نقلی ہار

 ﺍﯾﮏ ﺳﻨﺎﺭ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮍ ﮔﯿﺎ.ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﻻﻟﮯ ﭘﮍ ﮔﺌﮯ.

 ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ہیرے ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮨﺎﺭﺩﮮ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ 'ﺑﯿﭩﺎ، ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭼﭽﺎ ﮐﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﻟﮯ ﺟﺎﺅ.

 ﮐﮩﻨﺎ ﯾﮧ ﺑﯿﭻ ﮐﺮ ﮐﭽﮫ ﭘﯿﺴﮯ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ.بیٹا ﻭﮦ ﮨﺎﺭ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭼﭽﺎ ﺟﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﯿﺎ.

 ﭼﭽﺎ ﻧﮯ ﮨﺎﺭ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺩﯾﮑﮫ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﮐﮫ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ بیٹا، ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﻨﺎ ﮐﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﺑﮩﺖ ﻣﻨﺪﺍ ﮨﮯ.تھوڑا ﺭﮎ ﮐﺮ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮﻧﺎ ، ﺍﭼﮭﮯ ﺩﺍﻡ ﻣﻠﯿﮟ ﮔﮯ.

 ﺍﺳﮯ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﺳﮯ ﺭﻭﭘﮯ ﺩﮮ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﮐﻞ ﺳﮯدﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺁﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﻨﺎ. اﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺳﮯ  ﻭﮦ ﻟﮍﮐﺎ ﺭﻭﺯ ﻣﺮﮦ ﺩﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ ﮨﯿﺮﻭﮞ ﻭ ﺟﻮﺍﮨﺮﺍﺕ ﮐﯽ ﭘﺮﮐﮫ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ  ﺳﯿﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﺎ.

 ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﺑﮍﺍ ﻣﺎﮨﺮ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ. ﻟﻮﮒ ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﯿﺮﮮ ﮐﯽ ﭘﺮﮐﮫ ﮐﺮوﺍﻧﮯ ﺁﻧﮯ لگے

 ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﭽﺎ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، ﺑﯿﭩﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﻭﮦ ہاﺭ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺗﯿﺰﯼ ہﮯ، اﺱ ﮐﮯ ﺍﭼﮭﮯ ﺩﺍﻡ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ.

 ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﺎﺭ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﺮﮐﮭﺎ ﺗﻮ ﭘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺗﻮ جعلی ﮨﮯ.

 ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﺮ ﮨﯽ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺩﮐﺎﻥ ﻟﻮﭦ ﺁﯾﺎ.

 ﭼﭽﺎ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ، ﮨﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﻻﺋﮯ؟

 ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، ﻭﮦ ﺗﻮ ﺟﻌﻠﯽ ﺗﮭﺎ.

 ﺗﺐ ﭼﭽﺎ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﺐ ﺗﻢ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﮨﺎﺭ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ، اﺳﻮﻗﺖ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ  ﺟﻌﻠﯽ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮐﮧ ﺁﺝ ﮨﻢ ﭘﺮ ﺑﺮﺍ ﻭﻗﺖ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﭼﭽﺎ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﭼﯿﺰ  کو ﺑﮭﯽ ﺟﻌﻠﯽ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ.

 ﺁﺝ ﺟﺐ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﻋﻠﻢ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﭼﻞ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﮨﺎﺭ ﻧﻘﻠﯽ ﮨﮯ.

 ﺳﭻ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻠﻢ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ سوﭼﺘﮯ، ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺳﺐ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ.

 ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﻏﻠﻂ ﻓﮩﻤﯽ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﺷﺘﮯ ﺑﮕﮍﺗﮯ ﮨﯿﮟ.


ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﺭﻧﺠﺶ ﭘﺮ، ﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎ ﺩﺍﻣﻦ.

 ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ، ﺍﭘﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ۔۔

اخلاقی تعلیم بچوں کی کردار سازی کے لیے ضروری ہے


 

سوچ کو پکڑو!

 سوچ کو پکڑو اس سے پہلے کہ وہ تمہیں پکڑ لے.

جس طرح گہرے پانیوں میں خونخوار جبڑوں والا مگر مچھ بغیر کسی آواز کے تیرتا ہے، سوچ ہماری زندگیوں کے پانیوں میں تیرتی ہے. لیکن وہ صرف مگر مچھ کی طرح نہیں بے تاب سُنہری مچھلی کی طرح بھی تیرتی ہے. روپہلی کرن کی طرح غوطہ لگاتی اور ابھرتی ہے. اس کے ہزاروں رنگ ہیں اور اتنی ہی بھول بھلیاں ہیں،اتنی ہی گھاٹیاں ہیں. اتنے ہی پھندے ہیں. 

تمہاری زندگی کی کتاب کا عنوان "شاہنامہ" بھی ہوسکتا ہے، "شکوہ" اور "جواب شکوہ" یا "صادقہ کی مصیبت" بھی. سوال یہ ہے تم اپنی زندگی کی کتاب کا نام کیا رکھنا چاہتے /چاہتی ہو؟ یہ تمہاری سوچ ہی بتائے گی.

سوچ کو پکڑنا چاہتے /چاہتی ہو؟ پکڑ لو تو کمال ہوجائے. گیانی، دھیانی بن جاؤ گے /گی. مگر سوچ کو شکنجہ ڈالنا بہت اوکھا کام ہے. سوچ کی رفتار عمل کی رفتار سے بہت تیز ہے. جب تک کالا مشکی گھوڑا اس کے تعاقب میں دوڑتا ہے تب تک وہ اگلی گھاٹی عبور کر چکی ہوتی ہے. بدھ مت میں، زین مذہب میں، ہمارے ہاں صوفیوں کے سلسلوں میں بہت بھاری مشقیں ہیں اور مشقت ہے پھر کوئی کوئی جا کر اسے اس کے ماتھے سے، اس کے سینگوں سے پکڑ پاتا ہے. 

بہت مشکل ہے وہ پھندے لگانا جو سوچ کو پکڑ سکیں. ہاں مگر بہت آسان ہے اگر تم "جوڑے کا قانون "سیکھ لو اور اس ہر مہارت حاصل کر لو. اب میں جو بات بتانے جا رہا ہوں وہ عام ترین بات ہے. تاہم وہ خاص ترین بھی ہے کہ ہم اس پر غور نہیں کرتے. ہوسکتا ہے یہ تمہاری زندگی کی سب سے خاص بات بن جائے. جوڑے کا قانون کی کہتا ہے کہ دنیا میں جو کچھ بھی ہم کرتے ہیں، وہ دو دفعہ ہوتا ہے، ایک دفعہ ہمارے ذہن میں، دوسری مرتبہ حقیقت میں!

جی بالکل دو دفعہ. جیسے یہ سطریں پہلے میرے ذہن پر اتریں اور پھر کاغذ پر. جیسے تم کسی کو فون کرنے کے لیے ، پیغام بھیجنے کے لئے فون جیب سے نکالو تو معلوم ہوتا ہے کہ کس کو کال ملانی ہے، اور کیا کہنا ہے. اگر یہ تحریر کسی سکرین پر پڑھی جارہی ہے تو فون بذات خود پہلے کسی کے ذہن میں بنا اور پھر کاغذ پر اترا اور پھر فیکٹری میں جا کر اسمبل ہوا. جس گھر میں مقیم ہو اس کا پہلے نقشہ بنا، پھر وہ تعمیر ہوا. جو گاڑی چلائی جارہی ہے، وہ کسی کے ذہن رسا کی تخلیق ہے. تمہارے اکثر افعال پہلے دماغ کی ورکشاپ میں جنم لیتے اور پھر حقیقت ہوتے ہیں. نماز بھی پڑھنی ہے تو پہلے خیال ذہن میں جنم لے گا اور پھر حقیقت بنے گا!!

سوچو، اور سوچو!!!! کیسا ہے یہ جوڑے کا قانون؟ کوئی اس سے باہر چیز سوچو تو؟ ہاں صرف حادثہ ہوسکتا ہے جو سوچے بغیر ہوجائے، زندگی کا کوئی بھی فعل اس کے سوا نہیں سر انجام نہیں پا سکتا. یہی گھاٹی ہے جہاں سوچ کو پکڑا جاسکتا ہے. جب وہ پہلی دفعہ نیلے پانیوں میں ڈبکی لگانے کے لئے اچھلتی ہے تو یہیں آسے جال میں ڈالا جاسکتا ہے. ورنہ اگر وہ سوچنے سے کرنے میں آگئی تو مچھلی جال سے نکل چکی ہے. 

اب سوچو تو کیا ہوگا؟ اب تم اس گھوڑے کی پشت ہر چھلانگ مار سکتے ہو جس کی زین کے ساتھ گھسٹ رہے تھے. اب آٹو بٹن آن نہیں ہے. اب زندگی خود بخود نہیں گزر رہی ہے، بلکہ اس کا سٹیرنگ کچھ کچھ ہاتھ میں آرہا ہے. 

اگرچہ ہر چیز دو مرتبہ ہوتی ہے تو وہ سوچ پہلی مرتبہ کہاں سے وارد ہوتی ہے؟ کون سی کھڑکی، کون سے روزن، کون سی درز سے اندر گھستی ہے؟ 

دو مچھیرے مچھلیوں کے شکار پر گئے. چمکیلی دھوپ نکلی ہوئی تھی اور کشتیاں لہروں پر تیر رہی تھیں. پہلے مچھیرے کی کنڈی تھوڑی دیر بعد ہلی، دیکھا تو ایک جاندار ٹراؤٹ کیڑا نگل چکی تھی. پہلے مچھیرے نے ترنت اسے قابو کیا اور بوری میں بھر لیا. پھر اس نے درجن بھر اور مچھلیاں بھی قابو کر لیں. اب اس کی بوری بھرنے لگی تھی. اسی دوران اس نے ایک انوکھا منظر دیکھا. 

دوسرا مچھیرا کافی دیر سے مچھلی کے انتظار میں تھا. اس کی کنڈی ہلی اور اس نے مچھلی کو قابو کرنا شروع کیا، تھوڑی سی ڈھیل دی اور اوپر کھینچا تو ایک وزنی سامن مچھلی ترپھولیاں کھا رہی تھی. مچھیرے نے تڑپتی مچھلی کو اپنے ہاتھ میں پکڑا اور پھر چھپاک سے پانی میں پھینک دیا. یہی نہیں کچھ دی بعد اس نے دو اور وزنی مچھلیوں کے ساتھ بھی یہی کیا. 

پہلا مچھیرا کافی حیران ہوا. اتنا حیران کہ اس نے چیخ کر پوچھا "کیا کرتے جا رہے ہو؟ مچھلی واپس کیوں پھینکتے ہو؟" 

دوسرے نے ایک بے اعتنائی دے جواب دیا "اس لیے کہ میرا برتن چھوٹے پیندے کا ہے، بڑی مچھلی کیسے ڈالوں گا؟" 

کچھ سوچیں چھوٹے پیندے کی مری مرائی ہوتی ہیں. کچھ خوف کی ماری سہمی ہوئی ہوتی ہیں. کچھ پر ڈر کے مارے دھپڑ نکلے ہوتے ہیں. کچھ کا دم نکل ہوا ہے اور سانس چڑھا ہوتا ہے. کیا ہی کمال ہو کہ ہم ان کو بھاگنے سے پہلے ہی دبوچ لیں. ہم ان سب کو باری باری پکڑنا سیکھیں گے. 

بول میری مچھلی، کتنا پانی؟؟ 


عارف انیس 

مصنف کی کتاب "صبح بخیر زندگی" سے ری براڈکاسٹ

حی علی الصلوۃ

 ‏عرب ممالک میں رہنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ھے کہ آپ کو عربی زبان آ جاتی ھے۔ 

اور عربی زبان آجائے تو کسی حد تک قرآن سمجھ میں آنا شروع ہو جاتا ھے۔ عرب 

قرآن تو آپ ترجمے کے ذریعے بھی پڑھ سکتے ہیں لیکن لہجے آپ ترجمے سے نہیں سجھ سکتے۔ 

لہجے آپ کو عربیوں سے سمجھ آئیں گے۔

جیسا کہ‏ سٹور میں جب کوئی بچے اپنے والدین کے ساتھ آئیں۔ والدین شاپنگ کر کے بل پے کر کے جانے لگیں۔ 

بچہ جو کہ مختلف شیلف کے سامنے کھڑا ھے۔ 

میں نے یہ لینا ھے میں نے وہ لینا ھے۔

باپ پہلے پیار سے کہتا ہے

“تعال یا ولد" ( آ جاؤ بیٹا)

بیٹا پھر بھی کھلونوں والی شیلف یا‏چاکلیٹ سیکشن میں کھویا ہوا ھے اور اس کا بس نہیں چل رہا وہ سب اُٹھا لے۔

پھر باپ سختی سے کہتا ھے

“حی”

“دوڑ کر آؤ" ( چلو )

محسوس کیا آپ نے کہ جب تھوڑا سختی سے کہنا ہو لہجہ تھوڑا حتمی کرنا ہو تو الفاظ بدل گئے,

 "تعال" کی جگہ "حی" آ گیا۔ 

اور "تعال" کے بعد پھر گنجائش  ھے۔‏"حی" کے بعد تو گنجائش  ہی نہیں۔ حی کے بعد انکار یا ضد کی, 

پھر تو بچہ پٹے گا یا پھر اس کا باپ اسے چھوڑ کر نکل جائے گا اور گاڑی میں بیٹھ کر انتظار کرے گا کہ بالآخر آنا تو اس نے میرے پاس ہی ھے۔

اسی طرح سارا دن ہم دنیا کمانے میں لگے ہوتے۔ 

یہ لیں، وہ کمائیں، یہ دیکھیں، 

وہ دیکھیں‏دن میں پانچ بار جب 

"حی الصلوة، حی الفلاح" 

کی آواز کان میں پڑتی ھے تو عربی سے نا بلد لوگوں کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ یہ کون سا لہجہ اور کس قدر سختی سے بلایا جا رہا ھے۔ 

اور اس "حی" کی ندا کے انکار کی صورت میں کیا کیا نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ 

کبھی سوچا ھے ہم نے....؟؟؟؟؟؟‏نہیں نا..................!!!!!!!!!!

انکار کی صورت میں یا تو دنیا سے ہی پٹائی کا سلسلہ شروع ہو جانا ہے یا خالِق نے ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دینا ھے کہ آنا تو اس نے میرے پاس ہی ھے۔۔۔۔

"انا الینا ایابھم"

بے شک ہماری طرف انہوں نے لوٹنا ھے‏"ثم انا علینا حسابھم"

پھر بے شک ہمارے ذمّے ھے ان کا حساب لینا۔

(سورة الغاشیہ, آیات: 25-26)

منقول

ظلم پر خاموشی جُرم ہے

 قانون کی کلاس میں استاد نے ایک طالب کو کھڑا کر کے اُس کا نام پوچھا اور بغیر کسی وجہ کے اُسے کلاس سے نکل جانے کا کہہ دیا۔ طالبعلم نے وجہ جاننے اور اپنے دفاع میں کئی دلیلیں دینے کی کوشش کی مگر اُستاد نے ایک بھی نہ سنی اور اپنے فیصلے پر مُصِّر رہا۔ طالبعلم شکستہ دلی سے اورغمزدہ باہر  تو نکل گیا مگر وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو ظلم جیسا سمجھ رہا تھا۔ حیرت باقی طلباء پر تھی جو سر جُھکائے اور خاموش بیٹھے تھے۔

لیکچر دینے کا آغاز کرتے ہوئے استاد نے طلباء سے پوچھا: قانون کیوں وضع کیئے جاتے ہیں؟ ایک طالب علم نے کھڑے ہوکر کہا: لوگوں کے رویوں پر قابو رکھنے کیلئے۔

دوسرے طالب علم نے کہا: معاشرے پر لاگو کرنے کیلئے۔

تیسرے نے کہا؛ تاکہ کوئی طاقتور کمزور پر زیادتی نہ کر سکے۔

استاد نے کئی ایک جوابات سننے کے بعد کہا: یہ سب جواباتُ ٹھیک تو ہیں مگر کافی نہیں ہیں۔ 

ایک طالب علم نے کھڑے ہو کر کہا: تاکہ عدل و انصاف قائم کیا جا سکے۔

استاد نے کہا: جی، بالکل یہی جواب ہے جو میں سننا چاہتا تھا۔ تاکہ عدل کو غالب کیا جا سکے۔

استاد نے پھر پوچھا: لیکن عدل اور انصاف کا کیا فائدہ ہوتا ہے؟

ایک طالب علم نے جواب دیا: تاکہ لوگوں کے حقوق کی حفاظت کی جا سکے اور کوئی کسی پر ظلم نہ کر سکے۔

اس بار استاد نے ایک توقف کے بعد کہا: اچھا، مجھ سے ڈرے بغیر اور بلا جھجھک میری ایک بات کا جواب دو، کیا میں نے تمہارے ساتھی طالبعلم کو کلاس روم سے نکال کر کوئی ظلم یا زیادتی کی ہے؟

سارے طلباء نے بیک زبان جواب دیا؛ جی ہاں سر، آپ نے زیادتی کی ہے۔

اس بار استاد نے غصے سے اونچا بولتے ہوئے کہا: ٹھیک ہے کہ ظلم ہوا ہے۔ پھر تم سب خاموش کیوں بیٹھے رہے؟ کیا فائدہ ایسے قوانین کا جن کے نفاذ کیلئے کسی کے اندر ھمت اور جراءت ہی نہ ہو؟ 

جب تمہارے ساتھی طالبعلم کے ساتھ زیادتی ہو رہی تھی اور تم اس پر خاموش بیٹھے تھے، اس کا بس ایک ہی مطلب تھا کہ تم اپنی انسانیت کھوئے بیٹھے تھے۔ اور یاد رکھو جب انسانیت گرتی ہے تو اس کا کوئی بھی نعم البدل نہیں ہوا کرتا۔

اس کے ساتھ ہی استاد نے کمرے سے باہر کھڑے ہوئے

 طالب علم کو واپس اندر بلایا، سب کے سامنے اس سے اپنی زیادتی کی معافی مانگی، اور باقی طلباء کی طرف اپنا رخ کرتے ہوئے کہا: یہی تمہارا آج کا سبق ہے۔

ایک حکایت

 کسی بادشاہ نے ایک تیلی سے دریافت کیا کہ ایک من تلوں سے کتنا تیل نکلتا ہے؟ تیلی نے کہا دس سیر۔ پھر پوچھا دس سیر میں سے؟ تیلی نے کہا اڑھائی سیر۔ بادشاہ نے پوچھا‘ اڑھائی سیر میں سے؟ تیلی نے کہا اڑھائی پائو۔۔ سلسلہ سوالا ت کے آخر میں بادشاہ نے پوچھا،

ایک تل میں سے کتنا تیل نکل سکتا ہے؟ تیلی نے جواب دیا کہ جس سے ناخن کا سرا تر ہو سکے۔ کاروبار میں تیلی کی اس ہوشیاری سے بادشاہ بہت خوش ہوا اور کہا کہ علم دین سے بھی کچھ واقفیت ہے؟ تیلی نے کہا نہیں۔ بادشاہ نے ناراض ہو کر کہا دنیاوی کاروبار میں اس قدر ہوشیار اور علم دین سے بالکل بے خبری۔اس کوقید خانہ میں لے جائو۔ جب تیلی کو قید خانے میں لے جانے لگے ‘ تو تیلی کا لڑکا خدمت میں عرض کرنے لگا ’’ میرے باپ کے جرم سے مجھے مطلع فرمائیں تو کرم شاہانہ سے بعید نہ ہوگا۔ ‘‘ بادشاہ نے کہا’’تیرا باپ اپنے کاروبار میں تو اس قدر ہوشیار ہے لیکن علم دین سے بالکل بے بہرہ ہے۔ اس لیے اس کی غفلت کی سزا میں اس کو قید خانے بھیجا جاتا ہے۔ ‘‘ تیلی کے لڑکے نے دست بستہ عرض کی’’حضور! یہ قصور اس کے باپ کا ہے جس نے اس کو تعلیم سے بے بہرہ رکھا‘ نہ کہ میرے باپ کا؟ میرے با پ کا قصور اس حالت میں قابل مواخذہ ہوتا اگر وہ مجھے تعلیم نہ دلاتا۔لیکن میراباپ مجھے تعلیم دلا رہا ہے۔ باقی حضور کا اختیار ہے۔‘ ‘ بادشاہ لڑکے کے اس جواب سے بہت خوش ہوا اور کہا’’ تمہاری تھوڑی سی تعلیم نے نہ صرف تمہارے باپ کو مصیبت قید سے چھڑا لیا‘ بلکہ تم کو بھی مستحق انعام ٹھہرایا۔ ‘‘ چنانچہ بادشاہ نے تیلی کو رہا کر دیا اور اس کے لڑکے کو معقول انعام دے کر رخصت کیا۔


(حکایات رومی)

گھاٹے کا سودا

میں نے کسی جگہ امریکہ کے ایک ریٹائر سرکاری افسر کے بارے میں ایک واقعہ پڑھا تھا۔۔۔۔۔۔

اس افسر کو وائٹ ہاؤس سے فون آیا کہ فلاں دن صدر آپ سے ملنا چاہتے ہیں‘ اس افسر نے فوراً معذرت کر لی۔

فون کرنے والے نے وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا۔۔۔۔۔ ’’میں اس دن اپنی پوتی کے ساتھ چڑیا گھر جا رہا ہوں‘‘

یہ جواب سن کر فون کرنے والے نے ترش لہجے میں کہا۔۔

’’آپ چڑیا گھر کو صدر پر فوقیت دے رہے ہیں۔‘‘

ریٹائر افسر نے نرمی سے جواب دیا۔۔۔۔۔

’’نہیں میں اپنی پوتی کی خوشی کو صدر پر فوقیت دے رہا ہوں۔۔۔

‘‘ فون کرنے والے نے وضاحت چاہی تو ریٹائر افسر نے کہا۔۔۔۔۔۔

’’مجھے یقین ہے میں جوں ہی وہائٹ ہاؤس سے باہر نکلوں گا تو صدر میرا نام اور میری شکل تک بھول جائے گا۔۔۔۔

جبکہ میری پوتی اس سیر کو پوری زندگی یاد رکھے گی۔

۔۔۔۔۔میں گھاٹے کا سودا کیوں کروں۔۔۔۔۔

میں یہ وقت اس پوتی کو کیوں نہ دوں جو اس دن‘ اس وقت میری شکل اور میرے نام کو پوری زندگی یاد رکھے گی‘ جو مجھ سے محبت کرتی ہے‘ جو اس دن کیلئے گھڑیاں گن رہی ہے۔۔۔۔۔۔

‘‘ میں نے جب یہ واقعہ پڑھا تو میں نے کرسی کے ساتھ ٹیک لگائی اور آنکھیں بند کرکے دیر تک سوچتا رہا ٗ ہم میں سے 99 فیصد لوگ زندگی بھر گھاٹے کا سودا کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔

ہم لوگ ہمیشہ ان لوگوں کو اپنی زندگی کے قیمتی ترین لمحات دے دیتے ہیں جن کی نظر میں ہماری کوئی اوقات ٗ ہماری کوئی اہمیت نہیں ہوتی‘ جن کیلئے ہم ہوں یا نہ ہوں کوئی فرق نہیں پڑتا ‘جو ہماری غیر موجودگی میں ہمارے جیسے کسی دوسرے شخص سے کام چلا لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

میں نے سوچا کہ ہم اپنے آفسران کو ہمیشہ اپنی اس بیوی پر فوقیت دیتے ہیں جو ہمارے لئے دروازہ کھولنے ٗہمیں گرم کھانا کھلانے کے لئے دو ٗ دو بجے تک جاگتی رہتی ہے۔۔۔۔۔۔

ہم اپنے بے وفا پیشے کو اپنے ان بچوں پر فوقیت دیتے ہیں جو مہینہ مہینہ ہمارے لمس ٗ ہماری شفقت اور ہماری آواز کو ترستے ہیں ٗ جو ہمیں صرف البموں اور تصویروں میں دیکھتے ہیں ٗ جو ہمیں یاد کرتے کرتے بڑے ہوجاتے ہیں اور جو ہمارا انتظار کر تے کرتے جوان ہو جاتے ہیں لیکن انہیں ہمارا قرب نصیب نہیں ہوتا‘ ہم انہیں ان کا جائز وقت نہیں دیتے۔۔۔۔۔

میں نے سوچا!!!

یقینا ہم سب گھاٹے کے سوداگر ہیں

دسویں جماعت کا رجسٹر

  ایک 50 سالہ شریف آدمی ڈپریشن کا شکار تھا اور اس کی بیوی نے ایک ماہر نفسیات سے ملاقات کی۔

  بیوی نے کہا:- "وہ شدید ڈپریشن میں ہے ، براہ کرم مدد کریں"

  اب اس نے اپنی مشاورت شروع کی۔  اس نے کچھ ذاتی باتیں پوچھی اور شریف آدمی کی بیوی کو باہر بیٹھنے کو کہا 

  صاحب بولے ...

  میں بہت پریشان ہوں ...

  دراصل میں پریشانیوں سے مغلوب ہوں ...

  ملازمت کا دباؤ ...

  بچوں کی تعلیم اور ملازمت کا تناؤ ...

  ہوم لون ، کار لون ...

  مجھے کچھ پسند نہیں ...

  دنیا مجھے پاگل  سمجھتی ہے ...

  لیکن میرے پاس اتنا سامان نہیں جتنا کہ ایک کارتوس ..

  میں بہت اداس ہوں..

  یہ کہہ کر اس نے اپنی پوری زندگی کی کتاب  ڈاکٹر کے سامنے کھول دی

  پھر ڈاکٹر نے کچھ سوچا اور پوچھا ، "آپ نے دسویں جماعت کس سکول میں پڑھی

  شریف آدمی نے اسے سکول کا نام بتایا۔

  ڈاکٹر نے کہا:-

  "آپ کو اس اسکول میں جانا ہے۔ اپنے اسکول سے آپ اپنی دسویں 'کلاس 'کا رجسٹر تلاش کرنا ہے اور اپنے ساتھیوں کے نام تلاش کرنے ہیں اور ان کی موجودہ خیریت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہیں۔

  ایک ڈائری میں تمام معلومات لکھیں اور ایک مہینے کے بعد مجھ سے ملیں۔ "

 شریف آدمی اپنے اسکول گیا ، رجسٹر ڈھونڈنے میں کامیاب رہا ، اور اسے کاپی کروایا۔

  اس میں 120 نام تھے۔  اس نے ایک مہینے میں دن رات کوشش کی ، لیکن وہ بمشکل 75-80 ہم جماعتوں کے بارے میں معلومات جمع کرنے میں کامیاب رہا۔

  حیرت !!!

  ان میں سے 20 مر چکے تھے

  7 بیوہ اور 13 طلاق یافتہ تھے۔

  10 ایسے عادی نکلے جو کہ بات کرنے کے قابل بھی نہیں تھے۔

  5 اتنے غریب نکلے کہ کوئی ان کا جواب نہ دے سکا۔

  6 اتنا امیر نکلا کہ اسے یقین ہی نہیں آیا ...

  کچھ کینسر میں مبتلا تھے ، کچھ فالج کا شکار تھے ، ذیابیطس ، دمہ یا دل کے مریض تھے۔

  کچھ لوگ بستر پر تھے جن کے ہاتھوں/ٹانگوں یا ریڑھ کی ہڈی میں چوٹیں آئی تھیں۔

  کچھ کے بچے پاگل ، آوارہ یا بیکار نکلے ...

  ایک جیل میں تھا ... ایک شخص دو طلاق کے بعد تیسری شادی کی تلاش میں تھا۔

  ایک ماہ کے اندر ، دسویں جماعت کا رجسٹر خود قسمت کی اذیت بیان کر رہا تھا۔

  کونسلر نے پوچھا:- "اب بتاؤ تمہارا ڈپریشن کیسا ہے؟"

  شریف آدمی سمجھ گیا کہ 'اسے کوئی بیماری نہیں تھی ، وہ بھوکا نہیں تھا ، اس کا دماغ کامل تھا ، اسے عدالت \ پولیس \ وکلاء  کا کئی مسئلہ نہ تھا  اس کی بیوی اور بچے بہت اچھے اور صحت مند تھے۔  وہ خود بھی صحت مند  تھا ...

  * اس آدمی کو احساس ہوا کہ واقعی دنیا میں بہت زیادہ دکھ ہے ، اور وہ بہت خوش اور خوش قسمت ہے۔*

  دوسروں کی پلیٹوں میں جھانکنے کی عادت چھوڑیں ، اپنی پلیٹ کا کھانا پیار سے لیں۔  دوسروں کے ساتھ موازنہ نہ کریں ہر کسی کی اپنی قسمت ہوتی ہے۔

  اور پھر بھی ، اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ ڈپریشن میں ہیں ، تو آپ کو بھی اپنے سکول جانا چاہیے ، دسویں جماعت کا رجسٹر لائیں اور ...

مطمئن ورکر ہی کسی بھی کمپنی کی کامیابی کی ضمانت ہے

 ورکرز کے ساتھ مثبت سلوک کریں تاکہ آپ کا کاروبار کامیاب ہو۔۔۔ اس کی مالی ضروریات کے ساتھ ساتھ اس کی نفسیاتی ضرورتوں کو بھی پورا کریں۔  

میں آجکل بزنس سائیکالوجی کا طالب علم ہوں۔ اس کے ساتھ سائیکالوجی کی ایک بڑی برانچ،  انڈسٹریل آرگنائزیشنل سائیکالوجی جو صدیوں سے کسی نہ کسی طور موجود تھی مگر اب اسے باقاعدہ پڑھایا جاتاہے۔ اسے ۔  I.O  بھی کہتے ہیں، میں نے جب اسے پڑھنا شروع کیا تو میں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کوئی آرگنائزیشن کیسے ترقی  کرتی ہے؟    کچھ ابتدائی باتیں پڑھنے سے معلوم ہوا کہ سب سے اہم عنصر  کسی بھی ادارہ  کے ورکرز کا مطمئن ہونا ہے۔ اگر ورکر مطمئن ہے تو آرگنائزیشن بھی ترقی کرے گی۔چند افراد نے اس پر ریسرچ کی۔انہوں 2001 میں ایک اخبار میں یہ کہا کہ

Job satisfaction is a fundamental topic of organization psychology because it impacts job performance.

انھوں نے دنیا کی آرگنائزیشن کو چیک کرنے کےاور سانٹیفک ریسرچ کے بعدکہا کہ ورکر کا خوش رہنا ہی بنیادی طور پر کسی بھی آرگنائزیشن کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔

اگر ہمارا کوئی ورکر ہے اور ہم اس سے کسی سے متعارف کرواتے ہوئے یہی کہیں کہ یہ ہمارا نوکر ہے تو یہ ہمارے اور اس کے درمیان دوری پیدا کر تا ہے۔اور ورکر کو غیر مطمئن کرتا ہے۔اگر آپ یہ کہیں کہ یہ ہمارا ساتھی  ہےیا کولیگ ہے جیسے الفاظ استعمال کریں کہیں کہ یہ صاحب  ہماری ٹیم کے فرد ہیں۔  آپ  کا ایسا کرنا آپ  کے ورکر کی عزت نفس  میں  اضافہ کا  سبب  بنے گا جو کمپنی کےلیے  بے حد سود مند ہو گا۔

سیلف ریسپکٹ کی ضرورت  ہر کسی کو ہوتی ہے اگر ورکر کی عزت نہیں کریں گے تو اس کے satisfaction level میں  کمی ہو جاتی ہے۔ 

میرے ایک دوست نے ایک عام دوکان سے کام شروع کیا اور اب وہ  بہت ساری ملز کا مالک ہے، ایک بار میں اس سے ملنے گیا تو اس کے آفس بوائے نے کھانا بنایا اور اس وقت سب نے مل کر نیچے چٹائی پہ بیٹھ کر کھانا کھایا جہاں اس کے ماموں، چاچو ،ورکرز اور آفس بوائے تقریباً چالیس افراد تھے، سب ہی شامل تھے۔اور مجھے لگتا ہے کہ یہی آج ان کے اتنے بڑے بزنس کی وجہ ہےکیونکہ ان کے ملازمین ان سے مطمئن تھے۔

ضروری نہیں کہ آپ انہیں بہت اعلیٰ تنخواہ دیں، تنخواہ حالات کے مطابق ہی ہوگی۔ لیکن انہیں عزت سے بلانا، احترام کرنا، خوشی غمی  میں ان کا خیال رکھنا، ان کی خیریت دریافت کر لینا ، انہیں شادی میں مبارکباد دینا، انکی پریشانی کے وقت ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھنا، اسکی کوئی قیمت نہیں ہوتی مگر اس سے  ملازم کے اطمینان میں بے حد  اضافہ ہو جاتا ہے۔

میرے والد محترم ایک مزدور تھے۔ان کے ساتھ چند اور مزدور بھی کام کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے دیسی گھی خرید کر کسی چائے کی  دوکان پہ رکھوا دیا تو میں نے یہ دریافت کیا کہ یہ کس لیے رکھوایا ہے؟ابا حضور نے جواب دیا کہ ہمارے ساتھ ایک مزدور کام کرتے ہیں وہ بیمار ہوگئے ہیں،ان کے لیے رکھوایا ہے تاکہ اس کی  جسمانی کمزور ی دور ہو سکے۔ یہ ان کی ذمہ داری نہیں  تھی ۔ بلکہ یہ ایک احساس تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اپنے شہر  میں  ایک ایمانداراور کامیاب شخص کے طور پر جانے  جاتے تھے۔

اپنے ورکرز کے ساتھ مثبت سلوک کریں تاکہ آپ کا کاروبار کامیاب ہو۔۔۔ اس کی مالی ضروریات کے ساتھ ساتھ اس کی نفسیاتی ضرورتوں کو بھی پورا کریں۔  

 

از: ڈاکٹر مشتاق مانگٹ


بدلتے تعلیمی منظر نامے اور نئے رُجحانات




 

اچھے والدین بننے کے لیے یہ پانچ باتیں یاد رکھیں

 اپنے بچوں کی پرورش کے دوران ہم اپنے ماں باپ کے انداز سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے ہم اپنے بچوں کی پرورش اپنے ماں باپ کی طرح کرتے ہیں۔

ہوسکتا ہے ہم نے کچھ اچھی باتیں سیکھی ہوں۔ لیکن آپ یقیناً اور بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

ماہر نفسیات فلیپا پیری نے اپنی کتاب ’دا بک یو وش یور پیرنٹس ہیڈ ریڈ‘ (وہ کتاب جو آپ چاہیں گے آپ کے والدین نے پڑھی ہوتی) میں لوگوں کو اچھے ماں باپ بننے کے مشورے دیے ہیں۔

وہ اس میں بتاتی ہیں کہ آپ اچھے والدین کیسے بن سکتے ہیں تاکہ آپ کے بچے زندگی کا بہتر آغاز کر سکیں۔ اس کے ساتھ ہی آپ کو اس کے لیے زیادہ کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے۔

اچھے ماں باپ بننے کے لیے آپ ان پانچ مشوروں پر عمل کریں:

1. حدود کا تعین

جی ہاں یہ کافی مشکل ہوگا کیونکہ ہم سب ہی اپنے بچوں سے بے انتہا محبت کرتے ہیں۔ لیکن ایک موقع پر ہم اس کی حد پار کر دیتے ہیں۔

اگر آپ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ آپ اپنے بچوں کو کچھ زیادہ ہی آزاد رہنے دیتے ہیں تب بھی آپ کو کچھ حدود کا تعین کر لینا چاہیے۔

لیکن پیار کی حد کیسے بنائی جائے؟ اس کا جواب ’میں‘ کے اندر ہے، ’تم‘ میں نہیں۔ آپ کو اپنا کردار واضح کرنا ہوگا، نہ کہ اپنے بچوں کا۔

تو اس کا مطلب ہے آپ کو یہ کہنا ہو گا ’مجھے معلوم ہے کہ آپ رات کو بس پر سفر کرتے ہوئے دور جانا چاہتے ہیں لیکن میں ابھی اس کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ہوں۔‘

والدین کو ایسے نہیں ٹوکنا چاہیے کہ ’نہیں آپ تو صرف 13 سال کے ہو، آپ ابھی بہت کم عمر ہو۔‘

کسی کو یہ پسند نہیں ہوتا کہ کوئی اور ان کے بارے میں ایسے بات کرے۔ اس لیے خود کی وضاحت کریں، نہ کہ اپنے بچوں کی۔

2. اپنے بچوں کے ہر موڈ کو قبول کریں

ہماری غلطی یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں ہمارے بچے ہر وقت شدید خوش رہیں۔

یہ ایسا ہے جیسے ہم ان سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ کبھی انھیں مایوس نہیں دیکھ سکتے۔ اس لیے ہم انھیں کہتے ہیں: ’اداس نہ ہوں۔‘

لیکن یہ ضروری ہے کہ ہم انھیں ہر قسم کا موڈ (مزاج) رکھنے کی اجازت دیں جبکہ اس دوران ہمیشہ ان کے ساتھ رہیں۔

ہمیں بچوں کے تمام جذبات کو منظور کرنا چاہیے تاکہ بچے اداس ہونے یا غصہ کرنے پر مزید مایوس نہ ہوں۔

3. یاد رکھیں کہ آپ اپنے بچے کا عکس ہیں

آپ اپنے بچے سے مماثلت رکھتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ آپ ان کا انسانی عکس ہیں تو یہ غلط نہ ہوگا۔

بچوں کے ساتھ ہمارا برتاؤ ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔

اگر ہم انھیں ہمیشہ یہی کہتے رہیں گے کہ ’دیکھو آپ نے جوتے گندے کر لیے ہیں!‘ تو وہ ہمیشہ آپ کی غصے والی شکل ہی دیکھ پائیں گے۔

یہ ضروری ہے کہ آپ پہلے ان کے ساتھ ہنسی مذاق کریں اور اس کے بعد گندے جوتوں کا ذکر کریں۔

آپ کو ہمیشہ کوشش کرنی چاہیے کہ ان سے ملتے ہوئے خوشی کا اظہار کریں۔

4. ہر قسم کا رویہ بات کرنے کا طریقہ ہے

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے بچے کے رویے میں کوئی برائی ہے تو یہ بات یاد رکھیں: ہر قسم کا رویہ بات کرنے کا طریقہ ہوتا ہے۔

بچے اس طرح کے رویے سے آپ کو کچھ بتانا چاہتے ہیں اور ان کے پاس یہ کہنے کا یہی بہترین طریقہ ہوتا ہے۔

تو آپ کو ایسے رویے کا اصل مطلب تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اس کے بعد ان کی مدد کرنی چاہیے تاکہ وہ جو محسوس کر رہے ہو اسے صاف الفاظ میں بلا ہچکچاہٹ کہہ سکیں۔

ہمیں ان کے تمام جذبات کو منظور کرنا چاہیے، بے شک اگر ٹھیک نہ لگتے ہوں۔

ہمیں بچوں کو اپنے جذبات کا اظہار سیکھانا چاہیے اور اس بات کی فکر نہیں کرنی چاہیے کہ ہم ان کی جگہ ہوتے تو کیا کرتے۔ ہر شخص دوسرے سے الگ ہوتا ہے۔

5. آپ کا بچہ کوئی پراجیکٹ نہیں ہے

ماہر نفسیات کے مطابق ’آپ کا بچہ ایک مشق نہیں جسے آپ جلدی جلدی نمٹا دیں۔ نہ ہی یہ ایک پراجیکٹ ہے جسے آپ بہترین انداز میں مکمل کر سکیں۔‘

’آپ کا بچہ ایک انسان ہے جو اپنی انفرادیت رکھتا ہے۔‘

بچے چھوٹے ہوں یا بڑے، وہ سب سے پہلے ایک انسان ہیں۔

(منقول از بی بی سی اردو)

بچوں کو بڑوں کا احترام کرنا سکھائیں

 اکثر یہ ہوتا ہے کہ والدین او ر بچے اپنی بات منوانے کے لیے ضد پر اڑ جاتے ہیں لیکن آخر میں بچہ اپنی بات منواہی لیتا ہے ۔زیادہ تر بچے والدین کی وہ بات نظر انداز کردیتے ہیں جب آپ اُسے کوئی ایسا کام کرنے کا کہتے ہیں جو وہ کرنا نہیں چاہتا ۔جب بڑے کسی کام کے لیےبچے کو منع کرتے ہیں تو وہ غصے میں رونا پیٹنا شروع کردیتا ہے۔ اُس وقت والدین کو یہ لگتا ہے کہ اس عمر میں زیادہ تر بچے ایسا کرتے ہیں اور اُمید کر لیتے ہیں کہ بڑے ہوکر یہ صحیح ہو جائے گا ۔جب کہ یہ طر یقے کار بالکل غلط ہوتا ہے والدین کو چاہیے کہ اُسی وقت بچے کی اس غلط عادت کو ختم کرنے کی کو شش کریں ،کیوںکہ بچپن میںبچوں کو آسانی سے بڑوں کااحترام کرنا سکھا یا جاسکتا ہے ۔بڑے ہوکر کہنا نہ ماننے کی عادت پختہ ہو جاتی ہے ۔بلاشبہ چھوٹے بچے کو والدین کی ہر قت ضرورت ہوتی ہے اور اُس کے ناز نخرے بھی اُٹھا تے ہیں ۔اس لیے بچے کو لگتا ہے کہ وہ گھر کا مالک ہے ۔لیکن جب بچے دو سال کی عمر کو پہنچتے ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اب والدین ان کا کہنا نہیں ماننےگے بلکہ انہیں والدین کی ماننی پڑے گی۔بعض بچے تو اس وجہ سے بات بات پر غصہ بھی کرنے لگتے ہیں اور کچھ تو والدین کی بات سننے سے ہی انکار کردیتے ہیں ۔ اس وقت والدین کو بہت صبر سے کام لینا چاہیےاور ایک نیا کردار ادا کرنا چاہیے ۔بچوں کو واضح کردیں کہ آپ ان سے کیا توقع رکھتے ہیں ۔لیکن اگر والدین اپنے اختیار کو استعمال نہیں کرتے اور بچے کو ڈھیل دیتے ہیں تو بچہ اُلجھن میں پڑ سکتا ہے ،بگڑ سکتا اور یہ بھی سوچ سکتا ہے کہ وہ ہربات میں اپنی من مانی کرسکتا ہے ۔اسی لیے والدین کو چاہیے کہ بچوں کو عمر کے ہر حصے میں بڑوں کاادب واحترام کرنا اور کہنا ماننا سکھائیں ۔

(منقول از جنگ نیوز)

کرپشن اکانومی

 ایک دن ایک حکمران محل میں بیٹھا تھا جب اس نے محل کے باہر ایک سیب فروش کو آواز لگاتے ہوئے سنا:

 "سیب خریدیں! سیب!"

حاکم نے باہر دیکھا  کہ ایک دیہاتی  اپنے گدھے  پر سیب لادے بازار جارہا ہے۔

حکمران نے سیب کی خواہش کی اور اپنے وزیر سے کہا:

 خزانے سے 5 سونے کے سکے لے لو اور میرے لیے ایک سیب لاؤ۔

 وزیر نے خزانے سے 5 سکے نکالے اور اپنے معاون سے کہا:

 یہ 4 سونے کے سکے لیں اور ایک سیب لائیں.

 معاون وزیر نے محل کے منتظم کو بلایا اور کہا:

 سونے کے یہ 3 سکے لیں اور ایک سیب لائیں.

محل کےمنتظم نے محل کےچوکیداری منتظم کو بلایا اور کہا:

 یہ 2 سونے کے سکے لیں اور ایک سیب لائیں.

 چوکیداری کے منتظم نے گیٹ سپاہی کو بلایا اور کہا:

یہ 1 سونے کا سکہ لے لو اور ایک سیب لاؤ.

سپاہی سیب والے کے پیچھے گیا اور اسے گریبان سے پکڑ کر کہا:

خبیث دیہاتی ! تم اتنا شور کیوں کر رہے ہو؟ تمہیں نہیں پتا کہ یہ  مملکت کے بادشاہ کا محل ہے اور تم نے دل دہلا دینے والی آوازوں سےبادشاہ کی نیند میں خلل ڈالا ہے اب مجھے حکم  ہے کہ تجھ کو قید کر دوں۔

سیب فروش محل کے سپاہیوں کے قدموں میں گر گیا اور کہا:

میں نے غلطی کی جناب!

اس  گدھے کا بوجھ میری محنت کے ایک سال کا نتیجہ ہے ، یہ لے لو ، لیکن مجھے قید کرنے سے معاف رکھو!

سپاہی نے سیب  لیے اور آدھے اپنے پاس رکھے اور باقی اپنے منتظم افسر کو دے دیئے۔

اور اس نے اس میں سے آدھے رکھے اور آدھے اوپر کے افسر کو دے دیئے اور کہا:

 یہ 1 سونے کے سکے والے سیب ہیں۔

افسر نے ان سیبوں کا آدھا حصہ محل کےمنتظم کو دیا ، اس نے کہا:

 ان سیبوں کی قیمت 2 سونے کے سکے ہیں.

 محل کے منتظم نے آدھےسیب اپنے لیے رکھے اور آدھے اسسٹنٹ وزیر کو دیے اور کہا:

 ان سیبوں کی قیمت 3 سونے کے سکے ہیں.

اسسٹنٹ وزیر نے آدھے سیب اٹھائے اور وزیر کے پاس گیا اور کہا:

 ان سیبوں کی قیمت 4 سونے کے سکے ہیں.

 وزیر نے آدھے سیب اپنے لیے رکھے اور اس طرح صرف پانچ سیب چھوڑ کر حکمران کے پاس گیااور کہا:

 یہ 5 سیب ہیں جن کی مالیت 5 سونے کے سکے ہیں.


حاکم نے اپنے آپ سوچا کہ اس کے دور حکومت میں لوگ واقعی امیر اور خوشحال ہیں ، کسان نے پانچ سیب پانچ سونے کے سکوں کے عوض فروخت کیے۔ہر سونے کے سکے کے لیے ایک سیب۔

 اور لوگ ایک سونے کے سکے کے عوض ایک سیب خریدتے ہیں۔ یعنی وہ امیر ہیں۔

اس لیے بہتر ہے کہ ٹیکس میں اضافہ کیا جائے اور محل کے خزانے کو بھر دیا جائے۔

اور پھر عوام میں غربت بڑھتی گئی۔🥴


منقول از عارف انیس

اساتذہ کے لیے میدانِ کار




 

کسی کا پردہ فاش نہ کریں

ایک مصری عالم کا کہنا تھا کہ مجھے زندگی میں کسی نے لاجواب نہیں کیا سوائے ایک عورت کے جس کے ہاتھ میں ایک تھال تھا جو ایک کپڑے سے ڈھانپا ہوا تھا میں نے اس سے پوچھا تھال میں کیا چیز ہے۔

" وہ بولی اگر یہ بتانا ہوتا تو پھر ڈھانپنے کی کیا ضرورت تھی۔"

" پس اس نے مجھے شرمندہ کر ڈالا "

یہ ایک دن کا حکیمانہ قول نہیں بلکہ ساری زندگی کی دانائی کی بات ہے۔

" کوئی بھی چیز چھپی ہو تو اس کے انکشاف کی کوشش نہ کرو۔"

کسی بھی شخص کا دوسرا چہرہ تلاش کرنے کی کوشش نہ کریں خواہ آپ کو یقین ہو کہ وہ بُرا ہے یہی کافی ہے کہ اس نے تمہارا احترام کیا اور اپنا بہتر چہرہ تمہارے سامنے پیش کیا بس اسی پر اکتفا کرو۔

ہم میں سے ہر کسی کا ایک بُرا رخ ہوتا ہے جس کو ہم خود اپنے آپ سے بھی چھپاتے ہیں۔

" اللہ تعالٰی دنیا و آخرت میں ہماری پردہ پوشی فرمائے" ورنہ

جتنے ہم گناہ کرتے ہیں اگر ہمیں ایک دوسرے کا پتہ چل جائے تو ہم ایک دوسرے کو دفن بھی نہ کریں۔

جتنے گناہ ہم کرتے ہیں اس سے ہزار گنا زیادہ کریم رب ان پر پردے فرماتا ہے۔

" کوشش کریں کہ کسی کا عیب اگر معلوم بھی ہو تو بھی بات نہ کریں " آگے کہیں آپ کی وجہ سے اسے شرمندگی ہوئی تو کل قیامت کے دن اللہ پوچھ لے گا کہ جب میں اپنے بندے کی پردہ پوشی کرتا ہوں تو تم نے کیوں پردہ فاش کیا؟


سدا خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں


Copied

ایک ٹافی

 استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔

’’سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔‘‘

یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے ۔

چند لمحوں کے لیے کلا س میں خاموشی چھاگئی ،ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھااور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہورہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔

اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشال تھا. 

کچھ سالوں بعد استاد نے اپنی وہی ڈائری کھولی اور ان سات بچوں کے نام نکال کر ان کے بارے میں تحقیق شروع کی ۔ کافی جدوجہد کے بعد ان کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ اپنی زندگی میں کامیابی کے کئی زینے طے کر چکے ہیں اور ان کا شمار کامیاب افراد میں ہوتا ہے۔پروفیسر والٹر نے اپنی کلاس کے باقی طلبہ کا بھی جائزہ لیا،معلوم ہوا کہ ان میں اکثریت ایک عام سی زندگی گزار رہی تھی، جب کہ کچھ افراد ایسے بھی تھے، جنھیں سخت معاشی اور معاشرتی حالات کا سامنا تھا۔

 اس تمام تر کاوش اور تحقیق کا نتیجہ پروفیسر والٹر نے ایک جملے میں نکالا اور وہ یہ تھا. 

’’جو انسان دس منٹ تک صبر نہیں کرسکتا، وہ زندگی میں ترقی نہیں کر سکتا۔‘‘

 اس تحقیق کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی اور اس کا نام ’’مارش میلو تھیوری‘‘ پڑ گیا، کیوں کہ پروفیسر والٹر نے بچوں کو جو ٹافی دی تھی، اس کا نام ’’مارش میلو‘‘تھا. یہ فوم کی طرح نرم تھی ۔

اس تھیور ی کے مطابق دنیا کے کامیاب ترین افراد میں اور بہت ساری خوبیوں کے ایک ساتھ ایک خوبی ’’صبر‘‘ کی بھی پائی جاتی ہے، کیوں کہ یہ خوبی انسان کی قوتِ برداشت کو بڑھاتی ہے، جس کی بدولت انسان سخت حالات میں بھی مایوس نہیں ہوتا اور یوں وہ ایک غیر معمولی شخصیت بن جاتا ہے۔۔۔۔۔

مایوسی نہیں بلکے صبر رکھءے ان شاء اللہ کامیابی قدم چومے گی...


Copied

بچوں کو دنیاکی تعلیم کے ساتھ دین بھی سیکھائیں

 اولاد کو انسان کے لیے نعمت قرار دیا گیا ہے۔ ایک ایسی نعمت کہ جو انسان کو اس کی آخرت سے بھی غافل کردیتی ہے۔ محبت و شفقت کی وجہ سے اولاد کے دنیاوی اخراجات اٹھانا اور سہولیات فراہم کرنا ہر شخص بقدر استطاعت کرتا ہے۔ لیکن سچی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ اولاد کو دین کی راہ پر لگایا جائے یہی اخروی کامیابی کی ضامن ہے۔ اگر ہماری اولاد کی دنیا آرام سے گزرے مگر آخرت خراب ہو تو یہ کونسی سمجھداری اور محبت ہوئی۔

اسلام انسان کے لیے مکمل ضابطہ حیات ہے۔ وہ احکام جو ہم پر فرض ہیں ان کا سیکھنا بھی ہم پر ضروری ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ شریعت اسلامیہ ہم سے کیا تقاضا کرتی ہے۔ جس طرح دنیاوی فوائد سامنے ہونے کے ناتے دنیاوی امور انسان دوسروں کی دیکھا دیکھی بھی سیکھ لیتا ہے لیکن آخرت ہماری نظر کے سامنے نہیں ہے اس لیے اسے ہم اہمیت نہیں دیتے ۔ اگر دیکھا جائے تو وہی زندگی ابدی ہے۔ اس لیے نہ صرف ہمیں دین سیکھنا چاہیے بلکہ اپنی اولاد کو بھی دینی علوم سے آراستہ کرنا چاہیے۔

اپنی اولاد کی اچھی تربیت کے لیے ماں یعنی عورت جسے آدھی دنیا کہا جاتا ہے کی ذمے داری بہت اہم ہے۔ جامع ترمذی کی تین مختلف احادیث ہیں جن میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’اپنی اولاد کو جب وہ 7سال کی ہوجائے نماز کا حکم دیں اور جب وہ 10سال کے ہوجائی اور نماز نہ پڑھیں تو انہیں سرزنش کریں‘‘۔ ’’والد کا اپنی اولاد کو بہترین تربیت دینے سے بہتر کوئی تحفہ نہیں‘‘۔ ’’انسان اپنے بچے کو ادب سکھائے یہ اس کے لیے صدقہ کرنے سے بہتر ہے‘‘۔
ادب سے مراد پسندیدہ اعمال اور بلند اخلاق ہیں۔ جن باتوں کا شریعت نے حکم دیا ہے ان کا اہتمام کرنا اور جن باتوں سے منع کیا گیا ہے ان سے رکنا یہ سب آداب میں شامل ہیں۔ اپنے ماحول اور معاشرے میں رہنے والوں سے اچھے اخلاق سے پیش آنایعنی نہ ان سے بہت اچھے طریقے سے رہنے اخلاقات سے رہنا بھی سلیقہ آداب میں سے ہے۔

اب اگر والدین اپنی اولاد کو ان آداب سے محروم رکھے ہوئے ہیں تو یقیناًوہ شریعت کی بتائی ہوئی حدو د و قیود سے تجاوز یا کمی کر تے ہیں۔ ہمیں سوچنا ہے کہ جب ہم مسلمان ہیں تو پھر طرز زندگی غیروں کا کیوں اپنایا ہوا ہے۔ کیا ایک مسلم کو یہ لائق ہے کہ اس کے بچوں کو قرآن ، نماز چاہے آئے یا نہ انگریزی فرفر آنی چاہیے۔ پھر ایک مسئلہ جو اہم ہے کہ کچھ لوگ اپنے بچوں کو دینی تعلیم سیکھا دیتے ہیں مگر بچیوں کو بالکل بھی دینی تعلیم نہیں سیکھائی جاتی۔ اگرچہ کچھ مقامات پر تعلیم دی جاتی ہے تاہم اکثریت نہ جانے کیوں اس کو معیوب سمجھتی ہے۔ ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم کو غیر ضروری اور بکثرت مقامات پر معیوب بھی سمجھا جاتا ہے ۔ لڑکیاں ضعیف جنس ہیں ۔ مردوں سے ہر لحاظ سے کمزور ہیں ۔ بہت سے گھرانوں میں یہ مقہور و مظلوم ہوکر زندگی گزارتی ہیں چہ جائے کہ ان کے ساتھ حسن سلوک اور شفقت کا برتاؤ کیا جائے ان کے جائز حقوق بھی سلب کرلیے جاتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکیوں کی بہترین پرورش اور ان کی خیر خبر رکھنے والے کو جنت کی بشارت دی ہے فرمایا’’جس نے تین بیٹیوں/ بہنوں کی اچھی پرورش کی انہیں ادب سکھایا محبت و شفقت کا برتاو کیا یہاں تک کہ وہ اس سے بے نیاز ہوگئیں، اللہ اس کے لیے جنت واجب کردے گا‘‘۔ سوال کرنے والے نے پوچھا اگر دو ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تب بھی‘‘۔ حدیث بیان کرنے والے فرماتے ہیں ہیں کہ اگر ایک کے بارے میں بھی سوال ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تب بھی یہی فرماتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ’’جو شخص بچیوں کی وجہ سے آزمایا گیا اس کے لیے جنت واجب کردی گئی‘‘ (مسلم)

آزمانے کا مطلب یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں بیٹی کی پیدائش کو معیوب سمجھا جاتا تھا اور بیٹی کی خوشخبری پر کفار کے چہرے سیاہ ہوجاتے تبھی اسے ایک آزمائش کہا گیا۔ مگر موجودہ دور میں بھی بچیوں کی وجہ سے بہت سی آزمائشیں آتی ہیں۔ کچھ خود ساختہ ہوتی ہیں تو کچھ پیدا ہوجاتی ہیں۔ تاہم اگر کوئی اپنی بچیوں کو تعلیم کے لیے لے آنے اور لے جانے کے لیے کوشش جاری رکھے اور انہیں اچھی تربیت دے تو یہ ایک آزمائش تو ہے مگر یہ اس کے لیے جنت میں جانے کا سبب بھی ہے۔ بچیوں کی تعلیم و تربیت ان کی پرورش بھی ایک آزمائش ہے اور وہ معاشی مسائل میں والدین کا ساتھ نہیں دے پاتیں اس لحاظ سے بھی آزمائش کہا گیا۔
یہ بات تو طے ہے کہ بچیوں کی دینی تعلیم ضروری ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیوں ضروری ہے۔ عورت کا ایک روپ ماں ہے۔ ماں بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے اگر ماں باشعور اور دینی تعلیم سے بہرہ ور ہو تو کئی خاندان باشعور اور اچھی تربیت کے حامل ہوں گے۔ کسی نے کہا تھا کہ ایک اگر تم مجھے ایک پڑھی لکھی ماں دو تو میں تمہیں ایک پڑھا لکھا معاشرہ دوں گا۔

عہد نبوت میں بھی خواتین کو دینی معلومات سکھانے کے لیے الگ سے دن مقرر تھا۔ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم خصوصا خواتین سے مخاطب ہوتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آنے والی خواتین کو پیچیدہ اور مشکل مسائل سیکھاتی تھیں۔ دینی علوم سیکھانے کے پس پردہ بہت سی حکمتیں بھی شامل ہیں۔ آپ اپنی بچی کو دینی تعلیم دیں گے تو اسے یہ علم ہوگا کہ اس کے ذمے کون کون سے حقوق اللہ اور حقوق العباد ہیں۔ اس کے فرائض کیا ہیں۔ اس طرح بچیوں کو نہ صرف گھر بلکہ باہر کے مسائل سے بھی واقفیت ہوگی۔ اس کے اٹھنے بیٹھنے چلنے کھانے پینے الغرض وہ تمام مسائل معلوم ہوں گے جو وہ شاید کسی سے پوچھنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہو۔ اپنے محارم پہچان لے گی۔ اسے اپنی حدود کا پتا ہوگا۔ وہ اپنی اولاد اور خود اپنے کے لیے حرام حلال میں امتیاز کر پائے گی۔
اگر دیکھا جائے تو دینی علوم سے واقف بچیاں نہ صرف باحیا ہوتی ہیں بلکہ وہ اپنے بڑوں کا ادب کرنے والی بھی ہوتی ہیں۔ انہیں رشتوں کی پہچان ہوتی ہے۔ اپنی بچیوں کو اچھے اوربرے کی تمیز دینی ہے تو دینی ماحول سے مزین فی میل اسلامک سینٹرز میں داخلہ کروائیں۔ یاد رکھیں ماڈرن اسکول میں کھڑی چند روپوں کے عوض پڑھانے والی ٹیچر جسے خود تربیت کی ضرورت ہو کبھی بھی آپ کی بچیوں کو تربیت نہیں دے سکتی۔ اسکول اور کالج میں جانے والی آپ کی بچی اور تو بہت کچھ سیکھ جائے گی جو اسے نہیں سیکھنا چاہیے تاہم وہ سب نہیں سیکھ پائے گی جو اس کے مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے۔
روز قیامت کوئی عذر قبول نہیں کیا جائے گا۔ اپنی اولاد کو بھی دینی تعلیم دیں اور وہ خواتین جو بڑی عمر کو پہنچ چکی ہوں وہ بھی عمر یا شرم کو دین سیکھنے کی راہ میں حائل نہ ہونے دیں۔ دین سیکھیں اپنے اندر دین سیکھنے کے لیے شوق اور طلب صادق پیدا کریں ۔ اللہ دین آپ کو سکھانے کے اسباب مہیا فرمادے گا۔

از: بنتِ عطا

یقین کیا ہے؟

یقین وہ ذہنی و قلبی کیفیت ہے کہ جو اس بچے کے اندر تھی کہ 

سب بارش کے لیے اجتماعی دعا کے لیے نکلے اور وہ ایک ننھا سا بچہ اپنے ساتھ چھتری بھی بغل میں لیے چلا آیا۔

لوگوں نے پوچھا کہ چھتری کیوں لائے ہو؟

اس نے کہا کہ ہم دعا مانگے گے ناں۔۔۔۔ تو  بارش ہوگی، اس سے بچنے کے چھتری تو چاہیے ہوگی ناں؟؟

تو !!!مینٹل اسٹیٹ۔۔۔ایموشنل اسٹیٹ!!! کا مل کر کسی شک و شبہ کی کیفیت سے نکل آنا ہی "یقین" ہے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یقین کا پہلا زینہ ہے: 

خود پر یقین

یہ وہ یقین ہے جو ہر فرد کی زندگی کامیاب۔۔۔۔پرسکون۔۔۔۔خوش باش کرنے اور اپنے مقاصد و اہداف مکمل کے لیے درکار ہے یعنی

اپنی ذات۔۔۔

صلاحیتوں۔۔۔

شخصیت کی جہتوں۔۔۔

مشکلات سے نپٹنے کی استعداد۔۔۔۔

اعلی خوبیوں کے حصول کی لگن۔۔۔

کا یقین۔


والدین کو خود پر یقین کہ چیخنا و چلّانا نہیں۔۔۔مارنا نہیں۔۔۔نرمی و محبت کا مرکز بن جانا ہے بچوں کے لیے۔۔۔۔۔۔۔

بزنس مین کو یقین کہ اپنے کاروبار کو بہترین طریقے شروع کرنا، چلانا اور کامیاب کرنا ہے۔۔۔۔۔۔

اساتذہ/علماء کو یقین کہ وہ رول ماڈل بن کر نسلوں کی نسلیں "بہترین انسان" کی شکل میں ڈھال سکتے ہیں۔۔۔۔۔


دنیاوی کامیابیوں۔۔بلند و بالا اہداف و منصوبوں کو مکمل کرنا۔۔بہترین تعلقات بنائے رکھنا۔۔۔۔۔ذہنی و جسمانی صحت کو حیرت انگیز کیفیت میں رکھنا

یہ سب "خود پر یقین" کے چند فوائد و اشارات ہیں۔

کرسی کو سلام

 نوکری کے دوران بننے والے تعلقات کی حقیقت ... 

اور کرسی کو سلام


 کہتے ہیں کہ ایک کسان نے کھیتوں میں کام کرتے ہوئے بٹیرے پکڑ لیے، اس نے سوچا خود اُس نے اِن بٹیروں کا کیا کرنا ہے کیوں نہ یہ سب سے بڑے اور با اثر افسر کو تحفے میں دئے جائیں . اب بھلا پٹواری سے بڑا افسر کون ہو سکتا تھا اور پھر کسان کو پٹواری سے کام بھی تھا تو وہ  چل پڑا کہ چل کے پٹواری صاحب کو خوش کرتے ہیں...

  پٹواری کے گھر کے باہر پہنچ کر سادہ لوح دیہاتی کسان نے باہر سے ہی  آواز دی 

کسان :  پٹواری صاحب جی...

پٹواری: ہاں  اوئے رحمیاں ، کی آ

کسان: جی چودھری جی  بٹیرے کھا لیندے او ؟ 

( اسی دوران ایک ستم ظریف جو پاس سے گزر رہا تھا، اس نے آہستہ سے بتا دیا کہ پٹواری کا تبادلہ ہو گیا ہے)

پٹواری قدرے خوشی سے : آہو کھا لینے آں

کسان: چنگا فیر پھڑیا کرو تے کھایا کرو...

ہمیں پیار ہے پاکستان سے

جہیز لعنت نہیں ہے

جہیز بیٹیوں کو دیجیے اور ضرور دیجیے۔ کیونکہ یہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سب بیٹیوں کو دیا ہے۔ گر یہ لعنت ہوتی تو نبیِ محتشم کبھی بھی اپنی لخت جگر ہائے کو عطا نہ کرتے۔ فقط اتنا خیال رکھیے کہ اپنی حیثیت کے مطابق دیجیے۔ قرضہ اٹھا کر جہیز دینے کا دکھلاوا نہ کیجیے کیونکہ اسراف ہر شئے میں برا ہے۔

جس معاشرے میں ساس بہو کے ہاتھ سے اپنا گلاس چھین لے۔ جہاں بہوؤں کو حصے کی چارپائیاں گن کر دی جائیں۔

اس معاشرے میں 

جہیز۔۔ بیٹیوں کا سسرال میں مان ہے۔ 

جہیز۔۔ بیٹیوں کی سسرال میں عزت ہے۔ 

جہیز۔۔ آپکی بیٹی کا سسرال میں بھرم ہے۔

رابطہ اور تعلق

ایک دفعہ ایک صحافی اپنے  پرانے ریٹائرڈ استاد کا انٹرویو کر رہا تھا اور اپنی تعلیم کے پرانے دور کی مختلف باتیں پوچھ رہا تھا۔ اس انٹرویو کے دوران نوجوان صحافی نے اپنے استاد سے پوچھا۔۔سر ایک دفعہ آپ نے اپنے لیکچر کے دوران ۔۔contact ...اور connection ... کے الفاظ پر بحث کرتے ہوے ان دو الفاظ کا فرق سمجھایا تھا اس وقت بھی میں کنفیوز تھا اور اب چونکہ بہت عرصہ ہو گیا ہے مجھے وہ فرق یاد نہیں رہا ۔آپ آج مجھے ان دو الفاظ کا مطلب سمجھا دیں  تاکہ مجھے اور میرے چینل کے ناظرین کو آگاہی ہو سکے۔

استاد مسکرایا اور  اس سوال کے جواب دینے سے کتراتے ہوے  صحافی سے پوچھا ۔کیا آپ اسی شھر سے تعلق رکھتے ہیں ؟ شاگرد نے جواب دیا ۔۔جی ہاں سر میں اسی شھر کا ہوں۔ استاد نے پوچھا آپ کے گھر میں کون کون رہتا ہے۔ شاگرد نے سوچا کہ استاد صاحب میرے سوال کا جواب نہیں دینا چاہتے اس لیے ادھر ادھر کی مار رہے ہیں۔ بہر حال اس نے بتایا میری ماں وفات پا چکی ہے۔والد صاحب گھر میں رہتے ہیں۔ تین بھائی اور ایک بہن ہے اور سارے شادی شدہ ہیں۔

 ٹیچر نے مسکراتے ہوے نوجوان صحافی سے پوچھا ۔۔تم اپنے باپ سے بات چیت کرتے رہتے ہو؟ اب نوجوان کو غصہ بھی آیا اور کہا جی میں باپ سے گپ شپ کرتا رہتا ہوں۔ استاد نے پوچھا یاد کرو پچھلی دفعہ تم باپ سے کب ملے تھے؟ اب نوجوان نے غصے کا گھونٹ پیتے ہوے کہا ۔شاید ایک ماہ ہو گیا ہے جب میں ابو کو ملا تھا۔ 

استاد نے کہا تم اپنے بہن بھائیوں سے تو اکثر ملتے رہتے ہوگے۔ بتاو  پچھلی دفعہ تم سب کب اکٹھے ہوے تھے اور گپ شپ حال احوال پوچھا تھا؟ اب تو صحافی صاحب کے ماتھے پر پسینہ آ گیا اور لینے کے دینے پڑ گیے وہ سوچنے لگا میں تو استاد کا انٹرویو لینے چلا تھا مگر الٹا استاد میرا انٹرویو لینے لگا ہے۔ 

اس نے ایک آہ بھر کر لمبا سانس لیتے ہوۓ بتایا کہ شاید دو سال ہو گیے جب ہم بہن بھائی اکٹھے ہوے تھے۔ استاد نے ایک اور سوال داغتے ہوے پوچھا تم لوگ کتنے دن اکٹھے رہے تھے؟۔ نوجوان نے ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے جواب دیا ہم لوگ تین دن اکٹھے رہے تھے۔ استاد نے پوچھا تم اپنے والد کے پاس بیٹھ کر کتنا وقت گزارتے ہو؟ اب تو نوجوان صحافی بہت پریشان ہو گیا اور نیچے میز پر رکھے کاغذ پر کچھ لکھنے لگا۔ استاد نے پوچھا کبھی تم نے باپ کے ساتھ ناشتہ۔لنچ یا ڈنر بھی کیا ہے؟کبھی آپ نے ابو سے پوچھا وہ کیسے ہیں ؟کبھی تم نے باپ سے دریافت کیا کہ تمھاری ماں کے مرنے کے بعد اس کے دن کیسے گزر رہے ہیں؟ٍ 

اب تو انٹرویو کرنے والے صحافی کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو برسنے لگے۔ استاد نے صحافی کا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ بھائی پریشان، شرمندہ، مایوس یا اداس ہونے کی ضرورت نہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے بے خبری میں تمھیں ہرٹ کیا اور دکھ پہنچایا۔ لیکن میں کیا کرتا مجھے آپ کے سوال Contact اور connection .. کا جواب دینا تھا۔ 

اب سنو۔۔۔ ان دو لفظوں کا فرق یہ ہے کہ تمھارا contact یا رابطہ تو تمھارے ابو سے ہے مگر connection یا تعلق ابو سےنہیں رہا یا کمزور ہے۔کیونکہ تعلق یا کنکشن دلوں کے درمیان ہوتا ہے ۔ جب کنکشن یا تعلق ہوتا ہے تو آپ ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے ہیں 

ایک دوسرے کا دکھ درد بانٹتے ہیں۔ ہاتھ ملاتے گلے سے لگتے ہیں اور ایک دوسرے کے کام خوشی خوشی سرانجام دیتے ہیں۔ جیسے ایک معصوم بچے کی ماں اس کو سینے سے لگاتی ہے چومتی بغیر مانگے دودھ پالاتی ہے اس کی گرمی سردی کا خیال رکھتی ہے جب وہ چلنا شروع کرتا ہے تو ساے کی طرح اس کے پاس رہتی ہے تاکہ وہ گر نہ جاے کوئی غلط چیز نہ کھا لے۔گر پڑے تو اس بچے کو گلے سے لگا کر چپ کراتی ہے۔ تو میرے پیارے شاگرد  آپ کے باپ اور بہن بھائیوں کے ساتھ صرف contact یا رابطہ ہے مگر آپ کے درمیان connection یا تعلق نہیں ہے۔ 

نوجوان صحافی نے اپنے آنسو رومال سے صاف کیے اور استاد کا شکریہ ادا کرتے ہوے کہا سر آپ نے مجھے آج ایک بہت بڑا سبق پڑھا دیا جو زندگی بھر نہیں بھولے گا۔ 

 آج ہمارے معاشرے کا یہی حال ہے کہ ہمارے آپس میں بڑے رابطے ہیں مگر کنکشن بالکل نہیں۔ آج فیس بک پر ہمارے پانچ ھزار فرینڈز ہیں مگر حقیقی زندگی میں ایک بھی نہیں۔آج ہم صبح سویرے سیکڑوں دوستوں کو گڈ مارننگ کہ کر بغیر خوشبو کے پھول بھیجتے ہیں حقیقی زندگی میں ایک پھول کی پتی بھی نہیں ملتی آج ہمارے فیس بک پر ھزاروں ہیپی برتھ ڈے کے پیغامات اور خوبصورت کیک کی تصویریں ملتی ہیں حقیقی زندگی میں ایک بھی یار نہیں جو گھر آکے گلے سے ملکر سالگرہ کی مبارک دے اور سینے سے سینہ بھینچ کر کہے سالگرہ مبارک میرے یار۔۔ آج ہم تمام لوگ اپنے کاموں میں مصروف ہیں اور کاغذ کے بے خوشبو پھولوں ۔بڑے کیک کی تصویروں سے دل بہلاتے ہیں۔ کسی عزیز  کے بچھڑنے پہ چند تعزیتی الفاظ اور رشتوں کے سارے تقاضے پورے۔