکم پر نہ صرف یہ کہ معاشرے میں موجود عورتوں کو قابلِ عزت قرار دیا بلکہ اپنے اسوہ سے مسلمانوں کو ترغیب دی کہ وہ خواتین کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔اس حصہ میں ہم حضورﷺ  کے خواتین پہ کیے جانے والے احسانوں کا جائزہ لیں گے۔

عورتوں کے حقوق سے متعلق رسول ﷺ کے اقدامات

معاشی و تعلیمی حقوق

وراثت میں حصہ

حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے اسلامی قانون میں واضح کیا کہ وراثت میں ایک حصہ عورت کا بھی ہے۔ جب کہ اس سے قبل عورت کو وراثت کا حق دار نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اس سے قبل عورت (بیوی) کو شوہر کا ترکہ سمجھا جاتا اور جائیداد کی طرح عورت بھی شوہر کے رشتہ داروں میں کسی کے حصہ میں آ جاتیں۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے عورت کو خاوند کی جائیداد کی بجائے خاوند کی جائیداد میں سے ایک حصہ کا وارث قرار دیا۔اگر عورت بیٹی ہے تو اسے باپ کی وراثت کا وارث قرار دیا۔ اگر ماں ہے تو اسے بیٹے کی وراثت میں سے حصہ ملے گا۔یہ احسان بس اسلام نے ہی عورت پہ کیا۔

تعلیم و  کسبِ معاش کا حق

حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے خواتین کو  تعلیم حاصل کر نے اور اپنی مرضی کا پیشہ اختیار کرنے کا حق دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے تعلیم کو ہر مسلمان مردو عورت پہ فرض قرار دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے بارہا عورتوں کو تعلیم دینے کی تلقین کی۔ یہ تلقین صرف آزادو خود مختار یا اونچی ذات کی خواتین کے لیے نہیں کی گئی بلکہ یہی حکم آپﷺ نے کنیزوں کے بارے میں بھی دیا۔ چنانچہ حضرت ابو موسی شعریٰ سے روایت ہے کہ

"حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس کوئی کنیز ہو اور وہ اسے اچھا ادب سکھائے، پھر اسے آزاد کر  کے اس سے نکاح کر لے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔اسی طرح  جو غلام اللہ  کا اور اپنے آقا کا حق ادا کرے اس کے لیے بھی دوہرا اجر ہے "۔

اس حدیث سے  نہ صرفنہ صرف یہ کہ اسلام میں کنیزوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی اہمیت اور آزاد و غلام کی برابری کا  پتا چلتا ہے بلکہ تعلیم  کی فرضیت کا پہلو بھی نمایا ں ہوتا ہے ۔اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت حفصہ کا  لکھنا پڑھنا سیکھنے کا ذکر ملتا ہے۔ اس کے علاوہ ام المومنین حضرت عائشہ نہ صرفنہ صرف خود پڑھنا لکھنا جانتیں تھیں بلکہ ان کی اہمیت ایک معلمہ کے طور پہ بھی جانی جاتی تھی۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے عورت کو اپنی مرضی کاپیشہ اختیار کرنے کی اجازت دی۔آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کی یہ اجازت بس دوسروں کی بیویوں تک محدود نا تھی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم اپنی ازواج کو بھی کام کرنے سے منع نہ کرتے تھے۔حضرت عائشہ کے علاوہ اور بہت سی صحابیات  جیسے  ربعی بنت معوذ، عائشہ بنت  سعد بن ابی وقاص ، سیدہ فاطمہ بنت  قیس نامور معلمہ تھیں جو مردو خواتین دونوں کو تعلیم دیا کرتیں ۔ کچھ صحابی خواتین شاعری کا پیشہ اختیار کیے ہوئے تھیں جن میں حضرت خنساء،سودہ، صفیہ، عاتکہ اور ام ایمن مشہور ہیں۔ ایسے ہی کچھ صحابیات نے طب اور سرجری کے میدان میں اپنے ہنر دکھائے جن میں  حضرت رفاضہ اسلمیہ، ام عطاع، ام کبغہ، حمنہ بنت حجش ، ام عطیہ اور ام سلیم  شامل تھیں۔کچھ خواتین کھیتی باڑی کے پیشہ سے منسلک تھیں تو کچھ صحابیا ت فنِ دباغت یا دست کاری میں ماہر ہونے کے ساتھ اپنا پیشہ بنائے ہوئے تھیں۔ کچھ خواتین جیسے ام المومنین حضرت خدیجہ، حضرت خولہ اور حضرت ثقافیہ وغیرہ تجارت کا  پیشہ اپنائے ہوئے تھیں ۔

معاشرتی حقوق

حائضہ سے سلوک

حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم سے قبل عورتوں کو وقتِ حیض  گھر سے باہر نکال دیا جاتا اور حیض ختم ہونے تک انھیں گھر میں رہنے کی اجازت نہ دی جاتی۔ جب کہ ایسے گھرانے جو معزز سمجھے جاتے تھے وہ اپنی عورتوں کو گھروں سے تو نہ نکالتے مگر ان کے ساتھ اچھوت سا رویہ اختیار کر لیتے کہ حیض کے دنوں میں عورت نہ تو کنگھی  (اپنی اور دوسروں)کر سکتی نہ گھر کی کسی چیز کو ہاتھ لگا سکتی تھی، نہ کھانا پکا سکتی حتیٰ کہ عبادت کے الفاظ تک سننے سے اسے منع کر دیا جاتا۔ اگر کوئی عورت حالتِ حیض میں عبادت کرنے والے کے پاس سے گزرتی یا الفاظ سن لیتی تو اس سے سخت سلوک کیا جاتا۔مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے اس قبیح رسم کو ختم کیا اور باور کروایا کہ ان دنوں عورت ہر کام کر سکتی ہے چاہے وہ گھر کا ہو یا خاوند کا۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ:

"حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم جب اعتکاف میں ہوتے تو اپنا سر مبارک مسجد سے باہر میرے حجرے کی طرف بڑھا دیتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کے سر مبارک کو دھو دیتی  تھی حالانکہ میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی "۔

اسی طرح حضرت عائشہ حیض کے دوران تلاوت سننے کے بارے میں فرماتیں ہیں:

"جن دنوں مجھے حیض آ رہا ہوتا تھا ایسی حالت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم میری گود کا تکیہ لگا کر قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے "۔

 حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے اپنے عمل سے اس بات کی تعلیم دی کے دورانِ حیض عورت پلید نہیں ہو جاتی نہ ہی اچھوت ہو جاتی ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے نہ تو دورانِ حیض اپنی بیویوں کو گھروں سے نکالا نہ ہی کام کاج سے روکا، نہ ہی برتن علیحدہ کیے اور نہ ہی انھیں خود کو چھونے سے روکا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے مدتِ حیض میں صرف حقِ زوجیت ادا کرنے سے روکا وہ بھی عورتوں کی بھلائی کے لیے کیونکہ حیض بذات خود تکلیف دہ  ہے ۔ 

زندہ رہنے کا حق

حضور ﷺ سے پہلے لڑکیوں کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ لوگ پید ا ہوتے ہی لڑکیوں کو زندہ دفنا دیتے یا قتل کر دیتے اور ایسا کرنے میں کوئی عار محسوس کرنے کی بجائے فخر محسوس کرتے۔ مگر حضور ﷺ نے  معاشرے کو احساس دلایا کہ لڑکے کی طرح  لڑکی  بھی معاشرے کی ایک فرد ہے اس لیے اسے بھی زندہ رہنے کا حق حاصل ہے۔حضورﷺ نے لڑکیوں کو قتل کرنا یا دفنانے سے بس منع ہی نہیں کیا بلکہ  اسے گناہِ عظیم قرار دیا تا کہ لوگ ایسا کرنے سے بعض رہیں۔ 

عائلی حقوق

خلع  کا حق

حضور ﷺ نے عورت کو خلع کا حق دیا۔ اس کے مطابق اگر ایک عورت سمجھے کے  خاوند کے ساتھ اس کا گزارا ممکن نہیں تو وہ اس سے خلع لے سکتی ہے۔

اپنی پسند سے شادی کا حق

 حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے عورتوں کے مقام کو بلند کر کہ انھیں یہ حق  بھی تفویض کیا کہ   وہ بالغ ہے تو نکاح کے لیے لڑکے کی طرح اسے بھی مرضی ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے ۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے خواتین کی فطرتِ حیا کو مدِ نظر رکھتے ہوئے  فرمایا کہ کنورای لڑکی کی خاموشی ہی اس کی رضا مندی سمجھی جائے۔ بالغ ہونے سے پہلے نکاح کیا جائے تو لڑکی کے ولی یا  اس کے باپ کا لڑکی کی طرف سے رضامند ہونا ضروری ہے  مگر ساتھ ہی خواتین کو یہ حق بھی دیا  کہ اگر بالغ ہونے پر وہ اس نکاح کو رکھنا چاہیں  تو رکھیں ورنہ رد کر دیں۔ یہی ردِ نکاح کا حق ان خواتین کو بھی دیا گیا جن کے نکاح ان کے والدین زبردستی کروا دیں۔

"حضرت خنسا بنت خدام کا نکاح ان کے والد نے کسی شخص سے کر دیا حالانکہ  وہ بالغ تھیں۔ ان کو یہ نکاح نا پسند ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہو کر شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے نکاح فسخ کروا دیا "۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے خواتین   کوحقِ تخییر (نکاح رکھنا یا فسخ کر دیا) عطا کر کے انھیں مردوں کے برابر کھڑا کر دیا جو کہ عرب معاشرے میں بذات خود ایک عجیب فیصلہ تھا کہ وہاں لڑکیوں اور خواتین کو بھیڑ بکریوں کی طرح سمجھا جاتا اور ان کی زندگی کا ہر فیصلہ ان کے وارث کرتے چاہے وہ فیصلہ لڑکی کے میل جول کا ہوتا، کھیل کود کا یا نکاح جیسے عظیم رشتے کا مگر کہیں بھی عورت کو کوئی مقام نہ دیا جاتا کہ وہ اپنی رائے دے سکے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے نکاح  کی پسند کا حق دے کر یہ واضح کر دیا کہ خواتین بھی مردوں کی طرح انسان ہیں اور انھیں بھی اسلامی حدود میں رہتے ہوئے ہر طرح سے اپنی مرضی کرنے کا حق حاصل ہے۔

عورت کے لیے خاندان کے فرد کی حیثیت سے حقوق

بیوی کے حقوق 

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے ازواجی رشتہ میں بیوی کو بھی مقام دلایا  جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم سے پہلے بیوی کو ایک غلام سے زیادہ اہمیت حاصل نہ تھی۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے انھیں  لونڈی سے بیوی کا درجہ دلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے فرمایا:

"یاد رکھو! تم میں سے بہتر وہ  لوگ ہیں جو اپنی عورتوں (بیویوں ) کے لیے بہتر ہے"

آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کی حدیث کے ساتھ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کے عمل کو دیکھا جائے تو وہاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کے قول کا عکس ہی ملے گا جیسا کہ حضرت ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

"حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم جب گھر میں ہوتے تو اپنے اہل خانہ کے کام کاج کیا کرتےتھے۔اپنی گھر والیوں کی خدمت کیا کرتے اور جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کی طرف چلے جاتے "۔

اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے عمل کر کے دکھایا کہ بیوی کے ساتھ کام میں ہاتھ بٹانے میں کوئی عار نہیں بلکہ مل جل کر کام کرنا ہی بہتر ہے۔بعض دفعہ حضو ر صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم  کو کبھی کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو بیویوں سے مشورہ کر کے ان پہ عمل بھی کرتے اس عمل سے لوگوں کی اس بات کی نفی ہوتی ہے کہ عورت جاہل اور ناکارہ دماغ کی ہوتی ہے۔ 

آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے بیوی کے ساتھ ہنسی مذاق بھی کیا کرتے  اور انھیں اس بات کا حق بھی دے رکھا تھا کہ وہ اپنے حقوق  لینے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم سے مطالبہ بھی کر سکتیں ہیں۔یہی نہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کبھی سفر پہ جاتے تو بیوی کو ساتھ لے کر جاتے اور اگر کبھی کوئی دعوت پہ بلاتا تو تب تک دعوت قبول نہ کرتے جب تک میزبان آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کی بیوی کو بھی دعوت میں نہ بلا لیتا ۔ ایسا آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم اس لیے کرتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم  یہ پسند نہ کرتے کے آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم خود تو دعوت کھائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کی بیوی بھوکی رہے۔آپ  صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے  ہر شوہر کو حکم فرمایا کہ:

"(اپنے ساتھ) اپنی بیوی کو بھی کھلائے جب خود کھائے۔اسی طرح جب تو خود لباس پہنے تو (بیوی کا جوڑا سلوا کر) اسے بھی پہنائے"(ابوداؤد: کتاب النکاح)

قبل اسلام جب عورت خصوصاً بیوی کو مارنا شوہر اپنا فرض سمجھتے تھے ایسے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے اپنی تعلیم  و عمل سے عورت کو اس  تشدد سے بچا لیا اور مردوں کو اس معاملے میں خصوصی ہدایات دیں اور یہ بات واضح کی کہ عورت پہ ہاتھ اٹھانا یا انھیں معاشی طور پہ تنگ کرنا یا انھیں گھٹیا چیزیں دینا اور خود اچھی چیزیں استعمال کرنا اللہ تعالیٰ کو سخت نا پسند ہے۔  ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے صحابہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

"جن لوگوں نے اپنی بیویوں کو مارا ہے وہ  تم میں سے بہتر انسان/لوگ نہیں ہیں "۔

اس طرح اپنے طرزِ عمل سے حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے بیوی و عورت کے بارے میں ہر نفی بات کی نفی کر کے انھیں تمام حقوق دے کر معاشرے میں خاص مقام سے نوازا۔

ظہار کی ممانعت

حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے ظہار جیسی قبیح رسم کو  ختم کر کے خواتین کو ذہنی سکون مہیا کیا۔ ظہار میں ایک شخص اپنی بیوی کو بڑھاپے میں اپنی محرمات  کے مشابہ قرار دے دیتا ہے جیسا کہ بیوی کو کہتا  کہ تم  میرے لیےمیری ماں کی طرح ہو اور اس سے ماں کا سا سلوک کرنے لگتا۔اس طرح میاں بیوی کے رشتے  میں علیحدگی ہو جاتی ۔ مگرایک ایسی عورت جو ساری زندگی و جوانی میں ایک شخص کی بیوی رہی ہو بڑھاپے میں اپنے ہی خاوند کی ماں بننے سے عورت کے دماغ پہ منفی اثرات مرتب  ہوتے اور وہ مسلسل اذیت کا شکار رہتی۔اس لیے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے اس رسم کو اللہ کے حکم سے ممنوع قرار دیا ۔اس رسم کی ایک مثال ہم یہاں  بیان کرتے ہیں:

"حضرت خولہ جو کہ مشہور صحابی اوس بن صامت کی بیوی تھیں ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور شکایت کی کہ میں نے اپنی ساری جوانی اپنے شوہر کی نذر کر دی ۔ شوہر اور اس کے بچوں کے لیے خود کو مٹا دیا، اب بڑھاپے میں وہ مجھ سے ظہار کے ذریعے علیحدگی چاہتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے اس سے منع فرمایا اور حضرت اوس کو اس کا کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا "۔

ماں کے حقوق

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم  نے ماں کے طور پہ بھی عورت کو  بلند مقام و رتبہ سے نوازا۔ یہاں تک کہ اللہ کے پیار کو عام لوگوں کو سمجھانے کے لیے بھی  ماں کے پیار کی مثال  پیش کی ۔اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے متعدد بار ماں کی خدمت وعزت کرنے کی تلقین کی۔ حضرت ابو سلامہ سے روایت ہے کہ

"آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور دریافت کیا میں کس سے نیکی کروں؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے تین بار فرمایا: میں ہر شخص کو اس کی ماں کے ساتھ نیکی و حسنِ سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔چوتھی بار فرمایا: "میں ہر شخص کو اس کے باپ سے نیکی و حسن سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں"۔ (ابن ماجہ-کتاب الاداب)

آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم  حضرت ام ایمن (جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کی غلام تھیں اور انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کو پالا تھا) کو صرف ماں کہہ کر پکارتےاور ان کی عزت و اکرام کرتے۔اگر کبھی وہ سخت بول جاتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم مسکرا دیتے۔ یہاں تک کہ وہ پانی مانگتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم بغیر پس و پیش کے خوشی سے پانی پلاتے۔اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم زوجہ ابو طالب حضرت فاطمہ کو بھی" میری ماں" کہہ کر پکارتے ،ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے، ان کا ہاتھ بٹاتے اور  ان کے لیے  اللہ کے حضوردعائیں کرتے ۔یہاں تک کہ جب ان کی وفات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم ان کی قبر میں اترے اور نمازِ جنازہ بھی خود پڑھا کر قبر کی کشادگی کے لیےدعا کی۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے عورت کو ماں کے طور پہ وہ مقام دلایا جو شاید ہی کسی مذہب میں دلایا گیا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم  ماں کے رشتہ داروں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کرنے کا ارشاد فرماتے۔ حضرت عبداللہ بن عمراس سلسلے میں روایت  کرتے ہیں

"ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: 

یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم میں نے ایک بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کر لیا ہے ۔ کیا کوئی توبہ کی صورت ہے؟

آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے فرمایا:

کیا تیری ماں زندہ ہے؟

اس نے کہا 

جی نہیں

آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے فرمایا:

کیا تیری کوئی خالہ ہے؟

اس نے کہا

جی ہاں

آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے فرمایا

جا اور اس کے ساتھ حسنِ سلوک کر (تیرا گناہ معاف ہو جائے گا)"۔ 

اس  حدیث سے ظاہڑ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے ضیعف و کمزور عورت کو جسے معاشرے میں بوجھ سمجھا جاتا تھا  ایسا قابلِ تکریم بنا دیا کہ اس کی مثال نہیں ملتی کہ ماں نہ ہو تو خالہ سے حسنِ سلوک کرنے سے  بھی رب کی رحمت حاصل ہو سکتی ہے اور توبہ قبول ہونے کی صورت نکل آتی ہے۔

بیٹیوں کے حقوق 

حضور صلی  اللہ علیہ وآلٰہ وسلم  اپنی بیٹیوں سے بہت پیار کرتے اور ان کا اتنا اکرام کرتے کہ انھیں اپنی جگہ پہ بٹھا دیتے۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ

"حضرت فاطمہ جب اپنے اباجان کے گھر آتیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم اٹھ کھڑے ہوتے۔ حضرت فاطمہ کی طرف بڑھتے ۔ بیٹی کا ہاتھ تھام کر بوسہ لیتے اور اپنی جگہ پہ بٹھاتے "

یہ ایک عملی طور پہ نمونہ تھا جو آپﷺ نے اہلِ عرب  کہ سامنے رکھا تا کہ بیٹیوں سے محبت و عزت کا سلوک کیا جائے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم اپنی نواسی کو نماز کے دوران اٹھائے رکھتے تا کہ  عرب لوگوں کے دل میں بیٹیوں کے لیے مقام پیدا ہو اور وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم  کی اتباع   میں اپنی بیٹیوں کے ناز نخرے اٹھائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم   نے مزید ترغیب دینے کے لیے فرمایا:

"جس کے پاس بیٹیاں ہوں اور اسے ان کی وجہ سے آزمائش کا سامنا کرنا پڑا ۔اس نے ان بیٹیوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو وہ بیٹیاں جہنم کی آگ کے سامنے حجاب بن جائیں گی"۔(صحیح مسلم)

آپ ﷺ کی اسی قولی و فعلی تربیت کا اثر ہے کہ وہی بیٹیاں جن کی پیدائش پہ لوگ افسوس کرتے ،کچھ انھیں پیدا ہوتے ہی دفن کر دیتے، خود کو مجرم خیال کرتے کہ ان کہ گھر بیٹی پیدا ہوئی ہے وہی لوگ بیٹیوں کو اللہ کی رحمت اور ان کی پیدائش خود کے لیے اعزاز سمجھنے لگے۔

عورتوں کو قابل محبت سمجھنا

حضور ﷺ نے  عورتوں کو نہ صرف یہ کہ انسانیت کا درجہ دلایا بلکہ آپﷺ وقتا فوقتا خواتین سے محبت کرنے کی ترغیب دیتے رہتے تھے۔

• اس سے قبل زہد و تقویٰ کی علامت یہ تھی کہ بندہ عورتوں سے دور رہے، شادی نہ کرے ان سے نفرت کرے اور انھیں منحوس جانے۔ آپ نے انھیں قابل احترام اور محبت کے قابل قرار دیا۔

• آپﷺ نے فرمایا مجھے دنیا کی چیزوں میں سے عورت اور خوشبو پسند ہے اور میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں رکھ دی گئی ہے۔

• نکاح میری سنت ہے جس نے میری سنت سے روگردانی کی اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔

• تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں (بیوی) کے لیے بہتر ہے۔

• جس کی بیٹیاں ہوں اور وہ ان سے حسن سلوک کرے وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔


از:  عدیلہ کوکب 

(یہ مضمون مصنفہ کی کتاب "حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کے درخشاں پہلو " سے لیا گیا ہے)۔

بچوں کو کمپیوٹر پروگرامنگ/ کوڈنگ سکھائیں

تمام والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے اچھی تعلیم و تربیت کا بندوبست کریں اور اپنے بچوں کے اندر ایسی مہارتیں اور صلاحتیں پیدا کریں کہ وہ ہر میدان میں کامیابیاں حاصل کریں۔

اگر آپ بھی اپنے بچوں کے اندر ایسی مہارت پیدا کرنا چاہتے ہیں تو اس ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے احسن اقدام یہ ہے کہ آپ اپنے بچوں کو کمپیوٹر کوڈنگ سکھائیں۔ اس عمل سے نہ صرف آپ کا بچے چھوٹی عمر سے ہی نت نئے پروگرام بنانا شروع کر دیں گے بلکہ اس کے اندر ایسی لرننگ تعلیمی صلاحتیں پیدا ہوں گی کہ جو ان کو زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی کافی فائدہ دیں گی۔

کوڈنگ ہوتی کیا ہے؟

کوڈنگ یا پروگرامنگ ایک ایسا عمل ہے جس میں کمپیوٹر لینگوئج کو استعمال کرتے ہوئے ایسا پروگرام لکھا جائے جس کو کمپیوٹر یا موبائل پر چلا کر کوئی مفید کام کیا جائے۔ اس پروگرام کو سافٹ وئیر کہتے ہیں۔ یہ سافٹ وئیر ایک ویڈیو گیم ہو سکتا ہے۔ ایک موبائل ایپلیکیشن بھی سافٹ وئیر ہوتا ہے یا گھریلو آلات کو کنٹرول کرنے کا پروگرام بھی ایک سافٹ وئیر ہے۔ حساب کتاب سے لے کر خلائی سیاروں کو کنٹرول کرنے تک کوئی بھی کام ہو سکتا ہے۔تاہم بچے جب کوڈنگ کے ذریعے گیمز ' اینیمیشنز ' سٹوریز ' وغیرہ بنانا شروع کرتے ہیں تو ان کی تخلیقی صلاحیتیں ' چیلنجز کو حل کرنے کا جذبہ اور اعتماد پیدا ہوتا ہے ۔ 

یقین مانئیے۔ یہ ہرگز مشکل نہیں۔ اگر آپ کا بچہ ریاضی کے سوال حل کر سکتا ہے، یا LEGOS کے ذریعے نت نئی چیزیں بنا لیتا ہے۔ اس میں نئی چیزیں سیکھنے کی لگن ہے تو وہ کوڈنگ بھی سیکھ سکتا ہے۔ ۔ ایک لیپ ٹاپ لیجیے اور آن لائن کورس شروع کرائیے۔ اگر آپ کا اپنا آئی ٹی (IT) کا بیک گراونڈ ہے تو آپ خود رہنمائی کر سکتے ہیں ورنہ کسی بھی آئی ٹی (IT) ماہر سے مشورہ کیا جا سکتا ہے۔

کوڈنگ سیکھنا صرف ان بچوں کے لیے ضروری نہیں جو مستقبل میں آئی ٹی کے شعبے میں جانا چاہتے ہیں بلکہ انگلش اور ریاضی کی طرح کوڈنگ بھی ان کو زندگی کے ہر شعبے میں مدد دے گی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور یورپ کے ممالک میں بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی کمپیوٹر پروگرامنگ یا کوڈنگ سکھانا تحریک کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

آخر بچوں کو کوڈنگ کیوں سکھانی چاہیے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کوڈنگ کے عمل کے ذریعے جب بچہ مسلئہے کو سمجھتا ہے تو وہ مسلئے کو کاغذ پر لکھے گا یا ذہن میں سوچے گا اور پھر اس کو حل کر نے کے لیے ذہن میں نئے نئے طریقے سوچتا ہے۔ اور اپنے ذہن کے مطابق مناسب حل نکال کر اس کا پروگرام لکھتا ہے۔ پھر اس کو چلا کر ٹیسٹ (Testing) کرتا ہے۔ کوئی کمی کوتاہی ہو تو پروگرام میں تبدیلی کرتا ہے اور پھر سے اس کو چلاتا ہے۔ ذرا سوچیے! اس عمل میں بچے نے کتنی نئی چیزیں سیکھ لیں جو اس کو آگے مستقبل میں کام آئیں گی۔ وہ کسی بھی شعبہ میں جائے اس مہارت کے ذریعے وہ اس شعبہ میں الگ ہی مقام بنائے گا۔

ذیل میں بچوں کو کوڈنگ سکھانے کے کچھ فوائد بیان کیے گئے ہیں۔

1۔ کوڈنگ کرنا ایک مزے کی چیز ہے اور بچے اس سے بہت لطف اندوز ہوتے ہیں۔ جب آپ کا بچہ کوڈ لکھ کر اس کو چلاتا ہے تو اپنا پروگرام چلتا دیکھ کر بہت خوش ہوتا ہے۔ آج کل ایسی ایپلیکیشن اور ویب سائیٹس ہیں جہاں بچوں کو کھیل ہی کھیل میں پروگرامنگ سکھائی جاتی ہے۔ بچے فن بھی کرتے ہیں اور کوڈنگ کے ذریعے سافٹ وئیر بھی بناتے ہیں۔

2۔ کوڈنگ کرنے سے بچوں کے اندر چھپی تخلیقی صلاحیتیں کھل کر سامنے آتی ہیں۔ اس کے ذہن میں کوڈنگ کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کے نت نئے خیال جنم لیتے ہیں۔ اگر وہ آج کوڈنگ کے ذریعے ایک بلب (LED) کنٹرول کرنا سیکھتا ہے تو اس کے بعد اس کے ذہن میں گھر کی لائٹس کو کنٹرول کرنے کا خیال آئے گا یا آپ کے گھر کی ڈور بیل کو وہ آپ کے موبائیل سے کنٹرول کرنے کا سوچے گا۔ اور اسی طرح کی تخلیقات کر کے ہو سکتا ہے وہ کل کو معاشرے کے لیے کوئی مفید اور انوکھا آئیڈیا لے کر آئے۔

3۔ ایک مسلئے کو حل کرنے کے بہت سے طریقے ہوتے ہیں۔ کوڈنگ کے ذریعے جب بچہ مسلئہ کو حل کرنے کے طریقے سوچتا ہے اور اس میں بہتری لانے کے لیے ذہن استعمال کرتا ہے تو اس کی ذہنی مشق ہوتی ہے اور اس سے اس کا دماغ کھلتا ہے۔

4۔ ہر ذہن میں خیالات ہوتے ہیں لیکن کم لوگ ہی ان خیالات کو حقیقت کا رنگ دے سکتے ہیں۔ کوڈنگ کے ذریعے بچے ان خیالوں کو کسی مفید ایپلیکیشن کی شکل دے کر معاشرے میں ایک نام پیدا کر سکتے ہیں۔ وہ گھر میں موجود آلات کو خودکار طریقے سے کنٹرول کرنا ہو، ویڈیو گیم بنانا ہو یا بچوں کی تعلیم کے لیے کوئی اپلیکیشن بنانا۔

5۔ کوڈنگ کے ذریعے چھوٹی عمر سے ہی بچے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں۔ مثلا کوڈنگ کے ذریعے وہ آپ کے گھر یا دفتر کے کئی مسائل کے حل کے لیے آپ کی مدد کر سکتا ہے۔ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو پڑھانے کے لیے app بنا کر دے گا۔

6۔ کوڈنگ کے ذریعے جب ایک سافٹ وئیر تیار ہو کر استعمال ہونا شروع ہو جائے تو بچے کے اندر ایک accomplishment کا جذبہ پیدا ہو گا۔ جب وہ آپ کی دکان کے حساب کتاب کے لیے آپ کو ایک app بنا کر دے گا تو چھوٹی عمر میں ہی اس کو ایک کامیابی ملے گی تو ا کو آگے بڑھنے میں مدد دیگی۔

7۔ سب سے آخر میں یہ بات یاد رکھیں کہ آپ اپنے بچے کے اندر جو صلاحیت اور مہارت 10 سے 15 سال کی عمر میں پیدا کریں گے۔ اس سے وہ کالج یا یونیورسٹی جانے سے پہلے ہی اس ہنر سے اپنے لیے مستقل یا عارضی روزگار کو بندوبست کر سکتاہے۔

تجویز تو یہ ہے کہ کوڈنگ (Coding) کو سکولوں کے نصاب میں بطور اختیاری مضمون شامل کیا جائے اور اگر یہ تحریک ادارہ جاتی سطح پر ہو تو اس کے کافی اچھے نتائج نکل سکتے ہیں۔ اس میں میڈیا، معاشرہ اور حکومت سب کو مل کر کام کرنا چاہیے۔

یہ بات پیش نظر رہے کہ کوڈنگ سکھانے کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ بچوں کو پروگرامر بنایا جائے بلکہ اس کا مقصد تو بچوں کو ایسی تعلیم دینی ہے کہ جس سے ان کا ذہن کھلے اور ان کو ایسا ہنر ملے جو آنے والے مستقبل میں ان کے کام آئے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ بچے کا رحجان بھی دیکھنا چاہیے کہ کیا وہ واقعی اس میں دلچسپی رکھتا بھی ہے یا نہیں۔ اس لیے بچوں سے زبردستی کی بجائے ان میں دلچسپی پیدا کی جائے تو بچے کوڈنگ دلچسپی اور لگن سے سیکھیں گے۔

Copied

نمک، Salt

ایک عورت نے ہمسائیوں کے دروازے پر دستک دی اور ان سے نمک مانگ لیا، اسکا بیٹا یہ منظر دیکھ رہا تھا کہنے لگا "امی جی! ابھی کل ہی تو میں نمک بازار سے لے آیا تھا پھر یہ ہمسائیوں سے مانگنے کی کیا ضرورت تھی؟"

ماں جی کہنے لگی، "بیٹا! ہمارے ہمسائے غریب ہیں وہ وقتاً فوقتاً ہم سے کچھ نہ کچھ مانگتے رہتے ہیں مجھے معلوم ہے کہ ہمارے کچن میں نمک موجود ہے لیکن میں نے ان سے نمک صرف اس لئے مانگ لیا تاکہ وہ ہم سے کچھ مانگتے ہوئے ہچکچاہٹ اور شرمندگی محسوس نہ کریں، بلکہ وہ یہ سمجھیں کہ ہمسائیوں سے حسب ضرورت چیزیں مانگی جا سکتی ہیں، یہ ہمسائیوں کے حقوق میں سے ہے۔"

خوبصورت معاشرے ایسی ہی ماؤں سے تشکیل پاتے ہیں۔


Copied

نامرد , Impotence, नपुंसकता

 میرا شوہر نامرد ہے اور مجھے خلع چاہیے۔ وہ تنسیخ نکاح کا عام سا کیس تھا۔

 اچھی پڑھی لکھی فیملی تھی۔ دو پیارے سے بچے تھے کیوٹ اور معصوم سے لیکن خاتون  بضد تھی کہ اسکو ہر حال میں خلع چاہیے، جبکہ میرا موکل مدعا علیہ (شوہر)  شدید صدمے کی کیفیت میں تھا - - -

ِجج صاحب اچھے آدمی تھے۔ انہوں نے کہا کہ آپ میاں بیوی کو چیمبر میں لیجا کر مصالحت کی کوشش کرلیں شاید بات بن جائے۔ مدعاعلیہ (شوہر) کا وکیل ہونے کے ناطے اندھا کیا چاہے دو آنکھیں کے مصداق میں نے فوری حامی بھر لی۔ جبکہ مدعیہ (بیوی) کے وکیل نے اس پر اچھا خاصہ ہنگامہ بھی کیا لیکن خاتون بات چیت کے لئیے راضی ہوگئی۔

 چیمبر میں دونوں میاں بیوی  میرے سامنے بیٹھے تھے:-  

" ہاں خاتون۔! آپ کو اپنے شوہر سے کیا مسئلہ ہے"؟ - -

" وکیل صاحب یہ شخص مردانہ طور پر کمزور ہیں". - - 

میں اسکی بے باکی پر حیران رہ گیا۔ میرے منہ سے ایک موٹی سی گندی سی گالی نکلتے نکلتے رہ گئی۔ البتہ منہ میں تو دے ہی ڈالی۔ ویسے تو کچہری میں زیادہ تر بے باک خواتین سے ہی واسطہ پڑتا ہے لیکن اس خاتون  کی کچھ بات ہی الگ تھی۔

اسکے شوہر نے ایک نظر شکایت اس پر ڈالی اور میری طرف امداد طلب نظروں سے گھورنے لگا۔ میں تھوڑا سا جھلا گیا کہ کیسی عورت ہے ذرا بھی شرم حیا نہیں ہے - - 

بہرحال میں نے بھی شرم و حیا کا تقاضا ایک طرف رکھا 

اور تیز تیز سوال کرنا شروع کر دیے۔

 جب اس سے پوچھا :-

" کیا اس کا اپنے مرد سے گزارہ نہیں ہوتا"؟ - - 

تو کہتی ہے کہ:- 

" ماشاءاللہ  دو بچے ہیں ہمارے۔ یہ جسمانی طور پہ تو  بالکل ٹھیک ہیں" - - - 

" تو بی بی پھر مردانہ طور پر کمزور کیسے ہوئے"؟ - - 

میں نے استفسار کیا۔۔۔

وکیل صاحب! میرے بابا دیہات میں رہتے ہیں اور زمینداری کرتے ہیں۔ ہم دو بہنیں ہیں اور میرے والد ہمیں کبھی" دھی رانی" سے کم بلایا ہی نہیں جبکہ میرے شوہر مجھے" کتی " کہہ کے  بلاتے ہیں  - - -" یہ کونسی مردانہ صفت ہے وکیل صاحب ؟- - "

مجھ سے کوئی چھوٹی موٹی غلط ہو جائے تو یہ میرے پورے میکے کو ننگی ننگی گالیاں دیتے ہیں؟  - -" آپ ہی بتائیں جی اس میں میرے مائیکے کا کیا قصور ہے - - - یہ مردانہ صفت تو نہیں نا کہ دوسروں کی گھر والیوں کو گالی دی جائے - - 

وکیل صاحب۔! میرے بابا مجھے شہزادی کہتے ہیں  - - - اور یہ غصے میں مجھے " کنجری" کہتے ہیں - - 

وکیل صاحب ! مرد تو وہ ہوتا ہے نا جو کنجری کو بھی اتنی عزت دے کہ وہ کنجری نہ رہے اور یہ اپنی بیوی کو ہی کنجری کہہ کر پکارتے ہیں - - - یہ کوئی مردانہ بات تو نہیں ہوئی نہ - - - ؟؟

وکیل صاحب اب آپ ہی بتائیں کیا یہ مردانہ طور پر کمزور نہیں ہیں" ؟ - - 

میرا تو سر شرم سے جھک گیا تھا۔ اس کا شوہر بھی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسکی طرف دیکھ رہا تھا 

" اگر یہی مسئلہ تھا تو تم مجھے بتا سکتی تھیں نا۔ مجھ پر اس قدر ذہنی ٹارچر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔" ؟ 

شوہر منمنایا۔۔۔

" آپ کو کیا لگتا ہے آپ جب میری ماں بہن کے ساتھ ناجائز رشتے جوڑتے ہیں تو میں خوش ہوتی ہوں۔۔؟ - - 

اتنے سالوں سے آپکا کیا گیا یہ ذہنی تشدد برداشت کر رہی ہوں اس کا کون حساب دے گا؟ " - - 

بیوی کا پارہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا۔۔

خیر جیسے تیسے منت سماجت کر کے سمجھا بجھا کے انکی صلح کروائی ۔۔

میرے موکل نے وعدہ کیا کہ وہ آئئندہ اب کبھی اپنی بیوی کو گالی نہیں دے گا اور پھر وہ دونوں چلے گئے۔۔۔

میں کافی دیر تک وہیں چیمبر میں سوچ بچار کرتا رہا کہ گالیاں  تو میں نے بھی اس خاتون کو اس  کے پہلے جواب پر دل ہی دل میں بہت دی تھیں تو شاید میں بھی نامرد ہوں اور شاید ہمارا معاشرہ نامردوں سے بھرا پڑا ہے...

(Copied)

سادہ اور کامیاب زندگی کے راز، Secrets of a simple and successful life، सरल और सफल जीवन का रहस्य

 سادہ اور کامیاب زندگی کے راز

مکمل آرٹیکل پڑھنے کے لیے اوپر آرٹیکل کے نام پر کلک کریں

بچوں کے جذبات، Children's emotions، बच्चों की भावनाएं

 ہم روز مرہ زندگی میں بچوں کے جذبات کو کیسے زخم دے رہے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں: 

□بچے کو کمتر محسوس کروانا،

□اسکی تحقیر کرنا،

□اسکو worthless محسوس کروانا،

□اسکو جذباتی طور پر اکیلا اور تنہا کرنا،

□اسکا موازنہ کرنا،کمپیئر کرنا،

□اسکا مذاق اڑانا،

□اسکی شکل، رنگ، قد کا مذاق اڑانا،

□اسکو ریجیکٹ کرنا ہے۔

اور یہ سب کام ہماری زبان اور جملے کرتے ہیں۔

⁉️اسکے نقصان کیا ہوتے ہیں؟

□بچہ کنفیوز ہو جاتا ہے، 

□وہ کسی کو بتا نہیں پاتا، اسکے پیارے ہی یہ سب کر رہے ہیں تو اسے سمجھ نہیں آتی کہ کس کو بتاوں۔

□وہ ڈر جاتا ہے، ڈیپریس ہوتا ہے۔

□جو صلاحیت ہوتی ہے وہ ختم ہو جاتی ہے، کانفیڈینس تباہ ہو جاتا ہے،

□شادی شدہ زندگی میں اچھے تعلقات نہیں بنا پاتے،

□سوشل ہونا پسند نہیں کرتے۔

□ان کو محبت نہیں ملی ہوتی تو misuse ہوتے جیسا کہ کسی غیر لڑکے یا لڑکی سے دوستی کرنا۔

□اپنی سیلف respect کو گِرا کر اپنے شوہر یا بیوی کیلئے حد سے زیادہ کام کرتے ہیں کہ کسی طرح مجھے محبت مل جائے۔

⁉️اس کی علامات کیا ہیں۔

□بچے کرنے والا کام مثلا پڑھائی وغیرہ چھوڑ دیتے ہیں۔

□بہت غصہ کرتا ہے۔

□بہت خوفزدہ ہے۔

□کانفیڈنس کی کمی ہوتی ہے۔

□سکول سے چھٹیاں کرنا شروع کر دیتا ہے۔

□گھر سے بھاگ جاتا ہے، بھاگنا چاہتا ہے۔

□بچہ گھر کی بجائے سکول یا ہاسٹل میں رہنا پسند کرتا ہے۔

□بغاوت والا رویہ ہو جاتا، والدین غصہ کرتے ہیں تو وہ بھی اتنا ہی غصہ ان کو دکھاتا ہے۔

□اور زیادہ تشویش والا مسئلہ ہو تو معاملہ self harm اور خودکشی کی کوشش تک چلا جاتا ہے۔

⁉️اس کو ہینڈل کیسے کیا جائے

✨بچے کی پریشانی کو سمجھیں، concerned ہوں۔ یہ مت سوچیں کہ وہ جان بوجھ کر تنگ کرتا ہے۔

✨بچے کی تحقیر مت کیجئے۔  وہ خود کو بے وقعت سمجھنا شروع کردے گا۔

✨بچے کو توجہ دیجئے۔ورنہ اسمیں حسد پروان چڑھے گا۔

✨بچے سے اسکی عمر سے زیادہ،  پڑھائی کے لیول اور ان کی صلاحیت سے زیادہ توقع مت لگائیں۔

✨حد سے زیادہ روک ٹوک مت کریں کہ وہ سانس بھی آپکی مرضی سے لیں۔

✨بچے کو اسکے دوستوں، کزنز، بہن بھائیوں سے کمپیئر نہ کیجئے۔ نہ ہی یہ کہیں کہ ہم تو اس عمر میں یہ یہ کیا کرتے تھے۔

✨آپ بچے کو بڑی محنت سے آداب، ettiqautaes سکھاتے ہیں۔ پڑھاتے ہیں۔ مگر پھر بھی وہ الٹ کر رہا ہے۔تب بھی آپکو نہ اسکو مارنا ہے نہ emotional abuse کرنا ہے۔ بلکہ آپکو پیرنٹنگ سیکھنی ہے، کیا وجہ ہے وہ ایسے کر رہا ہے اور کیسے ہینڈل کروں۔

✨بچے کی عزت نفس کا کیا خیال رکھیں۔ کسی تیسرے شخص کے سامنے ایسی بات نہ کریں جسمیں اسکی بے عزتی کا پہلو ہے۔ وہ تیسرا اسکی پھپھو، خالہ، ٹیچر، اسکا بہن بھائی ، دادا، دادی بھی ہو سکتے ہیں 

✨حتی کہ ڈاکٹر کے سامنے بھی اس چیز کا خیال رکھیں۔ یا تو بچے کے سامنے بات نہ کیجئے یا الفاظ ٹھیک سے چنیں یا کوئی اردگرد نہ ہو۔

کیا آپ پسند کریں گے دوسروں کے سامنے کوئی آپکی ایسی بات بیان کرے؟

✨اگر آپ سنگل پیرینٹ ہیں آپ پر لوڈ ہے لیکن آپ کو بچے کو تکلیف دینے کا حق نہیں۔ خود کو victim نہ سمجھیں۔ بلکہ جو تقدیر کا فیصلہ تھا اسے قبول کریں۔

✨بچے کی شکل و صورت، رنگت، قد، موٹا ہونے پتلا ہونے پر ہم جو مذاق اڑاتے ہیں اسکو عام سی بات نہ سمجھیں۔

ہم بچوں کو اسطرح بہت تکلیف دیتے ہیں۔

غسل خانہ، bathroom، स्नानघर

آج کل نئے رواج کے تحت دیہاتوں میں عموماً نئے بننے والے گھروں میں غسل خانہ اور لیٹرین ایک ہی جگہ بن رہی ہے۔ شہروں میں تو کئی دہائیوں سے ایسا ہو رہا ہے۔ مگر دیہاتوں میں اس پریکٹس کے نئے ہونے پر 7 بنیادی غلطیاں کی جاتی ہیں۔ جنہیں میں نے اپنے آس پاس ہر دوسرے گھر دیکھا ہے۔ 

1. اس کمبائنڈ واش روم کا ایک تو سائز ہی بہت چھوٹا رکھا جاتا اور پھر سات یا آٹھ فٹ چھت رکھ کے اوپر گیلری بنا دی جاتی ہے۔ جو کہ بہت بڑا بلنڈر ہے۔ نہاتے ہوئے اس بند بے کے اندر اتنی حبس ہو جاتی ہے۔ کہ رہے رب کا نام، سانس گھٹنے لگتا ہے۔ 

2۔ ایگزاسٹ پنکھے کا کوئی رواج نہیں ہے۔ جو کہ بہت ضروری ہے۔ واش روم ہی ایسی جگہ بناتے جہاں سے کوئی روشن دان اور ایگزاسٹ لگ سکے۔ 

3. جہاں کموڈ نہ ہو وہاں سیٹ پر پانی کی ٹینکی لگانے کا رواج نہیں ہے۔ لوٹے بھر بھر کے لگے رہو منا بھائی 

4. واش روم کے دروازے پر میٹ اور سلیپر نہیں رکھا جاتا۔ کہ اپنا گندہ جوتا باہر اتار کر واش روم میں وہی سلیپر پہن کر جائیں۔ دوسرا یہ کہ واش روم والا جوتا پہن کر سارے گھر میں تو نہ چلیں۔ کسی جگہ نماز بھی پڑھنی ہوتی 

5. واش روم میں چھوٹا وائپر نہیں رکھا جاتا۔ کہ نہانے کے بعد وائپر لگا کر ہر کوئی باہر آئے۔ ٹائل لگی ہوتی وائپر نہ لگے تو پانی سے کوئی بھی پھسل سکتا ہے۔ کئی پھسل کر ہڈیاں تڑواتے بھی ہیں۔ 

6. کچھ لوگوں نے گیس کے انسٹنٹ گیزر ہی بلکل بند واش رومز میں لگائے ہوئے۔ جو ان کی جان تک لے سکتے ہیں۔ 

7. جو صابن واش روم کے باہر بنے بیسن پر ہاتھ منہ دھونے کے لیے رکھا ہوا ہوتا ہے وہی اندر نہانے کے لیے لے جایا جاتا ہے۔ ایک ہی صابن کی ٹکیا دن میں کئی بار اندر جاتی باہر آتی۔ یار ایک صابن دانی اندر لگا کر ایک ٹکیا اندر بھی رکھ دو۔ 

آپ یا آپ کے آس پاس کوئی اس پریکٹس میں ہے تو اسے گائیڈ کریں۔ واش روم کی چپل اور اندر وائپر کو تو پڑھی لکھی بھی اکثریت نظر انداز کر رہی ہے۔ یہ گھر میں چھوٹی چھوٹی چیزیں ہی ہمارے رہن سہن ، شخصیت اور میچورٹی کی آئینہ دار ہوتی ہیں۔ یقین مانیں ان معمولی سی عادتوں اور باتوں کی وجہ سے پڑھے لوگ عام لوگوں میں اپنے بچوں کا رشتہ نہیں کرتے کہ عام سطح کی سوچ والے گھرانے کو یہ سب کبھی بھی سمجھایا نہیں جا سکتا۔

 اور بھی ایسی کئی باتیں ہیں جن کا اکثریت کو یا تو پتا ہی نہیں یا معمولی سمجھ کر اگنور کر رہے ہیں۔سات مزید ضروری باتیں جنہیں جاننا آپ کے لیے ضروری ہے۔ 

1. شاور لے کر اپنے کپڑے کبھی بھی ذیادہ وقت کے لیے یا کئی دن تک واش روم میں نہ لٹکتے رہنے دیں۔ ناں ہی سونے کے وقت پہننے والا ٹراؤزر شرٹ واش روم میں رکھا کریں۔ واش روم میں ایسے لٹکتے ہوئے کپڑے جراثیم سے بھر جاتے ہیں۔ 

2. کچھ لوگوں نے تولیے کا ہینگر مستقل واش روم کے اندر ہی فکس کر دیا ہوا۔ نہا کر یا ہاتھ منہ صاف کرکے اسی پر تولیہ ڈال دیتے ہیں۔ یہ بھی غلط ہے ادھر ہی ٹائلٹ ہوتا جس سے نکلنے والے جراثیم تولیے کو قابل استعمال نہیں رہنے دیتے۔ تولیہ نہا کر فورا باہر دھوپ میں خشک ہونے کے لیے ڈالیں۔ اور ہر ہفتے تولیے تو دھوئیں۔

3. کوشش کریں ہر کسی کا اپنا الگ تولیہ ہو۔ اسکن ٹائپ ہر کسی کی ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ ایک ہی گھر میں کچھ لوگ صاف رہتے اور کچھ گندے۔ کسی کو الرجی یا کوئی انفیکشن ہو سکتا ہے۔ ابھی تو کرونا بھی چل رہا۔ تولیہ سب کا الگ رہا۔۔ہمارے گھر میں سب کا کئی سالوں سے اپنا اپنا تولیہ ہے۔ 

4. باتھ روم کا دروازہ استعمال کے بعد ہمیشہ بند کر دیں۔ گندی جگہ ہوتی ہے۔ اس کی سمیل کمرے میں یا گھر میں نہ پھیلنے دیا کریں۔ 

5. دروازے کی چٹکی ٹاپ پر نہیں لگانی پلیز۔ درمیان میں لگائیں۔ یا چار فٹ پر لگا لیں۔ گھر میں کوئی چھوٹے قد کا فرد مہمان آجائے یا کوئی مہمان آیا ہوا بونا واش روم جانا چاہے تو وہ کیا کرے گا؟ 

6. گھر میں بہنیں بھی ہیں بھائی بھی۔ والدین کوشش کریں کہ بیٹوں اور بیٹیوں کے باتھ روم الگ الگ رکھیں۔ بیٹے اپنے باتھ روم صاف بھی خود کریں۔ اور وہ بہنوں نے باتھ روم میں نہ جائیں۔ دونوں کے استعمال کی کچھ چیزیں واش روم میں پڑی ہو سکتی ہیں۔ جن کا پردے میں رہنا ہی مناسب ہے۔۔اگر ایسا ممکن نہیں تو لڑکے لڑکیاں اپنی مخصوص ضرورت کی اشیاء باتھ روم میں نہ چھوڑ آیا کریں۔ 

7. واش روم میں دانت صاف کرنے کے برش نہ رکھیں۔ چاہے آپ انہیں اوپر سے کور کرکے ہی کیوں نہیں آرہی نہیں وہاں رکھنے۔ جب صبح شام برش کرنے جائیں تو ساتھ لے جائیں ساتھ ہی باہر لے آئیں۔

از: خطیب احمد

ڈوبنے کا ہنر، The art of drowning، डूबने की कला

 کُچھ عرصہ پہلے میں نے تیراکی سیکھنے کے لیئے ایک سوئمنگ کلب کا رُخ کیا۔  جہاں کے سوئمنگ انسٹرکٹر ایک اولمپیئن رہ چکے ہیں۔ پہلی ملاقات میں جب میں نے انہیں بتایا کہ مُجھے تیرنا بالکل نہیں آتا۔ تو ان کا سوال تھا ، کیا آپ کو ڈوبنا آتا ہے ؟

 مُجھے یہ سوال عجیب بھی لگا اور طنزیہ بھی۔ مگر چونکہ وہ اُستاد تھے لہذا میں نے اپنی اندرونی کیفیت چھپاتے ہوئے مُسکرا کر جواب دیا کہ۔ بھلا ڈوبنا بھی آنا چاہیئے ؟  ۔ جسے تیرنا نہیں آتا، وہ تو خودبخود ہی ڈوب جائے گا۔ 

میرا جواب اور انداز دیکھ کر وہ مسکرائے اور کہنے لگے کہ زندگی ہو یا پانی ، دونوں میں ڈوبنا یا تیرنا انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔ 

مگر ، ابھی آپ کو اس بات کی سمجھ نہیں آئے گی۔ جب تک آپ اس کا عملی تجربہ نہ کرلیں۔ 

خیر اگلے دن سے سوئمنگ پول میں اُتر کر عملی ٹریننگ کا آغاز ہوگیا۔ پہلے دن کا سبق یہ تھا کہ ابھی چند دن پانی سے صرف کھیلنا ہے اور دوستی کرنی ہے۔ جس کی پہلی علامت یہ ہے کہ آپ کو پانی سے زیادہ وقت تک دور رہنے پر پانی سے اداسی محسوس ہونے لگے۔

چند دنوں میں یہ مرحلہ بھی طے ہوگیا۔  اب مجھے شدت سے ڈوبنے کا انتظار تھا۔  اگلے ہی دن انسٹرکٹرصاحب نے  یہ موقع بھی فراہم کردیا۔ 

پانی سے کھیلنا اور ڈُبکیاں لگانا تو چند دن میں آہی گیا تھا۔ اب ڈوبنے کے لیئے انہوں نے پتھر کا ایک ٹکڑا تقریبا"  6 فٹ گہرے پانی میں پھینک کر اسے اوپر لانے کے لیئے کہا۔ لیکن میری حیرت کی انتہا نہیں رہی جب بےحد کوشش کے باوجود بھی  میں پانی میں ڈوب کر تہہ میں پڑے ہوئے پتھر تک پہنچنے میں ناکام رہا۔ میں جتنا زور لگا کر پانی میں ڈوبنے کی کوشش کرتا، پانی اتنے ہی ردعمل کے ساتھ مجھے اوپر اچھال دیتا۔

یہ دیکھ کر میرے انسٹرکٹر میرے پاس آئے اور مسکراتے ہوئے پوچھا۔ جی جناب ، تو کیا آپ کو ڈوبنے میں کامیابی ہوئی ؟

میں نے اپنی حیرت چھپائے بغیر اعتراف کیا کہ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ میں صرف 6 فٹ نیچے تہہ تک کیوں نہیں پہنچ پا رہا۔

یہ سن کر وہ بولے کہ میں نے کہا تھا نا کہ  زندگی ہو یا پانی،  انسان  ڈوبتا اپنی مرضی ہی سے ہے۔  اور اس کے ڈوبنے کی وجہ صرف ڈوبنے کا خوف ہوتا ہے۔ لیکن آپ چونکہ ڈوبنے کا خوف نکال کر خود پانی کی تہہ تک جانا چاہ رہے تھے ۔ اس لیئے پانی نے اپنی فطرت کے مطابق زندگی کو ڈوبنے نہیں دیا۔  خوفزدہ انسان اس لیئے ڈوبتا ہے کیونکہ اس کا خوف اسے مرنے سے پہلے ہی مار چکا ہوتا ہے۔

خیر اس کے بعد میں نے پہلے پانی میں ڈوبنا سیکھا، جس کے بعد تیرنا بہت آسان ہوتا گیا۔  تیراکی سیکھتے ہوئے مجھے زندگی کو بھی ایک نئے زاویئے سے دیکھنے کا موقع ملا کہ زندگی میں انسان کی ناکامیوں کی بنیادی وجہ اس کا ناکام ہونے کا  خوف ہے۔ یہ خوف دور ہوجائے تو انسان خود بخود جینے اور کامیاب ہونے کے طریقے اور تکنیک سیکھنے لگتا ہے۔ جو اس کی کامیابیوں کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ڈُوبنے نہیں دیتے۔

مسلسل سیکھتے رہنا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔ جہاں انسان  نے سیکھنا چھوڑ دیا اس کا سفر وہیں ختم ہوگیا۔

شناخت، identity، पहचान

 کسی بھی معاشرے میں بقاء کے لیے شناخت کا ہونا بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی تین بڑی قسمیں ہیں۔

۱)دائمی شناخت

۲)مجموعی شناخت

۳)حاصل کردہ شناخت

دائمی شناخت

شناخت کا یہ وہ روپ ہے جوکہ تغیّر سے آزاد ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی خاص  تبدیلی وقوع پذیر  نہیں ہوتی۔جیسا کہ جلد  کا رنگ، قد( ایک خاص  عمر  کے بعد)، شکل ( ایک خاص عمر کے بعد) ، جسم کی ماہیت، آنکھو ں کا رنگ، اُنگلیوں کے پوروں کے نشان  وغیرہ ۔ یہ شناخت  خداداد عنایت  ہے جس میں تبدیلی عموماً نا ممکن ہوتی ہے ۔ یہ شناخت  عمر بھر انسان کے ساتھ  رہتی  ہے۔ دور حاضرکی بنیادی ضروریات جیسا کہ شناختی کارڈا ور پاسپورٹ وغیرہ پر پہچان کے لیے اسی شناخت کو حجت تسلیم کیا جاتا ہے۔

مجموعی شناخت 

شناخت کی یہ قسم انسان کو اُسکے گردونواح کی بدولت عطاء ہوتی ہے۔ انسان   دنیا میں اپنےاِرد  گِرد موجود لوگوں اور مقامات  کی وجہ سے جانا  اور پہچانا جاتا ہے۔اسکا     قبیلہ ، مذہب،دفتر، محلّہ ،ایمان ، مسلک اور اس سے مطابقت رکھتی بہت  سی چیزیں اُسکی  شناخت بناتی  ہیں ۔ شناخت کی اس قسم کو وقتاً  فوقتاً   ماحول کے تبدیل  کیا جا سکتا ہے۔

حاصل کردہ شناخت

 یہ شناخت کی وہ قسم جو انسان اپنی محنت کے بل بوتے پر تخلیق  کرتا ہے۔قومی و انفرادی سینچائی  میں انسانکا کردار،  اسکا حصہ، اسکا  مقام،اسکا   علم  اورمعاشرتی امور میں  اسکی شمولیت اِسے   ایک باوقار  شخصیت  کی پہچان دیتی ہے۔ دنیا میں ہماری پہچان کی وجہ ہمارا وہ مقام ہے جو ہم کسی بھی مخصوص شعبے میں کڑی محنت کے بعد حاصل کرتے ہیں ۔

 لوگوں کی اکثریت کو  ہم اُنکی دائمی یا مجموعی  شناخت کی بجائے اُنکی حاصل کردہ شناخت سے  پہچانتے ہیں ۔ جیسا کہ اصحاب کرام   کی کثیر تعداد، نامور دانشور حضرات،نیوٹن، سقراط، قائداعظم اور سیّد مودودی وغیرہ کا شمار اُن افراد میں ہوتا ہے  جنھوں نےاپنےاپنے شعبہ جاتِ زندگی میں انتھک کاوشوں کے بعد تاریخ کے سنہری اوراق پر اپنا نام درج کروایا۔  حاصل کردہ شناخت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس دنیا میں اِن اشخاص کو اِنکی    دائمی اور مجموعی  پہچان سے زیادہ  حاصل کردہ شناخت کی  بدولت یاد کیا جاتا ہے۔  

موجودہ حالات کے تناظُر میں  یہ بات سوچنے سے تعلق رکھتی  ہے کہ میری حاصل کردہ شناخت کیا ہے ؟کیا میری زندگی کاکوئی  ایساپہلو بھی ہے جسے میں بطورِ حاصل کنندہ  فخریہ  انداز سے دنیاوی منصفوں کے سامنے پیش کر سکتا ہوں۔

۔ خدا کے ہاں  بھی آپکی  دائمی  اور مجموعی  شناخت کی بجائے آپکے  اعمال(حاصل کردہ شناخت) کا مواخذہ کیا جائے  گا۔ لہذا   آج سے اس عزم کا اِعادہ کیجئے  کہ  آپ اپنی تمام تر صلاحیتیں اپنی شناخت کو سنوارنے کے لیے بروئے  کار لائیں گے  اور بروزِ محشر بارگاہ ِخدا میں  سرخ رو ہوں گے۔

تحریر: محمد مشتاق مانگٹ

میرا جادوئی گھر، My magic house، मेरा जादू घर

میں ، میری بیوی اور بچے ایک جادوئی گھر میں رہتے ہیں۔۔۔

وہ اپنے کپڑے میلے کچیلے اتارتے ہیں، جو اگلے ہی دن صاف ستھرے ہوجاتے ہیں ۔۔۔

وہ اپنے جوتے سکول اور آفس سے آتے ہی ادھر ادھر اتار دیتے ہیں،۔۔ پھر اگلے دن صبح وہ پالش شدہ صاف جوتے پہن کر جاتے ہیں ۔۔۔

ہر روز رات کو کوڑے والی باسکٹ کچرے سے بھری ہوتی ہے اور اگلے دن صبح سویرے ہی وہ خالی ہوتی ہے۔۔۔

میرے جادوئی گھر میں بچے کھیلتے ہوئے گند ڈالتے ہیں، لیکن اگلے ہی لمحے وہ صاف ستھرا ہوجاتا ہے ۔۔۔ اور ان کے کھیلوں کا سامان اپنے اپنے باکس میں ترتیب سے رکھ دیا جاتا ہے ۔۔۔

ہر روز میرے جادوئی گھر میں میرے بچوں اور میری پسند کے مختلف کھانے بنتے ہیں ۔۔۔

میرے جادوئی گھر میں ہر روز قریباً سو بار ماما، ماما کہا جاتا ہے ۔۔۔

ماما ناخن تراش کہاں ہے۔۔۔؟

ماما میرا ہوم ورک مکمل کروائیں ۔۔۔

ماما  ، بھیا مجھے مار رہا ہے ۔۔۔

ماما بابا جانی آگئے۔۔۔

ماما آج مجھے سکول لنچ بکس لے کر نہیں جانا۔۔

ماما آج بریانی بنائیں ۔۔۔

ماما آج مجھے چیونٹی نہیں مل رہی وہ ہر روز یہیں لائن بنا کر چلتی ہیں ۔۔۔😊

ماما مجھے سینڈوچ بنا کر دیں۔۔۔

ماما مجھے واش روم جانا ہے ۔۔۔

ماما یہاں میری بک پڑی تھی ۔۔۔ اب نہیں ہے ۔۔۔

رات سونے سے پہلے آخری لفظ ماما اور صبح اٹھتے ہی پہلا لفظ ماما میرے جادوئی گھر میں سننے کو ملتا ہے۔۔۔

یقینا کبھی بھی کوئی اس جادو نما گھر کی طرف متوجہ نہیں ہوا ہو گا۔۔۔

حالانکہ یہ جادو نما گھر ہر کسی کے پاس ہے ۔۔۔

اور نہ ہی کبھی کسی نے اس گھر کے جادو گر کا شکریہ ادا کیا ہوگا۔۔۔💔

ان جادوئی گھروں کا جادوگر کوئی اور نہیں بلکہ ہر بیوی اور ماں ہے۔۔۔ جو اپنے اپنے گھروں میں ایسے جادو کرتی ہیں۔۔۔💚💙❤

اللہ سلامت رکھے ہر بیوی اور ماں کو، جن کے صبر اور نہ ختم ہونے والی ڈیوٹی کی وجہ سے ہر گھر میں رونق ہے۔۔

A dedication to  Mothers, Wives & Sisters

اپنے کام سے کام، Work your way up، प्रगति करो # ऊंचे उठो

سعودی عرب کی ایک مسجد میں دو پاکستانی اور کچھ عربی نماز ادا کررہے تھے۔ ایک عربی کی نماز میں پاکستانیوں کو کوئی غلطی محسوس ہوئی تو ان دونوں نے اس عربی کو اس غلطی کی نشاندہی کردی۔ عربی خاموش رہا اور نماز کے بعد مسجد سے نکل گیا۔

پاکستانی اپنی نماز پوری کرنے کے بعد جب مسجد سے نکلے تو وہ عربی باہر انکا انتظار کر رہا تھا۔ اس نے ان کو روک کر انکی غلطی کی نشاندہی یاد کروائی اور کہا کہ آپ لوگوں نے مجھے یہ کہا تھا۔ دونوں پاکستانیوں نے کہا ہاں کہا تھا تو وہ عربی ان دونوں کو پولیس سٹیشن لےگیا اور پولیس والے کو سارا واقعہ بتا دیا۔

پولیس والے نے پاکستانیوں سے اسلامیات پہ یونیورسٹی کی ڈگری مانگی جو ان دونوں کے پاس نہیں تھی۔ پولیس والے نے پھر ان سے وہ سرٹیفیکیٹ مانگا جو کسی ادارے نے ان دونوں کو فتوے دینے کے لئے جاری کیا تھا۔

جب ان دونوں پاکستانیوں سے یہ دونوں چیزیں نہ مل سکیں تو ان دونوں کو ایک ہفتہ کے لئے غیر ضروری دخل اندازی کے جرم میں جیل بند کردیا گیا۔

اب وہ دونوں پاکستانی صرف اور صرف اپنے کام سے کام رکھتے ہیں-


ابراہیم صالح محمد کی پوسٹ سے

شکر گزاری، Thank you، शुक्रिया


شکر گزاری 

مکمل آرٹیکل پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے

صیاد پرندوں کی بولیاں بولتا ہے، The hunter speaks bird dialects

 غیر مسلم نعت گو مسلمان کیوں نہیں ہوتے ؟

دراصل یہ سیکیولر ہوتے ہیں۔


ایک بار گاندھی جی مولانا محمد علی مونگیری سے ملنے مونگیر گئے۔ 

گاندھی نے اپنے مطالعہ سیرت کا حوالہ دے کر پیغمبر اسلام حضرت محمد صل اللہ علیہ و سلم  اور قرآن حکیم کی تعریف و توصیف کی۔

 مولانا مونگیری گاندھی جی کی ان باتوں کو خاموشی سے سنتے رہے۔ جب گاندھی جی اپنی بات کہ چکے تو مولانا نے پوچھا:

 مجھے تو آپ اسلام کی وہ بات بتائیں , جو آپ کو پسند نہیں آئی اور حضور ﷺ کے اس پہلو سے آگاہ کیجئے , جسے آپ نے اچھا نہیں سمجھا۔ 

گاندھی جی اس سوال کے لیے تیار نہ تھے۔ کچھ چونکے اور فورا بولے، ایسا تو کوئی پہلو میری نظر میں نہیں آیا۔اس پر مولانا مونگیری نے سوال کیا۔

 تو پھر آپ نے ابھی تک اسلام کیوں قبول نہیں کیا؟ 

گاندھی جی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

مولانا خفا ہوئے اور فرمایا:

 اپ نے جو کہا غلط کہا ہے، آپ ہمیں صرف پھانسنا چاہتے ہیں۔


 صیاد بھی پرندوں کو پکڑنے کے لیے انہیں کی بولیاں بولتا ہے۔


( مسٹر احسان بی اے کی آپ بیتی،ص،273)

سوشل میڈیا اور ہماری ذمہ داریاں


بشکریہ صائمہ رحمان
 

نومولود کلیوں کو کھلکھلاتا رکھیے


 

بشکریہ سمیرا انور

نظم و ضبط


 

بشکریہ نسرین اختر

دہی۔ ایک مکمل اور مرغوب غذا


 

بشکریہ سارہ یحییٰ

سگریٹ چھوڑ دیں


 بشکریہ عصمت اسامہ

ٹھنڈے پانی سے نہانے کے جسم پر اثرات