بچیوں کی تربیت
تاریخ
شاہد ہے کہ والدین کی جتنی خدمت ا ور اطاعت گزاری بچیاں کرتی ہیں بچے اتنی نہیں کر
سکتے۔ مگر نا جانے کیوں ہمارے معاشرے میں بچیوں کو ایک بوجھ تصور کیا جاتا ہے اور
ان کی پیدائش کو غم و غصے سے منسوب کیا جاتا ہے۔عورت زمانہ قدیم کے جاہلی دور سے
لے کر آج کے ترقی یافتہ دور تک ہمیشہ مظلوم رہی ہے۔ کہیں اسے پیدا ہوتے ہی زندہ
درگور کیا جاتا ہے تو کہیں ستی کی رسم میں اسے شوہر کے ساتھ زندہ جلنا پڑتا ہے۔
کہیں اسے پاؤں کی جوتی سمجھ کر لونڈی بنا کر رکھا جاتا ہے تو کہیں عیش و عشرت کا
سامان۔
اسلام
کی آمد سے قبل کسی بھی معاشرے نے عورت کو عزت و احترام کا مقام نہیں دیا بلکہ شرق
و غرب میں عورت مظلومیت کی چکی میں پستی رہی۔ اسلام کی آمد سے عورت کو جہاں تحفظ ملا،
جائیداد میں حصہ ملاوہیں اسے معاشرے میں عزت و وقار کا مقام بھی ملا۔مگر ہمارے ہاں
اکثر و بیشتر طبقوں میں عورت مظلوم تھی اور مظلوم ہی رہی۔ نہ جانے کیوں ہمارے
معاشرے میں بیٹیوں کی پیدائش پر افسوس کیا جاتا ہے حالانکہ ہمارے نبی کریم ؐ نے
بچیوں کی پیدائش پر جنت کی بشارت دی ہے۔
حقیقت
یہ ہے کہ بیٹیاں اللہ کا خاص انعام ہوتی ہیں جن کے دم سے گھر میں رونق ہوتی ہے۔
والدین بچیوں کی تربیت میں اگر درج ذیل باتوں کو ملحوظ رکھیں تو یہ خوبصورت ہستیاں
احساس محرومی سے بے نیاز ہو کر اسلام کے بتائے ہوئے طریقہ کار پر کاربند ہو کر
دنیا و آخرت میں اعلیٰ مقام حاصل کر سکتی ہیں اور ان کی اعلیٰ کرداری یقینی طور پر
جہاں والدین کے لیے سرخروئی کا سبب بن سکتی ہے وہیں بچیوں کی پیدائش پر افسردہ
ہونے والے والدین کے لیے ذہنی اطمینان کا ذریعہ بھی۔
بچیوں
کی پرورش کرتے ہوئے شروع دن سے ان کی عادات و اطوار پر فوکس کیا جانا ضروری ہے۔
بچپن سے ہی بچیوں کو مکمل لباس پہننے، گھر میں رہنے اور گھر کے معمولات میں والدین
کا ہاتھ بٹانے کی تربیت دی جائے۔ ان کے لیے کھیلنے کودنے کے لیے گھر کی چاردیواری
کے اندر انتظام موجود ہو۔ بچیاں صرف اپنی ہم عمر بچیوں کے ساتھ کھیلیں کودیں اور
بچپن سے ہی انہیں تربیت دی جائے کہ لڑکوں کے ساتھ ان کا ہاتھ ملانا، ساتھ مل کر
بیٹھنا اور کھیلنا کودنا درست نہیں۔ بچیوں کی تربیت کرتے ہوئے ماؤں کو خاص طور پر
انہیں مستقبل کی اچھی بیویاں اور مائیں بنانے کا ہدف ذہن میں رکھنا چاہیے۔
بچیوں
کی تعلیم بہر حال بچوں کی تعلیم کی طرح ہی اہم ہے۔ اس لیے تو نپولین نے اپنی قوم
سے کہا تھا کہ تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو میں تمہیں پڑھی لکھی قوم دوں گا۔ بچیوں
کو تعلیم لازمی دلوائی جائے البتہ ادارے کا انتخاب کرتے ہوئے ضرور دیکھا جائے کہ
جہاں ان کی تربیت ایک مسلم عورت کے طور پر ہو سکے۔ مائیں بچیوں کو ازدواجی زندگی
کامیاب بنا سکنے کے لیے انہیں کھانا پکانے، گھر کو سنبھالنے، اچھی بیوی اور ماں
بننے غرض ہر طرح کی صورت حال میں خود کو ڈھالنے کے حوالے سے تربیت دیں۔
چونکہ
ہر لڑکی شادی کے بعد کسی دوسرے گھر میں ہمیشہ کے لیے چلی جاتی ہے اس لیے ان کی
تربیت کرتے ہوئے انہیں سسرال کے ماحول کو اپنانے، ان جیسا بن جانے، اس خاندان کی
روایات، طریقہ کار اور پسند نا پسند کے مطابق خود کو ڈھالنے اورسسرال کی خوشی اور
غم کو اپنا بنا لینے کی تربیت شامل ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ لڑکی دونوں خاندانوں
کے مضبوط تعلقات کا سبب بن سکے اور اس کی وجہ سے رنجش اور اختلاف پیدا نہ ہو۔
عزت
و عاطفت کی حفاظت کرنا ہرلڑکی کا سب سے بڑا فریضہ ہے۔ بچیوں کو اپنی آواز دھیمی
رکھنے، ستر ڈھانپنے، سلیقے سے چلنے پھرنے اور ایک باعزت اور باکردار خاتون بننے کی
تربیت دینا والدین بالخصوص ماؤں کی ذمہ داری ہے۔ بچیوں کو محرم اور نا محرم کا
تصور دیں اور محرموں سے مناسب فاصلے پر رہنے کی تربیت بھی کریں۔ بچیوں کو اعتماد
دیں کہ کوئی اجنبی شخص ان سے کوئی بھی بات کرے وہ گھر آکر ضرور بتائیں۔ سکول میں،
محلے میں یا کسی بھی جگہ پر کسی انہونی بات کو ضرور بتائیں۔ گھر میں ٹی وی،موبائل
اور لیپ ٹاپ وغیرہ پر دیکھے جانے والے پروگرامات کی بھی نگرانی کریں۔
بچیوں
کو گھر سنبھالنے، شوہر کی اطاعت گزار بننے، ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے اور
شاکر رہنے کی تربیت دی جائے۔ اس کے علاوہ کن کاموں کے لیے لڑکیاں گھر سے نکل سکتی
ہیں، کیا کام کر سکتی ہیں، لوگوں سے میل جول کس حد تک رکھ سکتی ہیں اس حوالے سے
مناسب رہنمائی والدین کی اولین ذمہ داری ہے۔
بچیوں
کو بالخصوص اسلامی تہذیب سے جوڑنا اور اپنے مشاہیر کے طرز عمل کو اپنانا ضروری ہے۔
ہر مسلم بچی کی آئیڈیل امہات المومنین و صحابیات ہونی چاہییں تا کہ یورپ کی نام
نہاد کھوکھلی ترقی کی بنا پر تیار کی گئی کوئی عورت ان کی رول ماڈل نہ بن سکے۔ اس
سلسلے میں جہاں بچیوں کو ترغیبات کی نشاندہی کرنا ضروری ہے وہیں انہیں مغربی اور
سیکولر معاشرے کے اصل چہرے سے روشناس کرنا بھی ضروری ہے کہ جس میں عورت کو ایک
اشتہار بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ہر پروڈکٹ کو عورت کی تصویر کے ساتھ متعارف
کروایا جاتا ہے۔ ایسے معاشرے میں عورت کو صرف اور صرف سامان عیاشی بنانے کی سعی کی
جارہی ہے۔
دونوں
تہذیبوں کے تقابلی جائزہ سے ہی یہ ممکن ہے کہ ہماری بچیاں تصویر کے دونوں رُخ دیکھ
کر اپنے لیے بہتر راہیں متعین کر سکیں۔
از
مالک خان سیال
کردار سازی ضروری ہے
کردار
سازی تعمیر انسانیت کا عمل ہے جس میں جاگنے سے لے کر سونے تک کے تمام اعمال و
افعال کا احاطہ کیا جا سکتا ہے۔ عام مشاہدے کی بات ہے کہ ایک فرد اپنی نشست و
برخاست اور معاشرتی رسم و رواج سے تشکیل پانے والی عادتوں میں کسی نہ کسی حد تک
دوسروں سے مختلف ہوتا ہے۔ البتہ ہر قبیلے، قوم اور ایک خطے میں رہنے والوں کی
عادات اور زندگی کے کئی پہلو یکساں ہوتے ہیں۔
اگر
انسان کی عادات و اطوار اور افکارو کردار کا بغور مطالعہ کیا جائے اور ان کی
یکسانیت یا اختلافات کی وجوہات کا جائزہ لیا جائے تو جنیاتی اور ماحولیاتی اثرات ،
والدین اور اساتذہ کی تربیت ، معاشرے کی دی ہوئی اقدار اور فرد کی عقل و بینش ہی
کردار سازی پر اثرانداز ہونے والے اہم عناصر ہیں۔ نفسیات اور طب کے علم کے مطابق
بچوں میں جو توارث جینز کے ذریعے در آتا ہے اس کے اثرات بچوں کے کردار پر اثر
انداز ہوتے ہیں اور کئی عادات بھی انھی تبدیلیوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ مثلاً بائیں
ہاتھ سے لکھنے والوں کی عادت تربیت سے نہیں بدلی جا سکتی ہے کہ یہ جنیاتی اثرات سے
تشکیل پاتی ہے۔
کردار
سازی پر خاندان اور نسل کے اثرات بھی ہوتے ہیں۔ ارباب بست و کشاد وڈیروں اور اہل
ثروت کے بچوں میں جو غرور اور تفاخر جڑ پکڑ لیتا ہے وہ ان کی تربیت میں رکاوٹ بن
جاتا ہے۔ یہ نسلی عصبیت بڑے مسائل پیدا کرتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسے خاندانوں
کی کمی نہیں جو مالی طور پر تواناہوں یا کمزور لڑنے بھڑنے اور اپنی برتری جتانے
میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ ایسے خاندان شادیاں عموماً اپنے خاندان میں کرتے ہیں اور ان
کی تعلیم و تربیت میں مربی بے پناہ مشکلات سے دو چار ہوتے ہیں۔ یہ احساس برتری
مرتے دم تک ان کے ساتھ رہتا ہے۔
نسلی
تفاخر کی اہم مثال ابوجہل کے اپنے قاتلوں کو وہ آخری الفاظ ہیں جو اس کے غرور اور
احساس خود پسندی و برتری کے عکاس ہیں کہ میری گردن سر کے ساتھ رہنے دینا تاکہ
لوگوں کو معلوم ہو کہ یہ کسی سردار کا سر ہے۔ ضد کے علاوہ سرداری بھی حق تسلیم
کرنے میں اسے آڑے آتی رہی۔
کردار
سازی کے عمل کو متاثر کرنے والے محرکات میں ماحول کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ اسے
وسیع تر تناظر میں دیکھا جا ئے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ مختلف خطوں میں بسنے والی
قومیں عادات کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں۔ ان کی زندگی بسر کرنے کے
تقاضے ماحول اور موسم کے مطابق ہوتے ہیں۔ لباس بھی موسمی تقاضوں کے مطابق ہوتا ہے۔
اگر اسے محدود معنوں میں لیا جائے تو جس ماحول میں بچے پروان چڑھتے ہیں اس سوسائٹی
کے اثرات تیزی سے قبول کرتے ہیں۔ یہ مقامی ماحول اور معاشرہ مثبت اور منفی دونوں
طرح کے اثرات مرتب کرتا ہے۔یہ محرک مربی کے لیے بسا اوقات آسانیاں اور سہولتیں اور
بعض اوقات مشکلات بھی پیدا کرتا ہے۔
جہاں
معاشرہ مہذب اور تعلیم یافتہ ہوگا وہاں بچوں کی تربیت آسان ہوگی اور جہاں جاہلیت ،
مذہب سے دوری ، بے عملی اور تعلیمی لحاظ سے پس ماندگی ہوگی وہاں بچے خودروپودوں کی
طرح بڑے ہوتے ہیں جن کی تربیت و کردار سازی جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتی ہے۔
کردار
سازی اور تربیت میں والدین کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے ،اس قدر زیادہ کہ دیگر کوئی
عنصر اس قدر موثر نہیں۔ ایک حدیث مبارکہ کے مطابق ’’ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔
اس کے والدین ہی ہوتے ہیں جو اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بناتے ہیں‘‘تو گویا بچوں
کے مستقبل کی کنجی والدین کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ یہ ایسی ذمہ داری اور فریضہ ہے جس
کا قیامت کے دن والدین سے پورا حساب لیا جائے گا۔ ہر راعی کو اپنی رعایا کے بارے
میں جواب دہ ہونا پڑے گا۔ دراصل بچوں کے رجحانات کی تشکیل اور ترجیحات قائم کرنے
میں والدین کی کاوشوں ،خواہشات اور عملی کردار جیسے عناصر بچے کے مستقبل پر اثر
انداز ہوتے ہیں۔
آج
کے مادی دور میں والدین عموماً یہی خواہش رکھتے ہیں کہ ان کا بچہ بڑا آدمی بن جائے
اور بڑے سے مراد صاحب ثروت اور صاحب اختیار ہو۔ ایسے بچے ہنر مند تو ہوتے ہیں لیکن
خدا سے تعلق کمزور ہوتا ہے اور باکر دار شخصیت نہیں بن پاتے۔ تو خدا کے حضور یہ تر
جیحات طے کرنے پر جواب تو دینا ہوگا۔ نفسیات کی جدید تحقیقات کے مطابق بچے کی
شخصیت کی تعمیر ابتدائی چند سالوں میں ہو جاتی ہے اور عمر کا یہ دورانیہ سراسر
والدین کے زیر سایہ ہوتا ہے۔ والدین تربیت میں کوتاہی برتیں تو بگاڑ پیدا ہو گا۔
حد سے زیادہ
پریشر سے بچے جھوٹ بولتے ہیں۔ بچوں کی ضروریات پوری نہ کی جائیں تو بچے چوریاں
کرتے اور غلط راہوں پر نکل جاتے ہیں۔ والدین کی مصروفیات بچوں کی نگرانی میں آڑے
آئیں تو بچے بے عمل اور خواہشات کے غلام بن جاتے ہیں۔مختصر یہ کہ گھر بچے کی تعلیم
و تربیت و تعمیر سیرت پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔
بچے
کی تعمیر سیرت و کردار میں سکول اور اساتذہ نہایت فعال کردار ادا کرتے ہیں۔ بچے کی
شخصیت کی تعمیر کے لیے بنیادیں اگرچہ گھر میں والدین اٹھاتے ہیں لیکن اساتذہ ایک
خاص نظم و ضبط کے ساتھ تعلیم دے کر اس کی سیرت اور شخصیت کو سنوارتے اور پروان
چڑھاتے ہیں۔اگر سکول کے اندر یہ فریضہ معلمین کی غفلت اور لا پروائی کے سبب بطریق
احسن انجام نہ پائے تو بچوں کی شخصیت میں کجی اور کوتاہی رہ جاتی ہے جس کے سبب
انہیں اگلی جماعتوں میں جہاں اکثر معاملات میں شرمندگی کا سامنا ہوتا ہے وہیں
انہیں مختلف النوع جملے جیسے کہاں سے پڑھ کے آئے ہو۔ لگتا ہے آپ کو کوئی استاد
نہیں میسر آیاوغیرہ بھی سننے پڑھتے ہیں۔
مختلف
علم و فنون میں مہارت، اصلاح و تربیت ، زمانے کی اونچ نیچ اور بچے کے جملہ پہلوؤں
کی نشو و نما تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے۔تعلیمی اداروں میں ہی قسمت نوع بشر
تبدیل ہوتی ہے اور تعلیم و تربیت اور کردار سازی جیسے عظیم فریضے کی تکمیل ہوتی
ہے۔
معاشرتی
ترقی اور تعلیم و تنظیم کی ذمہ داری اداروں کے ذریعے سر انجام دی جاتی ہے۔ دنیا
بھر میں جو نسلیں پروان چڑھ رہی ہیں ان کے پس پشت مختلف ممالک کا نظام تعلیم ہوتا
ہے اور نظام تعلیم ان مقاصد کی تکمیل کرتا ہے جو قوم اپنے اپنے نظریہ حیات کے
مطابق طے کرتی ہے۔ ایک ایسی مملکت جہاں مسلمان بستے ہوں وہاں کے نظام تعلیم کا
بنیادی فریضہ سیرت و کردار کے لحاظ سے اچھے مسلمان بنانا ہی ہونا چاہیے۔
از
مالک خان سیال
جو ہو ذوقِ تحقیق پیدا
اکثرکہا
جاتا ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے جمود کا شکا ر ہیں اور اس کی ایک اہم وجہ یہ بیان
کی جاتی ہے کہ سالہا سال سے ہمارے اساتذہ ایک ہی طرز سے تدریس کرتے آ رہے ہیں ۔
مثال کے طور پر لیکچر کے ذریعے معلومات فراہم کرنا یا درسی کتاب کا پڑھا دینا اور
پھر طالب علم سے توقع کرنا کہ وہ صرف درسی مواد کو یا د کر لے اور امتحانی پرچہ
میں وہی کچھ اگل دے۔ یوں امتحانات میں زیادہ سے زیادہ نمبر لینا ہماری تدریس اور
امتحانات کا مقصد ہے۔ اس طریقہ تدریس سے طالب علم نہ صرف یکسانیت اور بوریت کا
شکار ہوتا ہے بلکہ یاد کیا ہو ا علم بھی جلد بھول جاتا ہے۔ اس کے اندر علمیت نام
کی کوئی چیز نہیں رہتی اور اس طرح وہ اظہار رائے کی صلاحیت سے محروم ہو جا تا ہے۔
مروجہ
امتحانی نظام نے استاد کو بھی فراہمی معلومات تک محدود کردیا ہے اور اس طرح اس نے
اپنے اسلوب تدریس و تربیت میں جمود اور ٹھہراؤ کو مرکزی حیثیت دے دی ہے۔ اس کا
نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہمارے اساتذہ اور طلبا اپنے اندر تنقیدی، تجزیاتی، تخلیقی اور
مشاہداتی مہارات پیدا نہیں کر سکے۔ یہ اوصاف اس وقت پیدا ہو سکتے ہیں جب ہم تعلیمی
اداروں میں ریسرچ کلچر کو فروغ دیں۔ حقیقت میں جب تک ہم اپنے تعلیمی اداروں میں
تحقیقی ذوق پیدا نہیں کریں گے تدریسی انقلاب نا ممکن ہے۔
تعلیمی
تحقیق کو سادہ زبان میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہم نظام تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے
منظم اور مرتب انداز میں معلومات جمع کر کے تجزیہ کریں اور اس کی روشنی میں تعلیمی
مسائل کے حل کے لیے متعدد سوالوں کے جوابات تلاش کریں۔ مثلاً اساتذہ کا تعلیمی
معیار کیا ہے؟ طلبا کے اندر مطلوبہ صلاحیت و قابلیت میں اضافہ کیوں نہیں ہو رہا؟
مروجہ طریقہ تدریس میں کیا خامیاں ہیں؟ طلبا کے اندر سیکھنے کے عمل میں کون سی
مشکلات پیش آتی ہیں؟ ہمارا موجودہ نظام تعلیم اور طرز تعلیم طلبا کو مستقبل کا
اچھا انسان بنانے میں ناکام کیوں ثابت ہو رہاہے؟ ہمارے نظام امتحانات سے معیار
تعلیم میں اضافہ کیوں نہیں ہو رہا۔
غرض
یہ کہ اس طرح کے لا تعداد سوالات ہیں جن کا جواب تلاش کرنا ضرور ی ہے اور اس کے
لیے تحقیقی عمل کی انتہائی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے ہر استاد کا تحقیقی سرگرمیوں
میں شریک ہونا ضروری ہے۔ البتہ سرکاری سطح پر وسائل کی فراہمی اور مناسب سہولیات و
حوصلہ افزائی بنیادی ضرورت ہے۔
بحیثیت
مجموعی یہ کہا جا سکتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم کے ریسرچ کلچر کو
فروغ دیا جائے کیونکہ ایک اچھا استاد وہی ہے جو تدریس و تحقیق میں کمال پیدا کرے۔
تحقیق درحقیقت ایک استاد کو مستعد، متحرک، فعال اور جدید معلومات سے با خبر رکھتی
ہے۔ اگر پڑھانے والا صحیح اور جدید معلومات فراہم کرے گا تو اس سے طلبا بھی متاثر
ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ تحقیق ہی قیادت فراہم کرتی ہے اورایسی قیادت کے بغیر
تعلیم کی اصلاح ممکن نہیں۔ اس ضمن میں چند تجاویز درج ذیل ہیں۔
v تعلیمی
اداروں میں تحقیق کے لیے مناسب سہولتیں فراہم کی جائیں۔خصوصاً تربیت کا انتظام ہو
تا کہ معیار تعلیم بلند ہو
v
ایجوکیشن کالجز کے نصات میں تحقیق اور ایکشن
ریسرچ سے متعلق کورسز ہوں
v
قومی
سطح پر ایجوکیشن ریسرچ بورڈ بنا یا جائے جسے ماہرین تعلیم سپر وائز کریں۔اس بورڈ
میں مختلف تحقیقی اداروں کو نمائندگی دی جائے تا کہ ایک تو ان کے کام میں ربط پیدا
ہو سکے ،دوسرے تمام تحقیقات کی جانچ پرکھ ہو سکے، تا کہ تحقیقی نتائج کے پیش نظر
تعلیم میں بہتری کے لیے پالیسی سازی اور منصوبہ بندی کی جاسکے۔
v
تعلیم وتحقیق کے لیے یونیورسٹیوں کو قائدانہ
کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس سے تعلیم وتحقیق کے کام کو فروغ حاصل ہو گا۔
v
اداروں کے سربراہان اپنے سٹاف کی میٹنگ میں
تعلیمی مسائل کی نشاندہی کریں اور ان کے حل کے لیے بحث و تمحیص کا موقع فراہم
کریں۔ موزوں حل کے لیے اساتذہ اپنی آراء دیں۔ ہر رائے کا تجزیہ کرکے موزوں حل تلاش
کیا جائے، اس کی آزمائش کی جائے اور حاصل شدہ نتائج کی بنیاد پر تدریسی عمل میں
اصلاح اور ترمیم عمل میں لائی لائے اور اس عمل کو مسلسل
جاری رہنا چاہیے۔
v اساتذہ
کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے کہ مختلف تعلیمی مسائل کے حل کے لیے اپنے مشاہدات اور
دیگر علمی ماہرین کے تجربات سے استفادہ کریں۔ اساتذہ، فن تحقیق سے متعلق کورسز کا
مطالعہ کریں۔چھوٹے چھوٹے تعلیمی مسائل پر تجرباتی تحقیق یا ماہرین کی آراء (بیانیہ
تحقیق) سے رہنمائی لے کر اپنی تدریس کو بہتر بنائیں۔
v اساتذہ
کوایسے تعلیمی جرائد فراہم ہونے چاہییں کہ اساتذہ تازہ، تخلیقی، مشاہداتی، تجرباتی
اور معلوماتی مضامین کا مطالعہ کر سکیں تا کہ وہ ذہنی جمود سے نکلیں۔ مزید برآں ہر
استاد کو چاہیے کہ وہ سال میں کم از کم ایک تحقیقی مضمون تیار کرے۔ اپنی سٹاف
میٹنگ میں پیش کر کے کسی جریدے میں شائع کروائے۔ ایسی سرگرمیوں سے استاد کی پیشہ
ورانہ معلومات میں لازماً اضافہ ہو گا۔
الغر ض حکومتی
سطح پر تعلیمی تحقیقی کلچر فروغ دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ تحقیقی
کلچر کو اپنا کر ہم اپنے تعلیمی اداروں میں تدریسی و تعلیمی بہتری لا سکیں۔
از
مالک خان سیال
ہم نصابی سرگرمیاں
قوموں
کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کا دارومدار افراد کی سیرت و کردار پر ہے۔ سیرت و
کردار کی تشکیل صحیح تعلیم و تربیت کے بغیر نا ممکن ہے۔ مدرسہ وہ جگہ ہے جہاں
افراد کی تعمیر کی جاتی ہے اور مستقبل میں ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار
کیا جاتا ہے۔تشکیل کردار کے لیے مدرسہ میں کتابی علم کی رٹوائی سے ہٹ کر ایسی
فعالیتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے جو طالب علم کی خوابیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار
لانے کے ساتھ ساتھ اس میں ضبط اور قیادت کے اوصاف پیداکرتی ہیں۔اس قسم کی فعالیتوں
کو ہم نصابی سرگرمیوں کا نام دیا جاتا ہے۔
ہم
نصابی سرگرمیاں یا مشاغل وہ سلسلہ ہے جو روایتی نصاب کا حقیقی جزو نہ ہونے کے
باوجود نصاب کا ایک اہم حصہ ہیں جن کے بغیر تعلیم و تربیت ناقص اور غیر موثر ہے۔ہم
نصابی سرگرمیوں کا مقصد طلبا کی جبلتوں کو اجاگر کرنا اور ان کے اندر قائدانہ
اوصاف پیدا کرنا ہے۔عام طور پر سکول کے اندر کورس کے علاوہ کروائی جانے والی
سرگرمیوں کو غیر نصابی سرگرمیاں قرار دیا جاتا ہے حالانکہ مدرسہ کے اندر ہونے والی
ہر وہ سرگرمی جو بچے کو تعلیمی میدان میں کسی طرح بھی سپورٹ کرے نصاب کے زمرے میں
آنی چاہیے۔
ہم
نصابی سرگرمیاں دور جدید کی کوئی نئی اختراع نہیں بلکہ بعض ملکوں میں زمانہ قدیم
ہی سے ہم نصابی مشاغل کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ اسپارٹا والوں کو ایسے مضبوط اور
توانا افراد کی ضرورت تھی جو دشمنوں کا مقابلہ کر سکیں چنانچہ وہاں بچوں کو شروع
ہی سے سخت زندگی کا عادی بنایا جاتا تھا۔انہیں باقاعدہ ورزش کروائی جاتی، کھیلوں
میں شریک ہونا پڑتا ،گرمی، سردی، بھوک اور پیاس کی شدت برداشت کرنا پڑتی تاکہ وہ
سخت جان بن جائیں۔ یہی حال اسپارٹا کی حریف ریاست ایتھنز کا تھا وہاں بھی سخت
جسمانی تربیت اور فنون حرب کی تربیت دی جاتی۔لیکن یہاں کے نظام تعلیم کی امتیازی
صفت یہ تھی کہ ہم نصابی مشاغل کے ساتھ ساتھ علوم کی طرف بھی مناسب توجہ دی جاتی
تھی تا کہ جسم اور ذہن دونوں کی نشوونما ہو ۔ تعلیم کی اس جامعیت کی وجہ سے اہل
ایتھنز بالآخر اسپارٹا والوں پر غالب آ گئے۔
قدیم
یونان میں افلاطون کی درسگاہ کا نصاب جمناسٹک، ادب، موسیقی اور ریاضی پر مشتمل
تھا۔ جمناسٹک کا مقصد صحت مند ذہن کے لیے جسم کی تربیت کرنا ،قوت مدافعت اور جرات
کو صورت اظہار دینا اور روحانی جذبہ کو مناسب جلا بخشناہے۔
مسلمانوں نے
تشکیل کردار کو بنیادی اہمیت دی اور افراد کی ہمہ جہت نشوونما سے ہی پوری دنیا میں
اپنا لوہا منوایا۔حضرت عمرؓ نے ہم نصابی سرگرمیوں کے پیش نظر امت کو تجویز فرمایا
کہ
’’اپنے بچوں کو
تیراکی، شہسواری، مشہور ضرب الامثال اور اچھے اشعار سکھاؤ‘‘
امام غزالیؒ
ارشاد فرماتے ہیں
’’مدارس میں کھیل
کود کا اہتمام کیا جاتا ہے تا کہ طلبا دماغی کاوش کے بعد تازہ دم ہو جائیں اس کی
ضرورت اس وجہ سے بھی ہے کہ طالب علم کی یادداشت تازہ ہو جاتی ہے اور اس میں نئی
طاقت پیدا ہو تی ہے اور دماغی کام سے اکتاہٹ نہیں ہوتی”
البدری نے کھیل کی اہمیت یوں واضح کی ہے
البدری نے کھیل کی اہمیت یوں واضح کی ہے
’’اگر طالب علم
کو کھیل کود سے روکا جائے اور مسلسل مطالعہ کے لیے مجبور کیا جائے تو اس کا حوصلہ
پست ہوجائے گا۔ اس کی قوت فکر اور دل کی تازگی برباد ہو جائے گی اور مطالعہ اس کے
لیے بیماری بن جائے گا اور اس کی زندگی پر فکر و پریشانی کے بادل چھا جائیں گے
اوروہ ہر ممکن کوشش کرے گا کہ سبق سے جان چھڑائے۔
پستالوزی کے
خیال میں ’’تعلیم کا اصل کام بچے کی قدرتی، مناسب اور متوازن نشوونما میں مدد کرنا
ہے تا کہ اس کی تمام پوشیدہ ذہنی اور روحانی قوتیں اجاگر ہو سکیں۔
نصاب
کے ساتھ ساتھ موسیقی، ڈرامہ، آرٹ اینڈ کرافٹ، قصہ کہانیاں، کیمپنگ اور کھیل
نوجوانوں کو مجموعی طور پر ذہنی تفریح کا ماحول مہیا کرتے ہیں۔یہ سرگرمیاں بڑے
دوررس نتائج کی حامل ہیں ۔ ان کے مثبت اثرات بچوں کی پوری زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔
ہم
نصابی سرگرمیاں یوں تو ہر عمر کے طلبا کے لیے مفید ہیں لیکن ثانوی مدارس میں تعلیم
حاصل کرنے والے بچے اپنی عمر کے اس دور میں ہوتے ہیں جسے زندگی کا تغیر پذیر دور
کہا جاتا ہے۔ وہ بچپن کی حدود کو پھلانگ کر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہے ہوتے
ہیں اس عمر میں ضروری ہے کہ ان کے خیالات،جذبات اور توانائیوں کی صحیح سمت میں رہنمائی
کی جائے کیونکہ یہ جوان امنگوں کا دور ہوتا ہے اور بچے ہر دم متحرک رہنا پسند کرتے
ہیں ۔اس عمر میں اگر بچوں کے قدم غلط سمت اٹھ جائیں تو وہ معاشرے کے قابل فخر شہری
بننے کی بجائے غلط راہوں پر چل کر نہ صرف اپنی زندگیوں کو برباد کر لیتے ہیں بلکہ
اپنے خاندان ،ملک اور قوم کے وقار کو بھی خاک میں ملا دیتے ہیں۔
با
ضابطہ درس و تدریس کے علاوہ مدرسہ کی ہم نصابی سرگرمیاں بچوں کی ذہنی صحت پر
خوشگوار اثر ڈالتی ہیں۔ بچوں کی مناسب نشوونما کے لیے کھیل اور تفریح لازمی ہے۔ ہر
مدرسے میں کھیل اور تفریح کا مناسب انتظام ہونا چاہیے۔ معلم کو اس امر کا خیال
رکھنا چاہیے کہ ہر بچہ کسی نہ کسی کھیل میں ضرور حصہ لے۔ کھیل میں شرکت سے جسم کے
مختلف اعضاء کو حرکت کا موقع ملتا ہے۔بچوں میں مسرت کے جذبے ابھرتے ہیں ، ان کی
توانائی بڑھتی ہے ، انہیں چند اصولوں اور ضابطوں کا احترام کرنے اور دوسروں سے مل
کر تفریح کرنے کی تربیت ملتی ہے ۔اس کے علاوہ کھیل کود میں حصہ لینے سے ذہنی صحت
ہی میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ درسی مضامین سمجھنے کی صلاحیت بھی بڑھتی ہے۔
بچوں
کو اس بات کی اشد ضرورت ہوتی ہے کہ ان کی فطری صلاحیتوں کو اجاگر کر کے ان کو جلا
بخشی جائے تاکہ ان کے رخ کا صحیح تعین ہو سکے۔ طلبا کے گروہی مشاغل ان کے طبعی
رجحان کی غمازی کرتے ہیں۔ مقرر، فنکار، کھلاڑی، ادیب، قائدغرض سب افراد کے لیے عمر
کا یہی حصہ ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ کسی بھی تعلیمی ادارے میں ہم نصابی
سرگرمیوں کی نوعیت کا انحصار صدر معلم کی ذاتی دلچسپی، طلبا کی تعداد، طلبا کی عمر
اور مدرسے کے مالی وسائل پر ہوتا ہے۔ مختصر طور پر ان سرگرمیوں کو پانچ گروپوں میں
تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
۱۔علمی
و ادبی فعالیتیں:
اس
گروپ میں مختلف مضامین کی سوسائٹیاں ، بزم ادب، مباحثے، مذاکرات، تقاریر، نمائشیں
اور مدرسے کا رسالہ وغیرہ شامل ہیں۔ ان سرگرمیوں سے طلبا کی قوت فکر کی نشوونما
ہوتی ہے اور وہ اپنے خیالات کو مجتمع کر کے انہیں منطقی انداز میں دلائل کے ساتھ
منظم طور پر پیش کرنے کا طریقہ سیکھتے ہیں۔ بہترین اور موثر اظہار کے لیے وسیع
مطالعہ کرتے ہیں اس سے ان کے خیالات میں گہرائی پیدا ہوتی ہے اور ذہنی افق وسیع تر
ہوتا ہے۔ ان مشاغل سے صحیح استفادہ کیا جائے اور طلبا کی تخلیقی صلاحیتوں کومناسب
رہنمائی و تربیت ملے تو اچھے مقرر اور ادیب پیدا ہوتے ہیں۔
۲۔تفریحی
سرگرمیاں:
ڈرامے،
ساکت اور بولتی تمثیلیں ، غزل، گانے ، قوالی اور خاکے وغیرہ تفریحی سرگرمیوں میں
شامل ہیں ۔یہ سرگرمیاں نصابی بوجھ کی گھٹن دور کر کے بچوں کی تفریح طبع کا باعث
بنتی ہیں۔ ان سرگرمیوں میں حصہ لینے سے بچوں میں خود اعتمادی اور عمیق مشاہدہ کرنے
کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے ۔ اگر بچے استاد کی رہنمائی میں خود ڈرامہ لکھیں تو ان کی
تخلیقی قوتوں کی نشوونما ہوتی ہے۔
۳۔معاشرتی
فعالیتیں:
سکاؤٹنگ،
گرل گائیڈ، شہری دفاع، واک، سیر و سیاحت، ابتدائی طبی امداد اور ہلال احمر وغیرہ۔
ان سرگرمیوں سے طلبا کو مختلف مسائل پر غور و فکر کرنے اور حل کرنے کی تربیت ملتی
ہے۔ سکول سپرٹ پیدا ہوتی ہے ، خدمت خلق کی تربیت ملتی ہے اورمدرسے کے ماحول کی
یکسانیت سے پیدا ہونے والی تکان اور بوریت دور ہو جاتی ہے ۔
۴۔
کھیل:
ہم
نصابی سرگرمیوں میں کھیل ہی ایک ایساعنصر ہے جس میں طلبا سب سے زیادہ دلچسپی لیتے
ہیں۔ اکثر طلبا اور بہت سے پڑھے لکھے افراد کے نزدیک ہم نصابی سرگرمیوں سے صرف
کھیل کود مراد ہے۔ مدارس میں مختلف قسم کے کھیل کھیلے جاتے ہیں ان کھیلوں میں فٹ
بال، والی بال، کبڈی، ہاکی، رسہ کشی، کرکٹ، باسکٹ بال، بیڈ منٹن، ٹیبل ٹینس اور
اتھلیٹکس وغیرہ شامل ہیں۔
کھیلوں
کے ذریعے طلبا میں ذہنی بیداری، مستقل مزاجی، خود انضباطی، دلیری، خود اعتمادی،
قیادت اور رہبری کے اوصاف پیدا ہوتے ہیں اور ان کی فاضل توانائی کا اخراج بھی ہوتا
ہے۔ کھیل بچوں کی جسمانی، ذہنی اور اخلاقی نشوونما کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔
اسی لیے ماہرین کھیل کے میدانوں کو بے چھت کا سکول کہتے ہیں۔
۵۔متفرق
مشاغل:
ان
میں موسیقی، مصوری، نقاشی، باغبانی، مطالعہ قدرت، رائفل کلب، ٹکٹیں، سکے، آٹو گراف
اور اہم
شخصیات
کی تصویریں جمع کرنا جیسے مشاغل شامل ہیں۔سکولوں کی
ورکشاپس، دستکاری کے نمونے اور بک بنک جیسے بہت سے مشاغل طلبا کی دلچسپی کا باعث
بنتے ہیں۔ ان تمام انفرادی و اجتماعی سرگرمیوں میں اساتذہ کی رہنمائی بہت ضروری
ہے۔
درحقیقت
ہم نصابی سرگرمیوں کی اہمیت تدریسی سرگرمیوں سے کسی طرح بھی کم نہیں۔ ان مشاغل کے
ذریعے بچوں کی ذہنی نشوونما کے علاوہ ان کی جسمانی ،اخلاقی اور روحانی نشوونما
ہوتی ہے۔ہم نصابی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے درج ذیل اقدامات اشد ضروری ہیں۔
1)
مدارس میں ہم نصابی
سرگرمیوں کے لیے تربیت یافتہ اساتذہ کا فقدان ہے کیونکہ تربیت اساتذہ کے پروگراموں
میں ہم نصابی فعالیتوں کے موثر انتظام اور انعقاد کی تربیت نہیں دی جاتی اس لیے
تربیت اساتذہ کے پروگراموں میں ہم نصابی فعالیتوں کے انتظام و انصرام سے متعلق ایک
علیحدہ مضمون شامل نصاب کیا جائے۔
2)
لائبریری بہت سی ہم نصابی
فعالیتوں کا گہوارہ ہے ہمارے اکثر ثانوی مدارس میں کتب خانے انواع و اقسام کی
کتابوں کے سٹور ہیں۔ لہٰذا کتب خانہ میں کتابوں سے استفادے کا بہترین انتظام کیا
جائے اور تمام طلبا کو کتب خانہ سے استفادہ کا پابند کیا جائے۔
3) ہم نصابی سرگرمیاں آج بھی
غیر نصابی سرگرمیاں ہی تصور ہوتی ہیں۔ اس غلط تصور کو ختم کرنے کے لیے بورڈ کے
امتحانات میں ہم نصابی سرگرمیوں کے الگ نمبر رکھے جائیں۔
4)
سالانہ خفیہ رپورٹ(ACR)میں تدریسی
سرگرمیوں کے نتائج کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی ہم نصابی فعالیتوں کے فروغ میں دلچسپی
کے لیے علیحدہ کالم بنایا جائے۔
5)
ثانوی مدارس کے بین
المدارس مقابلہ جات (ٹورنامنٹ) جب قریب ہوتے ہیں تو ایک یا دوہفتے پڑھائی ختم کر
کے صرف کھیلیں کروائی جاتی ہیں جبکہ باقی پورا سال ہم نصابی فعالیتیں بالخصوص کھیل
شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں۔رئیس مدرسہ اور انتظامی افسران پورا سال ہم نصابی
فعالیتوں کے انعقاد کو یقینی بنائیں ۔باقاعدگی سے ان سرگرمیوں کی نگرانی اور
معائنہ کریں۔
6)
لڑکیاں معاشرتی رویوں کی
وجہ سے ہم نصابی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتیں لڑکیوں کو اسلامی احکامات کے مطابق
پردے کا اہتمام کرتے ہوئے ہم نصابی فعالیتوں کی ترغیب دی جائے۔
ہم نصابی
سرگرمیوں کے تعین یا انعقاد کے سلسلے میں اسلامی حوالے سے مندرجہ ذیل رہنما اصول
مد نظر رکھنے چاہئیں:
1)
اسلام ان تمام امور کو
جائزقرار دیتاہے جو ذکر الٰہی سے غفلت کا سبب نہ بنیں اور جن سے وقت کے ضیاع
کااحتمال نہ ہو۔
2) کھیلوں میں اسلامی ضابطہ
حیات کی پابندی ہو ۔
3)
شعر و شاعری میں بے ہودہ
اورمشرکانہ خیالات سے گریز کیا جائے۔
4)
ہم نصابی مشاغل کا اسلامی
احکام و حدود اور تقاضوں کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ان میں بے ہودگی، فحش کلامی،
عریانی اور فحاشی کے پروگرام قطعاً شامل نہیں ہونے چاہئیں۔
ہم نصابی
سرگرمیوں کے فائدے
ہم نصابی
سرگرمیوں کے بے شمار فائدے ہیں جن میں سے مندرجہ ذیل زیادہ اہم ہیں:
1.
فطری اور نفسیاتی تقاضوں
کی تکمیل
ہم
نصابی سرگرمیاں بچوں کی فطری اور نفسیاتی تقاضوں کو پورا کرتی ہیں۔ بچپن اور لڑکپن
کے ادوار میں بچوں کے اندر گروہ بندی کا جذبہ بہت شدید ہوتا ہے۔ وہ چھوٹے چھوٹے
گروہ تشکیل دے کر اپنا لیڈر چن لیتے ہیں اور مختلف قسم کی کھیلوں اور سرگرمیوں میں
حصہ لیتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے جوش، جذبے اور توانائی کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔
ہم نصابی سرگرمیاں مثلاً کھیل کود، سیرو تفریح، مطالعاتی دورے، ڈرامے، مباحثے اور
دیگر فنکشنز وغیرہ بچوں کے فطری تقاضوں کو پورا کر کے ان کو تسعید کا سامان مہیا
کرتی ہیں۔ اس طرح بچے اپنے جذبات کو مثبت راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔
2.
جسمانی نشوونما
ہم
نصابی سرگرمیاں بچوں کو جسمانی اور زہنی ورزش کا بہترین موقع فراہم کرتی ہیں۔ بچپن
کے زمانے میں بچوں کے جسمانی اعضاء بڑی تیزی سے بڑھتے ہیں ۔ اس دور میں ان کو
مناسب ورزش کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم نصابی سرگرمیاں مثلاً کرکٹ، ہاکی، فٹ بال، بیڈ
منٹن، والی بال، سٹیج ڈرامے، مباحثے، سیرو سیاحت اور مطالعاتی دورے نہ صرف بچوں کو
ذہنی دلچسپی کا سامان مہیا کرتی ہیں بلکہ ان کی جسمانی نشوونما میں بھرپور کردار
ادا کرتی ہیں۔
تھکن سے بچاؤ
کلاس
روم میں کئی کئی گھنٹے اساتذہ کے لیکچر سننے اور کتابوں کے مطالعہ میں مصروف رہنے
سے بچے تھکن اور بوریت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ان کو جسمانی اور ذہنی تھکاوٹ ہو جاتی
ہے۔ اس صورت حال میں ہم نصابی سرگرمیاں ان کے جوش و جذبے کو بیدار کرتی ہیں اور وہ
جسمانی اور زہنی طور پر دوبارہ چاک و چوبند ہو جاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ تفریح کا
وقفہ اور جسمانی ورزش کے پیریڈ بچوں کو تروتازہ کر دیتے ہیں۔
3.
معاشرتی تربیت
ہم
نصابی سرگرمیاں جیسے کھیلیں، ڈرامے، مباحثے، مطالعاتی دورے اور دیگر اجتماعی
فعالیتیں بچوں کو مل جل کر کام کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں ۔ ان سرگرمیوں سے طلبہ
و طالبات میں تعاون کے جذبات کو فروغ ملتا ہے اور ان میں ہمدردی، ایثار، مساوات
اور انصاف جیسے اوصاف پیدا ہوتے ہیں۔
4.
صلاحیتوں کی نشوونما
جہاں
نصابی سرگرمیاں سے بچوں کی ذہنی نشوونما ہوتی ہے وہاں ہم نصابی مشاغل ان بے شمار
خوابیدہ صلاحیتوں اور جوہروں کو منظر عام پرلاتے ہیں مثلاً:
v سکاؤٹنگ،
گرل گائیدنگ اور طبی امداد سے بچوں میں ہمدردی کے جذبات کو فروغ ملتا ہے۔
v
اجتماعی کھیلوں سے اشتراک عمل اور تعاون کے
جذبات پیدا ہوتے ہیں اور بچوں میں قائدانہ صلاحیتیں پیدا ہوتی ہیں۔
v مباحثوں
اور تقاریر سے بچے اچھے مقرر اور خطیب بنتے ہیں۔
v
کھیل
کود سے جسمانی نشوونما میں مدد ملتی ہے ۔ اس سے بچوں کی صحت اچھی رہتی ہے جیسے
مشہورمقولہ ہے کہ صحت مند جسم ایک صحت مند ذہن رکھتا ہے۔
v
ہم
نصابی مشاغل سے بچوں میں خود اعتمادی، وسیع القلبی، تعاون اور حوصلہ مندی کے اوصاف
پیدا ہوتے ہیں۔
v
بزم
ادب، سکول میگزین اور مطالعاتی دوروں سے بچوں میں تحقیق اور جستجو کے جذبات جنم
لیتے ہیں اور ان میں ادب سے لگاؤ پیدا ہوتا ہے۔
v سٹیج
ڈراموں اور ورائٹی شوز سے بچے اداکاری سیکھتے ہیں۔
v پہاڑی
مقامات پر سیرو تفریح سے بچوں میں کوہ پیمائی کا شوق پیدا ہوتا ہے۔
5.
نظم و ضبط کا قیام
چونکہ
تمام ہم نصابی سرگرمیاں باقاعدہ ایک منصوبہ بندی کے تحت تشکیل دی جاتی ہیں اور ان
میں طلبہ و طالبات کو چند قواعدو ضوابط کے تحت حصہ لینا ہوتا ہے ۔ اس لیے ان مشاغل
سے بچوں میں نظم و ضبط کے اوصاف پیدا ہوتے ہیں مثلاً کرکٹ، ہاکی، فٹبال اور ٹینس
جیسی کھیلوں میں کھلاڑیوں کو مخصوص قوانین پر عمل کرنا ہوتا ہے۔
6.
اخلاقی تربیت
ہم
نصابی سرگرمیاں بچوں کے اخلاق کو سنوارتی ہیں ۔ ان سے بچوں میں نہ صرف خوداعتمادی
اور حوصلہ افزائی جیسے اوصاف پیدا ہوتے ہیں بلکہ وہ کشادہ ذہن کے ساتھ زندگی کے
مسائل کا سامنا کرنا سیکھتے ہیں ۔ کھیلوں سے ان میں محنت، اطاعت، دیانت داری اور
نظم و ضبط جیسی خوبیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔
7.
اشتراک عمل اور تعاون کا
جذبہ
ہم
نصابی مشاغل میں بچے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا سیکھتے ہیں اور ان میں وسیع
القلبی اور خود اعتمادی جیسے اوصاف پیدا ہوتے ہیں ۔ اس طرح گروہی تحریکات سے بچوں
میں معاشرتی فہم و دراک پختہ ہو جاتا ہے۔
8.
جمہوریت کی تعلیم
ہم
نصابی سرگرمیاں کے باعث بچوں میں جمہوری اقدار کو فروغ ملتا ہے جس کے نتیجے میں وہ
ایک دوسرے سے مشورہ کرنا، تعمیری تنقید کرنااور اکثریت کے فیصلے کا احترام کرنا
اور اظہار خیال کرنا سیکھتے ہیں۔
9.
اپنی مدد آپ کا جذبہ
ہم
نصابی سرگرمیاں بچوں میں خود اعتمادی، بلند حوصلگی اور کام کرنے کا شوق پیدا کرتی
ہیں۔ بچے دوسروں پر انحصار کرنے کی بجائے اپنے مسائل خود حل کرنا سیکھتے ہیں۔
10.فرصت
کا صحیح استعمال
مشہور
مقولہ ہے: بے کار ذہن شیطان کا کارخانہ ہوتا ہے۔ ہم نصابی سرگرمیاں طلبہ و طالبات
کو مصروف رکھتی ہیں۔ وہ اپنی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کو با مقصد فعالیتوں پر صرف
کر سکتے ہیں۔ اس طرح بچوں کا وقت ضائع نہیں ہوتا اور وہ اپنے فرصت کے لمحات کا
صحیح استعمال کرتے ہیں۔ مشاہدات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچے کھیل کود، تفریحات،
ڈراموں، مباحثوں اور سیروسیاحت جیسی دیگر سرگرمیوں میں دلچسپی سے حصہ لیتے ہیں۔
11.
اساتذہ اور طلبہ و طالبات
کے تعلقات
ہم
نصابی سرگرمیاں طلبہ و طالبات کو اپنے اساتذہ کے ساتھ مل کر مختلف منصوبوں میں حصہ
لینے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ اس طرح اساتذہ کے قریب آکر ان کا شخصیت کا مطالعہ
کرنیاور مسائل کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ نتیجہ کے طور پر اساتذہ کی شفقت میں
اضافہ ہو جاتا ہے اور بچوں کے دل سے ان کا بے جا خوف نکل جاتا ہے۔ بچوں کی
کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے۔
12.قائدانہ
صلاحیتوں کی تربیت
ہم
نصابی مشاغل میں بچے گروہی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں جن میں مختلف کھیلیں ،
مباحثے اور
مطالعاتی دورے
وغیرہ شامل ہیں۔ ان سرگرمیوں میں بچے اپنے قائد کی قیادت میں حصہ لیتے ہیں اور
قائدانہ صلاحیتوں کی تربیت حاصل کرتے ہیں۔
13.شخصیت
اور کردار کی بھرپور تربیت
نصابی
سرگرمیوں کا دائرہ کار کمرہ جماعت تک محدود رہتا ہے جہاں طلبہ و طالبات نصابی کتب
کے مطالعہ سے علم حاصل کرتے ہیں مگر ہم نصابی مشاغل نہ صرف بچوں کے نفسیاتی تقاضوں
کو پورا کرتے ہیں بلکہ ان کی شخصیت اور کردار کی بھرپور نشوونما کرتے ہیں۔ ان سے
بچوں میں معاشرتی فہم پیدا ہوتا ہے ۔
14.
وفاداری کا جذبہ
ہم
نصابی سرگرمیوں کے ذریعے انٹر سکول مقابلوں میں بچے مختلف کھیلوں اور دیگر مشاغل
مثلاً ڈراموں، مباحثوں، تقاریر، بزم ادب، حسن قرات وغیرہ میں اپنے ادارے کی
نمائندگی کرتے ہیں ۔ ان مقابلوں میں مختلف سکولوں کے بچوں کا آمنا سامنا ہوتا ہے۔
جیتنے والے بچوں کو انعامات دیے جاتے ہیں۔ بچے بڑے فخر کے ساتھ یہ اعزازات وصول
کرتے ہیں ۔ کامیاب ہونے والے بچوں اور ان کے اداروں کو شہرت ملتی ہے۔ اس طرح بچوں
میں اپنے ادارے سے وفاداری کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔
مدرسے
کا مقصد محض کتابی کیڑے پیدا کرنا نہیں بلکہ ایسے افراد پیدا کرناہے جواخلاقی
قدروں کی حفاظت کرتے ہوئے انہیں بلندسے بلند معیارعطاکر سکیں ۔ ہمارے ہاں تعلیمی
اداروں بالخصوص ثانوی مدارس میں ہم نصابی سرگرمیوں کو ایک بوجھ ، زائد تفویض کار
اور وقت کاضیاع سمجھا جاتا ہے۔ ہم نصابی سرگرمیوں کو نصاب کا حصہ سمجھتے ہوئے اس
بات کی شدید ضرورت ہے کہ ان سرگرمیوں کی تنظیم نو کی جائے۔ اساتذہ ،طلبا اور
والدین ان سرگرمیوں کی افادیت کو سمجھتے ہوں تاکہ ان سے بہتر طور پر استفادہ کیا
جا سکے۔ن قابل فہم اور آسان ہونی چا ہیے ۔
از
مالک خان سیال















