ﺑﺮﺍﺋﯽ ﮐﺴﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻴﮟ

ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ: "ﺑﺮﺍﺋﯽ"  ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟

ﺷﺎﮔﺮﺩ: "ﺳﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ، ﻣﮕﺮ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﭽﮫ ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ ﮨﮯ۔۔۔۔

ﮐﯿﺎ ﭨﮭﻨﮉ ﮐﺎ ﻭﺟﻮﺩ ﮨﮯ؟ "

ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ: "ﮨﺎﮞ"

ﺷﺎﮔﺮﺩ: "ﻏﻠﻂ، ' ﭨﮭﻨﮉ ' ﺟﯿﺴﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ، ﺑﻠﮑﮧ ﯾﮧ ﺣﺮﺍﺭﺕ ﮐﯽ ﻋﺪﻡ ﺩﺳﺘﯿﺎﺑﯽ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ۔۔۔۔۔۔"

ﺷﺎﮔﺮﺩ ﻧﮯ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﭘﻮﭼﮭﺎ : "ﮐﯿﺎ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ؟ "

ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ: "ﮨﺎﮞ"

ﺷﺎﮔﺮﺩ:  "ﻧﮩﯿﮟ ﺳﺮ، ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﺧﻮﺩ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﺑﻠﮑﮧ ﯾﮧ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﯽ ﻏﯿﺮ ﺣﺎﺿﺮﯼ ﮨﮯ، ﺟﺴﮯ ﮨﻢ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔"

ﻓﺰﮐﺲ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮨﻢ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﺮﺍﺭﺕ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﺗﻮ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﻣﮕﺮ ﭨﮭﻨﮉ ﯾﺎ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﮐﺎ ﻧﮩﯿﮟ۔۔۔۔

ﺳﻮ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺩﺭﺍﺻﻞ ﺍﯾﻤﺎﻥ، ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺮ ﭘﺨﺘﮧ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﯾﺎ ﻏﯿﺮ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﮨﮯ۔۔۔ﺟﺴﮯ ﮨﻢ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔۔"

ﯾﮧ ﺷﺎﮔﺮﺩ " ﺍﻟﺒﯿﺮﻭﻧﯽ" ﺗﮭﮯ

والدین کی ناراضگی ختم کرنے کے گُر

 ایک عالم دین سے ایک نوجوان شخص نے شکایت کی کہ میرے والدین اڈھیر عمر ھیں اور اکثر و بیشتر وہ مجھ سے خفا رہتے ھیں حالانکہ میں ان کو ہر وہ چیز مہیا کرتا ھوں جس کا وہ مطالبہ کرتے ھیں ۔۔

عالم دین نے نوجوان شخص کو سر سے پیروں تک دیکھا اور فرمانے لگے کہ بیٹا یہی تو ان کی ناراضگی کا سبب ھے کہ جو وہ مانگتے ھیں تم ان کو لا کر دیتے ھو ۔۔

نوجوان کہنے لگا کہ میں آپکی بات نہیں سمجھ پایا ۔ تھوڑی سی وضاحت کر دیں ۔۔

عالم دین فرمانے لگے: بیٹا کیا کبھی تم نے غور کیا ھے کہ

جب تم دنیا میں نہیں آئے تھے تو تمہارے آنے سے پہلے ھی تمھارے والدین نے تمھارے لئے ہر چیز تیار کر رکھی تھی ۔

تمھارے لئے کپڑے ۔

تمھاری خوراک کا انتظام

تمھاری حفاظت کا انتظام

تمہیں سردی نہ لگے ۔ اگر گرمی ھے تو گرمی نہ لگے ۔

تمہھارے آرام کا بندوبست

تمھاری قضائے حاجت تک کا انتظام تمھارے والدین نے تمھاری دنیا میں آنے سے پہلے ھی کر رکھا تھا ۔۔

پھر آگے چلو ۔۔۔

کیا تمھارے والدین نے کبھی تم سے پوچھا تھا کہ بیٹا تم کو سکول میں داخل کروائیں یا نہ ۔

اسی طرح کالج یا یونیورسٹی میں داخلے کیلئے تم سے کبھی پوچھا ھو، بلکہ تمھارے بہتر مستقبل کیلئے تم سے پہلے ھی سکول اور کالج میں داخلے کا بندوبست کر دیا ھو گا ۔۔

اسی طرح تمھاری پہلی نوکری کیلئے ، تمھارے سکول کی ٹرانسپورٹ کیلئے , تمھارے یونیفارم کیلئے تمھارے والد صاحب نے کبھی تم سے نہیں پوچھا ھو گا بلکہ اپنی استطاعت کے مطابق بہتر سے بہتر چیز تمھارے مانگنے سے پہلے ھی تمہیں لا کر دی ھو گی ۔۔

تمہہں تو شاید اس کا بھی احساس نہ ھو کہ جب تم نے جوانی میں قدم رکھا تھا تو تمھارے والدین نے تمھارے لئے ایک۔اچھی لڑکی بھی دھونڈنا شروع کر دی ھو گی جو اچھی طرح تمھاری خدمت کر سکے اور تمھارا خیال رکھ سکے ۔۔۔

لڑکی تلاش کرتے ھوے بھی انکی اولین ترجیح تمھاری خدمت ھی ھو گی بلکہ ان کے تو ذھن میں کبھی یہ۔خیال بھی نہیں آیا ھو گا کہ ھم ایسی دلہن بیٹے کیلئے لائیں جو ھماری خدمت بھی کرے اور ھمارے بیٹے کی بھی ۔۔۔

تمھارے لئے کپڑے ۔ تمھاری پہلی سائکل ۔ تمھارا پہلا موٹرسائکل ۔ تمھارا پہلا سکول ۔ تمھارے کھلونے ۔ تمھاری بول چال ۔ تمھاری تربیت ۔ تمھارا رھن سہن ، چال چلن ، رنگ ڈھنگ ، گفتگو کا انداز ۔۔۔۔۔ یہاں تک کہ تمھارے منہ سے نکلنے والا پہلا لفظ تک تم کو تمھارے ماں باپ نے مفت میں سکھایا ھے اور تمھارے مطالبے کے بغیر سکھایا ھے ۔۔۔

اور آج تم کہتے ھو کہ۔جو کچھ وہ مجھ سے مانگتے ھیں میں ان کو لا کر دیتا ھوں اس کے باوجود وہ خفا رھتے ھیں ۔۔۔

جاؤ والدین کو بن مانگے دینا شروع کرو ۔

ان کی ضروریات کا خیال اپنے بچوں کی ضروریات کی طرح کرنا شروع کرو ۔۔

اگر ان کی مالی مدد نہیں کر سکتے تو ان کو اپنا قیمتی وقت دو ۔ ان کی خدمت کرو ۔ گھر کی زمہ داریاں خود لو ۔۔جیسے اپنے بچوں کے باپ بنے ھو ویسے ھی اپنے والدین کی نیک اولاد بنو اور ان کو بن مانگے دینا شروع کرو ۔۔

اپنے آپ کو اس قابل بنا لو کہ ان کو تم سے مانگنے کی یا مطالبے کی ضرورت ھی نہ پڑے ۔۔ یا ان کو کبھی تمھاری کمی محسوس ھی نہ ھو ۔ کم سے کم اتنا وقت تو ان کو عطا کر دو ۔۔۔۔ ان کے مسائل پوچھو ۔۔

اگر ان کی مالی مدد نہیں کر سکتے تو ان کی خدمت کرو

کیا کبھی ماں یا باپ کے پاؤں کی پھٹی ھوئی ایڑیاں دیکھی ھیں تم نے ؟؟

کیا کبھی ان پھٹی ھوئی ایڑیوں میں کوئی کریم یا تیل لگایا ھے جیسے وہ تم کو چھوٹے ھوتے وقت لگاتے تھے ؟؟

کیا کبھی ماں یا باپ کے سر میں تیل لگایا ھو کیونکہ جب تم بچے تھے تو وہ باقاعدہ تمھارے سر میں تیل لگا کر کنگھی بھی کرتے تھے ۔۔ تمھاری ماں تمھارے بال سنوارتی تھی ۔ کبھی ماں کے بال سنوار کر تو دیکھو ۔۔۔

کیا کبھی باپ کے پاؤں دبائے ھیں حالانکہ تمھارے باپ نے تمہیں بہت دفعہ دبایا ھو گا ۔۔۔

کیا کبھی ماں یا۔باپ کیلئے ہاتھ میں پانی یا تولیہ لے کر کھڑے ھوئے ھو ۔جیسے وہ تمھارا منہ بچپن میں نیم گرم پانی سے دھویا کرتے تھے ۔۔۔۔

کچھ کرو تو سہی

ان کو بغیر مانگے لا کر دو

ان کی ذمہ داریاں اٹھا کر دیکھو ۔

ان کو وقت دے کر دیکھو

ان کی خدمت کر کے دیکھو ۔

ان کو اپنے ساتھ رکھو ھمیشہ

ان کو اپنے آپ پر بوجھ مت سمجھو ۔ نعمت سمجھ کر دیکھو

جس طرح انہوں نے تم کو بوجھ نہیں سمجھا ۔ بغیر کسی معاوضہ کے تمھاری دن رات پرورش کر کے معاشرے کا ایک کامیاب انسان بنایا ھے ۔ کم سے کم ان کی وھی خدمات کا صلہ سمجھتے ھوئے ان سے حسن سلوک کا رویہ اختیار کرو ۔۔

پھر دیکھنا وہ بھی خوش اور اللہ بھی خوش ۔۔

عالم دین کی یہ باتیں سن کر نوجوان اشک بار ھو گیا اور باقی کے حاضرین کی آنکھیں بھی۔نم ھو گئیں ۔۔

ﻋﺎﺩﺗﯿﮟ ﻧﺴﻠﻮﮞ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ بتا ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿں

  ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﺟﻨﺒﯽ،ﻧﻮﮐﺮﯼ ﮐﯽ ﻃﻠﺐ ﻟﺌﮯﺣﺎﺿﺮ ﮬﻮﺍ،🙎‍♂️

ﻗﺎﺑﻠﯿﺖ ﭘﻮﭼﮭﯽ ﮔﺊ، ﮐﮩﺎ ،ﺳﯿﺎﺳﯽ ﮨﻮﮞ ۔۔👨‍💻 ‏( ﻋﺮﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﺎﺳﯽ،ﺍﻓﮩﺎﻡ ﻭ ﺗﻔﮩﯿﻢ ﺳﮯ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺣﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﻓﮩﻢ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮬﯿﮟ ‏)

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﺩﺍﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮭﺮ ﻣﺎﺭ ﺗﮭﯽ، ﺍﺳﮯ ﺧﺎﺹ " ﮔﮭﻮﮌﻭﮞ ﮐﮯ ﺍﺻﻄﺒﻞ ﮐﺎ ﺍﻧﭽﺎﺭﺝ " ﺑﻨﺎ ﻟﯿﺎ ﺟﻮ ﺣﺎﻝ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻓﻮﺕ ﮬﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ .

ﭼﻨﺪ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ،ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻣﮩﻨﮕﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﺰﯾﺰ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ " ﻧﺴﻠﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﮯ "

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺗﻌﺠﺐ ﮬﻮﺍ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻨﮕﻞ ﺳﮯ ﺳﺎﺋﯿﺲ ﮐﻮ ﺑﻼﮐﺮ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ،،،،

ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ، ﮔﮭﻮﮌﺍ ﻧﺴﻠﯽ ﮬﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﻣﺮﮔﺊ ﺗﮭﯽ، ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﮔﺎﺋﮯ ﮐﺎ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﯽ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﻼ ﮬﮯ .

ﻣﺴﺌﻮﻝ ﮐﻮ ﺑﻼﯾﺎ ﮔﯿﺎ،ﺗﻢ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﭘﺘﺎ ﭼﻼ، ﺍﺻﯿﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﮯ؟؟؟

ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، ﺟﺐ ﯾﮧ ﮔﮭﺎﺱ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﮬﮯﺗﻮ ﮔﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﻧﺴﻠﯽ ﮔﮭﻮﮌﺍ ﮔﮭﺎﺱ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﮯﮐﺮ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﮬﮯ

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻓﺮﺍﺳﺖ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮬﻮﺍ،

ﻣﺴﺌﻮﻝ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺍﻧﺎﺝ،ﮔﮭﯽ،ﺑﮭﻨﮯ ﺩﻧﺒﮯ،ﺍﻭﺭ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﮐﺎ ﺍﻋﻠﯽ ﮔﻮﺷﺖ ﺑﻄﻮﺭ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﺑﮭﺠﻮﺍﯾﺎ . ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺳﮯ ﻣﻠﮑﮧ ﮐﮯ ﻣﺤﻞ ﻣﯿﮟ ﺗﻌﯿﻨﺎﺕ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ،

ﭼﻨﺪ ﺩﻧﻮﮞ ﺑﻌﺪ، ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻣﺼﺎﺣﺐ ﺳﮯ ﺑﯿﮕﻢ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﺭﺍﺋﮯ ﻣﺎﻧﮕﯽ،

ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ . ﻃﻮﺭ ﻭ ﺍﻃﻮﺍﺭ ﺗﻮ ﻣﻠﮑﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﮬﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ " ﺷﮩﺰﺍﺩﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﮯ، "

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﭘﯿﺮﻭﮞ ﺗﻠﮯ ﺳﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﯽ ، ﺣﻮﺍﺱ ﺑﺤﺎﻝ ﮐﺌﮯ، ﺳﺎﺱ ﮐﻮ ﺑﻼ ﺑﯿﺠﮭﺎ، ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﻮﺵ ﮔﺬﺍﺭ ﮐﯿﺎ .

 ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ، ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮧ ﮬﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ، ﻣﯿﺮﮮ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﺳﮯ ﮬﻤﺎﺭﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﭘﺮ ﮬﯽ ﺭﺷﺘﮧ ﻣﺎﻧﮓ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﮬﻤﺎﺭﯼ ﺑﯿﭩﯽ 6 ﻣﺎﮦ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻓﻮﺕ ﮬﻮ ﮔﺊ ﺗﮭﯽ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﮬﻢ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﺖ ﺳﮯ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺑﭽﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺑﻨﺎﻟﯿﺎ .

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻣﺼﺎﺣﺐ ﺳﮯ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ، "ﺗﻢ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﻋﻠﻢ ﮬﻮﺍ، "

ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، ﺍﺱ ﮐﺎ "ﺧﺎﺩﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﻠﻮﮎ " ﺟﺎﮨﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﺪﺗﺮ ﮬﮯ،

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻓﺮﺍﺳﺖ ﺳﮯ ﺧﺎﺻﺎ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮬﻮﺍ، " ﺑﮩﺖ ﺳﺎ ﺍﻧﺎﺝ، ﺑﮭﯿﮍ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ " ﺑﻄﻮﺭ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﺩﯾﮟ .

ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﺘﻌﯿﻦ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ .

ﮐﭽﮫ ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﺍ، "ﻣﺼﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﺑﻼﯾﺎ، "

" ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ، " ﻣﺼﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، ﺟﺎﻥ ﮐﯽ ﺍﻣﺎﻥ، ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﯿﺎ، 

ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : " ﻧﮧ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺯﺍﺩﮮ ﮬﻮ ﻧﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﭼﻠﻦ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﻭﺍﻻ ﮬﮯ " 

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺗﺎﺅ ﺁﯾﺎ، ﻣﮕﺮ ﺟﺎﻥ ﮐﯽ ﺍﻣﺎﻥ ﺩﮮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ،

ﺳﯿﺪﮬﺎ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﮐﮯ ﻣﺤﻞ ﭘﮩﻨﭽﺎ، "ﻭﺍﻟﺪﮦ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﯾﮧ ﺳﭻ ﮬﮯ "

ﺗﻢ ﺍﯾﮏ ﭼﺮﻭﺍﮨﮯ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮬﻮ،ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺍﻭﻻﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭘﺎﻻ ۔

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻣﺼﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﺑﻼﯾﺎ ﭘﻮﭼﮭﺎ، ﺑﺘﺎ، " ﺗﺠﮭﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﻋﻠﻢ ﮬﻮﺍ " ؟؟؟

ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، "ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ " ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ "ﺍﻧﻌﺎﻡ ﻭ ﺍﮐﺮﺍﻡ " ﺩﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﺗﻮ " ﮨﯿﺮﮮ ﻣﻮﺗﯽ، ﺟﻮﺍﮨﺮﺍﺕ " ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺘﮯ

ﮬﯿﮟ،،،، ﻟﯿﮑﻦ ﺁﭖ " ﺑﮭﯿﮍ ، ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ، ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ " ﻋﻨﺎﯾﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ

" ﯾﮧ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺯﺍﺩﮮ ﮐﺎ ﻧﮩﯿﮟ " ﮐﺴﯽ ﭼﺮﻭﺍﮨﮯ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﺎ ﮨﯽ ﮬﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮬﮯ .

ﻋﺎﺩﺗﯿﮟ ﻧﺴﻠﻮﮞ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ۔۔

کمفرٹ زون سے گروتھ زون تک کا سفر

Comfort zoneسے نکل کر۔۔Growth Zone تک پہنچنے کا راستہ

دو لفظ آپ نے بہت بہت سنے ہیں۔Management میں جو بھی آپ کو پڑھنا پڑے گا یا کوئی پڑھائے گا تو وہ دو لفظ ہیں۔ ایک کمفرٹ زون اور دوسرا گروتھ زون ہوتاہے بلکہ جو اصل فقرہ کہا جاتا ہے ۔وہ یہ ہے کہ آپ ترقی کرنا چاہتے ہیں تو کمفرٹ زون سے نکلیں، کیسے نکلیں؟ کون نکالیں گا؟ نکلنے کے لیے کیا چاہیے؟ ترقی کےلیے کیا چاہیے؟
پھر Management کی کتابوں میں ایک نئی اصطلاح لکھی ہوئی آئی۔ کہ یہ آپ کاکمفرٹ زون ہے اور یہ آپ کا گروتھ زون ہے۔مثلاً میں یہاں سے ایک کنارے پر کھڑا ہوں جہاں میں کمفرٹ ہوں اور سورہا ہوں اور کسی طرح کی کوئی پریشانی نہیں لے رہا، کوئی ڈویلپمنٹ نہیں کر رہا، کوئی منصوبہ نہیں بنا رہا، کوئی لین دین نہیں کر رہا ،کوئی بزنس نہیں کر رہا ،کوئی سرکار کے ٹیکسوں کی فکر نہیں ہے۔صبح اٹھتا ہوں سوجاتا ہوں اور جتنی چھوٹی موٹی ملتی ہے کھا پی لیتا ہوں یہ میرا کمفرٹ زون ہے۔
گروتھ زون کیا ہے؟ مجھےگروتھ زون میں جا کر منصوبہ بندی کرنی پڑے گی، نئے پراجیکٹ کرنے پڑیں گے،بینکوں سے معاملات کرنے پڑیں گے، دس ، بیس یاسینکڑوں لوگ آپ کےساتھ کام کریں گے، ان کے ہیومن ریسورسزکے مسائل حل کریں گے، مارکیٹ کو دیکھیں گے، کرونا وائرس آئے گا اس کو بھگتیں گے، سود کی شرح میں کمی بیشی ہوگی آپ اسے بھگتیں گے،مال خراب ہوگا، کلیمز آئیں گے یہ سارے کام آئیں گے۔ تو یہ سب چیزیں گروتھ زون میں ہیں۔
کمفرٹ زون میں ایک آدمی سو رہا ہے، بڑے آرام سےصبح وقت پر اٹھتا ہے اور آپ اسے کہتے ہیں کہ گروتھ زون میں چلے جائیں۔ اگر وہ گروتھ زون میں جائے گا تو اس کے لیے کچھ چیزیں چاہیے۔ وہ کیسے جائے گا؟
اب جو Management کی کتابوں میں ماڈل ملتا ہے۔ وہ یہ ہے اب گروتھ زون سےپہلے بھی دو زون ہیں۔ آپ کا کمفرٹ زون ہے اور اس کے بعد آپ کا فیئر(خوف) زون ہے، پھر آپ کالرننگ (سیکھنا) زون ہے اور آخر میں گروتھ زون ہے۔
تو سب سے پہلے آپ کو فیئر زون میں داخل ہونا ہے۔اچھا میں یہ کام کروں گا تو گھاٹا پڑ جائے گا، مجھے نقصان ہو گا،فیکٹری بند ہو جائے گی، بینک سے پیسے لوں گا تو واپس کیسے کروں گا؟ یہ آپ کا فیئر زون ہے۔
یہ پہلی سیڑھی ہے۔ آپ کوسب سے پہلے اپنے اس خوف کو دور کرنا ہوگا کہ کیوں میں نے ہی کام کرنا ہے؟ اتنے لوگ دنیا میں کام کر رہے ہیں، سارے مل جل کرکام کر رہے ہیں، سب کو اسی طرح کے مسائل پیش آتے ہیں، چھوٹی کمپنیاں، بڑی کمپنیاں، کرونا وائرس کے اندر بڑی بڑی کمپنیاں بیٹھ گئی ہیں۔ تو کیا اس خوف سے میں گھر بیٹھ جاؤں؟ نہیں مجھےاس خوف پر قابو پانا ہے ۔مجھے ٹرین پر چڑھنا ہے، جہازپر چڑھنا ہے، مجھے یہ سڑک پار کرنی ہے اور مجھے تیرنا ہے ۔ جب آپ کام شروع کریں گے تو آپ کاخوف ختم ہوگا۔
اس سےاگلی بات کہ اچھا خوف تو ختم ہو گیا۔ اب مجھے گروتھ کے لیے کیا چاہیے؟ مجھے مہارت چاہیے۔مثلاً میں تیرنا چاہتا ہوں ۔ مجھے دریا تیر کر پار کرنا ہےتو اس کے لیے مہارت چاہیے۔ آپ ایک برینڈ لانچ کرنا چاہتے ہیں تو برینڈ ایسے تو نہیں لانچ ہو جائے گا۔ آپ کو اس برینڈ کو لانچ کرنے کے لیے لازماً طور پر برینڈ کی ٹیکنالوجی، برینڈ کی پوزیشننگ، برینڈ کا طریقہ کار یہ ساری چیزیں آپ کریں گے تو برینڈ لانچ ہوگا۔ مارکیٹنگ کی مہارت آپ کوآئے گی تو تب جا کرہوگا۔جب تک آپ یہ سارے کام نہیں کرتے تو آپ آگےنہیں بڑھ سکتے۔
یہ چار اقدامات ہیں۔ پہلا قدم آپ کا کمفرٹ زون، دوسرا فیئر زون ،تیسرا لرننگ زون ہے اور چوتھاگروتھ زون ہے۔ اگر آپ ان چاروں پر عمل کرتے ہیں تو انشاءاللہ العزیز آپ آگے بڑھیں گے اور دنیا دیکھے گی کہ آپ نے ترقی کی ہے۔
آئیں کمفرٹ زون سے ایک ہی دفعہ میں باہر نہ نکل جائیں۔نکلیں گے تو کوئی ٹانگ ،بازو یا ہاتھ پاؤں ٹوٹ جائیں گے۔ تو پہلے باری باری ایک قدم، دوسرا ، تیسرا اور پھر اس کے بعد چوتھا رکھیں۔ انشاءاللہ العزیزمنزل آپ کے قدم چومے گی۔
ڈاکٹر مشتاق مانگٹ

وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیں​

 وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیں​

آدمی بے نظیر ہوتے ہیں​
تیری محفل میں بیٹھنے والے​
کتنے روشن ضمیر ہوتے ہیں​
پھول دامن میں چند رکھ لیجئے​
راستے میں فقیر ہوتے ہیں​
زندگی کے حسین ترکش میں​
کتنے بے رحم تیر ہوتے ہیں​
وہ پرندے جو آنکھ رکھتے ہیں​
سب سے پہلے اسیر ہوتے ہیں​
دیکھنے والا اک نہیں ملتا​
آنکھ والے کثیر ہوتے ہیں​
جن کو دولت حقیر لگتی ہے​
اُف! وہ کتنے امیر ہوتے ہیں​
جن کو قدرت نے حسن بخشا ہو​
قدرتاً کچھ شریر ہوتے ہیں​
ہے خوشی بھی عجیب شے لیکن​
غم بڑے دلپذیر ہوتے ہیں​
اے عدم احتیاط لوگوں سے​
لوگ منکر نکیر ہوتے ہیں​
---- عبدالحمید عدم

ذہانت

 ذہانت کیا ہے۔۔۔ ایک مشکل سوال ہے۔ لیکن ماہرین ا س بات پر متفق ہیں کہ ذہانت تین چیزوں کا مجموعہ ہے

(1) abstract thinking or reasoning abilities,
(2) problem-solving abilities,
(3) the capacity to acquire knowledge
ان تین چیزوں کو ہمارے نظام تعلیم اور نصاب کا لازمی حصہ ہونا چاہیے ۔۔۔ ان صلاحیتوں کے بغیر کسی کو ذہین ماننا مشکل ہے۔

Sympathy اور Empathy

دو لفظ آپ نے بہت سنے ہوں گے۔ ایک Empathyاور دوسرا Sympathy۔ تھوڑا سا ہی فرق لگتا ہے بظاہر دیکھنے میں ، کسی سے تعریف پوچھیں تو وہ کہے گا، Sympathy یعنی دوسرے کے ساتھ محبت کرنا، خیال کرنا ، مدد کرنا اور دوسروں کے کام آنا ، کسی کے ساتھ اچھا سلوک کرنا یہ Sympathy ہے۔
Empathyاس سے آگے کی چیز ہے۔ اس وقت ماہرین نفسیات نے جس بات پر تحقیق کی ہے،اور وہ اس بات کی طرف ہے کہ دنیامیں Empathy کااثر کیا ہے؟ Sympathy سادہ سی زبان میں یہ ہے،کہ میرے سامنے کوئی آدمی ہے اور وہ کسی مشکل میں ہے تو مجھےاس سے ہمدردی ہے۔ تو میں ایک ہمدردانہ نظریے سے اس کی کوئی مدد کر سکوں، اس کا کوئی خیال کر سکوں ،جو اس کی خدمت ہے وہ کر سکوں، جس کو میں Sympathy کہتا ہوں۔ میں نہیں کہتا بلکہ کتابیں اس کو Sympathy کہتی ہیں۔
Empathyیہ ہے ،کہ آپ اس کی جگہ پر کھڑے ہو کریہ محسوس کریں کہ یہ درد اس کو نہیں ہو رہا بلکہ مجھے ہو رہا ہے۔ آپ یہ اُس وقت محسوس کریں گے جب آپ ایک Empathetic موڈ میں جائیں گے۔
مثلاً جیسے کسی کا آپریشن ہو رہا ہے اوراُس کے پاس پیسے نہ ہو، کسی کی جاب چھوٹ گئی ہو یا کوئی اور حادثہ پیش آگیا ہو۔ توEmpathyیہ ہے کہ آپ وہاں پر کھڑے ہو کر خود یہ سوچیں کہ آج میری جاب چھوٹ گئی ہے تو میرا کیا حال ہوگا؟ میرے ساتھ یہ حادثہ پیش آیا ہوتا تو کیا ہوتا ؟ ان صاحب کویہ مشکل پیش آئی ہے اگر مجھے آتی تو کیا ہوتا؟
جب آپ Empathetic موڈ کے اندر جاتے ہیں، تو پھر یقینی طور پر آپ ایک اور ہی دنیامیں چلے جاتے ہیں۔ پھر جب آپ کسی کی مدد کرتے ہیں تو درحقیقت وہ آپ کی اپنی مدد ہوتی ہے، وہ آپ کو بہت ساری مشکلات سے نکالتی ہیں۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے اور آج بے شمار تحقیقات اس پہ ہو چکی ہیں کہ Sympathy آدمی کو ڈپریشن سے نکالتی ہے،یہ آدمی کو اٹھاتی ہے، یہ اس کے تنہائی کے احساس کو ختم کرتی ہے، اس سے آدمی کے اندر خوف ختم ہوتا ہے۔
ہمیں تو حکم ہی یہی ہے کہ" تم اس وقت تک مسلمان ہی نہیں ہو سکتے جب تک تم اپنے بھائی کے وہ نہ پسند کرو جو اپنے لیے پسندکرتے ہو۔۔ایسے ہی جیسے میں اپنے آپ کو گالی دینا پسند نہیں کروں گا تو میں اپنے بھائی کو دینا کیسے پسند کر سکتا ہوں؟ یقینی طور پر یہ درست ہے۔
ہمیں یہ محسوس کرنا چاہیے کہ پوری امت ایک جسم کی مانند ہے۔کسی ایک جگہ پہ درد ہوتا ہے تو سارا جسم اس کا درد محسوس کرتا ہے۔ یہی Empathyہے۔ میں نے جو دین پڑھا ہے ،جو مجھے سمجھ آئی ہے وہ یہ ہےکہ Sympathy کافی نہیں ہے۔ Sympathy تو بہت ہے کہ ہم گزر رہےہیں، کوئی آدمی زخمی ہے تو ہم نے کہا ہمیں آپ سے بہت ہمدردی ہے، ہمیں آپ سے بہت پیار ہے۔Empathy یہ تھی، کہ میں اپنی فکر چھوڑ کر اس کو اٹھاتا اور اس کو ہسپتال لے جاتا۔
اگر مجھے خود ایک چائے کے کپ کی طلب ہے اور میں اس چائے کو نہیں پیتا بلکہ میں اسے کسی اورکو دےدیتا ہوں۔ یہی وہ منزل ہے جو ہمیں رب کےقریب کرتی ہے، جو ہمیں اپنے مالک کے قریب کرتی ہے کہ ہم اپنی ضرورت کو ہٹا کر دوسرں کی ضرورت کوپورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
میں پورے وثوق سے یہ بات کہتا ہوں کہ آپ اللہ کے کنبے کی خدمت کر کے تو دیکھیں، اپنی کسی ضرورت کو روک کر اس کی خدمت کر کے تو دیکھیں۔انشاءاللہ العزیزآپ کی ضرورتیں وہ پوری کرے گا جو اس دنیا کا مالک اور خالق ہے۔
آئیں اس کے کنبے کی خدمت کریں جیسے بھی کر سکتے ہیں، اچھابول بول کے کر سکتے ہیں لیکن بہترین خدمت میرے نزدیک وہ یہ ہے کہ اگر آپ اپنی کسی ضرورت کو روک کر اپنے کسی بھائی کی ضرورت پوری کرتے ہیں تو میرے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل اللہ رب العزت کو یقیناً یہی ہوگا۔ اور میں امید کرتا ہوں کہ ہمیں کوشش کرنی چاہیے زندگی میں کہ اگر میں اس سال سوٹ نہ لوں تو اپنے کسی ضرورت مندبھائی کو لے کر دے دوں۔ تو اللہ تعالی ہمیں سوٹوں کی کمی نہیں آنے دے گا ہمیں کپڑوں کی کمی نہیں آنے دے گا۔انشاء اللہ

فرقہ پرستی مت سکھانا

اِنہیں فرقہ پرستی مت سکھا دینا کہ یہ بچے 

زمیں سے چُوم کر تتلی کا ٹوٹا پَر اُٹھاتے ہیں

 

دس روپے

استاد : اگر تمہارے پاس 86،400 روپے ہوں اور کوئی ڈاکو ان میں سے 10 روپےچھین کر بھاگ جائے تو تم کیا کرو گے ؟

کیا تم اُس کے پیچھے بھاگ کر اپنی لوٹی ہوئی 10 روپےکی رقم واپس حاصل کرنے کی کوشش کرو گے ؟؟ یا پھر اپنے باقی کے بچے ہوئے 86،390 روپےکو حفاظت سے لیکر اپنے راستے پر چلتے رہو گے؟

طلبا نے کہا : ہم 10 روپے کی حقیر رقم کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے باقی کے پیسوں کو حفاظت سے لیکر اپنے راستے پر چلتے رہیں گے۔

استاد نے کہا : تمھارا بیان اور مشاہدہ درست نہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ ذیادہ تر لوگ اُن 10 روپے کو واپس لینے کے چکر میں ڈاکو کا پیچھا کرتے ہیں اور نتیجے کے طور پر اپنے باقی کے بچے ہوئے 86،390 روپے سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

طلباء نے حیرت سے استاد کو دیکھتے ہوئے کہا: سر، یہ ناممکن ہے، ایسا کون کرتا ہے ؟

استاد نے کہا : یہ 86،400 اصل میں ہمارے ایک دن کے سیکنڈز ہیں۔

کسی 10 سیکنڈز کی بات کو لیکر، یا کسی 10 سیکنڈز کی ناراضگی اور غصے کو بنیاد بنا کر ہم باقی کا سارا دن سوچنے، جلنے اور کُڑھنے میں گزار کر اپنا باقی کا سارا دن برباد کرتے ہیں۔ یہ والے 10 سیکنڈز ہمارے باقی بچے ہوئے 86،390 سیکنڈز کو بھی کھا کر برباد کر دیتے ہیں۔

باتوں کو نظرانداز کرنا سیکھیئے۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کا کوئی وقتی اشتعال، ناراضگی آپ سے آپ کے سارے دن کی طاقت چھین کر لے جائے۔

معاف کریں, بھول جائیں اور آگے بڑھیں....

دلچسپ عربی حکایت

کہتے ہیں ایک بدو کسی شہری بابوکا مہمان ہوا۔ میزبان نے ایک مرغی ذبح کی۔ جب دسترخوان بچھ گیا تو سب آموجود ہوئے۔ میزبان کے گھر میں کل چھ ( 6 ) افراد موجود تھے ؛دو میاں بیوی، دو ان کے بیٹے اور دو بیٹیاں۔ میزبان نے بدو کا مذاق اڑانے کا فیصلہ کرلیا۔

میزبان: آپ ہمارے مہمان ہیں۔ کھانا آپ تقسیم کریں۔

بدو: مجھے اس کا کوئی تجربہ نہیں لیکن اگر آپ کا اصرارہے تو کوئی بات نہیں۔ لائیے! میں ہی تقسیم کر دیتا ہوں۔

بدو نے یہ کہہ کر مرغی اپنے سامنے رکھی، اس کا سرکاٹا اور میزبان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ”آپ گھر کے سربراہ ہیں لہذا مرغی کا سر، ایک سربراہ کو ہی زیب دیتا ہے“۔ اس کے بعد مرغی کا پچھلا حصہ کاٹا اور کہا ”یہ گھر کی بیگم کے لیے“۔ پھر مرغی کے دونوں بازو کاٹے اور کہا ”بیٹے اپنے باپ کے بازو ہوتے ہیں۔ پس بازوبیٹوں کے لیے“۔ بدو نے بیٹیوں کی طرف دیکھا اور کہا ”بیٹیاں کسی بھی خاندان کے وقار کی بنیاد ہوتی ہیں اورسارے خاندان کی عزت ان کے وقار پر کھڑی ہوتی ہے“۔ یہ کہہ کر مرغی کے دونوں پاؤں کاٹے اورمیزبان کی بیٹیوں کو دے دیے۔ پھر مسکراکر کہنے لگا ”جو باقی بچ گیا ہے وہ مہمان کے لیے“۔

میزبان کا شرمندگی سے برا حال تھا۔ اگلے دن اس نے اپنی بیوی کو کہا کہ آج پانچ مرغیاں ذبح کرنی ہیں۔ بیوی نے ایسا ہی کیا اور جب دسترخوان لگا تو اس پر پانچ بھنی ہوئی مرغیاں موجود تھیں۔ میزبان نے سوچا کہ دیکھتے ہیں کہ آج یہ پانچ مرغیوں کو کس طرح تقسیم کرے گا؟

میزبان : ان مرغیوں کو سب افراد میں برابر تقسیم کردو۔

بدو:جفت یا طاق؟

میزبان : طاق انداز میں تقسیم کرو۔

بدو نے میزبان کی بات سن کر سرہلایا، تھال سے ایک مرغی اٹھائی، میاں بیوی کے سامنے رکھی اور بولا ”آپ اور آپ کی بیوی دو اور ایک یہ مرغی، کل ملا کے تین۔ پھر دوسری مرغی اٹھائی اور کہا“ آپ کے دو نوں بیٹے اور ایک مرغی، کل ملا کے یہ بھی تین ”۔ اس کے بعد تیسری مرغی اٹھائی اور کہا“ آپ کی دو بیٹیاں اور ایک مرغی ؛ کل ملا کریہ بھی تین ہوگئے ”۔ اب تھال میں دو مرغیاں باقی تھیں۔ اس نے وہ مرغیاں اپنے سامنے رکھیں اور کہنے لگا“ یہ دو مرغیاں اور ایک میں ؛ یہ بھی تین ہو گئے ”۔ میزبان بدو یہ تقسیم دیکھ کر ہکابکا رہ گیا۔ اس نے اگلے دن پھرپانچ مرغیاں روسٹ کیں۔ جب سب لوگ دسترخوان پر بیٹھ گئے تو میزبان نے بھنی ہوئی پانچوں مرغیاں بدو کے سامنے رکھیں۔

میزبان: آج بھی تقسیم تم ہی کرو گے لیکن آج تقسیم کی نوعیت جفت ہونی چاہیے۔

بدو: لگتا ہے کہ تم لوگ میری پچھلی تقسیم سے ناراض ہو۔

میزبان: ایسی کوئی بات نہیں۔ آپ تقسیم شروع کریں۔

بدو نے مرغیوں کی طشتری سامنے رکھی۔ اس میں ایک مرغی اٹھائی اور کہنے لگا ”ماں، اس کی دو بیٹیاں اور ایک مرغی ؛ یہ ہوئے کل ملا کر چار“۔ یہ کہہ کرپہلی مرغی ان کی طرف بڑھا دی۔ اس کے بعد دوسری مرغی اٹھائی اور میزبان سے کہا ”آپ، آپ کے دو بیٹے اور ایک مرغی؛ یہ بھی کل ملا کر چارہوئے“۔ پھر تھال میں موجود باقی تین مرغیاں اپنی طرف کھسکاتے ہوئے بولا ”میں اوریہ تین مرغیاں ؛ یہ بھی کل ملا کر ہو گئے چار“۔ اس کے بعد مسکرایا، بے بسی کی تصویر بنے اپنے میزبانوں کی طرف دیکھا اورآسمان کی طرف منہ کرتے ہوئے کہنے لگا ”یا اللہ! تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تونے مجھے تقسیم کرنے کی اعلیٰ صلاحیت سے نوازا ہے..!