جنتی بیوی

قبرستان میں قدم رکھتے ہی ایک مہک نے استقبال کیا

 یہ خوشبو اس سے پہلے کبھی نہیں سونگھی تھی اور نہ محسوس کی تھی ۔

میں ہر جمعے کو صبح فجر کی نماز کے بعد اپنے والد صاحب کی قبر پر جاتا فاتحہ خوانی کرتا

 اور وہاں سے ہی اپنے آفس  چلا جاتا

 ایک عرصہ ہو گیا تھا مگر آج میں نے قبرستان میں ایک نئی خوشبو محسوس کی

 جو مجھے بے چین کر رہی تھی 

یہ خوشبو کسی طرح سے بھی دنیاوی خوشبو نہیں لگ رہی تھی

 بہرحال میں والد صاحب کی قبر پر پہنچا تو ان سے چند فاصلے پر ہی ایک نئی قبر بنی تھی تازہ پھول اور چادر سے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ دو یا تین دن پہلے ہی یہ قبر بنی ہے

 والد صاحب کی قبر سے فارغ ہو کر جاتے ہوۓ اس قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے رک گیا

 فاتحہ خوانی کے دوران محسوس کیا خوشبو اس قبر سے ہی آ رہی ہے 

کنفرم کرنے کے لیے قبر کی مٹی مٹھی میں بھری تو ایک دم ٹھٹھک گیا

 قبر کی مٹی ٹھنڈی تھی جیسے نم ہو

 جبکہ مٹی بالکل خشک تھی اور کمال حد تک ٹھنڈی تھی

 بہرحال مٹی کو وہیں قبر پر پھینک دیا اور ہاتھ جھاڑنے کے بعد چل پڑا 

بھائی کی دکان کھولی پہلا گاہگ آیا

 اس کو سامان دیا تو اس نے کہا زمان بھائی آج خوشبو تو بہت کمال کی لگائی ہے

خوشبو؟؟؟ کون سی خوشبو؟

 تو اس نے کہا زمان بھائی خوشبو آپ لگاتے ہو اور پوچھتے ھم سے ہو کون سی خوشبو بہت بھلے مانس آدمی ہو آپ بھی زمان بھائی

 یہ کہتے ہوۓ وہ چل پڑا ۔

میں نے جب اپنے ہاتھ کو سونگھا تو وہی خوشبو میرے ہاتھ سے آ رہی تھی

تمام دن میں اس خوشبو کو محسوس کرتا رہا ہاتھ دھونے کے باوجود بھی میرا ہاتھ معطر رہا 


اگلے دن ہفتے کو بھی میں نہ چاہتے ہوۓ قبرستان چلا گیا

 والد صاحب کی قبر پر فاتحہ خوانی کے بعد اس قبر پر فاتحہ خوانی کی۔۔

 کس کی قبر ہے یہ ؟؟

کون ہے جو اس قدر نیک ہے ؟؟

 جس کی قبر ٹھنڈی اور خوشبودار ہے

 ایسا کون سا عمل کر دیا کہ اتنا بڑا انعام پا لیا۔۔؟؟

 اس بات نے مجھے بے چین سا کر دیا 

گورکن سے اس قبر کے متعلق پوچھا تو اس نے بتایا کہ خاتون کی قبر ہے

 یہ جان کر اور بھی حیرت ہوئی کہ عورت کو اس قدر شاندار مقام کیسے ملا ۔

اگلے دن اتوار تھا دیر تک سونے کی عادت ہونے کے باوجود صبح فجر کی نماز کے وقت اٹھ کھڑا ہوا اور قبرستان روانہ ہوگیا 

قبرستان میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں اسی خاتون کی قبر پر ایک باریش آدمی قرآن خوانی کر رہا ہے

 میں والد صاحب کی قبر پر فاتحہ خوانی کرنے لگا فاتحہ خوانی کے بعد میں نے اس آدمی کی طرف دیکھا جو اب دعا مانگ رہا تھا 

جیسے ہی وہ دعا سے فارغ ہوا تو باہر کی جانب چل پڑا اس کو جاتے دیکھ کر میں بھی اس کے پیچھے ہو لیا 

جیسے ہی وہ دروازے سے باہر نکلا میں نے آواز دے دی سر بات سنیں ایک منٹ پلیز ۔۔۔

جی فرمائیں۔۔۔۔

سر میں معذرت چاہتا ہوں میں نے آپ کو تکلیف دی مگر میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں اگر آپ اجازت دیں تو۔

جی آپ پوچھیں کیا بات ہے انتہائی محبت سے اس شحض نے جواب دیا

شکریہ سر جزاک اللّه

 میں دراصل جاننا چاہ رہا تھا یہ کن کی قبر ہے جہاں آپ قرآن خوانی کر رہے تھے 

اگر آپ مناسب سمجھیں تو بتا دیجئے۔

یہ آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ اس نے سوال کیا

دراصل اس قبر سے آنے والی خوشبو نے مجھے بے چین کر دیا ہے 

ایسی خوشبو میں نے آج تک محسوس نہیں کی مجھے یہ دنیاوی خوشبو نہیں لگتی 

میں جاننا چاہ رہا تھا کہ صاحب قبر نے ایسا کون سا عمل کیا کہ یہ مقام ملا کہ قبر ٹھنڈی اور خوشبودار ہو گئی ۔

یہ سن کر اس شحض نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا قبر ٹھنڈی اور خوشبودار کیوں نہ ہو

 اس نے اللّٰه تعالیٰ کو راضی ہی ایسے کیا ہے۔

جی میں یہی جاننا چاہ رہا تھا کہ ایسا کون سا عمل ہے جس سے یہ سعادت نصیب ہوئی۔۔۔۔

تو اس نے بتایا کہ یہ میری زوجہ کی قبر ہے۔۔۔

 تیس سال ھماری رفاقت رہی،

 میں چار بہنوں کا اکلوتا بھائی ہوں 

میری بہنوں اور ماں کو میرا سہرا دیکھنے کا بے حد شوق تھا

 سرکاری نوکری ملتے ہی چاند سی دلہن کی تلاش شروع کر دی گئی

 یوں دنوں میں لڑکی کی تلاش کا کام مکمل ہوا شادی ہوئی اور ماں بہنوں نے اپنے ارمان دل کھول کر پورے کیے ۔۔۔

شادی کی پہلی رات میں نے گھونگھٹ اٹھانے سے پہلے اپنی پگ اس کے قدموں میں رکھتے ہوۓ صاف الفاظ میں بتا دیا 

مجھے معاف کر دو میں حق زوجیت ادا کرنے سے بالکل قاصر ہوں ، میڈیکلی طور پر مکمل ان فٹ ہوں 

صرف اپنی والدہ اور بہنوں کی خوشی کی خاطر خود غرض بن گیا ہوں۔۔۔

 اس نے وہ پگ میرے سر پر رکھتے ہوۓ کہا 

آپ جیسے بھی ہیں میرا سہاگ ہیں

 میرا نصیب ہیں 

مجھے اب آپ کے ساتھ ہی رہنا ہے

 اس دن کے بعد اس اللّٰه کی بندی نے میرے ساتھ تیس سال گزارے۔۔

 میرے گھر والوں کی ہر بات برداشت کی بانجھ ہونے کے طعنے بھی سنے

 مگر میرا پردہ رکھا ۔۔۔۔

اللّٰه تعالیٰ کیسے اس کی قبر کو ٹھنڈا اور خوشبودار نہ کرے جس نے اتنی پاکباز زندگی گزاری ہو ۔۔

اس شحض کی تمام بات سن کر اس خاتون پر رشک آنے لگا

 جس نے دنیا میں صبر کیا اور اعلی مقام حاصل کیا۔۔۔

 آج کل کے دور میں کچھ بھی حاصل کرنا کیا مشکل ہے ۔۔

 عورت مرد ذرا سے بیمار ہوں ،

حلال حرام کی تمیز کیے بغیر اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے کچھ بھی کر گزرتے ہیں۔۔

 تھوڑا سا فرق لگنے پر بیوی شوہر اور شوہر بیوی کو کھری کھری سنا دیتے ہے

 معاشرہ ایسی مثالوں سے بھرا پڑا ہے 

صبر کا دامن ھم نے چھوڑ دیا ہے ۔۔

سارا کچھ صرف دنیا میں ہی لینا چاہتے ہیں ،

آخرت کی کوئی امید نہیں رکھتے۔


منقول

رازق، رازق، تو ہی رازق

 پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں ایک حکیم صاحب ہوا کرتے تھے، جن کا مطب ایک پرانی سی عمارت میں ہوتا تھا۔ حکیم صاحب روزانہ صبح مطب جانے سے قبل بیوی کو کہتے کہ جو کچھ آج کے دن کے لیے تم کو درکار ہے ایک چٹ پر لکھ کر دے دو۔ بیوی لکھ کر دے دیتی۔ آپ دکان پر آ کر سب سے پہلے وہ چٹ کھولتے۔ بیوی نے جو چیزیں لکھی ہوتیں۔ اُن کے سامنے اُن چیزوں کی قیمت درج کرتے، پھر اُن کا ٹوٹل کرتے۔ پھر اللہ سے دعا کرتے کہ یااللہ! میں صرف تیرے ہی حکم کی تعمیل میں تیری عبادت چھوڑ کر یہاں دنیا داری کے چکروں میں آ بیٹھا ہوں۔ جوں ہی تو میری آج کی مطلوبہ رقم کا بندوبست کر دے گا۔ میں اُسی وقت یہاں سے اُٹھ جائوں گا اور پھر یہی ہوتا۔ کبھی صبح کے ساڑھے نو، کبھی دس بجے حکیم صاحب مریضوں سے فارغ ہو کر واپس اپنے گائوں چلے جاتے۔

ایک دن حکیم صاحب نے دکان کھولی۔ رقم کا حساب لگانے کے لیے چِٹ کھولی تو وہ چِٹ کو دیکھتے کے دیکھتے ہی رہ گئے۔ ایک مرتبہ تو ان کا دماغ گھوم گیا۔ اُن کو اپنی آنکھوں کے سامنے تارے چمکتے ہوئے نظر آ رہے تھے لیکن جلد ہی انھوں نے اپنے اعصاب پر قابو پا لیا۔ آٹے دال وغیرہ کے بعد بیگم نے لکھا تھا، بیٹی کے جہیز کا سامان۔ کچھ دیر سوچتے رہے پھشکر۔‘‘ چیزوں کی قیمت لکھنے کے بعد جہیز کے سامنے لکھا ’’یہ اللہ کا کام ہے اللہ جانے۔‘‘

ایک دو مریض آئے ہوئے تھے۔ اُن کو حکیم صاحب دوائی دے رہے تھے۔ اسی دوران ایک بڑی سی کار اُن کے مطب کے سامنے آ کر رکی۔ حکیم صاحب نے کار یا صاحبِ کار کو کوئی خاص توجہ نہ دی کیونکہ کئی کاروں والے ان کے پاس آتے رہتے تھے۔

دونوں مریض دوائی لے کر چلے گئے۔ وہ سوٹڈبوٹڈ صاحب کار سے باہر نکلے اور سلام کرکے بنچ پر بیٹھ گئے۔ حکیم صاحب نے کہا کہ اگر آپ نے اپنے لیے دوائی لینی ہے تو ادھر سٹول پر آجائیں تاکہ میں آپ کی نبض دیکھ لوں اور اگر کسی مریض کی دوائی لے کر جانی ہے تو بیماری کی کیفیت بیان کریں۔

وہ صاحب کہنے لگے حکیم صاحب میرا خیال ہے آپ نے مجھے پہچانا نہیں۔ لیکن آپ مجھے پہچان بھی کیسے سکتے ہیں؟ کیونکہ میں ۱۵، ۱۶ سال بعد آپ کے مطب میں داخل ہوا ہوں۔ آپ کو گزشتہ ملاقات کا احوال سناتا ہوں پھر آپ کو ساری بات یاد آجائے گی۔ جب میں پہلی مرتبہ یہاں آیا تھا تو وہ میں خود نہیں آیا تھا۔ خدا مجھے آپ کے پاس لے آیا تھا کیونکہ خدا کو مجھ پر رحم آگیا تھا اور وہ میرا گھر آباد کرنا چاہتا تھا۔ ہوا اس طرح تھا کہ میں لاہور سے میرپور اپنی کار میں اپنے آبائی گھر جا رہا تھا۔ عین آپ کی دکان کے سامنے ہماری کار پنکچر ہو گئی۔

ڈرائیور کار کا پہیہ اتار کر پنکچر لگوانے چلا گیا۔ آپ نے دیکھا کہ میں گرمی میں کار کے پاس کھڑا ہوں۔ آپ میرے پاس آئے اور آپ نے مطب کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ادھر آ کر کرسی پر بیٹھ جائیں۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ میں نے آپ کا شکریہ ادا کیا اور کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔

ڈرائیور نے کچھ زیادہ ہی دیر لگا دی تھی۔ ایک چھوٹی سی بچی بھی یہاں آپ کی میز کے پاس کھڑی تھی اور بار بار کہہ رہی تھی ’’چلیں ناں، مجھے بھوک لگی ہے۔ آپ اُسے کہہ رہے تھے بیٹی تھوڑا صبر کرو ابھی چلتے ہیں۔

میں نے یہ سوچ کر کہ اتنی دیر سے آپ کے پاس بیٹھا ہوں۔ مجھے کوئی دوائی آپ سے خریدنی چاہیے تاکہ آپ میرے بیٹھنے کو زیادہ محسوس نہ کریں۔ میں نے کہا حکیم صاحب میں ۵،۶ سال سے انگلینڈ میں ہوتا ہوں۔ انگلینڈ جانے سے قبل میری شادی ہو گئی تھی لیکن ابھی تک اولاد کی نعمت سے محروم ہوں۔ یہاں بھی بہت علاج کیا اور وہاں انگلینڈ میں بھی لیکن ابھی قسمت میں مایوسی کے سوا اور کچھ نہیں دیکھا۔

آپ نے کہا میرے بھائی! توبہ استغفار پڑھو۔ خدارا اپنے خدا سے مایوس نہ ہو۔ یاد رکھو! اُس کے خزانے میں کسی شے کی کمی نہیں۔ اولاد، مال و اسباب اور غمی خوشی، زندگی موت ہر چیز اُسی کے ہاتھ میں ہے۔ کسی حکیم یا ڈاکٹر کے ہاتھ میں شفا نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی دوا میں شفا ہوتی ہے۔ شفا اگر ہونی ہے تو اللہ کے حکم سے ہونی ہے۔ اولاد دینی ہے تو اُسی نے دینی ہے۔

مجھے یاد ہے آپ باتیں کرتے جا رہے اور ساتھ ساتھ پڑیاں بنا رہے تھے۔ تمام دوائیاں آپ نے ۲ حصوں میں تقسیم کر کے ۲ لفافوں میں ڈالیں۔ پھر مجھ سے پوچھا کہ آپ کا نام کیا ہے؟ میں نے بتایا کہ میرا نام محمد علی ہے۔ آپ نے ایک لفافہ پر محمدعلی اور دوسرے پر بیگم محمدعلی لکھا۔ پھر دونوں لفافے ایک بڑے لفافہ میں ڈال کر دوائی استعمال کرنے کا طریقہ بتایا۔ میں نے بے دلی سے دوائی لے لی کیونکہ میں تو صرف کچھ رقم آپ کو دینا چاہتا تھا۔ لیکن جب دوائی لینے کے بعد میں نے پوچھا کتنے پیسے؟ آپ نے کہا بس ٹھیک ہے۔ میں نے زیادہ زور ڈالا، تو آپ نے کہا کہ آج کا کھاتہ بند ہو گیا ہے۔

میں نے کہا مجھے آپ کی بات سمجھ نہیں آئی۔ اسی دوران وہاں ایک اور آدمی آچکا تھا۔ اُس نے مجھے بتایا کہ کھاتہ بند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آج کے گھریلو اخراجات کے لیے جتنی رقم حکیم صاحب نے اللہ سے مانگی تھی وہ اللہ نے دے دی ہے۔ مزید رقم وہ نہیں لے سکتے۔ میں کچھ حیران ہوا اور کچھ دل میں شرمندہ ہوا کہ میرے کتنے گھٹیا خیالات تھے اور یہ سادہ سا حکیم کتنا عظیم انسان ہے۔ میں نے جب گھر جا کربیوی کو دوائیاں دکھائیں اور ساری بات بتائی تو بے اختیار اُس کے منہ سے نکلا وہ انسان نہیں کوئی فرشتہ ہے اور اُس کی دی ہوئی ادویات ہمارے من کی مراد پوری کرنے کا باعث بنیں گی۔ حکیم صاحب آج میرے گھر میں تین پھول اپنی بہار دکھا رہے ہیں۔

ہم میاں بیوی ہر وقت آپ کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ جب بھی پاکستان چھٹی آیا۔ کار اِدھر روکی لیکن دکان کو بند پایا۔ میں کل دوپہر بھی آیا تھا۔ آپ کا مطب بند تھا۔ ایک آدمی پاس ہی کھڑا ہوا تھا۔ اُس نے کہا کہ اگر آپ کو حکیم صاحب سے ملنا ہے تو آپ صبح ۹ بجے لازماً پہنچ جائیں ورنہ اُن کے ملنے کی کوئی گارنٹی نہیں۔ اس لیے آج میں سویرے سویرے آپ کے پاس آگیا ہوں۔

محمدعلی نے کہا کہ جب ۱۵ سال قبل میں نے یہاں آپ کے مطب میں آپ کی چھوٹی سی بیٹی دیکھی تھی تو میں نے بتایا تھا کہ اس کو دیکھ کر مجھے اپنی بھانجی یاد آرہی ہے۔

حکیم صاحب ہمارا سارا خاندان انگلینڈ سیٹل ہو چکا ہے۔ صرف ہماری ایک بیوہ بہن اپنی بیٹی کے ساتھ پاکستان میں رہتی ہے۔ ہماری بھانجی کی شادی اس ماہ کی ۲۱ تاریخ کو ہونا تھی۔ اس بھانجی کی شادی کا سارا خرچ میں نے اپنے ذمہ لیا تھا۔ ۱۰ دن قبل اسی کار میں اسے میں نے لاہور اپنے رشتہ داروں کے پاس بھیجا کہ شادی کے لیے اپنی مرضی کی جو چیز چاہے خرید لے۔ اسے لاہور جاتے ہی بخار ہوگیا لیکن اس نے کسی کو نہ بتایا۔ بخار کی گولیاں ڈسپرین وغیرہ کھاتی اور بازاروں میں پھرتی رہی۔ بازار میں پھرتے پھرتے اچانک بے ہوش ہو کر گری۔ وہاں سے اسے ہسپتال لے گئے۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ اس کو ۱۰۶ ڈگری بخار ہے اور یہ گردن توڑ بخار ہے۔ وہ بے ہوشی کے عالم ہی میں اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئی۔

اُس کے فوت ہوتے ہی نجانے کیوں مجھے اور میری بیوی کو آپ کی بیٹی کا خیال آیا۔ ہم میاں بیوی نے اور ہماری تمام فیملی نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنی بھانجی کا تمام جہیز کا سامان آپ کے ہاں پہنچا دیں گے۔ شادی جلد ہو تو اس کا بندوبست خود کریں گے اور اگر ابھی کچھ دیر ہے تو تمام اخراجات کے لیے رقم آپ کو نقد پہنچا دیں گے۔ آپ نے ناں نہیں کرنی۔ آپ اپنا گھر دکھا دیں تاکہ سامان کا ٹرک وہاں پہنچایا جا سکے۔

حکیم صاحب حیران و پریشان یوں گویا ہوئے ’’محمدعلی صاحب آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں مجھے سمجھ نہیں آرہا، میرا اتنا دماغ نہیں ہے۔ میں نے تو آج صبح جب بیوی کے ہاتھ کی لکھی ہوئی چِٹ یہاں آ کر کھول کر دیکھی تو مرچ مسالہ کے بعد جب میں نے یہ الفاظ پڑھے ’’بیٹی کے جہیز کا سامان‘‘ تو آپ کو معلوم ہے میں نے کیا لکھا۔ آپ خود یہ چِٹ ذرا دیکھیں۔ محمدعلی صاحب یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ’’بیٹی کے جہیز‘‘ کے سامنے لکھا ہوا تھا ’’یہ کام اللہ کا ہے، اللہ جانے۔‘‘

محمد علی صاحب یقین کریں، آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ بیوی نے چِٹ پر چیز لکھی ہو اور مولا نے اُس کا اسی دن بندوبست نہ کردیا ہو۔ واہ مولا واہ۔ تو عظیم ہے تو کریم ہے۔ آپ کی بھانجی کی وفات کا صدمہ ہے لیکن اُس کی قدرت پر حیران ہوں کہ وہ کس طرح اپنے معجزے دکھاتا ہے۔

حکیم صاحب نے کہا جب سے ہوش سنبھالا ایک ہی سبق پڑھا کہ صبح ورد کرنا ہے ’’رازق، رازق، تو ہی رازق‘‘ اور شام کو ’’شکر، شکر مولا تیرا شکر...



اجامو


 اجامو ایک غریب شخص کا اکلوتا بیٹا تھا۔

 17 سال کی عمر میں اس پر قتل کا الزام لگا اور عمر قید کی سزا ہوئی.

40 سال جیل میں کاٹنے کے بعد ایک دن اجامو کو عدالت نے یہ کہتے ہوئے بری کر دیا کہ یہ بیگناہ ہے. اصل قاتل اب پکڑا گیا ہے۔

اجامو کمرہ عدالت میں جج کے سامنے بیٹھا تھا۔ جج نے اجامو کے آگے ایک خالی پیپر رکھا اور ان سے کہہ دیا کہ ان 40 سالوں کے بدلے اس کاغذ پر جتنی چاہیں رقم لکھ دیں۔ ریاست آپ کو فوری ادا کرے گی.

جانتے ہیں آپ کہ، اجامو نے کیا لکھا ؟

اجامو نے صرف ایک جملہ لکھا کہ

 "جج صاحب آپ اپنے قانون پر نظر ثانی کیجئے۔ تاکہ کسی اور اجامو کی زندگی کے قیمتی 40 سال ضائع نہ ہوں."

اس کے بعد وہ رو پڑے اسکے ساتھ کمرہ عدالت میں موجود حاضرین کی آنکھیں بھی اشکبار تھی.

یہ کمرہ عدالت میں اسی لمحے کی تصویر ہے جب اجامو کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا.

ہمیں بھی یہ نظام بدلنے کی ضرورت ہے

بزنس مین اور انٹرپرینیور میں کیا فرق ہے

اکثر لوگ ان دونوں لفظوں کو ایک ہی مطلب میں استعمال کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ان دونوں کا انداز اور سوچ ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے دونوں کا مقصد اور طریقہ الگ ہوتا ہے آئیے ان کے فرق کو آسان زبان میں سمجھتے ہیں

بنیادی مقصد

بزنس مین کا مقصد پہلے سے موجود کاروبار کو سنبھالنا ہوتا ہے وہ ایک طے شدہ راستے پر چلتا ہے اور اس کی توجہ منافع اور کاروبار کو بہتر طریقے سے چلانے پر ہوتی ہے

انٹرپرینیور کا مقصد کچھ نیا شروع کرنا ہوتا ہے وہ نئے خیال کے ساتھ مارکیٹ میں آتا ہے اور کچھ ایسا کرنا چاہتا ہے جو پہلے نہ ہوا ہو اس کی توجہ جدت اور نیا راستہ بنانے پر ہوتی ہے

خطرہ برداشت کرنے کی صلاحیت

بزنس مین عام طور پر خطرات سے بچتا ہے وہ انہی راستوں پر چلتا ہے جو پہلے سے کامیاب ہو چکے ہوں

انٹرپرینیور نئے راستوں پر چلتا ہے اور خطرات کو قبول کرتا ہے اسے ناکامی کا ڈر کم ہوتا ہے کیونکہ وہ کچھ مختلف کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے

کام کرنے کا انداز

بزنس مین کا فوکس پہلے سے بنے ہوئے سسٹم کو بہتر طریقے سے چلانا ہوتا ہے وہ طریقہ کار کو بہتر کرتا ہے اور کاروبار کو منظم انداز میں آگے بڑھاتا ہے

انٹرپرینیور نئے آئیڈیاز پر کام کرتا ہے وہ نئی پروڈکٹ یا سروس لاتا ہے اور مارکیٹ میں نیا رنگ بھرتا ہے

سوچ اور حکمت عملی

بزنس مین ایک طے شدہ منصوبے پر کام کرتا ہے وہ اپنا مقصد پہلے سے موجود فریم میں حاصل کرتا ہے

انٹرپرینیور اپنی سوچ اور وژن خود بناتا ہے وہ مارکیٹ کو بدلنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے منصوبے کو خود لیڈ کرتا ہے

کامیابی کی خواہش

بزنس مین زیادہ تر مالی فائدے کے لیے کام کرتا ہے اس کی کامیابی کا پیمانہ پیسہ اور مارکیٹ میں آگے نکلنا ہوتا ہے



انٹرپرینیور پیسے کے ساتھ ساتھ اپنے جذبے اور مقصد سے بھی جڑا ہوتا ہے وہ کچھ نیا کرنے یا معاشرے میں بہتری لانے کے لیے کام کرتا ہے

ترقی کا انداز

بزنس مین آہستہ اور مسلسل ترقی پر یقین رکھتا ہے وہ آزمودہ طریقوں سے آگے بڑھتا ہے

انٹرپرینیور تیزی سے ترقی چاہتا ہے وہ مارکیٹ میں نیا موقع تلاش کرتا ہے اور جلد کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے

خلاصہ یہ ہے کہ دونوں کردار اہم ہیں بزنس مین کاروبار کو منظم رکھتا ہے اور انٹرپرینیور نئے راستے بناتا ہے دونوں کا انداز الگ ہے لیکن معیشت میں دونوں کا کردار ضروری ہے

سکردو جانے والے سیاحوں کے لیے معلوماتی تحریر

سکردو گلگت بلتستان کے ایک شہر کا نام ہے لیکن مقامی سیاحتی انڈسٹری میں سکردو سے مراد بلتستان کے چار ضلعے اور ضلع استور کو شامل کیا جاتا ہے۔ گلگت بلتستان جانے والے سیاح یا تو ہنزہ کا رخ کرتے ہیں یا سکردو کا۔ 

اسی لئے گلگت بلتستان ٹور کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے :

1: سکردو ٹور

2: ہنزہ ٹور 

ہنزہ ٹور جگلوٹ سے شروع ہو کر خنجراب ٹاپ پر ختم ہو جاتا ہے جبکہ سکردو ٹور جگلوٹ سے شروع ہو کر ایک طرف کے ٹو دوسری طرف سیاچن اور تیسری طرف دیوسائی سے ہوتا ہوا منی مرگ پر ختم ہو جاتا ہے۔ اگر جہاز کے ذریعے سکردو کا سفر کریں تو سکردو شہر سے تمام سیاحتی مقامات تک جانے کے لیئے ہر قسم کی گاڑیاں مل جاتی یے۔ بائی روڈ سکردو کا سفر شاہراہ بابوسر اور قراقرم ہائی کے بعد جگلوٹ سے شروع ہوتا ہے۔ جگلوٹ سے سکردو تک بہترین سڑک بن گئی ہے نئے شاہراہ کا نام جگلوٹ سکردو روڈ سے بدل کر شاہراہ بلتستان رکھ دیا ہے۔۔  

استور، گانچھے(وادی خپلو)، کھرمنگ اور شگر جانے کیلے بھی سکردو سے  روٹ لے سکتے ہیں۔ 

سکردو ٹور میں درج ذیل سیاحتی مقامات شامل ہیں۔ 

1: ضلع سکردو

ضلع سکردو روندو وادی سے شروع ہوتا ہے اور سرمک کے مقام پر ختم ہوجاتا ہے۔ 

سکردو شہر گلگت بلتستان کا سب سے بڑا شہر ہے اس شہر میں گلگت بلتستان کے ہر ضلعے سے بغرض روزگار لوگ آباد ہیں۔ اس شہر میں شیعہ ، نوربخشی ،سنی، اسماعلیلی، اہل حدیث ہر فرقے کے لوگ پر امن زندگی بسر کرتے ہیں۔ سکردو اس پورے علاقے کا تجارتی مرکز بھی ہے۔سکردو میں گلگت بلتستان کا واحد انٹرنیشنل ائیرپورٹ بھی موجود ہے۔  پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن روزانہ پروازیں اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے چلاتی ہے ۔ پچھلے سال سے سیالکوٹ فیصل آباد اور ملتان سے بھی پروازوں کا آغآز ہوچکا ہے۔


ڈسٹرکٹ سکردو  کے سیاحتی مقامات

  دیوساٸی نیشنل پارک

کھرفوچو_(تاریخی قلعہ)

شنگریلا ریزورٹ

ژھوق ویلی 

کچورا جھیل

سدپارہ ڈیم

چندا  

ستک ویلی روندو

بلامک 

کتپناہ لیک 


2: ضلع گانچھے (وادی خپلو) 

ضلع گانچھے کریس سے شروع ہوتا ہے اور سیاچن گلیشئر پر ختم ہوتا ہے ۔ ضلع گانچھے کو وادی خپلو بھی کہا جاتا ہے ۔ ضلع گانچھے بلند ترین پہاڑوں اور گلیشیئرز کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ دنیا کی بلند ترین مہاز جنگ سیاچن اسی ضلع میں واقع ہے اس کے علاوہ قراقرم کے بلند ترین پہاڑوں جیسے کے ٹو، گشہ بروم ، براڈپیک۔ اور مشہ بروم سے کوہ پیما واپسی پر اسی ضلع کی وادی ہوشے کا روٹ استعمال کرتے ہیں۔  یہ ڈسٹرکٹ خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔ 

 اس ڈسٹرکٹ کی چند تاریخی اور سیاحتی مقامات درجہ  ذیل ہے_

خپلو فورٹ_

چقچن مسجد(7 سو سال پرانی مسجد)

تھوقسی کھر

ہلدی کونز ویو پوائنٹ

وادی ہوشے ، کے سکس، کے سیون، مشہ بروم جیسے قراقرم کے اونچے پہاڑوں کی وادی 

سلنگ ریزورٹ

وادی کندوس گرم چشمہ 

گیاری سیاچن وادی سلترو 

وادی تھلے، تھلے لا

ننگما وادی کاندے 

کھرفق جھیل

خانقاہ معلٰی خپلو (ایشیا کی سب سے بڑی خانقاہ)

کےٹو ویو پوائنٹ مچلو بروق


3_ضلع شگر

شگر ایک ذرخیز وادی ہے یہ وادی تاریخی مقامات اور بلند ترین پہاڑوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ 

 دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی k2 بھی اس ڈسٹرکٹ میں واقع ہے اور دنیا میں 8000 اونچاٸی سے اوپر والی 5 پہاڑ بھی اس خطہ میں موجود ہیں_یہ ڈسٹرکٹ سکردو سے 30 کلو میٹر کے فاصلے پر  واقع ہے

شگر کے سیاحتی مقامات

شگر فوڑٹ_

 دنیا کی بلند ترین اور سرد ریگستان سرفہ رنگا

کےٹو پہاڑ_k2

ہشوپی باغ

خانقاہ معلیٰ 600 سال پرانی مسجد ہیں_

وادی ارندو 

کنکورڈیا 

وسط قراقرم کے بلند ترین پہاڑ گشہ بروم، براڈ پیک، ٹرنگو ٹاور وغیرہ 


4: ضلع کھرمنک 

آبشاروں اور صاف و شفاف ندی نالوں  کی سرزمین۔ 

سیاحتی مقامات

منٹھوکھا واٹر فال

خموش آبشار

 وادی شیلا 

 غندوس لیک

 کارگل بارڈر 


5: استور

ضلع استور انتطامی طور پر دیامر ڈویژن میں واقع ہے لیکن استور تک رسائی سکردو سے ہوتا ہے خصوصا جو سیاح بذریعہ جہاز سکردو آتے ہیں ان کے لئیے استور تک رسائی سکردو دیوسائی سے ہوتا ہے ۔ وادی استور  کے سیاحتی مقامات درج ذیل ہیں۔

 روپال فیس ننگا پربت

راما میڈوز 

پرشنگ 

منی مرگ 

 ڈومیل جھیل   

 راتو

 شونٹر 

 اس کے علاوہ بے شمار سیاحتی مقامات موجود ہیں جہاں تک عام سیاحوں کی رسائی ممکن نہیں ہے۔



عالم اور بڑھیا کا چرخہ

 ایک عالم نے ایک بڑھیا کو چرخہ کاتتے دیکھ کر فرمایا.. " بڑھیا ! ساری عمر چرخہ ھی کاتا یا کچھ اپنے خدا کی پہچان بھی کی..؟ "

بڑھیا نے جواب دیا.. " بیٹا ! سب کچھ اِسی چرخہ میں دیکھ لیا.. "

فرمایا.. " بڑی بی ! یہ تو بتاؤ کہ خدا موجود ھے یا نہیں..؟ "

بڑھیا نے جواب دیا.. " ھاں ھر گھڑی اور رات دن ھر وقت خدا موجود ھے.. "

عالم نے فرمایا.. " مگر اس کی دلیل..؟ "

بڑھیا بولی.. " دلیل یہ میرا چرخہ.. "

عالم نے پوچھا.. " یہ کیسے..؟ "

وہ بولی.. " وہ ایسے کہ جب تک میں اس چرخہ کو چلاتی رھتی ھوں یہ برابر چلتا رھتا ھے اور جب میں اسے چھوڑ دیتی ھوں تب یہ ٹھہر جاتا ھے.. تو جب اس چھوٹے سے چرخہ کو ھر وقت چلانے والے کی ضرورت ھے تو زمین و آسمان ' چاند سورج کے اتنے بڑے چرخوں کو چلانے والے کی ضرورت کس طرح نہ ھوگی..

پس جس طرح میرے کاٹھ کے چرخہ کو ایک چلانے والا چاھیے اسی طرح زمین و آسمان کے چرخہ کو ایک چلانے والا چاھیے.. جب تک وہ چلاتا رھے گا یہ سب چرخے چلتے رھیں گے اور جب وہ چھوڑ دے گا تو یہ ٹھہر جائیں گے مگر ھم نے کبھی زمین و آسمان ' چاند سورج کو ٹھہرے نہیں دیکھا تو جان لیا کہ ان کا چلانے والا ھر گھڑی موجود ھے.. "

عالم نے سوال کیا.. " اچھا یہ بتاؤ کہ آسمان و زمین کا چرخہ چلانے والا ایک ھے یا دو..؟ "

بڑھیا نے جواب دیا.. " ایک ھے.. اور اس دعویٰ کی دلیل بھی یہی میرا چرخہ ھے کیوں کہ جب اس چرخہ کو میں اپنی مرضی سے ایک طرف کو چلاتی ھوں یہ چرخہ میری مرضی سے ایک ھی طرف کو چلتا ھے.. اگر کوئی دوسری چلانے والی بھی ھوتی تب تو چرخہ کی رفتار تیز ھو جاتی اور اس چرخہ کی رفتار میں فرق آ کر نتیجہ حاصل نہ ھوتا..

اور اگر وہ میری مرضی کے خلاف اور میرے چلانے کی مخالف جہت پر چلاتی تو یہ چرخہ چلنے سے ٹھہر جاتا مگر ایسا نہیں ھوتا.. اس وجہ سے کہ کوئی دوسری چلانے والی نہیں ھے..

اسی طرح آسمان و زمین کا چلانے والا اگر کوئی دوسرا ھوتا تو ضرور آسمانی چرخہ کی رفتار تیز ھو کر دن رات کے نظام میں فرق آ جاتا یا چلنے سے ٹھہر جاتا یا ٹوٹ جاتا.. جب ایسا نہیں ھے تو ضرور آسمان و زمین کے چرخہ کو چلانے والا ایک ھی ھے..!!



بہتر زندگی گزارنے کے 20 اقدامات

 1-نیٹ ورک بڑھائیں ۔

کامیابی صرف آپ کی مہارت پر نہیں، بلکہ ان لوگوں پر بھی منحصر ہے جنہیں آپ جانتے ہیں اور جو آپ کو جانتے ہیں۔

2-بڑے خواب دیکھیں ۔

اگر آپ کا خواب آپ کو خوفزدہ نہیں کرتا، تو یہ کافی بڑا نہیں ہے!

3-آگے کی منصوبہ بندی کریں ۔

کامیابی اتفاقیہ نہیں ہوتی، بلکہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہوتی ہے۔

4-بھرپور دن گزاریں ۔

ہر دن ایسے گزاریں جیسے یہ آپ کی زندگی کا سب سے اہم دن ہو۔

5-فوکس رہیں ۔

جو لوگ ہر چیز پر توجہ دیتے ہیں، وہ کسی چیز میں بھی مہارت حاصل نہیں کر پاتے۔

6-ٹی وی کم دیکھیں ۔

اپنی زندگی کی کہانی خود لکھیں، دوسروں کی کہانی دیکھنے میں وقت ضائع نہ کریں۔

7-اپنے آپ پر سرمایہ کاری کریں ۔

سب سے منافع بخش انویسٹمنٹ وہ ہے جو آپ اپنی تعلیم، مہارت، اور صحت پر کریں۔

8-مزید کتابیں پڑھیں ۔

ایک اچھی کتاب آپ کی زندگی کے سالوں کا تجربہ چند دنوں میں دے سکتی ہے۔

9-وقت ضائع کرنے والوں سے بچیں ۔

جو لوگ آپ کی توانائی کم کرتے ہیں، وہ آپ کی ترقی کو بھی روک دیتے ہیں۔

10-کیلکولیٹ خطرات مول لیں ۔

کامیاب لوگ خطرہ اٹھاتے ہیں، مگر وہ پہلے امکانات اور نقصانات کا اندازہ لگاتے ہیں۔

11-اپنے مقاصد کو لکھیں ۔

جو چیز لکھی نہ جائے، وہ صرف ایک خواہش رہ جاتی ہے، حقیقت نہیں بنتی۔

12-اپنی کمائی سے کم خرچ کریں ۔

مالی آزادی خرچ کم اور سمجھداری سے سرمایہ کاری کرنے سے آتی ہے۔

13-اپنی صحت کو ترجیح دیں ۔

اگر آپ کے پاس اچھی صحت نہیں، تو کامیابی اور دولت کا کوئی فائدہ نہیں۔

14-وہ کام کریں جو آپ کے لیے اہم ہو ۔

اگر آپ دوسروں کی خواہشات کے مطابق جیتے ہیں، تو اپنی زندگی کبھی نہیں جی پائیں گے۔

15-ان لوگوں سے سیکھیں جن کی آپ تعریف کرتے ہیں ۔

کامیاب لوگوں کی کہانیاں پڑھیں اور ان کی حکمت عملی اپنائیں۔

16-بامعنی تعلقات کو فروغ دیں ۔

سچی خوشی دولت میں نہیں، بلکہ اچھے اور مضبوط رشتوں میں ہے۔

17-شکر گزاری کا رویہ پیدا کریں ۔

جو لوگ شکر گزار ہوتے ہیں، وہ ہمیشہ مزید حاصل کرتے ہیں۔

18-عمل کریں، یہاں تک کہ جب یہ کام مشکل بھی ہو ۔

عمل ہی وہ فرق ہے جو خواب دیکھنے والوں اور انہیں پورا کرنے والوں کے درمیان ہوتا ہے۔

18-اپنے ایک طاقتور اور متاثر کن “کیوں؟” کو زندہ رکھیں ۔

اگر آپ کا “کیوں” مضبوط ہے، تو کوئی بھی “کیسے” مشکل نہیں لگے گا۔

20-مثال بنیں، مسئلہ نہیں ۔

دنیا کو شکایت کرنے والے نہیں، بلکہ حل نکالنے والے لوگ آگے لے کر جاتے ہیں۔

پڑوسی کا حق

 


ایک عرب نے لکھا ہے

کہ میں صبح جب اٹھا تو میری گاڑی پلاسٹک کے کور میں لپٹ چکی تھی۔

میں حیران ہوا کہ یہ کیا مذاق ہے۔

میں نے حال دریافت کیا تو مجھے میرے پڑوسی نے آواز دی اور کہا کہ میں اپنا گھر رنگ کر رہا تھا۔

تو میں نے سوچا کہ چھینٹیں آپ کی گاڑی پہ نہ پڑ جائے تو اس لئے آپ کی گاڑی کو محفوظ کرلیا کور چھڑا کر 

پڑوسی کا حق بہت زیادہ ہے۔

اس کا خیال رکھا جائے۔

ٹیپو سلطان، ایک بہادر حکمران

 ٹیپو سلطان کو کس نے شہید کیا :

اوریا مقبول جان صاحب نے دو ہزار چودہ میں ایک کالم لکھا تھا ،جس کا عنوان تھا ،تجھے آباء سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی ،اس میں اوریا مقبول جان صاحب نے سکارٹ لینڈ کے دارالحکومت میں واقع ایک میوزیم کا ذکر کیا ہے ،

جس میں ٹیپو سلطان کی تلوار یں ،چادریں اور دیگر سامان پڑا ہے ،اوریا صاحب کہتے ہیں ،میں حیران تھا ،یہ سامان برصغیر سے یہاں کیوں لایا گیا ،پھر کہتے ہیں ،در اصل اسکی وجہ یہ تھی کہ ٹیپو سلطان کو جس فوج نے شہید کیا تھا ،اس کے سربراہ کا تعلق سکاٹ لینڈ کے دارالحکومت سے تھا

اس شخص کا نام ڈیوڈ تھا ،یہ 1757 میں ایک تاجر کے گھر پیدا ہوا ،اس نے 1772 میں فوج میں کمیشن حاصل کیا اور 1779 میں اسے کیپٹن کی حیثیث سے ہندوستان بھیج دیا گیا ،اس نے کرنل بیلی کی سربرائی میں ٹیپو سلطان کے والد حید ر علی سے جنگ لڑی ،اس جنگ میں انگریز کو بری طرح شکست ہوئی ،اکثریت ماری گئی ،جو فوج بچی ،وہ قیدی بنا لی گئی ،ڈیو ڈبھی شدید زخمی تھا ،اسےبھی قیدی بنا لیا گیا ،اس نے چار سال قید کاٹی ،پھر آزاد ہو کر انگلستان پہنچا،تو اسے لیفٹینٹ کرنل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی ،اورپھر ر 1790 میں اسے دوبارہ ہندوستان بھیج دیا گیا ،یہاں اس نے ٹیپو سلطان کے ساتھ بہت سی جنگیں لڑیں ،آخری جنگ میں پچاس ہزار سپاہیوں نے حصہ لیا ،برطانوی فوج کے سپاہی چھبیس ہزار تھے ،جبکہ ٹیپوسلطان کے ساتھ تیس ہزار سپاہی تھے ،

جب میر صادق کی غداری کی وجہ سے برطانوی فوج قلعے کے کھلےدروازوں سے اندر داخل ہوئی تو ٹیپو سلطان کے ساتھ لڑنے والے فرانسیسی سپاہیوں نے اسے خفیہ راستے سے بھاگ جانے کا مشورہ دیا ،تواس پر ٹیپو سلطان نے اپنا تاریخی جملہ کہا ،شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے ،یہ چارمئی 1799 تھا ،اسی دن ٹیپو سلطان کو شہید کیا گیا اوراسی شام ٹیپو سلطان کو دفن کر دیا گیا

اوریا صاحب کہتے ہیں 

ٹیپو سلطان کے نوادرات کے ساتھ ایک تحریر ہے،جس کے الفاظ یہ تھے ،

ٹیپو سلطان ہندوستان میں برطانیہ کے مفاد کے لیے اتنا بڑا خطرہ ثابت ہوا تھا کہ اسکی موت کی وجہ سے برطانیہ میں قومی سطح پر جشن منایا گیا

اوریا صاحب کہتےہیں 

آج ہماری نسل کو اپنی تاریخ سے اس قدر لا علم کر دیا گیا ہے کہ انہیں معلوم ہی نہیں کہ ان کے آبائو اجداد کس جرات و بہادری کے پیکر ہوا کرتے تھے

اوریا صاحب کہتے ہیں 

جو قوم برطانیہ میں لکھی ہوئی نظموں اور کتابوں کو پڑھ کر جوان ہورہی ہے ،اسے کیا خبر کہ اس کا ایک ماضی تھا ،جس پر اسے فخر کرنا چاہیے تھا

اوریا صاحب کہتے ہیں 

جو قومیں دوسروں کی عظمتوں کی کہانیاں پڑھ کر جوان ہوتی ہیں ،وہ مرعوب ذہن اور مردہ ضمیر لے کر پلتی ہیں ۔



سوداگر

 ایک سوداگر نے بازار میں گھومتے ہوئے ایک عمدہ نسل کا اونٹ دیکھا سوداگر اور اونٹ بیچنے والے کے درمیان کافی دیر تک گفت و شنید ہوئی اور آخرکار سوداگر اونٹ خرید کر گھر لے آیا۔

گھر پہنچ کر سوداگر نے اپنے نوکر کو اونٹ کی زین اتارنے کے لئے بلایا نوکر کو زین کے نیچے ایک مخملی تھیلا ملا جسے کھولنے پر قیمتی ہیروں اور جواہرات سے بھرا ہوا پایا۔

نوکر چلا کر بولا 

"آقا آپ نے اونٹ خریدا ہے، لیکن دیکھیں مفت میں کیا آیا؟"سوداگر بھی حیران ہوا، اس نے اپنے نوکر کے ہاتھ میں ہیرے دیکھے جو چمک رہے تھے اور سورج کی روشنی میں اور بھی زیادہ جھلملا رہے تھے۔

سوداگر نے کہا... "میں نے اونٹ خریدے ہیں، ہیرے نہیں، مجھے انہیں فوراً واپس کر دینا چاہئے۔"

نوکر دل میں سوچ رہا تھا کہ میرا آقا کتنا بیوقوف ہے...

بولا مالک کسی کو کچھ  پتا نہیں چلے گا ہیرے رکھ لیں لیکن تاجر نے ایک نہ سنی اور وہ فوراً بازار پہنچا اور اونٹ والے کو تلاش کر اس کو مخمل کا تھیلا واپس کر دیا۔

اونٹ بیچنے والا بہت خوش ہوا، کہنے لگا میں بھول گیا تھا کہ میں نے اپنے قیمتی پتھروں کو زین کے نیچے چھپا رکھا ہے۔

اب آپ کسی ایک ہیرے کو بطور انعام منتخب کر سکتے ہیں سوداگر نے کہا کہ میں نے اونٹ کی صحیح قیمت ادا کر دی ہے اس لئے مجھے کسی شکریہ اور انعام کی ضرورت نہیں۔

سوداگر نے جتنا انکار کیا، اونٹ بیچنے والے نے اتنا ہی اصرار کیا۔

آخرکار تاجر مسکرایا اور کہا کہ حقیقت میں جب میں نے تھیلی واپس لانے کا فیصلہ کیا تو میں نے پہلے ہی دو قیمتی ہیرے اپنے پاس رکھ لئے تھے۔

اس اعتراف کے بعد اونٹ بیچنے والے کو غصہ آگیا، اس نے فوراً ہیرے اور جواہرات گننے کے لئے تھیلا خالی کردیا۔

لیکن اس نے بڑی الجھن میں کہا، "میرے سارے ہیرے یہاں ہیں، تو سب سے قیمتی دو کون سے تھے جو تم نے رکھ لئے؟"

سوداگر نے کہا... "میری ایمانداری اور میری خُوداری"



اپنے اندر کی ہوا نکال دیں خوش رہیں گے



 اپنے اندر کی ہوا نکال دیں خوش رہیں گے ۔۔۔۔۔۔

ایک اسکول نے اپنے نوجوان طلباء کے لیے تفریحی سفر کا انعقاد کیا

 راستے میں ان کا گزر ایک سرنگ سے ہوا جس کے نیچے سے بس ڈرائیور پہلے بھی گزرتا تھا

سرنگ کے دہانے پر پانچ میٹر اونچائی لکھی تھی

 ڈرائیور نے نہیں روکا کیونکہ بس کی اونچائی بھی پانچ میٹر تھی

 لیکن اس بار  بس سرنگ کی چھت سے رگڑ کر درمیان میں پھنس گئی

جس سے بچے خوف و ہراس میں مبتلا ہوگئے

 بس ڈرائیور کہنے لگا

 ہر سال میں بغیر کسی پریشانی کے سرنگ عبور کرتا ہوں، مگر اب کیا ہوا؟

 ایک آدمی نے جواب دیا: 

سڑک پکی ہو گئی ہے اس لیے سڑک  کی سطح تھوڑی بلند ہو گئی ہے

 وہاں رش لگ گیا 

ایک  شخص نے بس کو باہر نکالنے کے لیے اپنی کار سے باندھنے کی کوشش کی لیکن ہر بار رگڑ کی وجہ سے رسی ٹوٹ جاتی

 کچھ نے بس کو کھینچنے کے لیے ایک مضبوط کرین لانے کا مشورہ دیا 

اور کچھ نے کھود کر توڑنے کا مشورہ دیا

 ان مختلف تجاویز کے درمیان

ایک بچہ بس سے اترا اور کہا: 

میرے پاس حل ہے!

 اس نے کہا:

 پروفیسر صاحب  نے ہمیں پچھلے سال ایک سبق دیا تھا اور کہا تھا

 ہمیں اپنے اندر سے  غرور و تکبر  نفرت، خود غرضی اور لالچ کو نکال دینا چاہیے جن کی وجہ سے ھم لوگوں کے سامنے پھولے ہوئے ہوتے ہیں

 اگر ہم ان الفاظ کو بس پر لگا دیں اور اس کے ٹائروں سے تھوڑی سی ہوا نکال دیں تو وہ سرنگ  کی چھت سے نیچے اترنا شروع کر دے گی اور ہم باحفاظت گزر جائیں گے

  بچے کے شاندار  مشورے سے ہر کوئی حیران رہ گیا اور واقعی بس کے ٹائروں سے ہوا کا دباؤ کم کیا گیا  تو بس سرنگ (ٹنل) کی چھت کی سطح سے نیچے گزر گئی اور سب بحفاظت باہر نکل آئے

 ہمارے مسائل ہم میں ہیں

 ہمارے دشمنوں کی طاقت میں نہیں

اس لیے اگر  ہم اپنے اندر سے غرور اور باطل کی ہوا نکال دیں گے تو دنیا کی اس سرنگ میں سے ہمارا گزر بآسانی ہوجائے گا

بس اپنے اندر کی غرور وتکبر و انا اور خود غرضی کی ہوا نکال دیں معاشرہ اچھا ہو جائے گا