گھڑی کی چوری

شادی کی تقریب میں ایک صاحب اپنے جاننے والے آدمی کے پاس جاتے ھیں اور پوچھتے ھیں۔۔ کیا آپ نے مجھے پہچانا؟"
انہوں نے غور سے دیکھا اور کہا "ھاں آپ میرے پرائمری سکول کے شاگرد ھو۔ کیا کر رھے ھو آج کل؟"
شاگرد نے جواب دیا کہ "میں بھی آپ کی طرح سکول ٹیچر ھوں۔اور ٹیچر بننے کی یہ خواہش مجھ میں آپ ھی کی وجہ سے پیدا ھوئی۔"
استاد نے پوچھا "وہ کیسے؟"
شاگرد نے جواب دیا، "آپ کو یاد ھے کہ ایک بار کلاس کے ایک لڑکے کی بہت خوبصورت گھڑی چوری ھو گئی تھی اور وہ گھڑی میں نے چرائی تھی۔ آپ نے پوری کلاس کو کہا تھا کہ جس نے بھی گھڑی چرائی ھے واپس کر دے۔ میں گھڑی واپس کرنا چاھتا تھا لیکن شرمندگی سے بچنے کے لئے یہ جرات نہ کر سکا۔
آپ نے پوری کلاس کو دیوار کی طرف منہ کر کے ، آنکھیں بند کر کے کھڑے ھونے کا حکم دیا اور سب کی جیبوں کی تلاشی لی اور میری جیب سے گھڑی نکال کر بھی میرا نام لئے بغیر وہ گھڑی اس کے مالک کو دے دی اور مجھے کبھی اس عمل پر شرمندہ نہ کیا۔ میں نے اسی دن سے استاد بننے کا تہیئہ کر لیا تھا۔"
استاد نے کہا کہ "کہانی کچھ یوں ھے کہ تلاشی کے دوران میں نے بھی اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں اور مجھے بھی آج ھی پتہ چلا ھے کہ وہ گھڑی آپ نے چرائی تھی۔"
کیا ھم ایسے استاد بن سکتے ھیں جو اپنے اعمال سے بچوں کو استاد بننے کی ترغیب دے سکیں نہ کہ چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر بچوں کو پوری کلاس کے سامنے شرمندہ کریں۔

بچوں میں متشدد رویے

بچوں کی چھوٹی چھوٹی شرارتیں سب کو بسا اوقات بھلی لگتی ہیں۔ شرارتوں کے ساتھ کبھی کبھار کوئی لڑائی جھگڑا بھی ہوجاتا ہے۔ بچوں کے درمیان کہا سنی، لڑائی جھگڑا،نوک جھونک ہونا انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ گھر ہو یا سکول، معمولی  جھگڑوں کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی ۔ سکولوں میں طلبہ کے درمیان پہلے بھی جھگڑے ہوتے تھے۔ جنہیں اساتذہ رفع دفع کرکے آپس میں میل ملاپ کرادیا کرتے تھے۔ کچھ باتیں کسی کسی استاد کی پہلے بھی طلبہ کو بری لگتی تھیں لیکن استاکو کچھ کہنے کی بھی طلبہ میں ہمت نہیں ہوتی تھی۔ سوال یہ ہے کہ اب ایسا کیا ہوگیا کہ طلبہ اپنے ساتھی طالب علم یا استاد کی پٹائی اور قاتلانہ حملے سے بھی نہیں ڈرتے۔ ان کے اندر اتنی کڑواہٹ کہا ں سے آگئی کہ وہ اپنی حدیں پار کررہے ہیں۔ یہ انتہائی تشویشناک ہے کہ کہیں طلبہ اپنے استادوں کی بے عزتی کررہے ہیں تو کہیں طلبہ کے ذریعہ اپنے اساتذہ کے ساتھ غیر انسانی رویہ اپنانے یا قاتلا حملہ کرنے کے واقعات سامنے آرہے ہیں۔
گھروں کی صورت حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ آئے دن ایسے واقعات سننے کو ملتے ہیں کہ نوجوان بچے اور بچیاں اپنے ماں باپ سے الجھتے ہیں، ناراض ہوتے ہیں اور گھر چھوڑ دیتے ہیں یا کوئی اور غلط قدم اٹھا لیتے ہیں۔
بنیادی سوال یہ  ہے کہ نوجوان  تشدد پر آمادہ کیوں ہورہے ہیں۔ اس کا جواب تلاش کیاجانا چاہئے۔ آئیے مل کر اس سوال کا جواب بھی تلاش کرتے ہیں، ان وجوہات کو جانتے ہیں اور ان مسائل کا حل ڈھونڈتے ہیں جن میں ہمارے نوجوان گرفتار ہوتے جارہے ہیں۔
جسمانی کھیلوں کا فقدان:
آپ پندرہ بیس سال پہلے کے اسکولوں پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اسکولوں میں ایک گھنٹہ جسمانی ٹریننگ(پی ٹی) کیلئے ہوتا تھا۔ جس میں بچوں سے طرح طرح کی ورزشیں کرائی جاتی تھیں۔ اساتذہ بچوں کے ساتھ بدکلامی یا بدزبانی سے بات نہیں کرتے تھے۔ اس بات کا خیال رکھا جاتا تھا کہ کوئی ایسی بات نہ کی جائے جو بچوں کے معصوم ذہن کو پراگندہ کرنے والی ہو، ان کو بے عزت کرنے والی ہو یا ان کو بری لگے۔ پھر اسکول کے باہر بچوں کے اپنے کھیل تھے۔ جس میں گلی ڈنڈہ، کبڈی، گھوڑا کدائی، چھپم چھپائی، رسی کرائی، پہیہ چلانا وغیرہ۔ اسکول میں لانگ جمپ، شارٹ جمپ، رسہ کھینچنا، بالی وال، فٹ بال،بیڈ منٹن وغیرہ کھیل کھلائے جاتے تھے۔ اس سے ایک طرف بچے اپنے جسم پر قابو پانا سیکھ جاتے تھے دوسرے ان کا ذہن بھٹکنے سے بچ جاتا تھا۔ تیسرے یہ سارے کھیل استادوں کی نگرانی میں ہوتے تھے تو استادوں کی عزت وخوف بنا رہتا تھا۔
زمانے کی تبدیلی کے ساتھ بچوں کے کھیل بدل گئے۔ کیرم، لوڈو، سانپ سیڑھی، کرکٹ وغیرہ ہو گئے۔ دوسرے بچوں کے کھیلنے کیلئے جگہ بھی نہیں بچی۔ جو میدان ہیں یا پارک وہاں انہیں کھیلنے نہیں دیا جاتا۔ پھر موبائل کے آنے کے بعد موبائل پر گیم کھیلنے لگے۔ موبائل پر مار دھاڑ اور ہورر گیم موجود ہیں جن میں بچے دلچسپی لیتے ہیں۔ ان سے ان کے اندر سپر ہیرو  بننے یا موبائل گیم کے کسی کردار کو اپنانے کا شوق پیدا ہوتا ہے۔ جسمانی محنت والے کھیل نہ کھیلنے سے ان کا پسینہ نہیں بہہ پاتا اوراندر ہی اندر ان کی طاقت غصہ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ پھر جوان خون گرم ہوتا ہے اورماحول میں طرح طرح کی آلودگی موجود ہے جس کی وجہ سے پہلے ہی انسانی جسم تناؤ میں ہے۔ بس ذرا سی مزاج کے خلاف بات بھی بری لگ جاتی ہے۔
امتحانات یا نمبر لینے کا دباؤ:
بچوں پر امتحان میں اچھے نمبر لانے کا دباؤ بھی برابر رہتا ہے۔ یہ دباؤ صرف سکول کا ہی نہیں ہوتا بلکہ والدین کا بھی ہوتا ہے۔ والدین یا اساتذہ اس بات پرغور نہیں کرتے کہ اگر کوئی بچہ سائنس یا ریاضی میں اچھے نمبر نہیں لایا تو اس کی دلچسپی کس مضمون میں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس بچہ کو لٹریچر میں کمال کرنا ہوگا، صحافی بننا ہو، کھلاڑی بننے میں اس کی دلچسپی ہو، فوٹوگرافی میں وہ اپنا مستقبل بناناچاہتا ہو یا پھر آرٹسٹ۔ اس لئے ہر بچے سے یہ توقع نہیں کرنی چاہئے کہ وہ 90 فیصد نمبر لائے گا۔
تعلیمی نظام میں بہتری کی ضرورت:
بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات پر توبات ہورہی ہے لیکن تعلیمی نظام کو بہتر بنانے پر بات نہیں ہوتی۔ تعلیمی نظام میں حصول معاش پر زور دیا جارہا ہے۔ یعنی تعلیم کا مقصد ہے اچھی نوکری حاصل کرنا۔  اس پر نہیں کہ اس تعلیم کے ذریعہ ہم اپنے بچوں کو کیا دے رہیں ؟ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ ہماری اقدار کیاہیں۔ کسی کو اس بات کی فکر نہیں ہے کہ بچے جھوٹ بولنا سیکھ رہے ہیں یا کوئی اور غلط عادت ان میں پروان چڑھ رہی ہے۔ بس نمبر آنے چاہییں۔ سکول اور گھر دونوں اداروں کو اس بات پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔
خاندان کی ٹوٹ پھوٹ:
بچوں میں تشدد اور ناچاقی کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارا خاندان کا ادارہ کمزور ہوتا چلا جارہا ہے اور اس وجہ سے بچوں کی مناسب socialization  نہیں ہوپارہی۔ یعنی وہ معاشرت پسند نہیں بن رہے۔ ظاہر ہے کہ جب بچے دوسرے بچوں سے ، اپنے ماں باپ سے اور رشتہ داروں سے کم ملیں گے، بول چال نہیں ہوگی، آنا جانا نہیں ہوگا تو بچے اکیلے ہو جائیں گے ۔ اپنے کھلونوں اور چیزوں پر وہ اپنا حق زیادہ جتانے لگیں گے اور جونہی کوئی انہیں چھیڑے گا وہ ڈسٹرب ہوں گے اور لڑائی جھگڑے پر اتر آئیں گے۔ ہمارے قدیم خاندان میں بہت سے لوگ مل جل کر ایک ساتھ یا قریب قریب رہتے تھے۔ نوجوان اس ماحول سے یہ سیکھتے تھے کہ انہیں اپنے چیزوں کو شیئر کرنا چاہیے۔ ان کے کھلونے محض ان کے نہیں ، ان کے بہن بھائیوں، کزن اوردیگر بچوں کے بھی ہیں۔


بچوں میں چوری کی عادت...والدین کیا کریں؟

چوری کرنا یقیناً بہت بری عادت ہے اور ہم اپنے بچوں کو اس سےبچانا چاہتے ہیں۔ لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ ماں باپ کی کوشش اور سزا کے باوجود کچھ بچوں میں یہ عادت دن بدن پختہ ہوتی جاتی ہے اور وہ اس کی وجہ سے خاصے بدنام ہوجاتےہیں۔ والدین کے لیے بھی بچوں کی چوری کی عادت خاصی پریشانی اور بسا اوقات خاصی شرمندگی کا باعث بنتی ہے۔ کبھی ہمسائے شکایت کرتے ہیں کہ آپ کا بچہ ہمارے گھر سے فلاں چیز اٹھا کر لے گیا ہے اور کبھی سکول سے ٹیچر لکھ بھیجتی ہیں کہ آپ کے بچے کے بیگ سے دوسرے بچوں کی اشیاء برآمد ہوئی ہیں۔ اکثر مائیں پہلے تو یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتیں اور الٹا چڑھائی کرتے نظر آتی ہیں کہ کیا ہمارا بچہ چور ہے، اور کیا آپ نے میرے بچے کو چور سمجھ رکھا ہے۔۔ لیکن جب ٹیچر ثبوت دیتی ہیں تو پھر شرمندہ ہو کر بسا اوقات اپنے بچے کو پیٹنے لگتی ہیں۔

یہ اور ایسی دیگر کئی مثالوں سے یہ اخذ نہیں کیا جاسکتا ہے بچے چور ہوتے ہیں یا ان کی چوری کی عادت اسی طرح ہوتی ہے جس طرح خدانخواستہ کسی بڑے مجرم کی عادت۔ لیکن دوسری طرف یہ بات بھی درست ہے کہ ابتدائی عمر سے ہی بچوں کو چوری کی عادت سے بچانا چاہیے کیونکہ چھوٹی چھوٹی اشیاء کی چوری اگرچہ کوئی معنی نہیں رکھتی لیکن یہ عادت اگر پختہ ہو جائے تو بڑے جرائم کی طرف بھی راغب کرسکتی ہے۔ بچے چوری کیوں کرتے ہیں اور ان کو چوری سے کیسے بچایا جاسکتا ہے۔ ذیل میں ہم چند ایسی تجاویز پیش کررہے ہیں جن سے آپ چوری کی عادات کا استیصال کرپائیں گے۔

بچے کی صحبت کا خیال کیجیے:

بعض اوقات بچے اپنے کسی قریبی دوست یا بڑے بچے کو ایسا کرتے دیکھتے ہیں اور اس کام کو برا نہیں سمجھتے اور یہ حرکت کرتے ہیں۔لہٰذا بہت ضروری ہے کہ بچوں کے دوستوں  اور ہمجولیوں کی بابت مکمل معلومات حاصل کی جائیں۔ فرض کریں کہ سکول سے آپ کے بچے کے متعلق چوری کرنے کی شکایت موصول ہوئی ہے توٹیچر سے کہہ کر فوراً بچے کی کلاس روم میں جگہ تبدیل کروائیں۔ اگر کچھ اور بچے بھی ساتھ شامل ہوں تو ٹیچر سے کہیں کہ وہ اس گروپ کو توڑیں اور سب بچوں کو مختلف جگہوں پر بٹھائیں اور ان کی نگرانی کریں۔آپ بھی یہ کیجیے کہ روزانہ بچے کا بیگ چیک کیجیے۔ اس میں بچے کی اشیاء کم نہیں ہونی چاہییں اور ظاہر ی بات ہے زیادہ بھی نہیں ہونی چاہییں۔ اگر آپ کوئی شے زیادہ دیکھتے ہیں تو پوچھیں کہ یہ کہاں سے آئی اور کس کی ہے۔ بچے  سے اسے واپس کرنے کا کہیے اور اگر بچہ ایک دو دن نہ مانے تو خود سکول جا کر واپس کر کے آئیے۔

اسی طرح گھر میں بچہ ملازمین وغیرہ کو بھی مختلف اشیا اٹھاتے ہوئے دیکھتا ہے تو خود کرنے لگتا ہے۔ لہٰذا ملازمین کی عادات کا بھی خیال رکھیے کہ بچے ان سے اثر قبول کرتے ہیں۔  

بچے کی من پسند چیزوں سے زیادہ نہ روکیں:

بعض مائیں گھر میں ڈسپلن کو بہت زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔ گھر میں کھانے پینے کی ایسی کئی چیزیں پڑی ہوتی ہیں جو بچے کی من پسند ہوتی ہیں، لیکن بچے پر پابندی ہوتی ہے  کہ فلاں وقت میں اور اتنی تعداد میں ہی لینی ہے۔ زیادہ لینے پر سختی کی جاتی ہے اور سزا بھی دی جاتی ہے۔ لہٰذا بچہ چپکے سے چیز اٹھا لیتا ہے۔ اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ  بچوں کو سمجھائیے ضرور تاہم بلاوجہ بہت زیادہ سختی مت کیجیے ۔ اگر بچہ کوئی گولی یا ٹافی زیادہ لے لیتا ہے تو اسے سزا مت دیجیے۔ ہاں سمجھائیے ضرور کہ اس سے دانت خراب ہوں گے وغیرہ وغیرہ۔ یا پھر اگر آپ اپنے ڈسپلن میں ذرا بھی نرمی کرنے پر تیار نہیں تو پھر ان چیزوں کو کسی لاک وغیرہ میں رکھیے تاکہ بچہ خود سے لے ہی نہ سکے۔ لیکن یہ کوئی زیادہ اچھی صورت نہیں ہوگی۔

کھلونوں کی چوری:

کھلونے چھوٹے بچوں کی زندگی کا ایک لازمی جزو ہیں۔ بعض والدین بچوں کے کھلونوں کے حوالہ سے  خاصی لاپروائی برتتے ہیں یعنی استطاعت ہونے کے باوجود بچوں کو کھلونے لا کر نہیں دیتے۔ ایسے بچے جب ہمسائے یا دوسرے گھروں میں کھلونے دیکھتے ہیں تو ان کا بھی دل ان کھلونوں سے کھیلنے کو کرتا ہے اور وہ انہیں اٹھا لاتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی سچ ہے کہ ہر کھلونا آپ بچے کو لا کر نہیں دے سکتے ۔ اس کے لیے اسے سمجھائیے۔ خود پیسے جوڑنے کی عادت ڈالیے اورکچھ آسان کھلونے خود بنانا بھی سکھائیے۔

پیسوں کی حفاظت کیجیے:

آج کل چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی یہ معلوم ہے کہ ہر چیز پیسے سے آتی ہے۔ باہر گلی میں کوئی پھیری والا آئے تو فوراً بچے آپ سے پیسے مانگنے لگتے ہیں۔ ہم کبھی تو بچوں کو دے دیتے ہیں اور کبھی انھیں ڈانٹ دیتے ہیں۔ یہ سب ٹھیک ہے لیکن ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال کریں کہ بچے خود سے پیسے اٹھا کر چیز نہ لائیں۔ اس مقصد کے لیے اپنے بٹوے وغیرہ کی حفاظت کیجیے۔ مائیں عموماً اپنے پرس وغیرہ بچوں کے سامنے ہی کہیں رکھ دیتی ہیں، یہ بچوں کو اکسانے والی بات ہے۔

بچوں سے چوری کے متعلق بات کیجیے:

شاید سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ بچوں سے وقتاً فوقتاً چوری کی عادت اور اس کے  برے نتائج پر بات کی جائے۔ ہم اکثر بچوں کو ڈانٹ تو دیتے ہیں لیکن انہیں عقلی اور منطقی طور پر برائی کے نتائج سے آگاہ نہیں کرتے۔ بچوں سے دلیل سے بات کیجیے۔ انہیں بتائیے کہ اس سے دوسروں کا نقصان ہوتا ہے بالکل ویسے ہی  جیسے اگر ان کی کوئی چیز اٹھا لے تو ان کا نقصان ہوگا  وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح بچے معاشرے میں موجود معاشی تفاوت یعنی امیر غریب کے فرق کو نہیں سمجھ پارہے ہوتے اور ہر چیز حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، اس پر بات کیجیے اور بتائیے کہ وہ پڑھ لکھ کر ، محنت کرکے سب کچھ حاصل کرسکتے ہیں لیکن چوری سے حاصل کرنا درست نہیں۔

اس طرح سکول کھولے جا سکتے ہیں

سکول بندہیں ، بچوں کی زندگیاں ان کی تعلیم سے زیادہ اہم ہیں۔ یہ بات بہت اہم ہے لیکن یہ بھی دیکھیں تعلیم کے بغیر ان کی زندگی بھی نہیں۔ ہم بچوں کا ایک سال ضائع کر دیں گے، جو کچھ وہ پڑھ چکے ہیں دوبارہ محنت سے انہیں ذہن نشین کرانا پڑے گا۔ الا ما شا اللہ وہ بچے جن کے والدین بچوں کے بارے میں زیادہ فکر مند ہیں اور انہیں گھروں میں پڑھائی کی سہولیات مہیا کر رہے ہیں۔ لیکن کروڑوں بچے ایسے ہیں جن کا وقت ضائع ہو رہا ہے۔
ان بچوں کے ساتھ لاکھوں ٹیچرز بھی اس طرح بے روزگار ہیں۔ مالی ، آیا، بک شاپ پبلشر سب اس وقت جینے کی کشمکش میں ہیں۔ کیسے ہوگا؟ کیا ہو گا کوئی خبر نہیں۔ ہم مانتے ہیں بچوں کرونا کے وار سے ہر صورت بچانا ہے لیکن بہت سے تعلیم کے شعبے سے متعلق افراد کے بچوں کو بھوک سے بھی بچانا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ کچھ اس طرح کے ایس او پیز سے سکول کھول دیے جاتے اور زندگی بحال کی جاتی۔
ہر کلاس کے آدھے بچے ایک دن سکول آئیں اور آدھے اگلے دن۔ مثلا ایک کلاس میں تیس بچے ہیں سوموار کو پہلے پندرہ آ جائیں اور منگل کو دوسرے پندرہ۔ اس طرح ہر بچے ہفتے میں تین دن سکول آئے گا۔ اور چھوٹے سے چھوٹا سکول بھی بچوں میں مناسب فاصلہ برقرار رکھ پائے گا۔
فیس ماسک ہر بچے کے لیے لازمی کر دیے جائیں جیسے وہ یونیفارم کا حصہ ہوں۔
تمام اساتذہ فیس ماسک اور گلوز کا استعمال یقینی بنائیں۔
سکول آنے سے کے بعد اور جانے سے پہلے تمام بچے صابن سے ہاتھ صاف کریں۔
بچوں کو سکول تک والدین خود چھوڑنے اور واپس لینے آئیں یا ایس سواری کا انتظام کریں جس میں مناسب فاصلہ برقرار رہے۔
کلاس رومز کو روزانہ ڈس انفیکٹ کیا جائے اور صفائی کا خاص خیال رکھا جائے۔
جو بچے بیمار ہوں انہیں کچھ دنوں کے لیے چھٹی دی جائے کہ وہ مکمل صحت یاب ہو جائیں۔
سکول ٹائمنگ صبح سات سے دس بجے تک ہو۔
سکول بیگ لانا منع ہو تین دنوں کے مطابق دو مضامین روزانہ کے ہوں اور بچے صرف وہی کتابیں ساتھ لائیں۔
اسمبلی اور دوسری ہر طرح کی سرگرمیوں پر پابندی ہو۔
اساتذہ ہوم ورک پر زیادہ فوکس کریں اور بچوں کو کلاس روم میں ایس و پیز کے تحت بیٹھائیں اور انہیں سکھائیں ان حالات میں کیسے رہنا ہے۔
میری رائے میں اس طرح کے ایس او پیز کے ساتھ اگر سکول کھول دیے جائیں اور اب بھی ہونے والے بہت بڑے نقصان کو کنٹرول کر لیں گے۔ اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے اور ہمارے بچوں کو محفوظ اور صحت مند رکھے آمین۔

بچے جو دیکھتے ہیں کرتے ہیں

تربیت اولاد کا سادہ مگر نہا یت کٹھن مر حلہ
                چند ما ہ قبل کا وا قعہ ہے کی میری تین سالہ بیٹی صا حبہ اپنے دو ستو ں کے ساتھ کھیل میں مصروف تھیں۔ کچھ وقت گزرا تو محترمہ کو بھو ک نے ستا یا۔ وہ گھر میں دا خل ہو ئیں اور فریج میں سے پھل لے کر کھانے لگیں۔ اسی عمر کا ایک بچہ بھی اس ان کے ساتھ تھا۔ ۔ اُن کی دیکھا دیکھی اُس نے بھی وہی کیا اور فریج میں سے پھل نکال کر بھو ک مٹا نے لگا۔ یہ منظر میری اہلیہ محترمہ کو کچھ عجیب سا لگا۔ انھو ں نے عادت کے مطابق فوری طور پر بچو ں کو ٹو کنے سے اجتناب کیا اور اس پر مزید با ت کرنے کے لیے کسی منا سب وقت کا انتظار کرنے لگیں۔
                میں غالباً کسی گھر یلو کام میں مصروف تھا۔ آخر چھٹی کا دن ایسے ہی کا مو ں کے لیے ہو تا ہے۔ اس لیے اہلیہ محترمہ نے مجھے متو جہ کرنا مناسب نہ سمجھا۔ البتہ کچھ وقت گزرنے کے بعد میں فار غ ہوا تو سارا حال مجھے کہہ سنا یا۔ میرے نزدیک تو یہ کو ئی ایسا خا ص معاملہ نہ تھا مگر اہلیہ محترمہ کا اصرار تھا کہ ہم اس حوالے سے کو ئی اصول وضع کریں۔ جب ان کا اصرار بڑھتا گیا تو میں بو لا:
’’دیکھیے! بچے جو دیکھتے ہیں، وہی کرتے ہیں یا کرنے کی کو شش کرتے ہیں۔ اگر آپ چا ہتی ہیں کہ اس گھر کے کسی فرد کے علاوہ کوئی دوسرا ہمارا فریج بغیر اجا زت نہ کھو لے تو اس کے لیے ہمیں یہ اصول خو د پر لا گو کرنا ہو گا۔‘‘
’’کیا مطلب؟اہلیہ محترمہ کی الجھی آواز میری کا نو ں سے ٹکرا ئی۔
’’مطلب یہ کہ ہماری بیٹی کی سہیلیا ں یا دوست ایسا کرنے سے اِسی صورت رک سکیں گے کہ جب ہماری بیٹی یہ کام نہ کرے۔ رہی بات ہماری بیٹی کی تووہ اِس صورت میں یہ عادت اپنا سکے گی کہ جب ہم دو نو ں میں سے کو ئی ایک، دوسرے سے اجازت لے کر فر یج کھو لے۔یو ں ہمیں دیکھ کر ہماری بیٹی یہ کام یا آداب سیکھے گی اور اُسے دیکھ کر با قی بچے‘‘
                محتر م قا رئین!
                سننے یا پڑھنے کے حد تک تو یہ ایک عام سا واقعہ محسو س ہو تا ہے۔ اِس جیسے بے شمار واقعات ہمارے گھرو ں میں ہو تے رہتے ہیں۔ لیکن بچو ں کی تر بیت کے حوا لے سے اس سے سا دہ مگر کٹھن اصول اور کو ئی نہیں کہ "Children see, children do"
                یہ اصول کوئی ہماراوضع کردہ نہیں بلکہ ایک عرصہ سے ماہرین نفسیا ت اسے بچوں کے سیکھنےکا لازمی اصول قرار دیتے چلے آرہے ہیں۔ مشہور ماہر نفسیات اور ماہر تعلیم البرٹ بنڈورا (Albert Bendura)  نے 1967 ء میں سماجی تعلم میں مشاہدے یا نقل کی اہمیت سے متعلق اپنی  Social Learning Theoryپیش کی۔ جس میں اس نے مختلف بچوں پر تجربات کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ بچے سماجی رویے اور کردار زیادہ تر اپنے سے بڑوں کے مشاہدے اور ان کے عمل کی نقل کرنے سے سیکھتے ہیں۔ انگریزی میں اسے observational learning  کہا جاتا ہے۔
                البرٹ بنڈورا نے کئی تجربات کیے ۔ ان تجربات کو  Bobo Doll Experiment کا نام دیا گیا۔ چوبیس چوبیس بچوں کے تین گروپس بنا کر اس نے مختلف کمروں میں رکھا اور انہیں کھیلنے کے لیے کچھ کھلونے دیے۔ ان بچوں کی موجودگی میں ایک بڑے شخص یا کسی ٹیچر وغیرہ کو ایک کھلونے (Bobo Doll) کے ساتھ مختلف قسم کے ایکشنز کرنے کو کہا گیا۔ مثال کے طور پر ایک گروپ کے کمرے میں بڑے شخص کا یہ عمل ظالمانہ یا aggressive  تھا، ایک کمرے میں نرمی پر مشتمل  اور تیسرے کمرے میں ڈول تو رکھی گئی لیکن اس کے ساتھ کوئی شخص نہیں تھا۔
                جس کمرے میں اس گڑیا یا بوبو ڈول کے ساتھ ظالمانہ یا aggressive  سلوک روا رکھا گیا، بچوں نے بھی یہی سیکھا، جس کمرے میں نرمی اور اچھا سلوک کیا گیا ، وہاں بچوں نے بھی اس کے ساتھ یہی سلوک کیا، جبکہ تیسرے کمرے میں ملا جلا سلوک دیکھنے میں آیا جو بچوں کی پسند ناپسند پر مبنی تھا۔
                گویا بچے والدین اور اپنے بڑے بہن بھائیوں یا دوستوں کو دیکھ دیکھ کر اپنے سماجی رویے اور کردار تشکیل دیتے ہیں۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم انہیں اپنی طرف سے کیا مشاہدہ کرواتے ہیں۔  اس حوالے سے چند ایک تجاویز والدین کے لیے حاضر ہیں:

                1۔ اپنے ہر چھوٹے بڑے عمل کا جائزہ لیجیے اور سوچیے کہ کیا یہ کام بچوں کے کرنے کا ہے؟ اگر ہے تو ٹھیک ورنہ اُسے بچوں کے سامنے دہرانے سے گریز کریں۔ یہ کام کچھ مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ اس ضمن میں یہ بات بھی یاد رکھیے کہ اس اصول کو بچوں کے آپسی تعلقات میں بھی دیکھیے لیکن اس پر سختی کرنے سے گریز کیجیے۔ مثال کے طور پر آپ کے پڑوسی کے بچے گالم گلوچ کرتے ہیں اور آپ چاہتے ہیں کہ بچے انھیں دیکھ کر یہ سب نہ سیکھیں۔ اب اس کا حل اکثر والدین یہ نکالتے ہیں کہ بچوں کے ایک دوسرے سے ملنے جلنے پر پابندی لگا دیتے ہیں۔ ایسا کرنے سے بچے کسی حد تک اس غلط کام سے رک تو جاتے ہیں لیکن وہ بہت سی خوبیوں سے بھی محروم ہو جاتے ہیں جو انھیں تعلقات بنانے سے ہی حاصل ہو سکتی ہیں۔ ایسے مسائل کے حل کے لیے دیگر ذرائع استعمال کریں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ’’بچوں کی تمام منفی عادات کو نظرانداز کرنے کا اصول‘‘اپنائیے۔ اس کے علاوہ آپ اپنے پڑوسیوں سے بھی اس پر بات کر سکتے ہیں۔ آخر ان بچوں نے یہ عادت بھی تو کسی نہ کسی کو دیکھ کر ہی اپنائی ہو گی۔
                2۔ اپنے گھر کے اصول و ضوابط وضع کیجیے اور ان پر کاربند رہیے۔
                ہوتا یوں ہے کہ ہم ایک کام سے بچوں کو منع کرتے ہیں لیکن خود وہی کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے موبائل، لیپ ٹاپ وغیرہ کا زیادہ استعمال نہ کریں مگر وہ کسی صورت ایسا نہیں ہونے دیتے۔ غور کیا جائے تو اس کی سب سے بنیادی وجہ ہمارا اِن چیزوں کا بے تحاشہ استعمال ہے۔ اگر آپ کے گھر کا اصول یہ ہو کہ ضرورت کے علاوہ ان چیزوں کا استعمال نہیں ہو گا اور گھر کے مرد اپنے بیشتر کام دفتر ہی میں نبٹا کر آئیں گے تو بچے اس طرف آئیں گے ہی نہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ ہم خود مسلسل ان چیزوں کا استعمال کر رہے ہوتے ہیں مگر بچوں سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ایسا نہ کریں۔ اسے ہماری ’’سادہ لوحی‘‘ کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا ہے۔
                3۔ اپنے اردگرد کا ماحول بہتر کیجیے۔
                بچوں کے سیکھنے میں ماحول کا ایک نمایاں کردار ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ ہم خود تو اپنے بچوں کی تربیت چاہ رہے ہوتے ہیں لیکن ہم نے سکول، ٹیوشن سنٹر، محلے داری کی صورت انھیں ایسا ماحول فراہم کیا ہوتا ہے جہاں ہماری تربیت کو زائل کرنے والے عوامل بکثرت پائے جاتے ہیں۔ سچ پوچھیں تو یہ اپنے ہی ہاتھوں اپنی فصل برباد کرنے کا معاملہ ہے۔ جہاں ہم اپنی اولاد کے لیے اور بہت سے منصوبے اور خواہشات رکھتے ہیں، وہیں انھیں ایک بہتر ماحول دینا بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے۔بچے آسائشوں کے بغیر رہ لیں تو قبول کر لیجیے مگر انھیں بہترین ماحول ضرور مہیا کیجیے۔
                4۔ وہ کام کرکے دکھائیے جو آپ چاہتے ہیں۔
                برے کاموں سے روکنے کے ساتھ ساتھ ہمیں وہ کام بچوں کو کرکے دکھانے چاہییں جن کو ہم چاہتے ہیں کہ بچے کریں اور اسی طریقے سلیقے سے کریں جس سے ہم چاہتے ہیں۔ مثال کے طور پر گھر آئے مہمان کو پانی کیسے پیش کرنا ہے، الماریوں میں برتن، کتابیں اور کپڑے وغیرہ کس ترتیب اور طریقے سے رکھے جائیں گے۔ باہر کوئی آئے تو دروازہ کیسے کھولنا ہے، فون پر کسی سے بات کیسے کرنی ہے وغیرہ وغیرہ۔ ہم عموماً ان باتوں کا خیال نہیں رکھتے کہ بچے ہمیں یہ کام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں اور صحیح یا غلط، جیسے بھی ہم یہ کام کررہے ہیں وہ اسے سیکھتے ہیں اور ویسے ہی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔