لالہ ٔخونیں کفن ، فلسطین اُردو شاعری میں

 غزہ پر اسرائیل کی جارحیت تمام حدود پار کرچکی ہے۔ عرب حکومتوں کی نادانی اور مسلمانوں کے ضعف ِایمانی کی وجہ سے مسجدِ اقصیٰ کی بازیابی کا کام آج تک نہیں ہوسکا ہے۔ ایمان اگر طاقت ور ہو اور غیرت موجود ہو تو مقاومت اور معرکہ آرائی کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک قوم منزل مقصود تک نہیں پہنچ جاتی اور فتح مکمل نہیں ہوجاتی ہے۔ اسرائیل کی جنگی جرائم کی داستان خون چکاں ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ فلسطینیوں کے حوصلے پست کردیئے جائیں اور تمام عرب ممالک کیا مصر وشام، اور کیا پٹرول سے مالامال عرب ملک سب کے سب بیکسی ،بے بسی اور شکست خوردگی کی تصویر بنے ہوئے ہیں اور کچھ اس کے سواء نہیں کرسکتے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ یا اقوام متحدہ سے امن کے نام پر اپیل کریں۔ فلسطین کی بازیابی کی واحد راہ یہ ہے کہ ہم اقوام متحدہ سلامتی کونسل، وائٹ ہاؤز پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیں اور صرف اللہ پر بھروسہ کریں، ذوقِ یقین، شوق شہادت، باہمی اعتماد و اتحاد ہی وہ چیزیں ہیں جو کامیابی و فتح مندی کی کلید ہیں۔ ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ فلسطین کے لئے صلاح الدین ایوبی ؒ جیسی کوئی شخصیت پیدا کردے جسے فلسطین پر غیروں کے قبضہ کا ایسا غم تھا ،جیسے کسی کا اکلوتا بیٹا مرگیا ہو۔ عرب حکومتیں عیش و عشرت میں گرفتار اور ناگفتہ بہ حالات کا شکار ہیں۔ فلسطین کا زخم دل کا داغ اور سینہ کا چراغ بن چکا ہے۔ شعراء جن کی طبیعتیں حالات سے جلد متاثر ہوتی ہیں، انہوں نے فلسطین کے قبضہ پر بہت سی نظمیں کہی ہیں۔ ہم یہاں چند نظموں کے اقتباسات پیش کریں گے جس سے اندازہ ہوگا کہ فلسطین کے قضیہ نے اُردو شاعری پر کیا اثر ڈالا ہے۔

علامہ اقبالؔ نے فلسطین کے عربوں سے مخاطب ہوکر ایک نظم کہی تھی:

زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ
مَیں جانتا ہوں وہ آتش تیرے وجود میں ہے
تیری دوا نہ جنیوا میں ہے ، نہ لندن میں
فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے
’’
خودی کی پرورش اور لذت نمود‘‘ یہ ہے اقبالؔ کے نزدیک مسئلہ فلسطین کا حل۔ فلسطین کا مسئلہ جنیوا میں حل ہوسکتا ہے اور نہ لندن میں اور نہ تل ابیب میں۔اقبالؔ نے ایک سے زیادہ مقامات پر مسئلہ فلسطین کا تذکرہ کیا ہے اور اس بات کا اظہار کیا ہے کہ انگریزوں کا اصل مقصد اسرائیل کی ریاست قائم کرکے عرب ملکوں کو مطیع اور زیر فرمان بنانا ہے، ورنہ اس دلیل میں کوئی وزن نہیں کہ ہزاروں سال پہلے یہاں یہودی رہا کرتے تھے ۔چنانچہ علامہ اقبال کہتے ہیں:
ہے خاکِ فلسطین پر یہودی کا اگر حق
ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اَہلِ عرب کا
مقصد ہے ملوکیتِ افرنگ کا کچھ اور
قصہ نہیں تاریخ کایا شہد ورطب کا
اسی طرح نظم ’’تاک میں بیٹھے ہیں مدت سے یہودی سود خوار‘‘ میں جو تیشے کے زیر ِاثر لکھی گئی ہے، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یورپ کے سرمایہ دارانہ نظام میں یہودی مہاجن بہت زیادہ طاقتور ہیں اور اس معاشی قوت کی وجہ سے سیاسی معاملات کی باگ ڈور بھی اُن کے ہاتھ میں آگئی ہے۔ مسئلۂ فلسطین پر علامہ اقبالؔ نے جو بیان دیا تھا، وہ اقبال ؔنامہ میں موجود ہے، اس میں وہ لکھتے ہیں:

’’فلسطین میں یہود کیلئے ایک قومی وطن کا قیام تو محض ایک حیلہ ہے، حقیقت یہ کہ برطانوی اِمپیریلزم مسلمانوں کے مقامات ِمقدس میں مستقل انتداب اور سیادت کی شکل میں ایک مقام کی متلاشی ہے‘‘۔
اقبالؔ نے مسلمانوں کو بار بار قوت کے حصول کی نصیحت کی ہے۔ اقبالؔ کے نزدیک کامیابی کسی کا پیدائشی حق نہیں ہے، کامیابی حاصل ہوتی ہے، خودی کو طاقتور بنانے سے ، یقینِ محکم سے ،علوم کی تحصیل سے، علم اشیاء کی جہانگیری سے ،اور دنیوی قوتوں کی تسخیر سے۔
زندگی جہد اَست و اِستحقاق نیست
جز بہ علمِ انفس و آفاق نیست
اقبالؔ نے اہل فلسطین کو خطاب کرتے ہوئے ’’خودی کی پرورش ‘‘ اور لذتِ نمود کو اُمتوں کی ترقی اور آزادی و غلامی سے نجات کا ذریعہ قرار دیا:
سنا ہے مَیں نے غلامی سے اُمتوں کی نجات
خودی کی پرورش و لذت نمود میں ہے
آخر یہ لذت نمود کیا چیز ہے؟ مٹی کی تاریکیوں سے تخم باہر نکل کر بتدریج ایک تناور درخت بنتا ہے۔ یہی لذت نمود ہے، نازک کلی چٹکتی ہے اور رنگین و شگفتہ پھول کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ یہی لذت نمود ہے۔ ایک طفل شیرخوار جو سہارے ،مدد اور دیکھ بھال کا محتاج ہوتا ہے، ایک دن تندرست و توانا اور مرد قوی بن جاتا ہے۔ یہی لذت نمود ہے۔ ’’خودی کی پرورش‘‘ دراصل اپنی پوشیدہ اور خوابیدہ صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے، اُن کو درجۂ کمال تک پہنچانے اور فطرت کے منشاء کے مطابق ان سے کام لینے کا نام ہے۔ خاک کا ایک ذرۂ بے مقدار قدموں کے نیچے پامال ہوتا ہے، لیکن اگر اس کا جگر چیر کر اس کے جوہر خفتہ کو بیدار اور برسرکار کردیا جائے تو اس سے طاقت کا وہ خزانہ دریافت ہوتا ہے جو زلزلہ افگن ہوتا ہے اور چٹانوں کو چور کردیتا ہے۔ اقبالؔ نے غلامی سے نجات کا اور شوکت و عزت کی بازیابی کا یہی راستہ بتایا ہے۔

اب ہم یہاں فلسطین کے حوالے سے اُردو کے کئی ایک دوسرے شعراء کے کلام کے اقتباسات پیش کریں گے۔ فلسطین کے جہاد اور جنگ آزادی پر فیض احمد فیضؔ اس طرح سخن سرا ہوئے تھے:
ہم دیکھیں گے ، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے ، جو لوحِ ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہِ گراں، روئی کی طرح اُڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے ،جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہل حکم کے سَر اوپر جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جب ارض خدا کے کعبہ سے سب بت اُٹھوائے جائیں گے
ہم اہل صفا مزدور حرم مسند پر بٹھائے جائیں گے
سب تاج اُچھالے جائیں گے سب تخت گرائے جائیں گے
ایک اور شاعر محمد ایوب بسمل کی فلسطین پر ایک طویل نظم ہے، جس کا پہلا بند یہ ہے:
کفر ہے برسرپیکار یہاں برسوں سے
گرم ہے ظلم کا بازار یہاں برسوں سے
امن ہے نقش بہ دیوار یہاں برسوں سے
حق عدالت میں سرِدار یہاں برسوں سے
دے گئی تحفۂ نایاب تجھے جنگ عظیم
کرگئی ارض مقدس کو بالآخر تقسیم
’’
اگلے کرسمس میں‘‘ کے عنوان سے ف س اعجاز نے جو آزاد نظم کہی ہے، اس کا پہلا جز اس طرح ہے:
اس برس فلسطین کی سرزمین کے حق میں
سوگ میں شہیدوں کے
پیڑ سب کرسمس کے
سر سے پاؤں تک ننگے
چپکے چپکے روتے ہیں
معروف و مشہور شاعر رفعت سروش کی نظم ’’اے ارضِ فلسطین‘‘ کا آخری بند اس طرح ہے:
مظلوم بھی جاگ اٹھے ہیں یلغار کریں گے
دست حق و انصاف کے باطل سے لڑیں گے
کہہ دو یہ ممولوں سے کہ اب آتے ہیں شاہین
اے ارض فلسطین! اے ارض فلسطین!
عائشہ مسرور نے ’’نئی لوری‘‘ کے عنوان سے فلسطین کے پس منظر میں یہ غم ناک نظم کہی ہے۔ خیمہ کے اندر ایک ماں اپنے بچے کو لوری سنا رہی ہے۔

اے میرے نورعین! جاگ
اے میرے دل کے چین! جاگ
تیرا شفیق باپ تو جنگ میں کام آگیا
تشنہ دہن کے ہاتھ میں موت کا جام آگیا
دشت و دمن لہو لہو
سارا وطن لہو لہو
صحن چمن لہو لہو
قوم بچھڑ کے رہ گئی
ساکھ بگڑ کے رہ گئی
مانگ اُجڑ کے رہ گئی
فلسطین کے موضوع پر کوثر صدیقی نے نظم کہی ہے، نظم کے آخر میں اپنے شعری قلم سے یوں غم فشاں ہیں:
لا اِلہ کی تیغ سے ہی ہوسکا
مرد مومن اندلس میں کامراں
لا اِلہ کا تیشہ بھر کر آبدار
لا اِلہ سے توڑ ہر بُت کا گماں
لا اِلہ کی لے کے مشعل ساتھ چل
لوٹ لے ظلمت نہ رخت ِ کارواں
لا اِلہ کو چھوڑ کر ہے ناتواں
لا اِلہ کی ساتھ رکھ تیغ و سناں
لا اِلہ کی برق شعلہ بار سے
ختم اِسرائیل کا کر آشیاں
معروف ادیب اور شاعر اور کئی کتابوں کے مصنف نعیم صدیقی نے ’’یروشلم‘‘ کے عنوان سے بہت طویل نظم کہی ہے جس کے دو تین شعر حسب ذیل ہیں:

یروشلم یروشلم تو ایک حریم محترم
تیرے ہی سنگ در پر آج منہ کے بل گرے ہیں ہم
تجھے دیا ہے ہاتھ سے بزخم دل بچشم نم
یروشلم یروشلم یروشلم یروشلم
اہل شعر و ادب قیصر الجعفری کے نام سے واقف ہیں، ان کی نظم ’’حریف ِجاں سے کہو‘‘ کے چند اشعار بطورِ نمونہ پیشِ خدمت ہیں:
زمین بوجھ اُٹھائے گی اور کتنے دن
تمام شہر ستم گروں کی زد پر ہے
ہزار بار چلاؤ ہزار بار مجھے
تمہاری شمع اَزل سے ہوا کی زد پر ہے
تمام تیر مشیت کی چٹکیوں میں ہیں
کہیں بھی جائے پرندہ قضا کی زد پر ہے
لہولہان شجر چیختے ہیں صدیوں سے
تمہاری تیشہ زنی بددُعا کی زد پر ہے
سمٹنے والا ہے یہ کاروبارِ تیرہ شبی
تمہاری رات چراغ حرا کی زد پر ہے
کھلیں گے مسجد اقصیٰ کے بند دروازے
تمہاری ساری خدائی ، خدا کی زد پر ہے

 

مالی مدد کے اصلی مستحق کون ہیں ؟

ہمارے ہاں ایسے افراد جنہیں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق دی ہوتی ہے وہ مستحق افراد کو تلاش کرتے ہیں کہ ان کی مالی مدد کی جا سکے۔ لیکن اکثر اوقات ہم صحیح حقدار کی تلاش نہیں کر پاتے۔ یہ تحریر اسی پسِ منظر میں لکھ رہا ہوں۔ 

آپ نے دیکھا ہو گا کہ کئی دکانوں پر ادھیڑ عمر لوگ کہیں سیلز مین  ہیں یا کسی نجی ادارے میں بہت کم تنخواہ یعنی دس سے پندرہ ہزار ماہانہ پر ملازمت کرتے ہیں اس عمر کے شخص کے عام طور پر تین چار بچے بچیاں کسی نہ کسی سکول و کالج میں زیر تعلیم ہوتے ہیں، وسائل کم ہیں،خرچ بہت زیادہ ہیں، اوپر سے سفید پوشی کا بھرم بھی قائم رکھنا ہے ۔ ایسے ہی کئی لوگ کہیں نہ کہیں ٹھیلا لگائے کھڑے ہوتے ہیں تمام اخراجات نکال کر بمشکل تین چار سو روپے بچت روزانہ کی نکال پاتے ہیں ۔

 نوجوان بچیاں تعلیمی اداروں یا دیگر پرائیوٹ اداروں میں بہت کم تنخواہ پر ملازمت کرتی ہیں، اگر ان کے وسائل مناسب ہوں تو وہ ایسی جاب کبھی نہ کریں۔

بظاہر اچھے کپڑے پہنے ، چہرے سے خوش دکھائی دینے والے، ہنسی مذاق کرتے یہ لوگ ہماری مالی مدد کے اصلی مستحق ہیں۔ کوویڈ 19 کے لاک ڈاؤن نے  ان پر ملازمت کے دروازے بند کر دیئے ہیں ۔ کئی لوگ بیروزگار ہو چکے ہیں۔ 

ایسے لوگ آپ کے محلے ، ٹاؤن ، گاؤں میں بھی ہوں گے۔ اپنے ہمسایوں اور قرابت داروں کو دیکھیے۔ کوئی بیوہ بچوں کا پیٹ پالنے کی تگ و دو کر رہی ہو گی، کالج یا یونیورسٹی میں زیر تعلیم کوئی بچہ یا بچی ٹیوشن پڑھا کر اپنے اخراجات پورے کرنے کی کوشش کر رہا ہو گا، کوئی غریب کسان بجلی کے بل ادا کرنے کے لیے گھر میں رکھی گندم فروخت کرنے پر مجبور ہوگا، کہیں کوئی مزدور مزدوری نہ ملنے پر اپنے بیوی بچوں سے آنکھ نہ ملا پا رہا ہوگا


۔ ہمیں چاہئے کہ ہم انہیں کسی نہ کسی طریقے سے رقم دے دیں  ۔ کسی مزدور کو اس کی طے شدہ رقم سے زائد دے دیں۔

 یقین رکھئے کہ کسی مستحق کی یہ  مالی مدد ان  سفید پوش گھرانوں کی آزمائشوں میں کمی لا سکتی ہے، ان کے بچے نئے لباس پہن سکتے ہیں ۔ بچوں کے لئے نئے کھلونے خریدنا ممکن ہو سکتے ہیں ۔یونیورسٹی میں جانے والے اعتماد سے جا سکتے ہیں ۔ 

آپ نے بازاروں میں چھوٹے چھوٹے بچوں بچیوں کو دیکھا ہو گا جن کے لباس بہت گندے اور میلے ہوتے ہیں سرکے بال الجھے ہوئے ہوتے ہیں پاوں میں چپل تک نہیں ہوتے ۔یہ کہیں فٹ پاتھ پر سوئے ہوئے بھی دکھائی دے جاتے ہیں فیس بک پر ان کی تصویریں اکثر پوسٹ کی جاتی ہیں ۔ یہ بچے خانہ بدوشوں کے بچے ہوتے ہیں جن کو پکھی واس یا چنگڑ بھی کہتے ہیں یہ خاندان کی صورت میں اکثر سفر میں رہتے ہیں زمین پر سوتے ہیں ان کی عورتیں اور بچے بھیک مانگتے ہیں یہ جان بوجھ کر گندے رہتے ہیں کئی کئی روز تک نہ نہاتے ہیں نہ ہاتھ منہ دھوتے ہیں تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ خیرات مل سکے ۔ ان کے مرد جھونپڑیوں میں ایل ای ڈی ٹی وی پر فلمیں دیکھتے رہتے ہیں اور چرس بھرے سگریٹ پیتے ہیں ۔

اگر آپ ان کو ایک لاکھ روپے بھی دے دیں تب بھی یہ لوگ جھونپڑی میں ہی رہیں گے اور ان کے بچے اور عورتیں  اسی طرح بھیک مانگتے رہیں گے ۔  گذشتہ دنوں کراچی کے صاحب نے ان جھونپڑی والوں کو روزگار فراہم کرنے کی کوشش کی مگر اس ایریا کے تمام مرد وں نے ملازمت کرنے سے انکار کر دیا ۔ مطلب یہی تھا کہ جب خیرات کی رقم سے گھر چل رہا ہے تو کیا ضرورت ہے نوکری کرنے کی ۔ 

اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ کس کو اپنی مالی مدد کا اصلی مستحق سمجھتے ہیں ۔

کرونا وائرس اور سماجی دوریاں


سال 2020 کے آغاز میں کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ چین سے آنے والی چند خبریں ایک عالمی وبا میں منتج ہوں گی۔ کرونا وائرس نے جہاں ہمارے معاشی حالات پر بہت منفی اثرات مرتب کیے ہیں، وہاں ہماری معاشرتی زندگی بھی اس کی وجہ سے مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ارسطو نے برسوں پہلے کہا تھا کہ ”انسان ایک سماجی حیوان ہے“ ۔ انسان کو زندگی گزارنے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ سماجی رابطے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پتھر کے زمانے کا انسان بھی گروہ میں رہنے کے ہنر اور اہمیت جان چکا تھا۔ لیکن کرونا وائرس نے ہمیں ایک ایسی زندگی سے متعارف کروایا ہے جس کا شاید کچھ عرصہ پہلے تک ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔

سماجی دوری اور لاک ڈاؤن نے  زندگی کو چار دیواروں میں قید کر دیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق کووڈ 19 کی وجہ سے ذہنی دباو اور اضطراب میں اضافہ ہوا ہے۔ سماجی فاصلوں نے لوگوں کو گھروں میں بند ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ تنہائی، غیر یقینی اور بیماری کے خوف نے لوگوں کو ڈپریشن کا شکار کر دیا ہے۔ معاشی مسائل اور پریشان کن خبروں کی وجہ سے عجیب بے یقینی کی فضا قائم ہو چکی ہے۔ سکول بند ہونے کے باعث بچوں کا زیادہ تر وقت غیر تعمیری سرگرمیوں میں گزر رہا ہے جس کے کافی نقصانات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

اپنی گھریلو طرززندگی میں کچھ تبدیلیاں کر کے ہم خود کو اور اپنے اہل خانہ کو ذہنی مسائل  سے کافی حد تک دور رکھ سکتے ہیں ۔ اس حوالے سے چند گزارشات پیش ہیں:

1)      جسمانی ورزش کو اپنی روٹین کا حصہ بنائیں۔ تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ورزش جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت کے لیے بھی بہت مفید ہے۔ چہل قدمی سے دماغ میں ایسی رطوبتیں خارج ہوتی ہیں جو نفسیاتی مسائل سے بچنے میں مدد کرتی ہیں۔

2)       اپنے ذہن کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھیں۔ نئی ڈشز بنانا سیکھیں، باغبانی کریں۔ کسی بھی مشعغلہ میں خود کو مصروف رکھیں۔

3)      گھر میں میسر وقت کو اپنے اہل و ایال کے ہمراہ خوشگوار لمحات میں تبدیل کریں۔ بچوں کی ان کی پڑھائی میں مدد کریں۔ سب مل کر باورچی خانے میں نئی ڈشر بنائیں۔ یاد رکھیں، آپ کے بچے آپ کی پرچھائی ہیں۔ اگر آ پ خود کو نفسیاتی طور پر صحت مند رکھیں گے تو آپ کے بچے بھی آپ کو نقل کریں گے۔

4)       ہمارے تمام جذبات ہماری شخصیت کا حصہ ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آج کل کے مشکل حالات میں کسی حد تک پریشانی اور اضطراب کا شکار ہونا قدرتی عمل ہے۔ اپنے جذبات کا احترام کریں اور ان کو قبول کریں۔ بعض اوقات ہمارے جذبات ہمارے لیے پریشان کن نہیں ہوتے لیکن ان کی طرف ہمارا ردعمل انہیں باعث پریشانی بنا دیتا ہے۔

5)      تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ جو لوگ دوسروں کی بھلائی کے کاموں میں مصروف رہتے ہیں، وہ بہت کم نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ اپنے اردگرد موجود لوگوں کی مشکلات کو کم کرنے کی کوشش کریں۔ کسی ضعیف یا بیمار ہمسایہ کی راشن یا دوائی لانے میں مدد کر دیں۔ کوئی سفید پوش خاندان اگر آپ کے علاقے میں رہتے ہیں تو متمول خاندانوں کی مدد سے ان کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے، ان کی مدد کا انتظام کر دیں۔ آپ دیکھیں گے کہ جیسے ہی آپ بامقصد کاموں میں اپنے آپ کو مصروف کریں گے، آپ کو ذہنی دباؤ میں خاطر خواہ کمی محسوس ہو گی۔ ہمارے ذہن کی ایک بہت دلچسپ خصوصیت یہ ہے کہ اگر اس کو خالی چھوڑ دیا جائے تو یہ ماضی کے ناخوشگوار واقعات اور مستقبل سے وابستہ وسوسوں میں گھر جاتا ہے۔ ایک صحت مند ذہن کے لیے ضروری ہے کہ اس کو تعمیری سوچ اور مثبت اعمال کے ساتھ مصروف رکھا جائے۔

6)       یاد رکھیں سماجی فاصلے کا مطلب سماجی دوری نہیں ہے۔ کوشش کریں کہ فون اور سماجی رابطے کے دیگر ذرائع سے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے رابطے میں رہیں۔ مثبت تبادلہ خیال جذبات کے اظہار میں مدد دیتا ہے اور ا س طرح ذہنی کشمکش میں کمی واقع ہوتی ہے۔

وبا کے خوف سے بالا تر ہو کر اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھیں۔ ایک خوش حال زندگی گزاریں۔

از

مالک خان سیال


اب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گا


دنیا میں ماں ایک ایسا رشتہ ہے جس کاکوئی نعم البدل نہیں ہے ۔ ماں خدا کی محبت کا دنیا میں ایک روپ ہے ۔ ماں سے زیادہ اولاد سے محبت کرنے والا کوئی اور نہیں ۔ ماں کے قدموں میں جنت رکھی گئی ہے ۔ماں اپنے بچوں کے لیے جیتی ہے اور بچے اس کی سب سے بڑی دولت ہوتے ہیں۔
 ماں شفقت، خلوص، بے لوث محبت اور قربانی کا دوسرا نام ہے۔ ماں دُنیا کا وہ پیارا لفظ ہے جس کو سوچتے ہی ایک محبت، ٹھنڈک، پیار اور سکون کا احساس ہوتا ہے۔5مئی، بائیسویں روزے کو میری پیاری ماں مجھے ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر اس دارِ فانی سے چلی گئیں۔ اس دن کے بعد سے یہ دنیا بے رنگ دکھائی دیتی ہے، سارے رشتے بے مطلب سے لگتے ہیں مگر صد افسوس کہ وہ ہر پل دعائیں دینے والے لب خاموش ہو چکے ہیں۔ ماں کا محبت بھرا سراپا ایک مٹی کی ڈھیری بن چکا ہے جہاں انہیں صدا دیں بھی تو کوئی جواب نہیں ملتا۔ امی جان کی مجھ سے والہانہ محبت بلکہ عشق کو بیان کرنا کما حقہ میرے بس میں نہیں بس چند منتشر اور بے ہنگم الفاظ کو اپنی سوچ اور کم علمی کے مطابق صفحہ قرطاس پر بکھیرنے کی کوشش کررہا ہوں۔

ہم لوگ دیہات میں رہتے ہیں اور سادہ سی زندگی ہے۔ کبھی اچھے کبھی برے دن آتے رہتے تھے مگر امی کے لباس سے سادگی گئی اور نہ رہن سہن میں بناوٹ آئی۔ فضول خرچی نام کی کوئی چیز میں نے اپنے گھر میں کبھی نہ دیکھی۔ امی کو اپنی ساری اولاد میں مجھ سے زیادہ محبت تھی۔بچپن میں میں اپنے ہم عمر کزنوں کے ساتھ مٹی کے کھلونوں سے کھیلتا تھا اور ہروقت میلا کچیلا رہتا تھا۔ تختی لکھتے ہوئے قلم اکثر  سر کے بالوں سے صاف کرتا تھا۔ جمعہ کے دن سکول سے چھٹی ہوتی تھی اور اس دن امی مجھے ایسے نہلاتی تھیں کہ سر سے سیاہی اور جسم سے میل نکل جاتی ، میرے چہرے، ناک اور کان کو ایسے ملتیں کہ اگلے دو گھنٹے درد رہتا تھا۔

اچھے سے اچھے ہوٹلوں میں کھانے کھائے پر امی کے پراٹھے اور سالن کے ذائقے کے قریب سے بھی کوئی نہیں گزرا۔ بچپن میں دہی مجھے بہت پسند تھا، امی رات کو دودھ کو جاگ لگاتے ہوئے دس بارہ بادام بھی اس میں پھینک دیتی تھیں۔ صبح تازہ دہی کا بڑا سا پیالہ اور بادام کی گریاں میرے اٹھنے سے پہلے میرے سرہانے کے نزدیک ہوتی تھیں۔ مجھے نہیں یاد کہ کوئی خواہش میں نے کی اور امی نے پوری نہ کی ہو۔ میری عیبوں کو ہمیشہ میرے رب کی طرح  چھپایا۔  کم آمدنی کے باوجود اچھا پہنایا ، اچھا کھلایا۔  جب جب امی نے مجھے گلے لگایا میں نے زندگی کی ہر پریشانی کو خود سے کوسوں دور پایا۔ ان کے سایہ عاطفت میں سکون  ہی سکون ملا۔ زمانے کی کڑی دھوپ اور غبار سے ان کا وجود میرے لیے ہمیشہ سائبان رہا۔میرا نام ہمیشہ ان کی  نمازوں اور ریاضتوں میں پہلی ترجیح میں رہا۔

اسلام آباد پڑھنے کے لیے گیا تو ایک دو ماہ بعد گھر آنا ہوتا تھا۔ موبائل فون اس وقت کسی کسی کے پاس ہوتا تھا۔ مجھے فون لے کر دیا۔ مجھے کہتی تھیں کہ دوسرے تیسرے دن گاؤں کے  کسی  شخص کے رابطہ نمبر پہ کال کر کے مجھ سے بات کر لیا کرو بیلنس میں بھجوا دیا کروں گی۔ جب چھٹیوں پہ گھر آتا تو میری کسی مہمان کی طرح آؤ بھگت ہوتی،  اچھے اچھےپکوان بنتے۔ جب اسلام آباد جانے لگتا تو سوہن حلوہ، پنجیری، برفی وغیرہ امی خود بناکے دیتیں۔

سال 2016میں مجھے امی کے ساتھ دیارِ عرب حاضری کا شرف ملا۔ ایسے بیس دن نہ زندگی میں پہلے ملے تھے اور نہ بعد میں کبھی نصیب ہوئے۔ مکہ اور مدینہ دونوں شہروں میں بیت اللہ اور مسجد نبوی سے ایک منٹ کی مسافت پہ ہماری رہائش تھی۔ دونوں جگہ کمرے میں دو ہی بیڈ تھے جہاں ہم دونوں ماں بیٹے نے زندگی کے بیس خوبصورت دن گزارے ۔ مکہ مکرمہ میں اکثر امی اور میں رات کو ایک یا دو بجے اٹھ کر خانہ کعبہ کی زیارت کے لیے آجاتے اور نماز فجر تک طواف، نوافل، اللہ کے گھر کی زیارت اور تسبیح میں گزارتے۔ پھر تہجد اور نماز فجر ادا کرکے ہوٹل لوٹتے۔ ہوٹل میں پھل  اور جوس سے ناشتہ کرتے اور ظہر تک آرام کرتے  تھے۔ ظہر کے بعد اکثر زیارات کے لیے نکلتے کبھی عصر اور کبھی مغرب تک لوٹتے۔ مغرب مسجد حرام میں ادا کرتے اور عشا ء تک وہیں رہتے۔عشا ء ادا کر کے ہوٹل لوٹ جاتے۔  مکہ میں قیام کے دوران ہمارا تقریباً یہی معمول رہا۔

مدینہ میں ہمارا شیڈول یہ تھا کہ علی الصبح اٹھ کر فجر کی نماز مسجد نبوی میں  پڑھتے تھے۔ اس کے بعد جنت البقیع میں جا کر فاتحہ پڑھتے اور پھر کبھی زیارات کے لیے چلے جاتے یا کبھی ہوٹل میں آ کر  آرام کرتے۔ ظہر کی نماز کے لیے مسجد جاتے اور اس کے بعد کھانا کھانے کے لیے واپس ہوٹل آ جاتے۔ عصر تک آرام کرتے پھر عصر سے مغرب کبھی بلال مسجد، کبھی جنت البقیع، کبھی مارکیٹ، کبھی شہر، کبھی گپ شپ، کبھی مسجد کو چاروں طرف گھوم کر دیکھنا، کبھی ریاض الجنت اور کبھی روضہ رسول پر حاضری۔ مغرب سے عشاء کے مابین مسجد میں رہتےاور نماز عشاء کی ادائیگی کے بعد واپس ہوٹل چلے جاتے۔ رات کاکھانا کھاتے اوراس کے بعد گھنٹوں امی اور میں بیٹھ کر گپیں لگاتے۔ ہوش سنبھالا تو پڑھائی پھر ملازمت ، امی کے ساتھ دنیا سے ماورا ہوکر پہروں باتیں کرنے کاموقع بھی یہاں میسر آیا۔

لاہور میں ملازمت ہوئی تو تھوڑی سی تنخواہ  لگی، اس میں بمشکل گزارہ ہوتا تھا۔ اگر میں ہر ویک اینڈ پہ گھر جاتا تو مہینہ ختم ہونے سے قبل تنخواہ ختم ہوتی تھی۔ امی مجھے کہتی تھیں تم ویک اینڈ پہ لازمی آیا کرو آنے جانے کا کرایہ میں دے دیا کروں گی۔ جو برکت امی کے دیے ہوئے ان روپوں میں تھی وہ کبھی میری کمائی میں نہیں دیکھی۔

پچھلے دو سال سے ان کی صحت مسلسل کمزور ہو رہی تھی۔ ٹیسٹ کروائے لیکن کوئی بیماری  نہیں تھی۔ معدے میں تیزابیت کبھی کبھار ہوتی  اور کبھی بلڈ پریشر ۔ مجھے اکثر کہتیں کہ اللہ کرے جب مجھے موت آئے تم گھر پہ ہو، ایسا نہ ہو کہ تم لاہور میں ہو اورتمہیں میرے مرنے کی خبر فون پہ ملے ،  میں بھی ان کی ایسی باتیں ہنس کے سُن لیتا ۔ اپنی زندگی کی آخری رات میں ان کے چہرے پر بہت زیادہ سکون تھا۔ ہسپتال کے بیڈ پر ہم کہتے کہ لیٹی رہیں مگر وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد اٹھ کے بیٹھ جاتیں۔ ان کے ایک جانب میری خالہ بیٹھی تھیں دوسری جانب مجھے کہا تم بیٹھو، میں بیٹھا تو کہا مزید قریب ہو کے بیٹھو، مزید قریب ہوا تو کہا مزید قریب ہو جاؤ۔ میرے ساتھ ڈھیروں باتیں  کیں۔مجھے کہا کہ موت پریشانی کی بات نہیں،  ایک نہ ایک دن اللہ کے پاس جانا ہی ہوتا ہے۔ میں زندگی سے خوش ہوں کہ تم سبھی بھائیوں کو اپنے اپنے بچوں کے ساتھ آباد دیکھتی ہوں۔ مزید کہا کہ میں تم سے خوش ہوں  اور ڈھیروں دعائیں دیں۔پھرکہا کہ  بڑے بھائی کو برداشت کر لینا کبھی اس جیسا بن  کے جگ ہنسائی کا سبب نہ بننا، چھوٹے بھائی کا ہاتھ کبھی مت چھوڑنا،  مل کے رہنا۔

زندگی میں کئی نشیب و فراز آئے مگرامی جان کی محبت میں کبھی کمی نہیں آئی ۔ انہوں نے نہ ہی کبھی احسان جتایا اور نہ ہی کبھی اپنی محبتوں کا صلہ مانگا بلکہ بے غرض ہو کر اپنی محبت ہم پر نچھاورکرتی رہیں ۔ مجھے کوئی بھی مسئلہ پیش آیا اس کا حل مجھے میری ان پڑھ ماں سے ملا۔ یہ حقیقت ہے کہ ماں کی محبت ایک بحرِ بیکراں کی طرح ہے اور اس بے پایاں محبت کو لفظوں میں نہیں پرویا جا سکتا۔امی جان  محتاجی اور بری موت سے ہمیشہ پناہ مانگتی تھیں۔  اللہ تعالیٰ نے اپنی نیک بندی کو رمضان کے بائیسویں روزے کے دن صبح  سحری کے وقت اس حال میں  اپنے پاس بُلا لیا کہ وہ اس رات مسلسل کئی گھنٹوں سے  کلمہ، درود شریف، آیت الکرسی و دیگر دعائیں  پڑھ رہی تھیں۔ اللہ تعالیٰ امی جان کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائےاور ہمیں ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔

(مالک خان سیال)


آنکھیں قدرت کا انمول تحفہ لیکن ان کی حفاظت کیسے کی جائے؟


 کیا آپ آنکھوں کی سوجن سے دوچار ہیں؟ آپ کی عمر بڑھنے کے ساتھ یہ کوئی غیر معمولی مسئلہ نہیں ہے۔

سیدتی میگزین میں شائع رپورٹ کے مطابق جینیاتی عوامل، آنکھوں میں تناؤ یا پھر جلد کے مسائل یا روزمرہ کی غیر صحت بخش عادات آنکھوں میں سوزش کی وجوہات ہو سکتی ہیں۔
آنکھوں کے نیچے کھیرے رکھنے یا کچھ کریم استعمال کرنے کے بجائے اس کی وجہ تک پہنچنا زیادہ مفید ہوسکتا ہے۔

آنکھوں میں سوجن اور ورم کا کیا سبب ہوتا ہے؟

جسم میں کسی بھی وقت ضرورت سے زیادہ سوجن ہوسکتی ہے، اسے ورم ہونا کہتے ہیں۔
چونکہ آنکھوں کے آس پاس کی جلد فطرت کے مطابق پتلی ہوتی ہے ، اس وجہ سے یہ سوجن کے علاوہ سیاہ ہونے کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔
کچھ لوگوں کو حیرت ہوسکتی ہے کہ اس حصے میں مائع کیوں جمع ہوتے ہیں اور اس میں سوجن کیوں آتی ہے؟ اس کی بڑی وجہ آپ کی کچھ عادتیں ہیں۔
آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ آپ خود اپنی آنکھوں کی سوجن میں کردار ادا کرتے ہیں۔ یہاں کچھ چیزیں ہیں جو آپ کرتے ہیں اس سے آپ کی پریشانی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

بہت زیادہ نمک کھانا

سب سے پہلے  کھانے میں اپنے نمک کی مقدار کو چیک کریں۔ نمک خود بخود جسم کے مائع کو اکٹھا کرلیتا ہے جو آپ کی آنکھوں اور دل کے لیے اچھا نہیں ہے۔ دل کا دورہ پڑنا اور فالج ہونے کی یہی وجہ  بنتا ہے، تجویز کیا جاتا ہے کہ آپ روزانہ 2300 ملی گرام سے زیادہ نمک نہ لیں۔

کم مقدار میں پانی  پینا

جب جسم میں پانی کی کمی ہوجاتی ہے تو آنکھیں پھول جاتی ہیں۔  دراصل، آنکھوں کے آس پاس کے حصے رگوں اور اعصاب سے بھرے ہوئے ہیں، پانی کی مقدار میں اضافہ کریں اور یقینی بنائیں کہ آپ کافی  پانی پی  رہے  ہیں۔

کم سونا

جب آپ کو مناسب آرام نہیں ملتا تو آپ اگلی صبح صرف اپنی آنکھوں میں دیکھ کر ہی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ جب مناسب نیند نہیں لیں گے تو آنکھوں کے گرد سوجن ہوگی۔
رات کو کم از کم 6-8 گھنٹے اچھی نیند لینا اور مناسب آرام حاصل کرنا آنکھوں کی صحت کے لیے ضروری ہے۔

رات کو میک اپ نہ دھونا

خواتین آنکھوں کے نیچے کے حصے میں بھی میک اپ کا ستعمال کرتی ہیں جاسکتا ہے اس لیے اس حصے کو تروتازہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ رات کو اپنے چہرے کو دھوئیں۔

تمباکو کی مصنوعات کا استعمال

سگریٹ میں موجود زہریلا مواد جلد کی لچک کو ختم کردیتا ہے، جنیکوٹین ، سگریٹ میں پایا جانے والا مادہ آپ کو متحرک رکھتا ہے اور نیند کی کمی کا سبب بن سکتا ہے۔

سورج کی تیز روشنی کا سامنا کرنا

سورج کی گرمی سے جلد کے ان خلیوں کو نقصان ہوتا ہے جو آپ کی جلد کو لچکدار بناتے ہیں۔ سورج کے سامنے آنے کے دوران سورج کو براہ راست  دیکھنے سے اجتناب کریں۔
(منقول از اردو نیوز)

خوشی حاصل کرنے کے لیے غلط فہمیاں کیسے دور کی جائیں؟

 مجھے خوشی کیسے مل سکتی ہے؟ ایک سوال جو ہم میں سے بیشتر افراد پوچھتے ہیں اور بہت سارے نوجوان مرد و خواتین اس کے جواب کی تلاش میں اپنی زندگی گزارتے ہیں۔

سیدتی میگزین میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق کچھ نوجوان یہ مانتے ہیں کہ خوشی صرف خوبصورتی اور سمارٹنس تک ہی محدود ہے۔

سیدتی میگزین کے مطابق ماہر ذہنی صحت اور خاندانی تعلقات ڈاکٹر محمد ہانی کا کہنا ہے خوشی براہ راست بڑی حد تک روزمرہ کے انتخاب اور کاموں کا معاملہ ہے۔

کچھ چیزیں ایسی ہیں جو مطالعہ کی جا سکتی ہیں، کچھ کو سیکھا جاسکتا ہے جو ہم میں سے ہر ایک کرسکتا ہے۔ اپنی زندگیوں اور اپنے قریبی لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی لاسکتے ہیں اور زیادہ خوشی پیدا کرسکتے ہیں۔

ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ خوشگوار زندگی کے لیے بنیادی عناصر مبہم نہیں ہیں، جیسا کہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ خوشحال لوگ چار بنیادی کام کرتے ہیں جوانہیں دیگر افراد سے ممتاز کرتے ہیں۔

زندگی میں اچھے اور مثبت پہلوؤں پر توجہ دینا، زندگی کے ناگزیر چیلنجوں سے مؤثر طریقے سے نمٹنا، مضبوط تعلقات استوار کرنا اور بامقصد اہداف کا حصول میں کوشاں رہنا۔

غلط فہمیاں

نوجوان مرد و خواتین اپنی کوششوں کے ذریعے سب سے زیادہ خوش ہوسکتے ہیں۔ ہم جو پہلا قدم اٹھا سکتے ہیں ان میں سے ایک خوشی کے بارے میں عام غلط فہمیوں پر قابو پانا ہے جو ان چار مثالوں سےحاصل کرسکتے ہیں۔

بڑی بڑی چیزوں کو درست کریں

اپنی روز مرہ زندگی میں امید، شکرگزاری، احسان اور خود ہمدردی کی مشق کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔ یہ روزمرہ کے انتخابات آپ کی زندگی بسر کرنے کے طریقے پر زبردست اثر ڈال سکتے ہیں۔

خوش لوگ منفی جذبات کو دباتے ہیں

خوشگوار زندگی گزارنے والے مرد و خواتین اکثر غم، اضطراب اور دیگر نام نہاد منفی جذبات کو اتنا ہی محسوس کرتے ہیں جتنا اکثر ناخوش افراد کرتے ہیں۔ فرق اس وقت ہوتا ہے جب ان احساسات کا سامنا ہوتا ہے۔ خوش لوگ عام طور پر مستقبل کی امید کھوئے بغیر منفی جذبات کا تجربہ کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو غمگین، غصہ  یا تنہائی کا احساس دلاتے ہیں لیکن اس اعتماد کے ساتھ کہ معاملات بہتر ہوجائیں گے۔

خوشی کی جستجو خود غرضی ہے

محققین نے جو سب سے مضبوط نتیجہ اخذ کیا ہے وہ یہ کہ ہماری خوشی دوسروں کے ساتھ ہمارے تعلقات سے طے ہوتی ہے۔ خوش ترین لوگ اپنی زندگی کو اچھے تعلقات اور اعتماد کے ساتھ گزارتے ہیں۔

اگر آپ کے تعلقات کی راہ میں دوسری ترجیحات مل رہی ہیں تو توازن کی بحالی کے لیے اقدامات کریں کیونکہ اس سے واقعی فرق پڑتا ہے۔

اپنے مقاصد کو حاصل کروں گا تو خوشی ہوگی

اہداف کے حصول سے ہمیں زیادہ تر خوشی اس وقت ملتی ہے جب ہم ان کی طرف ترقی کرتے ہیں، ان کے حصول کے بعد نہیں۔ یہ ضروری ہے کہ ہم ان اہداف کا انتخاب کریں جو ہماری پسند کے مطابق ہوں۔ جو ہم پسند کرتے ہیں اور اس راستے پر چلتے ہوئے لطف اندوز ہونے کی شعوری کوشش کریں۔

(منقول از اردو نیوز)