جلدی جاگنے کے سات فوائد


اگر آپ اپنے معمول کے وقت سے صرف ایک گھنٹہ پہلے جاگنے کی عادت ڈال لیں تو صحت، ملازمت اور روزمرہ زندگی میں غیرمعمولی فائدے حاصل کرسکتے ہیں جب کہ اس کے اور بھی بے شمار فوائد ہیں۔
ورزش کے لیے مناسب وقت:-
 صبح سویرے ہلکی ورزش سے پورے دن آپ کا موڈ خوشگوار رہتا ہے، کارکردگی بہتر رہتی ہے، موٹاپا کنٹرول میں رہتا ہے اور مجموعی طور پر صحت بھی اچھی رہتی ہے۔ اگر ممکن ہو تو صبح سویرے ورزش کریں، صبح سویرے اٹھ کر صرف 20 منٹ کے لیے تیزقدموں سے چہل قدمی کریں۔ یہ معمول اختیار کرنے کے بعد آپ اپنی صحت اور کارکردگی میں نمایاں فرق محسوس کریں گے۔
بہتر ناشتہ:۔
 جو لوگ دیر سے اٹھتے ہیں وہ کام پر نکلتے وقت نہ صرف جلدبازی میں ناشتہ کرتے ہیں بلکہ ایسی چیزیں کھاتے ہیں جو فاسٹ فوڈ کی طرح فوری تیار تو ہوجاتی ہیں لیکن صحت کے لیئے مفید نہیں ہوتیں۔ ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ جو لوگ صبح دیر سے اٹھتے ہیں وہ ناشتے میں دوسروں سے تقریباً 250 کیلوریز زیادہ استعمال کرتے ہیں اور وہ بھی ایسی غذاؤں کی صورت میں جو نقصان دہ ہوتی ہیں۔ علاوہ ازیں رات کو دیر تک جاگتے رہنے والوں کا وزن بھی معمول سے زیادہ ہی رہتا ہے۔ ایک گھنٹہ پہلے اٹھنے کی صورت میں آپ کو ناشتے کے لیے زیادہ وقت ملے گا اور ا?پ ضروری غذائی اجزاءسے بھرپور ناشتہ سکون سے بھی کرسکیں گے۔ اس سے آپ کی صحت اچھی ہوگی۔
خوش مزاجی:۔
 دیر سے اٹھ کر افراتفری کے عالم میں کام پر جانے والوں کے مزاج میں بھی چڑچڑا پن آجاتا ہے جو نہ صرف کام کے دوران بلکہ گھر واپس آنے پر بھی برقرار رہتا ہے۔ یعنی اٹھنے میں دیر کرنے سے کاروبار اور ملازمت پر برا اثر پڑنے کے ساتھ ساتھ گھریلو زندگی بھی بہت متاثر ہوتی ہے۔ یہ بات دلچسپی سے پڑھی جائے گی کہ جو لوگ صبح سورج نکلنے سے پہلے بیدار ہوجاتے ہیں، وہ اپنی قدرتی ”جسمانی گھڑی“ (باڈی کلاک) کی سورج سے بہتر ہم آہنگی کے باعث خود کو جسمانی اور ذہنی طور پر زیادہ صحت مند محسوس کرتے ہیں۔ یعنی اگر آپ صبح جلدی بیدار ہونے کی عادت ڈال لیتے ہیں تو یہ آپ کے مزاج کے لیے بھی بہت مفید ہوگی۔ چڑچڑے پن کی جگہ خوش مزاجی آپ کی عادت بن جائے گی جو دفتر، گھر اور حلقہ احباب میں آپ کو مقبول بنانے کا باعث بنے گی۔
اعصابی سکون کا حصول:۔
 نفسیاتی مطالعات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ دیر سے جاگنے والے لوگوں کے دماغ میں ہر وقت الٹے سیدھے قسم کے خیالات گردش کرتے رہتے ہیں جن کی وجہ سے وہ اعصابی تناؤ کا شکار بھی رہتے ہیں۔ اگر یہ کیفیت زیادہ عرصے تک جاری رہے تو دل کے دورے اور کئی دوسرے مسائل کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔ تاہم اپنے سابقہ وقت سے صرف ایک گھنٹہ پہلے اٹھنے کی صورت میں اعصابی تناؤ کی یہ کیفیت بڑی حد تک کم کی جاسکتی ہے اور وہ بھی کسی دوا کے بغیر۔ اگر آپ صبح جلدی اٹھنے کی عادت ڈال لیتے ہیں تو اس سے آپ کے اعصاب بھی پرسکون رہیں گے اور ا?پ ایسے بہت سے خطرات سے محفوظ رہیں گے جو ہیجان زدہ اعصاب کے باعث آپ کو گھیر سکتے ہیں۔
زیادہ خوبصورتی:۔
 دیر سے جاگنے کی صورت میں آپ کو کام پر نکلنے سے پہلے ڈھنگ سے تیار ہونے کا موقعہ بھی نہیں مل پاتا۔ نتیجہ یہ ہے کہ آپ عام طور پر ”سر جھاڑ منہ پھاڑ“ کی تصویر بنے ہوئے کام پر پہنچتے ہیں۔ اس کے برعکس صرف ایک گھنٹہ جلدی جاگنے کی صورت میں آپ کو اپنا حلیہ درست کرنے اور کپڑے استری کرنے کے لیے مناسب وقت مل جاتا ہے۔ 2013 میں کیے گئے سروے سے معلوم ہوا کہ صاف ستھرے کپڑوں اور اچھے حلیے والے 80 فیصد لوگ ملازمت کے انٹرویو میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح دورانِ ملازمت ترقی میں بھی اس چیز کو اہمیت دی جاتی ہے۔
بہتر کارکردگی:۔
 جلدی جاگنے کے بعد جب آپ جلدی دفتر پہنچتے ہیں تو عام طور پر وہاں لوگ کم ہوتے ہیں اور ماحول بھی نسبتاً پرسکون ہوتا ہے۔ کم شور شرابے اور کم تر دخل اندازی والے اس ماحول میں آپ کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے کیونکہ آپ اپنے کام پر زیادہ توجہ دے سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں آپ کے ساتھ کام کرنے والے لوگ بھی آپ کو مصروف دیکھ کر محتاط ہوجاتے ہیں۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جو دیر سے کام پر پہنچتے ہیں انہیں عام طور پر سب سے پہلے باس کی باتیں سننا پڑتی ہیں اور پھر وہ اچھا خاصا وقت اپنے رفقائے کار سے ادھر ادھر کی باتیں کرنے میں ضائع کردیتے ہیں۔ ان تمام باتوں کا نتیجہ خراب کارکردگی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ صبح جلدی اٹھنے کے بعد جلدی کام پر پہنچ کر آپ ان تمام منفی اثرات سے محفوظ رہ سکتے ہیں جو ا?پ کی کارکرگی خراب کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں وقت پر کام مکمل کرنے کے بعد آپ جلدی گھر واپس پہنچ سکتے ہیں اور یوں اپنی گھریلو زندگی کو بھی زیادہ خوشگوار بناسکتے ہیں۔
ہجوم سے چھٹکارا:۔
 یہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ جو لوگ دیر سے کام پر نکلتے ہیں انہیں اکثر راستے میں ٹریفک جام کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ٹریفک کا شور شرابا آپ کو اعصابی تناؤ اور ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا کرسکتا ہے جب کہ گاڑیوں کا دھواں آپ کی صحت خراب کرسکتا ہے۔ اس طرح جب ا?پ دفتر پہنچتے ہیں تو کام شروع کرنے سے پہلے ہی خود کو تھکا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ لیکن اگر آپ گھر سے جلدی نکلتے ہیں تو سڑک پر ٹریفک قدرے کم اور زیادہ رواں ہوتا ہے اور یوں آپ نہ صرف کم وقت میں اپنے کام پر پہنچ جاتے ہیں بلکہ سفر کی تھکن بھی کم ہوتی ہے۔ یعنی جسم اور دماغ دونوں ہی کی صحت پر صبح جلدی اٹھنے کے باعث خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
بشکریہ وٹس ایپ گروپ " آؤ مطالعہ کریں"

بچوں کو روکیں


(۱) سوال کرنے سے :
    دوسروں سے چیزیں مانگنے کی عادت بھی بچوں میں عموماً پائی جاتی ہے۔  اپنی اولاد کو سکھائیں کہ شدید ضرورت کے بغیر کسی سے کوئی چیز نہ مانگیں
حضور ﷺ  نے فرمایا :
''جس بندے نے سوال کا دروازہ کھولا اللہ عزوجل اس پر فقر کا دروازہ کھول دے گا۔''
(جامع الترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء مثل الدنیا مثل اربعۃ نفر،الحدیث ۲۳۳۲، ج۴، ص ۱۴۵)
(۲) اُ لٹا نام لینے سے :
    اصل نام سے ہٹ کر کسی کا اُلٹا نام (مثلاً لمبو، ٹھنگو، کالو وغیرہ) رکھنےسے سامنے والے کو تکلیف پہنچتی ہے اور یہ منع ہے۔
(۳) مذاق اڑانےسے :
     یعنی کسی کوگھٹیا یا حقیر جانتے ہوئے اِس کے کسی قول یا فعل وغیرہ کو بنیاد بنا کر اس کی توہین کی جائے اور یہ حرام ہے۔
(حدیقہ ندیہ،ج۲،ص۲۲۹)
(۴)عیب اُچھا لنے سے :
    کسی کا عیب معلوم ہوجانے پر اسے کسی دوسرے پر ظاہر کرنے کی بجائے خاموشی اختیار کرنی  چاہئے، والدین کو چاہيئے کہ اپنے بچوں کو اس سے بچانے کی بھرپور کوشش کریں ۔
حضور ﷺ نے فرمایا :
''جو اپنے بھائی کی پردہ پوشی کریگا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا پردہ رکھے گا اور جو اپنے بھائی کے راز کھولے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے راز کھول دے گا یہاں تک کہ وہ اپنے گھر ہی میں رسوا ہو جائے گا ۔''
(سنن ابن ماجہ ،کتاب الحدود،الحدیث ۲۵۴۶،ج۳،ص۲۱۹)
 (۵) تکبر سے :
    خود کودوسروں سے افضل سمجھنا تکبرکہلاتا ہے۔
(مفردات امام راغب،ص۶۹۷)
اورتکبرحرام ہے۔
(حدیقہ ندیہ،ج۱،ص۵۴۳،۵۴۴)
   یہ بات اپنی اولاد کے دل میں بٹھا دیجئے کہ سب مسلمان برابر ہیں کسی مسلمان کو دوسرے مسلمان پر پرہیزگاری کے سوا کوئی برتری نہیں ہے اور یہ کہ غریب بچے بھی تمہارے بھائی ہیں اس لئے انہیں حقیر مت جانو۔
(۶) جھوٹ سے :
اپنے بچوں کے ذہن میں بچپن ہی سے جھوٹ کے خلاف نفرت بٹھا دیں تاکہ وہ بڑے ہونے کے بعد بھی سچ بولنے کی عادت اختیار کريں ۔
حضور ﷺ نے فرمایا :
''جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فرشتہ اس کی بد بو سے ایک میل دور ہوجاتا ہے ۔''
(جامع الترمذی،کتاب البر والصلۃ،باب ماجاء فی الصدق والکذب ،الحدیث۱۹۷۹،ج۳،ص۳۹۲)
(۷) غیبت سے :
    غیبت سے مراد یہ ہے کہ اپنے زندہ یا مردہ مسلمان بھائی کی غیرموجودگی میں اس کے چھپے ہوئے عیوب کو اس کی برائی کے طور پر ذکر کیا جائے ، اسے غیبت کہتے ہیں ۔
مثلاً :
'' مجھے بے وقوف بنا رہا تھا '' ،
'' اس کی نیت خراب ہے ''،
'' ڈرامے باز ہے '' وغیرہ ۔     
(ماخوذ از بہارِ شریعت،حصہ ۱۶،ص۶۴۵)
اپنے بچوں کو غیبت کی نحوست سے بچائيے ، یہ بہت خطرناک مرض ہے ۔
(۸) لعنت سے :
    لعنت سے مراد کسی کو اللہ کی رحمت سے دور کہنا ہے ۔ یقین کے ساتھ کسی پر بھی لعنت کرنا جائز نہیں چاہے وہ کافر ہویا مومن ، گنہگار ہویا فرمانبردار کیونکہ کسی کے خاتمہ کا حال کوئی نہیں جانتا۔
(حدیقہ ندیہ ،ج۲،ص۲۳۰)
اپنے بچوں کو اس کے مضر اثرات سے بچائیں ۔
حضرت حضور ﷺ نے فرمایا :
" کسی مومن پر لعنت کرنا اِسے قتل کرنے کے مترادف ہے ۔''
(صحیح البخاری،کتاب الایمان والنذور ،با ب من حلف بملۃ سوی ملۃ الاسلام الحدیث۶۶۵۲،ج۴،ص۲۸۹)
(۹) چوری سے:
    بچپن کی عادت بہت مشکل سے چھوٹتی ہے ۔ اس لئے بچے گھر کی چھوٹی موٹی چیزیں چرا کر کھا جاتے ہیں یا کسی کے گھر سے چرا لاتے ہیں اگر انہیں مناسب تنبیہ نہ کی جائے تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوتے ہیں ۔
حضور ﷺ نے فرمایا :
''چور پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے۔'' 
(صحیح مسلم،کتاب الحدود،باب حد السرقۃونصابھا،الحدیث۱۶۸۷،ص۲۶ ۹)
(۱۰) بغض وکینہ سے :
بچوں کے دل میں کسی کا بغض بیٹھ جانا نا ممکن نہیں ، بچوں کو اس سے متعلق بھی معلومات دیجئے اور بچنے کا ذہن بنائيے۔
(۱۱) حسد سے:
    یہ تمنا کرنا کہ کسی کی نعمت اس سے زائل ہوکر مجھے مل جائے ''حسد'' کہلاتاہے ۔ حسد کرنا بالاتفاق حرام ہے۔
(حدیقہ ندیہ،ج۱،ص۶۰۰)
 اپنے بچوں کوحسد سے بچائيے ۔
حضور ﷺ نے فرمایا :
'' اپنے آپ کو حسد سے بچاؤ کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔''
(سنن ابی داؤد،کتاب الادب ،با ب فی الحسد،الحدیث ۴۹۰۳،ج۴،ص۳۶۰)
لیکن اگر یہ تمنا ہے کہ وہ خوبی مجھے بھی مل جائے اور اسے بھی حاصل رہے رشک کہلاتا ہے اور یہ جائز ہے ۔
(۱۲) بات چیت بند کرنے سے :
    ہمارے معاشرے میں معمولی وجوہات کی بنا پر تعلُقات ترک  کرنے اور بات چیت بند کردینے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کی جاتی ۔
حضور ﷺ نے فرمایا :
''کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ کسی مسلمان کو چھوڑ رکھے ۔ اگر تین دن گزر جائیں تو اسے چاہيے کہ اپنے بھائی سے مل کر سلام کرے، اگر وہ سلام کا جواب دے دے تو (مصالحت کے) ثواب میں دونوں شریک ہیں اور اگر سلام کا جواب نہ دے تو جواب نہ دینے والا گنہگار ہوا اور سلام کرنے والا ترکِ تعلقات کے گناہ سے بری ہوگیا ۔''
( سنن ابی داؤد،کتاب الادب ،باب فیمن یھجر اخاہ المسلم،الحدیث۴۹۱۲،ج۴،ص۳۶۳)
(۱۳) گالی دینے سے :
    کسی کو گالی دیتا دیکھ کر بچے بھی اسی اندازکو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ انہیں اس کی ہلاکتوں سے آگاہ کر کے بچنے کی تاکید کریں ۔
حضور ﷺ نے فرمایا :
''مسلمان کو گالی دینا خود کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے ۔''
(الترغیب والترھیب ، کتاب الادب ،باب الترھیب من السباب ...الخ،الحدیث۴۳۶۳،ج۳،ص۳۷۷)

(۱۴)وعدہ خلافی سے :
حضور ﷺ نے فرمایا:
''جو کسی مسلمان سے وعدہ توڑے ، اس پر اللہ تعالیٰ ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے اور اس کا کوئی فرض قبول نہ ہوگا نہ نفل ۔''
(صحیح البخاری ،کتاب فضائل المدینہ ،باب حرم المدینہ ،الحدیث۱۸۷۰،ج۱،ص۶۱۶)
اپنے بچوں کو وعدہ خلافی سے بچنے کی تربیت دیجئے ۔
بشکریہ وٹس ایپ گروپ "آؤ مطالعہ کریں"

آزادی


تعلیم کا مقصد صرف نوکری کیوں؟


چودہ اگست،تجدید عہد کا دن


دنیا کے ہر ملک کے باسیوں کے لیے ان کا یوم آزادی بہت احترام کا دن ہوتا ہے اور زندہ قومیں اپنے یومِ آزادی کو شایان شان طریقے سے مناتی ہیں۔ پاکستان کا وجود دو قومی نظریے کی بنیاد پر تین چار مخالف قوتوں سے لڑ کر عمل میں آیا تھا اس لیے اس کا یومِ آزادی اپنے اندر کئی اسباق رکھتا ہے۔
آج ہمارے طلبہ وطالبات کو پاکستان کی تاریخ اور تحریک پاکستان سے متعلق اہم واقعات اور ان قربانیوں کا بہت کم علم ہے  کہ جن کی بنا پر ہم نے یہ آزاد خطہ حاصل کیا تھا۔  یہ بات تو دانشوروں کے ہاں طے ہے کہ جو قوم اپنی تاریخ بھول جاتی ہے وہ بہت جلد کہیں دوسری تاریخ میں گم ہو جاتی ہے۔ کسی مفکر کا قول ہے ’’ تاریخ قوم کا حافظہ ہوتی ہے اور جو قوم اپنی تاریخ بھلا دیتی ہے وہ گویا اپنا حافظہ کھو بیٹھتی ہے‘‘۔آج ضرورت ہے کہ تعلیمی اداروں کے سربراہان اپنے یہاں مورخین، علماء ،  ادباء وشعراء کو گاہے بگاہےدعوت دیں کہ  وہ طلبہ وطالبات کے ساتھ تاریخ پاکستان پر مذاکرہ کریں تا کہ تحریک پاکستان کی یادیں تازہ کی جائیں اور مقصدِ وجود کے بھولے ہوئے سبق کو تازہ کیا جا سکے۔
یہ پاکستان یونہی نہیں بن گیا بلکہ اس کی خاطر لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جان، مال اور عزت و ناموس کی قربانی دی ہے۔ یہ آزادی جو ہمیں ہمارے آزاد وطن کی صورت میں ملی ہے اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اور اس کی قدر کرنااور اپنے وطن کے دفاع کے لیے ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہنا ضروری ہے۔ ہمیں  اپنی نوجوان نسل کو  بتانا چاہیے کہ آزادی  کا تذکرہ کرنا کیوں ضروری ہے تا کہ:
1)      ہم اس نعمت پر اللہ کا شکر ادا کریں
2)     پاکستان کی حفاظت کے لیے تیار رہیں
3)     آئندہ نسلوں میں حب الوطنی کا جذبہ منتقل کر سکیں
4)     آزادی کی قدروقیمت جان سکیں
ہمارے تعلیمی ادارے، جو ہماری اقدار اور روایات  اگلی نسل کو منتقل کرنے کے امین ہیں،  کے لیے ضروری ہے کہ وہ یوم آزادی کے حوالے سے خصوصی اقدامات کریں ۔ ان سرگرمیوں کی غرض و غایت محب وطن پاکستانی بنانا ہو۔   یوم آزادی کے موقع پر سکولوں میں درج ذیل اقدامات کیے جا سکتے ہیں:
1)     سکول کو سبز ہلالی پرچم اور جھنڈیوں سے سجایا جائے
2)     تقاریر،  ملی نغموں اور ترانوں کے مقابلہ جات کا انعقاد کروایا جائے
3)     علاقائی لباس پہن کر ملی نغموں پر خاکے پیش کیے جائیں
4)     سکول میں پرچم لہرانے کی تقریب منعقد کی جا سکتی ہے جس میں ایک بڑا پرچم تمام اساتذہ اور بچے مل کر لہرائیں
5)     وطن کی محبت، کسی شہید کی روداد، یا تحریک پاکستان کے حوالے سے بنی کوئی فلم اجتماعی طور پر دیکھی جا سکتی ہے
6)     فوجی پریڈ اگر ممکن ہو تو دیکھنے کا اہتمام کیا جا سکتا ہے
7)     ملکی سرحدات پر ہونے والی تقریبات میں شرکت کی جا سکتی ہے
8)     یومِ آزادی کے حوالے سے  دیگر اداروں میں منعقدہ ہم نصابی سرگرمیوں پر مبنی مقابلہ جات میں شرکت کی جا سکتی ہے
9)     سبز اور سفید لباس پہن کر پاکستانی پرچم سے مناسبت قائم کی جا سکتی ہے
10)بچو ں کو آزادی کی اہمیت بتانے کے لیے سربراہ ادارہ یا کوئی معلم گفتگو کریں
11) بچوں سے عہد لیا جائے کہ پاکستان کی وحدت اور سا لمیت کے تحفظ کی خاطر ہمہ وقت تیار رہیں گے
12) کسی تاریخی مقام کی سیر کا اہتمام کیا جا سکتا ہے
13) ملکی سلامتی و استحکام کے لیے نوافل کا اہتمام کیا جا سکتا ہے
اس طرح کی تقریبات سے بچوں میں جذبۂ حب الوطنی اور ملک کے بارے میں معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔اس دن  ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ پاکستان کو عالمِ اسلام کا فخر اور اس کی قوت و شوکت کا مرکز بنائیں گے۔
از
مالک خان سیال






تعلیم ضروری ہے


جس نے روشن کیا جہاں کو

آپ کو ایک بلب ایجاد کرنے سے پہلے ایک ہزار بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا؟‘‘ ایک رپورٹر نے اس سے سوال کیا۔ یہ سن کر وہ مسکرا دیا۔ پھر اس نے پر اعتماد لہجے میں وہ جواب دیا جو تاریخ نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے سینے میں محفوظ کر لیا۔ اس کا کہنا تھا: ’’مجھے ناکامی کا منہ دیکھنا نہیں پڑا، بلکہ بلب کو آخری اور حتمی شکل ملنے کے لیے ایک ہزار منزلیں درکار تھیں، جو مجھے طے کرنی پڑیں۔‘‘ یہ تھے دنیا کے سب سے بڑے موجد تھامس ایڈیسن، جس نے ایک ہزار سے زیادہ ایجادات کیں۔ یہ بہت بعد کی بات ہے، اصل کہانی کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ آئیے! ملاحظہ کرتے ہیں۔
ایڈیسن نے 11 فروری 1847ء کو میلان نامی قصبے میں آنکھ کھولی، جو امریکا کی ریاست او ہایو میں واقع تھا۔ ایڈیسن 7 بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا، لیکن قدرت نے ذہانت کا وافر حصہ عطا کر رکھا تھا۔ اسے چھوٹی موٹی چیزیں بنانے کا بہت شوق تھا۔ رفتہ رفتہ اپنے گھر میں لیبارٹری بنا لی۔ اس میں مختلف قسم کے کیمیکل رکھے ہوئے تھے۔ ان کی بُو سے تنگ آکر اس کی ماں نے منع کیا تو ان کے کہنے پر اس تجربہ گاہ کو ختم کردیا۔ ایڈیسن نے 12 سال کی عمر میں گرینڈ ٹرنک ریلوے پر candy butucher سے بزنس شروع کیا۔ یہاں پر ٹافیاں، ڈرائی فروٹ اور اخبار وغیرہ بیچا کرتا تھا، لیکن اس دوران وہ اپنی تعلیم سے غافل نہ رہا۔ دکان داری کے ساتھ تعلیمی سلسلہ جاری رکھا۔یہ چھوٹی سی دکان متأثر کن آمدنی دینے لگی اور آہستہ آہستہ ایڈیسن کے پاس رقم جمع ہونے لگی۔ پھر ایک مشین خرید لی جو چھاپنے کے کام آتی تھی۔ تین سال بعد اپنا ہی ’’دی ویکلی ہیرالڈ‘‘ اخبار ریل کے ایک خالی ڈبے میں اجازت لے کر اس مشین سے چھاپنا شروع کر دیا۔ اتنی سی عمر میں اس حیران کن کارنامے نے لوگوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔
                1863ء میں ایڈیسن ٹرمیپ ٹیلی گرافر کے طور پرملازمت کرنے لگا۔ اس دوران اسے انٹاریوسمیت مختلف شہروں میں جانا پڑتا تھا۔ ٹیلی گرافر کے لیے جتنی مہارت کی ضرورت تھی اس سے بڑھ کر اپنی صلاحیتوں کو نکھارا۔ یہاں پر تار برقی کی طرف توجہ کی۔یہ چیزوں کی ہیئت پر دن رات غور کرتا۔ اس نے ایک آلہ ایجاد کیا جس سے کسی رکاوٹ کے بغیر دوسری لائن پر بھی پیغامات بھیجے جا سکتے تھے۔ اس کے بعد اس نے ایک چار رخ کا تار ایجاد کیا اور چلتی ہوئی ٹرینوں کو پیغام پہنچانے کا طریقہ بھی دریافت کر لیا۔اس کے بعد بوسٹن میں کام کرنے لگا۔ یہاں بھی اپنی پیشہ ورانہ مہارت میں ترقی اور بہتری کے زیادہ مواقع پائے۔ ملازمت کے ساتھ ساتھ Michael Farady کی کتابیںبھی پڑھنے لگا، جو الیکٹریسٹی سے متعلق لکھی گئی تھیں۔ ایڈیسن ذہین ہونے کے ساتھ محنتی، کام سے کام رکھنے والا اور تخلیق کار بھی تھا۔ 1868ء میں اس نے ووٹ ریکارڈر بنایا۔ اس کے ذریعے اسمبلیوں اور میٹنگ میں ووٹ کی گنتی کی جاتی تھی۔ ایڈیسن یہ دیکھ کر افسردہ ہوا کہ اس کی مارکیٹ میں کوئی مانگ نہیں ہے۔ اس کے بعد ایک پالیسی بنائی کہ وہ کوئی ایسی چیز نہیں بنائے گا، جس کی مارکیٹ میں کوئی طلب نہیں ہے۔ اس کے لیے ایڈیسن نے یہ طریق کار اختیار کیا کہ وہ بازار جاکر لوگوں کی ضروریات کے بارے میں معلومات لیتا اور عوام سے بھی پوچھتا کہ انہیں کن مشکلات کا سامنا ہے اور کون سی چیز ان کے حل کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ اس طرح یہ انسانیت اور قوم کی خدمت کے ساتھ اپنے بزنس کو ترقی کی راہ پر جاری رکھ سکتا تھا۔ 
ایڈیسن نے مختلف دفاتر میں دیکھا کہ ملازمین کسی دستاویز کی نقول تیار کرتے ہیں تو انہیں بار بار ہاتھ سے لکھنا پڑتا ہے اور اس کے لیے کئی ملازمین رکھنے پڑتے ہیں۔ یہ کسی کمپنی کے لیے اخراجات کا باعث بھی بنتے ہیں۔ ان کا وقت بھی زیادہ صرف ہوتا ہے۔ جب بھی یہ دیکھتا تو سوچتا کہ اس کے لیے وہ کیا کر سکتا ہے۔ وہ کوئی ایسی چیز تیار کرے جو اس جھنجٹ سے چھٹکارا دلائے۔آخرکار ایڈیسن اپنے مشن میں کامیاب ہو گیا۔ جب انسان کسی کام کے لیے فکرمند ہوتا ہے اور اس کے حصول کے لیے تگ و دو بھی کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کے لیے راہیں ہموار کرتے چلے جاتے ہیں۔ ایڈیسن نے اس کے لیے الیکٹرک پین اور پریس 1873 ء میں متعارف کروایا۔ اس سے بہ یک وقت ایک ڈاکومنٹ کی 5 ہزار کاپیاں تیار کی جاسکتی تھیں۔اس عظیم کارنامے نے ایڈیسن کو خوب شہرت بخشی۔ 
1876ء میں ایڈیسن نے Menlo Park، نیو جرسی میں ایک لیبارٹری کھولی۔ یہاں پر یہ مختلف تجربے کرتا، نت نئی چیزیں بناتا اور ناممکن کو ممکن بنانے کی کوشش کرتا۔ الیکٹرک ڈیوائس بنانے میں مشغول رہتا، بلاضرورت باہر نہ جاتا۔ اس دوران اس کی محنت کا شاہکار الیکٹر لیمپ ایجاد کرنا تھا، جسے آج بلب سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس کی دن رات کی محنت نے پوری دنیا کے لیے روشنی کا سامان کردیا۔ ایڈیسن موجد ہونے کے ساتھ بزنس مین بھی تھا۔ جہاں یہ مختلف چیزیں بنانے میں مصروف رہتا،وہاں ساتھ ساتھ اپنے بزنس کو بھی متوازی لے کر چلتا رہا۔اس نے بہت سارے چھوٹے بزنس شروع کررکھے تھے۔ 1890ء میں ان سب کو ایک چھت کے نیچے اکٹھا کیا جسے ’’جنرل الیکٹرک کمپنی‘‘ کا نام دیا گیا۔ 
ایڈیسن کا لگایا ہوا پودا آج ایک تنا ور درخت بن چکا ہے۔ اس کا سایہ دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے۔ ہر ایک اس کے پھل سے مستفید ہو رہا ہے۔ ’’GE کمپنی‘‘ مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی آج امریکا کی ایک بڑی کمپنی ہے۔یہ دنیا بھر کی سب سے بڑی ڈائنامک کارپوریشن ہے۔ اس کے ملازمین کی تعداد 3 لاکھ 5ہزار ہے۔اس کمپنی کے تحت 9 مختلف ڈپارٹمنٹ متنوع پروڈکٹس بنا رہے ہیں۔
از
انعام اللہ بھکروی