مسٹر بین

 مسٹر بین کا اصل نام روون ایٹکنسن ہے، وہ ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوا، تین سال کا ہوا تو ماں باپ پریشان ہوئے کہ ہمارا بچہ بولتا کیوں نہیں اسے بچپن سے ہکلانے کی بیماری تھی. کمزور نحیف نزار جسامت کے ساتھ ساتھ اس کا چھوٹا سا منہ دیکھ کر سکول کے بچے اس کا مذاق اڑاتے اس کے ساتھ غنڈہ گردی کرتے. سکول کے استاد بھی اس کا مذاق اڑاتے ہر کلاس میں اسے نشانہ بنایا جاتا یوں کی خود اعتمادی بچپن سے ہی مار دی گئی. 

اس نے سائنس سبجیکٹ پاس کیا اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا. اسے بچپن سے فلموں ڈراموں کا شوق تھا لیکن ہکلاہٹ کی وجہ سے وہ کبھی سکول فنکشن میں بھی پرفارم نہیں کر سکا. الیکٹرکل انجینئرنگ میں ڈگری لینے کے بعد اس نے اداکاری میں جانے کا مشکل ترین فیصلہ کیا. شروع میں ہر آڈیشن نے اسے مسترد کر دیا، جہاں بھی جاتا سامنے سے انکار سننے کو ملتا لیکن اس نے محنت جاری رکھی. اس نے دیکھا کہ جتنے بھی کامیڈین ہیں سب کے سب روانی سے بولنے والے ہیں. 

وہ رائیٹر تھا اور چارلی چیپلن سے متاثر تھا، اس نے اپنے لیے خاکے لکھنے شروع کیے. مسٹر بین کا کردار تخلیق کیا جسے زیادہ بولنے کی ضرورت نہیں تھی. آہستہ آہستہ اس کا یہ کردار مشہور ہونا شروع ہوا اور پھر ایک دن پوری دنیا اسے مسٹر بین کے نام سے جاننے لگی. اپنی عجیب سی شکل اور بولنے کی مشکل کے باوجود اس نے ثابت کیا کہ کامیابی کے لیے خوبصورت شکل اور آواز لازمی نہیں. آپ کی محنت، جذبہ اور لگن آپ کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں. 

ڈرو مت کوئی بھی کامل پیدا نہیں ہوتا، اپنی کمزوریوں اور ناکامیوں کے باوجود بھی آپ حیرت انگیز کارنامے سرانجام دے سکتے ہیں. آپ کو ایک ہی زندگی ملی ہے اسے خوب محنت سے جی بھر کر جئیں.

جلی ہوئی روٹی

 ابوالکلام کہتے ہیں.

ایک رات کھانے کے وقت میری والدہ نے سالن اور جلی ہوئی روٹی میرے والد کے آگے رکھ دی۔۔۔۔۔۔۔ میں والد کے ردِعمل کا انتظار کرتا رہا کہ شاید وہ غصّے کا اظہار کرینگے لیکن انہوں نے اِنتہائی سکون سے کھانا کھایا اور ساتھ ہی مجھ سے پوچھا کہ آج سکول میں میرا دن کیسا گزرا مجھے یاد نہیں کہ میں نے کیا جواب دیا. 

لیکن۔۔۔۔۔۔۔اُسی دوران میری والدہ نے روٹی جل جانے کی معذرت کی. 

میرے والد نے کہا کوئی بات نہیں بلکہ مجھے تو یہ روٹی کھا کر مزا آیا. 

اُس رات جب میں اپنے والد کو شب بخیر کہنے اُن کے کمرے میں گیا تو اُن سے اِس بارے میں پوچھ ہی لیا کہ۔۔۔۔۔۔۔ کیا واقعی آپ کو جلی ہوئی روٹی کھا کر مزا آیا؟

انہوں نے پیار سے مجھے جواب دیا بیٹا ایک جلی ہوئی روٹی کچھ نقصان نہیں پہنچاتی مگر تلخ ردعمل اور بد زبانی انسان کے جذبات کو مجروح کر دیتے ہے۔۔۔۔۔۔۔

میرے بچے یہ دُنیا بے شمار ناپسندیدہ چیزوں اور لوگوں سے بھری پڑی ہے، میں بھی کوئی بہترین یا مکمل انسان نہیں ہوں اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ۔۔۔۔۔۔۔ہمارے ارد گرد کے لوگوں سے بھی غلطی ہو سکتی ہے ایک دوسرے کی غلطیوں کو درگزر کرنا، رشتوں کو بخوبی نبھانا اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرنا ہی تعلقات میں بہتری کا سبب بنتا ہے ہماری زندگی اتنی مختصر ہے کہ اِس میں معذرت اور پچھتاووں کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔

زندگی کو شکر صبر کیساتھ خوشحال بنائیں۔

بیشک اللہ شکر کرنے والوں کو پسند کرتاہے

سٹریس مینجمنٹ کے زریں اصول

 1. آپ بہت کچھ کر سکتے ہیں مگر سب کچھ نہیں.

2. اپنا دن کا پلان بنائیں.

3. اپنا کام صبح جلد شروع کریں.

4. اپنا مساج کریں.

5. اپنا موازنہ کسی سے نہ کریں اللہ پاک نے آپ کو سب سے جدا پیدا کیا ہے۔

6. اپنے مقاصد کی ایک فہرست بنائیں.

7. اپنی اہم اشیاء کی کاپی یا بیک اپ اپنے پاس محفوظ رکھیں.

8. اپنے اہم امور کو لکھ لیں.

9. اپنے پاس ایک ڈائیری رکھیں اور اس میں لکھتے رہیں.

10. اپنی پسند کی خوشبو سونگھیں.

11. اپنی ترجیحات کا تعین کریں.

12. اپنے دوستوں کو سلام کریں اور گلے لگائیں.

13. اپنے کام سے جلد واپس آ جائیں.

14. اپنی کامیابیوں اور خوبیوں کو شمار کریں.

15. اپنی نیند پوری کریں.

16. اپنے والدین سے گپ شپ لگائیں.

17. اسلام کی تعلیمات پر عمل کریں.

18. اگلے دن کی تیاری رات کو کرکے سوئیں.

19. ایک درخت لگائیں.

20. ایک وقت میں کسی ایک کام پر غور کریں.

21. بارش میں چلیں.

22. ببل گم چبائیں.

23. بہتر کے لیے کوشش کریں نہ کہ کاملیت کے لیئے.

24. پر اعتماد رہیں.

25. نئ اشیاء کی خریداری پر پرانی اشیاء سے جان چھڑائیں.

26. تمباکو نوشی چھوڑ دیں.

27. ٹال مٹول سے بچیں.

28. جو کام آپ نہیں کر سکتے یا آپ کے پاس وقت نہیں ہے, تو اس کے لیے "نہ" کر دیں.

29. چابیوں کا ایک فالتو گچھا بنوا کے پاس رکھ لیں.

30. خاموش رہیں.

31. خود پہ یقین رکھیں.

32. خود سے پیار کریں.

33. دوست بنائیں.

34. دوسروں سے مدد حاصل کریں.

35. دوسروں کو معاف کریں.

36. دوسروں کی حوصلہ آفزائی کریں.

37. رنگ کریں.

38. سادگی اختیار کریں.

39. سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیں.

40. سوشل میڈیا سے دور رہیں.

41. سیر کو جائیں.

42. شکر گزار رہیں.

43. صبر سے کام لیں.

44. عاجز رہیں.

45. غسل اور کنگھی کریں.

46. غور فکر کریں.

47. دن کے کھانے کے بعد کچھ سستا لیں. 

48. کچھ وقت روشنی میں گزاریں.

49. کسی جاہل سے بحث نہ کریں, اس سے آپ کو پریشانی کے سوا کچھ حاصل نہ ہو گا۔

50. کسی کی کوئی مشکل دور کریں.

51. کھلا اور ہوادار لباس پہنیں.

52. کوئی کھیل کھیلیں.

53. گنگنائیں.

54. گہری سانس لیں.

55. مثبت سوچیں.

56. مطالعہ کریں.

57. نماز پڑھیں.

58. ہائیکنگ پہ جائیں.

59. ہر چیز ترتیب سے رکھیں.

60. ہر چیز کا روشن پہلو دیکھیں.

61. ہر غم عارضی ہے, حتی کہ ہر چیز۔

62. ہر کام اعتدال سے کریں.

63. ہمیشہ مسکرائیں.

64. ورزش کریں.

65. وقت کا مؤثر استعمال کریں.

66. یاد رکھیں پریشانیاں آپ کو مضبوظ بنانے کے لیے آتی ہیں, ان کا مقابلہ کریں۔

آسان زندگی گزارنے کا ۹ نکاتی ایجنڈآ

 سورت الحجرات کا  آسان زندگی گزارنے کا ۹ نکاتی  ایجنڈآ

آپس کے معاملات سدھارنے کے لیے کتنی زبردست ہیں قران حكيم كى یہ 9 باتیں ، کاش ہم اسے اپنے عمل میں لائیں!!!

1- فتبينوا:

کوئی بھی بات سن کر  پھیلانے سے پہلے تحقیق کر لیا کرو . کہیں ایسا نہ ہو کہ بات سچ نہ ہو اور کسی کوانجانے میں نقصان پہنچ جائے۔

2 - فأصلحوا:

دو بھائیوں کے درمیان صلح کروا دیا کرو. تمام ایمان والے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔

3- وأقسطوا:

ہر جھگڑے کو حل کرنے کی کوشش کرو اور دو گروہوں کے درمیان انصاف کرو. الله کریم انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

4 - لا يسخر:

کسی کا مذاق مت اڑاؤ. ہو سکتا ہے کہ وہ الله کے نزدیک تم سے بہتر ہو۔

5 - ولا تلمزوا:

کسی کو بے عزّت مت کرو۔

6- ولا تنابزوا:

لوگوں کو برے القابات

(الٹے ناموں) سے مت پکارو.

7- اجتنبوا كثيرا من الظن:

برا گمان کرنے سے بچو کہ کُچھ گمان گناہ کے زمرے میں آتے ہیں۔

8 - ولا تجسَّسُوا:

ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ رہو۔

9- ولا يغتب بعضكم بعضا:

تُم میں سےکوئی ایک کسی دوسرے کی غیبت نہ کرے کہ یہ گناہ کبیرہ ہے اور اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف ہے۔

(سورہ الحجرات)

الله کریم اخلاص کیساتھ عمل کرنے کی تو فیق دے۔

حضرت سالم بن عبداللہ

 خلیفہ سلیمان بن عبدالملک بن مروان بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا- اس کی نظر ایک نوجوان پر پڑی- جس کا چہرہ بہت پُر وقار تھا- مگر وہ لباس سے مسکین لگ رہا تھا- خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نے پوچھا، یہ نوجوان کون ھے۔ تو اسے بتایا گیا کہ اس نوجوان کا نام سالم ھے اور یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیٹا اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا پوتا ھے۔

خلیفہ سلیمان کو دھچکا لگا۔ اور اُس نے اِس نوجوان کو بلا بھیجا-

خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نے پوچھا کہ بیٹا میں تمہارے دادا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بڑا مداح ھوں۔ مجھے تمہاری یہ حالت دیکھ کر بڑا دکھ ہوا ھے۔ مجھے خوشی ہو گی اگر میں تمھارے کچھ کام آسکوں ۔ تم اپنی ضرورت بیان کرو۔ جو مانگو گے تمہیں دیا جائے گا-

نوجوان نےجواب دیا، اے امیر المومنین! میں اس وقت اللہ کے گھر بیتُ اللّٰہ میں ھوں اور مجھے شرم آتی ھے کہ اللہ کے گھر میں بیٹھ کر کسی اور سے کچھ مانگوں۔

خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نے اس کے پُرمتانت چہرے پر نظر دوڑائی اور خاموش ہو گیا۔

خلیفہ نے اپنے غلام سے کہا  کہ یہ نوجوان جیسے ہی عبادت سے فارغ ھو کر بیتُ اللّٰہ سے باہر آئے، اسے میرے پاس لے کر آنا-

سالم بن عبداللہؓ بن عمرؓ جیسے ہی فارغ ھو کر حرمِ کعبہ سے باہر نکلے تو غلام نے اُن سے کہا کہ امیر المؤمنین نے آپکو یاد کیا ھے۔

سالم بن عبداللہؓ خلیفہ کے پاس پہنچے۔

خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نےکہا، 

نوجوان! اب تو تم بیتُ اللّٰہ میں نہیں ھو، اب اپنی حاجت بیان کرو۔ میرا دل چاہتا ھے کہ میں تمہاری کچھ مدد کروں۔

سالم بن عبداللہؓ نےکہا، 

اے امیرالمؤمنین! آپ میری کونسی ضرورت پوری کر سکتے ہیں، دنیاوی یا آخرت کی؟

امیرالمؤمنین نےجواب دیا، 

 میری دسترس میں تو دنیاوی مال و متاع ہی ھے۔ سالم بن عبداللہؓ نے جواب دیا- امیر المؤمنین! دنیا تو میں نے کبھی اللّٰہ سے بھی نہیں مانگی۔ جو اس دنیا کا مالکِ کُل ھے۔ آپ سے کیا مانگوں گا۔ میری ضرورت اور پریشانی تو صرف آخرت کے حوالے سے ھے۔ اگر اس سلسلے میں آپ میری کچھ مدد کر سکتے ہیں ؟

خلیفہ حیران و ششدر ہو کر رہ گیا-

اور کہنے لگا- کہ نوجوان یہ تُو نہیں، تیرا خون بول رہا ھے۔

خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کو حیران اور ششدر چھوڑ کر سالم بن عبداللہؓ علیہ رحمہ وہاں سے نکلے اور حرم سے ملحقہ گلی میں داخل ہوئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے۔

یوں ایک نوجوان حاکمِ وقت کو آخرت کی تیاری کا بہت اچھا سبق دے گیا۔


حیات تابعین کے درخشاں پہلو ص 443-445

سکول پرنسپل کیسا ہو

 اس میں کوئی شک نہیں کہ سکول کے پرنسپل کے پاس سب سے زیادہ چیلنجنگ اور اہم رول ہوتا ہے۔  ایک پرنسپل سکول کا مینٹورہوتا ہے ۔ وہ سکول کی بنیادی اقدار کا تعین کرتا ہے جن سے وہ  طلباء کو تعلیمی کامیابی اور عملے کو پیشہ ورانہ رسوخ کی طرف لے جاتا ہے۔

پرنسپل بننے کے لیے درکار پیشہ ورانہ تقاضوں کے علاوہ بہت سے ایسے  اوصاف ہیں جن سے اچھے پرنسپل  کو متصف ہونا چاہیے۔ یہ اوصاف اپنا کام بخوبی کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ کچھ نمایاں خصوصیات ایک پرنسپل کے روزمرہ میں  خود کو ظاہر کرتی ہیں۔پرنسپل سکول کی عمارت کا تدریسی رہنما ہوتا ہے۔ ایک اچھے رہنما کو اپنے سکول کی کامیابیوں اور ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرنا پڑتی ہے۔ ایک اچھا لیڈر دوسروں کی ضروریات کو اپنے سامنے رکھتا ہے۔ ایک اچھا رہنما ہمیشہ اپنے سکول کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں رہتا ہے اور پھر اس بات کا اندازہ لگاتا ہے کہ ان بہتریوں کو کیسے ممکن بنایا جائے چاہے یہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔ قیادت اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ کوئی  سکول کتنا کامیاب ہے۔ ایک موثر  پرنسپل کے بغیر ایک سکول بہت جلد ناکام ہو جاتا ہے  ۔
درکار خوبیاں 

سکول  پرنسپل خوش اخلاق، باکردار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا چاہیے۔ بااخلاق اور تہذیب یافتہ پرنسپل بچوں کے اندربھی اچھے اخلاق اور اچھی تہذیب منتقل کرسکتا ہے۔ پرنسپل کو ہنس مکھ ہونا چاہیے۔ اُس کا کمرہ صاف ستھرا اور باترتیب ہونا چاہیے۔ سکول کے سربراہ کی جو سوچ ہوگی وہی پورے ادارے میں منتقل ہوگی۔ بہترین پرنسپل ہی بہترین تعلیم و تربیت کا بندوبست کرسکتا ہے۔

بہترین پرنسپل اپنے کردار کی اہمیت کو جانتے ہیں اور عزم، مقصد اور مستقل کوشش کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے  ہیں۔اگر ہم اس بات پر غور کریں کہ وہ کون سی خوبیاں ہیں جو ایک پرنسپل کو عظیم بناتی ہیں تو  اس موضوع پر تحقیق وسیع اور متنوع ہے۔ مڈاٹلانٹک تعلیمی لیبارٹری کے مطابق درج ذیل خصوصیات اچھے پرنسپلز میں لازماً  پائی جاتی ہیں:

·         تعلیمی کامیابی کے وژن کو قائم کرنے اور شیئر کرنے کی صلاحیت

·         اساتذہ، عملے اور طلباء کے درمیان تعاون اور تعاون کی حوصلہ افزائی

·         سکول کے عملے میں قائدانہ صلاحیتوں کا فروغ

·         مسلسل سیکھنے کے مواقع ؛  اساتذہ اور طلباء کو ان کی مکمل صلاحیت  کا اظہار

·         سکول کے وسیع منصوبے تیار کرنے کے لیے لوگوں، عمل اور معلومات کی تنظیم

یہ طرز عمل ان خصائص کی عکاسی کرتا ہے جو سکول کے موثر لیڈروں کے پاس ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ موثر پرنسپلز تعلقات سازی، تنظیم، مواصلات اور ہدف کی ترتیب میں مہارت رکھتے ہیں۔

تعاون پر مبنی ماحول

پرنسپل کی  ذمہ داریوں میں منصوبہ بندی، نفاذ، معاونت، وکالت اور نگرانی شامل ہے۔ پرنسپل اساتذہ اور دیگر منتظمین کے ساتھ قیادت کا اشتراک کرکے اساتذہ کی اپنی پیشہ ورانہ کمیونٹی کو تیار کرتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ سیکھنے کے لیے ایک نتیجہ خیز ماحول ہے۔موثر پرنسپلز تعلیم کے لیے ایک سازگار ماحول بھی تخلیق کرتے ہیں جس کی  آبیاری  سیکھنے پر مبنی قیادت کے معیارات اور طریقوں کے بارے میں تحقیق کے مطابق حفاظت، تعاون اور نظم و ضبط سے ہوتی ہے۔ مجموعی طور پر، پرنسپل کو افراد کار اور وسائل کے انتظام میں ماہر ہونے کی ضرورت ہے تاکہ وہ تعاون پر مبنی سکول کا ماحول بنا سکیں۔

رشتے کی تعمیر

سکول پرنسپل روزانہ کی بنیاد پر بہت سے لوگوں سے معاملات کرتے ہیں۔ان کا اپنے زیر انتظام کام کرنے والے افراد کے ساتھ ساتھ والدین اور معاشرہ  سے کئی بار رابطہ ہوتا ہے۔  اس کے لیے نہ صرف زبردست مواصلاتی مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ جذباتی ذہانت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ  لوگوں کے ساتھ ہمدردی پیدا کر سکیں۔سکول پرنسپل کو  تعلقات استوار کرنے میں ماہر ہونا چاہیے اور سکول کے اندر اور باہر لوگوں سے رابطہ قائم کرنا چاہیے۔ ان رشتوں کی بنیاد احترام اور اعتماد پر مشتمل ہونی چاہیے۔

تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ جو سکول  پرنسپل  طلباء، اساتذہ، والدین، اور کمیونٹی کے اراکین کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دیتے ہیں وہاں  تعلیم میں بہتری اور کم تادیبی مسائل دیکھنے کو ملتے ہیں۔ مزید برآں سکول پرنسپل خاص طور پر اساتذہ کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے درج ذیل کام کریں:

·         پہچان — اساتذہ کے مرتبے اور خدمات کو  تسلیم کریں۔

·         مرئیت - سارا دن دفتر میں بیٹھے رہنے کے بجائے پورے سکول میں موجود اور شامل رہیں۔

·         دیکھ بھال—سکول سے باہر اساتذہ اور عملے اور ان کی زندگیوں کا خیال رکھیں۔

·         طاقت—چیلنجوں کا سامنا کرتے ہوئے اعتماد کا مظاہرہ کریں۔ انصاف اور مستقل مزاجی کا مظاہرہ کریں۔

روایت کی تشکیل

والیس فاؤنڈیشن کے مطابق سکول کو موثر بنانے کے لیے اور طے کردہ مقاصد حاصل  کرنے کے لیے ایک وژن اور منصوبہ رکھنا ایک پرنسپل کی سب سے اہم خصوصیات میں سے ہے۔اہداف کے حصول کے لیے سکول پرنسپل رہنمائی کرتے  اور معیارات بناتے ہیں جبکہ طلبا اور اساتذہ ان معیارات کی پیروی کرکے کامیابی کے زینے چڑھتے ہیں۔ موثر پرنسپل سکول میں ایک روایت اور ثقافت قائم کرتے ہیں جس کی روشنی میں پورے ادارے کا ماحول تشکیل پاتا ہے۔ اس کے علاوہ سکول پرنسپل کی ذمہ داری ہے کہ اساتذہ اور طلبا کے لیے تربیت کے ذرائع اور وسائل دستیاب کرے تاکہ تعلیم و تعلم کا عمل جاری رہ سکے۔

 

از قلم

مالک خان سیال

سوچنا سکھائیں ، قابل بنائیں

 یہ نوٹس کریں کہ آ پ کے بچے میں کونسی صلاحیت شاندار ہے، پڑھتا اچھا ہے، کمپیوٹر اور موبائل ہینڈلنگ میں بہتر ہے، کھیلتا اچھا ہے،قرات اچھی کرتا ہے، نعت اچھی پڑھتا ہے، سٹیج کا پرفارمر اچھا ہے، گاتا اچھا ہے ، ایونٹ آ رگنا ئزر اچھا ہے یا کچھ بھی اس طرح کا اور۔ اسکی شاندار صلاحیت کو اس کا اعتماد بڑھانے کے لئے استعمال کریں۔ ایک بار اس کو اعتماد آ گیا، ایکسیلنس کی عادت ہو گئی تو باقی سب بہت بہتر ہو جائے گا۔ 

پڑھائی میں دلچسپی بہتر کرانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اس کے سامنے پڑھیں ، دوسرے درجے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کو کمپیوٹر کی مدد سے سکھائیں ۔ 

بچے کے نمبر آ ئیں گے اور وہ روزگار اور عظمت دونوں کی معراج پر پہنچ جائے گا، یہ وقت کب کا گزر گیا ۔ قابلیت پر توجہ دیں، مختلف طریقے استعمال کریں ، کبھی وہ کلاس سے آ گے ہو گا، کبھی پیچھے ، سیکھنے دیں اسکو۔ لکھنا آ گیا تو نمبر خود ہی آ جائیں گے۔ ٹاپ کرنے کا دباؤ بالکل نہ ڈالیں ، قابلیت پر کام کرے گا تو ٹاپ کے دس پندرہ میں شامل ہو جائے گا۔ 



پیرنٹنگ کیا ہے

کیا کبھی آپ نے بطور والدین یہ سوچا ہے کہ پیرنٹنگ کیا ہے؟ 

اگر آپ نے نہیں بھی سوچا ہوگا تو آپ کا عام خیال یہی ہوگا کہ بچوں کو بڑا کرنے، کھلانے پلانے، کپڑے پہنانے اور اسکول بھیجنے کو ہی پیرنٹنگ کہتے ہیں!

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کبھی کبھی سوچتے ہوں کہ نہیں والدین کا کام اس سے کچھ بڑھ کر بھی ہے اور پھر آپ بچوں کی خواہشات پوری کرنے کو بھی اس میں شامل کرلیتے ہوں گے۔

چلیں ہم اپنی اور آپ کی بات کو ایک طرف رکھ کر دیکھتے ہیں کہ والدین کے اصل کرنے والے کام کیا ہیں؟

اسکالرز اور نفسیات، تعلیم اور بچوں کی نشوونما کے ماہرین کے نزدیک والدین صرف کھلانے، پلانے، پہنانے کے ذمہ دار نہیں بلکہ پیرنٹنگ اس سے بڑھ کر کچھ اور ذمہ داریاں قبول کرنے کا نام ہے، جس سے عام طور پر والدین جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اگر وہ یہ ذمہ داری نہ نبھائیں تو نہ صرف وہ خود بلکہ ان کا خاندان اور پورا معاشرہ بھی اس کی قیمت مستقبل میں ادا کرتا ہے۔

 پیرنٹنگ سے مراد کچھ اس طرح بھی ہو سکتی ہے 

"اس سے مراد بچوں کی جامع نشوونما اور خواندگی(لٹریسی) سے آگے بڑھ کر پوری شخصیت کی تعمیر ہے، شخصیت سے مراد اس کی روحانی، اخلاقی و سماجی، ذہنی و فکری، جسمانی اور پیشہ ورانہ یا عملی پہلوؤں کی تربیت شامل ہے، ان تمام پہلوؤں پر والدین کو محنت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔"

یہی حقیقی مجاہد اور انسان بنانے کا نسخہ ہے۔۔۔

یہی پہلو کلاسیکل تربیتی انداز خصوصا اسلامی معاشروں میں بنیاد سمجھے جاتے تھے کیونکہ کسی ایک پہلو میں کمی سے بچے کی پوری شخصیت متاثر ہو جاتی ہے۔

گدھ

 آپ آسمان پر خاموشی سے منڈلاتے گدھ دیکھیں. ان کی نظر کمال ہوتی ہے. یہ بلندی پر چکر لگاتے نیچے دیکھ رہے ہوتے ہیں. کہاں کوئی کمزور ہو کر گرے تو ان کی ضیافت کا ساماں بن جائے. کہاں کسی دوسرے شکاری نے اپنا شکار چھپایا وہ بھی ان کی نظر سے نہیں بچ پاتا. کیونکہ ان کے سونگھنے کی حس بھی کمال ہوتی ہے.


لیکن یہی گدھ خود شکار نہیں کر سکتے. کیونکہ ان کی اس بڑی جسامت کے باوجود ان کی چونچ اور پنجوں کے ناخن قدرت نے کمزور رکھے ہیں. مردار خوری کو ان کی مجبوری پھر سمجھا جا سکتا ہے. قدرت نے ان کو اسی کام کیلئے تخلیق کیا ہے یعنی یہ فطرت کے خاکروب ہوتے ہیں. یہی تحقیق پھر آپ کو ان سے نفرت کرنے سے روکتی ہے.

آپ دُنیا بھر میں بسے انسانی بچوں کو دیکھیں. تین کھیل ہر براعظم کے بچے شروعات عمر میں کھیلتے ہیں. پتھر پھینکنا چھوٹے جانوروں کے پیچھے دوڑنا اور چھپن چھپائی. کیونکہ صدیوں سے ہماری نفسیات میں رچ بس گیا ہے کہ انسان مردار خور نہیں ہے. ہم شکاری ہیں. پتھر ہمارا پہلا ہتھیار تھا دوڑ کر پکڑنا ہماری بہادری اور چھپن چھپائی ہمارا عقل و شعور ہے.

لیکن ہم میں بہت سے لوگ پھر بھی مردار خور گدھ بن جاتے ہیں. یہ دوسروں کے کمزور لمحے ڈھونڈتے ہیں. بجائے اپنی زندگی اپنی سوچ کے یہ دوسروں کے پیچھے ان کے گرنے کی اُمید پر دوڑ رہے ہوتے ہیں. ان کا شعور بھی گدھ کی طرح خاموش چھپ کر دوسروں کی وہ باتیں پکڑنے سونگھنے تک محدود ہو جاتا ہے جو ان کی کمزور شخصیت کو کچھ دیر کی طمانیت دے.

ایسے لوگ ہمارے آس پاس ہی رہتے ہیں . تحقیق یا آشکار ہونے پر یا تو ان سے کراہیت ہو جاتی ہے اور یا اکثر آپ حیرت سے سوچتے ہیں انہوں نے گدھ بننے کا انتخاب کیوں کیا؟. قدرت نے تو ان کو مکمل انسان بنایا ہے.

برف باری اور ڈپریشن

 گرم میدانوں کی زندگی میں بھاگ دوڑ کرتے لوگ یہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ جہاں روز برف گرتی ہو وہاں زندگی کا رنگ و ڈھنگ کیسا ہوتا ہے. کسی دن ہلکی برف باری ہوگی. آپ گرم کپڑے پہن کر روزمرہ زندگی میں سنبھل سنبھل کر قدم رکتے آہستہ آہستہ شام کر دیتے ہیں. کسی دن زیادہ برف گرتی ہے. آپ گھر سے نکلنے کیلئے بھی پہلے راستہ صاف کرتے ہیں.

کسی دن کئی فٹ برف گرے گی. آپ صفائی میں ہی اتنے تھک جائیں گے تھک کر چور واپس بستر میں گھس جائیں گے. المیہ یہ ہوگا کہ آٹھ کر آپ دیکھیں گے جو محنت آپ نے کی وہ پھر برابر ہو چکی ہے. کسی دن برفانی طوفان ہوگا آپ باہر نکلنے کی کیا بستر سے نکلنے کی بھی ہمت نہیں کریں گے. دوستو رشتوں سے کٹنا شروع ہو جائیں گے. گھر پر روزمرہ زندگی کے اسباب سمٹنے لگیں گے. سرد موسم آپ کی ہڈیوں تک میں گھس گیا ہوگا. روزانہ اس برف میں بیلچے مار کر تھکن آپ کی رگ رگ میں گھس جائے گی.

برفباری بھی موسم ہے. اس میں اتار چڑھاو آتا ہے. لیکن جہاں پرانی برف صاف نہ ہوئی ہو صاف دن کا زیادہ فائدہ نہیں ہوتا. کیونکہ گھر چھت راستے صاف کرنے کی بجائے پھر صاف دن میں بنیادی ضروریات کی فکر ہی بندے کو ہلکان رکھتی ہے. صاف دنوں میں انسان دوبارہ زندگی کا جوڑ بناتا ہے. کچھ جوڑ بنتا ہے کہ دوبارہ برفباری شروع ہو جاتی ہے.

ڈپریشن بھی کسی فرد کی زندگی کا برفانی موسم ہے. جسے ڈپریشن نہ ہو اسے اس موسم کا گرفتار کاہل نکما اور پتہ نہیں کیا کیا لگے گا. کیونکہ وہ برفانی موسم اور اس کی سختیوں سے آشنا نہیں ہوتا. ہمارے اکثر لوگ اس اذیت میں زندگی تمام کر دیتے ہیں کہ دوسرے ان کی زندگی کا موسم سمجھ نہیں پاتے. دوسرے یہ جان نہیں پاتے کہ وہ اگر تھک چکا ہے اپنی ذات سے نکلنے کا ہر راستہ اسے بند نظر آرہا ہے. وہ بے بس ہوگیا ہے  تو کیا ہوا. آس پاس کے لوگ اس تک پہنچنے کا راستہ کیوں نہیں بناتے.؟


ڈپریشن آج کی دنیا کا ویسے ہی انفرادی عفریت ہے جیسے اجتماعی دنیا کیلئے گلوبل وارمنگ ہے. اگر گلوبل وارمنگ کو آپ تسلیم کر چکے ہیں تو پھر ڈپریشن کے گرفتار کو بھی مریض تسلیم کریں. یہ سائبیریا کی اذیت ناک قید ہے. 


ریاض علی خٹک

ٹیچر اور کرکٹ میچ

 اسٹوڈنٹس نے ٹیچر سے کہا سر آپ ہمارے ساتھ کرکٹ کھیلیں 5 گیندوں پر ٹیچر نے 2 رن بنائے چھٹی گیند پر کلین بولڈ ہو گئے

 اسٹوڈنٹس نے شور مچا کر بھرپور خوشی ظاہر کی

کلاس میں ٹیچر نے پوچھا کون کون چاہتا تھا کہ میں اسکی گیند پر آوٹ ہو جاٶں؟

سب باٶلرز نے ہاتھ کھڑے کر دیئے

ٹیچر ہنس دیئے پوچھا میں کرکٹر کیسا ہوں؟ سب نے کہا بہت برے

پوچھا میں ٹیچر کیسا ہوں جواب ملا بہت اچھے



ٹیچر پھر ہنس دیئے

 صرف آپ نہیں دنیا بھر میں پھیلے ہوئے میرے ہزارہا اسٹوڈنٹس جن میں کئی میرے نظریاتی مخالف ہیں گواہی دیتے ہیں کہ میں اچھا ٹیچر ہوں راز کی بات بتاؤں میں جتنا اچھا ٹیچر ہوں اتنا اچھا اسٹوڈنٹ نہیں تھا مجھے ہمیشہ سبق یاد کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور بات سمجھنے میں وقت لگا لیکن کیا آپ بتا سکتے ہیں اسکے باوجود مجھے اچھا ٹیچر کیوں مانا جاتا ہے؟

سب نے کہا سر آپ بتائیں کیوں؟

ٹیچر نے کہا 👈 ادب، 

مجھے اچھی طرح یاد ہے اپنے ٹیچر کے ہاں دعوت کی تیاری میں انکی مدد کر رہا تھا فریزر سے برف نکالی جسے توڑنے کیلئے کمرے میں کوئی شے نہیں تھی استاد کام کیلئے کمرے سے نکلے تو میں نے مکا مار کر برف توڑ دی اور استاد کے آنے سے پہلے جلدی سے ٹوٹی ہوئی برف دیوار پر بھی دے ماری

 استاد کمرے میں آئے تو دیکھا کہ میں نے برف دیوار پر مار کر توڑی ہے انہوں نے مجھے ڈانٹا کہ تمہیں عقل کب آئیگی یوں برف توڑی جاتی ہے میں نے انکی ڈانٹ خاموشی سے سنی بعد میں انہوں نے اس بیوقوفی کا ذکر کئی جگہ کیا میں ہمیشہ بیوقوفوں کی طرح سر ہلا کر انکی ڈانٹ سنتا

 انہیں آج بھی نہیں معلوم کہ برف میں نے مکا مار کر توڑی تھی

یہ بات میں نے انہیں اسلئے نہیں بتائی کہ وہ ایک ہاتھ سے معذور تھے انکی غیر موجودگی میں میں نے جوانی کے جوش میں مکا مار کر برف توڑ دی لیکن جب انکی معذوری کا خیال آیا تو سوچا کہ میرے طاقت کے مظاہرے سے انہیں احساس کمتری نہ ہو اس لیئے میں نے برف دیوار پر مارنے کی احمقانہ حرکت کی اور لمبے عرصے تک انکی ڈانٹ سنتا رہا

 اور ایک آپ لوگ ہیں کہ ایک دوسرے کو چیخ چیخ کر ہدایات دے رہے تھے کہ سر کو یارکر مار کر آوٹ کرو

جیتنا سب کچھ نہیں ہوتا کبھی ہارنے سے زندگی میں جیت کے رستے کھلتے ہیں آپ طاقت میں اپنے ٹیچرز اور والدین سے بے شک بڑھ جاتے ہیں لیکن زندگی میں سب سے جیتنا چاہتے ہیں تو اپنے ٹیچرز اور والدین سے جیتنے کی کوشش نہ کریں آپ کبھی نہیں ہاریں گے

اللہ پاک آپکو ہر میدان میں سرخرو رکھے

آمین ثم آمین

دنیا کا سب سے بہترین فائٹر

 اس لڑکے کا نام بریجر واکر ہے... 

اس نے اپنی چھوٹی بہن کو کتوں کے حملے سے بچایا تھا۔ اور دو کتوں سے اکیلے نمٹ کر اس تین سالہ بچی کے سر سے یقینی موت ٹال دی تھی.

 جب اس سے بعد میں پوچھا گیا کہ تمہیں زرا ڈر نہیں لگا ؟ تو بریجر نے کہا... 

" میں بڑا ہوں اس لیے اصولی طور پر پہلے موت مجھے آنی چاہیے تھی، میرے ہوتے میری بہن کو نہیں"

 اس لڑائی میں جناب اتنے شدید زخمی ہوئے کہ منہ سمیت جسم پر 90 ٹانکے لگے۔

ورلڈ باکسنگ کونسل نے انھیں ایک دن کے لیے ورلڈ ہیوی ویٹ چمپئن تسلیم کیا ہے۔ صرف زبانی کلامی نہیں، بلکہ ڈبلیو بی سی کے ریکارڈ میں نہ صرف درج کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ٹائیٹل بیلٹ بھی ان کو ایک دن کے لیے دیا گیا۔ 

اور درج کیا گیا کہ اس دن دنیا کا سب سے بہترین فائٹر بریجر واکر تھا ۔

کھٹے انار

 ان کا نام مبارک تھا۔ وہ ایک باغ میں عرصہ سے بطور پہرے دار کام کر رہے تھے ۔ ایک دن اس باغ کا مالک اپنے چند مہمانوں کے ساتھ باغ میں آیا اور حکم دیا: "مبارک! مہمان آئے ہیں، کچھ میٹھے انار توڑ کر لاؤ اور ان کو مہمانوں کی خدمت میں پیش کرو۔"

وہ چند منٹوں میں انار توڑ کر لایا۔ مالک نے ایک انار چکھا تو سخت کھٹا تھا۔ دوسرے کو توڑا وہ بھی کھٹا تھا۔ مبارک کو آواز دی۔ "ہم نے تمہیں میٹھے انار لانے کو کہا تھا، تم کھٹے انار لے آئے۔"

وہ دوبارہ گئے اور انار لے آئے۔مالک نے ان کو توڑا تو وہ بھی کھٹے نکلے۔ مالک سخت ناراض ہوا۔ "تم اتنے سالوں سے اس باغ میں کام کر رہے ہو۔ تمہیں آج تک کھٹے اور میٹھے انار میں تمیز نہیں ہے؟"

مبارک نے عرض کیا"آقا! بلاشبہ میں کھٹے اور میٹھے اناروں میں تمیز نہیں کر سکتا۔ میں نے آج تک اس باغ کا کوئی انار کھایا ہی نہیں ہے تو پھر کھٹے اور میٹھے میں تمیز کیسی؟"

مالک نے جب ان کا جواب سُنا تو سناٹے میں آ گیا اور وجہ پوچھی۔

مبارک بولے:"آپ نے باغ کی رکھوالی میرے سپرد کی تھی، اس کا پھل کھانے کی اجازت نہیں دی تھی۔"

باغ کے مالک نے جب ان کا جواب سُنا تو نہایت متعجب ہوا۔مبارک کے تقویٰ اور امانت داری پر مہمان ششدررہ گئے۔

باغ کے مالک کی بیٹی جوان تھی اور وہ اس کے لیے موزوں رشتے کا متلاشی تھا۔ اچانک اس کے ذہن میں آیا کہ میری بیٹی کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی شخص موزوں نہیں ہو سکتا۔

اس نے مبارک سے کہا: اگر میں تمہیں اپنا داماد بنا لوں تو تمہارا کیا خیال ہے۔ انہوں نے کہا: "یہود شادی کے لیے لڑکی کی مالداری کو ،عیسائی خوبصورتی کو اور اُمتِ محمدیہ کے لوگ تقویٰ اور دینداری کو معیار ٹھہراتے ہیں۔"

مالک نے ان کا جواب سُنا تو مزید متاثر ہوا۔ گھر آکر اپنی اہلیہ سے مشورہ کیا۔ اس نے کہا کہ بلاشبہ مجھے بھی اپنی بیٹی کے لیے مبارک سے بہتر کوئی رشتہ نظر نہیں آتا۔ یوں مبارک کی شادی اس باغ کے مالک کی بیٹی سے ہو گئی اور پھر اس مبارک جوڑے کو اللہ تعالیٰ نے اپنی برکت سے نوازہ۔ ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ اس کا نام انہوں نے عبداللہ رکھا جو بڑے مشہور محدث ہوئے اور جنہوں نے اپنے علم سے ایک جہان کو منورہ کیا۔

دنیا ان کو امام عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے جانتی ہے۔

(کتاب سنہری کرنیں: از عبد المالک مجاہد)

لالہ ٔخونیں کفن

 غزہ پر اسرائیل کی جارحیت تمام حدود پار کرچکی ہے۔ عرب حکومتوں کی نادانی اور مسلمانوں کے ضعف ِایمانی کی وجہ سے مسجدِ اقصیٰ کی بازیابی کا کام آج تک نہیں ہوسکا ہے۔ ایمان اگر طاقت ور ہو اور غیرت موجود ہو تو مقاومت اور معرکہ آرائی کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک قوم منزل مقصود تک نہیں پہنچ جاتی اور فتح مکمل نہیں ہوجاتی ہے۔ اسرائیل کی جنگی جرائم کی داستان خون چکاں ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ فلسطینیوں کے حوصلے پست کردیئے جائیں اور تمام عرب ممالک کیا مصر وشام، اور کیا پٹرول سے مالامال عرب ملک سب کے سب بیکسی ،بے بسی اور شکست خوردگی کی تصویر بنے ہوئے ہیں اور کچھ اس کے سواء نہیں کرسکتے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ یا اقوام متحدہ سے امن کے نام پر اپیل کریں۔ فلسطین کی بازیابی کی واحد راہ یہ ہے کہ ہم اقوام متحدہ سلامتی کونسل، وائٹ ہاؤز پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیں اور صرف اللہ پر بھروسہ کریں، ذوقِ یقین، شوق شہادت، باہمی اعتماد و اتحاد ہی وہ چیزیں ہیں جو کامیابی و فتح مندی کی کلید ہیں۔ ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ فلسطین کے لئے صلاح الدین ایوبی ؒ جیسی کوئی شخصیت پیدا کردے جسے فلسطین پر غیروں کے قبضہ کا ایسا غم تھا ،جیسے کسی کا اکلوتا بیٹا مرگیا ہو۔ عرب حکومتیں عیش و عشرت میں گرفتار اور ناگفتہ بہ حالات کا شکار ہیں۔ فلسطین کا زخم دل کا داغ اور سینہ کا چراغ بن چکا ہے۔ شعراء جن کی طبیعتیں حالات سے جلد متاثر ہوتی ہیں، انہوں نے فلسطین کے قبضہ پر بہت سی نظمیں کہی ہیں۔ ہم یہاں چند نظموں کے اقتباسات پیش کریں گے جس سے اندازہ ہوگا کہ فلسطین کے قضیہ نے اُردو شاعری پر کیا اثر ڈالا ہے۔

علامہ اقبالؔ نے فلسطین کے عربوں سے مخاطب ہوکر ایک نظم کہی تھی:
زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ
مَیں جانتا ہوں وہ آتش تیرے وجود میں ہے
تیری دوا نہ جنیوا میں ہے ، نہ لندن میں
فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے
’’
خودی کی پرورش اور لذت نمود‘‘ یہ ہے اقبالؔ کے نزدیک مسئلہ فلسطین کا حل۔ فلسطین کا مسئلہ جنیوا میں حل ہوسکتا ہے اور نہ لندن میں اور نہ تل ابیب میں۔اقبالؔ نے ایک سے زیادہ مقامات پر مسئلہ فلسطین کا تذکرہ کیا ہے اور اس بات کا اظہار کیا ہے کہ انگریزوں کا اصل مقصد اسرائیل کی ریاست قائم کرکے عرب ملکوں کو مطیع اور زیر فرمان بنانا ہے، ورنہ اس دلیل میں کوئی وزن نہیں کہ ہزاروں سال پہلے یہاں یہودی رہا کرتے تھے ۔چنانچہ علامہ اقبال کہتے ہیں:
ہے خاکِ فلسطین پر یہودی کا اگر حق
ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اَہلِ عرب کا
مقصد ہے ملوکیتِ افرنگ کا کچھ اور
قصہ نہیں تاریخ کایا شہد ورطب کا
اسی طرح نظم ’’تاک میں بیٹھے ہیں مدت سے یہودی سود خوار‘‘ میں جو تیشے کے زیر ِاثر لکھی گئی ہے، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یورپ کے سرمایہ دارانہ نظام میں یہودی مہاجن بہت زیادہ طاقتور ہیں اور اس معاشی قوت کی وجہ سے سیاسی معاملات کی باگ ڈور بھی اُن کے ہاتھ میں آگئی ہے۔ مسئلۂ فلسطین پر علامہ اقبالؔ نے جو بیان دیا تھا، وہ اقبال ؔنامہ میں موجود ہے، اس میں وہ لکھتے ہیں:

’’فلسطین میں یہود کیلئے ایک قومی وطن کا قیام تو محض ایک حیلہ ہے، حقیقت یہ کہ برطانوی اِمپیریلزم مسلمانوں کے مقامات ِمقدس میں مستقل انتداب اور سیادت کی شکل میں ایک مقام کی متلاشی ہے‘‘۔
اقبالؔ نے مسلمانوں کو بار بار قوت کے حصول کی نصیحت کی ہے۔ اقبالؔ کے نزدیک کامیابی کسی کا پیدائشی حق نہیں ہے، کامیابی حاصل ہوتی ہے، خودی کو طاقتور بنانے سے ، یقینِ محکم سے ،علوم کی تحصیل سے، علم اشیاء کی جہانگیری سے ،اور دنیوی قوتوں کی تسخیر سے۔
زندگی جہد اَست و اِستحقاق نیست
جز بہ علمِ انفس و آفاق نیست
اقبالؔ نے اہل فلسطین کو خطاب کرتے ہوئے ’’خودی کی پرورش ‘‘ اور لذتِ نمود کو اُمتوں کی ترقی اور آزادی و غلامی سے نجات کا ذریعہ قرار دیا:
سنا ہے مَیں نے غلامی سے اُمتوں کی نجات
خودی کی پرورش و لذت نمود میں ہے
آخر یہ لذت نمود کیا چیز ہے؟ مٹی کی تاریکیوں سے تخم باہر نکل کر بتدریج ایک تناور درخت بنتا ہے۔ یہی لذت نمود ہے، نازک کلی چٹکتی ہے اور رنگین و شگفتہ پھول کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ یہی لذت نمود ہے۔ ایک طفل شیرخوار جو سہارے ،مدد اور دیکھ بھال کا محتاج ہوتا ہے، ایک دن تندرست و توانا اور مرد قوی بن جاتا ہے۔ یہی لذت نمود ہے۔ ’’خودی کی پرورش‘‘ دراصل اپنی پوشیدہ اور خوابیدہ صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے، اُن کو درجۂ کمال تک پہنچانے اور فطرت کے منشاء کے مطابق ان سے کام لینے کا نام ہے۔ خاک کا ایک ذرۂ بے مقدار قدموں کے نیچے پامال ہوتا ہے، لیکن اگر اس کا جگر چیر کر اس کے جوہر خفتہ کو بیدار اور برسرکار کردیا جائے تو اس سے طاقت کا وہ خزانہ دریافت ہوتا ہے جو زلزلہ افگن ہوتا ہے اور چٹانوں کو چور کردیتا ہے۔ اقبالؔ نے غلامی سے نجات کا اور شوکت و عزت کی بازیابی کا یہی راستہ بتایا ہے۔

اب ہم یہاں فلسطین کے حوالے سے اُردو کے کئی ایک دوسرے شعراء کے کلام کے اقتباسات پیش کریں گے۔ فلسطین کے جہاد اور جنگ آزادی پر فیض احمد فیضؔ اس طرح سخن سرا ہوئے تھے:
ہم دیکھیں گے ، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے ، جو لوحِ ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہِ گراں، روئی کی طرح اُڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے ،جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہل حکم کے سَر اوپر جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جب ارض خدا کے کعبہ سے سب بت اُٹھوائے جائیں گے
ہم اہل صفا مزدور حرم مسند پر بٹھائے جائیں گے
سب تاج اُچھالے جائیں گے سب تخت گرائے جائیں گے
ایک اور شاعر محمد ایوب بسمل کی فلسطین پر ایک طویل نظم ہے، جس کا پہلا بند یہ ہے:
کفر ہے برسرپیکار یہاں برسوں سے
گرم ہے ظلم کا بازار یہاں برسوں سے
امن ہے نقش بہ دیوار یہاں برسوں سے
حق عدالت میں سرِدار یہاں برسوں سے
دے گئی تحفۂ نایاب تجھے جنگ عظیم
کرگئی ارض مقدس کو بالآخر تقسیم
’’
اگلے کرسمس میں‘‘ کے عنوان سے ف س اعجاز نے جو آزاد نظم کہی ہے، اس کا پہلا جز اس طرح ہے:
اس برس فلسطین کی سرزمین کے حق میں
سوگ میں شہیدوں کے
پیڑ سب کرسمس کے
سر سے پاؤں تک ننگے
چپکے چپکے روتے ہیں
معروف و مشہور شاعر رفعت سروش کی نظم ’’اے ارضِ فلسطین‘‘ کا آخری بند اس طرح ہے:
مظلوم بھی جاگ اٹھے ہیں یلغار کریں گے
دست حق و انصاف کے باطل سے لڑیں گے
کہہ دو یہ ممولوں سے کہ اب آتے ہیں شاہین
اے ارض فلسطین! اے ارض فلسطین!
عائشہ مسرور نے ’’نئی لوری‘‘ کے عنوان سے فلسطین کے پس منظر میں یہ غم ناک نظم کہی ہے۔ خیمہ کے اندر ایک ماں اپنے بچے کو لوری سنا رہی ہے۔

اے میرے نورعین! جاگ
اے میرے دل کے چین! جاگ
تیرا شفیق باپ تو جنگ میں کام آگیا
تشنہ دہن کے ہاتھ میں موت کا جام آگیا
دشت و دمن لہو لہو
سارا وطن لہو لہو
صحن چمن لہو لہو
قوم بچھڑ کے رہ گئی
ساکھ بگڑ کے رہ گئی
مانگ اُجڑ کے رہ گئی
فلسطین کے موضوع پر کوثر صدیقی نے نظم کہی ہے، نظم کے آخر میں اپنے شعری قلم سے یوں غم فشاں ہیں:
لا اِلہ کی تیغ سے ہی ہوسکا
مرد مومن اندلس میں کامراں
لا اِلہ کا تیشہ بھر کر آبدار
لا اِلہ سے توڑ ہر بُت کا گماں
لا اِلہ کی لے کے مشعل ساتھ چل
لوٹ لے ظلمت نہ رخت ِ کارواں
لا اِلہ کو چھوڑ کر ہے ناتواں
لا اِلہ کی ساتھ رکھ تیغ و سناں
لا اِلہ کی برق شعلہ بار سے
ختم اِسرائیل کا کر آشیاں
معروف ادیب اور شاعر اور کئی کتابوں کے مصنف نعیم صدیقی نے ’’یروشلم‘‘ کے عنوان سے بہت طویل نظم کہی ہے جس کے دو تین شعر حسب ذیل ہیں:

یروشلم یروشلم تو ایک حریم محترم
تیرے ہی سنگ در پر آج منہ کے بل گرے ہیں ہم
تجھے دیا ہے ہاتھ سے بزخم دل بچشم نم
یروشلم یروشلم یروشلم یروشلم
اہل شعر و ادب قیصر الجعفری کے نام سے واقف ہیں، ان کی نظم ’’حریف ِجاں سے کہو‘‘ کے چند اشعار بطورِ نمونہ پیشِ خدمت ہیں:
زمین بوجھ اُٹھائے گی اور کتنے دن
تمام شہر ستم گروں کی زد پر ہے
ہزار بار چلاؤ ہزار بار مجھے
تمہاری شمع اَزل سے ہوا کی زد پر ہے
تمام تیر مشیت کی چٹکیوں میں ہیں
کہیں بھی جائے پرندہ قضا کی زد پر ہے
لہولہان شجر چیختے ہیں صدیوں سے
تمہاری تیشہ زنی بددُعا کی زد پر ہے
سمٹنے والا ہے یہ کاروبارِ تیرہ شبی
تمہاری رات چراغ حرا کی زد پر ہے
کھلیں گے مسجد اقصیٰ کے بند دروازے
تمہاری ساری خدائی ، خدا کی زد پر ہے

 

اساتذہ کو خراج تحسین کیسے پیش کیا جائے؟



 

اچھے سکول کا انتخاب کیسے کریں؟

 اچھے رشتوں کی طرح اچھے اسکول کی تلاش بھی ایک مسئلہ ہے۔ اکثر والدین کی خواہش ہوتی ہےکہ اُن کا بچہ ایسےا سکول میں پڑھے جس کی صرف عمارت ہی اچھی نہ ہو بلکہ پرنسپل ، اساتذہ، اسٹاف اور ماحول بھی بہت اعلیٰ ہو۔ وہ اپنے بچوں کو ایسے ہاتھوں میں دینا چاہتے ہیں جہاں بچے بہترین تعلیم و تربیت کے حصول کے ساتھ ساتھ خود کو ذہنی ، جذباتی اور جسمانی طور پر محفوظ خیال کریں۔ وہ ایسی تعلیم حاصل کریں جس کی مدد سے مستقبل میں وہ معاشرے کے اچھے شہری بھی بنیں اور کامیاب انسان بھی ۔ اپنی گھریلو اور معاشرتی زندگی بہترین انداز سے گزاریں۔ والدین کی عزت میں اضافےکاسبب اوراُن کا سہارا بنیں۔ چونکہ بچوں کے مستقبل کا دارومدار اچھی تعلیم و تربیت پرہے اور اسکول تعلیم و تربیت کا مرکز ہے۔اس لیے یہ بہت اہم ہے کہ اسکول کا انتخاب کرتے وقت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا جائے۔ غلط اساتذہ کے ہاتھوں میں اپنے بچے دینے سے کہیں آپ کا اپنا مستقبل نہ خراب ہوجائے ۔ دی گئی چند باتوں کا خیال رکھیں تو امید ہے کہ اچھے اسکول کے انتخاب میں آپ کو ضرورمدد ملے گی۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ بتائی گئی ہر خوبی ہر اسکول میں موجود ہو لیکن اگر اِن خوبیوں کا ستر، اَسّی فیصد بھی کسی اسکول میں موجود ہو تو آپ ایسے ادارے پر اعتماد کرسکتے ہیں۔

(۱) اسکول کا سربراہ ( پرنسپل)

ایک اچھے اسکول کا پرنسپل خوش اخلاق، باکردار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا چاہیے۔ بااخلاق اور تہذیب یافتہ پرنسپل بچوں کے اندربھی اچھے اخلاق اور اچھی تہذیب منتقل کرسکتا ہے۔بچوں کے داخلے سے پہلے پرنسپل سے تفصیلی ملاقات ضرور کیجیے۔اندازِگفتگواور نشست و برخاست سےان کی علمیت اور شخصیت کے بارے میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔یاد رکھیے! پرنسپل کو ہنس مکھ ہونا چاہیے۔ اُس کا کمرہ صاف ستھرا اور باترتیب ہونا چاہیے۔پرنسپل کا وژن معلوم کیجیے اور اندازہ لگائیے کہ انھوں نے اسکول کِس مقصد کے لیے بنایا ہےاور وہ بچوں کو کیا بنانا چاہتے ہیں۔ اسکول کے سربراہ کی جو سوچ ہوگی وہی پورے ادارے میں منتقل ہوگی۔ بہترین پرنسپل ہی بہترین تعلیم و تربیت کا بندوبست کرسکتا ہے۔
آج کل بہت سے اسکول برانڈ بن گئے ہیں۔ یہ یقین رکھیے کہ تعلیم و تربیت ایک انسانی معاملہ ہے نہ کہ کوئی پروڈکٹ کہ آپ صرف برانڈ کے نام پر داخلہ کروائیں۔ پرنسپل سے مل کر اطمینان کر لیجیے۔ اس کا مزاج جانچ لیجیے۔ کاروباری مزاج کے اسکولوں سےبچنے کی حتی الا مکان کوشش کیجیے۔

(۲) اساتذہ کا معیار

پرنسپل کے ہمراہ اساتذہ کی ٹیم ہوتی ہے۔ پرنسپل کےساتھ ساتھ اساتذہ کا بھی خوش اخلاق ،باصلاحیت اور واضح مقصد کاحامل ہونا ضروری ہے۔ اسکول میں داخلے سے پہلے والدین جن اساتذہ کے ہاتھ میں اپنا بچہ دے رہے ہوں، ان سے اچھی طرح ملاقات کرلیں۔ یہ جان لیں کہ اساتذہ بھی اچھے تعلیم یافتہ ہوں اور انھوں نے درس و تدریس کی باقاعدہ تربیت حاصل کی ہو۔ اساتذہ کے لیے ضروری ہے کہ انھوں نے اس پیشے کو مستقل طور پر اختیار کیا ہو۔ وقت گزاری یا جیب خرچ حاصل کرنے کے لیےتدریس کا پیشہ اختیار کرنے والےاساتذہ عام طور پر سنجیدگی سے کام نہیں کرتے۔
تعلیم و تربیت کے شوقین ، بچوں سے گھلنے ملنے والے، پڑھانے کا شوق رکھنے والے اور بامقصد زندگی گزارنے والے اساتذہ ہی اگلی نسل کی اچھی تربیت کرسکتے ہیں۔ خواتین اساتذہ میں ممتا کا احساس ہونا بہت ضروری ہے۔ سخت مزاج اور تیز لہجے والے اساتذہ و معلمات زیادہ اچھے نتائج مرتب نہیں کرتے ۔آپ کو چاہیے کہ اطمینان کرلیں کہ اپنا بچہ آپ جن اساتذہ کے حوالے کررہے ہیں، وہ نرم مزاج اور محبت کرنے والے ہوں۔

(۳) اسکول کا ماحول

بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے اسکول کا ماحول بہت اہم ہے۔ کلاسوں میں ہوا اور روشنی کا مناسب انتظام ہونا چاہیے۔ راہ داریوں اور کلاسوں کو صاف ستھرا ہونا چاہیے۔ خاص طور پر واش روم کا صاف ستھرا ہونا بہت ضروری ہے۔ یہ یقین کرلیجیے اسکول میں نقصان پہچانے والی اشیا موجود نہ ہوں۔کُھلے بجلی کے تار، ٹوٹے شیشےوالے کھڑکیاںدروازے بچوں کے لیےخطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔ شدید ٹھنڈک میں ہیٹر کا انتظام لازمی ہونا چاہیے۔ اس بات کا بھی خیال رکھیے کہ اسکول کسی بھی گندے نالے کے قریب نہ ہو۔ گندے نالے کی بدبو اور مضر صحت گیس ہوا میں شامل ہو کر بچوں کی صحت کو خراب کرسکتی ہے۔

(۴) کلاس روم کا ماحول

کلاس روم میں بیٹھنے کا مناسب انتظام ہونا چاہیے۔غیر معیاری فرنیچر اور نوکیلی جگہیں بچوں کے لیے خطرےکا باعث ہوتی ہے۔ اس لیے یہ یقین کرلیںکہ کلاس روم میں موجود ہر چیز بچوں کےلیےہر طرح سے محفوظ ہو۔ بچہ زیادہ وقت کلاس روم میں گزارتا ہے اس لیے کلاس روم کا ماحول بچے کی دلچسپی کے مطابق ہونا چاہیے۔ دیواروں پر سوفٹ بورڈ آویزاں ہوں۔ کلاس روم بہت بڑی نہ ہو کہ بچوں کو بورڈ نظر نہ آئے اور نہ ہی اتنی چھوٹی ہو کہ بچوں کا دَم گھٹنے لگے۔ روشنی اور ہوا کا مکمل انتظام ہو۔ کوڑا پھینکنے کے لیے کوڑا دان ہو۔ کلاس روم کے در و دیوار کی تزئین وآرائش بچوں کی عمر کے مطابق ہو۔

(۵) پری اسکول کا ماحول

پری اسکول چھےسال سے کم عمر بچوں کا اسکول ہے۔ جو ہمارے ہاں پری پرائمری اور مونٹیسوری اسکول بھی کہلاتا ہے۔ اس کا ماحول عام اسکول کے ماحول سے الگ ہوتا ہے۔ پرائمری اور سیکنڈری اسکول میں پڑھائی کی بنیاد پر سرگرمیاں بنتی ہیں جبکہ پری اسکول میں کھیل کی بنیاد پر سرگرمیوں اور کلاس روم کی تنظیم ہوتی ہے۔ اس فرق کو آپ ذہن میں رکھیے۔ اس لیے پری اسکول میں کھلونے ہونا بہت ضروری ہیں۔ چھوٹے بچوں کے لیے باہر کھیلنے کی علاحدہ مخصوص جگہ بھی بہت ضروری ہے جو بڑے بچوں سے ہٹ کر ہونی چاہیے۔ کھیلنے کے لیے جھولے ہونا بہت ضروری ہیں۔ ایسے جھولے نہ ہوںجن سے بچوں کو چوٹ لگ جائے اوراُن کےزخمی ہونے کا خطرہ ہو۔ ان کے کھیلنے کی جگہ پر بڑے بچے نہ آئیں۔ بڑے بچے عام طور پر اُچھل کود زیادہ کرتے ہیں جو چھوٹے بچوں کے لیے نقصان کا باعث ہو سکتی ہے۔ اس لیے اسکول میں داخلے سے پہلے یہ اطمینان کرلیں کہ آپ کا بچہ محفوظ جگہ پر جارہا ہے۔

۱) لائبریری

اسکول میں ایک اچھی لائبریری ہونا بہت ضروری ہے۔ بچوںکواپنی نصابی کتب کے علاوہ بھی مطالعے کے عادی ہونا چاہیے۔ بچوں میں مطالعے کی عادت پروان چڑھائیں۔ بچے اپنی مرضی سے کُتب کا انتخاب کریں۔ لائبریری میں اس کا ریکارڈ بھی رکھا جائےکہ وہ کونسی کتابیں کِس وقت مکمل کرتے ہیں ۔ اسکول میں ایک بڑی مرکزی لائبریری کے ساتھ ساتھ ہر کلاس میں بھی ایک چھوٹی لائبریری ہونی چاہیے۔ اسکول کے انتخاب کے وقت آپ لائبریری کا دورہ بھی لازمی کیجیے۔

۲) لیبارٹری

اسکول میں ایک مناسب تجربہ گاہ ہونی چاہیےجس میں بچے سائنسی تجربات کرسکیں۔ عام طور پر میٹرک کے طلبہ کے لیے لیبارٹری کا اہتمام ہوتا ہے لیکن پرائمری اور مِڈل کے لیے بھی یہ اہتمام ضرورہونا چاہیے۔ اسکولوں میں لیبارٹری ہونے سےبچے جلدی سیکھتے ہیں اور زیادہ ذہین ہوتے ہیں۔

۳) اسپورٹس

اسکول میں غیر نصابی سرگرمیاں ہونی چاہیں۔ خاص طور پرجسمانی کھیل تو بہت ضروری ہیں۔ بچہ مستقل پڑھائی سے بوریت کا شکار ہوجاتا ہے۔ کھیل کی سرگرمیاں اسکول میں اُس کی دلچسپی بڑھانے کا باعث بنتی ہے۔ ذہنی مشقوںکے ساتھ جسمانی سرگرمیاں اُس کو زیادہ اچھا طالب علم بناتی ہیں۔ آپ یہ دیکھ لیجیے کہ بچے کوجس اسکول میں داخل کروا رہے ہیں وہاں کھیلوں کے مقابلے لازماً ہوتے ہوں۔

۴) آرٹ اینڈ کرافٹ

بچوں کی تربیت میں فنون لطیفہ کا بھی بہت بڑا حصہ ہوتاہے۔ اسکول میں آرٹ اور کرافٹ کی سرگرمیوں کا اہتمام ہونا چاہیے۔بہتر تو یہ ہے کہ آرٹ اور کرافٹ کا کمرہ الگ ہو۔ بچے آرٹ اور کرافٹ کلب کے ممبر بنیںاوراس کی سرگرمیوںمیں حصہ لیں۔ آرٹ اور کرافٹ کی تربیت سے بچوں میں تخلیقی صلاحیت پیدا ہوتی ہےاورخوب صورتی کی تحسین کا جذبہ پروان چڑھتا ہے ۔ اسکول میں آرٹ اور کرافٹ کی مخصوص ٹیچر ہونی چاہیے۔ اسکول کے انتخاب سے پہلے آپ آرٹ اور کرافٹ کی ٹیچر سے ملاقات کیجیے اور کلاس روم کا معائنہ بھی ضرور کیجیے۔

۵) کینٹین

اسکول کی کینٹین کا معائنہ ضرور کریں۔ کیونکہ بچے کی تعلیم کے ساتھ اس کی صحت بہت ضروری عنصر ہے۔ کینٹین صاف ستھری ہو۔ بچوں کے لیے صاف پانی کا انتظام ہو۔ حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق کھانے پینےکی اشیا موجود ہوں۔ اشیاکے استعمال کی تاریخِ انتہا ضرور چیک کریں۔ کینٹین میں غیر صحت بخش غذا (جنک فوڈ)کی جگہ صحت بخش غذا جیسے پھل،نمکو اور بیکری کے ترو تازہ آئٹم ہوں۔
یہ وہ تمام بنیادی عناصر ہیں جن کو مدِنظر رکھ کر آپ اپنے بچے کے لیے اسکول کا انتخاب کرسکتے ہیں اور اپنے بچے کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ضروری نہیں ہے کہ یہ ساری خوبیاں آپ کو ایک ہی اسکول میں مل جائیں۔ ستر سے اَسّی فیصد خوبیاں بھی اگرکسی اسکول میںمل جائیں تو اُس اسکول کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔لیکن پرنسپل اور اساتذہ کے معیار پر کبھی سمجھوتہ نہ کیجیے۔

شائع شدہ ، ماہنامہ طفلی، شمارہ مارچ۲۰۱۸