گھڑی اور تین سوئیاں
گھڑی میں 3 سوئیاں ہوتی ہیں
جن میں ایک سوئی سیکنڈ والی سوئی ہوتی ہے
یہ سیکنڈ والی سوئی اپنا وجود تو رکھتی ہے پر اسکا ذکر نہیں کیا جاتا سب یہی کہتے ہیں دس بج کر پندرہ منٹ ہوگئے ہیں
کوئی یوں نہیں کہا: دس بج کر پندرہ منٹ اور چار سیکنڈ ہوئے ہیںجبکہ
یہ سیکنڈ والی سوئی دونوں سے زیادہ محنت ومشقت کرتی ہے اور اٌن دونوں کو بھی آگے بڑھنے میں مدد کرتی ہے
ہماری زندگی میں بھی بہت سے لوگ اسی سیکنڈ والی سوئی کی مانند ہوتے ہیں
جن کا ذکر تو کہیں نہیں ہوتا لیکن ہمارے آگے بڑھنے میں اٌنکا کردار ضرور ہوتا ہے ...
امتحانات کی تیاری کیسے کی جائے
بچے ہمارا اثاثہ اور ہمری کل کائنات ہوتے ہیں۔ یہ ہمارے وارث اور ہمارا آنے والا کل اور پاکستان کا مستقبل ہیں۔ اس لیے جہاں ہمیں ان کی جسمانی صحت کا بہت زیادہ خیال رکھنا ہوتا ہے وہیں ان کی ذہنی نشوو نما پر بھی لازمی توجہ دینی ہوتی ہے۔خا ص طور پر امتحانات کے دنوں میں جب ان پر پڑھائی کا اضافی بوجھ ہوتا ہے تب ہمیں ان کا بہت زیادہ خیال رکھنا ہوتا ہے۔ ان کے کھانے پینے کے اوقات اور ان کے آرام کے وفت کو بہترین بنانا ہوتا ہے تاکہ وہ پھر سے تازہ دم ہوکر پڑھائی کے لیے تیار ہو سکیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ امتحانات سے تین ہفتے قبل بچوں کے ساتھ بات کر کے اس بات کو یقینی بنائیے کہان کا تمام کام مکمل ہو تاکہ انہیں تیاری میں کسی قسم کی دقت پیش نہ آئے۔ اگر انہیں کسی بات کو سمجھنے میں دقت پیش آرہی ہے تو اس سلسلے میں استاد یا کسی دوست سے مدد لی جاسکتی ہے۔اگر تو سکول میں ٹیسٹ سیشن ہو رہے ہوں تو اچھی بات ہے وہ باقاعدگی سے اٹینڈ کرنے چاہیں اور اگر گھر میں تو ان کا ٹائم ٹیبل ایسا بنائیں صبح ان کا من پسند ناشتہ کروائیں اور کچھ وقت ٹی وی دیکھیں پھر انہیں پڑھنے کے لیے بٹھادیں ساتھ تھوڑے تھوڑے وقفے سے انہیں آکر دیکھیں ان سے بات چیت کریں اور چیک کریں۔ کوشش کریں امتحانات کے دنوں میں کہیں باہر جانا آنا یا گھر میں مہمانوں کی آمدورفت نہ ہواس سے بچوں کی توجہ پٹتی ہے اور ان کا دھیان پڑھائی سے ہٹ جاتا ہے۔ایسے میں وہ توجہ سے پڑھ نہیں پاتے۔
شیڈول بنانا :
آپ کو چاہیے بچوں کے ساتھ شامل ہوکرایسا ٹائم ٹیبل بنائیں جس پر وہ آسانی سے اپنی تیاری کر سکیں۔ ویس تو ہر بجے کی اپنی سوچ اور مزاج ہوتا ہے جیسے کہ بعض بچے ایس ہوتیہیں جنہیں آپ مضمون آسان اپنے ا الفاظ میں سمجھائیں تو وہ جلدی سمجھ لیتے ہیں اورمضمون کی خاص باتیں انہیں یاد ہوجاتیں ہیں۔ کچھ بچے لکھ کر یاد کرتے ہیں۔ کوشش کریں انہیں لکھے کی عادت ہو۔ دو سے تین گھنٹے توجہ سے پڑھنا کافی ہوتا ہے۔ اس کے پعد کچھ دیر کے لیے انہیں چھٹی دے دیں۔بریک میں انہیں ان کی پسند کی چیز بنا کردیں۔کچھ دیر ٹی وی دیکھیں یا کمپیوٹر گیم کھیلیں۔ ان کے ساتھ باتیں کریں۔ درمان میں وقفے وقفے سے ان سے پوچھیں جو کچھ انہوں نے یاد کیا ہے۔ ان کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کی تعریف کریں سراہیں اور کپھی انعام بھی دیں ضرور۔
ادھورے کام مکمل کرنا :
پعض اوقات سکول سے غیر حاضری کے باعث بچوں کے کچھ کام ادھورے رہ جاتے ہیں۔ کسی وجہ سے یا پھر لاپرواہی کے باعث مکمل نہیں کرپاتے۔ کوشش کریں امتحان شروع ہینے سے قبل ہی ان کی تمام کاپیوں پہ کام مکمل ہوں تاکہ انہیں کوئی پریشانی نہ ہو۔ ممکن ہو تو دوست سے کاپی لے کر کام مکمل کروائیں یاپھر اپنے استاد سے مدد لے لیں۔ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں بچے خود بھی مکمل کر سکتے ہیں اور آپ بھی مکمل کرواسکتے ہیں۔
مشکل مضامین کی تیاری:
پچوں کی عادت ہوتی ہے جن مضامین کو وہ مشکل سمجھتے ہیں ان کی تیاری کرنے سے گھبراتے ہیں۔ لکھ کر یاد نہیں کرتے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ انہیں یہ بات سمجھائیں کہ محنت سیہر کام آسان ہو جاتا ہے۔ مشکل مضامین کو پڑھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ پہلے انہں سمجھ کر پڑھنا چاہیے اور پھر لکھ کر یاد کرنا چاہیے۔ سکولوں میں زیادہ تر رٹا سسٹم کامیاب ہے اور اسی پر زور دیا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بچے اپنے ذہن سے جوکچھ لکھتے ہیں وہ ان کی ذہانت کا ثبوت ہوتا ہے۔ اس سے ان کا ذہن کھلتا ہے اور ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
مضمون کے حساب سے وقت کی تقسیم :
آپ نے اکثر نوٹ کیا ہوگا کہ بچے جن مضامین میں اچھے ہوتے ہیں ، ان کی بار بار پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ انہی کی بات کرتے ہیں۔ ضروری بات یہ ہے اگر امتحان میں اچھے نمبر کیا گریڈ لینے ہیں تو سبھی مضامین کومناسب وقت دینا چاہیے تاکہ کسی ایک مضمون میں کم نمبر آنے سے پوزیشن خراب نہ ہو۔اس لیے امتحان کی تیاری کرواتے ہوئے انہیں یہ بات سمجھائیں ہر مضمون کو برابر وقت دیں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ جن مضامین میں انہیں مشکل پیش آتی ہے ،ان کو وہ اضافی وقت میں تیار کریں یا پھر ان کو دوبارہ پڑھیں۔ تاکہ انہیں پعد میں بھول نہ جائیں۔پعض مضامین ایسے ہوتے ہیں جن کو بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ایسے مضامین ہوتے ہیں جن کی مکمل تیاری سے آ پ کو اتنے مارکس مل جاتے ہیں جن سے گریڈ اچھے بنتے ہیں۔ جیسے کہ انگلش اور حساب ان میں نمبر کٹنے کے کم چانسس ہوتے ہیں۔ اس لیے کوشش کریں ان مضامین میں پوری تیاری کریں۔
پیپر کیسے کرنا چاہیے :
امتحان میں جہاں مضمون پہ عبور حاصل کرنا ضروری ہے وہیں اس بات کی بھی بہت اہمیت ہے کہ بچوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ پیپر کیسے کرتے ہیں ؟انہیں سمجھائیں کہ پیپر شروع کرنے سے پہلے دعا ضرور پڑھیں اور پھر اطمینان سے پورا بیبر پڑھیں۔جو پیپر کرنے کا طریقہ استاد نے بتایا ہے اسے بھی ذہن میں رکھیں اور وقت کا دھیان بھی رکھیں تاکہ وقت پر ابنا پیپر ختم کرسکیں۔ سوال کو اس کے مارکس کے حساب کریں۔ بعض اوقات غیر ضروری طوالت بھی پیپر پڑھنے والے کو بور کرتی ہے۔ پاقی سوالات کے لیے وقت کم بچتا ہے۔ لکھائی بڑی اور صاف ستھری ہونا چاہیے۔ پیپر ختم کرنے کے بعد ایک مرتبہ ضرور دیکھں ویسے بچوں میں یہ عادت نہیں ہوتی مگ آپ انہیں اس بات ک عادت ڈال دیں گے تو یہ اگلی کلاسوں میں ان کے بہت کام آئے گی۔
نماز کی عادت :
اللہ نے ہر مشکل وقت میں کامیابی کے لیے دعا سے مدد لینے کا حکم دیا ہے۔ اس لیے اس بات کو ممکن بنائیں کہ بچے امتحان کے دنوں میں نماز سے غافل نہ ہوں۔انہیں ذہن نشین کروائیں کے ان کو اپنی محنت کے ساتھ ساتھ اللہ سے مدد بھی مانگنی چاہیے۔ اپنی کامیابی کے لیے دعا پھی ضرور کرنی چاہیے اور اس پر یقین بھی رکھنا چاہیے۔ اس سے نہ صرف ان میں نماز کی عادت پختہ ہوگی بلکہ آگے زندگی میں پیش آنے والی مشکلات میں بھی وہ نماز اور دعا کو اپنا سہارا سمجھیں گے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ابتدائی عمر میں جو سوچ اور عادتیں آپ اپنے بچوں میں ڈالیں گی انہی اصولوں پہبچوں کی شخصیت کی تعمیر ہوگی۔اسی لیے انہیں محنت کا ، پڑھائی میں بلند مقام کا، ہر مشکل میں اس پروردگار کو پکارنے کا عادی بنائیں تاکہ زندگی میں کسی مقام پر پیچھے نہ رہیں۔ کامیاپی ان کے قدم چومے اور وہ کامیاب و کامران رہیں۔
امتحان کی تیاری کیسے کریں؟
بہت سے طلبہ امتحان کے صحیح طریق کا ر سے متعلق جستجو میں لگے رہتے ہیں کہ امتحان کیسے دیں؟ تا کہ ان بہت سی ، امتحانی پریشانیوں سے بچا جاسکے، جن سے طلبہ کا سامنا ہو تا ہے ۔ جیسے امتحانی ایام میں خوف کا طاری ہو نا ، بے چینی کا چھا جانا ، عدم اعتمادی کا شکار ہونا ، یہ ایسی چیزیں ہیں جو انسانی معلومات اور اس کے ذہن ودماغ کو متاثر کر دیتی ہیں ، جب کہ امتحانی دنوں میں معلومات کا فقدان (جن کی طالب علم کو شدید ترین ضرورت ہو تی ہے ) بہت بڑی محرومی ہے ۔ اور یہی محرومی طالب علم کی ناکامی اور رسوائی کا سبب بن جاتی ہے ۔
امتحان کی تیاری چند اہم باتیں
جیسے جیسے امتحانات کا وقت قریب آتا جارہا ہے بعض طلبہ وطالبات کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ جو طلبہ سال بھر محنت سے پڑھتے ہیں اگرچہ انہیں ناکام ہونے کا ڈر نہیں ہوتا مگر امتحان تو بہر حال امتحان ہے ذہن پر تو بوجھ ہوتا ہی ہے۔ ہم اپنے بہن بھائیوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ ریلیکس رہیں اور بچے ہوئے تھوڑے سے وقت کو اس طرح استعمال کریں کہ زیادہ سے زیادہ فائدہ ہوسکے۔
امتحانات/ٹیسٹ کی تیاری کے لیے مہارتیں
طلباء کا سب سے بڑا خوف امتحان ہوتا ہے۔ طالبعلم کی زندگی کی یہ حقیقت ہے کہ وہ دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں، خواہ یہ ٹیسٹ ہو، پہیلی ہو، یا امتحان۔ امتحان کے خوف پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ طلباء امتحان سے قبل اپنے آپ کو تیار کر لیں۔ اچھے گریڈ حاصل کرنے کے لیے امتحان سے قبل امتحان کی تیاری لازمی ہے۔آخری وقت میں کی گئی پڑھائی نہ صرف دباؤ میں اضافہ کا باعث بنے گی بلکہ اس سے آپ کے گریڈ مزید نیچے گر جانے کے امکانات ہیں۔
مختلف قسم کے امتحانات کے لیے تیاری کی مختلف حکمتِ عملیاں ہیں۔ درج ذیل میں چند ایسی حکمتِ عملیاں بتائی گئی ہیں جو پورا سال آپ کو ایک مناسب رفتار سے چلتے رہنے میں مدد دیں گی۔
قابلِ حصول اہداف متعین کریں؛
روزانہ کی بنیاد پر پڑھائی کی عادت اپنائیں اوراپنی اسائنمنٹ کو وقت پر مکمل کریں۔ اپنے لیے آسان اہداف کا تعین کریں۔ اپنے سبق کو اسی دن سیکھنے یا مکمل کرنے کی کوشش کریں جس دن یہ پڑھایا گیا ہے۔
ٹائم مینجمنٹ؛
طلبا ء کے لیے سب سے بڑا کام اپنے وقت کا مناسب استعما ل ہے۔ آپ شیڈول بنائیں، اپنے پڑھنے کے اوقات اور دوسرے سرگرمیوں کی تقسیم بنائیں ۔ پڑھنے کے لیے ہمیشہ اچھے وقت کا انتخاب کریں، جب آپ کی توانائیاں عروج پر ہوں اور جب آپ ذیادہ مشقت کر سکیں۔ اس سے آپ کو غیر متوجہ کرنے والی چیزوں کو کم کرنے میں مدد ملے گی اور آپ کو اپنی توجہ مزکور رکھنے میں آسانی ہو گی۔
اپنے پڑھنے کے انداز کو سمجھیں؛
۔ طلباء اس وقت ذیادہ سیکھتے ہیں جب انہیں پتہ ہو کہ وہ کس طریقہ سے ذیادہ معلومات ذہن نشیں کر سکتے ہیں۔ہر طالبعلم کا سیکھنے کا انداز مختلف ہے، کچھ بصری متعلم ہیں، کچھ سمعی متعلم ہیں اور کچھ متحرک متعلم ہیں۔اپنا قدرتی انداز تعلم اپنانے سے آپ کم وقت میں ذیادہ طاقتور نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔
ایک شیڈول ترتیب دیں؛
شیڈول بنانے سے آپ کو اپنی پڑھائی کے اوقات کی تقسیم میں مدد ملے گی؛آپ کو پتہ ہوگا کہ کسی خاص مضمون کی تیاری کے لیے آپ کو کتنے گھنٹے پڑھنا ہے۔ ہر مضمون کے لیے وقت کی ایک حد مقرر کریں تاکہ آپ تمام دن کا کام اور اسائنمنٹ پوری کر سکیں۔
پڑھائی کو جاری رکھیں؛
کلاس کے ساتھ ساتھ چلیں۔ جب آپ ایک لیکچر لینے جاتے ہیں کو تیار ی کر کے جائیں، بغیر متعلقہ لیکچر کے متعلق پڑھے۔ آپ بہت سی باتوں کو سمجھنے کا موقع کھو دیں گے۔
عمدہ نوٹس لینے کی مہارت
عمدہ نوٹس لینے کی مہارت پیدا کریں۔جتنا بہتر آپ استاد کو سنیں گے اتنا بہتر آپ نوٹ لے سکیں گے اور یہ چیز آپ کو لیکچر کو یا د رکھنے میں مدد دے گی۔اس کے علاوہ نوٹس لینے سے سال کے آخر میں آپ کو پڑھائی میں مددملے گی۔
کسی لیکچر کو نہ چھوڑیں؛
روزانہ لیکچر لیں، ہمیشہ مستعد سامع بنیں اور کبھی کوئی کلاس نہ چھوڑیں۔
پڑھائی کا ماحول؛
اچھے دوستوں کی صحبت اپنائیں؛ ان سے تعلیم کے متعلق گفتگو کریں،اپنے ارد گرد معلوماتی چارٹ لگا کر اپنے ماحول کو مفید بنائیں۔
توجہ سے سیکھیں؛
جب آپ توجہ سے سیکھتے ہیں تو آپ چیزوں کو آسانی سے یاد کر لیتے ہیں۔ اس طرح سے آپ کو بار بار انہی چیزوں کو یاد نہیں کرنا پڑتا۔
امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کے کار گر طریقے
امتحانات کی آمد سے ہی طلبہ ،اساتذہ اور منتظمین مدارس کی پریشانیاں نقطہ عروج کو پہنچ جاتی ہیں۔امتحانات کا سامنا تو طلبہ کرتے ہیں لیکن امتحانات کی وجہ سے پیدا ہونے والے دباؤ کا سامنا طلبہ کے علاوہ، اساتذہ اکرام اور منتظمین مدرسہ کو بھی کرنا پڑتا ہے ۔ طلبہ کے ذہنوں میں اکثر ایک سوال گردش کرتا ہے کہ آخر امتحان کی کیا ضرورت ہے۔ امتحان طلبہ کے علمی صلاحیتوں کی جانچ، علمی پختگی،گہرائی و گیرائی کے علاوہ تعلیم کے مطلوبہ مقاصد کے حصول میں کامیابی کے تناسب کی جانچ کے لئے ضروری ہوتا ہے۔امتحانات علمی بیداری و ،چستی کے ساتھ ساتھ طلبہ میں نظم و ضبط پیدا کرتے ہیں۔امتحان کے ذریعے سماج کے لئے مطلوب افراد کی تیاری کا کام بھی انجام پاتا ہے ۔ خوشگوار زندگی اور تابناک مستقبل کے لئے امتحان کا سامنا ضروری ہوتا ہے۔ زندگی میں کامیابی کے خواہش مندطلبہ امتحان کو ایک بوجھ کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو ،بہتر بنانے اور ثابت کرنے کا ایک وسیلہ سمجھتے ہیں۔ جو طلبہ طالب علمی کے زمانے میں ہر سبق کے بعد امتحان کی تیار ی کو خود پر لازم کر لیتے ہیں وہ زندگی کے ہر امتحان میں کامیابی کا خود کو اہل پاتے ہیں۔ امتحان طلبہ کے لئے ایک مشکل آزمائش ضرور ہے لیکن جب وہ امتحان کا خوش دلی سے سامنا کرتے ہیں تو یہ آزمائش ایک گوناگوں سکون و انبساط میں تبدیل ہوجاتی ہے۔امتحان کی تیاری و تحریر کے مناسب طریقہ کار سے عدم آگہی کے سبب طلبہ امتحان کا خوف،اضطراب ، بے چینی،عدم اعتماد اور احساس کمتری جیسے متعدد مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں جس کا نتیجہ ناکامی و رسوائی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔سال بھر سخت محنت و تیاری کے باوجود طلبہ امتحان کی آمد سے خوف و پریشانی کا شکار ہوجاتے ہیں۔دسویں جماعت کے بورڈ امتحانات ہر طالب علم کی زندگی میں نہایت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔کم عمری و نا تجربہ کار ی کی بناء پر بورڈ امتحان طلبہ کے لئے ایک تلخ اور اذیت ناک تجربہ ہوتا ہے۔طلبہ مثبت سوچ اورسخت محنت کے ذریعہ امتحانی خوف پر نہ صرف قابو پانے میں کامیابی حا صل کر سکتے ہیں بلکہ نمایا ں کامیابی کو بھی یقینی بنا سکتے ہیں۔طلبہ کی ذہنی سطح چاہے کتنی ہی بلند کیوں نہ ہو وہ امتحانات کے خوف کا شکار ہوسکتے ہیں۔امتحانات کے خوف سے نجات کے لئے طلبہ ماہرین تعلیم کے مشوروں اور تجاویز پر عمل کر یں۔امتحان کی شب جلد سونا طبی اور نفسیاتی نکتہ نظر سے بہت اہمیت کا حامل ہے ۔مکمل نیند لینے سے آپ امتحان کی صبح اپنے آپ کو تر و تازہ چاق و چوبند پائیں گے برخلاف اس کے اگر رات دیر تک مطالعہ یا کسی اور وجہ سے بیدار رہیں گے تو اگلی صبح آپ خو د کو تھکا ہوا اور تناؤ کا شکار محسوس کریں گے۔ تناؤ اور تھکاوٹ کی وجہ سے امتحا نی مظاہرے پر خراب اثرات مرتب ہوتے ہیں۔امتحان کے دباؤ کی وجہ سے اکثر طلبہ غذا سے لاپروائی برتے ہیں جس کی وجہ سے کمزوری پیدا ہوجاتی ہے جس سے کارگردگی متاثر ہونے کے امکانات روشن ہوجاتے ہیں۔ہلکی پھلکی غذا کارکردگی میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔بسیار خوری(زیادہ کھانے سے)سے پرہیز کریں جس سے غنودگی پیدا ہوتی ہے اور ہاضمہ کے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔امتحان سے قبلمذکورہ امور پر توجہ دینا بہت ضروری ہوتا ہے۔ذیل میں امتحان لکھنے کے چند کارگر طریقوں کو پیش کیا جارہا ہے جو طلبہ کی کامیابی میں کلیدی کردار کے حامل ہیں۔
اللّٰه بہتر روزی دینے والا ہے
ملازم بڑا ہی تابعدار تھا۔ مالک نے خوش ہو کے اس کی پانچ ہزار تنخواہ بڑھا دی۔ تابعداری میں فرق نہیں آیا لیکن وہ بہت زیادہ مشکور بھی نہیں ہوا۔
مالک کو بڑا غصہ آیا کہ میں نے اس کی تنخواہ بڑھائی لیکن یہ ہے کہ اچھے سے شکریہ بھی ادا نہیں کیا۔ اس نے اگلے ماہ تنخواہ پانچ ہزار کم کر دی۔
ملازم کی تابعداری اب بھی وہی رہی کوئی شکایت نہیں کی۔
مالک نے اسے بلوا بھیجا اور کہا، "بڑے عجیب انسان ہو، میں نے تمھاری تنخواہ پانچ ہزار بڑھائی، پھر کم کر دی۔ تم جوں کے توں رہے۔ یہ سب کیا ہے؟"
ملازم بولا، "اوہ! آپ نے خود کو رازق سمجھ لیا تھا؟
میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو اس سے اگلے دن آپ نے تنخواہ پانچ ہزار بڑھا دی۔ میں سمجھ گیا کہ جس خالق نے بچہ دیا اسی نے رزق کا انتظام بھی ساتھ ہی کر دیا ہے، سو اسی کا شکریہ ادا کیا۔ پھر جس دن آپ نے تنخواہ کم کر دی اسی دن میری والدہ وفات پا گئیں۔ میں نے جان لیا کہ وہ اپنا رزق اپنے ساتھ لے گئیں۔ سو تب بھی اللہ کا شکر ادا کر کے مطمئن رہا۔"
پھر بولا، "صاحب، یہ روزی روٹی کے فیصلے کہیں اور ہی ہوتے ہیں۔ ہم تو بس مہرے ہیں جنہیں آگے پیچھے کرکے اسباب پیدا کیے جاتے ہیں۔"
سوداگر اور بحری جہاز
ایک بحری جہاز میں کافی بوجھ تھا سفر کے دوران طوفان کی وجہ سے ہچکولے کھانے لگا جہاز ڈوبنے کے قریب تھا ، لہذا اس کے کپتان نے تجویز پیش کی کہ جہاز پر بوجھ ہلکا کرنے اور زندہ رہنے کے لئے کچھ سامان کو سمندر میں پھینک دیا جائے۔
تو انہوں نے متفقہ طور پر اس بات پر اتفاق کیا کہ ایک سوداگر کا سارا سامان چھوڑ دیا جائے کیونکہ یہ ڈوبنے سے بچنے کے لیے بہت ہوگا ،
جس تاجر کا سامان پھینکا جانا تھا اس نے اعتراض کیا کہ کیوں اسکا ہی سارا سامان پھینکا جائے اور تجویز پیش کی کہ سارے تاجروں کے سامان میں سے تھوڑا تھوڑا پھینکا جائے تا کہ نقصان تمام لوگوں میں تقسیم ہو اور نہ صرف ایک شخص متاثر ہو۔
تب باقی سارے تاجروں نے اس کے خلاف بغاوت کی ، اور چونکہ وہ ایک نیا اور کمزور سوداگر تھا ، اس لئے انہوں نے اس کے سامان کے ساتھ اسے سمندر میں پھینک دیا اور اپنا سفر جاری رکھا۔
لہروں نے سوداگر کے ساتھ لڑائی کی یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہوگیا۔
جب وہ بیدار ہوا تو اسے معلوم ہوا کہ لہروں نے اسے کسی نامعلوم اور ویران جزیرے کے کنارے پھینک دیا ہے۔
سوداگر بہت مشکل سے اٹھا اور سانس لیا یہاں تک کہ وہ گھٹنوں کے بل گر گیا اور خدا سے مدد کی درخواست کی اور کہا کہ وہ اسے اس تکلیف دہ صورتحال سے بچائے ..
کئی دن گزرے ، اس دوران تاجر نے درختوں کے پھل اور خرگوش کا شکار کر کے گزارا کیا
اور پانی قریبی ندی سے پیتا ... اور رات کی سردی اور دن کی گرمی سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے درخت کی لکڑی سے بنی ایک چھوٹی جھونپڑی میں سوتا۔
ایک دن ، جب تاجر اپنا کھانا بنا رہا تھا ، تیز آندھی چل رہی تھی اور اس کے ساتھ لکڑی کی جلتی ہوئی لاٹھی اٹھ جاتی ہے ، اور اس کی لاپرواہی میں اس کی جھونپڑی میں آگ لگ جاتی تھی ، لہذا اس نے آگ بجھانے کی کوشش کی۔
لیکن وہ ایسا نہ کر سکا ، کیوں کہ آگ نے پوری جھونپڑی کو اس کے ساتھ ہی بھسم کردیا
یہاں سوداگر چیخنے لگا:
"کیوں ، رب ..؟
مجھے غلط طریقے سے سمندر میں پھینک دیا گیا اور میرا سامان ضائع ہوگیا۔
اور اب تو یہ جھونپڑی بھی جو میرے گھر ہے جل گئی ہے
اور میرے پاس اس دنیا میں کچھ نہیں بچا ہے
اور میں اس جگہ پر اجنبی ہوں ..
یاﷲ یہ ساری آفتیں مجھ پر کیوں آتی ہیں ..
اور سوداگر غم سے بھوکا ہی رات کو سو گیا۔
لیکن صبح ایک "حیرت انگیز واقعہ"اس کا انتظار کر رہا تھا ... جب اسے جزیرے کے قریب پہنچنے والا ایک جہاز ملا اسے بچانے کے لئے ایک چھوٹی کشتی سے اتر رہا تھا ...
اور جب سوداگر جہاز پر سوار ہوا تو خوشی کی شدت سے یقین نہیں کر پا رہا تھا ، اور اس نے ان سے پوچھا کہ انہوں نے اسے کیسے ڈھونڈا اور اس کا ٹھکانہ کیسے جانا؟
انہوں نے اس کا جواب دیا:
"ہم نے دھواں دیکھا ، لہذا ہمیں معلوم ہوا کہ کوئی شخص مدد کے لئے پکاررہا ہے ، لہذا ہم دیکھنے آئے"
اور جب اس نے اُن کو اپنی کہانی سنائی کہ کس طرح اسے ناجائز طریقے سے سوداگروں کے جہاز سے پھینک دیا گیا
انہوں نے اسے بتایا "کہ سوداگروں کا جہاز منزل تک نہیں پہنچا
ڈاکوں نے اس پر چھاپہ مارا ، سب کو لوٹ لیا اور لوگوں کو مار ڈالا "۔
تو سوداگر روتے ہوئے سجدہ کرتا ہے اور کہتا ہے ، یاﷲ یاﷲ ، تمہارے سب کام اچھے ہیں۔
پاک ہے وہ رب " جس نے قتل سے بچایا اور اس کے لیے بھلائی کا انتخاب کیا"۔
اگر آپ کے حالات بگڑ جاتے ہیں تو خوفزدہ نہ ہوں ..
بس اتنا بھروسہ کریں کہ خدا ہر چیز میں حکمت رکھتا ہے
یہ آپ کے ساتھ ہوتا ہے اور اس کا بہترین ...
اور جب آپ کی جھونپڑی جل جائے گی ...
جان لو کہ خدا آپ کے امور کا انتظام کر رہا ہے اور آپ کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے
اللّٰہ تو ہر جگہ موجود ہے
ایک شخص نائی کی دوکان بال اور داڑھی بنوانے کے لئے گیا۔ جیسا کہ عموماً ہوتا ہے نائی اور گاہک کے درمیان گفتگو شروع ہوگئی۔ بات جب اللّٰہ کے موضوع پر آئی تو نائی نے کہا؛
’’مجھے تو(نعوذباللہ) اللّٰہ کے وجود پر یقین ہی نہیں ہے.‘‘
گاہک نے پوچھا کہ وہ کیوں ❓
نائی نے کہا؛ ’’اِس کے لئے باہر سڑک پر ایک نظر ڈالنا ہی کافی ہے۔ اگر خدا ہوتا تو کیا اِتنے لوگ بیمار ہوتے ❓ اِتنی اولادیں یتیم ہوتیں ❓ دنیا میں اِتنا رنج و غم ہوتا ❓ مجھے یقین ہے کہ اگر رحیم و کریم اللّٰہ کا وجود ہوتا تو وہ ہرگز اِس کی اجازت نہیں دیتا کہ دنیا اتنے مسائل سے بھرا ہو۔‘‘
گاہک نے کچھ دیر سوچا لیکن اُس سے کوئی جواب نہ بن پڑا، ویسے بھی وہ بحث کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔
نائی نے اُس کے بال اور داڑھی بنائے اور وہ پیسے دے کر دکان سے باہر نکل آیا۔ اُسی وقت اُس کے سامنے سے ایک شخص گزرا جس کے بال اور داڑھی لمبے اور بے ترتیب تھے اور لگ رہا تھا کہ بہت عرصہ وہ نہایا بھی نہیں ہے۔
گاہک واپس دکان میں داخل ہوا اور نائی سے کہنے لگا؛
’’جانتے ہو کیا ❓ میرے خیال میں دنیا میں نائیوں کا بھی کوئی وجود نہیں ہے۔‘‘
نائی نے کہا کہ کیسی بات کر رہے ہو۔ میں نائی ہوں اور تمہارے سامنے موجود ہوں، ابھی ابھی تمہاری داڑھی اور بالوں کی حجامت کی ہے۔
’’میں نے کہا نا کہ کوئی وجود نہیں ہے نائیوں کا، اگر ہوتا تو ایسے لوگ ہرگز نظر نہ آتے جیسا میں نے ابھی ابھی تمہاری دکان کے سامنے سے گزرتے دیکھا ہے، لمبے اور الجھے بالوں اور داڑھی کے ساتھ۔‘‘
’’نہیں جناب نائی تو موجود ہیں اب اگر ایسے لوگ ہمارے پاس نہ آئیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں ❓‘‘
’’بالکل یہی بات ہے۔ اللّٰہ بھی ہر جگہ اور ہر زمانے میں موجود ہے، اب اگر لوگ اُسے نہ ڈھونڈیں، اُس سے رابطہ نہ کریں اور سچّے دل سے اُس کی پیروی اور اطاعت کر کے اُس سے نہ مانگیں تو یہ اللّٰہ کا تو نعوذ باللہ قصور نہیں ہےنا ۔‘‘
جھانواں
جس پتھر کی تصویر آپ دیکھ رہے ہیں اس کو پنجابی اور پہاڑی زبان میں "چانواں" اور اردو میں "جھانواں" اور شاید انگلش میں Scrubber کہتے ہیں۔
یہ پتھر پاوں کی میل اتارنے کیلیے استعمال ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں فارغ اور بےوقوف شخص کو بھی جھانواں بولا جاتا ہے۔
جھانواں بہت ہی کم قیمت چیز ہے۔ پچاس یا سو روپے میں اچھا خاصا بڑا جھانواں مل جاتا ہے۔
آپ سوچ رہے ہونگے کہ میں آج جھانوے پر کیوں لکھ رہا ہوں۔ تھوڑا سا انتظار کریں آپ کو جواب مل جائے گا۔
جھانواں کھردرا پتھر ہے۔ یہ تراش خراش یعنی grooming کے عمل سے نہیں گزرا۔ اگر اس کی گرومنگ ہوئی ہوتی تو یہ 50 روپے کا نہ بکتا۔ یہ لوگوں کے پاوں کی میل اتارنے کیلیے استعمال نہ ہوتا۔ اور اس کا مقام واش روم نہ ہوتا۔
جو لوگ grooming کے عمل سے نہیں گزرتے اور وقت کے ساتھ اپنے آپ کو polish نہیں کرتے وہ بھی جھانوے کی طرح بہت سستے بکتے ہیں۔ معاشرے میں انکی کوئی قدر نہیں ہوتی۔
ایسے لوگ جلسے اور جلوسوں میں سیاست دانوں کی کرپشن اور نااہلی کی میل اتارنے کیلیے استعمال ہوتے ہیں۔
ایسے لوگ "کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے" اور "آج بھی بھٹو زندہ ہے" اور "تبدیلی آئی ہے" کے نعرے مروانے کیلیے استعمال ہوتے ہیں۔ جلسے میں جب زیادہ جھانوے آتے ہیں تو جلسہ زیادہ کامیاب ہوتا ہے اور جب کم جھانوے آتے ہیں تو کم کامیاب ہوتا ہے۔
انٹرنیٹ عام ہوگیا ہے۔ جھانوے ترقی کرکے digital جھانوے بن گئے ہیں۔ سارا دن ڈیجیٹل جھانوے انٹرنیٹ پر بیٹھ کر بدعنوان اور نا اہل سیاست دانوں کو اور تفرقہ بازی کی دکانیں چلانے والوں کا دفاع کرتے ہیں۔
وقت بہت قیمتی چیز ہے۔ اللہ تعالی قرآن میں وقت کی قسم کھاتا ہے۔ جس نے وقت کو برباد کیا وہ برباد ہوگا اور لوگوں کی میل اتارنے کیلیے استعمال ہوتا رہے گا۔
اپنے آپ کو groom کریں ہر لمحے اپنے ہنر کو پالش کریں۔ نئے ہنر سیکھیں۔ نئی زبان سیکھیں۔ انٹرنیٹ کا مثبت استعمال کریں۔ انٹرنیٹ کو استعمال کرکے لوگ لاکھوں کما رہے ہیں۔ اس دور میں ہنر پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے۔
اچھا تو بات جھانوے سے شروع ہوئی تھی۔ تو آج آپ خود کو دیکھ لیں کہ آپ سیاست دانوں کی بد عنوانی کی میل صاف کرنے کیلیے استعمال تو نہیں ہو رہے۔ اپنے آپ کو گروم کریں اور اپنی قدر میں اضافہ کریں۔
افریقی سوانا اور بھینسے
ثمرقند کی فتح
ثمرقند سے طویل سفر طے کر کے آنے والا قاصد ، سلطنت اسلامیہ کےحکمران سے ملنا چاہتا تھا۔
اسکے پاس ایک خط تھا جس میں غیر مسلم پادری نے مسلمان سپہ سالار قتیبہ بن مسلم کی شکایت کی تھی۔
پادری نے لکھا !
"ہم نے سنا تھا کہ مسلمان جنگ اور حملے سے پہلے قبول اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔اگر دعوت قبول نہ کی جائے تو جزیہ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر کوئی ان دونوں شرائط کو قبول کرنے سے انکار کرے تو جنگ کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔
مگر ہمارے ساتھ ایسا نہیں کیا گیااور اچانک حملہ کر کے ہمیں مفتوح کر لیا گیا ہے۔
یہ خط ثمر قند کے سب سے بڑے پادری نے اسلامی سلطنت کے فرماں روا عمر بن عبد العزیز کے نام لکھا تھا۔
دمشق کے لوگوں سے شہنشاہ وقت کی قیام گاہ کا معلوم کرتے کرتے وہ قاصد ایک ایسے گھر جا پہنچا کہ جو انتہائی معمولی اور خستہ حالت میں تھا۔ایک شخص دیوار سے لگی سیڑھی پر چڑھ کر چھت کی لپائی کر رہا تھا اور نیچے کھڑی ایک عورت گارا اُٹھا کر اُسے دے رہی تھی۔
جس راستے سے آیا تھا واپس اُسی راستے سے اُن لوگوں کے پاس جا پہنچا جنہوں نے اُسے راستہ بتایا تھا۔
اُس نے لوگوں سے کہا میں نے تم سے اسلامی سلطنت کے بادشاہ کا پتہ پوچھا تھا نہ کہ اِس مفلوک الحال شخص کا جس کے گھر کی چھت بھی ٹوٹی ہوئی ہے۔
لوگوں نے کہا،ہم نے تجھے پتہ ٹھیک ہی بتایا تھا، وہی حاکم وقت عمر بن عبد العزیز کا گھر ہے ۔
قاصد پر مایوسی چھا گئی اور بے دلی سے دوبارہ اُسی گھرپر جا کر دستک دی،جو شخص کچھ دیر پہلے تک لپائی کر رہا تھا وہی اند ر سے نمودار ہوا۔
قاصدنے اپنا تعارف کرایا اور خط عمر بن عبدالعزیز کو دے دیا۔
عمر بن عبدالعزیز نے خط پڑھ کر اُسی خط کی پشت پر لکھا :
عمر بن عبدالعزیز کی طرف سے سمرقند میں تعینات اپنے عامل کے نام؛ ایک قاضی کا تقرر کرو جو پادری کی شکایت سنے۔مہر لگا کر خط واپس قاصدکو دیدیا۔
سمرقند لوٹ کر قاصدنے خط کا جواب اور ملاقات کا احوال جب پادری کو سنایا ،توپادری پر بھی مایوسی چھا گئی۔
اس نے سوچا کیا یہ وہ خط ہے جو مسلمانوں کے اُس عظیم لشکر کو ہمارے شہر سے نکالے گا ؟اُنہیں یقین تھا کاغذ کا یہ ٹکڑا اُنہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔
مگر کوئی اور راستہ بھی نہ تھا چنانچہ خط لیکر ڈرتے ڈرتے امیر لشکر اور حاکم ثمرقند قتیبہ بن مسلم کے پاس پہنچے ۔
قتیبہ نے خط پڑھتے ہی فورا ایک قاضی کا تعین کردیا جو اسکے اپنے خلاف سمرقندیوں کی شکایت سن سکے۔
قاضی نے پادری سے پوچھا، کیا دعویٰ ہے تمہارا ؟
پادری نے کہا : قتیبہ نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہم پر حملہ کیا، نہ تو اِس نے ہمیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی اور نہ ہی ہمیں کسی سوچ و بچار کا موقع دیا تھا۔
قاضی نے قتیبہ کو دیکھکر پوچھا، کیا کہتے ہو تم اس دعویٰ کے جواب میں ؟
قتیبہ نے کہا : قاضی صاحب، جنگ تو ہوتی ہی فریب اور دھوکہ ہے۔
سمرقند ایک عظیم ملک تھا، اسکے قرب و جوار کے کمتر ملکوں نے نہ تو ہماری کسی دعوت کو مان کر اسلام قبول کیا تھا اور نہ ہی جزیہ دینے پر تیار ہوئے تھے، بلکہ ہمارے مقابلے میں جنگ کو ترجیح دی تھی۔
سمرقند کی زمینیں تو اور بھی سر سبز و شاداب اور زور آور تھیں، ہمیں پورا یقین تھا کہ یہ لوگ بھی لڑنے کو ہی ترجیح دیں گے، ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا اور سمرقند پر قبضہ کر لیا۔
قاضی نے قتیبہ کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا : قتیبہ میری بات کا جواب دو، تم نے ان لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت، جزیہ یا پھر جنگ کی خبر دی تھی ؟
قتیبہ نے کہا : نہیں قاضی صاحب، میں نے جس طرح پہلے ہی عرض کر دیا ہے کہ ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا تھا۔
قاضی نے کہا :میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی غلطی کا اقرار کر رہے ہو، اس کے بعد تو عدالت کا کوئی اور کام رہ ہی نہیں جاتا۔
اللہ نے اس دین کو فتح اور عظمت تو دی ہی عدل و انصاف کی وجہ سے ہے نہ کہ دھوکہ دہی اور موقع پرستی سے۔
میری عدالت یہ فیصلہ سناتی ہے کہ تمام مسلمان فوجی اور انکے عہدہ داران بمع اپنے بیوی بچوں کے، اپنی ہر قسم کی املاک اور مال غنیمت چھوڑ کر سمرقند کی حدوں سے باہر نکل جائیں اور سمر قند میں کوئی مسلمان باقی نہ رہنے پائے۔
اگر ادھر دوبارہ آنا بھی ہو تو بغیر کسی پیشگی اطلاع و دعوت کے اور تین دن کی سوچ و بچار کی مہلت دیئے بغیر نہ آیا جائے۔
پادری جو کچھ دیکھ اور سن رہا تھا وہ ناقابل یقین تھا۔چند گھنٹوں کے اندر ہی مسلمانوں کا عظیم لشکر قافلہ در قافلہ شہر کو چھوڑ کے جا چکا تھا۔
ثمر قندیوں نے اپنی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا کہ جب طاقتور فاتح قوم کمزور مفتوح قوم کو یوں دوبارہ آزادی بخش دے۔
ڈھلتے سورج کی روشنی میں لوگ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرنے لگے کہ یہ کیسا مذہب اور کیسے پیروکار ہیں ۔ عدل کا یہ معیار کہ اپنوں کے خلاف ہی فیصلہ دے دیں۔ اور طاقتور سپہ سالار اس فیصلہ پہ سر جھکا کر عمل بھی کر دے۔
تاریخ گواہ ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں پادری کی قیادت میں تمام شہر کے لوگ گھروں سے نکل کر لشکر کے پیچھے سرحدوں کی طرف دوڑے اور لا الٰہ الاّ اللہ محمّد الرّسول اللہ کا اقرار کرتے ہوئے اُنکو واپس لے آئے کہ یہ آپکی سلطنت ہے اور ہم آپکی رعایا بن کر رہنا اپنے لئے ٖفخر سمجھیں گے۔
دینِ رحمت نے وہاں ایسے نقوش چھوڑے کہ سمرقند عرصہ تک مسلمانوں کا دارالخلافہ بنا رہا۔
کبھی رہبر دو عالم حضرت محمد ﷺ کی امت ایسی ہوا کرتی تھی....















