یہ بڑے نصیب کی بات ہے
بارہ سال کی وہ پتلی سیاہ رنگ کی لڑکی پچھلے کئی دنوں سے قافلوں
کی آمد دیکھنے آ رہی تھی۔ گرمیوں کے دن تھے اور شام سے تجارتی قافلوں کی واپسی ہو
رہی تھی۔ وہ لڑکی کئی روز سے یونہی قافلوں کے آنے کا منظر دیکھتی لیکن جسے وہ
ڈھونڈنے آتی تھی وہ ابھی تک نہیں آیا تھا۔ شام ہونے سے پہلے وہ لڑکی گھر لوٹ جاتی۔
گھر میں انیس سالہ اسکی مالکن بستر پر ہوتیں تھیں۔ مالکن حاملہ تھیں اور دو ماہ
میں بچے کی آمد متوقع تھی۔ مالکن کے شوہر
کسی بھی دن شام سے واپس آنے والے تھے۔ وہ لڑکی پہاڑوں سے گھرے اس اجنبی شہر میں
صرف دو لوگوں کو جانتی تھی اور ان میں سے ایک پچھلے کئی ماہ سے سفر پر تھے۔ گھر
جاتے ہی وہ لڑکی کھانا پکاتی، مالکن کو کھلاتی اور پھر اپنی بھولی بھالی باتوں سے
انکا دل بہلانے کی کوشش کرتی۔ آخری قافلہ کے ساتھ یہ روح فرسا خبر بھی پہنچی کہ اس
گھر کا مالک اور دوسرا مکین، عبداللّٰہ شام سے واپسی پر یثرب نامی بستی میں پہنچ
کر وفات پا گئے۔ بارہ سال کی اس لڑکی کو انیس سالہ مالکن،آمنہ کو انکی بیوگی کی
خبر دینا پڑی۔ انتظار کی نوعیت لمحوں میں بدل گئی۔ اب اداس اور ٹوٹی ہوئی آمنہ کو
شوہر کی بجائے اپنے آنے والے بچے کا انتظار تھا۔ آخر وہ ساعت آن پہنچی۔ دردِزہ میں
مبتلا آمنہ کے پاس اس لڑکی کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ بچہ اس دنیا میں آیا تو اسے سب
سے پہلے اٹھانے اور سنبھالنے والی وہ لڑکی تھی۔ ننھے محمدنے جب اس دنیا میں پہلی
بار آنکھیں کھولیں تو سب سے پہلا چہرہ اسی لڑکی کا دیکھا۔ لڑکی نے محمدکو کپڑے میں
لپیٹ کر اسکی ماں کے حوالے کیا لیکن ایک اٹوٹ رشتے کی بنیاد پڑ چکی تھی۔ محمد ابن
عبداللّٰہ اور برکہ بنت ثعلبہ کی قسمتوں کے فیصلے رب العالمین نے کر دیئے تھے۔
برکہ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اسے کتنی بڑی سعادت اور آزمائش کے لیئے
چنا گیا ہے۔
وقت گزرتا ہے۔ چھ سال بعد، ان دو اونٹوں پر سوار ایک قافلے میں
تین لوگ شامل تھے۔ چھ سالہ محمد اپنی پچیس سال کی ماں آمنہ کے ساتھ بیٹھا یثرب سے
مکہ واپس جا رہا تھا۔ دوسرے اونٹ پر انیس سال کی برکہ بھی انکے ساتھ تھی۔ راستے
میں ابوا کے مقام پر آمنہ کی طبیعت خراب ہوئی اور انہیں لگا کہ انکا وقت پورا ہو
چکا ہے۔ ننھا محمد سہما ہوا بیٹھا تھا۔ آمنہ نے برکہ کو اپنے پاس بلایا اور اسکے
کان میں سرگوشی کی کہ میں نہیں بچ پاؤں گی میرے بعد میرے بیٹے کا خیال رکھنا،
ہمیشہ اسکے ساتھ رہنا اور کوشش کرنا کہ میرے بیٹے کو اس غم کے علاوہ کوئی غم نہ
ملے۔ آمنہ ننھا محمد برکہ کو سونپ کر وفات پا گئیں۔ انیس سالہ برکہ پر بہت بڑی ذمہ
داری آن پڑی تھی۔ اس نے خود قبر کھود کر آمنہ کو دفنایا اور روتے محمد کو سینے سے
لگائے مکہ واپس روانہ ہوگئی۔ اس دن کے بعد سے برکہ نے محمد ہی کو اپنی زندگی کا
محور بنا لیا۔ لوگوں کو ورثے میں گھر اور جائداد ملتی ہے لیکن محمد کو ورثے میں
صرف برکہ ملی۔ محمد اپنے گھر سے عبدالمطلب کے گھر گیا یا پھر اسکے بعد ابوطالب کے
گھر برکہ مسلسل اسکے ساتھ تھیں۔ تغیر بھرے ان سالوں میں وہ دونوں ہی واحد مستقل
تھے۔ انیس سالہ برکہ ہی اب چھ سالہ محمد کی ماں تھیں۔
خدیجہ اور محمد کی شادی ہوئی۔ محمد شادی کے بعد خدیجہ کے گھر
منتقل ہوئے۔ محمد کے پاس سامان نہیں تھا صرف ایک خاتون اس کے ساتھ تھیں۔ خدیجہ نے
سوالیہ نظروں سے دیکھا تو محمد نے مسکرا کر تعارف کرایا "ھیی اُمی بعد
اُمی"۔ یہ میری ماں کے بعد میری ماں ہیں۔ محبت کی پیکر خدیجہ نے کھلی بانہوں
کے ساتھ برکہ کو خوش آمدید کہا۔ کچھ دن گزرے تو محمد اور خدیجہ نے اصرار شروع کیا
کہ برکہ اب آپ بھی شادی کر لیں لیکن برکہ کی زندگی کا مقصد ہی محمد کا خیال رکھنا
تھا سو وہ خدیجہ سے کہتیں کہ میں نے محمد کو عمر بھر نہیں چھوڑا اور نہ اس نے میرا
ساتھ چھوڑا اب میں کیسے اس چھوڑ دوں۔ لیکن محمد اور خدیجہ کا اصرار بڑھتا گیا اور
برکہ کی شادی یثرب کے قبیلہ خزرج کے عبید ابن زید سے ہوگئی۔ برکہ کا بیٹا ایمن
پیدا ہوا اور یوں برکہ کا نام ام ایمن پڑ گیا۔
اس دوران عبید کی وفات ہوئی اور ام ایمن دوبارہ محمد کے گھر میں منتقل
ہوگئیں۔ محمد پر وحی کا نزول ہوا اور ام ایمن کے ہاتھوں میں بڑا ہوا محمد اب محمدؐ
رسول اللّٰہ بن گئے۔ ام ایمنؓ خدیجہؓ کے بعد وہ دوسری خاتون تھیں جنہوں نے اسلام
قبول کیا۔ ایک دن رسولؐ اللّٰہ نے کہا کہ جو کوئی جنت کی خاتون سے شادی کرنا چاہتا
ہے وہ ام ایمنؓ سے شادی کر لے۔ زید بن حارثہؓ نے حامی بھری اور ام ایمنؓ کی دوسری
شادی طے ہوگئی۔ کسی کو نہیں لگتا تھا کہ اب ام ایمنؓ کا کوئی بچہ پیدا ہو سکتا ہے
کیونکہ اب وہ بوڑھی ہوگئی تھیں لیکن اللّٰہ نے انہیں ایک اور بیٹے سے نوازا جنکا
نام اسامہ بن زیدؓ تھا۔
مکہ میں جب مسلمانوں پر زمین تنگ کر دی گئی تو مسلمان چھپتے
چھپاتے مدینہ ہجرت کرنے لگا۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ اگر ہجرت گروہوں کی صورت میں ہوتی
تو مکہ والوں کو خبر ہو جاتی۔ تبھی ام ایمنؓ جنکی عمر اب ستر سال ہونے والی تھی
اکیلی مدینہ روانہ ہوئیں۔ راستے میں دھوپ، گرمی اور پیاس سے آپ نڈھال ہوگئیں تو
تبھی آسمان سے ایک بالٹی اتری جو رسی سے بندھی تھی اور رسی کا دوسرا سرا نظر نہیں
آ رہا تھا۔ ام ایمنؓ نے وہ پانی پیا اور باقی بچا پانی اپنے اوپر انڈیل لیا۔ وہ
خود بتاتی ہیں کہ اس کے بعد گرمیوں کے روزے میرے لیئے سب سے آسان عبادت بن گئے۔ جب
وہ سوجے پیروں اور گرد آلود چہرے کے ساتھ مدینہ پہنچیں تو رسولؐ اللّٰہ نے انہیں
دیکھ کر کہا کہ میری ماں آپ نے خود پر جنت واجب کر لی۔ یہ دوسرا موقع تھا جب انہیں
جنت کی بشارت دی گئی۔ رسولؐ اللّٰہ انہیں بہت پیارے تھے۔ ام ایمنؓ ایک over
protective ماں تھیں۔ رسولؐ اللّٰہ ہر روز ان سے ملنے
جاتے اور وہ کھانے پینے کا سامان لیئے انتظار میں ہوتیں۔ اگر کسی دن رسولؐ کو بھوک
نہ ہوتی یا وہ نفلی روزے سے ہوتے تو بھی ام ام ایمن "نہیں محمدؐ تم یہ
کھاؤ" کہتے ہوئے انہیں زبردستی کھانا کھلا کر رہتیں۔ ام ایمنؓ ہر غزوے میں
آپؐ کے ساتھ جاتیں اور پوری جنگ میں وہ آپؐ پر نظر رکھتیں اور رکھتیں بھی کیوں نہ
آمنہ سے کیا وعدہ جو نبھانہ تھا۔ غزوہ احد میں رسولؐ کو خطرے میں دیکھ کر ام ایمنؓ
تلوار اٹھائے میدان میں اتر آئیں۔ رسولؐ بھی انہیں دیکھتے تو یہی کہتے کہ
"میرے اہلِ بیت میں سے بس اب یہی باقی ہیں" انہیں اپنی ماں کہتے اور
انکے بیٹے اسامہ ؓکو اپنے بچوں کی طرح پیار کرتے۔ جیسے حسنؓ، حسینؓ، زینبؓ، علیؓ
اور امامہؓ رسولؐ کی گود میں کھیلتے اور کمر پر سوار ہو جاتے اسامہؓ بھی ویسا ہی
کرتے۔ رسولؐ جب بھی ام ایمن سے پوچھتےکہ میری ماں آپ کیسی ہیں تو وہ جواب میں یہی
کہتیں کہ جب تک تمھارا لایا دین خیر سے ہے
میں خیر سے ہوں۔
ام ایمن کیونکہ حبشہ سے تھیں تو انکی عربی کمزور تھی۔ رسولؐ
اللّٰہ انکی باتیں سن کر ہنس پڑتے تھے۔ جیسے وہ رسولؐ کو "سلام اللّٰہ
علیہ" کی بجائے "سلام لا علیہ" کہہ دیتیں اور رسولؐ انہیں ہنس کر
کہتے کہ آپ خالی السلام کہہ لیا کریں۔ اسی طرح جب ام ایمن نےسواری کے لیئے اونٹ
مانگا تو آپؐ نے کہا کہ میں تو آپؐ کو اونٹنی کا بچہ دوں گا۔ جس پر ام ایمن نے کہا
نہیں مجھے اونٹ چاہیئے اونٹ کے بچے کا میں کروں گی۔ رسولؐ نے مسکرا کر کہا کہ میری
ماں ہر اونٹ کسی اونٹنی کا بچہ ہی ہوتا ہے۔
جب رسولؐ کا انتقال ہوا تو ایک طرف پوری امت میں آہ و بکا شروع
ہوگئی تو دوسری طرف ام ایمن بالکل چپ ہو گئیں۔ وہ آپؐ کی وفات پر نہ روئیں۔ آپؐ کی
تدفین کو بھی دور سے دیکھا اور اسکے بعد لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیا۔ آپؐ کی وفات
کے بعد ابوبکر اور عمر آپ سے ملنے آئے تو انہیں دیکھ کر ام ایمن نے رونا شروع کر
دیا۔ جس پر ابوبکر نے ان سے کہا کہ آپ نہ روئیں رسولؐ اللّٰہ اب اس دنیا سے بہتر
جگہ پر ہیں۔ اس پر ام ایمن نے کہا کہ میں اس لیئے نہیں رو رہی کہ رسولؐ اللّٰہ اب
ہم میں نہیں رہے وہ بیشک اب بہت اعلٰی جگہ پر ہیں میں تو اس لیئے رو رہی کہ اب وحی
کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے۔ اللّٰہ کے رسولؐ کے زریعے ہمارا اللّٰہ سے جو تعلق تھا
وہ اب نہیں رہا۔ یہ بات سن کر ابوبکر و عمر نے بھی رونا شروع کر دیا۔
ام ایمن نے بہت لمبی عمر پائی۔ انکے پہلے شوہر فوت ہوئے۔پھر
بیٹا ایمن غزوہِ حنین میں شہید ہوا۔ پھر دوسرے شوہر غزوہِ موتہ میں شہید ہوئے۔ پھر
رسولؐ اللّٰہ کی وفات ہوئی۔ پھر چھوٹے بیٹے یمامہ میں شہید ہوئے۔ یوں ام ایمن کا
ہر جاننے والا انکی زندگی میں فوت ہوا۔ ام ایمن خود حضرت عمر کی شہادت کے بیس دن بعد فوت ہوئیں اور انہیں
بقیع میں اس طرح دفن کیا گیا کہ انکی قبر اور جنابِ رسولؐ کی قبر ایک سیدھ میں
ہیں۔
اس کائنات میں صرف ایک انسان رسولؐ اللّٰہ کی پہلی سانس سے آخری
سانس تک انکے ساتھ تھا اور وہ انسان سیدہ برکہ بنتِ ثعلبہ ام ایمن تھیں اور یہ
اعزاز کسی اور کے پاس نہیں۔ ام ایمن سے بڑھ کر وفا شعار اور محبت کرنے والا کوئی
اور نہیں۔ اللّٰہ سے دعا ہے کہ جنت میں ہم عاصیوں کو اُمی بعد اُمی کا دیدار اور
صحبت نصیب فرمائے۔
امام احمد ابن حنبل ؒ کی 10 نصیحتیں
منقول ہے کہ امام احمد ابن حنبل ؒ نے اپنے صاحب زادے کو شادی کی رات 10 نصیحتیں ارشاد کیں: فرمایا، میرے بیٹے، تم گھر کا سکون حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ اپنی بیوی کے معاملے میں ان دس عادتوں کو نہ اپناؤ لہٰذا ان کو غور سے سنو اور عمل کا ارادہ کرو :
🔥 پہلی دو تو یہ کہ عورتیں تمہاری توجہ چاہتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ تم ان سے واضح الفاظ میں محبت کا اظہار کرتے رہولہٰذا وقتاً فوقتاً اپنی بیوی کو اپنی محبت کا احساس دلاتے رہو اور واضح الفاظ میں اسکو بتاؤ کہ وہ تمہارے لئے کس قدر اہم اور محبوب ہے(اس گمان میں نہ رہو کہ وہ خود سمجھ جائے گی‘ رشتوں کو اظہار کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے)۔ یاد رکھو اگر تم نے اس اظہار میں کنجوسی سے کام لیا تو تم دونوں کے درمیان ایک تلخ دراڑ آجائے گی جو وقت کے ساتھ بڑھتی رہے گی اور محبت کو ختم کردے گی۔
🔥عورتوں کو سخت مزاج اور ضرورت سے زیادہ محتاط مردوں سے کوفت ہوتی ہے لیکن وہ نرم مزاج مرد کی نرمی کا بےجا فائدہ اٹھانا بھی جانتی ہیں لہٰذا ان دونوں صفات میں اعتدال سے کام لینا تاکہ گھر میں توازن قائم رہے اور تم دونوں کو ذہنی سکون حاصل ہو-
🔥عورتیں اپنے شوہر سے وہی توقع رکھتی ہیں جو شوہر اپنی بیوی سے رکھتا ہے یعنی عزت، محبت بھری باتیں، ظاہری جمال، صاف ستھرا لباس اور خوشبودار جسم لہٰذا ہمیشہ اس کا خیال رکھنا۔
🔥یاد رکھو گھر کی چار دیواری عورت کی سلطنت ہے،
جب وہ وہاں ہوتی ہے تو گویا اپنی مملکت کے تخت پر بیٹھی ہوتی ہے۔ اس کی اس سلطنت میں بےجا مداخلت ہرگز نہ کرنا اور اس کا تخت چھیننے کی کوشش نہ کرنا, جس حد تک ممکن ہو گھر کے معاملات اس کے سپرد کرنا اور اس میں تصرف کی اس کو آزادی دینا۔
🔥ہر بیوی اپنے شوہر سے محبت کرنا چاہتی ہے
لیکن یاد رکھو اس کے اپنے ماں باپ بہن بھائی اور دیگر گھر والے بھی ہیں جن سے وہ لاتعلق نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اس سے ایسی توقع جائز ہے لہٰذا کبھی بھی اپنے اور اس کے گھر والوں کے درمیان مقابلے کی صورت پیدا نہ ہونے دینا کیونکہ اگر اس نے مجبوراً تمہاری خاطر اپنے گھر والوں کو چھوڑ بھی دیا تب بھی وہ بے چین رہے گی اور یہ بے چینی بالآخر تم سے اسے دور کردے گی ۔
🔥بلاشبہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور اسی میں اس کا حسن بھی ہے۔ یہ ہرگز کوئی نقص نہیں، وہ ایسے ہی اچھی لگتی ہے جس طرح بھنویں گولائی میں خوبصورت معلوم ہوتی ہیں لہٰذا اسکے ٹیڑھے پن سے فائدہ اٹھاؤ اور اس کے اس حسن سے لطف اندوز ہو اگر کبھی اس کی کوئی بات ناگوار بھی لگے تو اسکے ساتھ سختی اور تلخی سے اس کو سیدھا کرنے کی کوشش نہ کرو ورنہ وہ ٹوٹ جائے گی۔ اور اس کا ٹوٹنا بالآخر طلاق تک نوبت لے جائے گا۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ ایسا بھی نہ کرنا کہ اس کی ہر غلط اور بےجا بات مانتے ہی چلے جاؤ ورنہ وہ مغرور ہو جائے گی جو اس کے اپنے ہی لئے نقصان دہ ہے لہٰذا معتدل مزاج رہنا اور حکمت سے معاملات کو چلانا۔
🔥شوہر کی ناقدری اور ناشکری اکثر عورتوں کی سرشت میں ہوتی ہے اگر ساری عمر بھی اس پر نوازشیں کرتے رہو لیکن کبھی کوئی کمی رہ گئی تو وہ یہی کہے گی تم نے میری کون سی بات سنی ہے آج تک لہٰذا اسکی اس فطرت سے زیادہ پریشان مت ہونا اور نہ ہی اس کی وجہ سے اس سے محبت میں کمی کرنا۔ یہ ایک چھوٹا سا عیب ہے اس کے اندر لیکن اس کے مقابلے میں اس کے اندر بے شمار خوبیاں بھی ہیں, بس تم ان پر نظر رکھنا اور اللہ کی بندی سمجھ کر اس سے محبت کرتے رہنا اور حقوق ادا کرتے رہنا۔
🔥ہر عورت پر جسمانی کمزوری کے کچھ ایام آتے ہیں۔ ان ایام میں اللہ تعالیٰ نے بھی اس کو عبادات میں چھوٹ دی ہے، اس کی نمازیں معاف کردی ہیں اور اس کو روزوں میں اس وقت تک تاخیر کی اجازت دی ہے جب تک وہ دوبارہ صحت یاب نہ ہو جائے۔ بس ان ایام میں تم اس کے ساتھ ویسے ہی مہربان رہنا جیسے اللہ تعالیٰ نے اس پر مہربانی کی ہے جس طرح اللہ نے اس پر سے عبادات ہٹالیں ویسے ہی تم بھی ان ایام میں اس کی کمزوری کا لحاظ رکھتے ہوئے اسکی ذمہ داریوں میں کمی کردو۔ اس کے کام کاج میں مدد کرادو اور اس کے لئے سہولت پیدا کرو۔
🔥آخر میں بس یہ یاد رکھو کہ تمہاری بیوی تمہارے پاس (گویا) ایک قیدی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ تم سے سوال کرے گا۔ بس اس کے ساتھ انتہائی رحم و کرم کا معاملہ کرنا
یوم پاکستان، تجدید عہد وفا کا دن
قوموں کی زندگی میں بعض لمحات انتہائی فیصلہ کن ہوتے ہیں جو اپنے نتائج اور اثرات کے اعتبار سے خاصے دوررس اور تاریخ کا دھاوا موڑنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ایسا ہی ایک لمحہ مسلمانان برصغیر کی زندگی میں 23 مارچ 1940 ء کو آیا جب لاہور کے ایک وسیع و عرض میدان میں، جسے منٹو پارک کہا جاتا ہے، لاکھوں مسلمان اکٹھے ہوئے اور بنگال کے وزیر اعلیٰ مولوی فضل حق نے ایک قرار داد پیش کی جس کی تائید مسلمانوں نے دل و جان سے کی۔
24 مارچ 1940 وہ عظیم دن ہے جب انگریز کی غلامی سے نجات پانے کے لیے قرار داد پاکستان منظور کی گئی۔ اس قرار داد کی روشنی میں قائد اعظم محمد علی جناح نے خدا داد قابلیت، سیاسی فہم و فراست، عزم و جرات، یقین محکم اور عمل پیہم سے دنیا کے نقشے پر ایک نئی مملکت کا اضافہ کیا جو برصغیر کے مسلمانوں کی ایک اہم اور اشد ضرورت تھی۔
اس تاریخی جلسے اور قرارداد کو اس لیے بھی اہم مقام حاصل ہے کہ یہ ایک اجتماعی سوچ کا شاخسانہ تھی۔ اجتماعی طور پر تمام مسلمان ایک قوت اور ایک تحریک کا روپ دھارے ہوئے تھے۔ باہمی اختلافات اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا، قرار داد کی پیشی اور منظوری کے بعد مسلمان ایک نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ ایک روشن صبح کی جانب اپنا سفر شروع کرنے جا رہے تھے جس کی سربراہی تاریخ کے عظیم قائد محمد علی جناحؒ کر رہے تھے۔ یہ قائد اعظم ؒ کی سیاسی بصیرت و حالات کو دیکھتے ہوئے بہترین حکمت عملی اور خدائے بزرگ و برتر کا فضل و کرم تھا جس نے مسلمانوں کے لیے بروقت ایک آزاد، خود مختار مملکت خداداد پاکستان قائم کرنے میں حقیقی کردار ادا کیا تھا۔
پھر سے اسی قومی حمیت اور ملی غیرت کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی سیاسی مصلحتوں اور آپس کی ریشہ دوانیوں کو بھلا کر پھر سے متحد ہو جائیں۔ آج 80 سال گزرنے کے بعد ایک بار پھر ہمیں اپنے اندر 23 مارچ 1940 ء کا جذبہ بیدار کرنے کی ضرورت ہے اور تجدید عہد وفا کرتے ہوئے قرار داد پاکستان کے اغراض و مقاصد کی تکمیل اور قائد اعظم ؒ اور دیگر قومی رہنماؤں کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہمیں پھر سے ایک قوم بننا ہو گا۔ دو قومی نظریہ جو موجودہ حالات میں دم توڑتا دکھائی دے رہا ہے اسے بچانا ہو گا۔
دنیا کو دکھانا ہو گا کہ ہم وہی قوم ہیں جس نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاکستان کے قیام کے خواب کو پورا کیا تھا۔ ہم وہی قوم ہیں جس نے اپنے قائد کی رہنمائی میں دو قومی نظریے کو سچ ثابت کر کے دکھایا تھا۔ ہمیں قرار داد پاکستان کی روشنی میں مملکت خداداد پاکستان کو پروان چڑھانے کے لئے انفرادی و اجتماعی طور پر علامہ اقبال ؒ کا شاہین بننا ہو گا۔
یوم پاکستان کے دن ہمیں خود سے عہد کرنا ہو گا کہ:
1ہم پاکستان کو اپنے قائد اعظمؒ کے دیے ہوئے رہنما اصولوں کی روشنی میں چلائیں گے۔
2ہم پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک اسلامی، فلاحی جمہوری مملکت بنائیں گے۔
3ہم پاکستان کو غیروں کی غلامی سے نجات دلانے کی جدوجہد کریں گے اور پر امن طریقوں سے اغیار کے غلام حکمرانوں سے چھٹکارا حاصل کریں گے۔
4ہم آپس کے اختلافات بھلا کر پہلے مسلمان، پاکستانی اور بعد میں پنجابی، سندھی، بلوچی اور پٹھان ہونے کا عملی مظاہرہ کریں گے۔
5ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور روشن مستقبل دینے کے لیے جدوجہد کریں گے تا کہ وہ اپنے دین کی پیروی کرتے ہوئے باقی اقوام سے ترقی کی دوڑ میں بھی مسابقت کریں۔
اس دن کی یاد کو منانے اور نوجوانوں میں نظریہ پاکستان تازہ کرنے اور ان کے اذہان میں اس کو پیوستہ کرنے کے لیے سکولوں میں درج ذیل سرگرمیاں کی جا سکتی ہیں :
1تقریری مقابلہ: اس دن کی مناسبت سے سکول کی سطح پر یا کچھ سکول مل کر کوئی بڑا پروگرام کر سکتے ہیں جس میں تجدید وفا، یوم پاکستان، حب الوطنی وغیرہ عنوانات سے تقریری مقابلہ جات کروائے جائیں۔
2پاکستان کوئز: تحریک پاکستان، دو قومی نظریہ اور قیام پاکستان کے حوالے سے کوئز کا مقابلہ کروایا جائے۔
3نمائش تحریک پاکستان: تحریک پاکستان کے حوالے سے چارٹس، تصاویر و دیگر چیزوں سے نمائش لگائی جائے
4مقابلہ ملی و قومی نغمے : قومی اور ملی نغموں کا مقابلہ کروایا جائے
5ٹیبلوز یا خاکے : تحریک پاکستان سے کسی واقعہ کی ٹیبلو کروائی جائے۔ قائد اعظمؒ و دیگر تحریک پاکستان کے اکابرین کی ڈریسنگ بچوں کو کروا کر سٹیج پر دکھائی جائے۔
6خطاطی: قائدؒ کے اقوال اور اقبالؒ کے اشعار پر مشتمل خطاطی کا مقابلہ کروایا جائے۔
7اسٹال: یوم پاکستان کے حوالے سے سٹال لگائے جا سکتے ہیں۔
8مقابلہ پینٹنگ اور ڈرائنگ : طلبا کے مابین پینٹنگ اور ڈرائنگ کا مقابلہ کروایا جائے جس میں بچوں سے تحریک پاکستان کے تابندہ ستاروں کی تصویر بنانے کا کہا جائے۔
9یوم پاکستان کا پیغام : یوم پاکستان کا پیغام پھیلانے کے لیے آگاہی مہم چلائی جا سکتی ہے جس میں پوسٹر، سٹیکر، بلیک بورڈ اور وائٹ بورڈ کے ذریعے پیغامات طلبا تک پہنچائے جائیں۔
10 سیمینار: سکول میں یوم پاکستان کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا جائے۔
11 مضمون نویسی: مضمون نویسی کا مقابلہ کروایا جا سکتا ہے جس کا عنوان یوم پاکستان کی مناسبت سے ہو۔
12 سکول اسمبلی: صدر مدرس سکول اسمبلی میں یوم پاکستان پر روشنی ڈالے اور پاکستان کے قیام کی غرض و غایت بیان کرے۔
13 خراج عقیدت: مختلف شعرا کی لکھی گئی خوب صورت نظموں اور اشعار کی مدد سے تحریک پاکستان کے اکابرین کو خراج عقیدت پیش کیا جائے۔
14 آگاہی واک: یوم پاکستان واک کا اہتمام کیا جائے جس میں سب بچوں کو تحریک پاکستان کے اغراض و مقاصد سے آگاہی دی جائے۔
اللہ کرے یہ دن عام دنوں کی طرح آئے اور گزر نہ جائے بلکہ ہمیں کچھ کرنے اور کر گزرنے کا کم از کم ہمت و حوصلہ نصیب ہو جائے۔ اللہ کرے، اللہ کرے۔
خلیفہ ہارون الرشید کی لاجوابی
خلیفہ ہارون الرشید بڑے حاضر دماغ تھے ۔ ایک مرتبہ کسی نے آپ سے پوچھا ۔۔۔۔ "آپ کبھی کسی بات پر لاجواب بھی ہوئے ہیں ۔" انہوں نے کہا؛ " تین مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ میں لاجواب ہو گیا ۔
ایک مرتبہ ایک عورت کا بیٹا مرگیا اور وہ رونے لگی ۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ مجھے اپنا بیٹا سمجھیں اور غم نہ کریں ۔" اس نے کہا؛ "اس بیٹے کے مرنے پر کیوں نہ آنسوں بہاوں ، جس کے بدلے خلیفہ میرا بیٹا بن گیا ۔"
"دوسری مرتبہ مصر میں کسی شخص نے موسیء ہونے کا دعوی کیا ۔ میں نے اسے بلوا کر کہا کہ حضرت موسیء کے پاس تو اللہ تعالی کے دیئے ہوئے معجزات تھے اگر تو موسیء ہے تو کوئی معجزہ دکھا ۔" اس نے جواب دیا؛ "موسیء نے تو اس وقت معجزہ دکھایا تھا، جب فرعون نے خدائی کا دعوی کیا تھا، تو بھی یہ دعوی کر تو میں معجزہ دکھاوں گا ۔"
" تیسری مرتبہ لوگ ایک گورنر کی غفلت اور کاہلی کی شکایت لےکر آئے ۔" میں نے کہا کہ وہ شخص تو بہت نیک، شریف اور ایماندار ہے ۔۔۔ انہوں نے جواب دیا کہ؛ " پھر آپ اپنی جگہ اسے خلیفہ بنادیں تاکہ اس کا فائدہ سب کو پہنچے ۔"
مضبوط سہارا
مولانا روم نے لکھا ہے کہ
بھیڑیا بازار میں جا رہا تھا وہاں ایک دوکان کی چھت پر کھڑی ایک بکری اس کو باتیں سنانے لگ گئی !
کسی نے کہا بکری میں اتنی ہمت آگئی ہے جو آپ کو باتیں سنا رہی ہے
بھیڑیا کہنے لگا بکری کی کیا مجال جو مجھے باتیں سنائے ۔ باتیں تو وہ چھت سنا رہی ہے جس پر وہ بکری کھڑی ہے
یعنی اس کا سہارا مضبوط ہے اس لیئے یہ کسی کو بھی باتیں سنا سکتی ہے
اسی طرح
ایک نیک انسان سے ان کے چہرے کی تازگی اور خوشی کا راز پوچھا گیا!
فرمایا"
میرے سارے معاملات رب العالمین کے ہاتھ میں ہیں تو مجھے حیاء آتی ہے کہ مالک کائنات کے ہوتے ہوئے میں پریشان پھروں!
یاد رکھیں!
آپ کا غم و دکھ کرنا اور افسوس کرنا آپ کے معاملات نہیں بدل سکتا ہاں مگر رب العالمین پر بھروسہ کرنا آپ کے تمام معاملات بدل سکتا ہے اور مسائل حل کر سکتا ہے اپنی تدبیر پر نہیں رب العزت کی رحمت پر بھروسہ کریں ۔
تین فطری قوانین
تین فطری قوانین جو کڑوے لیکن حق ہیں۔
پہلا قانون فطرت:
اگر کھیت میں" دانہ" نہ ڈالا جاۓ تو قدرت اسے "گھاس پھوس" سے بھر دیتی ہے....
اسی طرح اگر" دماغ" کو" اچھی فکروں" سے نہ بھرا جاۓ تو "کج فکری" اسے اپنا مسکن بنا لیتی ہے۔ یعنی اس میں صرف "الٹے سیدھے "خیالات آتے ہیں اور وہ "شیطان کا گھر" بن جاتا ہے۔
دوسرا قانون فطرت:
جس کے پاس "جو کچھ" ہوتا ہے وہ" وہی کچھ" بانٹتا ہے۔ ۔ ۔
* خوش مزاج انسان "خوشیاں "بانٹتا ہے۔
* غمزدہ انسان "غم" بانٹتا ہے۔
* عالم "علم" بانٹتا ہے۔
* دیندار انسان "دین" بانٹتا ہے۔
* خوف زدہ انسان "خوف" بانٹتا ہے۔
تیسرا قانون فطرت:
آپ کو زندگی میں جو کچھ بھی حاصل ہو اسے "ہضم" کرنا سیکھیں، اس لۓ کہ۔ ۔ ۔
* کھانا ہضم نہ ہونے پر" بیماریاں" پیدا ہوتی ہیں۔
* مال وثروت ہضم نہ ہونے کی صورت میں" ریاکاری" بڑھتی ہے۔
* بات ہضم نہ ہونے پر "چغلی" اور "غیبت" بڑھتی ہے۔
* تعریف ہضم نہ ہونے کی صورت میں "غرور" میں اضافہ ہوتا ہے۔
* مذمت کے ہضم نہ ہونے کی وجہ سے "دشمنی" بڑھتی ہے۔
* غم ہضم نہ ہونے کی صورت میں "مایوسی" بڑھتی ہے۔
* اقتدار اور طاقت ہضم نہ ہونے کی صورت میں" خطرات" میں اضافہ ہوتا ہے۔
اپنی زندگی کو آسان بنائیں اور ایک" با مقصد" اور "با اخلاق" زندگی گزاریں، لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں
خوش رہیں۔۔۔خوشیاں بانٹیں۔
پلاسٹک کا پھول
آپ پلاسٹک کا مصنوعی پھول نہیں ہیں۔ یاد رکھیں کہ آپ اصلی پھول ہیں۔ شام تک آپ مُرجھا جائیں گے اور پھر جھڑ جائیں گے۔ ہوا کے ساتھ کھیلیں، سورج کے ساتھ باتیں کریں، بادلوں کے ساتھ جھومیں ، رقص کریں۔ جھرنوں کے ساتھ نغمہ سرائی کریں۔ شام ہونے والی ہے۔
یاد رکھیں کہ موت صرف اُس وقت اعلی ہو سکتی ہے جب زندگی بہت اعلی ہو۔ آپ بے معنی طور پر جئیں گے تو بے معنی طور پر مریں گے۔
فلسفہ توجہ ہٹاتا ہے۔ معاشیات فریب دیتی ہے۔ سیاست آپ کو صرف احمقانہ چیزوں میں اُلجھائے رکھتی ہے۔آرٹ صرف پنجرے کو خوبصورت بناتا ہے۔ جبکہ سائنس میں ابھی اتنا حوصلہ نہیں کہ اصل مسائل سے نبٹ سکے اس لیے یہ ظاہری چیزوں پر مصروف عمل ہے۔ مذہب میں حوصلہ ہے کہ وہ پیدائش اور موت ، ظاہر و باطن ، داخل و خارج ، مادے اور شعور کی متناقصی حقیقت میں داخل ہو سکے۔
بہت کم لوگ مذہبی ہوتے ہیں۔ ایک بہادر شخص ہی مذہبی ہوسکتا ہے۔
اپنے تعصبات و تصورات اور مفروضوں کو ترک کر دیں تو دنیا بہت خوبصورت ہے۔ صرف اپنے اُن رویوں کو ترک کردیں جو آپ کو سکھائے جا چکے ہیں ، جو آپ سے مشروط کئیے جا چکے ہیں۔ اگر آپ اپنے حالات کو ترک کرتے ہیں تو آپ اپنی جہالت کو ترک کرتے ہیں۔ یاد رکھئیے حالات کبھی کسی بڑے کام کی اجازت نہیں دیتے، کیونکہ یہ بنائے ہی اس لیے جاتے ہیں کہ ایک اوسط درجہ کا پروڈکٹ ہی سامنے آ سکے۔
یاد رکھیں کہ آپ اصلی پھول ہیں اور شام ہونے والی ہے۔ آپ نے بھی آپ سے پہلے آنے والے پھولوں کی طرح مرجھا جانا ہے اور پھر جھڑ بھی جانا ہے۔ جھڑنے سے پہلے ہوا کے ساتھ یوں کھیلیں کہ جب آپ جھڑنے لگیں تو یہی ہوا آپ کو اپنے سنگ اُڈا کر ایک ایسے باغ میں کے جائے جہاں شام نہیں ہوتی، جہاں خزاں داخل نہیں ہوتی ، جہاں کوئی پھول نہیں مُرجھاتا ۔۔
(منقول)
دلدار
خوب صورت لوگ طرح طرح کے ہوتے ہیں!











