ادبی پروگرام بعنوان علامہ محمد اقبالؒ

‏گھڑی اور تین سوئیاں

    گھڑی میں 3 سوئیاں ہوتی ہیں

 جن میں ایک سوئی سیکنڈ والی سوئی ہوتی ہے

یہ سیکنڈ والی سوئی اپنا وجود تو رکھتی ہے پر اسکا ذکر نہیں کیا جاتا سب یہی کہتے ہیں دس بج کر پندرہ منٹ ہوگئے ہیں

کوئی یوں نہیں کہا: دس بج کر پندرہ منٹ اور چار سیکنڈ ہوئے ہیں‏جبکہ

یہ سیکنڈ والی سوئی دونوں سے زیادہ محنت ومشقت کرتی ہے اور اٌن دونوں کو بھی آگے بڑھنے میں مدد کرتی ہے 

 ہماری زندگی میں بھی بہت سے لوگ اسی سیکنڈ والی سوئی کی مانند ہوتے ہیں

جن کا ذکر تو کہیں نہیں ہوتا لیکن ہمارے آگے بڑھنے میں اٌنکا کردار ضرور ہوتا ہے ...

امتحانات کی تیاری کیسے کی جائے

 بچے ہمارا اثاثہ اور ہمری کل کائنات ہوتے ہیں۔ یہ ہمارے وارث اور ہمارا آنے والا کل اور پاکستان کا مستقبل ہیں۔ اس لیے جہاں ہمیں ان کی جسمانی صحت کا بہت زیادہ خیال رکھنا ہوتا ہے وہیں ان کی ذہنی نشوو نما پر بھی لازمی توجہ دینی ہوتی ہے۔خا ص طور پر امتحانات کے دنوں میں جب ان پر پڑھائی کا اضافی بوجھ ہوتا ہے تب ہمیں ان کا بہت زیادہ خیال رکھنا ہوتا ہے۔ ان کے کھانے پینے کے اوقات اور ان کے آرام کے وفت کو بہترین بنانا ہوتا ہے تاکہ وہ پھر سے تازہ دم ہوکر پڑھائی کے لیے تیار ہو سکیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض بچے بہت حساس ہوتے ہیں اور امتحانات کو دباؤ کے طور پر قبول کرتے ہیں اور گھبرا جاتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سکون سے تیاری نہیں کرپاتے اور اپنے وقت کو بہترین طریقے سے استعمال نہیں کرپاتے۔ تب ایسے وقت میں آ کو چاہیے کہ انہیں پرسکون کریں اور حوصلہ دیں اور ساتھ ساتھ ان کی مدد کریں۔ ان سیبات کریں۔ ان سے پڑھائی میں پیش آنے والے مسئلوں کے بارے میں پوجھیں اس سے انہیں اندازہ ہوگا کہ آپ ان کی پڑھائی میں دلچسپی لیرہیے ہنں اور یہ بات انہیں احساس دلائے گی کہ انہیں اور محنت کرنی ہے۔امتحانات کی تیاری کے سلسلے میں سب سے بزا مسئلہ جو بچوں کو ہوتا ہے وہ ہے شیڈول بنانا ، مضامین کی تیاری کے حساب سے وقت کو ترتیب دینا ، ادھورے کام مکمل کرنا، تمام اسباق کو دوبارہ پڑھنا اور جو اسباق مشکل ہوان کولکھ کر یاد کرنا ، یہ وہ تمام بنیادی باتیں ہیں جو امتحان کی تیاری میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ امتحانات سے تین ہفتے قبل بچوں کے ساتھ بات کر کے اس بات کو یقینی بنائیے کہان کا تمام کام مکمل ہو تاکہ انہیں تیاری میں کسی قسم کی دقت پیش نہ آئے۔ اگر انہیں کسی بات کو سمجھنے میں دقت پیش آرہی ہے تو اس سلسلے میں استاد یا کسی دوست سے مدد لی جاسکتی ہے۔اگر تو سکول میں ٹیسٹ سیشن ہو رہے ہوں تو اچھی بات ہے وہ باقاعدگی سے اٹینڈ کرنے چاہیں اور اگر گھر میں تو ان کا ٹائم ٹیبل ایسا بنائیں صبح ان کا من پسند ناشتہ کروائیں اور کچھ وقت ٹی وی دیکھیں پھر انہیں پڑھنے کے لیے بٹھادیں ساتھ تھوڑے تھوڑے وقفے سے انہیں آکر دیکھیں ان سے بات چیت کریں اور چیک کریں۔ کوشش کریں امتحانات کے دنوں میں کہیں باہر جانا آنا یا گھر میں مہمانوں کی آمدورفت نہ ہواس سے بچوں کی توجہ پٹتی ہے اور ان کا دھیان پڑھائی سے ہٹ جاتا ہے۔ایسے میں وہ توجہ سے پڑھ نہیں پاتے۔
شیڈول بنانا :
آپ کو چاہیے بچوں کے ساتھ شامل ہوکرایسا ٹائم ٹیبل بنائیں جس پر وہ آسانی سے اپنی تیاری کر سکیں۔ ویس تو ہر بجے کی اپنی سوچ اور مزاج ہوتا ہے جیسے کہ بعض بچے ایس ہوتیہیں جنہیں آپ مضمون آسان اپنے ا الفاظ میں سمجھائیں تو وہ جلدی سمجھ لیتے ہیں اورمضمون کی خاص باتیں انہیں یاد ہوجاتیں ہیں۔ کچھ بچے لکھ کر یاد کرتے ہیں۔ کوشش کریں انہیں لکھے کی عادت ہو۔ دو سے تین گھنٹے توجہ سے پڑھنا کافی ہوتا ہے۔ اس کے پعد کچھ دیر کے لیے انہیں چھٹی دے دیں۔بریک میں انہیں ان کی پسند کی چیز بنا کردیں۔کچھ دیر ٹی وی دیکھیں یا کمپیوٹر گیم کھیلیں۔ ان کے ساتھ باتیں کریں۔ درمان میں وقفے وقفے سے ان سے پوچھیں جو کچھ انہوں نے یاد کیا ہے۔ ان کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کی تعریف کریں سراہیں اور کپھی انعام بھی دیں ضرور۔
ادھورے کام مکمل کرنا :
پعض اوقات سکول سے غیر حاضری کے باعث بچوں کے کچھ کام ادھورے رہ جاتے ہیں۔ کسی وجہ سے یا پھر لاپرواہی کے باعث مکمل نہیں کرپاتے۔ کوشش کریں امتحان شروع ہینے سے قبل ہی ان کی تمام کاپیوں پہ کام مکمل ہوں تاکہ انہیں کوئی پریشانی نہ ہو۔ ممکن ہو تو دوست سے کاپی لے کر کام مکمل کروائیں یاپھر اپنے استاد سے مدد لے لیں۔ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں بچے خود بھی مکمل کر سکتے ہیں اور آپ بھی مکمل کرواسکتے ہیں۔
مشکل مضامین کی تیاری:
پچوں کی عادت ہوتی ہے جن مضامین کو وہ مشکل سمجھتے ہیں ان کی تیاری کرنے سے گھبراتے ہیں۔ لکھ کر یاد نہیں کرتے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ انہیں یہ بات سمجھائیں کہ محنت سیہر کام آسان ہو جاتا ہے۔ مشکل مضامین کو پڑھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ پہلے انہں سمجھ کر پڑھنا چاہیے اور پھر لکھ کر یاد کرنا چاہیے۔ سکولوں میں زیادہ تر رٹا سسٹم کامیاب ہے اور اسی پر زور دیا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بچے اپنے ذہن سے جوکچھ لکھتے ہیں وہ ان کی ذہانت کا ثبوت ہوتا ہے۔ اس سے ان کا ذہن کھلتا ہے اور ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
مضمون کے حساب سے وقت کی تقسیم :
آپ نے اکثر نوٹ کیا ہوگا کہ بچے جن مضامین میں اچھے ہوتے ہیں ، ان کی بار بار پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ انہی کی بات کرتے ہیں۔ ضروری بات یہ ہے اگر امتحان میں اچھے نمبر کیا گریڈ لینے ہیں تو سبھی مضامین کومناسب وقت دینا چاہیے تاکہ کسی ایک مضمون میں کم نمبر آنے سے پوزیشن خراب نہ ہو۔اس لیے امتحان کی تیاری کرواتے ہوئے انہیں یہ بات سمجھائیں ہر مضمون کو برابر وقت دیں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ جن مضامین میں انہیں مشکل پیش آتی ہے ،ان کو وہ اضافی وقت میں تیار کریں یا پھر ان کو دوبارہ پڑھیں۔ تاکہ انہیں پعد میں بھول نہ جائیں۔پعض مضامین ایسے ہوتے ہیں جن کو بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ایسے مضامین ہوتے ہیں جن کی مکمل تیاری سے آ پ کو اتنے مارکس مل جاتے ہیں جن سے گریڈ اچھے بنتے ہیں۔ جیسے کہ انگلش اور حساب ان میں نمبر کٹنے کے کم چانسس ہوتے ہیں۔ اس لیے کوشش کریں ان مضامین میں پوری تیاری کریں۔
پیپر کیسے کرنا چاہیے :
امتحان میں جہاں مضمون پہ عبور حاصل کرنا ضروری ہے وہیں اس بات کی بھی بہت اہمیت ہے کہ بچوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ پیپر کیسے کرتے ہیں ؟انہیں سمجھائیں کہ پیپر شروع کرنے سے پہلے دعا ضرور پڑھیں اور پھر اطمینان سے پورا بیبر پڑھیں۔جو پیپر کرنے کا طریقہ استاد نے بتایا ہے اسے بھی ذہن میں رکھیں اور وقت کا دھیان بھی رکھیں تاکہ وقت پر ابنا پیپر ختم کرسکیں۔ سوال کو اس کے مارکس کے حساب کریں۔ بعض اوقات غیر ضروری طوالت بھی پیپر پڑھنے والے کو بور کرتی ہے۔ پاقی سوالات کے لیے وقت کم بچتا ہے۔ لکھائی بڑی اور صاف ستھری ہونا چاہیے۔ پیپر ختم کرنے کے بعد ایک مرتبہ ضرور دیکھں ویسے بچوں میں یہ عادت نہیں ہوتی مگ آپ انہیں اس بات ک عادت ڈال دیں گے تو یہ اگلی کلاسوں میں ان کے بہت کام آئے گی۔
نماز کی عادت :
اللہ نے ہر مشکل وقت میں کامیابی کے لیے دعا سے مدد لینے کا حکم دیا ہے۔ اس لیے اس بات کو ممکن بنائیں کہ بچے امتحان کے دنوں میں نماز سے غافل نہ ہوں۔انہیں ذہن نشین کروائیں کے ان کو اپنی محنت کے ساتھ ساتھ اللہ سے مدد بھی مانگنی چاہیے۔ اپنی کامیابی کے لیے دعا پھی ضرور کرنی چاہیے اور اس پر یقین بھی رکھنا چاہیے۔ اس سے نہ صرف ان میں نماز کی عادت پختہ ہوگی بلکہ آگے زندگی میں پیش آنے والی مشکلات میں بھی وہ نماز اور دعا کو اپنا سہارا سمجھیں گے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ابتدائی عمر میں جو سوچ اور عادتیں آپ اپنے بچوں میں ڈالیں گی انہی اصولوں پہبچوں کی شخصیت کی تعمیر ہوگی۔اسی لیے انہیں محنت کا ، پڑھائی میں بلند مقام کا، ہر مشکل میں اس پروردگار کو پکارنے کا عادی بنائیں تاکہ زندگی میں کسی مقام پر پیچھے نہ رہیں۔ کامیاپی ان کے قدم چومے اور وہ کامیاب و کامران رہیں۔

امتحان کی تیاری کیسے کریں؟

بہت سے طلبہ امتحان کے صحیح طریق کا ر سے متعلق جستجو میں لگے رہتے ہیں کہ امتحان کیسے دیں؟ تا کہ ان بہت سی ، امتحانی پریشانیوں سے بچا جاسکے، جن سے طلبہ کا سامنا ہو تا ہے ۔ جیسے امتحانی ایام میں خوف کا طاری ہو نا ، بے چینی کا چھا جانا ، عدم اعتمادی کا شکار ہونا ، یہ ایسی چیزیں ہیں جو انسانی معلومات اور اس کے ذہن ودماغ کو متاثر کر دیتی ہیں ، جب کہ امتحانی دنوں میں معلومات کا فقدان (جن کی طالب علم کو شدید ترین ضرورت ہو تی ہے ) بہت بڑی محرومی ہے ۔ اور یہی محرومی طالب علم کی ناکامی اور رسوائی کا سبب بن جاتی ہے ۔

ایسے پریشان کن مراحل میں ایک طالب علم کو چاہیے (چاہے اس کی ذہنی سطح کتنی ہی بلند ہو ) کہ تجربہ کا ر ماہرین تعلیم کی قیمتی نصائح کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کو نصب العین بنائے، خاص کر جب کہ وہ نصیحتیں امتحان سے متعلق بھی ہوں ۔ تو یہلیجیے چند نصیحتیں پیش خدمت ہیں۔
امتحان کی رات
طالب علم کو چاہیے کہ وہ امتحانی رات میں ذہنی وبدنی راحت حاصل کرے۔ تا کہ آئندہ کل کے جوابات پُر سکون طریقے پر لکھ سکے، ماہرین تعلیم اور تجربہ کارمُرَبّی امتحانی دنوں میں طلبہ کو کچھ اس طرح تربیتی نصیحتیں کرتے ہیں، تا کہ طلبہ ان کا پورا لحاظ رکھیں اور امتحان کے ہر مضمون میں اعلیٰ نمبرات سے کامیاب ہوں۔
امتحانی رات میں مفید ومقوی غذا استعمال کرے اور ایسا کھانا کھانے سے پرہیز کرے، جو بدہضمی کا باعث بنے اور پھر وہ مشکلات پیدا کرے کہ طالب علم کی امتحانی رات پوری بے چینی اور بے قراری میں گذر جائے کہ جس سے امتحان بھی متاثر ہو جائے۔
جلد سونے کی کوشش کرے ، طویل مذاکرہ نہ کرے، اس لیے کہ امتحانی رات میں طویل مذاکرہ ذہن کو تھکا دیتا ہے۔
بے چینی سے پورے طور پر بچے ، اس لیے کہ بے چینی طالب علم کے اعضا پر اثر انداز ہو تی ہے، جس کی وجہ سے وہ شک میں مبتلا ہو جا تا ہے۔ اور خود اعتماد ی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے اور بسا اوقات یہی بے چینی اعصابی خوف کا سبب بھی بن جاتی ہے۔ جس سے طالب علم کی قوتِ یادداشت متاثر ہوجا تی ہے ۔ ان تمام چیزوں کا علاج بس یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل بھروسہ کرتے ہوئے خود اعتمادی کے ساتھ امتحان کی پوری تیاری کرے کہ یہی امتحان کی کنجی ہے۔
ادوات کتابت کی پوری تیاری رکھے جیسے قلم، فُل اسکیپ ، وغیرہ۔
نیند سے بر وقت بیدار ی کے لیے کوئی مناسب گھڑی استعمال کرے ۔
اس بات کی پوری کوشش ہو کہ طالب علم کم سے کم چھ گھنٹہ آرام کر سکے ۔
امتحا ن کا دن
نیند سے جلد بیدار ہو جایا کرے، تا کہ غسل اور تبدیلی لباس سے اطمینان سے فارغ ہو سکے۔
فجر کی نماز باجماعت ادا کرنے کی پوری فکر ہو ۔
ناشتہ اطمینان بخش کریں، تاکہ امتحانی اوقات میں کسی بھی طرح کی کمزوری کا احساس نہ ہو۔
جس فن کا امتحان دینا ہے اس کے اشارات وحواشی کو اچھی طرح دیکھ لے۔
امتحان گاہ وقت سے پہلے جانے کی عادت ہو ، تا کہ راستہ کی کسی بھی وقتی پریشانی سے محفوظ رہ سکے ۔
جب گھر سے نکلیں تو دعا کا اہتمام کریں، جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں وارد ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب آدمی گھر سے نکلے تو ”بسم اللہ، توکلت علی اللہ، لا حول ولا وقوة إلا باللہ“ پڑھے ، تو اللہ کی طرف سے ا سے کہا جاتا ہے ۔ کافی ہے تیرے لیے ۔ تو صحیح راستہ دکھایا گیا اور تیرے لیے اللہ کی طرف سے کفایت ہوئی اورتو شیطان سے بچایا گیا اور شیطان تجھ سے دور کیاگیا ۔ ( ترمذی)
امتحان گاہ جاتے وقت یہ دعا مانگے
اَللّٰہُمَّ إنِّی تَوَکَّلْتُ عَلَیْکَ، وَسَلَّمْتُ اَمْرِیْ إِلَیْکَ، لاَ مَنْجٰی وَلَا مَلْجَأ اِلَّا إِلَیْکَ․
امتحان گاہ میں داخل ہوتے وقت یہ دعا مانگے
رَبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَاَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِیْ مِنْ لَدُنْکَ سُلْطَانًا نَصِیْرًا․
سوالیہ پرچہ وصول کرتے وقت یہ دعا مانگے
بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ، اَللّٰہُمَّ لَا سَہْلَ اِلَّا مَا جَعَلْتَہُ سَہْلًا، وَاَنْتَ تَجْعَلُ الْحَزْنَ اِذَا شِئْت سَہْلا ․
سوالات کو حل کرتے وقت یہ دعا مانگے
رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ وَیَسِّرْ لِیْ اَمْرِیْ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِیْ․
اگر کوئی مشکل سوال درپیش ہو تویہ دعا مانگے
(1) یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ ، بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ،
(2) لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحٰنَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ، رَبِّ اِنِّی مَسَّنِیَ الضُرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ․
جب پرچہ سے فارغ ہو جائے یہ دعا مانگے
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ہَدَانَا لِہٰذَا وَمَا کُنَّا لِنَہْتَدِیَ لَوْلاَ اَنْ ہَدَانَا اللّٰہُ․
اپنی ضروری امتحانی اشیا اپنے ساتھ رکھے، جیسے قلم وغیرہ۔
امتحانی سوالات کی کیفیت سے متعلق اپنے کسی بھی ساتھی سے نہ پوچھے ، ہو سکتا ہے وہ تمہارے ذہن کو منتشر کردے اور ایسی جگہ کی نشاندہی کرے جس کو تم نہیں جانتے، جس سے تم خود اعتمادی کھو بیٹھو ۔
درمیان امتحان
امتحان گاہ میں اپنی نشست پر بالکل پر سکون اور مطمئن بیٹھیں۔
جب جوابی پرچہ دیا جائے تو آغاز ”بسم اللہ “ سے کیجیے ، پھر مطلوبہ جوابات کو تحریر کیجیے، پہلے ترتیب اور فن کی تعیین کیجیے۔
سوالیہ پرچہ پر جو ہدایات لکھی ہوں ان کو اچھی طرح پڑھ لیں ، پھر پورے سوالات پڑھ کر اچھی طرح سمجھ لیں۔
آغاز آسان سوال سے کیجیے ،اور پھر مشکل سوال پر نظر مرکوز کیجیے۔
تمام سوالات کے لیے وقت کی مناسب تقسیم کیجیے ،جب کہ تمام سوالات نمبرات کے اعتبار سے برابر ہوں ۔ اور اگر کچھ سوالات مختلف نمبرات کے ہوں تو پہلے زیادہ نمبرات والے سوال کو زیادہ وقت دیجیے ۔
جب کسی سوال کے کئی عناصر ہوں اور درمیان تحریر ان میں سے کوئی ایک یا اس سے زیادہ بھول رہے ہوں تو اتنی جگہ چھوڑ دیجیے تاکہ یا دآنے پر ان عناصر کو لکھا جا سکے۔
موضوع سے متعلق اپنے جوابات صاف تحریر میں لکھیں ، تاکہ جوابی پر چہ ہر طرح کی بے ترتیبی سے محفوظ رہے۔
کوشش کیجیے کہ آپ جوابات امتحانی وقت ہی میں پورے کریں ۔
جوابی کا پی جمع کرنے سے پہلے خود جوابات کی مراجعت اور ان پر نظر ثانی کرلیں، تاکہ آپ جلد بازی سے بچ جائیں۔
اپنے ارد گرد طلبہ سے مصروف نہ ہوں اور نہ ہی کسی کے اپنے سے زیادہ لکھنے پر کبیدہ خاطر ہوں۔
امتحانی سوالات
بہت سے طلبہ صحیح جوابات نہیں لکھ پاتے، اس لیے کہ وہ سوالات ہی نہیں سمجھتے ، جس کی وجہ سے صحیح جوابات سے محروم رہتے ہیں۔ اس لیے طالب علم کو چاہیے کہ سب سے پہلے سوال سمجھے، اس لیے کہ کبھی کبھی ایک سوال مختلف پہلو وعناصر رکھتا ہے اور کبھی کبھی سوال مغلق اور پیچیدہ ہو تا ہے۔
جب سوال مختلف پہلو رکھتا ہو تو اس کے جواب کے وقت ہر پہلو کا مقصدمتعین کیجیے اور ہر ایک کا الگ الگ جواب دیجیے ۔ اور جب سوال پیچیدہ اور مشکل ہو تو اس کے معنی کی تعیین میں دقتِ نظری اور اعلی دماغی سے کام لیتے ہوئے اس کے صحیح معنی لکھتے وقت خوش خطی کا پورا خیال رکھیے۔ تاکہ ان عناصر کا لحاظ رکھا جا سکے۔
ان ہی چند ضروری اور لازمی عناصر کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہر طالب علم وہ درجہ پا سکتا ہے جس کی وہ امید رکھتا ہے یا جس کا وہ مستحق ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ہر طالب علم کو ان ہدایات واصولوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطافرمائے اور دارین کی کامیابی وکامرانی سے ہم کنا ر فرمائے ۔

امتحان کی تیاری چند اہم باتیں

 جیسے جیسے امتحانات کا وقت قریب آتا جارہا ہے بعض طلبہ وطالبات کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ جو طلبہ سال بھر محنت سے پڑھتے ہیں اگرچہ انہیں ناکام ہونے کا ڈر نہیں ہوتا مگر امتحان تو بہر حال امتحان ہے ذہن پر تو بوجھ ہوتا ہی ہے۔ ہم اپنے بہن بھائیوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ ریلیکس رہیں اور بچے ہوئے تھوڑے سے وقت کو اس طرح استعمال کریں کہ زیادہ سے زیادہ فائدہ ہوسکے۔

یہ سچ ہے کہ اس وقت جو ٹائم آپ کے پاس ہے وہ بہت قیمتی ہے اور ان چند دنوں میں آپ کی محنت آپ کو اچھے گریڈ سے ہم کنار کرسکتی ہے۔ وہ بہن بھائی جنھوں نے پورے سال بہت لگن سے نہیں پڑھا وہ بھی اس وقت کا صحیح اور مناسب استعمال کرکے ناکامی کے اندیشے کو دور بھگا سکتے ہیں۔ اس کے لیے چاہیے سنجیدگی، مضبوط ارادہ اور سخت محنت۔ بچے ہوئے یہ چند ایام ہمارے نقصان کی بھرپائی کرسکتے ہیں، اگر ہم ان کا بہترین استعمال کرنے پر قادر ہوجائیں۔ اس کے لیے آپ کو بقیہ وقت کی اچھی منصوبہ بندی اور پھر سختی سے اس منصوبہ پر عمل آوری کی کوشش کرنی ہوگی۔ ذیل میں ہم اپنے قارئین کے لیے مشورے دے رہے ہیں:
٭ سب سے پہلے بچے ہوئے وقت کی منصوبہ بندی کریں اور ایک ایک لمحہ کو ضائع ہونے سے بچانے کا عزم کریں۔
٭ بچے ہوئے دنوں کو مضمون وائز تقسیم کرلیں، اور ہر مضمون کو اس کا وقت دے کر پورے نصاب کو ایک بار دہرالیں۔
٭ جن مضامین میں آپ خود کو کمزور تصور کرتے ہیں، انہیں زیادہ وقت دیں۔ آسان مضامین سے وقت کاٹ کر مشکل مضامین پر لگائیں۔
٭ ذہن و دماغ کو ہر قسم کی الجھنوں سے نکال کر صرف تعلیم پر لگادیں اور پوری توجہ پڑھائی پر دیں۔
٭ اسکول میں جو کچھ بھی بتایا جائے اسے وقت نکال کر اسی روز گھر پر دہرالیں اس طرح ان باتوں پر زیادہ محنت کی ضرورت نہ ہوگی۔
موجودہ دور سخت مقابلے اور سخت محنت کا دور ہے۔ یہاں امتحان میں صرف پاس ہوجانا ہی منزل نہیں ہے۔ نہ فرسٹ ڈویژن حاصل کرلینے سے مسائل حل ہوجاتے ہیں۔ یہاں تو حالت یہ ہے کہ ستر فیصد سے زیادہ نمبرات حاصل کرنے والے طلبہ بھی میرٹ کی بنیاد پر اپنی پسند کے مضامین میں داخلہ نہیں لے پاتے۔ دوسرے طلبہ کی خاصی تعداد ایسی ہوتی ہے 95%سے بھی زیادہ نشانات حاصل کرنے میں کامیابی ہوجاتی ہے۔ ہمیں دیکھنا ہے کہ ان کے مقابلہ میں ہم پاسنگ مارکس یا فرسٹ ڈویژن لاکر بھی کہیں کھڑے نہیں ہوسکتے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ ہمارے طلبہ سال بھر اسی سنجیدگی سے پڑھائی کریں جس طرح امتحانات کے قریب یا دوران امتحان کرتے ہیں۔
یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ گذشتہ کئی سالوں سے بورڈ کے امتحانا ت کے نتائج یہ بتارہے ہیں کہ لڑکوں کے مقابلے لڑکیاں زیادہ بہتر اور نمایاں کار کردگی کا مظاہرہ کررہی ہیں۔ یہ اس حیثیت سے خوش آئند بات ہے کہ لڑکیوں میں تعلیم کے حصول کے لیے نہ صرف سنجیدگی اور یکسوئی پائی جاتی ہے بلکہ اس میدان میں وہ لڑکوں سے آگے نکل گئی ہیں۔ مگر اس کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے نوجوان لڑکوں میں دن بہ دن سنجیدگی اور علم کا شوق کم ہورہا ہے اور وہ مغرب پرستی اور ناکارہ پن کی طرف جارہے ہیں۔ ہمیں اپنی محنت اور لگن سے اس روش کو بدل کر رکھ دینا ہے اور نمایاں کامیابی کے ذریعہ یہ ثابت کردینا ہے کہ لڑکے بھی حصول علم کے لیے سنجیدہ ہیں یا کم از کم مسلم لڑکوں کا حال تو عام لوگوں سے الگ ہے۔ ہماری بہنیں اس بات سے بہت زیادہ خوش اس لیے نہ ہوں کہ وہ ایسی امت کا حصہ ہیں جو علم کے میدان میں پسماندہ تصور کی جاتی ہے اور واقعی ہے بھی۔ ہمیں اپنی محنت پر مبنی کارکردگی کے ذریعہ امت مسلمہ کے ماتھے سے یہ داغ کھرچ ڈالنے کے لیے ان تھک جدوجہدکرنی ہے۔
اچھے نمبرات کے لیے امتحان کی تیاری کے دوران آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ نصاب کیا ہے اور اس کے کس بات یا چیپٹر سے کتنے نمبر کے سوالات آتے ہیں۔ یہ بات معلوم کرنا دشوار نہیں خود مضمون پڑھانے والے استاد کو یہ بات معلوم ہوتی ہے۔ اس طرح آپ ہر چیپٹر پر مناسب اور ضروری توجہ دے سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر بارہویں کے تاریخ کے نصاب کی نمبراتی تقسیم اس طرح ہے:
ماڈرن انڈیا
٭ باب ۱، ۲، ۳ ۱۰ نمبر
٭ باب ۴، ۵، ۶ ۱۰ نمبر
٭ باب ۷،۸،۹،۱۰،۱۱ ۱۲ نمبر
٭ باب ۱۱، ۱۲، ۱۳ ۱۳ نمبر (۱۹۰۷ء میں کانگریس کی شروعات سے)
٭ باب ۱۴، ۱۵، ۱۶ ۱۰ نمبر
٭ نقشہ و خاکہ ۵ نمبر
معاصر دنیا (کنٹمپریری ورلڈ)
٭ باب ۱-۳ ۵ نمبر ٭ باب ۴ -۶ ۷ نمبر
٭ باب ۷-۱۰ ۱۰ نمبر ٭ باب ۹-۱۳ ۷ نمبر
٭ باب۱۴-۱۵ ۶ نمبر ٭ نقشہ و خاکہ ۵ نمبر
مذکورہ خاکہ کو مثال بناتے ہوئے ہر مضمون کے سلسلہ میں اس طرح کی ضروری معلومات حاصل کرلیں اور تیاری کرتے وقت اسے ذہن میں رکھیں۔ یہ تقسیم ایسی نہیں کہ صد فیصد اسی کے مطابق سوالنامہ آئے اس میں کچھ ردوبدل بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ حقیقت سے قریب تر اور سی بی ایس ای کی پالیسی کے مطابق ہے۔ اس لیے اس کی بہرحال اہمیت ہے۔
مطالعہ کیسے کریں
یوں تو تمام ہی طلبہ پڑھتے اور مطالعہ کرتے ہیں مگر ایسے بہت کم ہیں جنھیں مطالعہ کا طریقہ آتا ہے اور اس کے لوازمات کو وہ پورا کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ چیزوں کو ذہن نشین کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اس سلسلہ میں سب سے اہم چیز یکسوئی ہوتی ہے۔ وہ طلبہ جو ریڈیو یا ٹیپ ریکارڈر چلا کر پڑھتے ہیں یا ٹی وی کے پاس بیٹھ کر پڑھتے ہیں یقینا یکسوئی پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوپاتے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ ایسی جگہ بیٹھ کر پڑھائی کریں جہاں کسی بھی قسم کا خلل واقع نہ ہواور آپ کی میز و کرسی ایسی جگہ رکھی ہو جہاں لوگوں کی بار بار آمد نہ ہوتی ہو۔ اسی طرح مطالعہ کے لیے جملہ چیزیں، کاغذ، کتاب، قلم، کاپی، ربر، پینسل وغیرہ سب چیزیں آپ کے پاس موجود ہوں اور ضرورت کے وقت کہیں اٹھ کر نہ جانا پڑے۔ اس طرح یکسوئی برقرار رہتی ہے۔ اسی طرح لیٹ کر، جھک کر یا بستر میں بیٹھ کر پڑھنے سے بھی بچنا چاہیے اس سے تھکان زیادہ ہوتی ہے اور مطالعہ پر توجہ بھی پوری نہیں ہوپاتی۔ ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ طلبہ لیٹ کر پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے سوجاتے ہیں اس کا سبب یکسوئی کی کمی ہے۔ اس کے علاوہ:
٭ جس جگہ مطالعہ کیا جائے وہاں مناسب روشنی کا انتظام ہو، بہت تیز روشنی، یا کم روشنی آنکھوں کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔ بہتر ہے کہ میز پر ایک لیمپ ہو جس کی روشنی صرف کتاب پر پڑتی ہو۔
٭ اہم نکات کو انڈر لائن کرتے جائیں یا خاص خاص باتوں کو نوٹ بک میں درج کرتے جائیں، تاکہ دوبارہ نظر ڈالنے میں تلاش نہ کرنا پڑے۔
٭ مشکل اور سمجھ میں نہ آنے والی چیزوں کو الگ کاغذ پر درج کرلیا جائے اور اگلے روز استاد یا کسی ساتھی سے ان کو سمجھ لیا جائے۔
٭ جب تھکن یا اکتاہٹ کا احساس ہو تو مضمون بدل دیا جائے یا کوئی ہلکی پھلکی قصے کہانی کی کتاب چند منٹ کے لیے اٹھا لی جائے یا چند منٹ باہر جاکر ٹہل لیا جائے مگر یاد رہے وقت کا ضیاع نہ ہو۔
٭ اپنے مطالعہ کی رفتار کو تیز تر کیا جائے اور چیزوں کو رٹنے یا زور زور سے پڑھنے سے ممکن حد تک بچا جائے، بلکہ سمجھنے اور ذہن نشین کرنے کی کوشش کی جائے۔
٭ اگر کئی ساتھی مل کر پڑھ رہے ہوں تو گپ شپ سے ہر صورت میں بچا جائے اور صرف پڑھائی کا کام کیا جائے۔
٭ جن چیزوں کے لیے مشق کی ضرورت ہو ان پر پوری توجہ دی جائے، مثلاً ریاضی کے سوالات کے لیے مشق، الجبرا ، گراف بنانے اور جومیٹری وغیرہ کی اچھی طرح مشق کی جائے۔ اسی طرح تاریخ و جغرافیہ میں نقشہ بنانے اورڈرائنگ تیار کرنے کی بھی اچھی مشق کی جانی چاہیے۔
٭ سائنس کے لیے تجربات کیے جائیں اور انگریزی وغیرہ کے لیے خلاصے، خطوط لکھنے اور مضمون وغیرہ لکھنے کی پہلے سے تیاری کرلی جائے۔
تمام تیاری اور اچھے مطالعہ کے باوجود اچھے نمبرات کا حصول اس بات پر منحصر ہے کہ امتحان میں آپ کیسی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ بات اکثر دیکھنے میں آتی ہے کہ طلبہ ایک دو یا بعض اوقات کئی سوالات کے جوابات وقت ختم ہوجانے کے سبب نہیں لکھ پاتے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ امتحان کے وقت آپ کا اس بات کا بھی امتحان ہوتا ہے کہ طالب علم دئے گئے وقت میں کس طرح اپنے پرچہ کو مکمل کرتا ہے۔ ممتحن یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ ایک طالب علم وقت کے اندر اندر تمام سوالات کے مناسب جوابات دے دے۔ اس لیے جس طرح امتحان سے پہلے مطالعہ کے وقت یکسوئی چاہیے اسی طرح بلکہ اس زیادہ یکسوئی اور ہوشیاری پرچہ حل کرتے وقت ہونی چاہیے اور پوری دانشمندی اور حاضر دماغی کے ساتھ امتحان میں بیٹھنا چاہیے۔ ایک طالب علم سے اس بات کی توقع کی جاتی ہے کہ امتحان کے دن وہ جلدی بیدار ہوکر نہا دھوکر اچھی طرح ریلیکس انداز میں وقت سے چند منٹ پہلے امتحان گاہ پہنچ جائے۔ بوجھل ذہن کے ساتھ امتحان میں اچھی کارکردگی مشکل ہوجاتی ہے۔ یہ انداز بھی غلط ہے کہ گھنٹی بج جانے تک طلبہ کاپی یا کتاب الٹتے پلٹتے رہتے ہیں۔ ذیل میں ہم کچھ باتیں درج کرتے ہیں جن کو امتحان ہال میں بہرحال پیش نظر رکھا جائے اور کسی بھی صورت میں انہیں نظر انداز نہ کیا جائے۔
٭ ضرورت کا جملہ سامان قلم (ایک سے زیادہ) پنسل،اور اس کا کٹر ، اسکیل، وجیومیٹری وغیرہ کا دوسرا سامان لے کر ہی امتحان ہال پہنچا جائے۔
٭ پرچہ ملتے ہی رَبِّ یَسِّرْ وَلَا تُعَسِّرْ وَتَمِّمْ بِالْخَیْرِ کہہ کر پورے پرچہ کو بہ غور پڑھ لیا جائے اور سب سے پہلے وہ سوال حل کیا جائے جس کا سب سے بہتر جواب آپ کو معلوم ہے۔ مگر اس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ اس کے جواب میں اتنا ہی وقت صرف ہو جتنا اس کا حق ہے یعنی نمبر کے مطابق۔
٭ کونسا سوال لازمی حل کرنا ہے اور ممتحن کسے چھوڑنے کا اختیار دیتا ہے اس پر توجہ دی جائے۔
٭ کم از کم ایک انچ کا حاشیہ ضرور دونوں طرف چھوڑا جائے اور اس میں کچھ نہ لکھا جائے۔
٭ جواب دینے میں اس بات کا خیال رکھیں کہ غیر ضروری باتیں نہ لکھیں۔ اسی طرح اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ اہم اور ضروری باتیں لکھنے سے نہ رہ جائیں۔
٭ ہینڈ رائٹنگ کا خاص خیال رکھیں۔
٭ سوالوں کے جوابات اس پر دئے گئے نمبرات کے مطابق لکھیں۔ مثلا دس نمبر کا سوال ہے تو اس کا جواب ایک دو صفحات میں دیا جاسکتا ہے مگر دو نمبر کے سوال کے جواب میں ایک صفحہ لکھنا وقت ضائع کرنا ہے۔ اسی طرح پانچ نمبر کے سوال کے جواب میں دو تین لائن لکھنا آپ کے نمبرات کو کم کردے گا۔
٭ جواب شروع کرنے سے پہلے اس سے متعلق معلومات کو چند لمحے ٹھیر کر ذہن میں یکجا کرلیں اور جچے تلے انداز میں تحریر کریں۔
٭ جوابات لکھتے وقت اپنی گھڑی پر بھی نظر رکھیں اور ہر جواب کے لیے درکار وقت سے زیادہ وقت صرف نہ کریں۔
٭ آسان سے بتدریج مشکل کی طرف بڑھیں مگر کسی سوال کو چھوڑیں نہیں۔
٭ کہیں بھی سرخ روشنائی کا استعمال نہ کریں، یہ رنگ ممتحن کے لیے خاص ہے۔
٭ وقت سے پہلے پرچہ مکمل کرنے کی کوشش کریں تاکہ چند منٹ دوہرانے کے لیے مل جائیں۔
٭ اور جان لیں کہ امتحان صرف آپ کی نصابی صلاحیت کا نہیں ہے بلکہ آپ کی ایمانداری و دیانت داری کا بھی امتحان ہے۔ اس لیے کسی بھی طریقہ کی نقل اور ادھر ادھر تانک جھانک کرکے اپنا وقت اور ایمان برباد نہ کریں اور کاپی حوالی کرنے کے بعد اللہ سے اچھے نتائج کے لیے دعا کریں۔
٭ کسی سوال کا جواب دینے سے پہلے اس سوال کو ایک بار بغور پڑھ لیں۔
٭ اگر کوئی زائد پرچہ یا گراف ، پیپر لیا ہو تو اسے منسلک کرنا نہ بھولیں۔
٭ پرچہ کے اندر اپنا نام یا کوئی نشانی چھوڑنے سے گریز کریں۔
٭ جہاں تک ممکن ہو رف پیپر کا استعما ل کریں۔
٭ جواب کو معقول مثالوں کے ساتھ لکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔
والدین کا رول
زندہ اور بیدار افراد ہمیشہ اپنی نسلوں کے مستقبل کو روشن اور تابناک بنانے کے لیے فکر مندر رہتے ہیں اور اس کے لیے مسلسل کوشاں بھی۔ ایسے وقت میں جبکہ بچوں کے امتحان قریب ہیں والدین کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں جنھیں اگر وہ اچھی طرح ادا کریں تو بچہ امتحان میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتا ہے۔ ان چیزوں میں سب سے اہم بچوں کو پڑھنے کا شوق اور امتحان کے لیے حوصلہ دلانا ہے۔ اسی طرح اس بات پر بھی نظر رکھنا ہے کہ ان کا جگر کا گوشہ کہیں اپنے قیمتی اوقات کو ضائع تو نہیں کررہا ہے۔ اور اگر ایسا نظر آئے تو محبت کے ساتھ اسے پڑھائی کی طرف توجہ دلائی جائے کیونکہ بچہ تو بہرحال بچہ ہے۔ اور پھر — اگر وہ کرسکتے ہیں تو مشکل سوالات کے جوابات حاصل کرنے میں اس کی مدد کریں۔ اس کے پاس بیٹھ کر خود بھی مطالعہ کریں یا کسی اور ایسے کام میں مصروف رہیں جس سے اس کے مطالعہ اور تیاری میں خلل نہ ہو۔
امتحانات کے دوران والدین بچے کی صحت اور اس کی غذا پر خاص توجہ دیں۔ مناسب غذا ایک طرف تو چست درست رکھتی ہے دوسری طرف بیماریوں سے بچاتی ہے۔ امتحانات کے قریب یا دورانِ امتحان اگر خدانخواستہ بچہ بیمار پڑگیا تو سال بھر کی محنت سرمایہ اور بچہ کی زندگی کا ایک قیمتی سال ضائع ہوجائے گا۔ خبردار ان چیزوں کا دھیان رکھئے۔
ملک کی ممتاز یونیورسٹی جامعہ ہمدرد دہلی کے وائس چانسلر سراج حسین صاحب اچانک شعبہ جات کے معائینہ کے لیے نکلے۔ ایک جگہ انھوں نے ایک سکھ خاتون کو اپنی سیٹ پر نہیں پایا معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ چھٹی وغیرہ کی بھی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ اگلے روز وائس چانسلر نے طلب کیا اور غیر حاضر رہنے پر جواب مانگا۔ اس خاتون نے بتایا کہ میرے بچے کا جو پانچویں کلاس میں پڑھتا ہے، ریاضی کا امتحان تھا اور میں رات میں اس وقت تک اس کے ساتھ جاگتی رہی جب تک وہ پڑھتا رہا۔ ’’آخر آپ کر کیا رہی تھیں اس کے ساتھ‘‘ وی سی نے پوچھا۔ اس خاتون نے بتایا کہ اس کے لیے چائے اور کھانے پینے کی ہلکی پھلکی چیزیں تیار کرکے لاتی تھی تاکہ اسے تنہائی کا احساس نہ ہو اور وہ جلد نہ سوجائے۔ اور کبھی کبھی اگر وہ کوئی بات معلوم کرتا تو اسے بتا بھی دیتی تھی۔ وائس چانسلر صاحب اس جواب سے بہت متاثر ہوئے اور کئی جگہ انھوں نے اسے بیان کیا۔
واقعی یہ زندہ قوموں کی علامت ہے اور سنجیدہ والدین کی نشانی بھی۔ ہمیں بھی اس واقعہ سے سبق لینا چاہیے اور اپنے نونہالوں کے مستقبل کو جن سے ملت کا مستقبل بھی جڑا ہے، روشن بنانے کی سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے۔

امتحانات/ٹیسٹ کی تیاری کے لیے مہارتیں

 طلباء کا سب سے بڑا خوف امتحان ہوتا ہے۔ طالبعلم کی زندگی کی یہ حقیقت ہے کہ وہ دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں، خواہ یہ ٹیسٹ ہو، پہیلی ہو، یا امتحان۔ امتحان کے خوف پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ طلباء امتحان سے قبل اپنے آپ کو تیار کر لیں۔ اچھے گریڈ حاصل کرنے کے لیے امتحان سے قبل امتحان کی تیاری لازمی ہے۔آخری وقت میں کی گئی پڑھائی نہ صرف دباؤ میں اضافہ کا باعث بنے گی بلکہ اس سے آپ کے گریڈ مزید نیچے گر جانے کے امکانات ہیں۔

مختلف قسم کے امتحانات کے لیے تیاری کی مختلف حکمتِ عملیاں ہیں۔ درج ذیل میں چند ایسی حکمتِ عملیاں بتائی گئی ہیں جو پورا سال آپ کو ایک مناسب رفتار سے چلتے رہنے میں مدد دیں گی۔

قابلِ حصول اہداف متعین کریں؛

روزانہ کی بنیاد پر پڑھائی کی عادت اپنائیں اوراپنی اسائنمنٹ کو وقت پر مکمل کریں۔ اپنے لیے آسان اہداف کا تعین کریں۔ اپنے سبق کو اسی دن سیکھنے یا مکمل کرنے کی کوشش کریں جس دن یہ پڑھایا گیا ہے۔

ٹائم مینجمنٹ؛

طلبا ء کے لیے سب سے بڑا کام اپنے وقت کا مناسب استعما ل ہے۔ آپ شیڈول بنائیں، اپنے پڑھنے کے اوقات اور دوسرے سرگرمیوں کی تقسیم بنائیں ۔ پڑھنے کے لیے ہمیشہ اچھے وقت کا انتخاب کریں، جب آپ کی توانائیاں عروج پر ہوں اور جب آپ ذیادہ مشقت کر سکیں۔ اس سے آپ کو غیر متوجہ کرنے والی چیزوں کو کم کرنے میں مدد ملے گی اور آپ کو اپنی توجہ مزکور رکھنے میں آسانی ہو گی۔

اپنے پڑھنے کے انداز کو سمجھیں؛

۔ طلباء اس وقت ذیادہ سیکھتے ہیں جب انہیں پتہ ہو کہ وہ کس طریقہ سے ذیادہ معلومات ذہن نشیں کر سکتے ہیں۔ہر طالبعلم کا سیکھنے کا انداز مختلف ہے، کچھ بصری متعلم ہیں، کچھ سمعی متعلم ہیں اور کچھ متحرک متعلم ہیں۔اپنا قدرتی انداز تعلم اپنانے سے آپ کم وقت میں ذیادہ طاقتور نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔

ایک شیڈول ترتیب دیں؛

شیڈول بنانے سے آپ کو اپنی پڑھائی کے اوقات کی تقسیم میں مدد ملے گی؛آپ کو پتہ ہوگا کہ کسی خاص مضمون کی تیاری کے لیے آپ کو کتنے گھنٹے پڑھنا ہے۔ ہر مضمون کے لیے وقت کی ایک حد مقرر کریں تاکہ آپ تمام دن کا کام اور اسائنمنٹ پوری کر سکیں۔

 پڑھائی کو جاری رکھیں؛

کلاس کے ساتھ ساتھ چلیں۔ جب آپ ایک لیکچر لینے جاتے ہیں کو تیار ی کر کے جائیں، بغیر متعلقہ لیکچر کے متعلق پڑھے۔ آپ بہت سی باتوں کو سمجھنے کا موقع کھو دیں گے۔

 عمدہ نوٹس لینے کی مہارت

عمدہ نوٹس لینے کی مہارت پیدا کریں۔جتنا بہتر آپ استاد کو سنیں گے اتنا بہتر آپ نوٹ لے سکیں گے اور یہ چیز آپ کو لیکچر کو یا د رکھنے میں مدد دے گی۔اس کے علاوہ نوٹس لینے سے سال کے آخر میں آپ کو پڑھائی میں مددملے گی۔

 کسی لیکچر کو نہ چھوڑیں؛

روزانہ لیکچر لیں، ہمیشہ مستعد سامع بنیں اور کبھی کوئی کلاس نہ چھوڑیں۔

پڑھائی کا ماحول؛

اچھے دوستوں کی صحبت اپنائیں؛ ان سے تعلیم کے متعلق گفتگو کریں،اپنے ارد گرد معلوماتی چارٹ لگا کر اپنے ماحول کو مفید بنائیں۔

توجہ سے سیکھیں؛

جب آپ توجہ سے سیکھتے ہیں تو آپ چیزوں کو آسانی سے یاد کر لیتے ہیں۔ اس طرح سے آپ کو بار بار انہی چیزوں کو یاد نہیں کرنا پڑتا۔

امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کے کار گر طریقے

 امتحانات کی آمد سے ہی طلبہ ،اساتذہ اور منتظمین مدارس کی پریشانیاں نقطہ عروج کو پہنچ جاتی ہیں۔امتحانات کا سامنا تو طلبہ کرتے ہیں لیکن امتحانات کی وجہ سے پیدا ہونے والے دباؤ کا سامنا طلبہ کے علاوہ، اساتذہ اکرام اور منتظمین مدرسہ کو بھی کرنا پڑتا ہے ۔ طلبہ کے ذہنوں میں اکثر ایک سوال گردش کرتا ہے کہ آخر امتحان کی کیا ضرورت ہے۔ امتحان طلبہ کے علمی صلاحیتوں کی جانچ، علمی پختگی،گہرائی و گیرائی کے علاوہ تعلیم کے مطلوبہ مقاصد کے حصول میں کامیابی کے تناسب کی جانچ کے لئے ضروری ہوتا ہے۔امتحانات علمی بیداری و ،چستی کے ساتھ ساتھ طلبہ میں نظم و ضبط پیدا کرتے ہیں۔امتحان کے ذریعے سماج کے لئے مطلوب افراد کی تیاری کا کام بھی انجام پاتا ہے ۔ خوشگوار زندگی اور تابناک مستقبل کے لئے امتحان کا سامنا ضروری ہوتا ہے۔ زندگی میں کامیابی کے خواہش مندطلبہ امتحان کو ایک بوجھ کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو ،بہتر بنانے اور ثابت کرنے کا ایک وسیلہ سمجھتے ہیں۔ جو طلبہ طالب علمی کے زمانے میں ہر سبق کے بعد امتحان کی تیار ی کو خود پر لازم کر لیتے ہیں وہ زندگی کے ہر امتحان میں کامیابی کا خود کو اہل پاتے ہیں۔ امتحان طلبہ کے لئے ایک مشکل آزمائش ضرور ہے لیکن جب وہ امتحان کا خوش دلی سے سامنا کرتے ہیں تو یہ آزمائش ایک گوناگوں سکون و انبساط میں تبدیل ہوجاتی ہے۔امتحان کی تیاری و تحریر کے مناسب طریقہ کار سے عدم آگہی کے سبب طلبہ امتحان کا خوف،اضطراب ، بے چینی،عدم اعتماد اور احساس کمتری جیسے متعدد مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں جس کا نتیجہ ناکامی و رسوائی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔سال بھر سخت محنت و تیاری کے باوجود طلبہ امتحان کی آمد سے خوف و پریشانی کا شکار ہوجاتے ہیں۔دسویں جماعت کے بورڈ امتحانات ہر طالب علم کی زندگی میں نہایت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔کم عمری و نا تجربہ کار ی کی بناء پر بورڈ امتحان طلبہ کے لئے ایک تلخ اور اذیت ناک تجربہ ہوتا ہے۔طلبہ مثبت سوچ اورسخت محنت کے ذریعہ امتحانی خوف پر نہ صرف قابو پانے میں کامیابی حا صل کر سکتے ہیں بلکہ نمایا ں کامیابی کو بھی یقینی بنا سکتے ہیں۔طلبہ کی ذہنی سطح چاہے کتنی ہی بلند کیوں نہ ہو وہ امتحانات کے خوف کا شکار ہوسکتے ہیں۔امتحانات کے خوف سے نجات کے لئے طلبہ ماہرین تعلیم کے مشوروں اور تجاویز پر عمل کر یں۔امتحان کی شب جلد سونا طبی اور نفسیاتی نکتہ نظر سے بہت اہمیت کا حامل ہے ۔مکمل نیند لینے سے آپ امتحان کی صبح اپنے آپ کو تر و تازہ چاق و چوبند پائیں گے برخلاف اس کے اگر رات دیر تک مطالعہ یا کسی اور وجہ سے بیدار رہیں گے تو اگلی صبح آپ خو د کو تھکا ہوا اور تناؤ کا شکار محسوس کریں گے۔ تناؤ اور تھکاوٹ کی وجہ سے امتحا نی مظاہرے پر خراب اثرات مرتب ہوتے ہیں۔امتحان کے دباؤ کی وجہ سے اکثر طلبہ غذا سے لاپروائی برتے ہیں جس کی وجہ سے کمزوری پیدا ہوجاتی ہے جس سے کارگردگی متاثر ہونے کے امکانات روشن ہوجاتے ہیں۔ہلکی پھلکی غذا کارکردگی میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔بسیار خوری(زیادہ کھانے سے)سے پرہیز کریں جس سے غنودگی پیدا ہوتی ہے اور ہاضمہ کے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔امتحان سے قبلمذکورہ امور پر توجہ دینا بہت ضروری ہوتا ہے۔ذیل میں امتحان لکھنے کے چند کارگر طریقوں کو پیش کیا جارہا ہے جو طلبہ کی کامیابی میں کلیدی کردار کے حامل ہیں۔

(1)امتحان کے لئے درکار اشیاء کا انتظام؛۔امتحان سے ایک یوم قبل امتحان کے لئے درکار ضروری اشیاء و سامان کو تیار کرلیں۔امتحان گاہ کو لے جانے والی اشیاء کی ایک فہرست مرتب کر لیں مثلا ہال ٹکٹ،پین،پنسل ،امتحانی پیڈ ،ربڑ،پٹری،جیو میٹری بکس وغیرہ امتحان گاہ روانہ ہونے سے قبل اپنے ساتھ رکھ لیں۔وقت سے پہلے کم از کم آدھا گھنٹہ قبل امتحان گاہ پہنچ جائیں۔امتحان گاہ میں فراہم کردہ اپنی نشست و کمرہ کی صحیح جانچ کر لیں تاکہ امکانی افراتفری سے خود کو محفوظ رکھا جا سکے۔کسی بھی قسم کی افرا تفری امتحان سے قبل ذہنی سکون کو درہم برہم کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔
(2)تنظیم اوقات؛۔امتحان کے دوران وقت کے بہتر استعمال کے لئے اپنے ہاتھ پر گھڑی باندھیں ۔وقت کے زیاں سے بچیں اورقت کی تنظیم کو ملحوظ رکھیں۔سوال کے لئے مختص نشانات کے حساب سے جواب پر وقت صرف کریں۔طویل جوابات اور مختصر جوابات کو تحریر کرنے سے پہلے ان پر کتنا وقت صرف کرنا ضروری ہے طئے کرلیں ۔
(3) امتحانی پرچے میں دی گئی ہدایات کا غور سے مطالعہ کریں اور ہدایات کے مطابق عمل درآمد کریں۔سوالات کے پرچے کو اچھی طرح سے پڑھیں تاکہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ آپ سے کیا پوچھا جارہاہے۔سوال کے عین مطابق اپنے جواب کو تحریر کریں غیر متعلق تفصیلات بیان کرنے سے مکمل احتراز کریں۔
(4)بہترین سے بہتر کی سمت پیش قدمی؛۔ جوابی بیاض میں پہلے تحریر کیئے جانے والے سوال کا جواب ممتحن(Examiner) پر آپ کی قابلیت اور ذہانت کی چھاپ ڈالتا ہے۔آپ کے پہلے جواب کا تاثر ممتحن کی توجہ آپ کی جانبمبذول کرنے میں کار گر ثابت ہوتا ہے۔آپ کے جواب کی گہرائی و گیرائی کے باعث ممتحن آپ کی مضمون پر گرفت کا اندازہ قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اگر آپ اپنے پہلے ہی جواب کے ذریعہ ایک بہتر تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو بعد کے دیگر سوالات کے جوابات تحریر کرنے میں آپ سے سرزد ہونے والی معمولی غلطیوں کو وہ نظر انداز کر سکتا ہے۔اسی لئے ضروری ہے کہ آپ اپنے پہلے جواب کو تحریر کرنے میں گوناگوں توجہ سے کام لیں اور دھیان رہے کہ معمولی سی معمولی غلطی آپ سے سرزد نہ ہونے پائے۔کانٹ چھانٹ اور کتر بیونت سے آپ ممتحن کو غلط تا ثر دیں گے۔سوالات کے جوابات تحریر کرتے وقت سلسلہ وار جوابات تحریر کرنے کو ترجیح دیں۔لیکن سلسلہ وار جوابات کوتحریر کرنا ضروری نہیں ہے۔جن سوالات کے جوابات آپ بہتر جانتے ہیں پہلے شروعات ان سوالات سے ہی کریں ۔ایسے سوالات کے جوابات کوپہلے تحریر کرنے سے اجتناب کریں جن کے متعلق آپ کا اعتماد متزلزل ہے۔پہلے آسان سوالات کی طرف توجہ کریں پھر مشکل سوالات کو حل کریں۔ایک بھی سوال کو ہر گز نہ چھوڑیں۔
(5)ممتحن(Examiner) کی توجہ کو مہمیز کریں؛۔ممتحن ہی وہ واحد شخص ہوتا ہے جس کو علم ہوتا ہے کہ آپ نفس مضمون کو بہتر جانتے ہیں کہ نہیں۔اگر آپ ممتحن کو اپنے پہلے جواب کے ذریعہ ہی قائل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ آپ نفس مضمون سے کما حقہ واقف ہیں تب یقیناًوہ آپ سے بعد میں سرزد ہونے والی دیگر جوابات کی معمولی غلطیوں کو نظر انداز کر دے گا۔امتحانات میں اعلی پوزیشن حا صل کرنے والے طلبہ اکثر پہلے ان سوالات کے جوابات تحریر کرتے ہیں جن پر ان کی بہترین دسترس ہوتی ہے۔اگر ممتحن صرف سرسری جائزہ لینے کا عادی ہوتو آپ کے بعد والے جوابات پر بھی وہ سرسری نظر ہی ڈالے گا۔اگر آپ اپنے جوابات کی تنقیح و جانچ سے ممتحن کو باز رکھنا چاہتے ہیں تب ضروری ہے کہ پہلے آپ وہ جوابات تحریر کریں جن پر آپ کو مکمل عبور ہو بعد ازاں ان جوابات کی جانب توجہ دیں جن پر پہلے تحریر کردہ جواب سے کم عبور ہو اور اسی طرح جوابات کی تحریر کو ممکن بنائیں۔اردو،انگریزی،ہندی،تلگو،ریاضی،سائنس،اور سماجی علم تمام مضامین میں یہ طریقہ کار سود مند ثابت ہوتا ہے۔
(6)پرچے کو عمدہ طریقہ سے پیش کریں؛۔ممتحن آپ کے کسی اہم اصطلاح کو خط کشیدہ نہ کرنے پر یا عدم خوش خطی کی بنا ء پر آپ کو نشانات سے محروم نہیں کر سکتا ہے۔لیکن آپ کے اہم اصطلاحوں کو خط کشیدہ کرنے اورجوابات کوبہتر اور خوش خط تحریر کرنے سے ممتحن کو نشانات دینے میں سہولت و آسانی ہوتی ہے۔ بعض طلبہ غیر ضروری طور پر اپنے پرچے کو رنگین قلموں سے سجانے سنوارنے میں اپنا وقت ضائع کر تے ہیں جس کی قطعی ضرور ت نہیں ہوتی ہے۔ تحریرکردہ جواب کے نفس مضمون سے بخوبی واقف ہونے کا ممتحن کو تاثر دینے میں اگر آپ کامیاب ہوجاتے ہیں تب آپ نشانات کو حاصل کرنے میں بھی یقیناًکامیا ب ہوجائیں گے۔ہر جواب کے بعد چند سطر لکھنے کی جگہ چھوڑدیں خاص طور پر تفصیل طلب جوابات کے لئے چند سطر لکھنے کی جگہ چھوڑنا سود مند ہوتا ہے۔اس طریقے سے نہ صرف آپ کی پیش کش واضح نظر آئے گی بلکہ بعد میں اگر آپ اپنے جواب میں مزید اضافے کے متمنی ہیں تو آپ کو جگہ کی قلت کا اندیشہ نہیں ر ہے گا۔دو سطروں (لائینوں) کے درمیان مزید ایک سطر لکھنے کی گنجائش ہمیشہ رکھیں۔اس طریقہ کار کے ذریعہ جوابی بیاض کی دوبارہ جانچ کے وقت آپ جواب میں ضرورت کے مطابق تبدیلیا ں لاسکتے ہیں بھولے یا چھٹے ہوئے الفاظ و جملے بھی تحریر کر سکتے ہیں اور اس عمل سے جوابی بیاض کی خو ب صورتی پر کوئی اثر بھی نہیں پڑے گا اور وہ پہلے ہی کی طرح صاف اور اچھی نظر آ ئے گی۔
(7)نفس مضمون پر خصوصی توجہ دیں؛۔ریاضی ، سائنس اور سماجی علم کے پرچوں میں جوابات کو مناسب اکائیوں میں تقسیم کرتے ہوئے نکات کی شکل میں جواب تحریر کریں۔منظم سلسلہ وار درجہ بہ درجہ ہر سوال کے حل کو تحریر کریں۔جہاں بھی ضابطوں کے استعمال کی ضرورت درپیش ہو استعمال سے گریز نہ کریں۔گراف کو اتارتے وقت پیمائش کا خاص خیال رکھیں ۔آخر میں جواب کو نمایاں کرنے سے نہ چوکیں۔توضیح و تشریح کے لئے متوازن مساوات تحریر کرنا ضروری ہوتا ہے۔رے (Ray)اور سرکٹ(Circuit) کے خاکوں میں تیروں کا صحیح استعمال کریں۔سوالات جیسے وجوہات بیان کر و،مختصر جوابات ،نمایاں خصوصیات اور استعمالات میں جوابی نکات مختص کردہ نشانات کے مطابق ہی تحریر کریں زیادہ نکات تحریر کرتے ہوئے وقت ضائع نہ کر یں۔
(8)جامع و مفصل جوابات تحریر کریں؛۔موضوعاتی (نفسیSubjective) پرجہ میں ممتحن کو بہت زیادہ متن کا مطالعہ کرنا پڑتا ہے ۔بہت سارے جوابی بیاضات جو کہ طویل متن پر مشتمل ہوتے ہیں ممتحن کے لئے تکلیف کا باعث ہوتے ہیں۔جہاں کہیں بھی ممکن ہو اپنے جوابات کو اہم نکات کے ذریعہ درجہ بہ درجہ سلسلہ وار پیش کریں۔ہمیشہ موزوں توضیح و تشریح مختصر پیراگراف کی شکل میں انجام دیں۔بالکل ہی اختصار سے کام نہ لیں اور نہ ہی حد سے زیادہ طوالت کو اختیار کریں۔ممتحن کے فرائض انجام دینے والے اکثر اساتذہ کا کہنا ہے کہ اس طر ح کی ایک غلطی کی وجہ سے طلبہ کو پرچے میں (4-5)نشانا ت سے محروم ہونا پڑتا ہے۔آپ خود کو ایسی غلطی سے محفوظ رکھیں۔
(8)سیدھا سادھا صاف خاکہ اناریں؛۔ امتحان میں خا کہ اتارنے کا مقصد ممتحن پر خاکے کے مختلف اعضاء کے محل وقوع اور ان کے ناموں سے آپ کی واقفیت کو واضح کر نا ہوتا ہے ۔اکثر طلبہ اپنے خاکوں کو پیچیدہ طریقے سے اتارنے کی وجہ سے نشانات سے محروم ہوجاتے ہیں۔انتہائی تفصیل کے ساتھ آرٹس کی طر ح اتارے گئے خاکے سے آپ کا سیدھا سادھا صاف ایک منٹ میں اتا را گیاخا کہ بہتر ہوتا ہے۔اعضاء کی نامزدگی کو جلی حروف میں انجام دینے کے ساتھ خا کے کا عنوان تحریر کرنے سے نہ چوکیں۔
(10)پرچہ کی دوبارہ جانچ کرلیں؛۔ممتحن آپ کے سو(۱۰۰)فیصدی پر چے کو لفظ بہ لفظ نہیں پڑھتے ہیں وہ کلیدی الفاظ کو تلاش کر تے ہیں۔ اکثر اوقات امتحانی دباؤ کی بناء پر دوران امتحان ہم چند کلیدی الفاظ کو جانتے ہوئے بھی نہیں لکھتے ہیں ۔آپ ایسے اغلاط کو صرف اپنے پرچے کی دوبارہ جانچ کے ذریعہ ہی درست کر سکتے ہیں۔
(11)اضافی سوالات کے جوابات بھی تحریر کریں؛۔ہر سال طلبہ امتحان ہال سے مقررہ وقت سے پہلے نکل جاتے ہیں جبکہ امتحان ہال سے وقت سے پہلے نکلنے پر کو ئی نشانات نہیں دیئے جاتے ہیں۔وقت سے پہلے امتحان ہال سے نکلنے سے بہتر ہے کہ اضافی سوالات کے جوابات تحریر کیئے جائیں۔اگر آپ کے کسی جواب میں کوئی نقص یا کوتا ہی واقع ہوگئی ہے تو آپ اس کا ازالہ اضافی سوال کے جواب تحریر کرتے ہوئے انجام دے سکتے ہیں۔ہر سال اعلیٰ نشانات حاصل کرنے والے طلبہ کی جانب سے اضافی سوالات کے جوابات تحریر کرنے کی حکمت عملی نہایت ہی سود مند ثابت ہوئی ہے۔لیکن یہ کام آپ کو تبھی انجام دینا چاہئے جب آپ اپنے جوابی بیاض کی مکمل طریقے سے دوبارہ جانچ کرچکے ہوں۔
(12)جوابی بیاض کی حوالگی؛۔اپنے جوابی بیاضات کو ٹھیک طریقے سے ترتیب وار باندھنے کے بعد پرچے کی دوبارہ جانچ کرتے ہوئے جوابات کے درمیان لکیر کھینچتے ہوئے اہم جملوں کو خط کشیدہ کرتے ہوئے آپ اپنے پرچے کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔اس طر ح کے اختتامی اضافے آپ کو تبھی انجام دینے چاہئے جب آ پ نے اپنے پرچے کی مکمل ددوبارہ جانچ کر لی ہو اور اس طرح کے کام کے لئے آپ کے پاس فاضل وقت بچا ہوا ہو۔اس طریقہ کار سے آپ اپنے پرچے کو بہتر اور قابل توجہ بنا سکتے ہیں۔مذکورہ بالا امور پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ہر طالب علم وہ کامیاب حا صل کرسکتا ہے جس کی اس نے تمنا کی ہویا جس کا وہ مستحق ہے۔
اگر امتحان میں کم نشانات حا صل ہوں تو مایوس نہ ہو ں اور اپنے کسی بھی استاد سے بدگمان نہ ہوں۔اچھی پوزیشن حاصل کرنے والے ساتھیوں سے حسد کے بجائے اپنی خامیوں اور کوتاہیوں پر غور کریں اور اللہ سے دست بدعا ہوجائیں۔ خدانخوستہ نا کامی کا سامنا کرنا پڑے تو بھی مایوس ہونے کی قطعی ضردرت نہیں ہے۔اللہ جسے چاہتا ہے کامیاب و کامران کرتا ہے صرف تیاری اور اسباب پر نظر رکھنے سے کامیابی ہاتھ نہیں آتی ہے بلکہ کامیابی کے لئے پڑھائی کے ساتھ ساتھ اللہ سے گڑگڑا کر دعا مانگنا بھی ضروری ہے۔اللہ کے فیصلے پر راضی ہوجائیے اور عزم مصمم،بلند ہمتی او ر بلند حوصلگی سے مستقل محنت جاری رکھیئے۔

سالانہ منصوبہ بندی کیسے کریں؟



 

درس گاہوں میں کردار سازی کے محرکات