جھانواں

 







جس پتھر کی تصویر آپ دیکھ رہے ہیں اس کو پنجابی اور پہاڑی زبان میں "چانواں" اور اردو میں "جھانواں" اور شاید انگلش میں Scrubber کہتے ہیں۔ 

یہ پتھر پاوں کی میل اتارنے کیلیے استعمال ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں فارغ اور بےوقوف شخص کو بھی جھانواں بولا جاتا ہے۔

 جھانواں بہت ہی کم قیمت چیز ہے۔ پچاس یا سو روپے میں اچھا خاصا بڑا جھانواں مل جاتا ہے۔ 

آپ سوچ رہے ہونگے کہ میں آج جھانوے پر کیوں لکھ رہا ہوں۔ تھوڑا سا انتظار کریں آپ کو جواب مل جائے گا۔ 

جھانواں کھردرا پتھر ہے۔ یہ تراش خراش یعنی grooming کے عمل سے نہیں گزرا۔ اگر اس کی گرومنگ ہوئی ہوتی تو یہ 50 روپے کا نہ بکتا۔ یہ لوگوں کے پاوں کی میل اتارنے کیلیے استعمال نہ ہوتا۔ اور اس کا مقام واش روم نہ ہوتا۔ 

جو لوگ grooming کے عمل سے نہیں گزرتے اور وقت کے ساتھ اپنے آپ کو polish نہیں کرتے وہ بھی جھانوے کی طرح بہت سستے بکتے ہیں۔ معاشرے میں انکی کوئی قدر نہیں ہوتی۔ 

ایسے لوگ جلسے اور جلوسوں میں سیاست دانوں کی کرپشن اور نااہلی کی میل اتارنے کیلیے استعمال ہوتے ہیں۔

 ایسے لوگ "کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے" اور "آج بھی بھٹو زندہ ہے" اور "تبدیلی آئی ہے" کے نعرے مروانے کیلیے استعمال ہوتے ہیں۔ جلسے میں جب زیادہ جھانوے آتے ہیں تو جلسہ زیادہ کامیاب ہوتا ہے اور جب کم جھانوے آتے ہیں تو کم کامیاب ہوتا ہے۔ 

انٹرنیٹ عام ہوگیا ہے۔ جھانوے ترقی کرکے digital جھانوے بن گئے ہیں۔ سارا دن ڈیجیٹل جھانوے انٹرنیٹ پر بیٹھ کر  بدعنوان اور نا اہل سیاست دانوں کو اور تفرقہ بازی کی دکانیں چلانے والوں کا دفاع کرتے ہیں۔ 

وقت بہت قیمتی چیز ہے۔ اللہ تعالی قرآن میں وقت کی قسم کھاتا ہے۔ جس نے وقت کو برباد کیا وہ برباد ہوگا اور لوگوں کی میل اتارنے کیلیے استعمال ہوتا رہے گا۔ 

اپنے آپ کو groom کریں ہر لمحے اپنے ہنر کو پالش کریں۔ نئے ہنر سیکھیں۔ نئی زبان سیکھیں۔ انٹرنیٹ کا مثبت استعمال کریں۔ انٹرنیٹ کو استعمال کرکے لوگ لاکھوں کما رہے ہیں۔ اس دور میں ہنر پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے۔ 

اچھا تو بات جھانوے سے شروع ہوئی تھی۔ تو آج آپ خود کو دیکھ  لیں کہ آپ سیاست دانوں کی بد عنوانی کی میل صاف کرنے کیلیے استعمال تو نہیں ہو رہے۔  اپنے آپ کو گروم کریں اور اپنی قدر میں اضافہ کریں۔

افریقی سوانا اور بھینسے

 


افریقی سوانا میں گھاس چرتے دیوہیکل بھینسے بظاہر پرسکون لگتے ہیں لیکن اگر یہ غصے میں آجائیں تو شیر کو بھی اپنے سینگوں پر اٹھالیتے ہیں. عام طور پر ان کو غصہ آتا بھی پلک جھپکتے ہے. لیکن اسی بھاری بھرکم مخلوق پر چھوٹی چھوٹی لال پیلی چونچ والی چڑیاں سوار رہتی ہیں. ان سے ان کی بہت دوستی ہوتی ہے.


یہ چڑیاں ان کے چھدرے بالوں میں چھپی جونکیں اور دوسرے حشرات الارض کھاتی ہیں. جسم کے ان حصوں پر تکلیف دیتے ان کیڑے مکوڑوں کے سامنے یہ عظیم الحبثہ جانور بلکل لاچار ہوتا ہے. یہ چڑیاں اس چھوٹی تکلیف کو کھا کر اسے بڑی تکلیف بننے نہیں دیتیں اور ان کو سکون ملتا ہے.

لیکن یہ چڑیاں ایک کام اور بھی کرتی ہیں. بھینسے کے مقابلے میں ان کے دیکھنے سننے کی طاقت بہت تیز ہوتی ہے. خطرہ جب آس پاس چھپ کر منڈلا رہا ہو تو یہ فوری بھانپ کر شور مچاتی اڑنے لگتی ہیں. اور بھینسا ہوشیار ہو جاتا ہے.

آپ جتنے بڑے ہوتے جاتے ہیں قدرت بہت سے چھوٹے چھوٹے کمزور کردار آپ کے ساتھ منسلک کر دیتی ہے. ہم اکثر اس کو بوجھ سمجھ لیتے ہیں. لیکن یہ بوجھ نہیں ہوتا. 
یہ قدرت کی حفاظتی شیلڈ ہوتی ہے. وہ انشورنس جو کہتی ہے تم میرے کمزور کو کھلاؤ میں تمہاری عزت و طاقت برقرار رکھوں گا. 
جو قدرت کا یہ کلیہ سمجھ لیتا ہے اس کی ترقی پھیلنے لگتی ہے.

ثمرقند کی فتح

 ثمرقند سے طویل سفر طے کر کے آنے والا قاصد ، سلطنت اسلامیہ کےحکمران سے ملنا چاہتا تھا۔

اسکے پاس ایک خط تھا جس میں غیر مسلم پادری نے مسلمان سپہ سالار قتیبہ بن مسلم کی شکایت کی تھی۔

پادری نے لکھا !

 "ہم نے سنا تھا کہ  مسلمان  جنگ اور حملے سے پہلے قبول اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔اگر دعوت قبول نہ کی جائے تو جزیہ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر  کوئی ان دونوں شرائط کو قبول کرنے سے انکار کرے تو  جنگ کے لئے  تیار ہو جاتے ہیں۔

مگر ہمارے ساتھ ایسا نہیں کیا گیااور اچانک حملہ کر کے ہمیں مفتوح کر لیا گیا ہے۔  

یہ خط ثمر قند کے سب سے بڑے پادری نے اسلامی سلطنت کے فرماں روا  عمر بن عبد العزیز  کے نام  لکھا تھا۔ 

دمشق کے لوگوں سے شہنشاہ وقت کی قیام گاہ کا معلوم کرتے کرتے وہ قاصد ایک ایسے گھر جا پہنچا کہ جو انتہائی معمولی اور خستہ حالت میں تھا۔ایک شخص دیوار سے لگی سیڑھی پر چڑھ کر چھت کی لپائی کر رہا تھا اور نیچے کھڑی ایک عورت گارا اُٹھا کر اُسے دے رہی تھی۔

جس راستے سے آیا تھا واپس اُسی راستے سے اُن لوگوں کے پاس جا پہنچا جنہوں نے اُسے راستہ بتایا تھا۔

اُس نے لوگوں سے کہا میں نے تم سے  اسلامی سلطنت کے بادشاہ کا پتہ پوچھا تھا نہ کہ اِس مفلوک الحال شخص کا جس کے گھر کی چھت بھی ٹوٹی ہوئی ہے۔

لوگوں نے کہا،ہم نے تجھے پتہ ٹھیک ہی بتایا تھا، وہی حاکم وقت عمر بن عبد العزیز  کا گھر ہے ۔

قاصد پر مایوسی چھا گئی اور بے دلی سے دوبارہ اُسی گھرپر جا کر دستک دی،جو شخص کچھ دیر پہلے تک لپائی کر رہا تھا وہی اند ر سے نمودار ہوا۔

قاصدنے اپنا تعارف کرایا اور خط عمر بن عبدالعزیز کو دے دیا۔

عمر بن عبدالعزیز نے خط پڑھ کر اُسی خط کی پشت پر لکھا : 

عمر بن عبدالعزیز کی طرف سے سمرقند میں تعینات اپنے عامل کے نام؛ ایک قاضی کا تقرر کرو جو پادری کی شکایت سنے۔مہر لگا کر خط واپس قاصدکو دیدیا۔

سمرقند لوٹ کر قاصدنے خط کا جواب اور ملاقات کا احوال جب  پادری کو سنایا ،توپادری پر بھی مایوسی چھا گئی۔

اس نے سوچا کیا یہ وہ خط ہے جو مسلمانوں کے اُس عظیم لشکر کو ہمارے شہر سے نکالے گا ؟اُنہیں یقین تھا کاغذ کا یہ ٹکڑا اُنہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔

مگر کوئی اور راستہ بھی نہ تھا چنانچہ خط لیکر ڈرتے ڈرتے  امیر لشکر اور حاکم ثمرقند قتیبہ بن مسلم کے پاس پہنچے ۔

قتیبہ نے خط پڑھتے ہی فورا ایک قاضی کا تعین کردیا جو اسکے اپنے خلاف سمرقندیوں کی شکایت سن سکے۔

قاضی نے پادری سے پوچھا، کیا دعویٰ ہے تمہارا ؟

پادری نے کہا : قتیبہ نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہم پر حملہ کیا، نہ تو اِس نے ہمیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی اور نہ ہی ہمیں کسی سوچ و بچار کا موقع دیا تھا۔

قاضی نے قتیبہ کو دیکھکر پوچھا، کیا کہتے ہو تم اس دعویٰ کے جواب میں ؟

قتیبہ نے کہا : قاضی صاحب، جنگ تو ہوتی ہی فریب اور دھوکہ ہے۔

سمرقند ایک عظیم ملک تھا، اسکے قرب و جوار کے کمتر ملکوں نے نہ تو ہماری کسی دعوت کو مان کر اسلام قبول کیا تھا اور نہ ہی جزیہ دینے پر تیار ہوئے تھے، بلکہ ہمارے مقابلے میں جنگ کو ترجیح دی تھی۔

سمرقند کی زمینیں تو اور بھی سر سبز و شاداب اور زور آور تھیں، ہمیں پورا یقین تھا کہ یہ لوگ بھی لڑنے کو ہی ترجیح دیں گے، ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا اور سمرقند پر قبضہ کر لیا۔

قاضی نے قتیبہ کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا : قتیبہ میری بات کا جواب دو، تم نے ان لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت، جزیہ یا پھر جنگ کی خبر دی تھی ؟

قتیبہ نے کہا : نہیں قاضی صاحب، میں نے جس طرح پہلے ہی عرض کر دیا ہے کہ ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا تھا۔

قاضی نے کہا :میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی غلطی کا اقرار کر رہے ہو، اس کے بعد تو عدالت کا کوئی اور کام رہ ہی نہیں جاتا۔

اللہ نے اس دین کو فتح اور عظمت تو دی ہی عدل و انصاف کی وجہ سے ہے نہ کہ دھوکہ دہی اور موقع پرستی سے۔

میری عدالت یہ فیصلہ سناتی ہے کہ تمام مسلمان فوجی اور انکے عہدہ داران بمع اپنے بیوی بچوں کے، اپنی ہر قسم کی املاک اور مال غنیمت چھوڑ کر سمرقند کی حدوں سے باہر نکل جائیں اور سمر قند میں کوئی مسلمان باقی نہ رہنے پائے۔

 اگر ادھر دوبارہ آنا بھی ہو تو بغیر کسی پیشگی اطلاع و دعوت کے اور تین دن کی سوچ و بچار کی مہلت دیئے بغیر نہ آیا جائے۔

پادری جو کچھ دیکھ اور سن رہا تھا وہ ناقابل  یقین تھا۔چند گھنٹوں کے اندر ہی مسلمانوں  کا عظیم  لشکر قافلہ در قافلہ شہر کو چھوڑ کے جا  چکا تھا۔

ثمر قندیوں نے اپنی تاریخ  میں ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا کہ جب طاقتور فاتح قوم  کمزور مفتوح قوم کو یوں دوبارہ آزادی بخش دے۔

 ڈھلتے سورج کی روشنی میں لوگ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرنے لگے کہ یہ کیسا مذہب اور کیسے پیروکار ہیں ۔ عدل کا یہ معیار کہ اپنوں کے خلاف ہی فیصلہ دے دیں۔ اور طاقتور سپہ سالار اس فیصلہ پہ سر جھکا کر عمل بھی کر دے۔

 تاریخ گواہ ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں پادری کی قیادت میں تمام  شہر کے لوگ گھروں سے نکل کر لشکر کے پیچھے سرحدوں کی طرف دوڑے  اور لا الٰہ الاّ اللہ محمّد الرّسول اللہ کا اقرار کرتے ہوئے اُنکو واپس لے آئے کہ یہ آپکی سلطنت ہے اور ہم آپکی رعایا بن کر رہنا اپنے لئے ٖفخر  سمجھیں گے۔

دینِ رحمت نے وہاں ایسے نقوش چھوڑے کہ سمرقند عرصہ تک مسلمانوں کا دارالخلافہ بنا رہا۔

 کبھی رہبر دو عالم  حضرت محمد ﷺ کی امت ایسی ہوا کرتی تھی....

سردار جی نے لیا بینک سے لون

 ﺳﺮﺩﺍﺭ ﺟﯽ ﻧﯿﻮﯾﺎﺭﮎ ﻣﯿﮟ  ﺍﯾﮏ ﺑﻨﮏ ﮐﮯ ﮐﺎﺅﻧﭩﺮ ﭘﺮ  ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ؛  ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﮨﺰﺍﺭ ﮈﺍﻟﺮ ﮐﺎ  ﻗﺮﺽ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ، ﻣﺠﮭﮯ  ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻡﮐﮯ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ  ﯾﻮﺭﭘﯽ ﻣﻠﮑﻮﮞﮐﮯ ﺩﻭﺭﮮ  ﭘﺮ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ  ﭘﺎﺱ ﭘﯿﺴﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔  ﺑﻨﮏ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﮐﻮﺋﯽ  ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ، ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﮯ  ﭘﺎﺱ ﺭﻗﻢ ﻟﻮﭨﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ  ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺿﻤﺎﻧﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ  ﮨﻤﯿﮟ ﻗﺮﺽ ﺩﯾﻨﮯ ﻣﯿﮟ  ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺮﺝ ﻧﮩﯿﮟ۔  ﺳﺮﺩﺍﺭ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ  ﺭﻭﻟﺰ ﺭﺍﺋﺲ ﮐﺎﺭ ﮐﯽ  ﭼﺎﺑﯿﺎﮞ ﺑﻨﮏ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ  ﺗﮭﻤﺎ ﺩﯾﮟ۔ ﺑﻨﮏ ﻧﮯ ﻣﺘﻌﻠﻘﮧ  ﺳﯿﮑﻮﺭﯾﭩﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ  ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮐﮧ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮐﺎﺭ ﺍﻭﺭ  ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﻏﺬﺍﺕ ﮐﯽ  ﺗﺼﺪﯾﻖ ﮐﺮﯾﮟ۔  ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ  ﺳﺮﺩﺍﺭ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﮈﮬﺎﺋﯽ  ﻻﮐﮫ ﮈﺍﻟﺮ ﻣﺎﻟﯿﺖ ﮐﯽ ﮐﺎﺭ  ﺟﯿﺴﯽ ﺿﻤﺎﻧﺖ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ  ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﻧﭻ ﮨﺰﺍﺭ ڈﺍﻟﺮ  ﮐﺎ ﻗﺮﺿﮧ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ  ﮔﯿﺎ۔ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ  ﮐﺎﺭ ﮐﻮ ﺑﻠﮉﻧﮓ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ  ﺑﻨﯽ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﭘﺎﺭﮐﻨﮓ ﻻﭦ  ﻣﯿﮟ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ  ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ  ﮐﮯ ﺭﺧﺼﺖ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ  ﺑﻌﺪ ﺑﻨﮏ ﮐﺎ ﻋﻤﻠﮧ ﺳﺮﺩﺍﺭ  ﮐﯽ ﺍﺱ ﺣﻤﺎﻗﺖ ﭘﺮ  ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﮨﻨﺴﺘﺎ ﺭﮨﺎ۔ 

 ﺩﻭ ﮨﻔﺘﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﺮﺩﺍﺭ  ﺻﺎﺣﺐ ﺳﻔﺮ ﺳﮯ ﻟﻮﭨﻨﮯ ﭘﺮ  ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺑﻨﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺟﮩﺎﮞ  ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﮨﺰﺍﺭ ﮈﺍﻟﺮ ﮐﮯ  ﺳﺎﺗﮫ15.41ﮈﺍﻟﺮ ﺍﻧﭩﺮﺳﭧ  ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ۔  ﻟﻮﻥ ﺳﯿﮑﺸﻦ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ  ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﺁﺩﻣﯽ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ  ﺳﺮﺩﺍﺭ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ  ﭘﺎﺭﮐﻨﮓ ﻻﭦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ  ﭼﻠﺪﯾﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮔﺎﮌﯼ  ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ۔  ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ  ﺳﺮﺩﺍﺭ ﺻﺎﺣﺐ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ  ﮐﯿﺎ:ﮨﻢ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﮯ  ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﺑﻨﮏ  ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ ﭼﯿﮏ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ،  ﺁﭖ ﮐﯽ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﮐﺮﻭﮌﻭﮞ  ﮐﯽ ﭨﺮﺍﻧﺰﯾﮑﺸﻨﺰ ﺳﮯ ﺗﻮ  ﭘﺘﮧ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ  ﺍﺱ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﻗﺮﺽ  ﮐﯽ ﻗﻄﻌﯽ ﮐﻮﺋﯽ  ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ، ﻣﮕﺮ  ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﺍﺗﯽ  ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ  ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ  ﮐﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﻮﮞ  ﮐﯿﺎ؟  ﺳﺮﺩﺍﺭ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ  ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ؛  ﺍﺱ ﺍﺗﻨﮯ ﺑﮍﮮ ﻧﯿﻮﯾﺎﺭﮎ  ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ  ﺍﯾﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﺑﺘﺎ ﺩﻭ جہاﮞ  15.41ﮈﺍﻟﺮ ﻟﯿﮑﺮ ﮐﻮﺋﯽ  ﻣﯿﺮﯼ ﻣﮩﻨﮕﯽ ﮐﺎﺭ ﮐﯽ ﺩﻭ  ﮨﻔﺘﻮﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺣﻔﺎﻇﺖ  ﮐﺮﮮ؟

استاد کی تنخواہ

 پکاسو (پکاسو) سپین میں پیدا ہونے والا ایک بہت مشہور مصور تھا۔  اس کی پینٹنگز پوری دنیا میں کروڑوں اور اربوں روپے میں بک رہی تھیں۔

 ایک دن جب وہ سڑک پر چل رہا تھا تو ایک عورت کی نظر پکاسو پر پڑی اور اتفاق سے اس نے اسے پہچان لیا۔  وہ بھاگ کر اس کے پاس آئی اور کہنے لگی، "جناب، میں آپ کی بہت بڑی مداح ہوں۔ مجھے آپ کی پینٹنگز بہت پسند ہیں۔ کیا آپ میرے لیے بھی پینٹنگ بنا سکتے ہیں؟"

 پکاسو مسکرایا اور بولا، "میں یہاں خالی ہاتھ آیا ہوں۔ میرے پاس کوئی اوزار نہیں ہے۔  پھر کیسے میں تمہارے لیے پینٹنگ بناؤں؟”

 لیکن عورت اب ضد کر رہی تھی۔  اس نے کہا، "مجھے ابھی ایک پینٹنگ بنا دو۔ میں آپ کو نہیں بتا سکتی کہ ہم دوبارہ کب ملیں گے۔"

 پکاسو نے پھر اپنی جیب سے کاغذ کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا نکالا اور اپنے قلم سے کاغذ پر کچھ کھینچنے لگا۔  تقریباً دس منٹ میں پکاسو نے کاغذ پر ایک پینٹنگ بنائی، اسے عورت کے حوالے کیا اور کہا، "یہ پینٹنگ لے لو، تمہیں اس کے لیے ایک ملین ڈالر آسانی سے مل سکتے ہیں۔"

 عورت بہت حیران ہوئی۔  اس نے اپنے آپ سے کہا، "اس پکاسو نے جلدی سے یہ قابل عمل پینٹنگ صرف 10 منٹ میں بنائی، اور یہ مجھے بتاتا ہے کہ یہ ایک ملین ڈالر کی پینٹنگ ہے۔"  لیکن ایک لفظ کہے بغیر اس نے پینٹنگ اٹھائی اور خاموشی سے گھر آ گئی۔  اس کا خیال تھا کہ پکاسو اسے بے وقوف بنا رہا ہے۔  وہ بازار گئی اور پکاسو کی بنائی ہوئی پینٹنگز کی قیمت دریافت کی۔  جب اسے پتہ چلا کہ پینٹنگ ایک ملین ڈالر تک حاصل کر سکتی ہے، تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔

 وہ دوبارہ پکاسو کے پاس بھاگی اور کہنے لگی، "جناب، آپ ٹھیک کہتے ہیں، ان تصویروں کی قیمت تقریباً ایک ملین ڈالر ہے۔"

 پکاسو مسکرایا اور بولا، ’’میں پہلے ہی بتا چکا ہوں۔

 عورت نے کہا، "جناب، کیا آپ مجھے اپنا شاگرد بنائیں گے؟ مجھے پینٹ کرنا سکھائیں، میرا مطلب ہے کہ جس طرح آپ نے دس منٹ میں ایک ملین ڈالر کی پینٹنگ بنائی ہے، میں 10 گھنٹے میں اچھی پینٹنگ بنا سکتی ہوں، مگر 10 منٹ میں نہیں۔اس طرح تم مجھے تیار کرو۔"

 پکاسو مسکرایا اور بولا، "یہ پینٹنگ جو میں نے 10 منٹ میں بنائی ہے اسے سیکھنے میں مجھے “تیس سال”لگے، میں نے اپنی زندگی کے تیس قیمتی سال اس کام میں گزارے ہیں۔

 عورت چونک کر پکاسو کو دیکھنے لگی۔ 

 ایک “استاد” کو 40 منٹ کے لیکچر کے لیے ادا کی گئی تنخواہ، اوپر کی کہانی کے بارے میں بہت کچھ کہتی ہے۔  استاد کے ایک ایک جملے کے پیچھے اس کی کئی سالوں کی محنت ہوتی ہے۔

 معاشرہ یہ سمجھتا ہے کہ “استاد”نے تو بولنا ہی ہے۔  بس اتنا ہی ملنا چاہئے۔ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آج دنیا میں جتنے لوگ باوقار عہدوں پر فائز ہیں، ان میں سے اکثر کسی نہ کسی “استاد” کی وجہ سے اس مقام تک پہنچے ہیں۔

 اگر آپ بھی “استاد” کی تنخواہ کو مفت سمجھتے ہیں تو ایک وقت میں 40 منٹ کا موثر اور بامعنی لیکچر دیں۔  آپ کو فوری طور پر احساس ہو جائے گا کہ آپ کتنے قابل ہیں!


 تمام قابل احترام اساتذہ کے لیے ❤️❤️

کاہنوں سے نجات ضروری ہے

‏ایک چھوٹا لڑکا بھاگتا ھوا "شیوانا" (قبل از اسلام ایران کا ایک مفکّر) کے پاس آیا اور کہنے لگا.. "میری ماں نے فیصلہ کیا ھے کہ معبد کے کاھن کے کہنے پر عظیم بُت کے قدموں پر میری چھوٹی معصوم سی بہن کو قربان کر دے..

آپ مہربانی کرکے اُس کی جان بچا دیں.."

‏شیوانا لڑکے کے ساتھ فوراً معبد میں پہنچا اور کیا دیکھتا ھے کہ عورت نے بچی کے ھاتھ پاؤں رسیوں سے جکڑ لیے ھیں اور چھری ھاتھ میں پکڑے آنکھ بند کئے کچھ پڑھ رھی ھے.. 

‏بہت سے لوگ اُس عورت کے گرد جمع تھے .

اور بُت خانے کا کاھن بڑے ‏فخر سے بُت کے قریب ایک بڑے پتّھر پر بیٹھا یہ سب دیکھ رھا تھا.. 

‏شیوانا جب عورت کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ اُسے اپنی بیٹی سے بے پناہ محبّت ھے اور وہ بار بار اُس کو گلے لگا کر والہانہ چوم رھی ھے.

 مگر اِس کے باوجود معبد کدے کے بُت کی خوشنودی کے لئے اُس کی قربانی بھی دینا چاھتی ھے.

‏شیوانا نے اُس سے پوچھا کہ وہ کیوں اپنی بیٹی کو قربان کرنا چاہ رھی ھے..

 عورت نے جواب دیا..

 "کاھن نے مجھے ھدایت کی ھے کہ میں معبد کے بُت کی خوشنودی کے لئے اپنی عزیز ترین ھستی کو قربان کر دوں تا کہ میری زندگی کی مشکلات ھمیشہ کے لئے ختم ھو جائیں.."

‏شیوانا نے مسکرا کر کہا.. 

"مگر یہ بچّی تمہاری عزیز ترین ھستی تھوڑی ھے..؟

 اِسے تو تم نے ھلاک کرنے کا ارداہ کیا ھے.. 

تمہاری جو ھستی سب سے زیادہ عزیز ھے وہ تو پتّھر پر بیٹھا یہ کاھن ھے کہ جس کے کہنے پر تم ایک پھول سی معصوم بچّی کی جان لینے پر تُل گئی ھو..

 یہ بُت احمق نہیں ھے..

وہ تمہاری عزیز ترین ھستی کی قربانی چاھتا ھے.. تم نے اگر کاھن کی بجائے غلطی سے اپنی بیٹی قربان کر دی تو یہ نہ ھو کہ بُت تم سے مزید خفا ھو جائے اور تمہاری زندگی کو جہنّم بنا دے.."

‏عورت نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بچّی کے ھاتھ پاؤں کھول دیئے اور چھری ھاتھ میں لے کر کاھن کی طرف دوڑی‏ 

مگر وہ پہلے ھی وھاں سے جا چکا تھا.. 

کہتے ھیں کہ اُس دن کے بعد سے وہ کاھن اُس علاقے میں پھر کبھی نظر نہ آیا..

‏دنیا میں صرف آگاھی کو فضیلت حاصل ھے اور ‏واحد گناہ جہالت ھے.. 

‏جس دن ہم اپنے "کاہنوں" کو پہچان گئے ہمارے مسائل حل ہو جائیں گے !!


منقول

قصہ ایک قصاب کا

 بنی اسرائیل کا ایک قصاب اپنے پڑوسی کی کنیز پر عاشق ہوگیا۔ اتفاق سے ایک دن کنیز کو اس کے مالک نے دوسرے گاؤں کسی کام سے بھیجا۔ قصاب کو موقع مل گیا اور وہ بھی اس کنیز کے پیچھے ہولیا۔ جب وہ جنگل سے گزری تو اچانک قصاب نے سامنے آکر اسے پکڑ لیا اور اسے گناہ پر آمادہ کرنے لگا۔ ‏جب اس کنیز نے دیکھا کہ اس قصاب کی نیت خراب ہے تو اس نے کہا:

''اے نوجوان تُو اس گناہ میں نہ پڑ حقیقت یہ ہے کہ جتنا تُو مجھ سے محبت کرتا ہے اس سے کہیں زیادہ میں تیری محبت میں گرفتار ہوں لیکن مجھے اپنے مالک حقیقی عزوجل کا خوف اس گناہ کے اِرتکاب سے روک رہا ہے' ‏اس نیک سیرت اور خوفِ خدا عزوجل رکھنے والی کنیز کی زبان سے نکلے ہوئے یہ الفاظ تاثیر کا تیر بن کر اس قصاب کے دل میں پیوست ہوگئے اور اس نے کہا:

'' جب تُو اللّٰہ عزوجل سے اِس قدر ڈر رہی ہے تو مَیں اپنے پاک پروردگار عزوجل سے کیوں نہ ڈروں ؟ مَیں بھی تو اسی مالک عزوجل کا ‏بندہ ہوں ، جا....تو بے خوف ہو کر چلی جا۔''

اتنا کہنے کے بعد اس قصاب نے اپنے گناہوں سے سچی توبہ کی اور واپس پلٹ گیا ۔

راستے میں اسے شدید پیاس محسوس ہوئی لیکن اس ویران جنگل میں کہیں پانی کا دور دور تک کوئی نام ونشان نہ تھا۔ قریب تھا کہ گرمی اور پیاس کی ‏شدت سے اس کا دم نکل جائے۔ اتنے میں اسے اس زمانے کے نبی کا ایک قاصد ملا۔ جب اس نے قصاب کی یہ حالت دیکھی تو پوچھا:

''تجھے کیا پریشانی ہے؟

قصاب نے کہا:'' مجھے سخت پیاس لگی ہے

یہ سن کر قاصدنے کہا: ہم دونوں مل کر دعا کرتے ہیں کہ اللّٰہ عزوجل ہم پر اپنی رحمت کے بادل ‏بھیجے اور ہمیں سیراب کرے یہاں تک کہ ہم اپنی بستی میں داخل ہوجائیں۔

'قصاب نے جب یہ سنا تو کہنے لگا:

''میرے پاس تو کوئی ایسا نیک عمل نہیں جس کا وسیلہ دے کر دعا کروں، آپ نیک شخص ہیں آپ ہی دعا فرمائیں ۔

اس قاصد نے کہا:

’ٹھیک ھے مَیں دعا کرتا ‏ہوں، تم آمین کہنا

پھر قاصد نے دعا کرنا شروع کی اور وہ قصاب آمین کہتا رہا،تھوڑی ہی دیر میں بادل کے ایک ٹکڑے نے ان دونوں کو ڈھانپ لیا اور وہ بادل کا ٹکڑا ان پر سایہ فگن ہوکر ان کے ساتھ ساتھ چلتا رہا

جب وہ دونوں بستی میں پہنچے تو قصاب اپنے گھر کی جانب روانہ ہوا اور وہ قاصد ‏اپنی منزل کی طرف جانے لگا۔

بادل بھی قصاب کے ساتھ ساتھ رہا جب اس قاصد نے یہ ماجرا دیکھا توقصاب کو بلایا اور کہنے لگا:

تم نے تو کہا تھا کہ میرے پاس کوئی نیکی نہیں اور تم نے دعا کرنے سے اِنکار کردیا تھا۔ پھر میں نے دعا کی اورتم آمین کہتے رہے ،لیکن اب حال یہ ہے کہ بادل تمہارے ‏ساتھ ہو لیا ہے اور تمہارے سر پر سایہ فگن ہے، سچ سچ بتاؤ تم نے ایسی کون سی عظیم نیکی کی ہے جس کی وجہ سے تم پر یہ خاص کرم ہوا؟

یہ سن کر قصاب نے اپنا سارا واقعہ سنایا۔اس پر اس قاصد نے کہا:

'اللّٰہ عزوجل کی بارگاہ میں گناہوں سے ‏توبہ کرنے والوں کا جو مقام و مرتبہ ہے وہ دوسرے لوگوں کا نہیں 

بے شک گناہ سرزد ہونا انسان ہونے کی دلیل ہے مگر ان پر توبہ کر لینا مومن ہونے کی نشانی ہے-

(حکایتِ سعدی رحمتہ اللّہ علیہ)

ترقی کے تین زینے: محنت، ایمانداری اور ہنر

 ایک دن پروفیسر صاحب  سے جوتا پالش کرنے والے بچے نے جوتا پالش کرتے کرتے پوچھا 

 ’’ماسٹر صاحب! کیا میں بھی بڑا آدمی بن سکتا ہوں‘‘

 پروفیسر نے قہقہہ لگا کر جواب دیا

 ’’دنیا کا ہر شخص بڑا آدمی بن سکتا ہے‘‘

بچے کا اگلا سوال تھا


’’کیسے؟‘‘


پروفیسر نے اپنے بیگ سے چاک نکالا‘اوراسکےکھوکھے کی دیوار پر

دائیں سے بائیں تین لکیریں لگائیں‘

پہلی لکیر پر محنت‘ محنت اور محنت لکھا‘

دوسری لکیر پر ایمانداری‘ ایمانداری اور ایمانداری لکھا

اور تیسری لکیر پر صرف ایک لفظ ہنر )Skill( لکھا۔


بچہ پروفیسر کو چپ چاپ دیکھتا رہا‘ پروفیسر یہ لکھنے کے بعد بچے کی طرف مڑا اور بولا:


ترقی کے تین زینے ہوتے ہیں‘

پہلا زینہ محنت ہے.

 آپ جو بھی ہیں‘ آپ اگر صبح‘ دوپہر اور شام تین اوقات میں محنت کر سکتے ہیں تو آپ تیس فیصد کامیاب ہو جائیں گے.

آپ کوئی سا بھی کام شروع کر دیں، آپ کی دکان‘ فیکٹری‘ دفتر یا کھوکھا صبح سب سے پہلے کھلنا چاہئے اور رات کو آخر میں بند ہونا چاہئے‘

 آپ کامیاب ہو جائیں گے‘‘۔

 پروفیسر نے کہا ’’ہمارے اردگرد موجود نوے فیصد لوگ سست ہیں‘ یہ محنت نہیں کرتے‘ آپ جوں ہی محنت کرتے ہیں آپ نوے فیصد سست لوگوں کی فہرست سے نکل کر دس فیصد محنتی لوگوں میں آ جاتے ہیں‘ آپ ترقی کیلئے اہل لوگوں میں شمار ہونے لگتے ہیں".


اگلا مرحلہ ایمانداری ہوتی ہے.

ایمانداری چار عادتوں کا پیکج ہے.

وعدے کی پابندی‘  جھوٹ سے نفرت‘  زبان پر قائم رہنا اور اپنی غلطی کا اعتراف کرنا۔

آپ محنت کے بعد ایمانداری کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لو‘ وعدہ کرو تو پورا کرو‘ جھوٹ کسی قیمت پر نہ بولو‘

زبان سے اگر ایک بار بات نکل جائے تو آپ اس پر ہمیشہ قائم رہو اور ہمیشہ اپنی غلطی‘ کوتاہی اور خامی کا آگے بڑھ کر اعتراف کرو‘

تم ایماندار ہو جاؤ گے۔

کاروبار میں اس ایمانداری کی شرح 50 فیصد ہوتی ہے.


آپ پہلا تیس فیصد محنت سے حاصل کرتے ہیں. آپ کو دوسرا پچاس فیصد ایمانداری دیتی ہے.


اور پیچھے رہ گیا 20 فیصد تو یہ 20 فیصد ہنر ہوتا ہے.


آپ کا پروفیشنل ازم‘ آپ کی سکل اور آپ کا ہنر آپ کو باقی 20 فیصد بھی دے دے گا.

"آپ سو فیصد کامیاب ہو جاؤ گے‘‘.

پروفیسر نے بچے کو بتایا۔


 ’’لیکن یہ یاد رکھو ہنر‘ پروفیشنل ازم اور سکل کی شرح صرف 20 فیصد ہے اور یہ 20 فیصد بھی آخر میں آتا ہے‘ آپ کے پاس اگر ہنر کی کمی ہے تو بھی آپ محنت اور ایمانداری سے 80 فیصد کامیاب ہو سکتے ہیں.

لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ بے ایمان اور سست ہوں اور آپ صرف ہنر کے زور پر کامیاب ہو جائیں۔

آپ کو محنت ہی سے سٹارٹ لینا ہو گا‘

ایمانداری کو اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنانا ہو گا'

آخر میں خود کو ہنر مند ثابت کرنا ہوگا‘‘۔


پروفیسر نے بچے کو بتایا۔

 "میں نے دنیا کے بے شمار ہنر مندوں اور فنکاروں کو بھوکے مرتے دیکھا‘

 کیوں؟

کیونکہ وہ بے ایمان بھی تھے اور سست بھی'

 اور میں نے دنیا کے بے شمار بےہنروں کو ذاتی جہاز اڑاتے دیکھا‘-

’تم ان تین لکیروں پر چلنا شروع کر دو‘

 تم آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگو گے‘‘۔

موبائل سے سیکھیے زندگی کا فلسفہ

 دنیا کے پہلے موبائل کا بنیادی کام صرف کال کروانا تھا، اور موبائل کی اس پہلی نسل کو  1G یعنی فرسٹ جنریشن کا نام دیا گیا۔ اور اس موبائل میں کال کرنے اور سننے کے سوا کوئی دوسرا آ پشن نہیں ہوتا تھا۔


پھر جب موبائلز میں sms یعنی سینٹ میسج کا آپشن ایڈ ہوا، تو اسے 2G یعنی سیکنڈ جنریشن کا نام دیا گیا ۔

پھر جس دور میں موبائلز کے ذریعے تصاویر بھیجنے کی صلاحیت بھی حاصل کر لی گئی تواس ایج کے موبائلز کو 3G یعنی تھرڈ جنریشن کا نام دیا گیا ۔


اور جب بذریعہ انٹرنیٹ متحرک فلمز اور موویز بھیجنے کی صلاحیت بھی حاصل کر لی گئی تو اس ایج کے موبائلز کو 4G یعنی فورتھ جنریشن کا نام دیا گیا۔۔۔


اور ابھی جب موبائلز کی دنیا 5G کی طرف بڑھ رہی تو اس وقت تک دنیا کی ہر چیز کو موبائل میں شفٹ کر دیا گیا ہے۔  آج دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا کام ہو گا جو موبائل سے نہ لیا  جا رہا ہو۔ مگر حیرت ہے کہ اتنی ترقی کرنے اور نت نئے مراحل سے گزرنے کے باوجود یہ موبائل آج بھی اپنا بنیادی کام نہیں بھولا۔ 


آپ کوئی گیم کھیل رہے ہوں یا فلم دیکھ رہے ہوں، انٹرنیٹ سرچنگ کر رہے ہوں یا وڈیو بنا رہے ہوں ۔۔۔ الغرض موبائل پر ایک وقت میں مثلا 10 کام بھی کر رہے ہوں۔۔۔۔ لیکن جیسے ہی کوئی کال آئے گی موبائل فوراً سے پہلے سب کچھ چھوڑ کر آپ کو بتاتا ہے کہ کال آرہی ہے یہ سن لیں۔ اور وہ اپنے اصل اور  بنیادی کام کی خاطر باقی سارے کام ایکدم روک لیتا ہے۔


اور ایک انسان جسے اللہ نے اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا اور ساری کائنات کو اس کی خدمت کے لیے سجا دیا، وہ اللہ کی کال پر دن میں کتنی بار اپنے کام روک کر مسجد جاتا ہے؟ مسجد جانا تو درکنار اب اللہ کی کال یعنی اذان پر ہم اپنی گفتگو بھی روکنا مناسب نہیں سمجھتے..!!

آپ کی ترقی میں رکاوٹ شخص

 ایک دن ایک معروف کمپنی کا ایک ملازم اپنے دفتر پہنچا تو اسکی نگاہ دفتر کے گیٹ پر لگے ہوئے ایک نوٹس پر پڑی جس پر لکھا تھا۔

جو شخص کمپنی میں آپ کی ترقی اور بہتری میں رکاوٹ تھا۔ کل رات اسکا انتقال ہوگیا آپ سے گزارش ہے کہ اس کی آخری رسومات اور جنازے کے لیے کانفرنس ہال میں تشریف لے آئیں جہاں پر اسکی میت رکھی ہوئی ہے۔


یہ پڑھتے ہی وہ اداس ہوگیا کہ اسکا کوئی ساتھی ہمیشہ کے لیے اس سے جدا ہوگیا لیکن چند لمحوں بعد اس پر تجسس غالب آ گیا کہ آخروہ شخص کون تھا جو اسکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ تھا اس تجسس کو ساتھ لیے وہ جلدی سے کانفرس ہال میں پہنچا تو وہاں اس کے دفتر کے باقی سارے ساتھی بھی اسی نوٹس کو پڑھ کر آئے ہوئے تھے اور سب حیران تھے کہ آخر یہ شخص کون تھا۔


کانفرس ہال کے باہر میت کو دیکھنے کے لیے لوگوں کا اس قدر ہجوم ہوگیا کہ سکیورٹی گارڈ کو یہ حکم جاری کرنا پڑا کہ سب لوگ ایک ایک کرکے اندر جائیں اور میت کا چہرہ دیکھ لیں۔


سب ملازمین ایک ایک کرکے اندر جانے لگے جو بھی اندر جاتا اور میت کے چہرے سے کفن ہٹا کر اس کا چہرہ دیکھتا تو ایک لمحے کی لیے حیرت زدہ اور گنگ ہو کر رہ جاتا اور اسکی زبان گویا تالو سے چپک جاتی یوں لگتا کہ گویا کسی نے اسکے دل پر گہری ضرب لگائی ہو۔


اپنی باری آنے پر وہ شخص بھی اندر گیا اور میت کے چہرے سے کپڑا ہٹا کر دیکھا تو اس کا حال بھی دوسروں جیسا ہی ہوا.

کفن کے اندر ایک بڑا سا آئینہ رکھا ہوا ہے اور اسکے ایک کونے پر لکھا تھا۔

دنیا میں ایک ہی شخص ہے جو آپ کی صلاحتیوں کو محدود کرکے آپ کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتا ہے اور وہ آپ خود ہیں۔


یاد رکھیۓ آپ کی زندگی میں تبدیلی آپ کی کمپنی تبدیل ہونے سے آپ کا باس تبدیل ہونے سے آپ کے دوست احباب تبدیل ہونے سے نہیں آتی۔

آپ کی زندگی میں تبدیلی تب آتی ہے جب آپ اپنی صلاحیتوں پر اعتبار کرنا شروع کر دیتے ہیں ، ناممکن کو ممکن اور مشکلات کو چیلنج سمجھتے ہیں.

 اپنا تجزیہ کریں ۔ اپنے آپ کو آزمائیں ۔ مشکلات ، نقصانات اور نا ممکنات سے گھبرانا چھوڑ دیں اور ایک فاتح کی طرح جیئیں.

غلامی کا رشتہ

 قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ !

میں مصر میں تھا اور حج کے لئے درخواست لکھی

تو ایک مصری آفیسر نے مجھ سے پوچھا

آپ پاکستانی ہو کر انگریزی میں درخواست کیوں لکھتے ہو

اُس نے میری جواب طلبی کی

میں نے معذرت کی

کہ مجھے عربی نہیں آتی

اُس لئے درخواست انگریزی میں لکھنا پڑی 

‏آپ کی زبان کیا ہے ؟

آفسر نے پوچھا  !

اردو 

میں نے جواب دیا

پھر انگریزی کے ساتھ آپ کا کیا رشتہ ہے؟

 آفیسر نے طنزیہ پوچھا

میرے لئے اِس کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا کہ میں یہ تسلیم کروں کہ 

انگریزی کےساتھ فقط"غلامی" کا رشتہ ہے۔


(شہاب نامہ)

دیوار نہیں پل بنائیے

 وہ دونوں بھائی چالیس سال سے آپس میں اتفاق سے رہ رہے تھے ۔ ایک بہت بڑا زرعی فارم تھا جس میں ساتھ ساتھ گھر تھے۔ 

دونوں خاندان ایک دوسرے کا خیال رکھتے، اولادوں میں بھی بہت پیار اور محبت تھی۔

ایک دن دونوں بھائیوں میں کسی بات پر اختلاف ہو گیا اور ایسا بڑھا کہ نوبت گالی گلوچ تک جا پہنچی۔

چھوٹے بھائی نے غصے میں دونوں گھروں کے درمیان ایک گہری اور لمبی کھائی کھدوا کر اس میں قریبی نہر کا پانی چھوڑ دیا تا کہ ایک دوسرے کی طرف آنے جانے کا راستہ ہی نہ رہے۔

اگلے روزبڑے بھائی نے ایک ترکھان کو اپنے گھر بلایا اور کہا کہ وہ سامنے والا فارم ہاؤس میرے بھائی کا ہے جس سے آج کل میرا جھگڑا چل رہا ہے۔ اس نے میر ے اور اپنے گھروں کے درمیان جانے والے راستے پر ایک گہری کھائی بنا کر اس میں پانی چھوڑ دیا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ میرے اور اس کے فارم ہاؤس کے درمیان تم آٹھ فٹ اونچی باڑ لگا تاکہ نہ میں اس کی شکل دیکھوں اور نہ ہی اس کا گھر میری نظروں کے سامنے آئے۔اور یہ کام جلد از جلد مکمل کر کے دو جس کی میں تمہیں منہ مانگی اجرت دوں گا ۔

ترکھان نے سر ہلاتے ہوئے کہا کہ مجھے پہلے آپ وہ جگہ دکھائیں جہاں سے میں نے باڑھ کو شروع کرنا ہے تاکہ ہم پیمائش کے مطابق ساتھ والے قصبہ سےضرورت کے مطابق مطلوبہ سامان لا سکیں .

موقع دیکھنے کے بعد ترکھان بڑےبھائی کو ساتھ لے کر قریبی قصبے میں گیا اور چار پانچ کاریگروں کے علا وہ ایک بڑی پک اپ پر ضرورت کا تمام سامان لے کر آ گیا۔

ترکھان نے اسے کہا کہ اب آپ آرام کریں اور یہ کام ہم پر چھوڑ دیں۔ ترکھان اپنے مزدوروں کاریگروں سمیت سارا دن اور ساری رات کام کرتا رہا ۔

صبح جب بڑے بھائی کی آنکھ کھلی تو یہ دیکھ کر اس کا منہ لٹک گیا کہ وہاں آٹھ فٹ تو کجا ایک انچ اونچی باڑھ نام کی بھی کوئی چیز نہیں تھی ۔

غور کرنے پر معلوم ہوا کہ وہاں تو ایک بہترین پل بنا ہوا تھا ۔

ترکھان کی اس حرکت پر حیران ہوتا ہوا وہ جونہی اس پل کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ پل کی دوسری طرف کھڑا ہوا اس کا چھوٹا بھائی اسکی طرف دیکھ رہا تھا۔  

چند لمحے وہ خاموشی سے کھڑے کبھی کھائی اور کبھی اس پر بنے ہوئے پل کو دیکھتےرہے۔ چھوٹے کی آنکھوں میں آنسو آگئے کہ میں نے باپ جیسے بڑے بھائی کا دل دکھایا مگر اس کے باوجود وہ مجھ سے تعلق نہیں توڑنا چاہتا۔

بڑے نے جب اپنے چھوٹےبھائی کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو اس کا بھی دل بھر آیا اور سوچنے لگا کہ غلطی جس کی بھی تھی مجھے یوں جذباتی ہو کر معاملہ بگاڑنا نہیں چاہیے تھا۔

دونوں اپنے اپنے دل میں شرمندہ ، آنکھوں میں آنسو لئے ایک دوسرے سے بغل گیر ہو گئے۔ ان کی دیکھا دیکھی دونوں بھائیوں کے بیوی بچے بھی اپنے گھروں سے نکل کر بھاگتے اور شور مچاتے ہوئے پل پر اکٹھے ہو گئے۔

بڑے بھائی نے ترکھان کو ڈھونڈنے کے لئے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو دیکھا کہ وہ اپنے اوزار پکڑے جانے کی تیاری کر رہا تھا۔ بڑا بھائی جلدی سے اس کے پاس پہنچا اورکہا کہ اپنی اجرت تو لیتے جاؤ۔

ترکھان نے کہا اس پل کو بنانے کی اجرت آپ سے نہیں لوں گا بلکہ اس سے لوں گا جس کا وعدہ ہے

"جو شخص اللّٰہ کی رضا حاصل کرنے کیلئے کہ لئے لوگوں میں صلح کروائے گا، اللّٰہ جلد ہی اسے عظیم اجر سے نوازے گا۔"

یہ کہہ کر ترکھان نے اللّٰہ حافظ کہا اور چل دیا۔


اس تحریر کو پڑھنے والے تمام محترم قا رئین سے بے حد ادب سے گزارش ہے کہ کوشش کریں کہ اس ترکھان کی طرح لوگوں کے درمیان پل بنائیں۔۔۔برائے مہربانی دیواریں نہ بنائیں ۔“

بادشاہ کا خواب

 ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﺍﻧﺖ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﮔﺮ ﭘﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ نے ﺍﯾﮏ ﻣﻔﺴﺮ یعنی تعبیر بتانے والے ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍ ﮐﺮ ﺍُﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺳُﻨﺎﯾﺎ -

ﻣﻔﺴﺮ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ , ﺍﺳﮑﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﯾﮧ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭘﮑﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﻏﺼﮧ ﺁﯾﺎ - ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﻔﺴﺮ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺩﯾﺎ،

ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻣﻔﺴﺮ ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍﯾﺎ ﮔﯿﺎ , ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ 

ﺧﻮﺍﺏ ﺳﻨﺎﯾﺎ، ﻣﻔﺴﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ ﺁﭘﮑﻮ ﻣُﺒﺎﺭ ﮎ ﮨﻮ۔ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﯾﮧ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻣﺎﺷﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﻔﺴﺮ ﮐﻮ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﻭ ﺍﮐﺮﺍﻡ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺭﺧﺼﺖ ﮐﯿﺎ -- ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﯾﮩﯽ ﻣﻄﻠﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺍُﺳﮑﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ؟


ﺟﯽ ﻣﻄﻠﺐ ﺗﻮ ﯾﮩﯽ ﮨﯽ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺑﺎﺕ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ 

ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻕ ﮨﮯ ،،

ﺁﭖ ﮐﺎ ﺑﻮﻻ ﮔﯿﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﻟﻔﻆ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﺮﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ،، ﺍﻭﺭ ﺯﺧﻢ ﺑﮭﯽ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ - ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ 


لفظوں کا چناؤ سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے

تین فطری قوانین

 پہلا قانونِ فطرت:

اگر کھیت میں” دانہ” نہ ڈالا جاۓ تو قدرت اسے “گھاس پھوس” سے بھر دیتی ہے

اسی طرح اگر” دماغ” کو” اچھی فکروں” سے نہ بھرا جاۓ تو “کج فکری” اسے اپنا مسکن بنا لیتی ہے۔ یعنی اس میں صرف “الٹے سیدھے“ خیالات آتے ہیں اور وہ “شیطان کا گھر” بن جاتا ہے۔


دوسرا قانونِ فطرت:

جس کے پاس “جو کچھ” ہوتا ہے وہ ”وہی کچھ” بانٹتا ہے۔۔۔

* خوش مزاج انسان “خوشیاں“ بانٹتا ہے۔

* غم زدہ “غم” بانٹتا ہے۔

* عالم “علم” بانٹتا ہے۔

* خوف زدہ “خوف” بانٹتا ہے

* مایوس "مایوسی" بانٹتا ہے

* امید پسند "امید" بانٹتا ہے


تیسرا قانونِ فطرت:

آپ کو زندگی میں جو کچھ بھی حاصل ہو اسے “ہضم” کرنا سیکھیں، اس لیے کہ۔۔۔

* کھانا ہضم نہ ہونے پر” بیماریاں” پیدا ہوتی ہیں۔

* مال وثروت ہضم نہ ہونے کی صورت میں” ریاکاری” بڑھتی ہے۔

* بات ہضم نہ ہونے پر “چغلی” اور “غیبت” بڑھتی ہے۔

* تعریف ہضم نہ ہونے کی صورت میں “غرور” میں اضافہ کرتی ہے۔

* مُذَمَّت کے ہضم نہ ہونے کی وجہ سے “دشمنی” بڑھتی ہے۔

* غم ہضم نہ ہونے کی صورت میں “مایوسی” بڑھتی ہے۔

* اقتدار اور طاقت ہضم نہ ہونے کی صورت میں”خطرات” میں اضافہ ہوتا ہے۔

اپنی زندگی کو آسان بنائیں اور ایک” با مقصد” اور “با اخلاق” زندگی گزاریں، لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں