محنت، دیانت داری اور ہنر

 ایک دن پروفیسر صاحب  سے جوتا پالش کرنے والے بچے نے جوتا پالش کرتے کرتے پوچھا 

 ’’ماسٹر صاحب! کیا میں بھی بڑا آدمی بن سکتا ہوں‘‘

 پروفیسر نے قہقہہ لگا کر جواب دیا

 ’’دنیا کا ہر شخص بڑا آدمی بن سکتا ہے‘‘

بچے کا اگلا سوال تھا

’’کیسے؟‘‘

پروفیسر نے اپنے بیگ سے چاک نکالا‘اوراسکےکھوکھے کی دیوار پر

دائیں سے بائیں تین لکیریں لگائیں‘

پہلی لکیر پر محنت‘ محنت اور محنت لکھا‘

دوسری لکیر پر ایمانداری‘ ایمانداری اور ایمانداری لکھا

اور تیسری لکیر پر صرف ایک لفظ ہنر )Skill( لکھا۔

بچہ پروفیسر کو چپ چاپ دیکھتا رہا‘ پروفیسر یہ لکھنے کے بعد بچے کی طرف مڑا اور بولا:

ترقی کے تین زینے ہوتے ہیں‘

پہلا زینہ محنت ہے.

 آپ جو بھی ہیں‘ آپ اگر صبح‘ دوپہر اور شام تین اوقات میں محنت کر سکتے ہیں تو آپ تیس فیصد کامیاب ہو جائیں گے.

آپ کوئی سا بھی کام شروع کر دیں، آپ کی دکان‘ فیکٹری‘ دفتر یا کھوکھا صبح سب سے پہلے کھلنا چاہئے اور رات کو آخر میں بند ہونا چاہئے‘

 آپ کامیاب ہو جائیں گے‘‘۔

 پروفیسر نے کہا ’’ہمارے اردگرد موجود نوے فیصد لوگ سست ہیں‘ یہ محنت نہیں کرتے‘ آپ جوں ہی محنت کرتے ہیں آپ نوے فیصد سست لوگوں کی فہرست سے نکل کر دس فیصد محنتی لوگوں میں آ جاتے ہیں‘ آپ ترقی کیلئے اہل لوگوں میں شمار ہونے لگتے ہیں".

اگلا مرحلہ ایمانداری ہوتی ہے.

ایمانداری چار عادتوں کا پیکج ہے.

وعدے کی پابندی‘  جھوٹ سے نفرت‘  زبان پر قائم رہنا اور اپنی غلطی کا اعتراف کرنا۔

آپ محنت کے بعد ایمانداری کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لو‘ وعدہ کرو تو پورا کرو‘ جھوٹ کسی قیمت پر نہ بولو‘

زبان سے اگر ایک بار بات نکل جائے تو آپ اس پر ہمیشہ قائم رہو اور ہمیشہ اپنی غلطی‘ کوتاہی اور خامی کا آگے بڑھ کر اعتراف کرو‘

تم ایماندار ہو جاؤ گے۔

کاروبار میں اس ایمانداری کی شرح 50 فیصد ہوتی ہے.

آپ پہلا تیس فیصد محنت سے حاصل کرتے ہیں. آپ کو دوسرا پچاس فیصد ایمانداری دیتی ہے.

اور پیچھے رہ گیا 20 فیصد تو یہ 20 فیصد ہنر ہوتا ہے.

آپ کا پروفیشنل ازم‘ آپ کی سکل اور آپ کا ہنر آپ کو باقی 20 فیصد بھی دے دے گا.

"آپ سو فیصد کامیاب ہو جاؤ گے‘‘.

پروفیسر نے بچے کو بتایا۔

 ’’لیکن یہ یاد رکھو ہنر‘ پروفیشنل ازم اور سکل کی شرح صرف 20 فیصد ہے اور یہ 20 فیصد بھی آخر میں آتا ہے‘ آپ کے پاس اگر ہنر کی کمی ہے تو بھی آپ محنت اور ایمانداری سے 80 فیصد کامیاب ہو سکتے ہیں.

لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ بے ایمان اور سست ہوں اور آپ صرف ہنر کے زور پر کامیاب ہو جائیں۔

آپ کو محنت ہی سے سٹارٹ لینا ہو گا‘

ایمانداری کو اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنانا ہو گا'

آخر میں خود کو ہنر مند ثابت کرنا ہوگا‘‘۔

پروفیسر نے بچے کو بتایا۔

 "میں نے دنیا کے بے شمار ہنر مندوں اور فنکاروں کو بھوکے مرتے دیکھا‘

 کیوں؟

کیونکہ وہ بے ایمان بھی تھے اور سست بھی'

 اور میں نے دنیا کے بے شمار بےہنروں کو ذاتی جہاز اڑاتے دیکھا‘-

’تم ان تین لکیروں پر چلنا شروع کر دو‘

 تم آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگو گے‘‘۔


زندگی واقعی چالیس سے شروع ہوتی ہے

کہا جاتا ہے کہ زندگی چالیس کی عمر سے شروع ہوتی ہے، اور یہ بات حقیقت کے قریب بھی ہے۔ اس وقت تک انسان مختلف مراحل سے گزر چکا ہوتا ہے: بچپن کی معصومیت، جوانی کی بے قراری، اور جوانی کی ذمہ داریوں کا بوجھ۔ چالیس کا ہندسہ ان تمام تجربات اور جدوجہد کا نچوڑ ہے، جو ایک نئے شعور، خود آگاہی، اور زندگی کی اصل معنویت کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

چالیس کی عمر وہ موڑ ہے جہاں انسان اپنے خوابوں اور حقیقت کے درمیان ایک توازن قائم کرنا سیکھ لیتا ہے۔ یہ عمر ہمیں یہ سمجھنے کا موقع دیتی ہے کہ کامیابی صرف مادی چیزوں میں نہیں بلکہ اندرونی سکون، محبت، اور تعلقات میں ہے۔ اس وقت تک ہم اپنی غلطیوں سے سیکھ چکے ہوتے ہیں اور اپنی خوبیوں کے ساتھ بہتر تعلق قائم کر لیتے ہیں۔

 انسان کے لیے یہ وقت ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذات پر بھی توجہ دے، اپنے شوق پورے کرے، اور وہ کام کرے جو ہمیشہ سے دل کے قریب رہے ہوں۔

چالیس کی عمر ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ ہر دن ایک نیا آغاز ہے، اور زندگی کے تجربات ہمیں مزید مضبوط اور دانا بناتے ہیں۔ یہ وقت ہے خود کو جاننے، اپنے اندر جھانکنے، اور وہ کام کرنے کا، جن سے ہم اپنی حقیقی پہچان پا سکیں۔

زندگی واقعی چالیس سے شروع ہوتی ہے، کیونکہ اس وقت ہم زندگی کو نہ صرف بہتر طور پر سمجھنے لگتے ہیں بلکہ اسے اپنے مطابق جینے کی ہمت بھی رکھتے ہیں۔

"ابوسالار امتیاز کالوآنہ

غصے کی کیمسٹری

 جوشخص غصے کی کیمسٹری کو سمجھتا ہو وہ بڑی آسانی سے غصہ کنٹرول کر سکتا ہے“ میں نے پوچھا ”سر غصے کی کیمسٹری کیا ہے؟“

وہ مسکرا کر بولے ”ہمارے اندر سولہ کیمیکلز ہیں‘ یہ کیمیکلز ہمارے جذبات‘ ہمارے ایموشن بناتے ہیں‘ ہمارے ایموشن ہمارے موڈز طے کرتے ہیں اور یہ موڈز ہماری پرسنیلٹی بناتے ہیں“ میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ بولے ”ہمارے ہر ایموشن کا دورانیہ 12 منٹ ہوتا ہے“ میں نے پوچھا ”مثلا“۔۔۔؟ وہ بولے ”مثلاً غصہ ایک جذبہ ہے‘ یہ جذبہ کیمیکل ری ایکشن سے پیدا ہوتا ہے‘مثلاً ہمارے جسم نے انسولین نہیں بنائی یا یہ ضرورت سے کم تھی‘ ہم نے ضرورت سے زیادہ نمک کھا لیا‘

ہماری نیند پوری نہیں ہوئی یا پھر ہم خالی پیٹ گھر سے باہر آ گئے‘ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا ؟ ہمارے اندر کیمیکل ری ایکشن ہو گا‘ یہ ری ایکشن ہمارا بلڈ پریشر بڑھا دے گا اور یہ بلڈ پریشر ہمارے اندر غصے کا جذبہ پیدا کر دے گا‘ ہم بھڑک اٹھیں گے لیکن ہماری یہ بھڑکن صرف 12 منٹ طویل ہو گی‘ ہمارا جسم 12 منٹ بعد غصے کو بجھانے والے کیمیکل پیدا کر دے گا اور یوں ہم اگلے 15منٹوں میں کول ڈاؤن ہو جائیں گے چنانچہ ہم اگر غصے کے بارہ منٹوں کو مینیج کرنا سیکھ لیں تو پھر ہم غصے کی تباہ کاریوں سے بچ جائیں گے“

میں نے عرض کیا ”کیا یہ نسخہ صرف غصے تک محدود ہے“ وہ مسکرا کر بولے ”جی نہیں‘ ہمارے چھ بیسک ایموشنز ہیں‘ غصہ‘ خوف‘ نفرت‘ حیرت‘ لطف(انجوائے) اور اداسی‘ ان تمام ایموشنز کی عمر صرف بارہ منٹ ہو تی ہے‘ ہمیں صرف بارہ منٹ کیلئے خوف آتا ہے‘ ہم صرف 12 منٹ قہقہے لگاتے ہیں‘ ہم صرف بارہ منٹ اداس ہوتے ہیں‘ ہمیں نفرت بھی صرف بارہ منٹ کیلئے ہوتی ہے‘ ہمیں بارہ منٹ غصہ آتا ہے اور ہم پر حیرت کا غلبہ بھی صرف 12 منٹ رہتا ہے‘

ہمارا جسم بارہ منٹ بعد ہمارے ہر جذبے کو نارمل کر دیتا ہے“ میں نے عرض کیا ”لیکن میں اکثر لوگوں کو سارا سارا دن غصے‘ اداسی‘ نفرت اور خوف کے عالم میں دیکھتا ہوں‘ یہ سارا دن نارمل نہیں ہوتے“ وہ مسکرا کر بولے ”آپ ان جذبوں کو آگ کی طرح دیکھیں‘ آپ کے سامنے آگ پڑی ہے‘ آپ اگر اس آگ پر تھوڑا تھوڑا تیل ڈالتے رہیں گے‘ آپ اگر اس پر خشک لکڑیاں رکھتے رہیں گے تو کیا ہو گا ؟ یہ آگ پھیلتی چلی جائے گی‘ یہ بھڑکتی رہے گی‘

ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنے جذبات کو بجھانے کی بجائے ان پر تیل اور لکڑیاں ڈالنے لگتے ہیں چنانچہ وہ جذبہ جس نے 12 منٹ میں نارمل ہو جانا تھا وہ دو دو‘ تین تین دن تک وسیع ہو جاتا ہے‘ ہم اگر دو تین دن میں بھی نہ سنبھلیں تو وہ جذبہ ہمارا طویل موڈ بن جاتا ہے اور یہ موڈ ہماری شخصیت‘ ہماری پرسنیلٹی بن جاتا ہے یوں لوگ ہمیں غصیل خان‘ اللہ دتہ اداس‘ ملک خوفزدہ‘ نفرت شاہ‘ میاں قہقہہ صاحب اور حیرت شاہ کہنا شروع کر دیتے ہیں“ وہ رکے اور پھر بولے ”آپ نے کبھی غور کیا ہم میں سے بے شمار لوگوں کے چہروں پر ہر وقت حیرت‘ ہنسی‘ نفرت‘ خوف‘ اداسی یا پھر غصہ کیوں نظر آتا ہے؟

وجہ صاف ظاہر ہے‘ جذبے نے بارہ منٹ کیلئے ان کے چہرے پر دستک دی لیکن انہوں نے اسے واپس نہیں جانے دیا اور یوں وہ جذبہ حیرت ہو‘ قہقہہ ہو‘ نفرت ہو‘ خوف ہو‘ اداسی ہو یا پھر غصہ ہو وہ ان کی شخصیت بن گیا‘ وہ ان کے چہرے پر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے درج ہو گیا‘ یہ لوگ اگر وہ بارہ منٹ مینج کر لیتے تو یہ عمر بھر کی خرابی سے بچ جاتے‘ یہ کسی ایک جذبے کے غلام نہ بنتے‘ یہ اس کے ہاتھوں بلیک میل نہ ہوتے“ میں نے عرض کیا ”اور کیا محبت جذبہ نہیں ہوتا“ فوراً جواب دیا ”محبت اور شہوت دراصل لطف کے والدین ہیں‘ یہ جذبہ بھی صرف بارہ منٹ کاہوتا ہے‘

آپ اگر اس کی بھٹی میں نئی لکڑیاں نہ ڈالیں تو یہ بھی بارہ منٹ میں ختم ہو جاتا ہے لیکن ہم بے وقوف لوگ اسے زلف یار میں باندھ کر گلے میں لٹکا لیتے ہیں اور یوں مجنوں بن کر ذلیل ہوتے ہیں‘ ہم انسان اگر اسی طرح شہوت کے بارہ منٹ بھی گزار لیں تو ہم گناہ‘ جرم اور ذلت سے بچ جائیں لیکن ہم یہ نہیں کر پاتے اور یوں ہم سنگسار ہوتے ہیں‘ قتل ہوتے ہیں‘ جیلیں بھگتتے ہیں اور ذلیل ہوتے ہیں‘ ہم سب بارہ منٹ کے قیدی ہیں‘ ہم اگر کسی نہ کسی طرح یہ قید گزار لیں تو ہم لمبی قید سے بچ جاتے ہیں ورنہ یہ 12 منٹ ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتے“۔

میں نے ان سے عرض کیا ”آپ یہ بارہ منٹ کیسے مینیج کرتے ہیں“ وہ مسکرا کر بولے ”میں نے ابھی آپ کے سامنے اس کا مظاہرہ کیا‘ وہ صاحب غصے میں اندر داخل ہوئے‘ مجھ سے اپنی فائل مانگی‘ میں نے انہیں بتایا میں آپ کی فائل پر دستخط کر کے واپس بھجوا چکا ہوں لیکن یہ نہیں مانے‘ انہوں نے مجھ پر جھوٹ اور غلط بیانی کا الزام بھی لگایا اور مجھے ماں بہن کی گالیاں بھی دیں‘ میرے تن من میں آگ لگ گئی لیکن میں کیونکہ جانتا تھا میری یہ صورتحال صرف 12 منٹ رہے گی چنانچہ میں چپ چاپ اٹھا‘

وضو کیا اور نماز پڑھنی شروع کر دی‘ میرے اس عمل پر 20 منٹ خرچ ہوئے‘ ان 20 منٹوں میں میرا غصہ بھی ختم ہو گیا اور وہ صاحب بھی حقیقت پر پہنچ گئے‘ میں اگر نماز نہ پڑھتا تو میں انہیں جواب دیتا‘ ہمارے درمیان تلخ کلامی ہوتی‘ لوگ کام چھوڑ کر اکٹھے ہو جاتے‘ہمارے درمیان ہاتھا پائی ہو جاتی‘ میں اس کا سر پھاڑ دیتا یا یہ مجھے نقصان پہنچا دیتا لیکن اس سارے فساد کا آخر میں کیا نتیجہ نکلتا؟ پتہ چلتا ہم دونوں بے وقوف تھے‘ ہم سارا دن اپنا کان چیک کئے بغیر کتے کے پیچھے بھاگتے رہے چنانچہ میں نے جائے نماز پر بیٹھ کر وہ بارہ منٹ گزار لئے اور یوں میں‘ وہ اور یہ سارا دفتر ڈیزاسٹر سے بچ گیا‘ ہم سب کا دن اور عزت محفوظ ہو گئی

میں نے پوچھا ”کیا آپ غصے میں ہر بار نماز پڑھتے ہیں“ وہ بولے ”ہرگز نہیں‘ میں جب بھی کسی جذبے کے غلبے میں آتا ہوں تو میں سب سے پہلے اپنا منہ بند کر لیتا ہوں‘ میں زبان سے ایک لفظ نہیں بولتا‘ میں قہقہہ لگاتے ہوئے بھی بات نہیں کرتا‘ میں صرف ہنستا ہوں اور ہنستے ہنستے کوئی دوسرا کام شروع کر دیتا ہوں‘ میں خوف‘ غصے‘ اداسی اور لطف کے حملے میں واک کیلئے چلا جاتا ہوں‘ غسل کرلیتا ہوں‘ وضو کرتا ہوں‘ 20 منٹ کیلئے چپ کا روزہ رکھ لیتا ہوں‘ استغفار کی تسبیح کرتا ہوں‘

اپنی والدہ یا اپنے بچوں کو فون کرتا ہوں‘ اپنے کمرے‘ اپنی میز کی صفائی شروع کر دیتا ہوں‘ اپنا بیگ کھول کر بیٹھ جاتا ہوں‘ اپنے کان اور آنکھیں بند کر کے لیٹ جاتا ہوں یا پھر اٹھ کر نماز پڑھ لیتا ہوں یوں بارہ منٹ گزر جاتے ہیں‘ طوفان ٹل جاتا ہے‘ میری عقل ٹھکانے پر آ جاتی ہے اور میں فیصلے کے قابل ہو جاتا ہوں“ وہ خاموش ہو گئے‘ میں نے عرض کیا ”اور اگر آپ کو یہ تمام سہولتیں حاصل نہ ہوں تو آپ کیا کرتے ہیں“ وہ رکے‘ چند لمحے سوچا اور بولے ”آسمان گر جائے یا پھر زمین پھٹ جائے‘ میں منہ نہیں کھولتا‘

میں خاموش رہتا ہوں اور آپ یقین کیجئے سونامی خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو وہ میری خاموشی کا مقابلہ نہیں کر سکتا‘ وہ بہرحال پسپا ہو جاتاہے‘ آپ بھی خاموش رہ کر زندگی کے تمام طوفانوں کو شکست دے سکتے ھیں۔۔۔

آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جس نے خاموشی اختیار کی اس نے نجات پائی..

ذہنی مریض لوگ

سونا ڈھائی لاکھ تولہ ہونے کی وجہ سے عوام کی پہنچ سے دور ہوتا جارہا ہے اس سے بے وقوف مڈل کلاسیوں کی شادیاں بھی پہنچ سے دور ہورہی ہیں جہنوں نے گولڈ جیولری کا دکھاوا ضرور کرنا ہوتا ہے۔ زیادہ تر وہ گولڈ بعد میں سارا سال سنبھال کر رکھ دیا جاتا ہےاور فنکشنز پر بھی نہیں پہنا جاتا۔ مڈل کلاس یا لوئر مڈل کلاس کے لوگ اتنے بے وقوف ہوتے ہیں کہ لڑکا پوری عمر موٹر سائیکل چلاتا ہے لیکن بارات کے دن کئی عدد نئی کاریں کرائے پر لے کر دلہن کے گھر پہنچ جاتا ہےاور شادی سے اگلے دن وہی دولہا اور دلہن موٹر سائیکل پر رلتے ہوئے جاتے ہیں۔ شادی کے دن دونوں ہی فضول خرچی کرلیتے ہیں۔ اگر بچت کی جائے تو چھوٹی موٹی گاڑی آسانی سے آسکتی ہے۔ جہیز میں لڑکی کو درجنوں بستر کمبل رضائیاں تکئے دئے جاتے ہیں جوکسی پیٹی یا الماری میں دس یا بیس سال بند رہتے اس سے بھی گھٹیا کام یہ ہے کہ لڑکی کے لئے دونوں طرف سے کئی عدد سوٹ اور جوتے اس لئے خریدے جاتے ہیں کہ آنے والے مہمانوں کو دکھائے جائیں  جو بعد میں آؤٹ آف فیشن ہوجاتے ہیں۔ یہ بے وقوف لوگ ساری عمر دال روٹی کھاتے ہیں ایک ایک روپے کی بچت کرتے ہیں  لیکن شادی پر صرف دکھاوے کے لئے بریانی مٹن بیف اور پتہ نہیں کیا کیا انتظام کیا جاتا وہ بھی ایک بار نہیں بلکہ مہندی بارات ولیمہ کےلئے۔

 لڑکے کی شادی پر دس سے پندرہ لاکھ لگا دیں گے لیکن سادگی سے شادی کرکے باقی پیسے اس لڑکے کو نہیں دیں گے کہ وہ اپنا کوئی کام کاج کرلے۔ دلہن کا ایک فنکشن کا میک اپ پچیس ہزار سے شروع ہوکر لاکھوں تک جاتا ہے جو کے پانچ سے سات گھنٹوں کے لئے ایک جعلی تصویر پیش کرتا ہے۔  اب تو فوٹو سیشن کے لئے لاکھوں لگا دئیے جاتے ہیں تاکہ یہ سب دکھاوا جسکو کرنے کے لئے لڑکی اور لڑکے دونوں گھر والوں کو اگلے ایک سال تک قرض اتارنا ہے محفوظ بھی  رکھا جاسکے تاکہ زندگی میں آگے جاکر اسکو یاد کرکے رویا بھی جاسکے اگر یہ کچھ نہ کیا ہوتا تو زندگی مختلف ہوتی اس سارے معاملات میں لڑکی لڑکے والے دونوں برابر کے حصہ دار ہوتے اور پریشانی سال ہا سال 


شادیوں میں دیری، وجہ کیا ہے؟

 آ ج سے تقریباً پندرہ سال پہلے معاشرے کا جو رجحان تھا.اس کے مطابق جس لڑکی کی شادی پچیس سال کی عمر سے پہلے کر دی جاتی،تو ایسی شادی کو بروقت گردانا جاتا۔

پچیس کی عمر کا ہندسہ عبور کرنے کا یہ مطلب لیا جاتا کہ لڑکی کے رشتہ میں دیر ہوگئی ہے.....

♢♢اس سے پہلے کا معلوم نہیں لیکن ہوسکتا ہے کہ دیری کا یہ پیمانہ تین چار سال پہلے تصور کیا جاتا ہو...

پھر سات آٹھ سال پہلے یہ صورتحال ہوئی کہ تیس سال کی عمر سے پہلے پہلے لڑکی کی شادی بروقت قرار دیے جانے لگی۔یعنی محض سات آٹھ سال میں پانچ سال کا فرق آگیا۔

اب بھی ایسے معاملات ہیں کہ اکثر گھروں میں لڑکیوں کی عمریں تیس سے چالیس کے درمیان ہوچکی ہیں لیکن رشتہ ندارد۔

یہ رشتہ میں دیری کا رجحان ہمارے معاشرے میں ایسی خاموش دراڑیں ڈال رہا ہے جو معاشرتی ڈھانچے کے زمین بوس ہونے کا پیش خیمہ ہیں۔

لیکن حیف کہ اس کاعملی ادراک معاشرے کے چند لوگوں کو بھی نہیں۔

آئیں!اس دیری کی وجوہات کا تعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں،،،،

🔸 پہلی وجہ🔸:

لڑکوں کا تعلیم کے میدان میں پیچھے رہ جانا اور لڑکیوں کا اس میدان میں آگے نکل جانا ہے،،،،

پچھلے کئی سالوں کے بورڈ امتحانات کے نتائج اس بات کے شاہد ہیں،،،

اس کی وجہ سے تعلیم کے لحاظ سے ہم پلہ رشتہ ملنا انتہائی مشکل ہوچکا ہے۔

▪▪شہروں میں کچھ سالوں سے لڑکیوں میں بڑھتے ہوئے پی ایچ ڈی کے رجحان نے اس کو اور مشکل بنا دیا ہے۔

▪ دوسری وجہ▪:

اچھی تعلیم حاصل ہونے کی وجہ سے لڑکیوں کو روزگار کے مواقع نسبتاً آسانی سے مل جاتے ہیں،،،،،

اس کے دو اثرات سامنے آئے ہیں؛؛

▪ ایک▪:والدین کا ان لڑکیوں پر مالی انحصار کرنا شروع ہوجانا،،،

▪ دو▪:نوکریوں کے لحاظ سے ہم پلہ رشتے نہ ملنا

💥 تیسری وجہ💥

کچھ والدین کا اس معاملہ میں بالکل ہل جل نہ کرنا ہے،،

لڑکیوں کی عمریں اٹھائیس اٹھائیس سال ہوجاتی ہیں لیکن انھیں کم عمر ہی تصور کیا جاتا ہے۔

♧♧ایک زمانہ تھا کہ اٹھارہ بیس کی عمر میں مائیں رشتوں کی تلاش میں سرگرداں ہوجایا کرتی تھیں۔

🔺 چوتھی وجہ🔺

جس لڑکی کی عمر تیس سال سے اوپر ہوجاتی ہے اس کے لئے عمر کے لحاظ سے رشتے مشکل ہوجاتے ہیں کیونکہ اکثر لڑکے والے کم عمر لڑکی کی تلاش میں ہوتے ہیں،،،

🔹 پانچویں وجہ🔹

لڑکے والوں کے از حد نخرے ہیں،،،

اول تو کوئی لڑکی، لڑکے کی ماں بہن کوبھاتی نہیں،فقط کھانے پینے سے لطف اندوز ہونا ہی شایدمقصد ہوتا ہے۔

اگر کوئی لڑکی پسند آبھی جائے تو پھر فرمائشوں اور رسوم و رواج کے نام پر لڑکی والوں کا مکمل استحصال کیا جاتا ہے۔

ہمارے ایک ایسے دوست ہیں جن کے گھر والوں نے بیاسی جگہ ان کا رشتہ دیکھا،پھر ایک جگہ ہاں کی،

کچھ عرصہ بعد وہاں سے رشتہ توڑنے لگے تو ان دوست نے انکار کردیا کہ میں مزید تماشا نہیں دیکھ سکتا..

▪ چھٹی وجہ▪

شہروں میں ایک عجیب وجہ سامنے آئی ہے؛

لڑکی کے والدین لڑکے میں وہ تمام کامیابیاں دیکھنا چاہتے ہیں جو پچاس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہیں۔

*مکان🏘 اپنا ہو،گاڑی🚘 پاس ہو،تنخواہ کم از کم اتنی ہو*وغیرہ وغیرہ۔

 میں اپنے ایک انجینئر دوست کا رشتہ کروا نے کی کوشش میں تھا؛لڑکا لائق فائق،خوش شکل،نوکری اچھی،،،

 لڑکی کی ماں کو بہت پسند تھا،لڑکے والے بھی راضی تھے لیکن اچانک لڑکی کے والدین نے انکار کردیا اور وجہ یہ بتائی گئی کہ لڑکے کے پاس اپنامکان نہیں،وہ کرائے کے مکان میں رہتا ہے۔

اب ایسے رویوں کا کیا کیا جائے؟کیا یہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف نہیں؟

🍃 ساتویں وجہ🍃

خاندانوں کے اندر ایک عجیب و غریب وجہ دیکھنے میں آرہی ہے۔ہر ماں اپنی بیٹی کا رشتہ خاندان میں بخوشی کرنے پر راضی ہے لیکن جب اپنے بیٹے کا معاملہ آتا ہے تو خاندان کی سب لڑکیوں پر ناک بھوں چڑھا لیا جاتا ہے اور بڑے طمطراق اور فخر سے خاندان سے باہر کی لڑکی لائی جاتی ہے۔

●●اس کے علاوہ مزید وجوہات بھی ہونگی۔

وجوہات جو بھی ہوں لیکن یاد رہے کہ اس سے ہمارا معاشرتی نظام درہم برہم ہورہا ہے اورہماری نوجوان نسل بروقت شادی نہ ہونے کی وجہ سے میڈیا کی پھیلائی ہوئی بے حیائی کا بآسانی شکار ہورہی ہے۔اور جو محفوظ ہے وہ اپنے ساتھ ایک خاموش نفسیاتی جنگ کا شکار ہے۔

مغرب تو اس طرز سے اپنے آپ کوبرباد کرچکا اور ان کی آبادی اب ریورس گیئر میں چل رہی ہے لیکن ہم جانتے بوجھتے خود اس گڑھے میں گر رہے ہیں اور وہ بھی ہنستے مسکراتے۔

اور ہم سب اس اجتماعی خرابی اور زوال کے ذمہ دار ہیں۔

صد افسوس! *کشتی ڈوب رہی ہے اور کشتی کے ملاح اور مسافر بے نیاز۔

ؔحیراں ہوں،،،،

دل کو روؤں

کہ،،

*پیٹوں جگر کو..

کبھی کبھی ایسے بھی ہوتا ہے

اداکار محمد علی نے مصیبت زدہ شخص کو پچاس ہزار روپے قرض تو دے دیا،

لیکن پہلے اس سے تین روپے مانگ لئے۔کوٹھی کے خوبصورت لان میں سردی کی ایک دوپہر، میں اور علی بھائی بیٹھے گفتگو کر رہے تھے۔ ملازم  نے علی بھائی سے آ کر کہا کہ باہر کوئی آدمی آپ سے ملنے آیا ہے۔ یہ اس کا چوتھا چکر ہے۔ علی بھائی نے اسے بلوا لیا۔ کاروباری سا آدمی تھا۔

لباس صاف ستھرا مگر چہرے پر پریشانی سے جھلک رہی تھی۔ شیو بڑھی ہوئی ، سرخ آنکھیں اور بال قدرے سفید لیکن پریشان۔ وہ سلام کرکے کرسی پر بیٹھہ گیا تو علی بھائی نے کہا۔ ’’ جی فرمایئے ‘‘

’’ فرمانے کے قابل کہاں ہوں صاحب جی ! کچھہ عرض کرنا چاہتا ہوں۔‘‘

اس آدمی نے بڑی گھمبیر آواز میں کہا اور میری طرف دیکھا جیسے وہ علی بھائی سے کچھہ تنہائی میں کہنا چاہتا تھا۔ علی بھائی نے اس سے کہا:

’’آپ ان کی فکر نہ کیجئے جو کہنا ہے کہیے‘‘

اس آدمی نے کہا ’’ چوبرجی میں میری برف فیکٹری ہے علی صاحب !‘‘

’’جی‘‘

’’لیکن کاروباری حماقتوں کے سبب وہ اب میرے ہاتھ سے جا رہی ہے‘‘

’’کیوں‘ کیسے جا رہی ہے؟ ‘‘ علی بھائی نے تفصیل جاننے کے لئے پوچھا

’’ایک آدمی سے میں نے 70ہزار روپے قرض لئے تھے لیکن میں لوٹا نہیں سکا۔‘‘ وہ آدمی بولا ’’میں نے کچھہ پیسے سنبھال کر رکھے تھے لیکن چور لے گئے۔ اب وہ آدمی اس فیکٹری کی قرقی لے کر آ رہا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ آدمی رونے لگا اور علی بھائی اسے غور سے دیکھتے رہے اور اس سے کہنے لگے۔

’’آپ کا برف خانہ میانی صاحب والی سڑک سے ملحقہ تو نہیں؟ ‘‘

’’جی جی وہی‘‘ وہ آدمی بولا ۔۔۔۔۔۔ ’’علی بھائی میں صاحب اولاد ہوں اگر یہ فیکٹری چلی گئی تو میرا گھر برباد ہو جائے گا ، میں مجبور ہو کر آپ کے پاس آیا ہوں۔‘‘

’’ فرمایئے میں کیا کر سکتا ہوں؟‘‘

’’میرے پاس بیس ہزار ہیں‘ پچاس ہزار آپ مجھے ادھار دے دیں ، میں آپ کو قسطوں میں لوٹا دوں گا۔‘‘

علی بھائی نے مسکرا کر اس آدمی کو دیکھا۔ سگریٹ سلگائی اور مجھے مخاطب ہو کر کہنے لگے:

’’روبی بھائی! یہ آسمان بھی بڑا ڈرامہ باز ہے۔ کیسے کیسے ڈرامے دکھاتا ہے۔ شطرنج کی چالیں چلتا ہے۔ کبھی مات کبھی جیت۔‘‘ یہ بات کہی اور اٹھ کر اندر چلے گئے۔ واپس آئے تو ان کے ہاتھوں میں نوٹوں کا ایک بنڈل تھا۔ کرسی پر بیٹھہ گئے اور اس آدمی سے کہنے لگے:

’’پہلے تو آپ کی داڑھی ہوتی تھی۔‘‘

وہ آدمی حیران رہ گیا اور چونک کر کہنے لگا ’’جی! یہ بہت پرانی بات ہے‘‘

’’جی میں پرانی بات ہی کر رہا ہوں‘‘ علی بھائی اچانک کہیں کھو گئے۔ سگریٹ کا دھواں چھوڑ کر کچھہ تلاش کرتے رہے۔ پھر اس آدمی سے کہنے لگے:

’’آپ کے پاس تین روپے ٹوٹے ہوئے ہیں؟ ‘‘

’’جی جی ، ہیں‘‘ اس آدمی نے جیب میں ہاتھ ڈال کر کچھہ نوٹ نکالے اور ان میں سے تین روپے نکال کر علی بھائی کی طرف بڑھا دیئے۔ علی بھائی نے وہ پکڑ لئے اور نوٹوں کا بنڈل اٹھا کر اس آدمی کی طرف بڑھایا۔

’’یہ پچاس ہزار روپے ہیں‘ لے جایئے‘‘

اس آدمی کی آنکھوں میں آنسو تھے اور نوٹ پکڑتے ہوئے اس کے ہاتھہ کپکپا رہے تھے۔ اس آدمی نے جذبات کی گرفت سے نکل کر پوچھا:

’’علی بھائی مگر یہ تین روپے آپ نے کس لئے ۔۔۔۔۔۔؟ ‘‘

علی بھائی نے اس کی بات کاٹ کر کہا ’’ یہ میں نے آپ سے اپنی تین دن کی مزدوری لی ہے۔‘‘

’’مزدوری …مجھہ سے! میں آپ کی بات نہیں سمجھا۔‘‘ اس آدمی نے یہ بات پوچھی تو ایک حیرت اس کے چہرے پر پھیلی ہوئی تھی۔

’’1952ء میں جب میں لاہور آیا تھا تو میں نے آپ کے برف خانے میں برف کی سلیں اٹھا کر قبرستان لے جانے کی مزدوری کی تھی۔‘‘

علی بھائی نے مسکرا کر جواب دیا۔ یہ جواب میرے اور اس آدمی کے لئے دنیا کا سب سے بڑا انکشاف تھا۔ علی بھائی نے مزید بات آگے بڑھائی۔

’’مگر آپ نے جب مجھے کام سے نکالا تو میری تین دن کی مزدوری رکھہ لی تھی۔ وہ آج میں نے وصول کر لی ہے۔‘‘ علی بھائی نے مسکرا کر وہ تین روپے جیب میں ڈال لئے۔

’’آپ یہ پچاس ہزار لے جائیں‘ جب آپ سہولت محسوس کریں دے دیجئے گا۔‘‘

علی بھائی نے یہ بات کہہ کر مزے سے سگریٹ پینے لگے۔ میں اور وہ آدمی کرسیوں پر یوں بیٹھے تھے جیسے ہم زندہ آدمی نہ ہوں بلکہ فرعون کے عہد کی دو حنوط شدہ ممیاں کرسی پر رکھی ہوں۔


 کتاب ’’ کھرے کھوٹے‘‘ از احمد عقیل روبی سے اقتباس

بیوی کیونکر ملکہ بنتی ہے؟

 بیوی شوہر کو کیسے بادشاہ بنا کر اسکی ملکہ بن سکتی ہے۔

            بیوی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے شوہر کی تحقیر کرے، اس کا شوہر کیسا بھی ہو بہرحال اپنی بیوی کی تکیہ گاہ ہے۔ بیوی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شوہر کی ایسی حفاظت کرے کہ اس پر تکیہ کرسکے۔ ‏اگر آپ نے اس طرح اپنے گھر کو بسایا تو جان لیں کہ آپ نے اپنی خوش بختی کے ایک بنیادی رکن کی حفاظت کرلی ہے۔

شوہر کو خوش رکھنے کے 101 طریقے ہیں اگر کوئی بیوی چاہتی ہے کہ اس کی ازدواجی زندگی خوشگوار گزرے اور وہ ان طریقوں پر 50 فیصد بھی عمل کر لے تو یقیناً اس کی زندگی بہتر گزرے گی، ‏ان طریقوں میں سے کچھ درج ذیل ہیں:

🔹گھر پر شوہر کو تنہا نہ چھوڑنا.

🔹شوہر کے ساتھ اکٹھے سفر کرنا.

🔹شوہر سے اپنی دلی بات کا اظہار کرنا، یہ انتظار نہیں کرتے رہنا کہ شوہر خود آپ کے دل کی بات کو سمجھے بلکہ خود اظہار کرنا.

🔹اپنے شوہر کے مشاغل میں شمولیت کرنا، شوہر کے کام کی تعریف کرنا.

🔹گھر ایسا بناﺅ کہ جہاں کام سے تھکا ہوا شوہر آکر سکون محسوس کرے.

🔹شوہر کی مسکراہٹ کا مسکراہٹ سے جواب دینا.

🔹شوہر کی سلامتی کی فکر کرنا اور دعا کی صورت میں اظہار کرنا.

🔹‏گھر کی صفائی کے دوران شوہر کی رکھی ہوئی چیزوں کی حفاظت کرنا اور انھیں سلیقے سے رکھنا.

🔹‏شوہر کی پسند کی اشیاءکی خریداری کرنا.

🔹شوہر کی پسند کی خوراک تیار کرنا.

🔹شوہر کو خود سے اپنی جانب راغب کرنا.

🔹شوہر سے مل کر مستقبل کے پلان تیار کرنا.

🔹کسی شک و شبہ کی صورت میں شک کا فائدہ شوہر کو دینا.

🔹شوہر کو گھر کا سربراہ سمجھنا.

🔹اپنی کی گئی کوتاہی پر شوہر سے معذرت کرنا.

🔹‏شوہر سے کیے گئے وعدے کو پورا کرنا.

🔹تھکاوٹ کی صورت میں شوہر کے پاﺅں دھونا.

🔹بیڈ روم کو شوہر کی پسند کے مطابق ترتیب دینا.

🔹دفتر جانے سے پہلے محبت کا اظہار کرنا.

🔹گھر میں موجودگی کی صورت میں شوہر کی پسند کے ریڈیو یا ٹی وی پروگرام چلانا.

🔹‏اگر شوہر سے کوئی کوتاہی یا زیادتی ہو جائے تو فراغ دلی سے اسے درگزر کرنا.

🔹شوہر سے کوئی بات پوشیدہ نہ رکھنا.

🔹گھر پر آئے عزیزوں اور رشتہ داروں کی موجودگی میں پہلے سے زیادہ شوہر پر توجہ دینا.

🔹شوہر کی چیزوں کی خود سے حفاظت کرنا.

🔹اکٹھے عبادت کرنا.

🔹‏فارغ اوقات میں شوہر کے بالوں میں انگلیاں پھیرنا.

🔹خود کو شوہر سے منسوب کرنا.

🔹دوسروں کی موجودگی میں شوہر کی کسی بات کی مخالفت نہ کرنا.

🔹شوہر کی غیر موجودگی میں اس کی کسی بات کا دفاع کرنا.

🔹شوہر کی بیماری کی صورت میں ان کاخاص خیال رکھنا.

🔹شوہر سے گفتگو کرتے ہوئے ان کی آنکھوں میں جھانکنا.

‏🔹شوہر کی ہر بات پر اعتماد کرنا.

🔹شوہر کا کسی اور سے موازنہ نہ کرنا.

🔹دفتر جاتے ہوئے دروازے پر شوہر کو رخصت کرنا اور دروازے پر مسکراہٹ سے استقبال کرنا.

🔹شوہر کے کپڑوں کا خیال رکھنا.

🔹کچھ باتوں کے لیے شوہر کے ساتھ ”کوڈ ورڈز“ بولنا.

🔹شیو کے دوران شوہر کی مدد کرنا.

🔹‏شوہر کی محبوب بننا نہ کہ اس کی ماں بننے کی کوشش کرنا.

🔹شوہر کا دوست بننا.

🔹شوہر کے لیے خود کو سنوارنا.

🔹ازدواجی امور میں شوہر کو مایوس نہ کرنا.

🔹شوہر کی نصیحت کو سننا اور عمل کرنا.

           ہو سکتا ہے کہ بعض قارئین یہ اعتراض کریں کہ آپ نے صرف بیوی کی ذمہ داریاں بیان کی ہیں، ‏کیا شوہر کا کوئی فرض نہیں تو اس کے جواب میں عرض ہے کہ اس مضمون میں ہم نے بیوی کے فرائض پر بات کی ہے اور یہی موضوعِ بحث ہے۔ آخر میں ایک بات کہنا بہت ضروری ہے کہ وہ بیویاں جو اپنے شوہروں کو ”غلام“ بنا کر رکھنا چاہتی ہیں ‏وہ آخر کار ”باندی“ بن جاتی ہیں اور جو اپنے شوہر کو اپنا ”بادشاہ“ بناتی ہیں وہ ”ملکہ“ کے منصب پر فائز ہوتی ہے..

من چاہی زندگی گزارنے کی قیمت

ایک خوب صورت ، من چاہی اور پرسکون زندگی گزارنے کی قیمت کیا آپ کو معلوم ہے؟

زیادہ نہیں اپنی صرف پانچ عادتوں کو بدل  دیجئے۔ صرف پانچ سال بعد آپ وہاں ہونگے جہاں کا آپ آج خواب دیکھتے ہیں۔ 

1. بہت زیادہ سوچنے اور پلاننگ کرنے کو ممکنہ عملی اقدام کے ساتھ

2. الزام دینے کی نفسیات کو اپنے موجودہ حالت کی قبولیت کے ساتھ

3. رات کو نیٹ فلیکس اور سوشل میڈیا سرفنگ کو 8 سے نو گھنٹے نیند کے ساتھ

4. ٹاکسک، جامد، بزدل اور حاسد دوستوں/ کمپنی کو Mentors کے ساتھ

5. شکوہ شکائتوں اور رونے دھونے کو شکر گزاری کے ساتھ