انصاف ضروری ہے

عبداللہ طاہر جب خراسان کے گورنر تھے اور نیشاپور اس کا دارالحکومت تھا تو ایک لوہار شہر ہرات سے نیشاپور گیا اور چند دنوں تک وہاں کاروبار کیا۔ پھر اپنے اہل و عیال سے ملاقات کے لئے وطن لوٹنے کا ارادہ کیا اور رات کے پچھلے پہر سفر کرنا شروع کردیا۔ ان ہی دنوں عبد اللہ طاہر نے سپاہیوں کو حکم دے رکھا تھا کہ وہ شہر کے راستوں کو محفوظ بنائیں تاکہ کسی مسافر کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔

اتفاق ایسا ہوا کہ سپاہیوں نے اسی رات چند چوروں کو گرفتار کیا اور امیر خراسان (عبد اللہ طاہر) کو اسکی خبر بھی پہنچا دی لیکن اچانک ان میں سے ایک چور بھاگ گیا۔ اب یہ گھبرائے اگر امیر کو معلوم ہوگیا کہ ایک چور بھاگ گیا ہے تو وہ ہمیں سزا دے گا۔ اتنے میں انہیں سفر کرتا ہوا یہ (لوہار) نظر آیا۔ انھوں نے اپنی جان بچانے کی خاطر اس بےگناہ شخص کوفوراً گرفتار کرلیا اور باقی چوروں کے ساتھ اسے بھی امیر کے سامنے پیش کردیا۔ امیرخراسان نے سمجھا کہ یہ سب چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں اس لئے مزید کسی تفتیش و تحقیق کے بغیر سب کو قید کرنے کا حکم دے دیا۔
نیک سیرت لوہار سمجھ گیا کہ اب میرا معاملہ صرف اللہ جل شانہ کی بارگاہ سے ہی حل ہوسکتا ہے اور میرا مقصد اسی کے کرم سے حاصل ہوسکتا ہے لہٰذا اس نے وضو کیا اور قید خانہ کے ایک گوشہ میں نماز پڑھنا شروع کردی۔ ہر دو رکعت کی بعد سر سجدہ میں رکھ کر اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں رقت انگیز دعائیں اور دل سوز مناجات شروع کردیتا اور کہتا۔ ’’ اے میرے مالک! تو اچھی طرح جانتا ہے میں بےقصور ہوں‘‘۔ جب رات ہوئی تو عبد اللہ طاہر نے خواب دیکھا کہ چار بہادر اور طاقتور لوگ آئے اور سختی سے اس کے تخت کے چاروں پایوں کو پکڑکر اٹھایا اور الٹنے لگے اتنے میں اس کی نیند ٹوٹ گئی۔ اس نے فوراً لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ پڑھا۔ پھر وضو کیا اور اس احکم الحاکمین کی بارگاہ میں دو رکعت نماز ادا کی جس کی طرف ہر شاہ و گدا اپنی اپنی پریشانیوں کے وقت رجوع کرتے ہیں۔ اس کے بعد دوبارہ سویا تو پھر وہی خواب دیکھا اس طرح چار مرتبہ ہوا۔ ہر بار وہ یہی دیکھتا تھا کہ چاروں نوجوان اس کے تخت کے پایوں کو پکڑ کر اٹھاتے ہیں اور الٹنا چاہتے ہیں۔امیر خراسان عبد اللہ طاہر اس واقعہ سے گھبرا گئے اور انہیں یقین ہوگیا کہ ضرور اس میں کسی مظلوم کی آہ کا اثر ہے جیسا کہ کسی صاحب علم و دانش نے کہا ہے:
نکند صد ہزار تیر و تبر
آنچہ یک پیرہ زن کند بہ سحر
ای بسا نیزۂ عدد شکناں
ریزہ گشت از دعاے پیر زناں
یعنی لاکھوں تیر اور بھالے وہ کام نہیں کر سکتے جو کام ایک بڑھیا صبح کے وقت کردیتی ہے۔ بارہا ایسا ہوا ہے کہ دشمنوں سے مردانہ وار مقابلہ کرنے اور انہیں شکست دینے والے، بوڑھی عورتوں کی بد دعا سے تباہ وبرباد ہوگئے۔
امیر خراسان نے رات ہی میں جیلر کو بلوایا اور اس سے پوچھا کہ بتاؤ! تمہارے علم میں کوئی مظلوم شخص جیل میں بند تو نہیں کردیا گیا ہے؟ جیلر نے عرض کیا۔ عالیجاہ! میں یہ تو نہیں جانتا کہ مظلوم کون ہے لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ میں ایک شخص کو دیکھ رہا ہوں جو جیل میں نماز پڑھتا ہے اور رقت انگیز و دل سوز دعائیں کرتا ہے۔
امیر نے حکم دیا: اسے فوراً حاضر کیا جائے۔ جب وہ شخص امیر کے سامنے حاضر ہوا تو امیر نے اس کے معاملہ کی تحقیق کی۔ معلوم ہوا کہ وہ بے قصور ہے۔امیر نے اس شخص سے معذرت کی اور کہا: آپ میرے ساتھ تین کام کیجئے۔
نمبر۱۔ آپ مجھے معاف کردیں۔
نمبر۲۔ میری طرف سے ایک ہزار درہم قبول فرمائیں۔
نمبر۳۔ جب بھی آپ کو کسی قسم کی پریشانی درپیش ہو تو میرے پاس تشریف لائیں تاکہ میں آپ کی مدد کر سکوں۔
نیک سیرت لوہار نے کہا: آپ نے جو یہ فرمایا ہے کہ میں آپ کو معاف کردوں تو میں نے آپ کو معاف کردیا اور آپ نے جو یہ فرمایا کہ ایک ہزار درہم قبول کرلوں تو وہ بھی میں نے قبول کیا لیکن آپ نے جو یہ کہا ہے کہ جب مجھے کوئی مشکل درپیش ہو تو میں آپ کے پاس آؤں، یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا۔
امیر نے پوچھا: یہ کیوں نہیں ہوسکتا؟ تو اس شخص نے جواب دیا کہ وہ خالق و مالک جل جلالہ جو مجھ جیسے فقیر کے لئے آپ جیسے بادشاہ کا تخت ایک رات میں چار مرتبہ اوندھا کر سکتا ہے تو اسکو چھوڑ دینا اور اپنی ضرورت کسی دوسرے کے پاس لے جانا اصولِ بندگی کے خلاف ہے۔ میرا وہ کون سا کام ہے جو نماز پڑھنے سے پورا نہیں ہو جاتا کہ میں اسے غیر کے پاس لے جاؤں۔ یعنی جب میرا سارا کام نماز کی برکت سے پورا ہوجاتا ہے تو مجھے کسی اور کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے۔

بہرا مینڈک

 مینڈکوں کا ایک گروہ کہیں جا رہا تھا کہ اچانک ان میں سے دو بے دھیانی میں ایک گڑھے میں جا گرے۔

باہر ٹھہرے مینڈکوں نے دیکھا کہ گڑھا ان دو مینڈکوں کی استطاعت سے زیادہ گہرا ہے تو انہوں نے اوپر سے کہنا شروع کر دیا۔ ھائے افسوس، تم اس سے باہر نہ نکل پاؤ گے، کوششیں کر کے ہلکان مت ہونا، ہار مان لو اور یہیں اپنی موت کا انتظار کرو۔

ایک مینڈک کا یہ سب کچھ سن کر دل ہی ڈوب گیا، اس نے ٹوٹے دل کے ساتھ چند کوششیں تو کیں مگر اس جان لیوا صدمے کا اثر برداشت نہ کر پایا اور واقعی مر گیا۔

دوسرے کی کوششوں میں شدت تھی اور وہ جگہ بدل بدل کر، جمپ لگاتے ہوئے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اوپر والے مینڈک پورے زور و شور سے سیٹیاں بجا کر، آوازے کستے ہوئے، اسے منع کرنے میں لگے ہوئے تھے کہ مت ہلکان ہو، موت تیرا مقدر بن چکی ہے۔ لیکن مینڈک نے اور زیادہ شدت سے اپنی کوششیں جاری رکھیں اور واقعی میں باہر نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔

سارے مینڈک اس کے گرد جمع ہو گئے اور پوچھنا شروع کیا کہ وہ کیسے باہر نکلا تو سب کو یہ جان کر بہت حیرت ہوئی کہ یہ والا مینڈک تو کانوں سے محروم اور بہرا تھا۔

مینڈک سارا وقت یہی سمجھ کر باہر نکلنے کیلیئے اپنا سارا زور لگاتا رہا تھا کہ باہر کھڑے ہوئے سارے مینڈک اس کے خیر خواہ اور دوست ہیں، جو اس کی ہمت بندھوا رہے ہیں اور جوش دلا رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ تھی کہ وہ سارے اس کی ہمت توڑنے اور باہر نکلنے کے عزم کو ختم کرنے میں لگے ہوئے تھے۔

نتیجہ: کسی بھی تنقید پر بددل مت ہوں بلکہ اس تنقید کے نشتر کی سیڑھیاں بنا کر کامیابی کی منزل کی جانب بڑھتے رہیں.

محفل کیوں بجھ جاتی ہے

 ایک شخص ، جو اپنے دوستوں کے ساتھ باقاعدگی سے محفل میں شریک ہوتا تھا ، اچانک کسی اطلاع کے بغیر اس نے آنا چھوڑ دیا۔

 کچھ دنوں کے بعد ، ایک انتہائی سرد رات میں اس محفل کے ایک بزرگ نے اس سے ملنے کا فیصلہ کیا اور اس کے گھر گیا۔وہاں اس نےاس شخص کو گھر میں تن تنہا ایک آتشدان کے سامنے بیٹھا ہوا پایا۔ 

 جہاں ایک روشن آگ جل رہی تھی۔ 

ماحول کافی آرام دہ تھا۔ 

اس شخص نے مہمان کا استقبال کیا۔ 

دونوں خاموشی سے بیٹھ گئے، اور آتشدان کے آس پاس رقص کرتے شعلوں کو دیکھتے رہے ۔

کچھ منٹ کے بعد مہمان نے ایک لفظ کہے بغیر ، جلتے انگاروں میں سے ایک کا انتخاب کیا جو سب سے زیادہ چمک رہا تھا ، اس کو چمٹے کے ساتھ سائیڈ میں الگ رکھ دیا ۔اور پھر بیٹھ گیا۔ 

میزبان ہر چیز پر دھیان دے رہا تھا ۔

 کچھ ہی دیر میں ، تنہا انگارے کا شعلہ بجھنے لگا ، تھوڑی ہی دیر میں جو پہلے روشن اور گرم تھا کوئلے کے کالے اور مردہ ٹکڑے کے سوا کچھ نہیں رہ گیا تھا۔

 سلام کے بعد سے بہت ہی کم الفاظ بولے گئے تھے۔

 روانگی سے پہلے ، مہمان نے بیکار کوئلہ اٹھایا اور اسے دوبارہ آگ کے بیچ رکھ دیا۔ فوری طور پر ، اس کے چاروں طرف جلتے ہوئے کوئلوں کی روشنی اور حرارت نے اسے دوبارہ زندہ کر دیا۔ 

جب مہمان روانگی کے  لئے دروازے پر پہنچا تو میزبان نے کہا:

 "آپ کی آمد کا اور آپ کے خوبصورت سبق کے لئے شکریہ، میں جلد ہی آپ کی محفل میں واپس آؤں گا۔"

نوشتہ دیوار

 بائبل کی ایک کہانی جس کا تسلسل آج بھی جاری ہے ۔

یہ ڈھائی ہزار سال پہلے کی بات ہے۔ بابل کا آخری بادشاہ بیلشضر اپنے درباریوں کے ساتھ محل میں محفل نشاط سجائے بیٹھا تھا۔ یروشلم کے معبد سے لوٹے ہوئے مقدس طلائی برتنوں میں شراب پی جا رہی تھی کہ اچانک غیب سے ایک ہاتھ نمودار ہوا اور اس نے دیوار پر چند لفظ لکھے، بادشاہ یہ دیکھ کر خوف سے تھرتھر کانپنے لگا، غیبی ہاتھ نے چار الفاظ لکھے اور پھر آنکھوں سے اوجھل ہو گیا ۔

وہ الفاظ یہ تھے :

MENE - MENE - TAKEL - PERES.

یہ کسی اجنبی اور نامانوس زبان کے الفاظ تھے۔ بادشاہ اور درباریوں نے انھیں سمجھنے کی تمام تر کوشش کی، ناکام ہونے پر انہوں نے بائبل کے بڑے بڑے عالموں، نجومیوں اور روحانی پیشواؤں کو بلوایا۔ شاہ نے پیشکش کی کہ جو اس عبارت کو پڑھ کر اس کا مطلب سمجھائے گا، اسے سونے میں تولا جائے گا۔ کاہن اور نجومی کوشش کرتے رہے، مگر وہ ان الفاظ کا راز نہ جان سکے اور بادشاہ کی راتوں کی نیند بھی اڑ گئی۔ وہ ہر وقت سوچتا رہتا کہ اس غیبی ہاتھ نے آخر کیا پیغام دیا ہے ؟ 

ایک دن ملکہ نے مشورہ دیا کہ بابل میں دانیال نامی شخص رہتا ہے، جس کا جسم تو انسان کا ہے لیکن غالباً روح کسی دیوتا کی ہے، اسے بلایا جائے۔ یہ حضرت دانیال ؑ تھے، اپنے عہد کے سب سے زیادہ برگزیدہ شخص تھے ۔ 

بادشاہ نے حضرت دانیال ؑ کو بلایا اور کہا : ”سنا ہے کہ تم ہر قسم کی گتھی سلجھا لیتے ہو، اگر تم دیوار پر لکھی اس عبارت کا مطلب مجھے سمجھانے میں کامیاب رہے، تو خلعت فاخرہ کے ساتھ، تمہارے گلے میں سونے کی مالا ڈالی جائے گی اور تمہیں سلطنت کا تیسرا بڑا عہدہ بھی سونپا جائے گا“۔ 

حضرت دانیال ؑ نے کہا : کہ مجھے تمہارے سونے چاندی کی ضرورت نہیں، مگر میں یہ مسئلہ حل کر دیتا ہوں۔ 

انہوں نے چند لمحوں کے لیئے غور کیا اور پھر بادشاہ سے کہا : ”تمہارا باپ بھی اس سلطنت کا فرماں روا تھا، لیکن اس نے عیش و عشرت کا راستہ اپنا کر خود کو تباہ کر لیا ۔ اب تم نے بھی اس کی پیروی کی، اسی لیئے تباہی اور بربادی تمہارا مقدر ہے“۔ 

اس کے بعد حضرت دانیالؑ نے بتایا ”Mene کا مطلب ہے کہ تمہاری بادشاہی کے دن پورے ہو گئے ہیں۔ Takel کا مطلب ہے کہ تمہیں کسوٹی پر پرکھا گیا، لیکن تم ناقص اور ہلکے نکلے۔ Peres سے مراد ہے کہ تمہاری سلطنت عنقریب دشمنوں میں تقسیم ہو جائے گی۔“

یہ قصہ بائبل میں بیان کیا گیا ہے ۔ کہانی کے مطابق اسی رات بادشاہ کو قتل کر دیا گیا اور جلد ہی اس کی سلطنت دو دشمن ریاستوں کے قبضے میں چلی گئی ۔ 

اس کہانی سے انگریزی میں ضرب المثل :

" Writing on the Wall " 

وجود میں آئی اور اردو میں اسے نوشتہ دیوار (دیوار پر لکھا ہوا) کا نام دیا گیا ۔ ویسے یہ ضرب المثل دنیا کی بہت سی زبانوں میں مختلف ناموں سے موجود ہے ۔

بائبل کی کہانی تو ختم ہو چکی، مگر تاریخی قصوں کے آثرات صدیوں تک برقرار رہتے ہیں۔ پچھلے دو ڈھائی ہزار سال کی تاریخ کا جائزہ لے کر مؤرخین نے یہ نتیجہ نکالا کہ ہر سلطنت اور حکمران کو خواہ وہ جس قدر عظیم ہو، ایک نہ ایک دن ضرور نوشتہ دیوار سے وآسطہ پڑتا ہے۔ مؤرخین کہتے ہیں کہ ایک وقت ایسا آتا ہے، جب اس کا انجام واضح دکھائی دینے لگتا ہے، مگر بدقسمتی سے بیشتر حکمران دیوار پر لکھے تقدیر کے اٹل اور نہ بدلنے والے فیصلے کا درست ادراک نہیں کر پاتے ۔ ۔

تب دیوار پر لکھے ہوئے کی تکمیل ہو جاتی ہے ۔ تاریخ پھر یہی فیصلہ سناتی ہے کہ ۔ ۔ ۔

انہیں آزمایا گیا، تولا گیا، مگر یہ ہلکے، بہت ہلکے نکلے ۔

سخاوت کی بہترین مثال

 بھائی مجھے تھوڑا سا شہد دے دیں.....مجھے شدید ضرورت ہے ، میری چھوٹی سی بیٹی بیمار ہے.....اس کا علاج شہد سے ممکن ہے ۔

افسوس ! میرے پاس اس وقت شہد نہیں ہے.....ویسے شہد آپ کو مل سکتا ہے.....لیکن آپ کو کچھ دور جانا پڑےگا ، ملک شام سے ایک بڑے تاجر کا تجارتی قافلہ آرہا ہے.....وہ تاجر بہت اچھے انسان ہیں.....مجھے امید ہے ، وہ آپ کی ضرورت کے لیے شہد ضرور دے دیں گے ۔

ضرورت مند نے ان کا شکریہ ادا کیا اور شہر سے باہر نکل آیا تاکہ قافلہ وہاں پہنچے تو تاجر سے شہد کے لیے درخواست کر سکے ۔

آخر قافلہ آتا نظر آیا ۔ وہ فوراً اٹھا اور اس کے نزدیک پہنچ گیا ۔ اس قافلے کے امیر کے بارے میں پوچھا ۔ لوگوں نے ایک خوبصورت اور بارونق چہرے والے شخص کی طرف اشارہ کیا ۔ ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری چھوٹی سی بیٹی بیمار ہے اس کے علاج کے لیے مجھے تھوڑے سے شہد کی ضرورت ہے ۔

انھوں نے فوراً اپنے غلام سے فرمایا : جس اونٹ پر شہد کے دو مٹکے لدے ہیں ، ان میں سے ایک مٹکا اس بھائی کو دے دیں ۔

غلام نے یہ سن کر کہا : آقا ! اگر ایک مٹکا اسے دے دیا تو اونٹ پر وزن برابر نہیں رہ جائےگا ۔ یہ سن کر انھوں نے فرمایا : تب پھر دونوں مٹکے انھیں دے دیں ۔

یہ سن کر غلام گھبرا گیا اور بولا : آقا ! یہ اتنا وزن کیسے اٹھائے گا ۔ اس پر آقا نے کہا : تو پھر اونٹ بھی اسے دے دو ۔ غلام فوراً دوڑا اور وہ اونٹ مٹکوں کے ساتھ اس کے حوالے کر دیا ۔ وہ ضرورت مندان کا شکریہ ادا کرکے اونٹ کی رسی تھام کر چلا گیا ۔

وہ حیران بھی تھا اور دل سے بے تحاشہ دعائیں بھی دے رہا تھا ۔ وہ سوچ رہا تھا ، یہ شخص کس قدر سخی ہے ، میں نے اس سے تھوڑا سا شہد مانگا ۔ اس نے مجھے دو مٹکے دے دیے ۔ مٹکے ہی نہیں ، وہ اونٹ بھی دے دیا جس پر مٹکے لدے ہوئے تھے ۔

اِدھر غلام اپنے آقا کی خدمت میں حاضر ہوا تو آقا نے غلام سے کہا : جب میں نے تم سے کہا کہ اسے ایک مٹکا دے دو تو تم نہیں گئے ، دوسرا مٹکا دینے کے لیے کہا تو بھی تم نہیں گئے ، پھر جب میں نے یہ کہا کہ اونٹ بھی اسے دے دو تو تم دوڑتے ہوئے چلے گئے ۔ اس کی کیا وجہ تھی ۔

غلام نے جواب دیا : آقا ! جب میں نے یہ کہا کہ ایک پورا مٹکا دینے سے اونٹ پر وزن برابر نہیں رہےگا تو آپ نے دوسرا مٹکا بھی دینے کا حکم فرمایا ، جب میں نے یہ کہا کہ وہ دونوں مٹکے کیسے اٹھائے گا تو آپ نے فرمایا : اونٹ بھی اسے دے دو ۔ اب میں ڈرا کہ اگر اب میں نے کوئی اعتراض کیا تو آپ مجھے بھی اس کے ساتھ جانے کا حکم فرما دیں گے ۔ اس لیے میں نے دوڑ لگادی ۔

اس پر آقا نے کہا : اگر تم اس کے ساتھ چلے جاتے تو اس غلامی سے آزاد ہو جاتے ۔ یہ تو اور اچھا ہوتا ۔

جواب میں غلام نے کہا : آقا ! میں آزادی نہیں چاہتا ، اس لیے کہ آپ کو تو مجھ جیسے سیکڑوں غلام مل جائیں گے ، لیکن مجھے آپ جیسا آقا نہیں ملےگا ۔ میں آپ کی غلامی میں رہنے کو آزادی سے زیادہ پسند کرتا ہوں ۔

آپ کو معلوم ہے ۔ یہ آقا کون تھے ۔ یہ حضرت عثمان غنیؓ تھے..!!

رضی اللہ تعالیٰ عنہ

سمندر۔۔۔ چور، سخی، قاتل یا کریم

ﺍﯾﮏ بچہ ﻧﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﻴﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺟﻮﺗﺎ ﮐﮭﻮ ﺩﻳﺎ ﺗﻮ ﺑﻠﮑﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ بچہ ﻧﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺣﻞ ﭘﺮ ﻟﮑﮫ ﺩﻳﺎ ﮐﮧ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ​​ﻳﮧ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﭼﻮﺭ ﮨﮯ ۔​​۔۔!!


ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﮨﯽ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﭘﺮ ﺍﻳﮏ ﺷﮑﺎﺭﯼ ﻧﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﻴﮟ ﺟﺎﻝ ﭘﮭﻴﻨﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﻣﭽﮭﻠﻴﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮐﻴﺎ ۔ ﺗﻮ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﻴﮟ ﺍﺳﻨﮯ ﺳﺎﺣﻞ ﭘﺮ ﻟﮑﮫ ﺩﻳﺎ ﮐﮧ ​​ﺳﺨﺎﻭﺕ ﮐﻴﻠﺌﮯ ﺍﺳﯽ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔۔۔!!  ﺍﮮ ﺑﺤﺮِ ﺳﺨﺎﻭﺕ ! ﺳﺨﺎﻭﺕ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺳﺨﺎﻭﺕ ﺳﮯ ﮨﻮ ۔۔۔!!


ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻏﻮﻃﮧ ﺧﻮﺭ ﻧﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﻴﮟ ﻏﻮﻃﮧ ﻟﮕﺎﻳﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺳﮑﺎ ﺁﺧﺮﯼ ﻏﻮﻃﮧ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺍ ۔ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﺑﻴﭩﮭﯽ ﻏﻤﺰﺩﮦ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﺭﻳﺖ ﭘﺮ ﭨﭙﮑﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺁﻧﺴﻮﮞ ﮐﻴﺴﺎﺗﮫ ﻟﮑﮫ ﺩﻳﺎ۔۔۔۔ ​​ﻳﮧ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻗﺎﺗﻞ ﮨﮯ ۔​​۔۔!!


ﺍﻳﮏ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻧﮯ ﻣﻮﺗﯽ ﮐﺎ ﺗﺤﻔﮧ ﺩﻳﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﻨﮯ ﻓﺮﺣﺖ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﻣﻴﮟ ﺁﮐﺮ ﺳﺎﺣﻞ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﭘﺮ ﻟﮑﮫ ﺩﻳﺎ ۔۔۔۔ ﮐﮧ ​​ﻳﮧ ﺳﻤﻨﺪ ﮐﺮﻳﻢ ﮨﮯ ﮐﺮﺍﻣﺖ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻳﮧ ﺍﻭﺭ ﻳﮧ ﮐﺮﺍﻣﺖ ﮐﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﮨﮯ ۔​​۔۔!!


ﭘﮭﺮ ﺍﻳﮏ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﻟﮩﺮ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻨﮯ ﺳﺐ ﮐﺎ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﻮﺍ ﻣﭩﺎ ﺩﻳﺎ ۔۔۔۔۔۔۔

ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﺳﺮ ﻣﺖ ﺩﮬﺮﻭ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺩﻳﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ۔۔۔!!

ﺧﻄﺎﺅﮞ ﺍﻭﺭ ﻏﻠﻄﻴﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﭩﺎ ﺩﻭ ﺗﺎﮐﮧ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﭼﺎﺭﮔﯽ ﭼﻠﺘﯽ ﺭﮨﮯ,, ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺧﻄﺎ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﭼﺎﺭﮔﯽ ﻣﺖ ﻣﭩﻼﺅ۔۔۔

ﺟﺐ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺮﺍ ﺳﻠﻮﮎ ﮐﻴﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻴﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﺪﺗﺮ ﮐﺎ ﻣﺖ ﺳﻮﭼﻮ بلکہ ﻧﻴﮑﯽ ﮐﯽ ﻧﻴﺖ ﮐﺮ ﻟﻮ ۔۔۔۔

ﮐﻴﻮﻧﮑﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﻴﮟ اللہ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﻴﮟ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ​​( ﻭَﻟَﺎ ﺗَﺴْﺘَﻮِﻱ ﺍﻟْﺤَﺴَﻨَﺔُ ﻭَﻟَﺎ ﺍﻟﺴَّﻴِّﺌَﺔُ ۚ ﺍﺩْﻓَﻊْ ﺑِﺎﻟَّﺘِﻲ ﻫِﻲَ ﺃَﺣْﺴَﻦُ )​​ ﺑﮭﻼﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﻧﮩﻴﮟ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﮯ ﻃﺮﻳﻘﮯ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﮐﺮ ﺩﻭ.

 

کسان اور گھوڑا

 ایک دفعہ ایک گھوڑا ایک گہرے گڑھے میں جا گرا اور زور زور سے آوازیں نکالنےلگا۔ گھوڑے کا مالک کسان تھا جو کنارے پہ کھڑا اسے بچانے کی ترکیبیں سوچ رہا تھا۔ جب اسے کوئی طریقہ نہیں سوجھا تو ہار مان کر دل کو تسلی دینے لگا کہ گھوڑا تو اب بوڑھا ہو چکا ہے۔ وہ اب میرے کام کا بھی نہیں رہا چلو اسے یوں ہی چھوڑ دیتے ہیں اور گڑھے کو بھی آخر کسی دن بند کرنا ہی پڑے گا اس لیے اسے بچا کر بھی کوئی خاص فائدہ نہیں۔ 

یہ سوچ کر اس نے اپنے اپنے پڑوسیوں کی مدد لی اور گڑھا بند کرنا شروع کر دیا۔ سب کے ہاتھ میں ایک ایک بیلچہ تھا جس سے وہ مٹی بجری اور کوڑا کرکٹ گڑھےمیں ڈال رہے تھے۔ 

گھوڑا اس صورت حال سے بہت پریشان ہوا۔ اس نے اور تیز آواز نکالنی شروع کر دی۔ کچھ ہی لمحے بعد گھوڑا بالکل خاموش سا ہو گیا

جب کسان نے جھانکا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جب جب گھوڑے کے اوپر مٹی اور کچرا پھینکا جاتا ہے تب تب وہ اسے جھٹک کر اپنے جسم سے نیچے گرا دیتا ہے اور پھر گری ہوئی مٹی پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ 

یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا۔ کسان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر مٹی اور کچرا پھینکتا رہا اور گھوڑا اسے اپنے بدن سے ہٹا ہٹا کر اوپر آتا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اوپر تک پہنچ گیا اور باہر نکل آیا۔ یہ منظر دیکھ کر کسان اور اس کے پڑوسی سکتے میں آ گئے۔ 

زندگی میں ہمارے ساتھ بھی ایسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں کہ 

  • ہمارے اوپر کچرا اچھالا جائے
  • ہماری کردار کشی کی جائے
  • ہمارے دامن کو داغدار کیا جائے
  • ہمیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جائے

لیکن گندگی کے اس گڑھے سے بچنے کا طریقہ یہ نہیں کہ ہم ان غلاظتوں کی تہہ میں دفن ہو کر رہ جائیں بلکہ ہمیں بھی ان بے کار کی چیزوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اوپر کی طرف اور آگے کی سمت بڑھتے رہنا چاہیے۔ زندگی میں ہمیں جو بھی مشکلات پیش آتی ہیں وہ پتھروں کی طرح ہوتی ہیں مگر یہ ہماری عقل پر منحصر ہے کہ آیا ہم ہار مان کر ان کے نیچے دب جائیں

یا

ان کے اوپر چڑھ کر مشکل کے کنویں سے باہر آنے کی ترکیب کریں۔ خاک ڈالنے والے ڈالتے رہیں۔ مگر پرعزم انسان اپنا راستہ کبھی نہیں بدلتا ..

کرم دین چوکیدار

کرم دین چوکیدار اپنی سائیکل کے ہینڈل سے گوشت کی چند تھیلیاں لٹکائے تیز تیز پیڈل مارتا ہوا اپنی دھن میں چلا جا رہا تھا اس کے چہرے پہ ایک انوکھی سی مسرت اور طمانیت کے آثار نظر آ رہے تھے ایک انتہائی غریب سے محلے میں پہنچ کر اس نے ایک گھر کے سامنے سائیکل روکی اور گھر کا دروازہ بجا دیا کچھ دیر بعد اندر سے ایک نسوانی آواز آئی کہ جی کون؟ باجی میں ہوں کرم دین چوکیدار۔۔۔! اس کے بلند آواز سے جواب دیتے ہی دروازہ کھلا اور دوپٹے کے پلو سے چہرہ ڈھانپے ایک عورت نظر آئی!
کرم دین نے نگاہیں جھکاتے ہوئے اس خاتون کو بڑے احترام سے سلام کیا حال احوال پوچھا عید کی مبارک باد دی اور گوشت کی ایک تھیلی اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ لیں باجی یہ آپ کا حصہ ہے۔ 
اس عورت نے تھیلی لیتے ہوئے بڑے گلوگیر لہجے میں کرم دین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کرم دین میں تیرا شکریہ ادا نہیں کر سکتی بس اللہ کے سامنے اپنے بچیوں کی یتیمی پیش کر کے تیرے لئے ہمیشہ خیر مانگتی رہتی ہوں یہ سن کر کرم دین کی آنکھیں بھی ڈبڈبا گئیں اس نے جلدی سے چہرہ دوسری طرف کرتے ہوئے کہا کہ دیکھ بہن تجھے کتنی بار کہا ہے کہ ایسی باتیں نا کیا کر مجھے اچھا نہیں لگتا تو میری بہنوں کی طرح ہے اور تیری بیٹیاں مجھے اپنے بیٹیوں کی طرح ہی عزیز ہیں، اچھا میں اب چلتا ہوں مجھے اور گھروں میں بھی انکا حصہ پہنچانا ہے یہ کہہ کر وہ اس خاتون کا جواب سنے بغیر سائیکل پہ بیٹھا اور جلدی سے آگے بڑھ گیا۔
یہ حاکم علی مالی کا گھر تھا اور یہ خاتون حاکم علی کی بیوہ تھی کرم دین چوکیدار اور حاکم علی مالی ایک بہت بڑے سیٹھ کے بنگلے پہ کام کرتے تھے دونوں میں اگرچہ کچھ خاص تعلق نہیں تھا بس اچھی سلام دعا تھی اور روز آتے جاتے ایک دوسرے کا حال احوال پوچھ لیتے تھے دونوں میں غریبی کے علاوہ ایک بات یہ بھی مشترک تھی کہ دونوں کی چار چار بیٹیاں ہی تھیں بیٹا کوئی نہیں تھا۔
ایک دن ایسا ہوا کہ حاکم علی کام پہ نا آیا یوں تو وہ پہلے بھی کئی بار چھٹی کر لیا کرتا تھا مگر آج شاید سیٹھ صاحب کے کچھ مہمان آنے تھے اس لئے انہوں نے کرم دین کو اسکا پتا کرنے کے لئے اس کے گھر بھیج دیا کرم دین وہاں پہنچا تو دیکھا کہ اس کے گھر تو گویا قیامت صغریٰ برپا تھی حاکم علی کی بیوی اور بیٹیاں دھاڑیں مار مار کے رو رہی تھیں حاکم علی رات سویا تو صبح اٹھا ہی نہیں وہ اپنی بیوی اور بیٹیوں کو اس دنیا کے رحم و کرم پہ چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے سو چکا تھا۔
کرم دین بےچارہ خود بھی بہت غریب آدمی تھا اور بال بچے دار بھی مگر اس دن سے ہر چھوٹی بڑی عید پہ جتنا ہو سکتا تھا ان کے لئے کوئی نا کوئی چیز اور گوشت پہنچا دیا کرتا تھا کرم دین جب پہلی بار ان کے ہاں گوشت لے کر آیا تو حاکم علی کی بیوی نے روتے ہوئے کہا کہ کرم دین اللہ تیرا بھلا کرے آج میرے بچے ڈیڑھ دو سال بعد پہلی بار گوشت کھائیں گے بس یہ جملہ سننا تھا کہ اس کے دل پہ خنجر سے چل کے رہ گئے بس وہ دن تھا اور آج کا دن کہ وہ ان کے ساتھ ساتھ ایسے چار پانچ اور گھروں کی بھی وقتا فوقتا مدد کرتا رہتا تھا۔
باقی گھروں میں بھی گوشت کی تھیلیاں پہنچا کر وہ واپس پلٹا تو کافی دیر ہو چکی تھی اس نے سائیکل موڑی اور اپنے گھر کی راہ پکڑ لی جیسے جیسے اس کا گھر نزدیک آ رہا تھا اس کے چہرے پہ پریشانی کے تاثرات بڑھتے جا رہے تھے رستے میں ایک جگہ ایک نلکے پہ رک کر اس نے سائیکل صاف کرنے والا کپڑا بھگو کر ہینڈل پہ لگے گوشت اور خون کے نشانات کو صاف کیا وہ شاید یہ نشانات اپنے گھر والوں سے چھپانا چاہتا تھا اور پھر وہ دوبارہ اپنے گھر کی طرف چل دیا۔
یہ اس کا ہر سال کا معمول تھا کہ وہ صبح سویرے اپنے پرانے دھلے ہوئے کپڑے پہن کر عید کی نماز پڑھنے اپنی کچی بستی سے بہت دور شہر کے سب سے بڑے محلے میں جاتا اور عید کی نماز کے بعد لوگوں کے گھروں سے گوشت جمع کرنا شروع کر دیتا گو کہ وہ ذاتی طور پہ بہت خوددار انسان تھا کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا اس کے لئے مر جانے کے برابر تھا مگر حاکم علی کی بیوہ اور یتیم بچیوں کی خاطر وہ یہ کام بھی کر گزرتا وہ دوپہر تک گوشت جمع کرتا اور دوپہر کے بعد ان گھروں میں جا کے دے آتا اور وہ لوگ یہی سمجھتے کہ شاید کرم دین کی اپنی قربانی ہوتی ہے۔
اور واقعی یہ کرم دین کی قربانی ہی تھی وہ اپنی عزت نفس اور خودداری کے گلے پہ چھری پھیر کر ہی ان کے لیے لوگوں کے سامنے دامن پھیلا کر گوشت اکٹھا کیا کرتا تھا اور ظاہر ہے اس کے لئے اس سے بڑی قربانی اور کیا ہوسکتی تھی۔ 
سال سال بعد کرم دین کی بدولت گوشت کا مونہہ دیکھنے والے یہ کب جانتے تھے کہ خود کرم دین کے گھر سال کے بعد بھی گوشت نہیں پکتا کئی بار کرم دین کے جی میں آیا بھی کہ وہ ایک آدھ تھیلی اپنے گھر بھی لے جائے مگر ہر بار اس کا ضمیر اسکے آڑے آجاتا اور اپنے بچوں کو یہ گوشت چاہتے ہوئے بھی نا کھلا پاتا۔
کرم دین کی بستی قریب آچکی تھی اس نے اپنی آنکھوں کی نمی کو لوگوں سے نظریں بچا کر صاف کیا اور اپنے درد و الم کو چہرے کے مصنوعی تاثرات سے چھپانے کی کوشش کرتا ہوا اپنی گلی میں مڑ گیا۔ اب اس کے سامنے اس کے اپنے گھر کا دروازہ موجود تھا جس کے اس پار غربت و افلاس کا لبادہ اوڑھے اس کی بیوی اور بیٹیاں اس کی منتظر تھیں۔
کرم دین نے کچھ لمحے توقف کر کے دروازہ بجا دیا اس کی چھوٹی بیٹی نے دروازے کی درز میں سے اپنے باپ کو دیکھ کر دروازہ کھول دیا کرم دین سر جھکائے ہوئے اپنے گھر میں داخل ہو گیا اس نے اسی طرح اونچی آواز میں سب کو سلام کر کے سر اٹھایا تو دیکھ کے حیران رہ گیا کہ اس کے صحن کے بیچوں بیچ کھانے پکانے کے سامان کا ڈھیر لگا ہوا ہے اور ساتھ ہی ایک تھیلے میں اچھا خاصا گوشت بھی پڑا ہوا ہے۔
کرم دین نے حیرت سے اپنی بیوی کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ یہ سب کہاں سے آیا؟ اسکی بیوی بولی کہ ایک بہت بڑی گاڑی میں کوئی بڑا آدمی آیا تھا وہ کہہ رہا تھا کہ وہ آپ کو جانتا ہے اور ساتھ میں ایک چٹھی بھی دے کر گیا ہے میں نے سامان تو اس کے اصرار پہ رکھ لیا مگر اب آپ کے انتظار میں ہی تھی اور ساتھ ہی ایک لفافہ کرم دین کی طرف بڑھا دیا کرم دین نے جلدی سے لفافہ کھولا اور اس میں موجود چٹھی پڑھنے لگ گیا
سلام دعا کے بعد لکھا تھا کہ۔۔۔ 
یار کرمے میں تجھے ایک عام سا بندہ سمجھتا رہا مگر تو تو بہت بڑا آدمی نکلا، اتنا بڑا کہ تیرے سامنے مجھے اپنا آپ بہت چھوٹا محسوس ہونے لگا ہے۔ مجھے تیرے بارے میں کچھ باتیں کہیں سے پتا چلیں تھیں پھر میں نے سارا دن تیرا پیچھا کیا اور حاکم علی کے گھر تک جا پہنچا وہاں سے مجھے تیرے بارے میں باقی سب پتا چل گیا اور جب تیرے گھر آیا تو پتا چلا کہ تیرے اپنے گھر کے حالات بھی بالکل انہی لوگوں جیسے ہیں
کرمے یہ کچھ چیزیں عید کا تحفہ سمجھ کر قبول کر لے تجھے اللہ کا واسطہ انکار نا کرنا آج سے تیرا اور باقی پانچوں گھروں کا سارا خرچ میرے ذمہ ہوا باقی باتیں شام کو بنگلے پہ کرتے ہیں اور ہاں آج ڈیوٹی پہ ذرا جلدی آ جانا۔ منجانب ''تیرا سیٹھ''
کرم دین کی آنکھوں سے آنسو نکل کر چٹھی کی تحریر بگاڑ رہے تھے اور اسکی زبان پہ بے اختیار جاری تھا۔۔۔ اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہ الااللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد ۔“
 اللہ رب العزت ہم سب کو مخلوق خدا کی بڑھ چڑھ کر خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے 
آمین ثم آمین یارب العالمین

بئیرِ رومہ سے بئیرِ عثمان تک

ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﻨﮏ ﻣﯿﮟ ﺧﻠﯿﻔﮧِ ﺳﻮﻡ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻧﭧ ﺍﮐﺎﻭﻧﭧ ﮨﮯ۔
ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺣﯿﺮﺕ ﮨﻮﮔﯽ ﮐﮧ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮّﺭﮦ ﮐﯽ ﻣﯿﻮﻧﺴﭙﻠﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﺟﺎﺋﯿﺪﺍﺩ ﺭﺟﺴﭩﺮﮈ ﮨﮯ۔
ﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺑﺠﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺑﻞ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﻧﺒﻮﺕ ﮐﮯ ﺗﯿﺮویں ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﺠﺮﺕ ﮐﺮﮐﮯ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮّﺭﮦ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﻗﻠﺖ ﺗﮭﯽ۔
ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮّﺭﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﺎ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﮩﻨﮕﮯ ﺩﺍﻣﻮﮞ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮﺗﺎ۔
ﺍﺱ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ "ﺑﺌﺮِ ﺭﻭﻣﮧ" ﯾﻌﻨﯽ ﺭﻭﻣﮧ ﮐﺎ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺗﮭﺎ۔
ﻭﮨﺎﮞ ﺍﻥ ﺣﺎﻻﺕ ﺳﮯ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺁﮔﺎﮦ ﮐﯿﺎ۔
ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﺒﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: 
"ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﺟﻮ ﯾﮧ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺧﺮﯾﺪﮮ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ لئے ﻭﻗﻒ ﮐﺮ ﺩﮮ۔۔۔؟ 
ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﺍﺳﮯ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﺸﻤﮧ ﻋﻄﺎﺀ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ"۔

ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺍﺱ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﯿﺎ۔
ﮐﻨﻮﺍﮞ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﺑﺨﺶ ﺁﻣﺪﻧﯽ ﮐﺎ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ لئے ﯾﮩﻮﺩﯼ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺗﺪﺑﯿﺮ ﮐﯽ ﮐﮧ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
ﭘﻮﺭﺍ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﻧﮧ ﺳﮩﯽ، 
ﺁﺩﮬﺎ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮ ﺩﻭ۔۔۔!!!
ﺁﺩﮬﺎ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﻮ ﮔﺎ۔
ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﺱ ﭘﯿﺸﮑﺶ ﭘﺮ ﻻﻟﭻ ﻣﯿﮟ ﺁ گیا۔
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﮩﻨﮕﮯ ﺩﺍﻣﻮﮞ ﻓﺮﺧﺖ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔
ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﮐﻤﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔
ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺁﺩﮬﺎ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔
ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻭﮦ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻭﻗﻒ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻥ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﺳﮯ ﻣﻔﺖ ﭘﺎﻧﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﮮ ﺩﯼ۔
ﻟﻮﮒ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺩﻥ ﻣﻔﺖ ﭘﺎﻧﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﮭﯽ ﺫﺧﯿﺮﮦ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ۔
ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺷﺨﺺ ﭘﺎﻧﯽ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﻧﮧ ﺟﺎﺗﺎ۔
ﯾﮩﻮﺩﯼ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﻣﺎﻧﺪ ﭘﮍ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﺎﻗﯽ ﺁﺩﮬﺎ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺑﮭﯽ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺸﮑﺶ ﮐﺮ ﺩﯼ۔
ﺍﺱ ﭘﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻢ ﻭ ﺑﯿﺶ ﭘﯿﻨﺘﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﺩﺭﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ لئے ﻭﻗﻒ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔
ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﻟﺪﺍﺭ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺩﻭﮔﻨﺎ ﻗﯿﻤﺖ ﭘﺮ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺶ ﮐﯽ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ  "ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺶ ﮨﮯ"۔
ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﮔﻨﺎ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﺌﯽ ﮔﻨﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺶ ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﮔﻨﺎ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: 
ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺶ ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺭﻗﻢ ﺑﮍﮬﺎﺗﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﯾﮩﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺘﮯ ﺭﮨﮯ۔
ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ " ﺣﻀﺮﺕ ﺁﺧﺮ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺩﺱ ﮔﻨﺎ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺶ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔۔۔؟ 
ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ " ﻣﯿﺮﺍ ﺭﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﮑﯽ ﭘﺮ ﺩﺱ ﮔﻨﺎ ﺍﺟﺮ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺶ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ"۔

ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﯿﺮﺍﺏ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺩﻭﺭِ ﺧﻼﻓﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﮐﮯ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﮐﮭﺠﻮﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﺑﺎﻍ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﻍ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ ﮨﻮﺋﯽ۔
ﺑﻌﺪ ﺍﺯﺍﮞ ﺁﻝِ ﺳﻌﻮﺩ ﮐﮯ ﻋﮩﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺠﻮﺭ ﮐﮯ ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﭘﻨﺪﺭﮦ ﺳﻮ ﭘﭽﺎﺱ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔
ﺣﮑﻮﻣﺖِ ﻭﻗﺖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺑﺎﻍ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﭼﺎﺭ ﺩﯾﻮﺍﺭﯼ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺟﮕﮧ ﻣﯿﻮﻧﺴﭙﻠﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺭﺟﺴﭩﺮﮈ ﮐﺮ ﺩﯼ۔
ﻭﺯﺍﺭﺕِ ﺯﺭﺍﻋﺖ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﯽ ﮐﮭﺠﻮﺭﯾﮟ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺁﻣﺪﻧﯽ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺑﯿﻨﮏ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﻭﺍﺗﯽ ﺭﮨﯽ۔

ﭼﻠﺘﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﺍﺱ ﺍﮐﺎﻭﻧﭧ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﺭﻗﻢ ﺟﻤﻊ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮّﺭﮦ ﮐﮯ ﻣﺮﮐﺰﯼ ﻋﻼﻗﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﺎﻍ ﮐﯽ ﺁﻣﺪﻧﯽ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺸﺎﺩﮦ ﭘﻼﭦ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﻓﻨﺪﻕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺭﮨﺎﺋﺸﯽ ﮨﻮﭨﻞ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔

ﺍﺱ ﺭﮨﺎﺋﺸﯽ ﮨﻮﭨﻞ ﺳﮯ ﺳﺎﻻﻧﮧ ﭘﭽﺎﺱ ﻣﻠﯿﻦ ﺭﯾﺎﻝ ﺁﻣﺪﻧﯽ ﻣﺘﻮﻗﻊ ﮨﮯ۔
ﺟﺲ ﮐﺎ ﺁﺩﮬﺎ ﺣﺼّﮧ ﻏﺮﯾﺒﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﮑﯿﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﻔﺎﻟﺖ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﺁﺩﮬﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺑﯿﻨﮏ ﺍﮐﺎﻭﻧﭧ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮨﻮگا۔
ﺫﻭﺍﻟﻨّﻮﺭﯾﻦ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻋﻤﻞ ﺍﻭﺭ ﺧﻠﻮﺹِ ﻧﯿﺖ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻗﺒﻮﻝ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﮐﮧ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮏ ﺍﻥ ﮐﮯ لئے ﺻﺪﻗﮧ ﺟﺎﺭﯾﮧ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ۔
ﯾﮩﯽ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﻨﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺧﺮﯾﺪ ﻟﺌﮯ۔
ﯾﮩﯽ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﮐﯽ۔
ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﺰّﻭﺟﻞ ﮐﻮ ﻗﺮﺽ ﺩﯾﺎ۔
ﺍﭼﮭﺎ ﻗﺮﺽ۔۔۔!!!

ایک عید ایسے بھی گزاریں

میں نے اپنی اس مختصر زندگی میں اب تک یہی دیکھا غربت دنیا کا سب سے بڑا مسلئہ ہے. کوئ شخص مذہب کے بغیر رہ سکتا ہے مگر  کھانے کے بغیر نہیں.
جہاں لوگوں میں شعور و آگہی آرہی ہے وہاں ابھی اکثریت ایسے علاقوں کی بھی ہے جہاں انسانیت سسک رہی ہے اور دم توڑ رہی ہے وجہ بھوک اور افلاس.
لوگ اپنی سب سے قیمتی دولت اولاد کو بھوک کے ڈر سے مارنے پہ آمادہ ہوجاتے ہیں 
کتنی ہی عزتیں اور عصمتیں بھوک مٹانے کیلئے تار تار ہو جاتی ہیں...........
اور ان کی ایک بڑی وجہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس سب کچھ موجود ہے لیکن احساس اور مروّت نہیں.
کاش ہم سدھر جائیں..........
اس عید پہ عہد کیجئے کہ اپنی خوشی میں کم از کم کسی ایک مفلس کو شامل کیجئے .
اس عید پہ اپنا پہننے کا سوٹ کسی مفلس کو پہنا دیجیئے.
اپنا جوتا لینے کی بجائے کسی مفلس اور مفلوک الحال کو یہ خوشی دے دیجئیے.
یقین کریں جو خوشی عید کی آپ کو ایسا کرنے پہ ملے گی کبھی کسی عید پہ نا ملی ہوگی.
خود پرانا سوٹ اور پرانا جوتا پہن کے کسی غریب کا بھرم رکھ لیں 
ایسی راحت ملے گی جس کا کبھی تصور بھی نا کیا ہوگا .
(آزما کر دیکھ لیں)