اردوکا پروفیسر اور بلبل

 اردو کےایک پروفیسر سے میں نے  پوچھا: سر!  بلبل مذکر ہے یا مؤنث؟

 پروفیسر : (مسکرا کر)  ” میاں! بلبل مذکر ہے۔"

اس واقعے کے کچھ روز بعد ایک شام میرے دروازے پر دستک ہوئی ۔دیکھا کہ پروفیسر صاحب کھڑے ہیں. 

میں :  پروفیسر صاحب خیریت تو ہے اس وقت آپ میرے غریب خانے پر ؟ 

پروفیسر صاحب :  ” میاں! آج مرزا غالب کا ایک مصرع نظر سے گزرا

بلبلیں سن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیں۔

 اصلاح فرما لیں کہ غالب کے اس مصرع کی رو سے بلبل مؤنث ہے. جبکہ میں نے آپ سے کہا تھا کہ بلبل مذکر ہے۔ 

 سٹپٹاکر میں نے کہا پروفیسر صاحب ! شکریہ ۔

 چند روز  بعد ، پرفیسر پھر گھر آ پہنچے ، فرمانے لگے ، “میاں ، غالب کے مصرع کی رو سے تو بلبل مؤنث تھی، لیکن اقبال نے لکھا ہے کہ

" ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا

بلبل تھا کوئی اداس بیٹھا"

 اگر اقبال کی بات مانیں تو  بلبل  مذکر ہے۔ 

ایک ہفتہ بعد رات کے تقریبا دو بجے پروفیسر صاحب گدھے پر ڈھیر ساری کتابیں لادے ہوئے پھر سے آگئے۔

میں: خیریت تو ہے پروفیسر صاحب ! 

پروفیسر صاحب : (فاتحانہ انداز میں  مسکراتے ہوئے ) " میاں ! بلبل کے مذکر یا مونث ہونے کے بارے میں نے ان تمام کتب سے  استفادہ کیاہے۔  گدھے کے دائیں طرف رکھی ہوئی کتب کے مطابق  بلبل مذکر ہے جبکہ بائیں جانب والی کتابوں کی رو سے بلبل مؤنث ہے۔ تشفی نہ ہو تو ناچیز کو یاد فرمالیجیے گا۔

 تب میری سمجھ میں آیا کہ اردو کے اساتذہ کی لوگ قدر کیوں نہیں کرتے۔

گول کیپر

 1937 میں انگلینڈ میں چیلسی اور چارلٹن کے مابین فٹ بال کا لیگ میچ کھیلا گیا اور میچ کو 60 ویں منٹ میں شدید دُھند کی وجہ سے روک لیا گیا،

لیکن چارلٹن ٹیم کے گول کیپر سیمے بارٹرم کھیل کو روکنے کے 15 منٹ بعد بھی گول کے سامنے موجود رہے کیونکہ اُس نے اپنے گول پوسٹ کے پیچھے ہُجوم ‏کی وجہ سے ریفری کی سیٹی نہیں سنی تھی، وہ اپنے بازوؤں کو پھیلائے ہوئے اور اپنی توجہ مرکوز کر کے گول پوسٹ پر کھڑا رہا، غور سے آگے دیکھتا رہا اور پندرہ منٹ بعد جب سٹیڈیم کا سیکورٹی عملہ اُس کے پاس پہنچا اور اُسے اطلاع دی کہ میچ منسوخ کردیا گیا ہے تو  سیمے بارٹرم نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا،

‏”کتنے افسوس کی بات ہے کہ جِن کے دفاع کے لیئے میں کھڑا ہوا تھا وہ مُجھے ہی بُھول گئے 😰“

‏زندگی کے میدان میں کتنے ہی ایسے ساتھی موجود ہوتے ہیں جن کے مفادات کے دفاع کیلیئے ہم نے اپنا وقت، صلاحیت اور توانائی صرف کی ہوتی ہیں لیکن حالات کی دُھند میں وہ ہمیں بھول جاتے ہیں،

‏رشتے دار، دوست اور ساتھی چاہے کھیل کے میدان کے ہوں یا زندگی کے حالات و واقعات کے سرد اور گرم میں ایک اعلٰی ظرف انسان کی طرح ہمیشہ اُنہیں یاد رکھ کر ساتھ لے کر چلنا چاہیئے

پرسنل ہائی جین

ہر انسان چاہتا ہے وہ دوسروں کو اچھا لگے خوبصورت نظر آئے اور دوسرے اس کی جانب متوجہ ہوں۔۔ اس کے قریب بیٹھنا پسند کریں۔۔ لیکن ہماری اکثریت کو پرسنل ہائی جین کے بارے میں بالکل بھی علم نہیں ہوتا۔ 

انسانی جسم کے مختلف حصوں سے موسم کے لحاظ سے مختلف قسم کی رطوبتیں خارج ہوتی رہتی ہیں۔ ان کی ایک خاص سمیل ہوتی ہے۔ اگر اپنی صفائی ستھرائی کا خیال نہ رکھا جائے تو ان رطوبتوں کی وجہ سے بہت ناخوشگوار بو جسم سے آنے لگتی ہے جس کی وجہ سے قریب بیٹھنے والے ناگواری محسوس کرنے لگ جاتے ہیں۔ 

کئی لوگ تو مروت کے مارے اس بو کو برداشت کر لیتے ہیں۔۔کئی کسی بہانے محفل سے اٹھ جاتے ہیں۔ جس بندے سے بو آ رہی ہوتی ہے اسے اس کا احساس نہیں ہوتا کیونکہ ناک کے سونگھنے والے سینسرز اس کے عادی ہو کر اسے فراموش کر چکے ہوتے ہیں۔ کوئی بہت بے تکلف دوست ہو تو شاید ہمت کرکے اس بندے کو اس جانب توجہ دلا دے ورنہ ناراضگی کے ڈر سے کوئی اس پر بات نہیں کرتا۔ 

ہم نے آج کے بعد اپنا جائزہ خود لینا ہے کہ مجھ سے تو کوئی ایسی بو تو نہیں آ رہی جو دوسروں کو ناگوار گزرتی ہو۔۔ یہ بو دانت برش نہ کرنے کی وجہ سے منہ اور سانس سے بھی آتی ہے۔۔ معدے کی کسی خرابی کی وجہ سے بھی پیدا ہوتی ہے۔ 

اگر آپ روز نہیں نہاتے تو بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ گرمی کے موسم میں پسینہ بہت آتا ہے اگر کپڑوں کی صفائی کا خیال نہ رکھا جائے اور ایک ہی سوٹ کئی دن پہنا جائے تو پسینے کی بو کپڑوں میں رچ بس جاتی ہے جو بہت بری محسوس ہوتی ہے۔ 

کئی لوگ دن میں پہنا ہوا سوٹ اسی طرح پہنے ہوئے سو جاتے ہیں اور اگلے روز بھی وہی سوٹ چلا دیتے ہیں۔ مناسب ہو گا اگر کوئی پرانا سوٹ یا شرٹ ٹراوزر نائٹ ڈریس کے طور پر استعمال کر لیں۔۔ اس طرح دن والا سوٹ دو تین روز تک چل جاتا ہے اور زیادہ سمیل بھی پیدا نہیں ہوتی۔ 

کئی لوگوں کی بغل سے شدید تیز قسم کی سمیل پیدا ہوتی ہے۔ ظاہر ہے یہ اپنے بس کی بات نہیں ہوتی لیکن اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہنا تو بس میں ہوتا ہے۔۔ 

روزانہ نہانے کی عادت ڈالیں اس سے طبعیت میں چستی پیدا ہوتی ہے۔ بغل میں کوئی اچھا سا پاوڈر۔ سپرے یا کوئی اور اس قسم کی چیز استعمال کریں۔ کبھی کبھار خود اپنی بغل سونگھ کر چیک کر لیا کریں کہ کوئی بری سمیل تو نہیں آ رہی۔ 

کسی سے ملنے جانا ہو تو اچھا پرفیوم لگا کر جائیں۔ کئی لوگ بہت تیز سمیل والا عطر یا پرفیوم لگاتے ہیں کہ اس کی سمیل سے ہی قریب والے پریشان ہو جاتے ہیں۔ 

اچھی سمیل والے پرفیوم کی سلیکشن بھی ایک آرٹ ہے جو ہر کسی کو نہیں آتا۔ سستے اور تیز سمیل والے پرفیوم استعمال کرنے سے گریز کریں۔ 

میں زیادہ تر یہ پرفیوم استعمال کرتا ہوں اور ان کی سمیل درمیانی اور بہت اچھی لگتی ہے۔ 

Jaguar for Men

Jaguar Classic 

Curve

Polo 


جیگوار دو سے تین ہزار کی رینج میں اچھی سمیل والے پرفیومز ہیں۔ 

کرو (curve) کی خوشبو بہت عمدہ ہے۔۔ پولو مہنگا ہے لیکن سمیل بہت زبردست ہے۔

اس کے علاوہ مختلف باڈی سپرے بھی استعمال کرتا ہوں جو خوشبو کے لحاظ سے تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ 

عطر میں مجھے اجمل کا مسک سلک بہت پسند ہے۔۔ یہ تقریباً 2500 سے 3000 روپے کی رینج میں فی تولہ مل جاتا ہے۔ 

تیز سمیل مجھ سے برداشت نہیں ہوتی۔۔ اس لئے ان سے گریز ہی کرتا ہوں۔ کوئی دوست تیز پرفیوم لگا کر ملنے آ جائے تو میرا جیسے دم گھٹنے لگتا ہے۔ 

اسی طرح کئی لوگوں کے پاؤں میں بھی بدبودار پسینہ آتا ہے اور اگر وہ بند جوتا جرابوں کے ساتھ پہنتے ہوں تو جوتا اتارنے پر ماحول انتہائی ناخوشگوار ہو جاتا ہے۔ 

ایسے لوگ جن کی جرابوں سے سمیل آتی ہو۔۔اول تو بند جوتا نہ پہنا کریں۔۔ اگر پہننا لازمی ہو تو پاؤں پر استعمال کرنے والی خوشبودار چیزیں بھی مارکیٹ سے مل جاتی ہے وہ لازمی استعمال کریں۔۔ اس کے ساتھ ساتھ جرابیں روزانہ دھلی ہوئی پہنیں۔

جو لوگ سموکر ہیں ان کے سانس سے بھی سیگریٹ کے دھوئیں کی ناخوشگوار بو آتی ہے۔۔ یہاں تک کہ ان کے کپڑے بھی اسی بو سے اٹے پڑے ہوتے ہیں۔ سموکنگ کرنا نہ تو صحت کے لئے اچھا ہے نہ ہی سوشل لائف میں اس سے کوئی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔۔ بلکہ الٹا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ سگریٹ نہیں پیتے وہ آپ سے دور ہو کر بیٹھتے ہیں۔ بہتر تو ہے کہ اس فضول اور صحت برباد کرنے والی عادت سے چھٹکارا حاصل کر لیا جائے۔۔ ورنہ کم از کم سموکنگ کے بعد منہ کی صفائی کا خاص خیال رکھا جائے۔ 

روز مرہ زندگی میں یہ چند معاملات جو ہمارے اپنے ہی اختیار میں ہوتے ہیں ان پر توجہ دے کر ہم اپنے دوست احباب کو اذیت سے محفوظ بھی رکھ سکتے ہیں اور اس سے اپنی قدرومنزلت بھی بڑھا سکتے ہیں۔


تحریر بشارت حمید

ہم مادڑن لوگ

 ہم لوگ ماڈرن کہلائے جانے کے چکر میں بہت قیمتی چیزیں چھوڑ بیٹھے ہیں۔ ہم نے آسانیاں ڈھونڈیں اور اپنے لیے مشکلیں کھڑی کر دیں۔

آج ہم دھوتی پہن کے باہر نہیں نکل سکتے لیکن صدیوں کی آزمائش کے بعد یہ واحد لباس تھا جو ہمارے موسم کا تھا۔ ہم نے خود اپنے اوپر جینز مسلط کی اور اس کو پہننے کے لیے کمروں میں اے سی لگوائے۔ شالیں ہم نے فینسی ڈریس شو کے لیے رکھ دیں اور کندھے جکڑنے والے کوٹ جیکٹ اپنا لیے۔ ہمیں داڑھی مونچھ اور لمبے بال کٹ جانے میں امپاورمنٹ ملی اور فیشن بدلا تو یہ سب رکھ کے بھی ہم امپاورڈ تھے!

ہم نے حقہ چھوڑ کے سگریٹ اٹھایا اور ولایت سے وہی چیز جب شیشے کی شکل میں آئی تو ہزار روپے فی چلم دے کر اسے پینا شروع کر دیا۔ ہے کوئی ہم جیسا خوش نصیب؟

ہم نے لسی چھوڑی، کولا بوتلیں تھام لیں، ہم نے ستو ترک کیا اور سلش کے جام انڈیلے، ہم نے املی آلو بخارے کو اَن ہائی جینک بنا دیا اور وہی چیز ایسنس کے ساتھ جوس کے مہر بند ڈبے خرید کے بچوں کو پلائی، وہ پیک جس کے آر پار نہیں دیکھا جا سکتا کہ گتے کا ہوتا ہے۔ ہم نے ہی اس اندھے پن پہ اعتبار کیا اور آنکھوں دیکھے کو غیر صحت بخش بنا دیا۔

ہم نے دودھ سے نکلا دیسی گھی چھوڑا اور بیجوں سے نکلے تیل کو خوش ہو کے پیا، ہم نے چٹا سفید مکھن چھوڑا اور زرد ممی ڈیڈی مارجرین کو چاٹنا شروع کر دیا، اس کے نقصان سٹیبلش ہو گئے تو پھر ڈگمگاتے ڈولتے پھرتے ہیں۔ گوالے کا پانی ہمیں برداشت نہیں لیکن یوریا سے بنا دودھ ہم گڑک جاتے ہیں، الحمدللہ!

اصلی دودھ سے ہمیں چائے میں بو آتی ہے اور ٹی واٹنر ہم نوش جان کرتے ہیں جس پہ خود لکھا ہے کہ وہ دودھ نہیں۔ گھر کے نیچے بھینس باندھ کر ہم نے سوکھا دودھ باہر ملک سے خریدنے کا سودا کیا اور کیا ہی خوب کیا!

ہم تو وہ ہیں جو آم کے موسم میں بھی اس کا جوس شیشے کی بوتلوں میں پیتے ہیں۔

ہم گڑ کو پینڈو کہتے تھے، سفید چینی ہمیں پیاری لگتی تھی، براؤن شوگر نے ہوٹلوں میں واپس آ کے ہمیں چماٹ مار دیا۔ اب ہم ادھر ادھر دیکھتے ہوئے گال سہلاتے ہیں لیکن گڑ بھی کھاتے ہیں تو پیلے والا کہ بھورا گڑ تو ابھی بھی ہمیں رنگ کی وجہ سے پسند نہیں۔

آئیں، ہم سے ملیں، ہم ایمرجنسی میں پیاسے مر جاتے ہیں، گھروں کی ٹونٹی کا پانی نہیں پی سکتے، نہ ابال کر نہ نتھار کے، ہم پانی بھی خرید کے پیتے ہیں۔ ہم ستلجوں، راویوں، چنابوں اور سندھوں کے زمین زاد، ہم ولایتی کمپنیوں کو پیسے دے کے پانی خریدتے ہیں۔

ہم تو پودینے کی چٹنی تک ڈبوں میں بند خریدتے ہیں۔ چھٹانک دہی اور مفت والے پودینے کی چٹنی ہم ڈیڑھ سو روپے دے کے اس ذائقے میں کھاتے ہیں جو ہمارے دادوں کو ملتی تو انہوں نے دسترخوان سے اٹھ جانا تھا۔

سوہانجنا ہمیں کڑوا لگتا تھا، جب سے وہ مورنگا بن کر کیپسولوں میں آیا ہے تو ہم دو ہزار میں پندرہ دن کی خوراک خریدتے ہیں۔ وہی سوکھے پسے ہوئے پتے جب حکیم پچاس روپے کے دیتا تھا تو ہمیں یقین نہیں تھا آتا۔

پانچ سو روپے کا شربت کھانسی کے لیے خریدیں گے لیکن پانچ روپے کی ملٹھی کا ٹکڑا دانتوں میں نہیں دبانا، ’عجیب سا ٹیسٹ آتا ہے۔‘

ہم پولیسٹر کے تکیوں پہ سوتے ہیں، نائلون ملا لباس پہنتے ہیں، سردی گرمی بند جوتا چڑھاتے ہیں، کپڑوں کے نیچے کچھ مزید کپڑے پہنتے ہیں اور زندگی کی سڑک پہ دوڑ پڑتے ہیں، رات ہوتی ہے تو اینٹی الرجی بہرحال ہمیں کھانی پڑتی ہے۔

ہم اپنی مادری زبان ماں باپ کے لہجے میں نہیں بول سکتے۔ ہم زبان کے لیے نعرے لگاتے ہیں لیکن گھروں میں بچوں سے اردو میں بات کرتے ہیں۔ ہم اردو یا انگریزی کے رعب میں آ کے اپنی جڑیں خود کاٹتے ہیں اور بعد میں وجہ ڈھونڈتے ہیں کہ ہم ’مس فٹ‘ کیوں ہیں۔

عربی فارسی کو ہم نے مدرسے والوں کی زبان قرار دیا اور ہاتھ جھاڑ کے سکون سے بیٹھ گئے۔ ’فورٹی رولز آف لَو‘ انگریزی میں آئی تو چومتے نہیں تھکتے۔ الف لیلیٰ، کلیلہ و دمنہ اور اپنے دیسی قصے کہانیوں کو ہم نے لات مار دی، جرمن سے گورے کے پاس آئی تو ہمیں یاد آ گیا کہ استاد مال تو اپنا تھا۔

جا کے دیکھیں تو سہی، عربی فارسی کی پرانی ہوں یا نئی، صرف وہ کتابیں ہمارے پاس اب باقی ہیں جو مدرسوں کے نصاب میں شامل ہیں۔ باقی ایک خزانہ ہے جسے ہم طلاق دیے بیٹھے ہیں۔ پاؤلو کوہلو اسی کا ٹنکچر بنا کے دے گا تو بگ واؤ کرتے ہوئے آنکھوں سے لگا لیں گے۔ متنبی کون تھا، آملی کیا کر گئے، شمس تبریز کا دیوان کیا کہتا ہے، اغانی میں کیا قصے ہیں، ہماری جانے بلا!

ہماری گلیوں میں اب کوئی چارپائی بُننے والا نہیں آتا، ہمیں نیم اور بکائن میں تمیز نہیں رہ گئی، ہمارے سورج سخت ہوگئے اور ہمارے سائے ہم سے بھاگ چکے، ہمارے چاند روشنیاں نگل گئیں اور مٹی کی خوشبو کو ہم نے عطر کی شکل میں خریدنا پسند کیا۔

وہ بابا جو نیم کی چھاؤں میں چارپائی لگائے ٹیوب ویل کے ساتھ دھوتی پہنے لیٹا ہوتا ہے، وہ حقے کا کش لگاتا ہے، ہمیں دیکھتا ہے اور ہنس کے آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ اسے کب کی سمجھ آ گئی ہے، ہمیں نئیں آتی۔

منقول 

وائلن

 واشنگٹن کے میٹرو اسٹیشن پر وائلن بجاتے ایک شخص کی تصویر..!

اسے ایک سوشل تجربے کے لیے سی سی ٹی وی سے دیکھا جا رہا تھا۔ یہ شخص راہگیروں کے لیے تقریباً 45 منٹ تک مشہور میوزک بجاتا رہا۔ اس دوران میٹرو پر سوار ہونے کے لیے کم و بیش ایک ہزار سے زائد لوگ گزرے،

45 منٹ کے دوران صرف سات ‏راہگیروں نے کھڑے ہو کر چند لمحے کےلیے سنا اور پھر آگے بڑھ گئے ۔ کچھ نے اسے پیسے بھی دیے۔

آخر میں، اس نے 45 منٹ کے اندر ($32) جمع کر لیے!!

دلچسپ بات  یہ تھی کہ..

وائلن بجانے والا شخص "جوشوا بیل" تھا جو کہ دنیا کے عظیم ترین موسیقاروں میں سے ایک ہے.. وہ جو وائلن بجاتا رہا ‏اس کی قیمت 3.5 ملین ڈالر تھی...

اس واقعے سے چند روز پہلے جوشوا نے بوسٹن میں شو کیا تھا ، جس کے تمام ٹکٹ فروخت ہو گئے تھے ، سب سے  کم قیمت ٹکٹ سو ڈالرز کا تھا۔

بہت سے ایوارڈز جیتنے والے موسیقار نے نامناسب جگہ اپنا ٹیلنٹ پیش کیا اور لوگوں نے اس ٹیلنٹ کو نہیں ‏سمجھا اور نہ اہمیت دی جو انہیں مفت میں مل رہا تھا۔

 "خود کو ٹیلنٹ کے مطابق صحیح جگہ پر رکھیں ، ورنہ آپ کا ٹیلنٹ اور تخلیقی صلاحیتیں ضائع ہو جائیں گی

کلاسیکی پنجابی شاعر میاں محمد بخش کا ایک شعر اسی حوالے سے پیش خدمت ہے 

 

خاصاں دی گل عاماں اگے نئیں مناسب کرنی

مٹھی کھیر پکا محمدا  کتیاں اگے دھرنی


‏تربیت کا تعلق

 سنیما کی تاریخ کا سب سے بڑا مزاحیہ اداکار چارلی چیپلن اپنا ایک واقعہ بیان کرتا ہے:

بچپن میں ایک بار میں اپنے والد کے ساتھ سرکس کا شو دیکھنے گیا، ہم لوگ سرکس کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔ ہم سے آگے ایک فیملی تھی، جس میں چھ بچے اور ان‏ کے والدین تھے، یہ لوگ دیکھنے میں خستہ حال تھے، ان کے بدن پر پرانے، مگر صاف ستھرے کپڑے تھے، بچے بہت خوش تھے اور سرکس کے بارے میں باتیں کر رہے تھے، جب ان کا نمبر آیا، تو ان کا باپ ٹکٹ کاؤنٹر کی طرف بڑھا اور ٹکٹ کے دام پوچھے، جب ٹکٹ بیچنے والے نے اسے ٹکٹ کے دام بتائے، تو وہ ہکلاتے ہوئے‏ پیچھے کو مڑا اور اپنی بیوی کے کان میں کچھ کہا، اس کے چہرے سے اضطراب عیاں تھا۔

تبھی میں نے اپنے والد کو دیکھا کہ انھوں نے اپنی جیب سے بیس ڈالر کا نوٹ نکالا، اسے زمین پر پھینکا، پھر جھک کر اسے اٹھایا اور اس شخص کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا:

جناب! آپ کے پیسے گر گئے ہیں، لے لیں۔

اشک‏ آلود آنکھوں سے اس شخص نے میرے والد کو دیکھا اور کہا:

شکریہ محترم!

جب وہ فیملی اندر داخل ہوگئی، تو میرے والد نے میرا ہاتھ پکڑ کر قطار سے باہر کھینچ لیا اور ہم واپس ہوگئے؛ کیوں کہ میرے والد کے پاس وہی بیس ڈالر تھے، جو انھوں نے اس شخص کو دے دیے تھے

اس دن سے مجھے اپنے والد پر فخر ہے،‏ وہ منظر میری زندگی کا سب سے خوب صورت شو تھا، اس شو سے بھی زیادہ، جو ہم اس دن سرکس میں نہیں دیکھ سکے!

اور تبھی سے میرا یہ ماننا ہے کہ تربیت کا تعلق عملی نمونے سے ہے، محض کتابی نظریات سے نہیں!

نوجوانوں کا کردار

خلیفہ عبدالملک بن مروان بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا- اس کی نظر ایک نوجوان پر پڑی- جس کا چہرہ بہت پُروقار تھا- مگر وہ لباس سے مسکین لگ رہا تھا- خلیفہ عبدالملک نے پوچھا، یہ نوجوان کون ہے۔ تو اسے بتایا گیا کہ اس نوجوان کا نام سالم ہے اور یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیٹا اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا پوتا ہے۔

خلیفہ عبدالملک کو دھچکا لگا۔ اور اُس نے اِس نوجوان کو بلا بھیجا-

خلیفہ عبدالملک نے پوچھا کہ بیٹا میں تمہارے دادا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بڑا مداح ہوں۔ مجھے تمہاری یہ حالت دیکھ کر بڑا دکھ ہوا ہے۔ مجھے خوشی ہو گی اگر میں تمھارے کچھ کام آ سکوں۔ تم اپنی ضرورت بیان کرو۔ جو مانگو گے تمہیں دیا جائے گا-

نوجوان نےجواب دیا، اے امیر المومنین! میں اس وقت اللہ کے گھر بیتُ اللّٰہ میں ہوں اور مجھے شرم آتی ہے کہ اللہ کے گھر میں بیٹھ کر کسی اور سے کچھ مانگوں۔


خلیفہ عبدالملک نے اس کے پُرمتانت چہرے پر نظر دوڑائی اور خاموش ہو گیا۔

خلیفہ نے اپنے غلام سے کہا- کہ یہ نوجوان جیسے ہی عبادت سے فارغ ہو کر بیتُ اللّٰہ سے باہر آئے، اسے میرے پاس لے کر آنا-

سالم بن عبداللہؓ بن عمرؓ جیسے ہی فارغ ہو کر حرمِ کعبہ سے باہر نکلے تو غلام نے اُن سے کہا کہ امیرالمؤمنین نے آپکو یاد کیا ہے۔

سالم بن عبداللہؓ خلیفہ کے پاس پہنچے۔

خلیفہ عبدالملک نےکہا، 

نوجوان! اب تو تم بیتُ اللّٰہ میں نہیں ہو، اب اپنی حاجت بیان کرو۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں تمہاری کچھ مدد کروں۔

سالم بن عبداللہؓ نےکہا، 

اے امیرالمؤمنین! آپ میری کونسی ضرورت پوری کر سکتے ہیں، دنیاوی یا آخرت کی؟

امیرالمؤمنین نےجواب دیا، 

کہ میری دسترس میں تو دنیاوی مال و متاع ہی ہے۔ سالم بن عبداللہؓ نے جواب دیا- امیر المؤمنین! دنیا تو میں نے کبھی اللّٰہ سے بھی نہیں مانگی۔ جواس دنیا کا مالکِ کُل ہے۔ آپ سے کیا مانگوں گا۔ میری ضرورت اور پریشانی تو صرف آخرت کے حوالے سے ہے۔ اگر اس سلسلے میں آپ میری کچھ مدد کر سکتے ہیں تو میں بیان کرتا ہوں۔

خلیفہ حیران و ششدر ہو کر رہ گیا-

اور کہنے لگا- کہ نوجوان یہ تُو نہیں، تیرا خون بول رہا ہے۔

خلیفہ عبدالملک کو حیران اور ششدر چھوڑ کر سالم بن عبداللہؓ علیہ رحمہ وہاں سے نکلے اور حرم سے ملحقہ گلی میں داخل ہوئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے۔