دور نبوی کی تعلیمی و تربیتی آوٹ لائن
اس دور کی ایک خاص بات، وہاں کے حالات اور کلچر کی مناسبت سے، یہ تھی کہ علمی و عقلی کاوشوں کے ساتھ عملی تربیت پر بہت فوکس دیا جاتا تھا، جس سے ننھے صحابہ ہولسٹک شخصیات کے مالک ہوتے تھے:
اب اس آوٹ لائن کو دیکھئے:
دینی/روحانی علوم - قرآن، سنت، فقہ و تجوید
عقلی و دنیوی علوم - ہیئت(آسٹرونومی)، انساب، ریاضی، طب
لغت و ادب - عربی زبان و ادب، غیر ملکی زبانیں خصوصا عبرانی
فنون - خطاطی، اسلحہ سازی وغیرہ
ہم نصابی مشاغل - گھڑ سواری، گھڑ دوڑ، شتر دوڑ، پیراکی، نشانہ بازی
(عہد نبوی کا تعلیمی نظام)
آج کے دور میں بھی اتنی جامع و ایڈوانسڈ تعلیمی و تربیتی آوٹ لائن انتہائی ایلیٹ اداروں میں بھی شاذ و نادر ہی موجود ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے موجودہ حالات و کلچر کے حساب سے انہی خطوط پر تعلیم و تربیت پر جب، جہاں اور جتنا ممکن ہو کام کریں، یا کم از کم کوشش ہی کریں۔
لرننگ کا سب سے اہم فارمولا
مارشل آرٹس کے ماسٹر بنیادی طورپر ایک فارمولے پر تربیت دے رہے ہوتے ہیں۔
Repetition.....Repetition....Repetition
کسی ماسٹر کا مشہور مقولہ ہے کہ
'"مجھے تمہارے 1000 داو پیچوں سے خوف نہیں۔۔۔۔بلکہ تہمارے اس ایک داو سے خطرہ ہے جسے تم نے 1000دفعہ پریکٹس کیا ہے۔"
100 شعبوں میں تھوڑی تھوڑی معلومات سے لرننگ نہیں ہوتی۔۔۔کسی ایک شعبے کو 100 زاویوں سے جاننے سے لرننگ کی بنیاد فراہم ہوتی ہے۔
یہی معاملہ اسکلز اور عملی صلاحیتوں کا ہے۔ کسی ایک اسکل کو 1000 دفعہ یا اتنی بار پریکٹس کرنا کہ آپ اس کے نشیب فراز سے واقف ہو جائیں۔۔۔ورنہ مختلف تکنیک ہوں۔۔۔اسکلز ہوں۔۔۔۔شعبے ہوں، اگر بنیادی پریکٹس کی لمٹ کے بغیر اسے چھوڑ کر دوسری کے جانب بڑھ رہے ہیں تو نہ آپ اپنے لیے نفع بخش رہیں گے نہ ہی لرننگ کی اس سطح پر پہنچ پائیں گے کہ کسی دوسرے کی مدد کر سکیں۔
انسانی سائیکی ہے کہ کسی ایک تکنیک۔۔۔علم۔۔۔شعبے۔۔۔اسکل سے جلدہی بیزار ہوجاتی۔۔۔
اندر سے آواز آنے لگتی ہے:
'بس کافی ہوگیا۔۔۔کافی سیکھ لیا۔۔۔۔اب کچھ اور سیکھنا چاہیے۔۔۔۔
اوہ! یہ شعبہ بھی اسی سے متعلق ہے۔۔۔اسے دیکھنا چاہیے۔۔۔۔اوہ! یہ کتاب بھی اس سے ملتی جلتی ہے۔۔۔۔ارے! یہ رائٹر بھی اس سے ملتی جلتی بات کر رہا ہے۔۔۔ وغیرہ وغیرہ"
اور بندہ اپنی سائیکی کے 'ٹریپ" میں پھنس کر دوسری جانب نکل جاتا ہے۔
یاد رکھیں۔۔۔۔ لرننگ کی بنیاد ہی پریکٹس+ریپی ٹیشن - پریکٹس+ریپی ٹِیشن ہے۔
عیبوں کی پردہ پوشی
ایک بادشاہ انصاف پسند اور عوام کے دُکھ سُکھ کو سمجھنے والا تھا مگر جسمانی طور پر ایک ٹانگ سے لنگڑا اور ایک آنکھ سے کانا تھا۔
ایک دن بادشاہ نے اپنی مملکت کے ماہر مصّوروں کو اپنی تصویر بنوانے کیلئے بُلوا لیا۔اور وہ بھی اس شرط پر، کہ تصویر میں اُسکے یہ عیوب نہ دکھائی دیں۔ سارے کے سارے مصّوروں نے یہ تصویر بنانے سے انکار کر دیا۔
اور وہ بھلا بادشاہ کی دو آنکھوں والی تصویر بناتے بھی کیسے جب بادشاہ تھا ھی ایک آنکھ سے کانا، اور وہ کیسے اُسے دو ٹانگوں پر کھڑا ھُوا دکھاتے جبکہ وہ ایک ٹانگ سے بھی لنگڑا تھا۔
لیکن اس اجتماعی انکار میں ایک مصور نے کہا: بادشاہ سلامت میں بناؤں گا آپکی تصویر۔ اور جب تصویر تیار ہوئی تو اپنی خوبصورتی میں ایک مثال اور شاہکار تھی۔ وہ کیسے؟؟
تصویر میں بادشاہ شکاری بن کر بندوق تھامے نشانہ باندھے ھے، جس کیلئے لا محالہ اُسکی ایک (کانی) آنکھ کو بند ،اور اُسکے (لنگڑی ٹانگ والے) ایک گھٹنے کو زمیں پر ٹیک لگائے دکھایا گیا تھا۔
اور اس طرح بڑی آسانی سے ھی بادشاہ کی بے عیب تصویر تیار ھو گئی تھی۔
کیوں نہ ھم بھی اِسی طرح دوسروں کی بے عیب تصویر بنا لیا کریں خواہ انکے عیب کتنے ھی واضح ھی نظر آ رھے ھوں اور کیوں نا جب لوگوں کی تصویر دوسروں کے سامنے پیش کیا کریں اُنکے عیبوں کی پردہ پوشی کر لیا کریں!! آخر کوئی شخص بھی تو عیبوں سے خالی نہیں ھوتا ناں !! کیوں نہ ھم اپنی اور دوسروں کی مثبت اطراف کو اُجاگر کریں اور منفی اطراف کو چھوڑ دیں ..... اپنی اور دوسروں کی خوشیوں کیلئے!!
ایک حدیث پاک کا مفہوم ھے کہ:
"جو شخص مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللّٰہ تعالیٰ قیامت کے دن اُس کی پردہ پوشی کرے گا."












