تجدید عہد وفا کا دن

 پیارے بچو! آج ہم آپ کو سناتے ہیں یوم ِ پاکستان کی کہانی۔ قوموں کی زندگی میں بعض لمحات انتہائی فیصلہ کن ہوتے ہیں جو اپنے نتائج اور اثرات کے اعتبار سے خاصے دوررس اور تاریخ کا دھارا موڑنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ایسا ہی ایک لمحہ مسلمانان برصغیر کی زندگی میں 23 مارچ 1940ء کو آیا جب لاہور کے ایک وسیع و عرض میدان میں  لاکھوں مسلمان اکٹھے ہوئے اورمولوی فضل حق نے ایک قرار داد پیش کی جس کی تائید مسلمانوں نے دل و جان سے کی۔

23 مارچ1940 وہ عظیم دن ہے جب انگریز کی غلامی سے نجات پانے کے لیے قرار داد پاکستان منظور کی گئی۔ اس قرار داد کی روشنی میں قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے خدا داد قابلیت، سیاسی فہم و فراست، عزم و جرات، یقین محکم اور عمل پیہم سے دنیا کے نقشے پر ایک نئی مملکت کا اضافہ کیا جو برصغیر کے مسلمانوں کی ایک اہم اور اشد ضرورت تھی۔ اس تاریخی جلسے اور قرارداد کو اس لیے بھی اہم مقام حاصل ہے کہ یہ ایک اجتماعی سوچ کا شاخسانہ تھی۔ اجتماعی طور پر تمام مسلمان ایک قوت اور ایک تحریک کا روپ دھارے ہوئے تھے۔ باہمی اختلافات اور ایک دوسرے پر کیچڑ اْچھالنے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا، قرار داد کی پیشی اور منظوری کے بعد مسلمان ایک نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ ایک روشن صبح کی جانب اپنا سفر شروع کرنے جا رہے تھے جس کی سربراہی تاریخ کے عظیم قائد محمد علی جناحؒ کر رہے تھے۔  یہ قائد اعظم  ؒ کی سیاسی بصیرت و حالات کو دیکھتے ہوئے بہترین حکمت عملی اور خدائے بزرگ و برتر کا فضل و کرم تھا جس نے مسلمانوں کے لیے بروقت ایک آزاد ، خود مختار مملکت خدادا پاکستان قائم کرنے میں حقیقی کردار ادا کیا تھا۔


پیارے بچو! آج ہمیں اپنی تاریخ کو سمجھنے اور اپنے اندر وہی جذبہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس کا مظاہرہ مسلمانانِ ہند نے کیا۔ یوم ِپاکستان  کی یاد منانے ،نظریہ پاکستان  کوتازہ کرنے اور  اذہان میں اس کو پیوستہ کرنے کے لیے آپ کو درج ذیل سرگرمیوں میں حصہ  لینا چاہیے:


1.      تقریری مقابلہ: اس دن کی مناسبت سے سکول کی سطح پر یا کمیونٹی میں تجدید وفا، یوم پاکستان، حب الوطنی وغیرہ عنوانات سے تقریری مقابلہ جات  میں حصہ لیجیے۔

2.      پاکستان کوئز: تحریک پاکستان، دو قومی نظریہ اور قیام پاکستان کے حوالے سے کوئز کے مقابلہ میں حصہ لیجیے۔  

3.      نمائش تحریک پاکستان: تحریک پاکستان کے حوالے سے چارٹس، تصاویر و دیگر چیزوں کی نمائش کہیں لگی ہو تو اسے دیکھنے کا پراگرام بنائیے۔

4.      مقابلہ ملی و قومی نغمے: قومی اور ملی نغموں کے مقابلے میں حصہ لیجیے۔

5.      ٹیبلوز یا خاکے: یوم پاکستان کی مناسبت سے ٹیبلوز/خاکوں میں حصہ لیجیے۔

6.      خطاطی: قائدؒ کے اقوال اور اقبالؒ کے اشعار پر مشتمل خطاطی کے مقابلہ میں حصہ لیجیے یا گھر میں چارٹس بنایئے۔  

7.      ٹی وی پروگرامات:  یوم پاکستان کے حوالے سے ٹی وی پر دکھائے جانے والے پروگرامات دیکھیے۔

8.      اسٹال: یوم پاکستان کے حوالے سے تقاریب میں لگائے گئے سٹال دیکھیے۔

9.      مقابلہ پینٹنگ اور ڈرائنگ :  تحریک پاکستان کے تابندہ ستاروں کی تصاویر کی  پینٹنگ اور ڈرائنگ کے مقابلے میں حصہ لیجیے۔

10.  یوم پاکستان کا پیغام : اپنے سکول اور محلے میں   یوم پاکستان کا پیغام  پھیلانے  کے لیے آگاہی مہم چلائیں  جس میں پوسٹر، سٹیکروغیرہ کے ذریعے پیغامات لوگوں تک پہنچائیں۔

11.  سیمینار:  یوم پاکستان کے عنوان سے منعقدہ سیمینارز میں حصہ لیجیے۔

12.  مضمون نویسی:  یوم پاکستان کی مناسبت سے مضمون نویسی کے مقابلہ  میں حصہ لیجیے۔

13.  آگاہی واک: یوم پاکستان واک کا اہتمام کریں  جس میں  آپ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر واک کریں اور تحریک پاکستان کے اغراض و مقاصد سے آگاہی دیں۔

آج اتنےسال گزرنے کے بعد ایک بار پھر ہمیں اپنے اندر 23 مارچ 1940 ء کا جذبہ بیدار کرنے کی ضرورت ہے اور تجدید عہد وفا کرتے ہوئے قرار داد پاکستان کے اغراض و مقاصد کی تکمیل اور قائد اعظم ؒ اور دیگر قومی رہنماؤں کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہمیں پھر سے ایک قوم بننا ہوگا۔ دو قومی نظریہ جو موجودہ حالات میں دم توڑتا دکھائی دے رہا ہے اسے بچانا ہوگا۔ دنیا کو دکھانا ہوگا کہ ہم وہی قوم ہیں جس نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاکستان کے قیام کے خواب کو پورا کیا تھا۔ ہم وہی قوم ہیں جس نے اپنے قائد کی رہنمائی میں دو قومی نظریے کو سچ ثابت کرکے دکھایا تھا۔ ہمیں قرار داد پاکستان کی روشنی میں مملکت خدادا دپاکستان کو پروان چڑھانے کیلئے انفرادی و اجتماعی طور پر  علامہ اقبال ؒ کا شاہین بننا ہوگا۔ آج پھر اسی قومی حمیت اور ملی غیرت کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی سیاسی مصلحتوں اور آپس کی ریشہ دوانیوں کو بھلا کر پھر سے متحد ہو جائیں۔

یوم پاکستان کے دن ہمیں خود سے عہد کرنا ہو گا کہ:

1.      ہم پاکستان کو اپنے قائد اعظمؒ کے دیے ہوئے رہنمااصولوں کی روشنی میں چلائیں گے۔

2.      ہم پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک اسلامی، فلاحی جمہوری مملکت بنائیں گے۔

3.      ہم پاکستان کو غیروں کی غلامی سے نجات دلانے کی جدوجہد کریں گے اور پر امن طریقوں سے اغیار کے غلام حکمرانوں سے چھٹکارا حاصل کریں گے۔

4.      ہم آپس کے اختلافات بھلا کر پہلے مسلمان، پاکستانی اور بعد میں پنجابی، سندھی، بلوچی اور پٹھان ہونے کا عملی مظاہرہ کریں گے۔

5.      ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور روشن مستقبل دینے کے لیے جدوجہد کریں گے تا کہ وہ اپنے دین کی پیروی کرتے ہوئے باقی اقوام سے ترقی کی دوڑ میں بھی مسابقت کریں۔

پیارے بچو! رواں تعلیمی  برس کرونا وبا کی نظر ہونے سے  تعلیمی حرج بہت زیادہ ہوا ہے۔ لیکن  ہم وہ قوم ہیں جس نے آزادی حاصل کرنے کی قرار داد پاس کی تو آزادی لے کر ہی رہی۔ ہمیں یوم پاکستان سے رواں برس یہ درس بھی لینا ہے کہ ہمارا جو تعلیمی نقصان ہوا ہے، جو تصورات ہم نہیں پڑھ پائےیا جو اسباق ہمیں بھول گئے ہم  انہیں تازہ دم ہو کر دوہری محنت کے ساتھ مکمل کریں گے۔ہمیں اپنی محنت اور لگن سے اپنے وطن عزیز کو ترقی یافتہ قوموں کے شابہ بشانہ کھڑا کرنا ہے ۔ ہمیں آج اسی ولولے اور جوش کی ضرورت ہے جس کا مظاہرہ 1940میں مسلمانان ہند نے کیا تھا ۔

 

از قلم:

مالک خان سیال

میں ایسے شخص کو زندوں میں کیا شمار کروں

 زندگی ہر لمحہ سیکھنے اور آگے بڑھنے سے عبارت ہے۔ انسان ہر لمحہ خود کے تجربات پر بنیاد رکھتا ہوا آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ہر لمحہ اسے نئے چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے مگر سابقہ تجربات سے رہنمائی اور کچھ نیا سیکھنے اور کرنے کی دُھن اسے کامیابیوں سے ہمکنار کرتی چلی جاتی ہے۔سیکھتے چلے جانا ترقی جبکہ سیکھنے سے رک جانا ترقی معکوس کی علامت ہے۔ ہم جس دور میں جی رہے ہیں یہ علم کی صدی ہے اور اس میں وہی فرد، گروہ یا قوم ترقی کرے گی جس کے پاس علم کی طاقت ہوگی۔ اور یہ طاقت ان کو حاصل ہوتی ہے جو سیکھنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ آخری دم تک سیکھنے اور خود پر احتسابی نظر ڈالنے والے لوگ انسانی عظمتوں سے آشنا ہوتے ہیں۔ ان کی عزت اور عظمت کے پیچھے مسلسل سیکھنے کی یہ جستجو بھٹی کا کام کرتی ہے جس سے یہ خام کندن بن جاتے ہیں۔

ذیل میں ہم کچھ اصولوں کا مطالعہ کرتے ہیں  جن کو سیکھ کر کامیابی کی راہیں ہموار کی جا سکتی ہیں:

بچے بن جائیں

اگر آپ زندگی میں آگے بڑھنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو بچے بن جائیں کیونکہ بڑے سیکھا نہیں کرتے۔ جب دماغوں میں بڑا پن آ جائے  تو وہاں سے سیکھنا رخصت ہو جاتا ہے۔ بچے ہر چیزسے، ہر اندازسے، ہر ایک سے، ہر جگہ اورہروقت کچھ نیا سیکھتے ہیں۔ اگر کسی نے بچوں سے کچھ سیکھنا ہے تو ایک نہایت اہم بات سیکھے اور وہ ہے ہر وقت سیکھنے میں مصروف رہنا۔

مثبت ہو جائیں

ہمارے بیشر مسائل کی وجہ منفی ذہنیت ہے ۔ ہم لوگوں کی خوبیوں کی بجائے خامیاں نوٹ کرتے ہیں، بہتری کی بجائے نقائص  تلاش کرتے ہیں۔ منفی ذہنیت رکھنے والے لوگ افراد، معاشرے، ملک اور حالات کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیں ، ان کے منہ سے کوئی امید بھرا جملہ سننے کو نہیں ملتا، انہیں ہرطرف اندھیرے نظر آتے ہیں، یہ مایوسیوں کے پیامبر ہوتے ہیں ۔ مایوسیوں سے بچ کر مثبت سوچ پیدا کریں۔ امید جگائیں اور اپنے حصے کی شمع جلائیں مسائل خود بخود حل ہونا شروع ہو جائیں گے۔

خواب دیکھیں

خواب انہی کے پورے ہوتے ہیں جو انہیں دیکھتے ہیں ۔ خواب دیکھنا اس کی تعبیر پانے کا پیش خیمہ بنتا ہے۔ خواب دیکھنے پہ نہ پابندی ہے نہ کوئی ٹیکس، تو خواب کیوں نہیں دیکھتے۔ کچھ کرنے کے خواب، آگے بڑھنے کے خواب، اپنا کل آج سے بہتر کرنے کے خواب۔ اگر زندگی سے مایوس ہو چکے ہیں اور کوئی امید بر نہیں آتی پھر بھی تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی ، غم زندگی سے چھٹکارہ پانے میں کیا حرج ہے۔ جب ہم اس حقیقت کو تسلیم کر لیتے ہیں کہ اسباب ہمارے لیے ہیں اور ہم انہیں تسخیر کر سکتے ہیں  تو پھر ہم ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظر فردا نہیں رہتے بلکہ کچھ کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے لگتے ہیں ۔ جاگتی آنکھوں سے دیکھے گئے ہمارے یہ خواب ہمارے لیے تازیانے کا کام کرتے ہیں اور ہماری منزل کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔

میں ایسے شخص کو زندوں میں کیا شمار کروں

جو سوچتا بھی نہیں، خواب دیکھتا بھی نہیں

عملی ہو جائیں

خواب سے اگلا مرحلہ خاکے میں رنگ بھرنا ہے۔ جو پڑھا اور سیکھا ہے اسے عمل میں لائیے۔ مشہور کہاوت ہے کہ پہلے میں دنیا کو بدلنا چاہتا تھا اور ناکام تھا، اب میں خود کو بدل رہا ہوں اور کامیاب ہوں۔ خوب سوچیں، مشاورت کریں، منصوبہ بنائیں اور جت جائیں۔ عمل شروع کریں گے تو نتائج ملیں گے۔ یہ نتائج موافق بھی ہو سکتے ہیں اور ناموافق بھی۔ اگر خدا نخواستہ ناموافق بھی ہوں گے تو بھی آپ کو صحیح راستے کی طرف نشان دہی کریں گے۔

 

غیرروایتی ہو جائیں

لکیر کے فقیر مسائل حل کرنے میں اکثر ناکام رہتے ہیں۔ روایتی سوچ رکھنے والے لوگ روز مرہ چیلنجز کا جواب دینے سے قاصر رہتے ہیں۔ جو کچھ نیا کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ روایتی نہیں غیر روایتی انداز سے جیتے ہیں۔ صاحب ایجاد بننے کے لیے روایات سے کچھ ہٹ کر کرنا پڑتا ہے۔ لوگوں کے پیچھے چلنے کی بجائے نئے افق تلاش کریں اور اپنی محنت اور لگن سے نیا زمانہ بلکہ نئے صبح و شام پیدا کریں۔

مسکرائیں

مسکراہٹ اس چیز کی علامت نہیں ہے کہ مسکرانے والے کو مشکلات کا سامنا نہیں ہے بلکہ یہ اس چیز کی علامت ہے کہ اسے مسائل حل کرنے کی صلاحیت حاصل ہے۔مسکراہٹ مسائل کے حل کے لیے انسان کو تیار کرتی ہے اور کوئی پریشانی اعصاب پر سوار نہیں ہونے دیتی۔  روتی شکلیں اور سنجیدہ چہرے کسی کو پسند نہیں آتے ۔ دنیا کو مسکرا کر دیکھیں ہر طرف بہارآجائے گی اور زندگی گلزار بن جائے گی۔

سیکھنے سکھانے کا سلسلہ زندگی کی آخری شام تک جاری رکھیں اور لوگوں کے لیے ہمیشہ مفید بننے کی کوشش کریں ۔ دیانتدار بنیں، وقت کا ضیاع نہ کریں ، اپنے حوصلے بلند رکھیں اور اپنی زندگی کے ہر دن کو بھرپور طریقے سے جینے کی کوشش کریں۔

از قلم:

مالک خان سیال

 

 

تعلیمی اداروں میں شجر کاری مہم


 انسانی زندگی کی بقاکے لیے درختوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ۔ جنگلات کے کٹاؤ اور شجرکاری مہم کے نہ ہونے کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی حد درجہ بڑھ چکی ہے جبکہ موسموں میں بھی شدت آ چکی ہے جو کہ گلوبل وارمنگ کے اثرات ہیں ۔ ہم سب کو مل کر اس سے ماحول کو بچانا ہے۔ملک میں بڑھتی آلودگی سے کوئی بھی خوش نہیں ہو گا مگر اس پر قابو پانے کے لیے ہم سب اپنی اپنی انفرادی سطح پر ایسے اقدامات ضرور کر سکتے ہیں جس سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کم ہوگی بلکہ ہم ابر ِرحمت سے بھی بروقت مستفید ہو سکیں گے۔ اس میں شجر کاری اور پودوں کی نگہداشت سر فہرست ہے۔ درختوں کی روز بروز بڑھتی کٹا ئی ایک لمحہ فکریہ ہے کیونکہ جس رفتار سےکٹائی ہو رہی ہے اس رفتار سے پیداوار بالکل نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم تو ان چند خوش نصیب  ممالک میں سے ہیں جن کے ہاں شجر کاری کا موسم ہر سال دو بار آتا ہے ‘ پہلا جنوری کے وسط سے مارچ کے وسط تک، اور دوسرا جولائی سے ستمبر کے وسط تک۔ مگر اس کے باوجود ہمارے ہاں اس سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جاتا۔ اگر پودے لگائے بھی جاتے ہیں تو ان کی نگہبانی اور حفاظت کی جانب بالکل توجہ نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے وہ تناور درخت نہیں بن پاتے۔

ہم اپنے  تعلیمی اداروں میں شجر کاری مہم کا آغاز کر کے سرسبزپاکستان کے سفیر بن سکتے ہیں۔ یہی واحد علاج ہے گلوبل وارمنگ  اورگرین ہاؤس افیکٹ سمیت سیلابوں جیسے متعدد مسائل کا ۔ کیونکہ پودے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں جس کا فضا میں بڑھتا ہوا تناسب گرین ہاؤس ایفکٹ کی بنیاد سمجھا جاتا ہے ، اسی سے بتدریج گلوبل وارمنگ ہو رہی ہے۔ یقین جانیےصرف پودے لگا کر ہم بہت سے ماحولیاتی مسائل سے جان چھڑوا سکتے ہیں۔ پودوں اور درختوں کی وجہ سے بارشیں بھی بر وقت اور اچھے تناسب میں ہوتی ہیں۔جہاں ہمیں اس وقت شجر کاری سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے وہیں  بحثییت ذمہ دار شہری  ہمیں چاہیے کہ  اپنے تئیں اپنے تعلیمی ادارے اور  ارد گرد کا علاقہ سرسبزو شاداب بنائیں۔ اپنے اور آنے والی نسلوں کے لیے مناسب آکسیجن اور خوراک کا انتظام کریں۔ ورنہ تیزی سے گھٹتے ہوئے درختوں اور ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے قدرتی نظام بالکل درہم برہم ہو جائے گا جس کی مثال متعدد جانداروں کی ناپید ہوتی متنوع اقسام اور فضائی آلودگی کی وجہ سے بڑھتے سانس کے امراض ہیں۔

شجر کاری کامقصد ماحولیاتی نظام میں درختوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور دنیا میں آکسیجن کی مقدار بڑھانے کے لیے زیادہ سے زیادہ پودے لگانے کی حوصلہ افزائی کرناہے۔  شجر کاری وقت کی اہم ضرورت ہے اور آج ہم اس مہم میں جتنا فعال کردار ادا کریں گے۔ ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل اتنا ہی محفوظ اور صحت مند ہو گا ۔

دورِ حاضر میں شجر کاری کی ضرورت و اہمیت سے ہر شخص واقف ہے۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ اس جذبے کو ایک مہم کی شکل دی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس میں شامل ہوکر اپنے شہر، محلے اور گلی کو سرسبز بنانے کےلیے شجرکاری کر سکیں۔

اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ہم درج ذیل اقدامات کر سکتے ہیں:

1)      شجرکاری مہم کو سکول کے اہم کام کے طور پر منظم انداز میں چلایا جائے۔

2)      تمام اساتذہ اور صدر معلم بچوں کو شجر کاری کے فوائد سے آگاہ کریں اور ہر بچے کو کم از کم ایک پودا لانے اور اپنے ہاتھ سے سکول میں لگانے کی سرگرمی دی جائے۔

3)      بچوں کو اپنے اپنے گھروں میں پودے لگانے کا کام تفویض کیا جائے۔

4)      شجر کاری مہم کی تشہیر کے لیے شجر کاری واک کا انعقاد کیا جائے۔

5)      مختلف فلیکس وغیرہ آویزاں کرکے شجر کاری کے فوائد سے اہل علاقہ کو آگاہی دی جائے۔

6)      شجر کاری مہم کے دوران لگائے جانے والے پودوں کی آب رسانی کا انتظام کیا جائے۔

7)      شجر کاری مہم کا سب سے اہم مرحلہ بجٹ مرتب کرنا ہے جس میں پودوں کی تعداد، ان کی ترسیل اور بینر وغیر ہ بنوانے پر آنے والے ممکنہ اخراجات کا تخمینہ لگایا جاتا ہے۔اس مقصد کے لیے سب سے بہترین طریقہ "فنڈ ریزنگ"یعنی فنڈز کے ذریعے رقم اکٹھی کرنا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ نقد رقم کے بجائے ڈونرز سے درخواست کی جائے وہ پودے خرید کر دیں۔

8)      نوجوان رضاکاروں کی ٹیمیں تشکیل دے کر ذمہ داریاں بانٹ دینی چاہئیں تاکہ تمام کام خوش اسلوبی سے مکمل ہوسکے۔

9)      سوشل میڈیا ایک بہترین پلیٹ فارم ہے جہاں اپنی مہم کی شیئرنگ سے آپ کو ڈونیشن کے علاوہ عملی کام کرنے کےلیے رضاکار بھی مل سکتے ہیں۔ بچوں کو بھی اس سرگرمی میں شامل کیا جائے کیوں کہ آپ کو دیکھ کر انہیں بھی تحریک حاصل ہوگی اور وہ مستقبل میں اس مشن کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

10)  شجر کاری کا افتتاحی پودا لگانے کےلیے کسی اہم شخصیت کو مدعو کیا جاسکتا ہے جو ڈونر حضرات میں سے بھی کوئی ہوسکتا ہے۔

11)  شجر کاری مہم کی تکمیل کے بعد ایک سادہ تقریب کا اہتمام کیجیے جس میں بہترین رضاکاروں کو تعریفی سرٹیفکیٹس دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

12)  شجر کاری مہم کی جس قدر تشہیر کی جائے گی، اتنا ہی لوگ موٹیویٹ ہوں گے اور دیکھا دیکھی ہر گلی محلے میں شجر کاری مہم زور پکڑ جائے گی۔ اس مقصد کےلیے میڈیا کو بھی مدعو کیا جاسکتا ہے تاکہ ڈاکیومینٹری یا خبر کے ذریعے عام لوگوں کو شجر کاری کےلیے متحرک کیا جاسکے۔

13)   شجرکاری کرتے ہوئے متعلقہ علاقے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے درختوں کا انتخاب کیا جائے۔

درخت لگانا باعث اجر وثواب ہے ۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس مسلمان شخص نے درخت لگایا اس کاپھل آدمیوں اورجانوروں نے کھایا اس کے لگانے والے کے لیے صدقہ کا ثواب ہے ۔لہذا درخت لگانے کی ترغیب اور کاٹنے کی ممانعت سے متعلق بھرپور مہم چلانےکی ضرورت  ہے ۔ آئیے مل کر زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں ۔ آئیے عہد کریں اس مثبت کام میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔ پہلا قدم خود اٹھائیں اور اپنے تعلیمی اداروں میں درخت لگا کر اس نیک کام کا آغاز کریں۔حب الوطنی کا جذبہ دلوں میں جا گزیں کریں اور مل کر سرسبز اورخوشحال پاکستان بنائیں۔

 

از قلم:

مالک خان سیال

 

اولاد کی تربیت کا ایک نرالہ انداز

میں جب بھی کِسی سُلجھے ہوئے خوش حال نوجوان کو دیکھتا ہوں تو یقین ہو جاتا ہے کہ ضرور اِس کا باپ صالح اور نیک آدمی ہوگا۔
فرمان اِلٰہی { وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا } کی صداقت نظر آنے لگتی ہے۔ باپ اگر نیک ہو تو اِس کا فائدہ دُنیا ہی میں اِس کی اولاد کو ہونے لگتا ہے۔
ڈاکٹر نبیل عوضہ کہتے ہیں کہ:
"مُجھے جب نوافل کی ادائیگی میں سُستی اور کاہلی ہونے لگتی ہے تو مُجھے میرے بیٹے اور دُنیا کی پریشانیاں یاد آتی ہیں کہ کہیں نوافل کی ادائیگی میں میری سُستی اور کاہلی میری اولاد کی پریشانیوں کا سبب نہ بن جائے۔"
اپنی اولاد کو خوش حال زندگی اور دُنیا کی پریشانیوں سے نجات دِلانے کا ایک اہم ذریعہ ہماری صالحیت اور نیک بختی ہے۔ ہرشخص کی تمنا ہوتی ہے کہ اِس کی اولاد نیک اور فرماں بردار ہو لیکن صرف خواہش سے کچھ نہیں ہوتا اِس کے لئے خود بھی نیک اور صالح بننے کی ضرورت ہے۔۔
سیّدنا حضرت عبداللّٰه بِن مسعودؓ جب رات میں نوافل ادا کر رہے ہوتے تو سامنے اپنے چھوٹے بچے کو سویا ہوا دیکھ کر کہا کرتے تھے:
"من اجلک یا بنی"
(یہ تیرے روشن مستبقل کے لئے ہے) اور روتے ہوئے
{ وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا } کی تلاوت کرتے۔۔
سیّدنا حضرت سعيد بِن مسيّبؓ كا بھی يہی حال تها، فرماتے ہیں:
" اني لأصلي فأذكر ولدي فأزيد في صلاتي"
( نماز پڑھتے ہوئے جب مجھے اپنے بچے یاد آتے ہیں تو نماز لمبی کر دیتا ہوں۔ )
سورة کہف کے میں مذکور واقعے سے بھی یہی بات سامنے آتی ہے کہ باپ اگر نیک ہو تو اِس کا فائدہ اِس کی اولاد کو بھی ہوتا ہے۔۔
ڈاکٹر نبیل عوضہ کہتے ہیں کہ میرا ایک دوست کویت میں ایک حکومتی ادارے میں اچھے منصب پر فائز ہے، وہ روزانہ چند گھنٹے فلاحی کاموں میں لگاتا ہے۔ میں نے کہا کہ تم اپنے کام میں زیادہ دِلچسپی لو تو شاید تمہارا منصب اور مقام اور زیادہ ہو جائے گا۔ کہنے لگا:
"تُم جانتے ہو کہ میں چھے بچوں کا باپ ہوں جن میں سے اکثریت میرے بیٹوں کی ہے اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں یہ بے راہ روی کا شکار نہ ہوجائیں۔ جب سے میں نے{ کَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا } کی تفسیر پڑھی ہے، اپنی زندگی کا ایک حِصّہ فلاحی کاموں کے لئے وقف کر دیا ہے اور میں اِس کے بہترین اثرات اپنے بیٹوں میں دیکھ رہا ہوں۔"
کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی اولاد نیک صالح اور آپ کی فرماں بردار ہو؟
تو پھر اپنے آپ کو صالح اور نیک بنائیے، دین پر چلنے کی بھرپور کوشش کیجیے، صالح دوستوں کے ساتھ تعلق مضبوط کیجیے اور اپنی زندگی کا ایک حِصّہ اپنی استطاعت کے مطابق اللّٰه کی مخلوق کی فلاح کے کاموں میں لگائیے؛ اِس لئے کہ اِرشادِ نبویۖ کے مطابق اللّٰه تعالیٰ بھی اِس بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک کہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے۔
(تحریر: زبیر منصوری)

پینسل گم ہونے کے دو واقعات

پہلا: 

ایک ڈاکو کا کہنا ہے کہ: 

میں چوتھی کلاس میں تھا ایک دن  جب میں مدرسے سے گھر واپس آیا  میری پینسل گم ہوگٸی میں نے جب اپنی والدہ کو بتایا تو انہوں نے مجھے سزا کے طور پر بہت مارا !!!

اور مجھے بہت زیادہ گالیاں دیں  اور مجھےبے عقل کہا اور یہ کہ مجھ میں زمہ داری کا احساس نہیں اور بھی اس کے علاوہ جو بھی کہہ سکتی تھیں وہ کہا

اپنی والدہ کے اتنی سختی کےنتیجے  میں میں نے خود سے پکا ارادہ کیا کہ اب اپنی والدہ کے پاس خالی ہاتھ نہ جاٶں گا اس کے لیے میں نے ارادہ کیا کہ میں اپنی کلاس کے ساتھیوں کے قلم چرا لوں گا. 

آنے والے دن میں میں نے منصوبہ بنایا اور میں نے ایک یا دو قلم چرانے پر اکتفاء نہ کیا بلکہ اپنی کلاس کے تمام لوگوں کے قلم چرا لیے کام کے شروع میں میں ڈرتے ڈرتے چوری کرتا تھا پھر آہستہ آہستہ مجھے حوصلہ ملا اور میرے دل میں ڈر کی کوئی جگہ نہ رہی ایک ماہ گزرنے کےبعد مجھے اس کام میں وہ لذت نہ رہی جو شروع میں تھی پھر میں نے ساتھ والی کلاسز میں جانے کا ارادہ کیا ایک کلاس سے دوسری کلاس تک جاتے. جاتے آخر کار سکول کے پرنسپل کے کمرے تک چلا گیا. 

یہ سال عملی تجربہ لینے کا سال تھا اس میں،میں نے نظری اور عملی دونوں طرح سےچوری کرنے کا سیکھا پھر اس کے بعد میں پیشہ ور ڈاکو بن گیا.


دوسرا:

ایک والدہ کا کہنا ہے: 

جب میرا بیٹا دوسری کلاس میں تھا وہ جب مدرسے سے واپس آیا تو اپنی پنسل گم کر کے آیا

میں نے اس سے پوچھا پھر آپ نے کس چیز کے ساتھ لکھا ؟ 

اس نے کہا: میں نے اپنے کلاس فیلو سے پینسل مستعار لی ,میں نے اس سے کہا : آپ نے اچھا کام کیا لیکن آپ کے کلاس فیلو نے کیا کیا جب اس نے آپ کو لکھنے کے لیے اپنی پینسل دے دی ؟

 کیا اس نے آپ سے کچھ کھانا لیا یا پینے کی چیز یا کوئی مال ؟

اس نے کہا نہیں اس نے ایسا کچھ نہیں کیا 

والدہ نے اس سے کہا: اے میرے بچے اس نے بہت ساری نیکیوں کا سودا کیا  وہ آپ سے بہتر کیسے ہوا؟

کیوں نہ آپ بھی ایسی نیکیاں کمایٸں؟

اس نے کہا :یہ کیسے ہوگا؟ 

والدہ نے کہا: عنقریب ہم آپ کے لیے دو قلم خریدیں گے. 

ایک قلم سے آپ لکھیں گے اور دوسرے قلم کو ہم قلم الحسنات کا نام دیں گے!!!

اور ایسا ہم اس لیےکریں گے کہ اگر کوئی اپنا قلم لانا بھول جائے یا جس سے گم ہوجائے تو آپ اس کو یہ دے دیں گے اور جب ان کا کام مکمل ہوجائے گا تو آپ اس کو ان سے واپس لے لیں 

اس سوچ سے میرا بیٹا بہت خوش ہوا اور اس پر عمل کرنے سے اس کی خوشبختی میں بہت اضافہ ہوا اس نے اپنےبیگ میں ایک قلم اپنے لکھنے کے لیے رکھا اور چھ قلم قلم الحسنات!!

اس واقعہ میں سب سے عجیب بات یہ تھی کہ میرے بیٹے کو مدرسے جانا سخت ناپسند تھا اور وہ پڑھنے میں بھی کمزور تھا. 

پھر جب اس نے اس سوچ پر تجربہ کیا تواسے مدرسے سے محبت ہوگٸی. 

اور یہ اس وجہ سے ہوا کہ وہ کلاس کا تارہ بن گیا تو سب اساتذہ اسے پہچاننے لگے اور سارے کلاس فیلوز مشکل میں اس کی تعریف کرتے. 

جس کسی کا قلم گم جاتا وہ اس سے قلم لیتا اور استادکوجب پتہ چلتا کہ کوئی اس لیے نہیں لکھ رہا کہ اس کے پاس قلم نہیں تو استاد کہتے کہاں ہے وہ احتیاطی قلم رکھنے والا؟؟؟؟؟

نتیجتا میرے بیٹے کو مدرسے سے محبت ہوگٸی وہ آہستہ آہستہ پڑھائی میں بھی اچھا ہوگیا. 

اور خوبصورت بات یہ ہے کہ آج وہ اپنی تعلیم مکمل کرچکا ہے. اس نے شادی کی اسے اللہ نے اولاد دی لیکن وہ آج بھی قلم الحسنات نہیں بھولا..... 

اور آج وہ ہمارے شہر کے سب سے بڑے ویلفیٸر کا انچارج ہے. 


بہت اعلیٰ سبق ہے ماؤں کیلئے،

بچوں کو اچھی سوچ دینا انکے نہ صرف دنیاوی اعمال اور کردار سنوارتا ہے بلکہ آخرت بھی۔ جبکہ منفی سوچ  اس کے برعکس اسکے اعمال کے ساتھ ساتھ آخرت بھی لے ڈوبتی ہے۔ اسی لیے قوموں کے کردار اور اخلاق کو سنوارنے میں ماؤں کا بہت بڑا کردار ہے۔

نوعمری کا زمانہ کتنی اہمیت رکھتا ہے کہ زندگی کے بعض تجربات یا تو بچے کا رخ راہ راست کی طرف کر دیتے ہیں ، دوسری صورت میں وہ  گمراہی کے راستوں پر چل پڑتا ہے ۔

کھانا بناتے ہوۓ زیادہ بنا لیں کہ کسی اور کو بھی بھجوا دیں گے ۔ 

کپڑے لیتے ہوۓ کبھی ایک جوڑا اضافی لے لیں کسی اور کو دے دیں گے ۔

سودا سبزی پھل آٹا خریدتے وقت کچھ چیزیں اایسی لے لیں جو کسی اور کو بھی دے دیں گے ۔

باہر جاتے ہوۓ کھلے پیسے ساتھ رکھیں کہ کسی کو دے دیں گے ۔ 

اپنے بچوں کی فیس کے ساتھ  کسی ایک اور کی فیس بھی لگا لیں۔

بعض دفعہ اپنا دل اداس  بھی ہو تو دوسروں سے ملتے ہوۓ مسکرا لیں کہ مسکراہٹ ہی کسی اور کے کام آ جاۓ گی۔

اپنے لیۓ سادگی کیسے اپنائیں ؟

اس میں بھی کسی اور کو کچھ نہ کچھ دینے کا نسخہ ہی کار گر ہے ۔ 

جب کسی اور کو دینے کی فکر غالب آ جاۓ تو خود پہ لگانے کا شوق کم ہو جاتا ہے ۔

جب ذوق بدلتا ہے تو اس کے مطابق عمل بدل جاتا ہے... جیسا ذوق ہو گا ویسی ہی زندگی گزرے گی ۔