تجارت میں برکت

ﮔﺎﮨﮏ ﻧﮯ ﺩﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺩﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ: ﮐﯿﻠﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﺑﮭﺎﺅ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮨﮯ؟ ﺩﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ: ﮐﯿﻠﮯ 12 ﺩﺭﮨﻢ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺐ 10 ﺩﺭﮨﻢ۔
ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﺑﮭﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ: ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﯿﻠﻮ ﺳﯿﺐ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﻠﮯ ﭼﺎﮨﯿﺌﮟ، ﮐﯿﺎ ﺑﮭﺎﺅ ﮨﮯ؟ ﺩﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﮐﯿﻠﮯ 3 ﺩﺭﮨﻢ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺐ 2 ﺩﺭﮨﻢ۔ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺍﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠﮧ ﭘﮍﮬﺎ۔
ﺩﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮔﺎﮨﮏ ﻧﮯ ﮐﮭﺎ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻏﻀﺒﻨﺎﮎ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺩﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﻝ ﻓﻮﻝ ﮐﮩﺘﺎ: ﺩﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮔﺎﮨﮏ ﮐﻮ ﺁﻧﮑﮫ ﻣﺎﺭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ۔
ﻋﻮﺭﺕ ﺧﺮﯾﺪﺍﺭﯼ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺧﻮﺷﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﮍﺑﮍﺍﺋﯽ : ﺍﻟﻠﮧ ﺗﯿﺮﺍ ﺷﮑﺮ ﮨﮯ، ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﻧﮕﮯ۔
ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ، ﺩﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮔﺎﮨﮏ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ : ﺍﻟﻠﮧ ﮔﻮﺍﮦ ﮨﮯ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ۔
ﯾﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﭼﺎﺭ ﯾﺘﯿﻢ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﮨﮯ۔ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﻮ ﺗﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﻧﺎﮐﺎﻣﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮩﯽ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺳﻮﺟﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﮐﻢ ﺳﮯ ﮐﻢ ﺩﺍﻡ ﻟﮕﺎ ﮐﻮ ﭼﯿﺰ ﺩﯾﺪﻭﮞ۔ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﮭﺮﻡ ﻗﺎﺋﻢ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻣﺤﺘﺎﺝ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﻭ ﺧﻮﺷﻨﻮﺩﯼ ﮐﺎ ﻃﺎﻟﺐ ﮨﻮﮞ۔
ﺩﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ: ﯾﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮨﻔﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﮔﻮﺍﮦ ﮨﮯ ﺟﺲ ﺩﻥ ﯾﮧ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ، ﺍُﺱ ﺩﻥ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮑﺮﯼ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻏﯿﺒﯽ ﺧﺰﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﺩﻭ ﭼﻨﺪ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﮔﺎﮨﮏ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺁ ﮔﺌﮯ، ﺍُﺱ ﻧﮯ آگے ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺩﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺑﻮﺳﮧ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ : ﺑﺨﺪﺍ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﻟﺬﺕ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﻭﮨﯽ ﺟﺎﻥ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺁﺯﻣﺎﯾﺎ ﮨﻮ....!!

سورج اور ہوا کا مقابلہ

میں نے ایک کہانی بڑی پڑھی جس میں سورج اور ہوا کے درمیان میں ایک مقابلہ ہوا.
یہ مقابلہ ایک شخص کا کوٹ اتارنے کا تھا. دونوں نے کہا کہ ہم اپنی اپنی کوشش کرتے ہیں کہ یہ شخص اپنا کوٹ اتار دے.
پہلے ہوا نے زور زور سے چلنا شروع کیا جس تیزی سے ہوا چلتی اتنا ہی وہ شخص کوٹ کو پکڑ کر اپنے جسم کے ساتھ لگا لیتا بہت تیز تر ہوا کے باوجود بھی یہ شخص نے اپنے کوٹ کو اپنے جسم سے علیحدہ کرنے پر تیار نہ ہوا بلکہ اسے مزید مضبوطی سے پکڑتا گیا.
اب سورج کی باری آئی سورج نے اپنی پوری توانائی اس شخص کے اوپر ڈال دی. گرمی زیادہ ہوئی اس شخص نے اپنا کوٹ اتار دیا.
میں نے اس کہانی سے یہ سبق سیکھا ہے کہ کسی کو زبردستی کسی کام پر مجبور کرنا انتہائی مشکل ہے.
اگر آپ اس کے ارد گرد ایسے حالات پیدا کر وہ خود ہی مطلوبہ کام کرنے پر راضی ہو جائے آئے تو اس سے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں.
مثال کے طور پر بچوں کو زبردستی پڑھنے پر مجبور کرنے کی بجائے اگر ہم ان کے اردگرد ایسا ماحول بنا دیں جس سے ان کو تعلیم حاصل کرنے میں دلچسپی پیدا ہو... تو یہ بہترین طریقہ ہے. اور دیرپا بھی.
کسی بھی کمپنی میں ایسا ماحول بنایا جائے جس سے لوگ خود بخود اپنے کام کو بہترین انداز سے کرنے پر آمادہ ہو تو یہ زیادہ دیرپا اور پائیدار عمل ہے

ذہنی اور جسمانی سزا بچوں کے لیے نقصان دہ ہے

فیس بک کے منفی اثرات سے ذرا بچ کے (Be Aware of Facebook)


ابتدائی طبی امداد (First Aid)


طالب علم کی تربیت (Training of a student)

خوف (Fear)

تعلیمِ جسمانی (Physical Education)

اخلاقی تعلیم کردار سازی کے لیے ضروری (Ethical Education)

تعلیم پیار سے (Education with care)

تعلیم بالغاں کی ضرورت (Need of adult education)

خصوصی بچوں کی تعلیم (Inclusive Education)

ابتدائی طبی امداد (First Aid)

چھٹیاں کارآمد بنائیے ( Make the summer holidays useful)

سائنس نے دنیا بدل دی (Science has changed the world)

فیس بک کے زیادہ استعمال سے بچیے (Get away from usage of Facebook)

آج کا کام آج اور ابھی (Do the today's work today)

خصوصی بچوں کی تعلیم (Education of Special Children)


وہ کاغذ کی کشتی ( The Beautiful Childhood)


یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو
بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی
مگر مجھ کو لوٹادو بچپن کا ساون
وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی
محلے کی سب سے پرانی نشانی
وہ بڑھیا جسے بچے کہتے تھے نانی
وہ نانی کی باتوں میں پریوں کا ڈھیرا
وہ چہرے کی جھریوں  میں صدیوں کا پھیرا
بھلائے نہیں بھول سکتا ہے کوئی
وہ چھوٹی سی راتیں وہ لمبی کہانی
کھڑی دھوپ میں اپنے گھر سے نکلنا
وہ چڑیاں وہ بلبل وہ تتلی پکڑنا
وہ گڑیا کی شادی میں لڑنا جھگڑنا
وہ جھولوں سے گرنا وہ گر کے سنبھلنا
وہ پیتل کے چھلوں کے پیارے سے تحفے
وہ ٹوٹی ہوئی چوڑیوں کی نشانی
کبھی ریت کے اونچے ٹیلوں پہ جانا
گھروندے بنانا بنا کے مٹانا
وہ معصوم چاہت کی تصویر اپنی
وہ خوابوں خیالوں کی جاگیر اپنی
نہ دنیا کا غم تھا نہ رشتوں کا بندھن
بڑی خوبصورت تھی وہ زندگانی
(نامعلوم شاعر)


تعلیم بالغاں (Adult Education)


یومِ اقبالؒ کی مجوزہ سرگرمیاں (Activities for Celebrating Iqbal Day)


سکولوں میں جسمانی تعلیم کی ضرورت و اہمیت(Importance & Need of Physical Education in Schools)


جب میں دیارِ عرب گیا تھا (Holy journey towards Arab)


جب میں دیارِ عرب گیا تھا
از قلم: مالک خان سیال
مکہ میں حاضری، مسجد حرام کی زیارت اور کعبہ کا دیدار ہر مسلمان کی آرزو اور جستجو ہے ۔ کعبہ پر پڑنے والی پہلی نظر مقبول ہوتی ہے ۔ کعبہ سے عقیدت رب کعبہ کی محبت کی دلیل ٹھہری ، رب کعبہ جلیل و جمیل ہے اور اسکا گھر بھی حسین و جمیل ہے ۔ بیت المعمور کے عین نیچے بیت اللہ ہزاروں برس سے موجود ہے۔ جو تعمیر آدم ؑنے کی تھی اسی تاسیس کی ابراھیمؑ اور اسماعیلؑ اور ان کی ذریت  نےتجدید و تعمیر کی ہے ،جگہ وہی ہے عمارت کا نقشہ وہی ہے ۔ دنیا  نے بیشمار انقلاب دیکھے مگر کعبہ جہاں تھا وہیں ہے۔
اللہ اللہ ! اس طویل اور بے حساب مدت میں اس ناقابل پیمائش عرصے میں کتنے عبادت خانے بنے اور بگڑے ،کتنے مندر تعمیر ہوئے اور کھدے ،کتنے گرجے آباد ہوئے اور اجڑے، کیسے کیسے انقلابات زمین نے دیکھے اور آسمان نے دکھلائے ۔ بلندیاں پست ہوئیں اور بلند ہوئیں ، بابل مٹا ، مصر مٹا ، چین مٹا ، ہندوستان مٹا ، ایران مٹا، یونان مٹا ، رومہ مٹا ،خدا معلوم کتنے ابھرے اور ابھر کر مٹے ، کتنے بڑھے اور بڑھ کر گھٹے، پر ایک عرب کے ریگستان میں خاک اور ریت کے سمندر میں چٹانوں اور پہاڑوں کے وسط میں وادیوں اور گھاٹیوں کے درمیان یہ سیاہ چوکور گھر ، جسے نہ کسی انجینئر نے بنایا نہ کسی مہندس نے ، جوں کا توں کھڑا ہوا ہے ۔ صدہا طوفان، ہزارہاانقلاب ، بے شمار زلزلے آئے اور گزر گئے اور اس پاک اور پیارے گھر کو نہ کوئی ابرہہ مٹا سکا نہ کوئی زار نکولس اور نہ کوئی گلیڈ اسٹن ،جو اسے مٹانے کے لیے اٹھا خود مٹ گیا اور اللہ کے گھر میں جو عبادت آدم اور حوا نے کی تھی وہی آج آدم کے فرزند اور حوا کی بیٹیا ں کر رہی ہیں۔
کہتے ہیں رب کے در پہ وہی حاضری دیتا ہے جس کے نام کا بلاوا بھیجا گیا ہو۔مجھے بھی ادراک تھا بلکہ علم الیقین تھا کہ اس دلِ نادار کی لگن دیکھتے ہوئے میرا رب مجھے  بھی اپنے در پر ضرور بلائے گا۔ بیس سوسولہ کی اپریل تھی جب بیت اللہ اور مدینۃ الرسول سے اس گناہگار کے لیے بلاوہ آیا اور میرے دل میں دیارِ عرب حاضری کی تڑپ پیدا ہوگئی۔ انہی دنوں میرے دوست فاروق خان نے کہا کہ تیاری کرو عمرہ کے لیے چلتے ہیں۔ اس صلاح کے بعد میری ہر مصروفیت، ہر خواہش پر یہ تمنا غالب آ گئی اور میں نے تیاریاں شروع کر دیں۔ میں نے امی جان کو بتایا کہ آپ اور میں عمرہ کے لیے چلتے ہیں۔ ہم نے اس مقصد کی تکمیل کے لیے پاسپورٹ و ضروری کوائف اکٹھے کرنا شروع کر دیے کہ فاروق بھائی نے کچھ مجبوریوں کی بنا پر ابھی نہ جانے کا ارادہ ظاہر کیا مگر میرا دل اب مدینے پہنچ چکا تھا۔ میں نے کہا کہ میں اب ان مقدس مقامات کو دیکھے بنا رہ نہ پاؤں گا۔ انہیں دنوں میرے دوست یونس شہزاد نے بتایا کہ ہم لوگ بھی عمرہ کے لیے جانا چاہتے ہیں میں نے انہیں کہا کہ ٹھیک ہے مل کر چلتے ہیں۔
 جیسے جیسے راستے کھلتے جا رہے تھے میری غیر یقینی کیفیت میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا کہ مجھ سا گناہ گار بھی اس پاک سر زمین پہ قدم رکھ سکے گا؟ پھر جب ویزہ پاسپورٹ ٹکٹ سب ہاتھ میں آگیا تو عین الیقین سے فرط جذبات میں آنسو بھرآئے اور لگا کہ وہ گھڑی دور نہیں جب میں خدا کے گھر کو اپنی سونی ویران آنکھوں سے دیکھ سکوں گا۔  دل کی لگن اب بڑھ گئی تھی، جی دنیا داری سے اُچاٹ سا ہو رہا تھا… مصلے پہ بیٹھتا تو آنکھیں آسمان کی جانب اٹھ جاتیں ۔ لگ رہا تھا کہ جیسے میرے ٹوٹے رابطے جڑ گئے ہوں۔زبان تھی کہ لبیک اللھم لبیک آپ ہی آپ پکارے چلی جاتی۔
پھر ایک دن چھ افراد کا ایک مختصر قافلہ دیارِ عرب کی طرف رواں دواں تھا۔ اس قافلے میں امی جان اور میں، اس کے علاوہ میرے دوست یونس شہزاد اور تین ہمارے گاؤں کے افراد عمردراز، بشیر سیال اور محمد رشید تھے۔ گاؤں کے متعدد افراد اور گھر والوں نے ہم چھ لوگوں کو دعاؤں اور نیک تمناؤں کے ساتھ رخصت کیا اور ہم لاہور ائیر پورٹ کے لیے روانہ ہوئے۔
گھر سے روانہ ہوئے تو دل دیارِ عرب میں پہنچ گیا اور اب بس انتظار تھا کہ کب ہم وہاں پہنچیں اور ان مقدس مقامات کی خاک کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنائیں، ان مقامات کی زیارت سے اپنی پیاسی آنکھوں کی پیاس بجھائیں اور آب ِ زم زم سے تشنہ لبی مٹائیں۔ لاہور پہنچ کر پتہ چلا کی ہماری ٹکٹیں کنفرم نہیں ہو پا رہیں لہٰذا ہمیں اسلام آباد جانا ہو گا۔سفر ایسا مقدس تھا اور ارادے اتنے پختہ تھے کہ ہر مشکل بہت چھوٹی لگ رہی تھی۔رات وہیں ائیر پورٹ پر گزاری اور علی الصبح پی آئی اے کے چھوٹے سے جہاز سےاسلام آباد کے لیے روانہ ہوئے۔ جہاز میں تقریباً پچاس ساٹھ لوگ سفر کر رہے تھے۔ ابھی ہم راستے میں تھےکہ طوفانی بارش نے جہازکو آن گھیرااور جہاز کبھی اوپر کبھی نیچے ہچکولے کھانے لگا۔ جہاز میں بیٹھے مسافر ڈر کے مارے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے مگر میں ہچکولوں سے بے نیاز شہر نبیؐ کا تصور لیے بیٹھا تھا۔ اپنے ساتھیوں کو تسلی دے رہا تھا کہ گھبرائیں نہیں کچھ نہیں ہوتا۔ جہاز کے کپتان نے اعلان کیا کہ آندھی و بارش کے سبب نہ اسلام آباد جانا ممکن ہےاور نہ ہی لاہور واپسی کہ وہاں بھی اب بارش شروع ہو چکی ہے لہذا ہم ملتان لینڈ کریں گے۔ وہاں سے جہاز ملتان روانہ ہو گیا اور ملتان ائیر پورٹ پر ہم اگلے ڈیڑھ دو گھنٹوں میں پہنچ چکے تھے۔ جب موسم کی حالت کچھ بہتر ہوئی تو دوبارہ اسلام آباد کی طرف سفر شروع ہوا جوجہاز کے  ہچکولوں، مسافروں کی ہلکی پھلکی چیخوں اور اداسیوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوا اور لاہور سے اسلام آباد کا سفر جو پچاس منٹ کی مسافت پر ہے ہم نے چار گھنٹوں میں طے کیا۔ اسلام آباد ائیر پورٹ پر ضروری چیکنگ کے بعد اندر داخل ہوئے۔ ائیر پورٹ پر نہانے اور وضو کے لیے متعدد حمام بنائے گئے ہیں ۔ ہم نے بھی نہا کر احرام زیب تن کیا اور نوافل ادا کیے۔ احرام باندھنے کے بعد اپنی قسمت پر رشک آ رہا تھا اور لگ رہا تھاکہ اللہ ضرور ہمیں اپنے گھر مہمان کرے گا۔ احرام پہن کر دل میں اک سکون کی کیفیت طاری ہو چکی تھی اور اپنے گناہوں پر پچھتاوے کے ساتھ ساتھ رحمت خداوندی کے آگے اپنے گناہ بہت حقیر لگ رہے تھے۔ دل اُڑا جا رہا تھا اور اب تو انتظار تھا کہ کب ہم بیت اللہ پہنچ جائیں۔
 کچھ دیر کے بعد ہمیں جہاز کی طرف چلنے کا عندیہ دیا گیا۔ ہر اگلا قدم جو ہمیں شہر نبیؐ کی طرف لے کر جا رہا تھا خود  ہی اٹھ رہا تھا اور خوشی سے ہوش اڑے جا رہے تھے۔ ائیر پورٹ پر بسوں میں بٹھا کر مسافروں کو جہاز تک لے کر جایا جا رہا تھا۔سفید  احرام میں ملبوس مسافر بہت بھلے لگ رہے تھے۔سب کے ایک جیسے لباس اور دل میں رب کعبہ کے گھر پہنچنے کی کسک۔ ہم سب ایک ہی سفر کے راہی اور ایک ہی منزل کے مسافر تھے۔ سعودی ائیر لائن کا یہ جہاز بہت بڑا تھا اور کم از کم پانچ سو نفوس اس میں سوار تھے۔ ہمارے قدم جہاز کی طرف بڑھتے چلے گئے اور کچھ دیر میں ہم اپنی نشستوں پر بیٹھے تھے۔ میں اپنے ہمراہیوں کو گائیڈ بھی کر رہا تھا کہ کیسے جہاز کا کھانا کھانا ہے۔ کیسے بیٹھنا ہے، کیسے سیٹ بیلٹ باندھنا ہے۔ جہاز اڑان بھر چکا تھا اور ہم اپنے مرکز کی طرف بڑھ رہے تھے۔
تقریباً چار گھنٹے کی مسافت کے بعد جہاز نے سعودی عرب کے شہر دمام میں لینڈنگ کی۔ ہم یہ سمجھ کر کہ جدہ آ گیا ہے اترنے کے لیے اٹھے تو ائیر ہوسٹس نے انگلش بولتے ہوئے بتایا کہ یہ دمام ہے، یہاں سواریاں اتا ر کر جہاز جدہ کی طرف روانہ ہو گا۔ پندرہ بیس منٹ کے بعد جہاز جدہ کی طرف اڑان بھر رہا تھا۔ ایک دن میں یہ پانچویں ائیر پورٹ تھی جہاں ہم جا رہے تھے۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد ہم جدہ پہنچے تو سحری کا وقت تھا اور اذان فجر میں  کچھ وقت باقی تھا۔دل کو سکون ہوا کہ حجاز میں پہنچ گئے ہیں کچھ دیر میں حرم میں ہوں گے  مگر دل اسی تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ رب نے ہمیں بلایا تھا۔ اللہ اللہ کے امیگریشن کے پل صراط سے اترے تو سامان پہچان کر گاڑی میں بیٹھ کر مکہ المکرمہ کی جانب روانہ ہوئے ۔مکہ پہنچے تو مسجد حرام میں فجر کی نماز باجماعت ہورہی تھی۔ ہم نے سامان سڑک پر رکھا ، تین افراد سامان کے پاس بیٹھےاور ہم تین افراد نے جماعت نکل جانے کے ڈر سے تیمم کر کے  نماز فجر ادا کی۔مقدر کا ستارہ چمک رہا تھا اور یہ بیت اللہ میں ہماری پہلی نماز تھی جو سڑک کنارے آخری صف میں ہم پڑھ رہے تھے، نہ جائے نماز تھی، نہ کوئی کپڑا، ننگی سڑک تھی جو ہزاروں قالینوں سے کہیں افضل تھی اور ہم نے اس پر پیشانی رکھ دی تھی جو ہماری خوش قسمتی کا نقطہ آغاز تھا ۔ نماز کے بعد سامان اٹھا کر ہوٹل میں وارد ہوئے اور اپنے کمروں کا رخ کیا۔ امی اور میں ایک دو بیڈ کے کمرے میں جبکہ ہمارے باقی ساتھی دوسرے چار بیڈ کے کمرے میں صف آرا ہوئے۔  ہمارا ہوٹل حرم سے صرف دو منٹ کی پیدل مسافت پر واقع تھا ۔ کمروں میں سامان رکھا، وضو کیا اور عمرہ کے لیے چل پڑے۔ اگلے کچھ منٹوں بعد ہم بیت اللہ کے سامنے کھڑے دعا مانگ رہے تھے۔
کعبہ پہ پڑی جب پہلی نظر، کیا چیز ہے دنیا بھول گیا
یوں ہوش و خرد مفلوج ہوئے، دل ذوقِ تماشا بھول گیا
مدت سے  ترستی آنکھوں  سے کعبہ کی زیارت کے بعد  ہم نے حجر اسود کا استلام کیا اور طواف شروع کیا۔ خانہ کعبہ کے گرد یہ سات چکر دنیا و مافیہا کی ہر نعمت، ہر دولت ، ہر چیز سے بالاتر ہیں۔ اس دن کا سورج ہماری خوش نصیبی کا پیغام لے کر طلوع ہوا تھا اور صبح صبح ہم خانہ کعبہ کی زیارت سے اپنا میلا کچیلا دل منور کر رہے تھے۔ ہمارے آس پاس دائیں بائیں ذرا ذراسی دیر بعد کسی نہ کسی مڈل ایسٹرن ریاست کا اک گروپ آ جاتا جس کے سب افراد ایک رنگ کے سکارف لپیٹے اک دوجے کا ہاتھ تھامے رہبر کی بلند گرجتی آواز میں مذکورہ دعائیں اور کلام پڑھتے چلتے ،کبھی لال ،کچھ سبز اور کبھی کھٹے رنگ میں لپٹے،گمشدگی اور بھٹک جانے سے ڈرتے وہ خاصی جگہ گھیر کر چلتے تھے۔اگرچہ وہ ہماری نسبت ہر لمحہ ہر ساعت کی دعا صحیح الفاظ اور تلفظ میں ادا کرتے ہمیں شرمندہ کرتے تھے مگر پھر بھی رب کعبہ کے ساتھ اپنی ذاتی زبان میں سرگوشیاں،فرمائشیں اورالتجائیں کرنے کا جو مزا ہمارے ہاتھ میں تھا وہ شاید انکے پاس نہ تھا۔یہ دو طریقوں کے فرق تھے ہمارے اور انکے درمیان مگر اس گھر سے کوئی کبھی نامراد نہیں لوٹا،سو یہاں پر عبادت،دعا،التجا کا کوئی بھی طریقہ کوئی بھی لہجہ ہو کسی سے کمتر یا برتر نہیں ہوتا۔اللہ کے اس دربار میں ہر کٹے پھٹے کاغذ پر ایک جیسی قبولیت کی مہر لگتی ہے۔یہاں پر انداز،پہناوے،رتبے،اوقات،حسن اورعلم کی کمی دیکھ کر کبھی کوئی دروازے سے لوٹایا نہیں جاتا،یہاں سے کوئی ہاتھ خالی نہیں آتا،یہاں پر ہر چہرہ خدا کا محبوب و مقبول ہے پس اسے احترام سے دیکھیے،اسے عزت سے رستہ دیجیے۔
آدھ گھنٹے میں طواف مکمل ہوا ، مقدس گردشوں سے نکلے اور پیچھے ہٹ کر دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔،وہی رٹی رٹائی دعائیں نکال کر خموشی سے رب کے آگے رکھ دیں اور اسے ساتھ اک عرضی بھی کر دی کہ مولا بس توفیق یہیں تک ہے۔یہ اجڑے بکھرے ،گلے سڑےجذبات،یہ نہ لگنے والا سست خوفزدہ دل اور یہ ہر گھڑی ڈانٹ کر پیچھے کرتا دماغ اب اس سے بڑھ کر کچھ بھی کہنے اور سننے کی اجازت نہیں دیتا۔میرے مولا بغیر میرے علم ،ادراک اور شعور کو جانے میرے اس رٹے رٹائےسبق کو منظور کر لے،انہی غلطیوں سے بھری درخواستوں پر ٹھپے لگا دے۔
مقام ابراہیم جہاں حضرت ابراہیم ؑ کے پاؤں کا نشان ہے پرنوافل اداکیے اور  سعی کے لئے صفا اور مروہ کی طرف نکلے جو اپنے آپ میں اک الگ ہی دنیا،ایک الگ ہی تاثیر رکھتا ہے۔یہاں دوڑتے ہوئے احساس ہو رہا ہوتا ہے کہ اللہ کی نیک بندی حضرت حاجرہ اسی طرح پانی کی تلاش میں دوڑی ہو گی جب ان کا نونہال (حضرت اسماعیلؑ) پیاس سے تڑپ رہا تھا ۔ صفا و مروہ کے چکر کبھی بھاگتے اور کبھی آہستہ چلتے پورے کیے ،ٹھنڈی ٹائل کا فرش تھا، ائیر کنڈیشنڈ رستے تھےاور محفوظ ترین مقام پر ہزاروں نیک نیت لوگوں کی ہمراہی تھی تو ہم بی بی حاجرہ کی سنت پوری کرتے انکا وہ درد تو نہ جان سکے جب تپتے پہاڑوں کے بیچ،ننھے بچے کو تنہا چھوڑے وہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک بھاگتی ہوں گی ،کبھی زمیں پر چشمہ کبھی آسماں پر ابر تلاشتی ہونگی،اور آبادیوں سے دور کے پرہول پہاڑوں میں تنہا ہونگی اور صرف اللہ کے نام پر بھروسہ کیے جینے کا جتن کرتی ہونگی۔۔۔ہم جیسے حقیر اوربند گھروں کی چار دیواری میں گھر والوں کے ساتھ رہنے والےلوگ کیسے جان سکتے ہیں وہ کرب جو بی بی حاجرہ نے وہاں جھیلا ہو گا جب ایک طرف پیاس سے بلکتا بچہ ہو گا،جانوروں،درندوں اور رہزنوں کا ڈر ہو گا،تپتا آگ بھڑکاتا سورج ہو گا اور بی بی حاجرہ کا تنہا وجود ننگے پاؤں ایک پہاڑی سے دوسری تک گھومتا ہو گا۔۔۔۔ سبحان اللہ کیا لوگ تھے وہ کہ جن کی ادا اللہ تعالیٰ کو ایسی پسند آئی کہ اس نے قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے اسے سنت بنا دیا۔ ہم حقیر لوگوں کے تو تخیل سے بھی یہ بہت دور کی منزل تھی۔ہم زندگی کی ہر راہگزر پر معجزوں کا انتظار کرنے والے کیا جانیں کہ معجزے انسانوں کی ہمت سے تشکیل پاتے ہیں ۔خالی خواہشات اور جذبات سے آب زم زم کے چشمے نہیں پھوٹ پڑتے ،اس کے لئے تپتی دوپہروں میں سڑتے پہاڑوں کا ننگے پاؤں طواف کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔تو اتنی ہمت کہاں تھی ہم گرے پڑے عام انسانوں میں،،،، سو سر جھکائے اس ٹھنڈے محفوظ سیدھے رستے پر چلتے رہے اور بی بی حاجرہ کی سنت کی تقلید کرتے رہے۔
سعی سے فارغ ہوئے تو خوب پیٹ بھر کر آب زم زم پیا ۔ ہمارے عمرے کی تکمیل کا آخری مرحلہ بال منڈوانے کا تھا۔اس کے لیے ہمیں کوئی خاص پریشانی نہ ہوئی کہ مسجد سے نکلتے ہی ہر صاحب احرام کو متوجہ کرنے کے لیے حجام نکڑ پر موجود تھے جو لپکتے جھپکتے خود حاجیوں تک پہنچتے اور ان کو لیے اپنے سیلون کی طرف چل پڑتے۔ہم بھی ایک منچلے کے ساتھ اس کے سیلون کی طرف چل پڑے۔ تھوڑی دیر بعد سر سے سارے بال اتر چکے تھے اور ایسے لگ رہا تھا جیسے ہم پھر سے بچے بن گئے ہوں،گناہوں کا بھار ہمارے سر سے اتر چکا ہو اور رحمتِ خداوندی نے ہمیں اپنی گود میں لے لیا ہو۔ خوشی خوشی اپنے ہوٹل پہنچے، غسل کیا اور احرام اتار کر کپڑے زیب تن کیے۔الحمد للہ عمرہ ادا ہو گیا تھا اور دل مسرت سے بھر گیا تھا۔ میں خود کو بہت خوش نصیب محسوس کر رہا تھا اور دل اس مہربان رب کی مہربانی پر شاداں و فرحاں جھوم رہا تھا۔ مجھ سا گنہگار اللہ کے گھر میں موجود تھا جہاں اللہ کے نبی ؐ نے اپنا بچپن، لڑکپن اور جوانی گزاری تھی۔ جہاں حبیب خداؐ نے دعوت دین کا کام شروع کیا تھا، جہاں پیارے نبی ؐ اپنے صحابہ کے ہمراہ پھرا کرتے تھے۔ سر اور دل سجدہ شکر بجا لانے کے لیے مہربان اللہ کے آگے جھکے جا رہے تھے ۔ زبان سے سبحان اللہ والحمد للہ کی تسبیح رواں تھی۔
رب کعبہ کے گھر کی حاضری بہت بڑی سعادت ہے اوریہ سعادت دینا اسی کا اختیار ہے۔اگر وہ نصیب کی تختی پر اسکی تحریر لکھ دے تو پھر کوئی کمزوری، کوئی کوتاہی اور کوئی سستی رستے میں دخل نہیں دے سکتی۔اسکا ثبوت اس سے بڑھ کر کیا تھا کہ میرےجیسا گناہگار  نہ صرف خانہ خدا میں موجود تھا بلکہ  عمرے کی سعادت بھی حاصل کر چکا تھا۔خدا انسان کو بلاتا ہے کبھی بتانے کے لیے،کبھی جتانے کے لیے،کبھی دکھانے کے لیے اور کبھی ترسانے کے لیے۔کچھ لوگ خانہ خدا کی ایک حاضری کے لئے عمر بھر ترستے رہتے ہیں خدا انکو بلانے میں تاخیر کرتا رہتا ہے،،شاید اس لیے کہ انکی تڑپ رب کعبہ کو انکی حاضری سے زیادہ محبوب ہوتی ہے۔کچھ لوگ خدا کے نام و مقام سے بے پرواہ چلے جاتے ہیں اور رب کعبہ انکو نکیل ڈال کر لے آتا ہے تا کہ انکے سینے میں وہ آگ جلا سکے جس میں عشق بے خطر کود جاتا ہے ،تا کہ انکو جتا سکے کہ جس ہستی سے بے پرواہ وہ جینے کی کوشش کرتے ہیں اس سے بڑا بے پرواہ کوئی نہیں۔اس کے پاس ہزاروں گُر ہیں ہم بھٹکے ہوؤں کو سیدھی راہ پر لانے کے،ہمیں گرانے کے اور پھر اٹھانے کے۔یہ دنیا کا کاروبار، یہ دکھ سکھ جھملیے تو صرف رب کعبہ نے آدم کی آزمائش اور کھیل کے لیے لگا رکھے ہیں، اک ذرا کرشمہ سازی کے لیے۔ورنہ اسے ہماری عبادتوں کی چاہ نہ ہماری ریاضتوں کی فکر، ہماری گمشدگی کی پرواہ نہ ہماری واپسی کی طلب ۔ہم تو اسکے ہاتھ سے بنے کچی مٹی کے کھلونے ہیں،جدھر چاہے موڑے،جیسے چاہے مروڑے،بناۓ کہ توڑے،یا بار بار توڑ کر جوڑے!یہ اس کی منشا،اسی کی رضا!
عمرہ کی ادائیگی کے بعد   کچھ دیر آرام کیا ، کھانا کھایااور پھر ظہر کی نماز آ کر مسجد حرام میں ادا کی۔ عصر تک وہیں مسجد میں بیٹھے نوافل میں مشغول رہے اورنماز عصر کے بعدہوٹل واپس آ گئے۔ پھر مغرب کی نماز ادا کی اور طواف کرنا شروع کر دیا۔ عشاء کی نماز پڑھ کر واپس آ گئے۔   مسجد حرام میں اگلے تین دن ہمارا یہی معمول رہا ۔
اس کے بعد ہم مدینہ روانہ ہو گئے۔مدینہ منورہ مکہ سے پانچ گھنٹے کی مسافت پر تقریباً تین سو ستر کلومیٹر دورشمال کی طرف واقع ہے۔  مغرب سے کچھ پہلے ہم مدینہ پہنچے اور ہوٹل کی طرف روانہ ہو گئے ۔ ہوٹل میں اپنے کمروں میں سامان رکھا اور مسجد نبویؐ کی طرف بھاگ پڑے۔ مسجد نبوی میں داخلہ اورر وضہ رسول پر حاضری ہر مومن کی تمنا اور دیرینہ آرزو ہوتی ہے۔ مکہ اور مدینہ کی محبت شاید ہمیں گُھٹی میں ملتی ہے۔ دنیا کے ساتھ تعلق جڑتے ہی، پہلا نام جو ہماری سماعتوں میں انڈیلا جاتا ہے وہ ‘  محمدﷺ’  ہے اس گواہی کے ساتھ کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ ذہن و دل کی صاف ستھری سلیٹ پر لکھا جانے والا یہ پہلا نام،  وقت کے ساتھ ساتھ اپنے نقش گہرے کرتا چلا جاتا ہے. روح ہے کہ اس کعبے کے طواف سے تھکتی نہیں۔  پیاس ہے کہ بڑھ کر جان کنی تک آجاتی ہے. کیسا عشق ہے یہ؟ کیسی کشش ہے؟  کیسی محبت ہے؟ جو تمام تر دنیاوی رشتوں پر حاوی ہو جاتی ہے۔ عاشقین رسول گنبد خضرا کو دیکھ کے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتے ہیں اور مکین گنبد خضرا سے مل کر اور سلام پڑھ کر دل ٹھنڈا کرتے ہیں ۔مسجد نبوی میں نمازیں پڑھ کر اور روضہ رسول پر حاضر ہوکر اپنے لیے سفارش طلب کرتے ہیں۔
ہم نے نماز مغرب کے بعد آقائے دوجہاں کے روضے کے پاس جا کر سلام کا نذرانہ پیش کیا اور ہر اس شخص کی طرف سے بھی، جس نے ہمیں دو جہاں کے آقا ؐ تک سلام پہنچانے کی التجا کی تھی حضور ؐ کو پکار کر کہاکہ آپ کا فلاں امتی بھی آپ کو سلام پیش کر رہا تھا ۔ میرا سلام بھی قبول فرمائیں اور ان کا بھی۔ یہاں پہنچ کردل کو کچھ ایسی تشفی ہوئی کہ دل سکون سے بھر گیا۔ گویا برسوں سے بھٹکے ہوئے کو اس کی منزل مل گئی ہو۔ گویا منزل نے تھکے ماندے مسافر کو آگے بڑھ کر خود گلے لگا لیا ہو، جیسے ننھے بچے کے لیے ماں کی گود ہو، جیسے پوری زندگی کی پیاس ایک پل میں بجھ گئی ہو، کہ جیسے جیون کو مقصد مل گیا ہو، کہ جیسے ساری عمر اسی پل کے انتظار میں گزاری ہو، کہ جیسے کسی گناہگار کو جنت میں داخلے کا پروانہ مل جائے، کہ جیسے بھوکے کو پیٹ بھر سیرابی نصیب ہو، کہ جیسے ہر دعا مستجاب ہو جائے۔
میں نے اپنے کمرے میں رکھے فریج میں دودھ، جوس،پھل و دیگر کھانے کی کچھ چیزیں پورے ہفتے کے لیے ایک دفعہ ہی لاکر رکھ دی تھیں تاکہ امی جان جب کچھ کھانا چاہیں تو موجود ہو۔ مدینہ میں ہمارا معمول یہ تھا کہ علی الصبح اٹھ کر فجر کی نماز مسجد نبوی میں  پڑھتے تھے۔ اس کے بعد جنت البقیع میں جا کر فاتحہ پڑھتے اور پھر کبھی زیارات کے لیے چلے جاتے یا کبھی ہوٹل میں آ کر  آرام کرتے۔ ظہر کی نماز کے لیے مسجد جاتے اور اس کے بعد کھانا کھانے کے لیے واپس ہوٹل آ جاتے۔ عصر تک آرام کرتے پھر عصر سے مغرب کبھی بلال مسجد، کبھی جنت البقیع، کبھی مارکیٹ، کبھی شہر، کبھی گپ شپ، کبھی مسجد کو چاروں طرف گھوم کر دیکھتے، کبھی ریاض الجنت اور کبھی روضہ رسول پر حاضری۔ مغرب سے عشاء کے مابین مسجد میں رہتےاور نماز عشاء کی ادائیگی کے بعد واپس ہوٹل چلے جاتے۔ رات کاکھانا کھاتے اوراس کے بعد گھنٹوں امی اور میں بیٹھ کر گپیں لگاتے۔ ہوش سنبھالا تو پڑھائی پھر ملازمت ، امی کے ساتھ دنیا سے ماورا ہوکر پہروں باتیں کرنے کاموقع بھی یہاں میسر آیا۔ شہر نبیؐ میں اتنا لطف تھا، ایسا سکون تھا کہ دل چاہتا کہ وقت تھم جائے، اور ہم شہر نبیؐ میں اسی طرح حاضر رہیں۔
ایک دن علی الصبح مسجد قبلتین، مسجد قبا اور جبل احد کی زیارت کو نکلے  ۔ جبل احد پہنچے تو غزوہ احد کا سارا واقعہ جو کتابوں میں پڑھا تھا سامنے آگیا۔ حضرت حمزہ رضی اللہ کا مزار جوں کا توں موجود ہے جیسے نبی کریمؐ نے بنایا تھا۔ مسجد سید الشہدا ساتھ ہی زیر تعمیر تھی۔ یہ وہی پہاڑ ہے جس کے بارے میں نبی کریمؐ نے فرمایا تھا کہ مجھے اس سے محبت ہے۔ ہمارے نبی کریمؐ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ کی پیدائش پر ان کو اٹھا کر اسی پہاڑ پر دوڑے تھے۔ احد پر چڑھ کر دیکھیں تو آسانی سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ غزوہ احد کے دوران کفار مکہ کہاں ہوں گے اور مجاہدین اسلام کا پڑاؤ کہاں ہوا ہو گا۔ اس کے بعد مسجد قبا پہنچے  جو اسلام کی سب سے پہلی مسجد ہے اور حضور ؐ نے ہجرت مدینہ کے دوران کچھ دن قبا میں قیام فرمایا  تھااور یہ مسجد بنائی تھی۔مسجد قبا کے آس پاس زائرین ،بسوں اور ٹیکسیوں کے ساتھ کبوتروں کا بے تحاشا ہجوم تھا۔ہم نے یہاں نوافل ادا کیے۔ تصاویر بنائیں اور مسجد قبلتین کی طرف روانہ ہو گئے۔ مسجد قبلتین بھی تاریخی مسجد ہے جس کو دو قبلے ہونے کی حیثیت حاصل ہے۔ مسلمان ابتدا میں قبلہ اول یعنی بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتےتھے اسی مسجد میں نماز با جماعت کے دوران اپنا رخ بیت اللہ کی طرف کرنے کاحکم ملا تو حضورؐ نے نماز کے دوران اپنا رخ بیت اللہ کی طرف پھیر لیا اور بقیہ نماز بیت اللہ کی طرف منہ کر کے مکمل کی۔   مسجد قبلتین میں ہم نے نوافل ادا کیے اور واپس لوٹ آئے۔
مدینہ میں میری ہمیشہ کوشش ہوتی تھی کہ میں ریاض الجنت میں نماز پڑھ سکوں جو فی الواقع زمین پر جنت کا ٹکڑا ہے۔ یہاں بے پناہ بھیڑ ہوتی ہے۔ ہر شخص روضے کی جالی کو چھونا چاہتا ہے، ریاض الجنت پر سے گزرنا چاہتا ہے۔ ریاض الجنت کی نشانی سبز قالین ہے جس پر پاؤں رکھنا جنت میں پاؤں رکھنا ہے۔ بھیڑ میں دھکے کھاتے،گھسٹتے گھسٹتے ایک بار پاؤں کے نیچے سبز قالین نظر آیا تو یوں لگا کہ جیسے تپتی دھوپ میں اچانک کوئی نخلستان آ گیا ہو۔آہ! میرے مولا !۔۔۔۔۔۔وہ کیا لمحہ تھا جب قدموں تلے ہرا قالین،ہاتھ بھر کے فاصلے پر نور سے بھری سبز جالی اور میرے بالکل سامنے ایک سجدے کے لئے خالی جگہ تھی ایسے جیسے وہ جگہ صرف میرے ہی لیےگھیر کر رکھی گئی تھی۔ میں نے لپک کر  جنت کی زمیں پر اپنا پہلا سجدہ کیا۔ اک ایسا سجدہ کہ جسکے بعد انسان چاہتا ہے کہ بس آج اسی لمحے اس زندگی ،اس کائنات کا انت ہو جائے، آج زندگی کی گھڑیاں جامد ہو جائیں اور وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑکر ابدیت کے سفر پر جا نکلے، وہ گھڑی جب انسان کا اپنے آپ سے، اس دنیا سے اور اس زمین کی ہر چیز سے جی بھر جاتا ہے اور وہ مڑ کر واپس لوٹنے سے بیزار آگے بڑھ کرفنا ہو جانا چاہتا ہے۔یہ جنت ہے جس میں داخل ہو کر انسان کو دنیا کی ہر نعمت،ہر خوشی اور ہر محبت سے نفرت ہو جاتی ہے۔
مدینہ میں ہم نے ایک ہفتہ گزارا جو میری تمام زندگی کے سب سے بہترین آٹھ دن ہیں۔ مدینہ کی سڑکیں آج بھی آنکھوں کے سامنے ہیں۔ مدینہ کے کبوتر جنہیں امی جان اکثر دانہ ڈالا کرتی تھیں۔ مدینہ کی کھجور مارکیٹیں جہاں سے ہم کھجور خریدا کرتے تھے۔ مسجد نبوی کے پچیس نمبر دروازے سے اکثر ہم داخل ہوتے تھے۔ وہاں سے امی جان خواتین کے حصے کی طرف چلی جاتیں اور ہم لوگ مردوں والے حصے کی طرف۔ نماز ادا کر کے امی جان واپس اسی جگہ آ جاتیں اور پھر ہم اکٹھے مسجد میں بیٹھ کر باتیں کرتے تھے، چائے پیتے تھے اور چھتریوں کی چھاؤں میں نبی کریمؐ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو ڈسکس کرتے تھے۔ مسجد نبویؐ کے قریب مسجد بلال میں بھی جانا ہوا۔
ہوٹل میں ہمارا کمرہ آٹھویں فلور پر تھا۔ اذان کے بعد میں اپنے کمرے سے مسجد کی طرف جھانکتا تو سفید لباس میں ملبوس لوگ چیونٹیوں کی طرح مسجد کی طرف جاتے نظر آتے تھے ۔ جب اذان ہوتی تھی تو لوگ سب کاروبار، معاملات، کھاناپینا چھوڑ کر مسجد کی طرف بھاگ پڑتے تھے۔ دوکانیں کھلی پڑی رہتیں اور لوگ نماز کے لیے چلے جاتے۔ نا جانے کیوں وقت تیزی سے گزر جاتا ہے اور پھر آٹھویں دن ہمیں مدینہ سے واپس مکہ آنا تھا۔ دل شہر نبیؐ سے جانے کو نہیں چاہ رہا تھا مگر لوٹنا ضروری تھا۔ ہم نے روضہ رسولؐ پر حاضری دی، نبی کریمؐ پر درود پڑھا اور حضور نبی کریمؐ سے اجازت لی کہ غلام جانے کی اجازت چاہتا ہے۔ہم نے پاکستان لانے کے لیے کافی مقدار میں کھجوریں بھی  مدینہ سےخریدیں۔  مدینہ سے نکلے تو میقات پہنچے۔ میقات میں بے شمار حاجی موجو د تھے۔ ہم نے بھی غسل کیا، عمرہ کی نیت کی اور احرام باندھ لیا۔ شہر نبیؐ سے بچھڑنے کا غم لیے مدینہ سے مکہ کا سفر ہم نے تقریباً پانچ گھنٹوں میں طے کیا۔ شام کے وقت مکہ پہنچے ، ہوٹل میں سامان رکھا اور بیت اللہ پر جا کر حاضری دی اور عمرہ کیا۔
ہماری رہائش بیت اللہ سے دو منٹ کی پیدل مسافت پر تھی اس لیے اکثر امی اور میں رات کو ایک یا دو بجے اٹھ کر خانہ کعبہ کی زیارت کے لیے آجاتے اور نماز فجر تک طواف، نوافل، اللہ کے گھر کی زیارت، اور تسبیح میں گزارتے۔ پھر تہجد اور نماز فجر ادا کرکے ہوٹل لوٹتے۔ ہوٹل میں پھل  اور جوس سے ناشتہ کرتے اور ظہر تک آرام کرتے  تھے۔ ظہر کے بعد اکثر زیارات کے لیے نکلتے کبھی عصر اور کبھی مغرب تک لوٹتے۔ مغرب مسجد نبوی ؐ میں ادا کرتے اور عشا ء تک وہیں رہتے۔عشا ء ادا کر کے ہوٹل لوٹ جاتے۔  اگلے آٹھ دن مکہ میں ہمارا تقریباً یہی معمول رہا۔
رب کعبہ کےاپنے لوگوں سے کیا کیا رشتے  اور سلسلےتھے،صرف رب کریم کی ذات جانتی ہے۔ہم اسکی حکمتوں اور رازوں سے ناواقف لوگ بہت کچھ دیکھنے اور دیکھ کر بھی سمجھ لینے سے قاصر تھے۔خدا اور بندوں کے بیچ ہزاروں پردے ہیں اور یہاں ہزاروں لاکھوں لوگوں کے بیچ خدا کا اسکے ہر بندے کے ساتھ تعلق الگ ہے، تبھی کوئی عمدہ پوشاک پہن کر آیا ہے اور کوئی ننگے پاؤں،کوئی پرے پرے چلتا ہے اور کوئی بھاگ بھاگ لپٹتا ہے،کسی کا دل چھاؤں میں بھی لگ نہیں پاتا اور کچھ کے سجدے گرم دھوپ میں تپتے فرش پر بھی اپنا خشوع وخضوع برقرار رکھتے ہیں۔تو یہ سلسلہ سب کا اپنا،یہ رابطہ ہر ایک کا انوکھا۔ہم بھی ہزاروں عام انسانوں کی طرح جل جلالہ کے پردے کے پیچھے رب کو چھپاۓ بیٹھے تھے اور چاہ کر بھی اس وارفتگی کا اظہار کر نہ پاتے تھےجو روضہ رسول کو دیکھ کر طاری ہوتی تھی۔وہاں پر رابطہ دل کا تھا اور یہاں بندگی کا تعلق تھا تو سر جھکائے ڈرتے ڈرتے چلتے،نیچی نظر سے دیکھتے اور گن گن کر طواف پورا کرتے۔
 ایک دن  زیارات کو نکلے۔غار حرا پہنچے تو دیکھا کہ غار کافی اونچائی پر پہاڑ پر واقع ہے۔ میں اور دوسرے دو ساتھیوں نے چڑھائی کا سفر شروع کیا اور تقریباً ایک گھنٹہ کی مسافت کے بعد ہم غار حرا پہنچے۔ اب وہاں غار تک آڑھی ترچھی سیڑھی بنا دی گی ہے لیکن  جب دو جہاں کے آقاؐ  وہاں جایا کرتے تھے تو سیڑھیاں نہیں تھیں۔ غار پہاڑ کی بلندی پر واقع ہے جہاں نبی کریمؐ کئی کئی دن ساری دنیا سے الگ ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزارتے تھے اور یہیں آپ ؐ پر پہلی وحی نازل ہوئی اور حضرت جبرائیلؑ نے آپ کو گلے لگا کر بھینچا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ اسی غار میں اکثر  آپ کو کھانا لا کر دیتیں تھیں۔ غارِ حرا جوں کی توں موجود ہے۔ میں نے نماز عصر اور دو نفل اس غار کے اندر ادا کیے۔ دعاؤں کانذرانہ اللہ کے حضور رکھ کر ہم واپس لوٹے۔
غار ثور  جہاں ہجرت مدینہ کے وقت کفار سے چھپ کر ہمارے نبیؐ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ نے پناہ لی تھی اور آپ کو بچانے کے لیے ایک فاختہ نے غار کے باہر انڈے دے دیے اور مکڑی نے جالا بُن دیا تھا بہت زیادہ اونچائی پر واقع ہے اور یہاں پہنچنا جان جوکھوں کا کام ہے ۔ ہم کوشش کے باوجود غار تک نا جا سکے لیکن  جس پربت پر غار واقع ہے اس کی مٹی  کو آنکھوں کا سرمہ ضرور بنایا۔
سب سے پہلے انسان  اور اس کی بیوی نے جب اللہ کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے درخت کا پھل کھا لیا تو انہیں سزا کے طور پر جنت سے نکال دیا گیا  اور دونوں کو الگ الگ زمین پر اتار دیا۔ دونوں روتے اور اللہ سے توبہ کرتے رہے۔ بالآخر نام محمد ؐ کا واسطہ دینے سے اللہ نے ان کی توبہ قبول کی اور مکہ میں ایک پہاڑ پر دونوں کی ایک دوسرے سے ملاقات ہوئی۔ اس پہاڑ کو جبل رحمت کہا جاتا ہے اور جہاں ان دونوں کی ملاقات ہوئی وہاں ایک ستون بنایا گیا ہے۔ ہم جبل رحمت پہنچے۔ یہ بھی بلندی پر واقع ہے لیکن یہاں جانا چنداں مشکل نہیں ہے۔ہم وہاں ستون کے پاس بیٹھ کر اللہ میاں سے ڈھیروں دعائیں کرتے رہے جو من میں ہم نے سوچ رکھی تھیں اور اللہ تو ہمارے من سے خوب آگاہ ہے۔
اس کے بعد میدان عرفات پہنچے۔ میدان عرفات مکہ مکرمہ سے تقریباً اکیس کلومیٹر دور طائف کے راستہ پر ایک بڑا وسیع میدان ہے، جو تین اطراف سے پہاڑیوں سے گھرا ہے، درمیان میں جبل الرحمۃ ہے، یہی وہ جگہ ہے جہاں حجۃ الوداع میں رسول اللہﷺ نے قیام فرمایا تھا، اور خطبہ ارشاد فرمایا تھا، حضرت آدم و حضرت حوا کی ملاقات  یہاں ہونے کے سبب اس میدان کو عرفات  یا عرفہ  کہتے ہیں۔ نویں ذی الحجہ کو زوال کے وقت سے حجاج یہاں جمع ہوتے ہیں جس کے بغیر حج ادا نہیں ہوتا، میدان عرفات کی مسجد کو مسجد نمرہ کہتے ہیں۔یہاں اب حکومت پاکستان کے تعاون سے درخت لگائے گئے ہیں۔
مزدلفہ میں مسجد مشعر الحرام  جہاں حاجی حج کے لیے آتے ہیں میں ہم نے دو نوافل ادا کیے۔ اس کے بعد ہم منیٰ پہنچے جہاں حاجیوں کے لیے بے پناہ خیمے بنائے گئے ہیں جہاں حج کے موقع پر منیٰ میں قیام کے دوران حاجی  ٹھہرتے ہیں ۔ عمرہ کے لیے جانے والوں کو خیموں یا رمی جمرات کے لیے بنائے گئے ستونوں کے پاس جانے کی اجازت نہیں ہوتی اس لیے ہم نے دور سے ہی شیطان کے تین ستون دیکھے اور دور سے کنکر مار کر شیطان پر اپنا غصہ ظاہر کرنے کی کوشش کی۔یہیں قریب ہی وہ مقام بھی ہم نے دیکھا جہاں حضرت ابراہیم ؑ نے اللہ کے حکم سے اپنے فرزند حضرت اسماعیلؑ کے گلے پر چھری چلائی  لیکن اللہ نے حضرت اسماعیلؑ کو بچا لیا اور ایک دنبہ آپ کی جگہ قربان ہو گیا۔ مسلمان ہر سال اسی قربانی کی یاد میں دس ذوالحج کو جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔ مکہ شہر کے اندر جنت المعلیٰ قبرستان جہاں حضرت خدیجہ مدفون ہیں پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔ حضرت محمدؐ کا گھر مبارک جہاں اب لائبریری قائم کی گئی ہے دیکھنے کا موقع ملا۔ ابوجہل جو اسلام کا سب سے بڑا دشمن تھا، ہمیشہ حضور نبی کریمؐ کے خلاف سازشیں کیں، مسلمانوں پر مصائب کے انبار اٹھائے، کئی مسلمانوں کو اذیتیں دے دے کر شہید کیا، کا گھر جہاں آ جکل بیت الخلا بنائی گئی ہیں بھی دیکھا۔
میرے دل میں بہت حسرت تھی کہ میں حجر اسود کا بوسہ لوں، رکن یمانی کو چوم سکوں، مقام ملتزم  پہ کھڑا دعائیں مانگوں، مقام حطیم میں نوافل پڑھوں، بیت اللہ کے دروازے کو چھو سکوں۔ حجراسود جنت سے بھیجا گیا کالا پتھر ہے جو خانہ کعبہ کی دیوار پر دروازے کے نزدیک نصب ہے۔ مقام ملتزم حجر اسود اور خانہ کعبہ کے دروازے کی درمیانی جگہ کو کہتے ہیں جو تقریباً چھ سات فٹ ہے۔ مقام حطیم خانہ کعبہ کے ساتھ واقع بیت اللہ کی ہی جگہ ہے جس پر خانہ کعبہ تعمیر نہیں ہے۔ اس کے اندر نوافل پڑھنا گویا خانہ کعبہ کے اندر نوافل پڑھنا ہے۔ یہ ساری سعادتیں ایک ہی دن نصیب ہوئیں۔ حجر اسود کو چومنے کے لیے حاجیوں کا ہر وقت رش لگا رہتا ہے۔ میں نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جب حجر اسود کا بوسہ لینے کا قصد کیا تو ہم چار ساتھی مل کر رکن یمانی والی طرف سے حجر اسود والی نکڑ کی طرف آئے اور آہستہ آہستہ حجر اسود کے قریب ہوتے گئے۔ میں نے حجر اسود کے پاس پہنچ کر اپنے جسم سے دیگر افراد کو روک کر باقی اپنے تین ساتھیوں کو بغل کے نیچے سے  حجر اسود کی طرف گزارا۔ اس طرح آسانی سے ہم چاروں نے حجراسود کو چوما۔
حجراسود کے ساتھ ہونٹ لگنے کی دیر تھی کہ جیسے دنیا کی سب سے بڑی دولت ہاتھ آ گئی ہو۔ ایسا سکون ملا کہ وہاں تک پہنچنے کے لیے جو ٹھوکریں کھائی تھیں، جو ادھر ادھر دھکم پیل سے مشکل ہوئی تھی، جو بھیڑ کی وجہ سے پسینہ آیا تھا سب بھول گیا اور یاد رہا تو بس وہ بوسہ کہ جو جنت کے پتھر پہ لگا تھا، ایسی تشفی ہوئی کہ جیسے برسوں کی پیاس ایکدم بجھ گئی ہو، کہ جیسے بنجر زمین پر موسلہ دھار بارش ہو گئی ہو، کہ جیسے دنیا کی سب سے بڑی متاع ہاتھ آ گئی ہو۔ وہیں ساتھ ہی مقام ملتزم ہے جہاں میں نے ڈھیروں دعائیں مانگیں اور خانہ کعبہ کے دروازہ کو چھوا۔  اس کے بعد طواف کرتے ہوئےمیں نے رکن یمانی کو بھی چوما جو حطیم سے الٹ سائیڈ پر نکڑ پر واقع ہے۔ بیت اللہ کی زیارت میرا اور امی کا روزانہ کا معمول تھا ہم پہروں بیٹھے خانہ کعبہ کو دیکھتے رہتے اور اپنی  آنکھوں کی پیاس بجھاتے رہتے۔
گرمی کے دن تھے۔جمعہ کے دن بیت اللہ میں پورا شہر امڈ آتا ہے اس لیے تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں ہوتی ۔ ہم اپنی طرف سے بہت جلدی تیار ہو کر جمعہ کی نماز کے لیے پہنچے مگر لوگوں سے حرم کھچا کھچ بھر چکا تھا۔ ہم نے صحن میں سخت دھوپ میں جمعہ کی نماز پڑھی تو شدیدگرمی کی وجہ سے طبیعت ہلکان ہو گئی۔ ہمارے ساتھی چاچا بشیر  نے  ہاتھ اٹھائے اور کہا کہ اے اللہ بارش دے دے بہت گرمی ہے۔ قبولیت کی گھڑی تھی ہم جمعہ پڑھ کر ہوٹل میں لوٹے اور ہمارے آنے تک ہر طرف کالے بادل آ چکے تھے۔ آن کی آن میں گھٹا اٹھی اور تیز موسلا دھار بارش نے جل تھل ایک کر دیا۔ میرے ساتھی جو ہوٹل میں کھڑے بارش کا مزہ لے رہے تھے سے میں نے کہا کہ آؤ بیت اللہ چلتے ہیں۔ ہم چار لوگ بارش میں نہاتے بیت اللہ پہنچے ۔ بے شمار لوگ بارش میں طواف کعبہ کر رہے تھے۔ میرے قدم خود ہی آگے بڑھتے چلے گئےجیسے کوئی قوت مجھے اپنی طرف کھینچ رہی ہو۔ میں آگے بڑھتا ہوا  حطیم میں جا پہنچااور خانہ کعبہ کے پرنالہ کے نیچے پرنالے سے بہتے پانی سے نہانے   لگا۔ یہ لمحہ میری زندگی کا یادگار ترین لمحہ ہے۔ خوب جی بھر کر ہم بارش میں نہاتے اور طواف کرتے رہے۔
ایک دن حرم میں داخل ہوتے ہی ایک ایسا نظارہ دیکھا کہ بے اختیار دل چاہا کہ اب کی بار جیب سے موبائل نکالا جائے اور اس نظارے کی ایک وڈیو ضرور بنا ئی جائے۔ ایک جوان سال پتلے کندھوں اور ہلکے جسم والے بیٹے نے اپنی بوڑھی جھکے کندھوں اور سکڑے ہوے جسم والی ماں کو اپنے کاندھے پر اٹھا رکھا تھا اور ایک ہاتھ سے وہیل چئیر کھولنے کی کوشش کررہاتھا۔۔۔۔آہ! وہ کیا نظارہ تھا کہ سر فخر سے بلند ہو گیا کہ ابھی ہماری دھرتی ایسے بیٹے پیدا کرتی ہے جو ماؤں کو کاندھوں پر اٹھا کر طواف کے لیے لاتے ہیں۔وہ اک عظیم لمحہ تھا جس نے یقیناً رب کعبہ کو بھی ایسا شاد کیا ہو گا کہ اس لمحے اس بیٹے کے ریکارڈ میں نجانے کتنے مقبول حج اور عمرے درج ہوئے ہونگے، نجانے کتنی جنتیں اسکے نام لکھی گئی ہونگی ۔وہ ایک لمحہ جس نے آس پاس سے گزرنے والے بہت سے لوگوں کو احتراماً روک دیا تھا ۔وہ بے خبر تھا کہ طواف سے پہلے ہی نجانے کتنی رحمتیں اسکے اکاؤنٹ میں جمع ہو چکی ہیں۔یہ وہ لمحہ تھا کہ جانے کتنے فرشتے آس پاس سانس روکے بیٹے کی یہ محبت تکتے ہوں گے۔
مکہّ شہر بہت خوبصورت اور پرکشش ہے۔پہاڑوں اور گھاٹیوں میں کہیں اوپر کہیں نیچے واقع یہ شہر اس قابل ہے کہ اسے ایک بار فرصت سے گھوم پھر کر دیکھا جائے ۔ گھروں اور عمارتوں کے بیچ میں پہاڑ اور پہاڑوں کو کاٹ کر بنائی گئی عمارتیں۔ اوپر نیچے جلتی  روشنیاں خوبصورت نظارہ پیش کرتی ہیں۔ دھوپ میں سڑکوں کے گرد لگے کھمبوں سے پانی کی ہلکی ہلکی پھوار نکلتی ہے جو گرمی کی شدت کو کم کرتی ہے۔ مغرب سے عشاء خوشبو کا چھڑکاؤ کرنے والے پنکھے مسجد حرام کو خوشبو سے بھر دیتے ہیں۔ ایک ایسا منظر ہوتا ہے کہ ہر طرف خوشبو، روشنی اور چاشنی پھیلی ہوتی ہے۔  محسوس ہوتا ہے کہ  کوئی نور پھیلا ہو ا ہے جو عرش تک جاتا ہے۔ مسجد میں لگا سفید سنگ مر مر سخت گرمی میں بھی ٹھنڈا رہتا ہے اور پاؤں کو بھلا لگتا ہے۔ مسجد حرام فن تعمیر کا نادر نمونہ ہے۔دل کرتا ہے انسان بیت اللہ میں بیٹھا اپنی زندگی بتا دے۔
ایک مزید عمرہ کا ارادہ لیے ایک دن مسجد عائشہ گئے ۔مسجد عائشہ مکہ کے مضافات میں تعمیر کردہ خوب صورت مسجد ہے۔ بیت اللہ سے مسجد عائشہ بس سروس چلتی ہے جس کا یک طرفہ کرایہ دو ریال ہے۔۔ نماز عصر اور مغرب ہم نے مسجد عائشہ میں ادا کی۔اس کے بعد ہم نے عمرہ کی نیت سے غسل کیا ،احرام باندھا اور بیت اللہ کی طرف روانہ ہو گئے۔عشاء کی اذان کے وقت مکہّ میں داخل ہوئے ، نماز عشاء پڑھی اور عمرہ کیا۔
ہمارے ایک ساتھی چاچا رشید جو ہمارے شش رکنی قافلے میں شامل تھے جب ہم مسجد عائشہ سے لوٹے تو  اچانک بیمار ہو گئے۔ ہم نے انہیں ہوٹل میں سلایا اور خود عمرہ کے لیے چلے گئے۔ ان کی طبیعت رات میں مزید بگڑ گئی اور علی الصبح ان کی حالت قریب المرگ ہو گئی۔ ہم انہیں ویل چئیر پر بٹھا کر قریبی ہسپتال لے گئے۔ڈاکٹرز نے بتایا کہ انہیں ہیٹ سٹروک ہو گیا ہے۔ انہوں نے میرا موبائل نمبر و دیگر کوائف لکھ لیے اور چاچا رشید کو داخل کر لیا۔ اگلے کچھ دن وہ بے ہوش رہے، ہمیں صرف صبح کے وقت ان کو دیکھنے کی اجازت دی جاتی تھی۔ چاچا رشید کی خیر خبر لے کر بیت اللہ کا رخ کیا۔
وہ رات زندگی کی اک قیمتی رات تھی جس کی یاد ہمیشہ دل میں اک محرومی، اک تپش اک آگ جلائےرکھنے والی تھی۔کالا لباس اوڑھے رب کعبہ کا گھر تھا، آدھی رات کا وقت تھااور میں اور امی اپنے رب کے ساتھ راز و نیاز کے لیے حاضر تھے۔آج کی رات کا پہلا طواف صحن کعبہ میں پرے پرے کھسکتے،اسی کے نام کا ورد کرتے مکمل ہوا جسکی چوکھٹ تک جانے کی ہمت نہ پڑی تھی۔خانہ خدا میں آخری رات تھی کہ صبح واپسی کے لئے جدہ کی طرف روانگی تھی ۔کاش کہ وہ رات حرم میں میری آخری رات نہ ہوتی،یا میری توفیق میں کچھ وسعت ہوتی،کاش کہ کچھ گھڑی میں بھی غلاف کعبہ سے لپٹ کر روتا،حطیم میں جھک کر کچھ سجدے کر لیتا،چوکھٹ کو تھامے کچھ دہائیاں دیتا،یا کچھ اور نہیں تو خانہ خدا کے سامنے دھرنا ہی دے کر بیٹھ جاتا اور طلوع صبح تک اٹھنے سے ہی انکاری ہو جاتا۔۔۔کاش کہ ایسا ہوتا مگر وقت کی تنگی تھی، چاچا رشید کا بار بار خیال آتا تھا کہ پتہ نہیں وہ زندہ رہیں گے کہ نہیں۔ اس صحن میں جہاں لوگ سر جھکاتے تو اٹھانا بھول جاتے،ہاتھ اٹھاتے تو سسکیاں لیتے, آہیں بھرتے ,واسطے دیتے وہاں میں  بھی اپنے تیئں اپنے خدا کو یاد کرنے کی کوشش کر رہاتھا مگر دل تھا کہ ڈرا جا تا تھا۔ چاچا رشید کا چہرہ آنکھوں کے سامنے تھا کہ کیسے وہ ہماری باہوں میں دم توڑنے لگے تھے۔
عمرہ یا حج مکمل کر کے واپسی پر انسان تصور کرتا ہے کہ اس کےایک بہت اہم کام کی تکمیل ہوئی۔یہ خبر واپسی کے بعد ہوتی ہے کہ تکمیل نہیں ابھی تو آغاز ہوا۔ وہ خدا جو آج تک محض تلاوت ،تہجد اور نماز میں فرض کیا جاتا تھا اسکی چوکھٹ کو تھام لینے کے بعد آپکا اپنا ہو جاتا ہے۔پھر وہ دل جنم لیتا ہے جو اس راہ پر ہر بار مرنا چاہتا ہے جو مکہ یا مدینے کے رخ جاتی ہو۔ جو  خوش قسمت ہیں تو اس سفر میں ملنے والے نگینوں کو دل و جاں سے لگا کر ہمیشہ کے لئے اپنی ہستی اور زندگی کا اک حصہ بنا لیتے ہیں اور جو  ہمارے جیسے کم نصیب اور ان ہیرے موتیوں کے اہل نہیں تو بیچ راہ میں ہی اپنی جیب کٹوا بیٹھتے ہیں۔ان زیارتوں پر جانے والوں پر خدا وہ دن کبھی نہ لاۓ کہ انکی سب ریاضتیں مٹی میں مل کرمٹی ہو جائیں،انکے دامن کے ہیرے موتی کہیں کنکر نہ بن جائیں،ان کے دامن سے لپٹی رحمتیں انہیں تنہا نہ کر جائیں۔ خدا جانے پھر کب لائیں ہمیں یہ راستے واپس اس نور کی طرف کہ جہاں جا کر ہمارے میلے لباس بھی اجلا گئے تھے۔اگلی صبح واپسی کے لئے جدہ کی طرف روانگی تھی اور دامن میں بھری آسودگی کے روپ میں تشنگی تھی جسے نجانے کب اس گھر کا مالک سیراب کرے۔
اگلی صبح چاچا رشید کی ذمہ دار ی اپنے دوست کوسونپ کر ہم نے طواف وداع کیا، آب زم زم پیا، اللہ کے حضور سجدہ شکر کیا کہ اس نے اس گناہگار کو اپنے گھر بلایا اور روتی آنکھوں اور دکھی دل کے ساتھ اللہ کے پاک گھر کو الوداع کہا اور جدہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ جدہ سے سعودی ائیر لائن کے ذریعے لاہور پہنچے۔ اس اٹھارہ دن کے دیار عرب کے سفر نے مجھے بہت زیادہ روحانی سکون عطا کیا۔جب کبھی طواف کرتے ہوئے حبشیوں اورسوڈانیوں کے دھکے لگنے سے میں فٹ بال بنتا ہوا خانہ کعبہ کی دیوار سے ٹکراتا تو ایسے لگتا جیسے ماں کی گود میں آ گیا ہوں۔جیسے ممتا نے تمام دکھوں ، پریشانیوں سے بچا کر سکون کی دولت نچھاور کر دی ہو۔   آج دوسال گزر جانے کے بعد بھی وہ تمام جگہیں ، وہ مقامات، وہ مناظر جوں کے توں آنکھوں کے سامنے ہیں۔ کوئی چیز یاد سے محو نہیں ہوئی۔ جب کبھی کوئی مکہ یا مدینہ کا ذکر کرتا ہے تو میں اپنے آپ کو وہیں طواف کرتا ہوا محسوس کرتا ہوں۔

بچوں میں خوف کے جذبات کو کیسے دور کیا جائے؟ ( How fear can be removed in children)


حقیقی استاد (Real Teacher)

شادی کی تقریب میں ایک صاحب اپنے جاننے والے آدمی کے پاس جاتے ھیں اور پوچھتے ھیں۔۔ کیا آپ نے مجھے پہچانا؟"

انہوں نے غور سے دیکھا اور کہا "ھاں آپ میرے پرائمری سکول کے شاگرد ھو۔ کیا کر رھے ھو آج کل؟"
شاگرد نے جواب دیا کہ "میں بھی آپ کی طرح سکول ٹیچر ھوں۔اور ٹیچر بننے کی یہ خواہش مجھ میں آپ ھی کی وجہ سے پیدا ھوئی۔"

استاد نے پوچھا "وہ کیسے؟"
شاگرد نے جواب دیا، "آپ کو یاد ھے کہ ایک بار کلاس کے ایک لڑکے کی بہت خوبصورت گھڑی چوری ھو گئی تھی اور وہ گھڑی میں نے چرائی تھی۔ آپ نے پوری کلاس کو کہا تھا کہ جس نے بھی گھڑی چرائی ھے واپس کر دے۔ میں گھڑی واپس کرنا چاھتا تھا لیکن شرمندگی سے بچنے کے لئے یہ جرات نہ کر سکا۔
آپ نے پوری کلاس کو دیوار کی طرف منہ کر کے ، آنکھیں بند کر کے کھڑے ھونے کا حکم دیا اور سب کی جیبوں کی تلاشی لی اور میری جیب سے گھڑی نکال کر بھی میرا نام لئے بغیر وہ گھڑی اس کے مالک کو دے دی اور مجھے کبھی اس عمل پر شرمندہ نہ کیا۔ میں نے اسی دن سے استاد بننے کا تہیئہ کر لیا تھا۔"

استاد نے کہا کہ "کہانی کچھ یوں ھے کہ تلاشی کے دوران میں نے بھی اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں اور مجھے بھی آج ھی پتہ چلا ھے کہ وہ گھڑی آپ نے چرائی تھی۔"
کیا ھم ایسے استاد بن سکتے ھیں جو اپنے اعمال سے بچوں کو استاد بننے کی ترغیب دے سکیں نہ کہ چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر بچوں کو پوری کلاس کے سامنے شرمندہ کریں۔
(منقول)

ایک نظم: تو میرا غزالی ہے (A Poem: You are my Ghazali)


استاد ہی لکھتے ہیں نئی صبح کی تحریر (A teacher opens the horizon)


آدابِ شاگردی (Characteristics of a good students)


کھیل: اچھی تعلیم و تربیت کا لازمی جزو (Games: A major part of good education)



استاد ہی لکھتے ہیں نئی صبح کی تحریر (A teacher opens the horizon)


طالب علم کی تربیت میں معلم کا کردار (Role of Teacher in Training of Students)


توجہ بڑھائیے (Raise Concentration)



موت کے بعد انسان کی آرزوئیں (Wishes of Human beings after Death)


موت کے بعد انسان کی ۹ آرزوئیں جن کا تذکرہ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ

۱- يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻣﭩﯽ ﮨﻮﺗﺎ
ﺳﻮﺭة النبأ‏ 40

۲- يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ‏( ﺍﺧﺮﯼ ‏) ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭽﮫ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺠﺮ 24

۳- يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻣﮧ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻧﮧ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺤﺎﻗﺔ 25

۴- يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻓﻼﮞ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮧ ﺑﻨﺎﺗﺎ
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺮﻗﺎﻥ 28

۵- يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﮨﻢ ﻧﮯ للہ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﯽ ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﮨﻮﺗﯽ
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻷﺣﺰﺍﺏ 66

۶- يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﻟﯿﺘﺎ
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺮﻗﺎﻥ 27

۷- يَا لَيْتَنِي كُنتُ مَعَهُمْ فَأَفُوزَ فَوْزًا عَظِيمًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﺎ
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻨﺴﺎﺀ 73

۸- يَا لَيْتَنِي لَمْ أُشْرِكْ بِرَبِّي أَحَدًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺷﺮﯾﮏ ﻧﮧ ﭨﮭﯿﺮﺍﯾﺎ ﮨﻮﺗﺎ
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻜﻬف42

۹- يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﮐﻮﺋﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﻮ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﮭﯿﺠﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﮧ ﺟﮭﭩﻼﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﮞ۔
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻷﻧﻌﺎﻡ 27