بچوں میں اخلاقیات کیسے پیدا کریں؟

اپنے اردگرد دیکھیں، ایسا لگتا ہے کہ ہم کسی جنگ زدہ دنیا میں رہتے ہیں۔ سیاست دان ایک دوسرے پر کیچڑ اُچھالتے اور مغلظات تک بکتے دکھائی دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی طاقت ملنے کے بعد انسان کے اندر کی خباثت کھل کر باہر آ گئی ہے اور اس ابلاغی ذرائع نے پڑھے لکھے افراد کے اذہان کی بھی عکاسی کردی ہے۔ مختلف رائے رکھنے والے کا احترام تو کجا انہیں غیر مہذبانہ لہجے میں مخاطب کرنا اور ان کے دلائل کا تمسخر اُڑانا اب سوشل میڈیا پر عام دکھائی دیتا ہے۔ جب ’’بڑوں‘‘ کا یہ حال ہو، تو ایسے میں چھوٹے بچوں کو کس طرح اچھے اخلاق کی جانب لایا جائے؟بچوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ یہ کینہ پرور نہیں ہوتے۔لڑ جھگڑ کر بھی انہی کے ساتھ کھیلتے ہیں، یعنی دل میں کوئی بات نہیں رکھتے۔ ان اچھی خوبیوں کو کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے جبکہ اردگرد یہ حالات ہوں؟ انفرادی سطح پر مثبت باہمی تعلقات اور ایک اچھے معاشرے کے قیام کے لیے فرد کے اخلاق اچھے اخلاق کا ہونا بہت ضروری ہے۔ بچپن ہی سے ان کی تربیت میں اگر اخلاقیات کا بیج بو دیا جائے، تو یہ معاشرے کے لیے ایک اچھا فرد ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ بچوں کو طویل لیکچرز دیے جائیں۔ والدین کی حیثیت سے آپ جس قدر یہ کام غیر محسوس انداز سے کریں گے۔ آپ بچے کو اتنا تہذیب یافتہ دیکھیں گے۔

 آئیے ،آپ کو کچھ طریقے بتاتے ہیں:

1۔ نظر رکھیں اس کا مطلب ہے ،آپ اپنی ذات سے باہر نکل کر دیکھیں اور بچے کی بھی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ بھی ایسا کرے۔ جیسا کہ پارک میں دیکھیں کہ کون سا بچہ اکیلا کھیل رہا ہے، اس کے ساتھ کھیلیں۔ انہیں لوگوں کے جذبات کا مشاہدہ کرنے اور انہیں سمجھنے میں مدد دیں۔ مثال کے طور پر چہرے کے تاثرات کو سمجھنے کے لیے آئینے کا استعمال کریں اور پھر ہر احساس کے بارے میں بات کریں۔ اس سے بچے کو اندازہ ہوگا کہ کس وقت کون اداسی محسوس کر رہا ہے۔ کون خوفزدہ ہے اور یوں وہ آگے بڑھ کر اپنی مدد پیش کر سکتا ہے۔

2۔ برداشت اوررضامندیبچے فطری طور پر تجسس رکھتے ہیں اور اختلافات کا مشاہدہ کرتے ہیں، لیکن یہ جان رکھیں کہ اس معاملے میں وہ والدین کی نقش قدم پر ہی چلتے ہیں: اس لیے جب آپ اور آپ کا بچہ کوئی ایسی چیز دیکھیں ،جو واضح طور پر آپ سے مختلف ہو جیسا کہ معذوری یا عمر یا کوئی بھی ایسی نمایاں علامت، تو بچے کے سامنے عام رویہ اختیار کریں اور بتائیں کہ اس فرق کو قبول کریں اور سمجھیں۔ اللہ نے سب انسانوں کو برابر پیدا کیا ہے اور تمام انسان ایک ہی باپ یعنی حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ اگر آپ کا بچہ اس حوالے سے کچھ سوالات کرے ،تو اسے جھڑکنے یا غصہ سے دیکھنے کی بجائے نرمی سے جواب دیں تاکہ وہ انسانیت کا احترام کرنا سیکھے۔

3۔ ادب آداب سکھائیں بسا اوقات معمولی معمولی باتیں بھی بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ اپنے بچوں کو ’’براہ مہربانی‘‘ اور ’’شکریہ ‘‘ کہنا سکھائیں اور کسی بھی کام سے قبل اجازت لینا بھی۔ یہ ایک مہذب گھرانے کی تربیت کی علامت ہوتا ہے اور چاہے آپ کا بچہ کہیں بھی ہو، اس کے اپنے اور گھر کے بارے میں بھی اردگرد ایک مثبت تاثر پڑتا ہے۔

4۔ معاشرے کے لیے کارآمدچھوٹی عمر میں ہی بچوں کو معاشرے کے لیے کارآمد بنانے کی کوشش کریں۔ چھوٹے موٹے کام جنہیں آسانی سے کیا جا سکتا ہو، وہ بچوں کے اندر کامیابی اور فخر کی حس بیدار کرتے ہیں اور ان کے ذہن میں یہ بات راسخ ہو جاتی ہے کہ معاشرے کے دیگر افراد کے کام آنا ایک ضروری، اہم، اچھا اور احسن کام ہے۔ جیسا کہ سینڈوچز بنا کر اسے کسی مقامی یتیم خانے میں تقسیم کرنا۔ اپنے کھلونے یا وہ کپڑے جو اب نہیں پہنے جاتے، کسی ادارے کو عطیہ کر دینا۔ کسی پکنک کے دوران ساحل کی صفائی بھی ایک اچھی مشق ہو سکتی ہے۔ اس طرح کے بہت سارے کام کیے جا سکتے ہیں، جو بچے کے اندر یہ شعور اجاگر کرتے ہیں کہ ایک اچھے شہری کو کیا کچھ کرنا چاہیے اور اس کا معاشرے کو کیا فائدہ ہے۔

از:  زرتاشیہ میر


بچوں کو ادب و آداب کیسے سکھائیں؟

کئی والدین یا تو اپنے بچوں کو لوگوں میں اٹھنے بیٹھنے کے درست اور بنیادی طور طریقے یا ادب و آداب کی تربیت دیتے ہی نہیں یا پھر انہیں یہ سب غلط وقت پر سکھا رہے ہوتے ہیں۔ والدین اکثر تند و تیز اصلاحی موڈ میں بچوں کو تربیت دیتے ہیں، جو کہ ٹھیک نہیں۔

بچوں کو پلیز، تھینک یو یا ہاتھ ملاتے وقت دوسرے شخص کی آنکھوں میں دیکھ کر بات نہ کرنے پر ڈانٹنا ادب و آداب سکھانے کا مؤثر طریقہ نہیں ہے۔

 امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ اپنے بچوں کو لوگوں کے درمیان اٹھنے بیٹھنے کے درست اور بااخلاق طور طریقے اپنانے کی تربیت دینا چاہتے ہیں تو ان کے ساتھ پہلے خود پریکٹس کریں تاکہ بچوں کو یہ سب سیکھنے میں مدد حاصل ہوسکے۔ آپ کے ساتھ اخلاقی رویے، ادب و آداب اور خوش زبانی کی پریکٹس سے ہی وہ معاشرے میں دیگر افراد کے ساتھ بھی وہی رویہ روا رکھیں گے۔

مثلاً والد یا والدہ اپنے بچے کو بٹھا کر بتائے اور عملی طور پر بھی کرکے دکھائے کہ کسی دوسرے شخص سے ملتے وقت کس طرح سلام کیا جاتا ہے، مسکراہٹ چہرے پر سجائی جاتی ہے اور نرم لہجا اور تمیز سے پیش آنا ہوتا ہے۔ آپ کا عملی مظاہرہ بچوں کے ذہن پر کافی اثر کرے گا۔ آپ پھر بچے کو فرض کرنے کے لیے کہیں کہ آپ معاشرے کا ایک فرد ہیں اور بچے کو پریکٹس کروائیں۔

بچے کے ساتھ ادب و آداب کی تربیت میں آپ کی شمولیت سے بچوں میں حوصلہ افزائی ہوگی جو کسی بھی قسم کی تربیت کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے۔

بچوں کو انسانی رویوں کے بارے فہم ہونا ضروری ہے، اس کے لیے آپ رول پلے کا عمل کرسکتے ہیں۔ رول پلے میں آپ مخصوص رویوں کے کردار ادا کرتے ہیں اور بچوں سے ان پر ردِعمل دینے کے لیے کہتے ہیں۔ مثلاً اگر بچوں کی تربیت کے دوران بچوں سے سرد مہر لہجے میں بات کی یا سلام کرتے ہوئے چہرے کی طرف نہیں دیکھا، تو بچے یہ دیکھ کر آپ کو غصیل، ناخوش اور ناراض بتائیں گے اور پھر اسی پریکٹس کے دوران خوش اخلاقی، خوش زبانی اور مسکراہٹ کے ساتھ بچوں سے ملیں گے تو بچے اس رویے کو اچھا اور مہذب بتائیں، اس طرح بچوں میں رویوں میں تمیر کرنا بھی آجائے گی۔

کسی کا شکریہ ادا کرنا یا پلیز کہنا کتنا اہم ہوتا ہے، اس کی تربیت دینے کے لیے آپ بچوں کو ان کے سامنے مخصوص حالات بیان کریں۔ حالات بیان کرنے سے مراد یہ کہ مثلاً بچوں سے کہیں کہ اگر آپ نے میرے لیے گھنٹوں بازار میں گھومنے کے بعد گفٹ خریدا اور پھر اپنے ہاتھوں سے بڑے پیار سے وہ گفٹ پیک کیا اور مجھے دیا مگر میں نے گفٹ لیا اور آپ کا شکریہ ادا بھی نہیں کیا تو کیا آپ کو اچھا لگے گا؟ اس طرح بچے کو شکریہ ادائیگی اور پلیز کہنے کی اہمیت کا اندازہ ہوگا اور وہ بھی ان الفاظ کو دیگر لوگوں کے ساتھ استعمال کرے گا۔

نت نئی ٹیکنالوجی نے بچوں کو اس قدر مصروف کردیا ہے کہ اب ان کے پاس ادب و آداب سیکھنے کا وقت ہی نہیں بچا۔ خوش اخلاقی اور لوگوں میں اٹھنے بیٹھنے کے جو طور طریقے پچھلی نسل 10 سے 12 برسوں میں سیکھ جاتی تھی وہ سیکھنے کے لیے نئی نسل کو اس سے کہیں زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔ اپنے بچوں کو معاشرے کا ایک بہتر فرد بنانے کے لیے اس کی بہتر تربیت کیجیے اور تمیز و تہذیب سکھانے کے لیے وقت نکالیں۔


بچوں کے موبائل کی نگرانی کیجیے

 موبائل فون کے غلط استعمال سے اپنے بچوں کو بچائیں---

(ایک تدبیر ...... ایک ٹیکنیک) 


اس مضمون میں راقم ایک ٹیکنک سے قارئین کو آگاہ کرنا چاہتا ہے۔جس کے ذریعہ آپ اپنے بچوں کی موبائل (اسمارٹ فون) نیز انٹرنیٹ کی سرگرمیوں کی نگرانی کر سکتے ہیں۔

یقیناً آپ کے گھر میں سات سے چودہ سال تک کے بچے ہوں گے۔یہ ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ اہل ایماں کی اکثریت نے اپنے بچوں کی ضد پر یا کسی اور مجبوری کے تحت اپنے بچوں کے ہاتھ میں اسمارٹ فون پکڑا دیا ہے۔ آپ اپنے بچوں کو کمپیوٹر، انٹر نیٹ اور موبائل (اسمارٹ فون) سے دور بھی نہیں رکھ سکتے اس لیے کے عام حالات میں عموماً اور وبائی دور میں توخصوصاً آن لائن کلاسیس بچوں کے لیے منعقد ہو رہی ہیں۔ غرض تعلیمی سرگرمیوں کی بات کی جائے تو موبائل (اسمارٹ فون)، انٹر نیٹ اور کمپیوٹر کا استعمال نا گزیر ہے۔

یاد رہے کہ بچوں میں تجسس بہت زیادہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے نفع نقصان سے بیگانہ ہوکر نیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔نیز اسکول کے بچوں میں کچھ بچے پراگندہ ذہنی کا شکار ہوتے ہیں وہ ہر کسی بچے کو دعوت گناہ دیتے رہتے ہیں جو ہو سکتاہے آپ کے بچے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے۔صحبت غلط کے علاوہ اور بھی بہت سے عوامل ہیں جو آپ کے بچے کا مستقبل تباہ کرسکتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ آپ کو شرمندگی اٹھانا پڑے، راقم کی تجویز پر غور کریں:

 ▪️ پلےاسٹور سے Google Family Link for parents  نامی اپپ کو ڈاؤنلوڈ کریں۔ من و عن ایپ اپنے بچے کے موبائل میں بھی ڈاؤنلوڈ کریں۔ دونوں ایپ کو ایک ساتھ اوپن کریں۔ اپنے موبائل کو نگران (سپروائزر) قرار دیں۔ پھر جو ہدایات  ملیں ان کو مرحلہ وار فالو کریں۔ اس ایپ کا فائدہ یہ ہے کہ آپ اپنے بچے کی موبائل سرگرمیوں سے متعلق حسب ذیل باتوں سے کسی بھی وقت آگاہ  ہو سکتے ہیں:

1۔ اس نے کس ویب سائٹ کو اوپن کیا۔

2۔ کس ویڈیو کو دیکھا۔

3- دن بھر کتنی دیر وہ موبائل کے ساتھ چمٹا رہا۔

نیز ایک اور فائدہ اس ایپ کا یہ ہے کہ جب کبھی آپکا بیٹا کوئی گیم / ایپ ڈاؤنلوڈ کرنے لگے گا یا کسی بھی ویب سائٹ کو دیکھنے (access) کرنے کی کوشش کرے گا تو براؤزر پہلے آپ سے اجازت مانگے گا۔ غرض آپ جن ویڈیوز اور گیمز کی اجازت دیں گے آپ کا بچہ وہی ویڈیو یا گیم   یا ویب سائٹ access کر سکتا ہے.

نیز آپ جب چاہے،کسی گیم یا ایپ کو جو آپ کے بچے کے موبائل میں ہے،  بلاک کر سکتے ہیں۔ جو آپکے بچے کے موبائل سے غائب ہو جائے گا۔ جب تک آپ کی اجازت نہیں ہو گی وہ نہیں کھول سکے گا۔

▪️ اسی طرح اپنے کروم براؤزر میں جاکر setting میں جائیں اور safe search filter میں جائیں اور Filter exlicit results کو select کریں۔ اسی طرح ویڈیو میں Do not Autoplay کو select کریں۔

▪️ اسی طرح پلے اسٹور میں جائیں، setting میں جائیں اور parental controls کو آن کریں۔

امید ہے اتنا کرنے سے آپ اور آپ کے بچے کا موبائل نامناسب مواد سے پاک ہو جائے گا۔ لیکن اس سب سے زیادہ اہم یہ ہے کہ اللہ کا ذکر کثرت سے کیا جائے کہ وہی مومن کے لیے ہتھیار ہے۔ نیز دشمن جب کسی پر قابو پاتا ہے تو سب سے پہلے اس سے ہتھیار نیچے رکھنے کو یا چھوڑنے کو کہتا ہے یا اسے حاصل کر لیتا ہے۔شیطان کا جب کسی پر زور چلتا ہے تو وہ اسے اللہ کے ذکر سے غافل کرتا ہے جیسا کہ اِسْتَحْوَذَ عَلَیْھِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰھُمْ ذِکْرَ اللّٰہِ اُوْلٰئِکَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ﴾ [المجادلہ:19]   سے ثابت ہے۔

آج سارے عالم میں والدین  کے لیے یہ بات لمحہ فکریہ ہے کہ وہ کس طرح اپنے بچوں کی موبائل سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ مخرب اخلاق اور حیاسوز ویڈیوز اور گیمز سے بچوں کو کس طرح بچائیں؟ ان کے اوقات کی کس طرح حفاظت کریں؟ اس وقت سارے عالم میں عریانیت کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ آئے دن اخبارات میں اسکول کے بچوں کی حیاسوز خبریں آتی رہتی ہیں۔ بچے تو کیا بڑے لوگ، عزیمت سے پہلو تہی کا شکار ہیں.

اللہ پاک راقم کو اور قارئین کو بھی اپنے نیک بندوں کے گروہ میں شامل فرمائے۔ شیطان کے مکر و فریب کو سمجھنے نیز اس سے بچنے کی توفیق نصیب فرمائے، ہمارے بچوں کے مستقبل کی حفاظت فرمائے اور ان میں آخرت کا شعور بیدار فرمائے۔ آمین۔

از

شاہد عمران

چودہ اگست،تجدید عہد کا دن

دنیا کے ہر ملک کے باسیوں کے لیے ان کا یوم آزادی بہت احترام کا دن ہوتا ہے اور زندہ قومیں اپنے یومِ آزادی کو شایان شان طریقے سے مناتی ہیں۔ پاکستان کا وجود دو قومی نظریے کی بنیاد پر تین چار مخالف قوتوں سے لڑ کر عمل میں آیا تھا اس لیے اس کا یومِ آزادی اپنے اندر کئی اسباق رکھتا ہے۔

آج ہمارے طلبہ وطالبات کو پاکستان کی تاریخ اور تحریک پاکستان سے متعلق اہم واقعات اور ان قربانیوں کا بہت کم علم ہے کہ جن کی بنا پر ہم نے یہ آزاد خطہ حاصل کیا تھا۔ یہ بات تو دانشوروں کے ہاں طے ہے کہ جو قوم اپنی تاریخ بھول جاتی ہے وہ بہت جلد کہیں دوسری تاریخ میں گم ہو جاتی ہے۔ کسی مفکر کا قول ہے ’’ تاریخ قوم کا حافظہ ہوتی ہے اور جو قوم اپنی تاریخ بھلا دیتی ہے وہ گویا اپنا حافظہ کھو بیٹھتی ہے‘‘۔آج ضرورت ہے کہ تعلیمی اداروں کے سربراہان اپنے یہاں مورخین، علماء ، ادباء وشعراء کو گاہے بگاہےدعوت دیں کہ وہ طلبہ وطالبات کے ساتھ تاریخ پاکستان پر مذاکرہ کریں تا کہ تحریک پاکستان کی یادیں تازہ کی جائیں اور مقصدِ وجود کے بھولے ہوئے سبق کو تازہ کیا جا سکے۔

یہ پاکستان یونہی نہیں بن گیا بلکہ اس کی خاطر لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جان، مال اور عزت و ناموس کی قربانی دی ہے۔ یہ آزادی جو ہمیں ہمارے آزاد وطن کی صورت میں ملی ہے اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اور اس کی قدر کرنااور اپنے وطن کے دفاع کے لیے ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہنا ضروری ہے۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو بتانا چاہیے کہ آزادی کا تذکرہ کرنا کیوں ضروری ہے تا کہ:

1) ہم اس نعمت پر اللہ کا شکر ادا کریں
2) پاکستان کی حفاظت کے لیے تیار رہیں
3) آئندہ نسلوں میں حب الوطنی کا جذبہ منتقل کر سکیں
4) آزادی کی قدروقیمت جان سکیں

ہمارے تعلیمی ادارے، جو ہماری اقدار اور روایات اگلی نسل کو منتقل کرنے کے امین ہیں، کے لیے ضروری ہے کہ وہ یوم آزادی کے حوالے سے خصوصی اقدامات کریں ۔ ان سرگرمیوں کی غرض و غایت محب وطن پاکستانی بنانا ہو۔ یوم آزادی کے موقع پر سکولوں میں درج ذیل اقدامات کیے جا سکتے ہیں:

1) سکول کو سبز ہلالی پرچم اور جھنڈیوں سے سجایا جائے
2) تقاریر، ملی نغموں اور ترانوں کے مقابلہ جات کا انعقاد کروایا جائے
3) علاقائی لباس پہن کر ملی نغموں پر خاکے پیش کیے جائیں
4) سکول میں پرچم لہرانے کی تقریب منعقد کی جا سکتی ہے جس میں ایک بڑا پرچم تمام اساتذہ اور بچے مل کر لہرائیں
5) وطن کی محبت، کسی شہید کی روداد، یا تحریک پاکستان کے حوالے سے بنی کوئی فلم اجتماعی طور پر دیکھی جا سکتی ہے
6) فوجی پریڈ اگر ممکن ہو تو دیکھنے کا اہتمام کیا جا سکتا ہے
7) ملکی سرحدات پر ہونے والی تقریبات میں شرکت کی جا سکتی ہے
8) یومِ آزادی کے حوالے سے دیگر اداروں میں منعقدہ ہم نصابی سرگرمیوں پر مبنی مقابلہ جات میں شرکت کی جا سکتی ہے
9) سبز اور سفید لباس پہن کر پاکستانی پرچم سے مناسبت قائم کی جا سکتی ہے
10)بچو ں کو آزادی کی اہمیت بتانے کے لیے سربراہ ادارہ یا کوئی معلم گفتگو کریں
11) بچوں سے عہد لیا جائے کہ پاکستان کی وحدت اور سا لمیت کے تحفظ کی خاطر ہمہ وقت تیار رہیں گے
12) کسی تاریخی مقام کی سیر کا اہتمام کیا جا سکتا ہے
13) ملکی سلامتی و استحکام کے لیے نوافل کا اہتمام کیا جا سکتا ہے

اس طرح کی تقریبات سے بچوں میں جذبۂ حب الوطنی اور ملک کے بارے میں معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔اس دن ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ پاکستان کو عالمِ اسلام کا فخر اور اس کی قوت و شوکت کا مرکز بنائیں گے۔

از

مالک خان سیال







پاکستان نا ہوتا تو میں کیا ہوتا ؟

 پاکستان نا ہوتا تو میں کیا ہوتا ؟ ہندوستان کا دوسرے درجے کا شہری ؟ نہیں دوسرے نہیں شاید تیسرے یا چوتھے درجے کا شہری کیوں کہ دوسرے درجے پہ تو ہندو دلت فائز ہیں , تیسرے پہ سکھ اور عیسائی

ہاں میں چوتھے درجے کا شہری ہوتا , مجھے مسلمان کے بجائے مسلا کہہ کر تمسخر آمیز لہجے سے پکارا جاتا , میں جس مسجد میں نماز پڑھتا وہاں شروع شروع میں کوئی ہندو انتہا پسند تنظیم باقاعدگی سے ہر دوسرے تیسرے دن خنزیر کا سر کاٹ کر پھینکتی , پھر بھی میں نمازیں پڑھنے سے باز نا آتا تو ریاستی حکومت کی ملی بھگت سے وہ مسجد ہی یا تو تاریخی یادگار قرار دے کر اس پر تالا لگا دیا دیا جاتا یا پھر کوئ ہندو تاریخ دان اس مسجد کی بنیادوں میں چھپا کوئی مندر ڈھونڈ لیتا اور وہ مسجد مسمار کر دی جاتی.

اگر میں پاکستانی نا ہوتا تو بھارتی فلموں میں مجھے ایک قصائی کے روپ میں چھرے اٹھائے دہشت پھیلاتے دکھایا جاتا , میری قوم کو ایک دہشت گرد اور جنونی قوم کے طور پر میڈٰیا میں پیش کیا جاتا. اگر میں کوئی کاروبار کرنا چاہتا تو حیدر آباد کے تاجروں کی طرح ہر چیز چھین کر مجھے زندہ جلا دیا جاتا , اگر میں سیاست میں پڑ جاتا تو گجرات کے اقبال احسان ایم ایل اے کی طرح بیٹیوں سمیت برہنہ زبح کر کے جلا دیا جاتا. یا پھر جس طرح پچھلے دنوں کی ایک ٹی وی شو میں ہی ایک گروہ آ کر مجھ پر پٹرول چھڑکتا اور آگ لگا دیتا.

میں پاکستانی نا ہوتا تو میں اپنے رب کی حلال کی گئی چیزوں کو جان کے خوف سے اپنے لئے حرام سمجھ لیتا. میں اگر کوئی عالم ہوتا تو مجبورا مجھے ہندوؤں کو اپنا بھائی بنانا پڑتا , میرے فتوے ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف اور ہندوؤں کے حق میں ہوتے , میں اگر پاکستانی نا ہوتا تو کیا میں انسان بھی ہوتا ؟ کیا یہ لوگ مجھے ایک انسان کا درجہ تک دے دیتے ؟

کیا یہ لوگ مجھے سکون سے اپنے مطابق زندگی گزارنے دیتے ؟ کیا میں اپنے اسلام پہ اس طرح کاربند رہتا ؟ یا ہندوستان کے لاکھوں مسلمانوں کی طرح سیکولر ہونے کا ناٹک کرتا ؟

میں پاکستانی ہوں, اس میں میرا کوئی کمال نہیں. ہاں میرے آباء کی قربانیاں ہیں , انکی جدوجہد ہے کہ آج میں پرسکون فضاؤں میں سانس لے رہا ہوں. جہاں مجھے ہندو سنگھٹنوں کا خوف نہیں لیکن کیا یہ سب پلیٹ میں ملا نہیں اس کے لئے ایک خون کا دریا عبور کرنا پڑا .. ریاست پٹیالہ کی تحصیل سمانے سے لیکر لاہور تک ایک خونی سفر طے کرنا پڑا , جس کی رواداد سن کر میں ہمیشہ کانپ اٹھتا ہوں , اپنے آباء کے لہو میں ڈوبی یہ داستان ہر اگست میں میرے دماغ پر چھا جاتی ہے , جو مجھے یاد دلاتی ہے کہ بیٹا یہ پاکستان پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملا تھا , اس کے لئے جوانوں کی جوانیاں , بہنوں کی عزتیں , بزرگوں کی بزرگیاں , لٹائیں گئیں , , سمانے کے زمیندار گھرانے در در خاک چاٹنے کو مجبور ہوے , بڑی بڑی حویلیوں میں رہنے والوں نے کُٹیا میں رہنا سیکھا ,,,, یہ حجرت نہیں خون کا سمندر تھا جس میں ڈوبے اپنے عزیز و اقارب آج بھی یاد آتے ہیں , تب جا کر وہ درجہ حاصل ہوا جس سے اللہ پاک نے چوتھے درجے کا شہری نہیں بلکہ ایک پاکستانی کے خطاب کا تاج سر پر سجایا .. اور آج میں یعنی جدوجہد کرنے والوں کی تیسری نسل الحمداللہ فخر سے یہ بتا سکتا ہوں کہ

ہاں .... میں پاکستانی ہوں

اگر میں پاکستانی نا ہوتا تو ..........


Copied from wall of Faiz Rsool Sial

دل ہے پاکستانی!!!

  کہانی کچھ یوں ہے کہ لندن میں ایک گورا اپنی گرل فرینڈ کے ہمراہ ایک ٹیکسی کو بک کرا کر اس میں سوار ہوا( یہ اوبر کے زمانے سے کچھ سال قبل 2011 کے آس پاس کی بات ہے جب پاکستان میں دہشت گردی عروج پر تھی اور آئے دن بری خبریں وصول ہوتی تھیں). ڈرائیور ( کیبی) گندمی رنگ کا تھا اور اپنی زبان میں کسی سے بات کر رہا تھا. سواریاں اٹھانے کے بعد اس نے جلدی سے اپنی بات ختم کی اور ان سے پوسٹ کوڈ کنفرم کیا اور گاڑی چلانے لگا. 

گورے کی ہمراہی اپنے اوپر زیادہ قابو نہ پاسکی اور اس نے ڈرائیور سےانگریزی میں پوچھا، "کیا تم پنجابی بول رہے تھے؟" 

ڈرائیور ایک دم ہکا بکا رہ گیا. انگلستان میں پنجابی بولی جاتی ہے لیکن ایک گوری جو پنجابی لہجے سے واقف ہو، اسے پہلی بار ملی تھی. 

"یس مام. بڑی دلچسپ بات ہے کہ میں پہلی دفعہ کسی ایسی سواری سے ملا ہوں جسے پنجابی لہجے کی سمجھ ہے" ڈرائیور نے خوشگوار لہجے میں کہا. 

"مینوں سمجھ وی اے تے بول وی لیندی آں". اس مرتبہ گوری نے ٹھیٹھ پنجابی لہجے میں کہا تو ڈرائیور کے ہاتھ سے سٹیرنگ چھوٹتے چھوٹتے بچا. گوری کے ساتھ بیٹھا اس کا بوائے فرینڈ ڈیوڈ( فرضی نام ) کچھ نہ سمجھتے ہوئے ان کی گفتگو بس سن رہا تھا. 

خیر بات آگے بڑھی اور معلوم ہوا کہ ڈرائیور اختر ( فرضی نام ) پاکستانی ہے، سیالکوٹ سے تعلق رکھتا ہے اور پنجابی بولتا ہے. ڈرائیور یہ جان کر ششدر رہ گیا کہ جوزفین( فرضی نام ) بیس سال سیالکوٹ میں گزار چکی ہے جہاں اس کی ماں ایک عیسائی مشنری تھی اور ایک چرچ سے منسلک تھی. جوزفین وہیں بڑی ہوئی اور اس نے وہیں پنجابی سیکھی. وہ خود کو "منڈیا سیالکوٹیا" بھی کہ رہی تھی. 

خیر گفتگو میں سفر تمام ہوا، ڈیوڈ اور جوزفین اپنی منزل پر پہنچ کر اترنے لگے تو اصول کے مطابق انہوں نے کر تیس پاؤنڈز (تقریباً چھ، سات ہزار روپے) کرایہ نکالا اور اختر کے سپرد کردیا. تاہم وہ اس کے رد عمل پر ششدر رہ گئے. 

"مجھ پر لعنت ہو اگر میں آپ سے کرایہ لوں. "اختر نے زور سے کہا. اس کی آنکھوں میں باقاعدہ آنسو اتر آئے تھے. "آپ میرے شہر کی ہیں. میں بھلا آپ سے کسیے کرایہ لے سکتا ہوں؟" 

کچھ دیر اصرار، بحث و تمحیص کے بعد اختر کی بات مان لی گئی. وہ گرم جوشی سے الوداع کہ کر بغیر کرایہ لیے چل دیا. 

رانا صاحب کا بیان ہے کہ اس ایک واقعے نے ڈیوڈ کو  پاکستان کے حوالے سے یکسر بدل کر رکھ دیا اور وہ پاکستانیوں کی بہت عزت کرنے لگا. بعد ازاں ڈیوڈ اور جوزفین کی شادی ہوگئی تو بہت سی سماجی تقریبات میں ڈیوڈ کو یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے پایا گیا. آخر میں وہ عموماً اپنی ناک کھجاتے ہوئے کہتا، "کیسے شاندار لوگ ہیں؟ یعنی بات پر کرایہ نہ لینا کہ فلاں میرے شہر سے ہے؟ ہو از اٹ پاسیبل؟ وہ تو خود اپنے گھر سے اتنی دور مزدوری کر رہا ہے؟ . آئی ایم اے بگ فین آف پاکستان". انہی دنوں جب پاکستان میں کسی دھماکے کی وجہ کوئی منفی تبصرہ ہوتا تو جوزفین فوراً بحث میں کود پڑتی اور کہتی "پتہ نہیں آپ کون سے ملک کی بات کر رہے ہیں. میں خود پاکستان میں بیس سال رہ چکی ہوں. پاکستان دنیا کا سب سے پرامن ملک ہے. یہ منفی تبصرہ بکواس ہے. میں وہیں کھیلتے کھیلتے بڑی ہوئی ہوں. پاکستان سے نکل آئی ہوں، مگر پاکستان میرے اندر سے کبھی نہیں نکلے گا" .

ڈیوڈ اور جوزفین کہ ایک بڑی خواہش پاکستان جانا بھی ہے جہاں وہ خاص طور پر سیالکوٹ جانا چاہتے ہیں. 

اختر جہاں بھی ہے، خوش رہے. اس کی گاڑی بغیر پیٹرول کے چلتی رہے اور اس کا کبھی چالان نہ ہو. اس کے پاکستانی دل نے دو گوروں کو ہمیشہ کے لیے پاکستان کا سفیر بنا دیا. 


عارف انیس 

بچوں کو بچہ رہنے دیں، جاسوس مت بنائیں

اگر آپ کو ساس، نند، دیورانی، بھابھی یا دیگر رشتہ داروں سے کوئی اختلاف ہے تو اس میں بچوں کو جاسوس بنا کر بڑوں کی ٹوہ میں مت لگائیں، اور نہ ہی بچوں کو بڑوں کی باتوں پر کان دھرنے دیں۔

اگر آپ کا بچہ آپ سے کسی بڑے کے بارے میں کوئی بات کرے بھی تو بچے کو فورا خاموش کروا دیں، بچوں کی بات کو بڑھاوا مت دیں، اس طرح بچے بڑوں کی عزت کرنا چھوڑ دیں گے، اور یقیناً آپ کا اپنا مقام بھی بچوں کی نظر میں خراب ہوگا۔

بچوں کے معصوم ذہنوں کو خونی رشتوں کے اختلافات میں مت الجھائیں، اپنے اختلافات کو صرف خود تک ہی محدود رکھیں، بچے صرف اپنے ماں باپ کے باہمی اختلافات سے ہی ڈسٹرب نہیں ہوتے، بلکہ آپ کی اپنے بچوں کے خونی رشتے داروں سے نفرت بھی انہیں بہت ڈسٹرب کرتی ہے۔

بچے کہنا کیوں نہیں مانتے

 بچے کہنا کیوں نہیں مانتے

اس لیے کہ

آپ کو اپنی بات منوانے کا طریقہ نہیں آتا

ہمارے استاد کہتے ہیں

ٹریننگ بچوں کی نہیں تمہاری ہونی چاہیئے

میں نے کہا استاد پھر بتائیے

بچے کیسے ہماری بات مان لیں...؟

وقت پر پڑھائی کریں

کھانا  ٹھیک سے کھائیں

  اپنے سامان کپڑے، کھلونے سمیٹ کر رکھیں

  اپنا کمرہ صاف رکھیں

  وقت پر ہوم ورک کر لیں

  بڑوں کے ساتھ  تمیز سے پیش آئیں

  بچے آپس میں لڑائی جھگڑا نہ کریں

وغیرہ وغیرہ وغیرہ...!!!

 

استاد محترم نے جواب دیا

بچے ہر بات مان لیں گے بس انہیں زبان سے کہنا چھوڑ دو اور اپنی برین پاور سے کام لو

ابھی

تم سارا سارا دن رات صبح شام ہفتوں ان کے ساتھ

جھک جھک کرتے ہو اور صرف ایک منفی لائن بار بار دھراتے ہو

🥀 تم ایسا کیوں نہیں کرتے..!

🥀 تم پڑھائی کیوں نہیں کرتے.!

🥀 تم کھانا کیوں نہیں کھاتے.!

🥀  تم اتنا لڑتے کیوں ہو.!

🥀  تم اتنے گندے کیوں رہتے ہو.!

🥀 تم آپس میں لڑتے کیوں ہو.!

🥀 تم نے میرا دماغ کھا لیا ہے.!

تم

تم

تم

آپ نے بچوں سے شکوہ کر کر کے

ان تک منفی انرجی پہنچا کر انہیں تھکا دیا ہے..!

🧠 ان کے دل دماغ میں منفی سوچوں کا انبار لگ گیا ہے

وہاں کسی اچھے کام کی پازیٹو سوچ کو رکھنے کی جگہ ہی نہیں ہے

اور تم نے خود ایسا کیا ہے

اب

آپ ان سے

ان ہی کے بھلے کی فائدہ کی کوئی بات کہتے ہو

وہ اس کا الٹ کرتے ہیں

وجہ آپ خود ہو

آپ انہیں زبان سے ھدایات دینا بند کر دو

اب ایک نیا تجربہ کرو

اور چوبیس گھنٹے میں دو بار

رات کو جب بچے سوئے ہوں

اور صبح انہیں جگاتے وقت

ان کے قریب بستر پر بیٹھ کر

کان کے پاس سرگوشی کے انداز میں

ان کے اچھے کاموں کی تعریف کرو

انہیں ایپریشیٹ کرو

انہیں حوصلہ دو

  ان سے کہو:

🌷 تم بہت سمجھدار ہو

🌷 تم بہت ذہین ہو

🌷 تم بہت ذمہ دار ہو

🌷  تم بہت تمیز دار ہو

 

غرض یہ کہ

آپ ان میں جو جو خوبی دیکھنا چاہتے ہو

اور ان کی جو بھی کی خراب عادات تبدیل کرنا چاہتے ہو

ان کے لاشعوری ر ذہن میں محفوظ کر دو

یاد رکھو!

جو بات لاشعور میں محفوظ ہوگئی

وہ زندگی بھر اسے یاد رکھیں گے

اور اس پر عمل پیرا ہونگے

رات  کو بچوں کے سونے کے فوری بعد اور صبح

انہیں جگاتے وقت ان کے سب کانشز مائنڈ سے

گفتگو کرو

زیادہ بہتر ہے یہ گفتگو زبان کی بجائے

اپنی مائنڈ سے کی جائے

پھر دن اور رات

میں اپنی عبادات کے بعد کچھ وقت مراقبہ

بھی کیجئے

👈🏻 اس مراقبہ کے دوران اپنے بچوں کو

اپنے رشتوں کو، دوست احباب اہل خانہ کو

ان سب کو جنہیں آپ بہت اچھا دیکھنا چاہتے ہیں

اپنی مثبت سوچ، پازیٹو انرجی

ان تک پہنچاؤ

پھر دیکھو

چند روز میں

مشکل سے مشکل بچہ

یا کوئی بھی اور رشتہ کس طرح

تمہاری بات مانتا ہے

🤚🏻 ایک اور بات

🤚🏻🤚🏻  بہت ہی اہم بات

بچوں اور دیگر رشتہ داروں سے

گلے شکوہ کرنا چھوڑ دو

نہ ان سے کوئی شکوہ کرو

نہ ان کے بارے میں کسی اور سے گلے شکوے کرو

یہ گلہ، شکوہ، طعنہ، طنز یہی وہ بیڈ انرجی ہے

جو آج کل بچوں کو، رشتوں کو

تعلقات کو سخت نقصان پہنچا رہی ہے

ابھی دیر نہیں ہوئی..!

آج سے اپنے سمجھانے کے انداز کو بدل کر زبان کی بجائے مائنڈ سے شروع کر کے دیکھو

Copied

ڈوبتے شخص کی ندا ہو میں

ڈوبتے شخص کی ندا ہوں میں 

از: مالک خان سیال

بیٹی تو رب کی رحمت ہے

 بیٹی تو رب کی رحمت ہے

از: مالک خان سیال

https://hamariweb.com/poetries/-pid100461.aspx