اونٹ

اونٹ کھارا پانی ، یہاں تک کہ مردار سمندر کا پانی بھی پی سکتا ہے اور اس کا بلڈ پریشر نہیں بڑھتا کیونکہ اس کے گردے پانی کو فلٹر کرکے میٹھا کر دیتے ہیں، پانی کو نمک سے الگ کر دیتے ہیں۔

اونٹ کانٹے دار پودے کھا سکتا ہے اور اس کا معدہ اور آنتیں متاثر نہیں ہوتیں کیونکہ اس کا لعاب تیزاب کی طرح ہوتا ہے جو کانٹوں کو گھلا دیتا ہے، لہذا وہ انہیں روٹی اور آٹے کی طرح کھاتا ہے۔ اسی وجہ سے صحرائی لوگ جب ان کے ہاتھ یا پاؤں میں کانٹے چبھ جاتے ہیں، تو اونٹ کا لعاب لگا دیتے ہیں جو کانٹوں کو گھلا دیتا ہے۔

اونٹ کے دو پلکیں ہوتی ہیں، ایک شفاف اور دوسری گوشت کی، لہذا وہ صحرا کی دھول کے ساتھ چل سکتا ہے اور اس کی آنکھیں متاثر نہیں ہوتیں کیونکہ وہ صرف شفاف پلک بند کرتا ہے۔

اونٹ اپنی جسمانی حرارت کو تبدیل کر سکتا ہے، برفانی علاقوں میں اپنی حرارت کو بڑھا لیتا ہے اور شدید گرم صحرائی علاقوں میں اپنی حرارت کو کم کر لیتا ہے۔

    (أفلا ينظرون الى الإبل كيف خلقت))

((کیا وہ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ انہیں کیسے پیدا کیا گیا؟)) 


ایک چھوٹی مگر معبر کہانی

کہانی دو دوستوں کے بارے میں ہے جو صحرا کے وسط میں سفر کر رہے تھے۔ سفر کے دوران کسی مقام پر ان کے درمیان ایک بڑا جھگڑا ہوا اور ایک دوست نے دوسرے کو تھپڑ مار دیا۔

جس دوست کو تھپڑ پڑا، اس نے شدید درد اور دکھ محسوس کیا، مگر بغیر کچھ کہے، ریت پر لکھا:

"آج میرے قریبی دوست نے میرے چہرے پر تھپڑ مارا۔"

پھر وہ دونوں چلتے رہے یہاں تک کہ وہ ایک خوبصورت نخلستان تک پہنچ گئے۔ وہاں انہوں نے نخلستان کی جھیل میں نہانے کا فیصلہ کیا، مگر جس دوست کو پہلے تھپڑ پڑا تھا، وہ کیچڑ کے دلدل میں پھنس گیا اور ڈوبنے لگا۔

اس کے دوست نے فوراً دوڑ کر اسے بچا لیا۔ اس وقت، جس دوست کو بچایا گیا تھا، اس نے ایک بڑے پتھر پر یہ لکھا:

"آج میرے قریبی دوست نے میری جان بچائی۔"

اس پر، جس دوست نے اسے تھپڑ مارا تھا اور پھر بچایا، نے پوچھا:

"جب میں نے تمہیں اذیت دی تو تم نے ریت پر لکھا، اور اب جب میں نے تمہیں بچایا تو تم نے پتھر پر لکھا، ایسا کیوں؟"

دوست نے جواب دیا:

"جب کوئی ہمیں تکلیف پہنچاتا ہے، تو ہمیں اس کی برائی کو ریت پر لکھ دینا چاہیے تاکہ اسے بھولنے کی ہوائیں مٹا دیں۔ لیکن جب کوئی ہمیں اچھائی کرتا ہے، تو ہمیں اسے پتھر پر کھودنا چاہیے تاکہ ہم اسے کبھی نہ بھولیں اور ہوائیں اسے کبھی نہ مٹا سکیں۔"

یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمیں لوگوں کی غلطیوں کو بھولنے کی کوشش کرنی چاہیے اور ان کی نیکیوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔



البیرونی

  استادِ محترم :-- "برائی کیا ہے؟؟

شاگرد--: سر میں بتاتا ھوں مگر پہلے مجھے کچھ پوچھنا ہے-

"کیا ٹھنڈ کا وجود ہے ؟؟"

استادِ محترم :-- "ہاں"

شاگرد:--  "غلط" ٹھنڈ جیسی کوئی چیز نہیں ھوتی ، بلکہ یہ حرارت کی عدم دستیابی کا نام ہے

شاگرد نے دوبارہ پوچھا :-- 

"کیا اندھیرا ہوتا ہے ؟"

استادِ محترم :--  ہاں

شاگرد :--  نہیں سر " اندھیرا خود کچھ نہیں ہے بلکہ یہ روشنی کی غیر حاضری ہے ـ جسے ھم اندھیرا کہتے ہیں-

فزکس کے مطابق ھم روشنی اور حرارت کا مطالعہ تو کرسکتے ہیں مگر ٹھنڈ یا اندھیرے کا نہیں

سو برائی کا بھی کوئی وجود نہیں ہے ـ 

یہ دراصل ایمان ،محبت اور اللہ پر پختہ یقین کی غیرموجودگی ہے ـ

جسے ھم برائی کہتے ہیں ـ

اور

یہ شاگرد " البیرونی " تھے ـ 


یہ تو تھی وہ کفتگو جو استاد اور شاگرد کے درمیان ھوئی - اب آپ کو البیرونی سے متعلق دوسری تصویر میں جو عمارت ہے اسکے بارے میں بتاتے ہیں 

یہ کھنڈر پنجاب کےضلع جہلم کے شہر پنڈ دادن خان میں واقع ہیں۔ یہ کھنڈر نہیں دسویں صدی کے مشہور سائنس دان “ ابوریحان البیرونی”  کی لیبارٹری ہے،

جس میں بیٹھ کرانہوں نے ان پہاڑوں کی چوٹیوں کا استعمال کر کے زمین کی کل پیمائش کا اندازہ لگایا

البیرونی کے مطابق :-- زمین کا قطر یعنی ڈایامیٹر 3928.77 کلو میٹر تھا 

جبکہ  ناسا کی موجودہ جدید ترین کیلکولیشن کے مطابق 3847.80  کلومیٹر ہے۔

یعنی محض81 کلومیٹر کا فرق_

البیرونی محمود غزنوی کے دربار سے منسلک تھے، افغان لشکر کے ساتھ کلرکہار آئے،  افغانوں نے البیرونی کے ڈیزائن پر انہیں یہ لیبارٹری بنا کر دی،

ہمارے تعلیمی انحتاط کا یہ عالم ہیے کہ آج اس عظیم عجوبہ کے اطراف چند چرواہے  ھی نظر آتے ہیں،

البیرونی کی وفات 1050 میں افغانستان  کے علاقے غزنی میں ہوئی اور وہیں آسودہ خاک ہیں ۔

دنیا کا ذہین ترین سمگلر

 دیستان کا تعلق بلجیئم سے تھا۔ یہ 20 سال تک روزانہ کی بنیاد پر سرحد عبور کرکے جرمنی جاتا تھا.


یہ اپنی سائیکل پر سرحد عبور کرتا۔ بارڈر پر بیٹھی فورسز اس کی تلاشی لیتیں سوائے ایک شاپر جس میں تھوڑی سی مٹی ہوتی اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا تھا، فورسز مٹی سے بھرے شاپر کو کھنگالتیں اور چھوڑ دیتیں۔

یہ جس راستے سے جرمنی میں داخل ہوتا واپسی اس راستے سے نہیں آتا تھا۔ اس کی وفات کے بعد اس کی ڈائری ملی جس کے ایک صفحے پر یہ عبارت لکھی ہوئی تھی۔

"میری بیوی بھی یہ بات نہیں جانتی ہے کہ میں بیس سال تک سائیکلیں سمگلنگ کرتا رہا ہوں"

اپنی ذہانت سے بیس سال تک اس نے بارڈر سکیورٹی فورسز کو چکمہ دیا، یہ روزانہ نئی سائیکل جرمنی میں چھوڑ آتا تھا، اس دور میں سائیکل جرمنی میں نایاب تھی اور تب شاید سائیکلیں آج کی گاڑیاں۔

اس کا یہ مقولہ مشہور ہے کہ:

"اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اپنے دشمن کے آگے ایسا ہدف شو کریں جو آپ کا ہدف نہیں ہے، اس کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنے ہدف کا تعاقب کریں۔"

اس شخص کو دنیا کا ذہین ترین سمگلر سمجھا جاتا ہے۔