نصیب کا لقمہ

مشہور عرب مفکر اور داعی ڈاکٹر علی طنطاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ

وہ کابل میں تھے کہ وزارت خارجہ کی طرف سے حکم ہوا کہ فوری طور پر ایک ضروری کام سے روس چلے جائیں.

وہ تیار ہوئے لیکن یہ پریشانی لاحق ہوئی کہ غیر مسلم ملک ہے وہاں ان کا ذبیحہ مجھ سے تو نہیں کھایا جائے گا گھر میں دو دیسی مرغیاں تھی بیگم نے ذبح کراکے زاد سفر میں یہ کہتے رکھ دیا کہ جب تک ان سے کام چلتا ہے چلانا آگے کا اللہ پاک بندوبست کرے گا.

وہ کہتے ہیں میں تاشقند پہنچا ہی تھا کہ وہاں کے ایک مسلمان شیخ نے گھر دعوت کی،میں ان کے گھر جانے کے لئے نکلا تھا کہ راستے میں ایک غریب عورت بھوک سے نڈھال اپنے بچوں کے ساتھ سڑک کنارے کھڑی تھی،میں نے بے اختیار وہ دونوں مرغیاں انہیں پکڑا دی.

ابھی ایک گھنٹہ نہیں گزرا تھا کہ کابل سے تار آئی کہ وہ کام جس کے لئے آپ کو بھیجا تھا وہ ہوگیا آپ واپسی کی فلائیٹ پکڑ لیں.

شیخ صادق مجیدی کہتے ہیں اس سفر کا مجھے کوئی اور مقصد سمجھ نہیں آیا سوائے اس بات کے میرے گھر دو مرغیاں تھیں جو 4 ہزار کلومیٹر دور کسی غریب ماں اور بچوں کا رزق تھی اللہ تعالی نے مجھے اس کام کے لئے افغانستان سے تاشقند بھیج دیا کہ چل اس غریب ماں اور اس کے بھوکے بچوں کو یہ رزق پہنچا آ .

یاد رکھیں آپ کے نصیب کا لقمہ زمین کے جس حصے میں بھی ہوگا اللہ تعالی آپ تک پہنچائے گا.

کارلافے ٹکر۔۔۔ ایک قاتلہ سے مبلغہ تک کے سفر کی داستان

 کارلافے ٹکر ایک طوائف کے یہاں پیدا ہوئی اس کی ولدیت کے خانے میں اس کی ماں ہی کا نام لکھا گیا- گندے ماحول اور عدم توجہ کے باعث 8 برس کی عمر میں اس نے سگریٹ نوشی شروع کر دی اور بمشکل دس برس کی عمر میں اس نے چرس پینا بھی شروع کردی۔

پھر 1983ء کی وہ رات آگئی جب اس نے اپنے بوائےفرینڈ کے ساتھ مل کر ایک جوڑے سے موٹرسائیکل چھیننے کی کوشش میں جوڑے کو ہلاک کرکے یہ دونوں فرار ہو گئے لیکن چند ہی ہفتوں میں پولیس نے انھیں گرفتار کرلیا- مقدمہ چلا اور ٹیکساس کی عدالت نے دونوں کو سزائےموت سنا دی، جس کے بعد اپیلوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا-

 اسی دوران اس کا بوائےفرینڈ بیمار ہوکر جیل میں انتقال کر گیا جس کے بعد وہ تنہا رہ گئی-

جیل حکام کو اس حادثے کا کوئی علم نہیں جس نے اس کی زندگی کا رخ ہی بدل دیا۔

 وہ لڑکی جو بات بات پر جیل انتظامیہ کو ننگی گالیاں دیا کرتی تھی وہ اچانک اپنا ذیادہ تر وقت بائبل کے مطالعے میں گزارنے لگی، وہ نشئی عورت جو ہر وقت سگریٹ اور شراب کا مطالبہ کرتی رہتی تھی اب ذیادہ تر روزے سے رہنے لگی اور اب خدا اور مسیح کے سوا کسی چیز کا نام نہیں لیتی تھی- وہ ایک طوائف زادی اور قاتلہ کی جگہ مبلغہ بن گئی، ایک ایسی مبلغہ جس کے ایک ایک لفظ میں تاثیر تھی، پھر اس نے جیل ہی میں شادی کرلی اور تبلیغ کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا-

اس کی بدلی ہوئی شخصیت کی مہک جب جیل سے باہر پہنچی تو اخبارات کے رپورٹر جیل پر ٹوٹ پڑے اور امریکہ کی معاشرتی زندگی میں بھونچال آگیا، یہاں تک کہ پوپ جان پال نے بھی زندگی میں پہلی بار عدالت میں کسی قاتلہ کی سزا معاف کرنے کی درخواست کر دی-

سزائےموت سے پندرہ روز قبل جب لیری کنگ جیل میں ٹکر کا انٹرویو کرنے گیا تو دنیا نے سی این این پر ایک مطمئن اور مسرور چہرہ دیکھا جو پورے اطمینان سے ہر سوال کا جواب دے رہا تھا- لیری نے پوچھا " تمھیں موت کا خوف محسوس نہیں ہوتا"- ٹکر نے مسکرا کر جواب دیا " نہیں! اب مجھے صرف اور صرف موت کا انتظار ہے، میں جلد اپنے رب سے ملنا چاہتی ہوں، اپنی کھلی آنکھوں سے اس ہستی کا دیدار کرنا چاہتی ہوں جس نے میری ساری شخصیت ہی بدل دی"-

انٹرویو نشر ہونے کے دوسرے روز پورے امریکہ نے کہا: " نہیں یہ وہ ٹکر نہیں ہے جس نے دو معصوم شہریوں کو قتل کیا تھا، یہ تو ایک فرشتہ ہے جو صدیوں بعد پیدا ہوتا ہے اور فرشتوں کو سزائےموت دینا انصاف نہیں ظلم ہے"-

 رحم کی اپیل " ٹیکساس بورڈ آف پارڈن اینڈ پیرول " کے سامنے پیش ہوئی- 18 رکنی بورڈ نے کیس سننے کی تاریخ دی تو 2 ممبروں نے چھٹی کی درخواست دیدی جبکہ باقی 16 ممبران نے سزا معاف کرنے سے انکار کر دیا- بورڈ کا فیصلہ سن کر عوام سڑکوں پر آگئے اور ٹکر کی درخواست لےکر ٹیکساس کے گورنر " جارج بش " کے پاس پہنچ گئے- امریکہ کے معزز ترین پادری جیسی جیکسن نے بھی ٹکر کی حمایت کر دی- گورنر نے درخواست سنی، جیسی جیکسن اور ہجوم سے اظہار ہمدردی کیا، لیکن آخر میں یہ کہہ کر معذرت کرلی: " مجھے قانون پر عملدرآمد کرانے کے لئے گورنر بنایا گیا ہے، مجرموں کو معاف کرنے کے لئے نہیں، اگر یہ جرم فرشتے سے بھی سرزد ہوتا تو میں اسے بھی معاف نہ کرتا"-

موت سے 2 روز قبل جب ٹکر کی رحم کی اپیل سپریم کورٹ پہنچی تو چیف جسٹس نے یہ فقرے لکھ کر درخواست واپس کر دی: " اگر آج پوری دنیا کہے کہ یہ عورت کارلافے ٹکر نہیں، ایک مقدس ہستی ہے تو بھی امریکن قانون میں اس کے لئے کوئی ریلیف نہیں ہے کیونکہ جس عورت نے قتل کرتے ہوئے دو بےگناہ شہریوں کو کوئی رعایت نہیں دی اسے دنیا کا کوئی منصف رعایت نہیں دے سکتا، ہم خدا سے پہلے ان دو لاشوں کے سامنے جوابدہ ہیں، جنہیں اس عورت نے ناحق مار دیا"-

3 فروری 1998ء کی صبح پونے چھ بجے ٹیکساس کی ایک جیل میں 38 سالہ " کارلافے ٹکر  " کو زہریلا انجیکشن لگا کر سزائےموت دیدی گئی-

4 فروری کو جب سی این این سے کارلافے ٹکر کی موت کی خبر نشر ہو رہی تھی تو میں نے اپنے ضمیر سے پوچھا کہ وہ کیا معجزہ ہے جو امریکہ جیسے بڑے ملک کو زور بخشتا ہے۔

جو عدالتیں عوامی احتجاج یا حکمرانوں سے متاثر ہو کر اپنے فیصلے بدل دیں، تو وہ  عدالتیں نہیں بادبانی کشتیاں ہوتی ہیں جن کی منزلوں کا تعین ملاح نہیں ہوائیں کرتی ہیں-

تین سوال

کہاجاتا ہے کہ سلطان محمود غزنویؒ کے ذہن میں ہمیشہ تین سوال کھٹکتے رہتے،،،،،

"پہلا سوال یہ کہ میں واقعی سبکتگین کا بیٹا ہوں کے نہیں... کیونکہ ان کے متعلق مشہور تھا  کہ یہ بادشاہ کے سگے بیٹے نہیں بلکہ لے پالک ہے

دوسرا یہ یہ کہ علماء واقعی انبیاء کے وارث ہے ؟ یہ تو خود بے اختیار قوم ہے انبیاء کا وارث تو بادشاہِ وقت یا کسی با اختیار آدمی کو ہونا چاہیے تھا

تیسرا یہ کہ میں جنت میں جاؤں گا یا نہیں،،،،

انہی تین سوالات کو ذہن میں لے کر وہ ہمیشہ پریشان رہتے تھے۔

ایک مرتبہ کسی سفر سے واپس آرہے تھے کے راستے میں ایک طالبعلم کو دیکھا  جو کتاب ہاتھ میں لیے ایک کباب فروش کے دئیے کے پاس کھڑا ہے ہوا چلتی ہے تو یہ طالب علم دئیے کے ذرا قریب ہوجاتے ہے زیادہ آگے بھی نہیں بڑھ سکتے کہیں کباب فروش یہ نہ کہدے کہ بھائی لینا نہیں تو پھر کھڑے کیوں ہو۔

سلطان محمودؒ نے جب یہ منظر دیکھا تو خادم کو حکم دیا کہ مشعل اس طالب علم کو دیا جائے،،،،

خود اندھیرے میں گھر تشریف لے آئے،،، اسی رات خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جملہ ارشاد فرمایا اور سلطان محمودؒ کو اپنے تینوں سوالوں کے جواب مل گئے،

معلوم ہے جملہ کیا تھا'

ملاحظہ ہو،،،

"اے سبکتگین کے بیٹے،،،،تیرے جنت میں جانے کے لئے اتنا کافی ہے کہ ،،،،،تو نے اس انبیاء کے وارث کو چراغ دیا...!

صبر کا پھل

مولانا رومی فرماتے ہیں کہ

ایک عورت کو اللّٰہ ہر بار اولادِ نرینہ سے نوازتا مگر چند ماہ بعد وہ بچہ فوت ہو جاتا۔ لیکن وہ عورت ہر بار صبر کرتی اور اللّٰہ کی حکمت سے راضی رہتی تھی۔ مگر اُس کے صبر کا امتحان طویل ہوتا گیا اور اسی طرح ایک کے بعد ایک اُس عورت کے بیس بچّے فوت ہوئے۔ آخری بچّے کے فوت ہونے پر اُس کے صبر کا بندھن ٹوٹ گیا۔ وہ آدھی رات کو زندہ لاش کی طرح اُٹھی اور اپنے خالقِ حقیقی کے سامنے سر سجدے میں رکھ کر خوب روئی اور اپنا غم بیان کرتے ہوئے کہا "اے کون و مکاں کے مالک.! تیری اِس گناہگار بندی سے کیا تقصیر ہوئی کہ سال میں نو مہینے خونِ جگر دے کر اِس بچّے کی تکلیف اُٹھاتی ہوں اور جب اُمید کا درخت پھل لاتا ہے تو صرف چند ماہ اُس کی بہار دیکھنا نصیب ہوتا ہے۔ آئے دن میرا دل غم کے حول کا شکار رہتا ہے کہ میرا بچّہ پروان چڑھے گا بھی کہ نہیں۔ اے دُکھی دلوں کے بھید جاننے والے.! مجھ بےنوا پر اپنا لطف و کرم فرما دے۔" روتے روتے اُسے اونگھ آ گئی۔ خواب میں ایک شگفتہ پُربہار باغ دیکھا جس میں وہ سیر کر رہی تھی کہ سونے چاندی کی اینٹوں سے بنا ایک محل نظر آیا جس کے اوپر اُس عورت کا نام لکھا ہُوا تھا۔ باغات اور تجلیات دیکھ کر وہ عورت خوشی سے بیخود ہو گئی۔ محل کے اندر جا کر دیکھا تو اُس میں ہر طرح کی نعمت موجود تھی اور اُس کے تمام بچّے بھی اُسی محل میں موجود تھے جو اُسے وہاں دیکھ کے خوشی سے جھُوم اُٹھے تھے۔ پھر اُس عورت نے ایک غیبی آواز سُنی کہ "تُو نے اپنے بچّوں کے مرنے پر جو صبر کیا تھا, یہ سب اُس کا اجر ہے۔" خوشی کی اِس لہر سے اُس کی آنکھ کھل گئی۔ جب وہ خواب سے بیدار ہوئی تو اُس کا سارا ملال جاتا رہا اور اُس نے بھیگی ہوئی آنکھوں سے عرض کیا "یا الہٰی اب اگر تُو اِس سے بھی زیادہ میرا خُون بہا دے تو میں راضی ہوں۔ اب اگر تُو سینکڑوں سال بھی مجھے اِسی طرح رکھے تو مجھے کوئی غم نہیں۔ یہ انعامات تو میرے صبر سے کہیں زیادہ ہیں۔"

درسِ حیات: انسان کو ہر حال میں صبر کا دامن تھامے رکھنا چاہیے کیونکہ یہی چیز انسان کو اللّٰہ کے قریب کرتی ہے۔

حکایت نمبر 63, مترجم کتاب "حکایاتِ رومی" از حضرت مولانا جلال الدین رومی رح