ماتحتوں کے لیے

کسی قدر بڑے کاروبار کا آغاز کرتے ہی کام کی آسانی اور بہتری کے لیے آپ کو ملازمین کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ ملازمین رکھتے ہی اس لیے ہیں کہ وہ کاروبار کو ترقی دینے میں آپ کے معاون بنیں اور آپ ترقی کی منزلیں طے کرتے چلے جائیں۔ آپ کی کوشش اور چاہت بھی ہوتی ہے کہ ملازمین جان توڑ محنت کریں اور آپ کا بزنس آئیڈیا جلد از جلد بامِ عروج تک پہنچ جائے۔ آپ کی سوچ بجا ہے، لیکن ملازمین بھی اپنے لیڈر اور باس کی طرف دیکھتے ہیں۔
اگر وہ ڈھیلا ڈھالا ہے تو ملازمین بھی خود بخود سست پڑ جاتے ہیں۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کا باس اپنے مقصد اور ہدف کے حصول میں مخلص ہے اور اس کے لیے سخت جدوجہد کرتا ہے تو وہ بھی اپنی صلاحیتیں آپ کے لیے کھپا دیتے ہیں۔ وہ کون سی صفات اور خوبیاں ہیں، جو ملازمین آپ میں دیکھنا چاہتے ہیں :
1.     چیلنج قبول کرنا 
لیڈر ہمیشہ بہادر اور جرأت مند ہوتا ہے۔ مشکل حالات کا وہ ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے۔ درپیش چیلنجز کو قبول کرتا اور دیانت داری کے ساتھ ان سے نبردآزما ہوتا ہے۔ جب آپ کاروبار کی دنیا میں ہوتے ہیں تو روزانہ آپ کو چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے مواقع پر ملازمین بھی آپ کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ آپ کیا اقدام اُٹھاتے ہیں۔ ان حالات میں تبصرے اور فضول باتوں میں وقت ضائع کیے بغیر اپنے ملازمین کے سامنے درپیش صورتِ حال کو رکھیں اور ان کے ساتھ مل کر کام کریں، وہ آپ کے دست و بازو بنیں گے۔ غزوۂ خندق کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے چیلنج قبول کیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مل کر خندق کھودی۔ 
2.     اعتماد
ملازمین اس وقت اپنی وفاداری دکھاتے ہیں، جب اُن پر اعتماد کیا جائے۔ آپ ان پر بھروسہ کرتے ہیں تو وہ مزید جذبے اور جوش و خروش کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ ملازمین کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ صرف آپ اپنے کام سے کام نہ رکھیں، بلکہ اپنے ملازمین کے گھریلو حالات کے بارے میں بھی پوچھیں۔ اگر وہ کسی پریشانی کا شکار ہیں تو وہ دور کریں۔ انہیں بچوں کی تعلیم کے مسائل درپیش ہوں تو وہ حل کریں۔ وہ بیمار وغیرہ ہوں تو ان کی عیادت کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے دوسروں کے کام کے لیے نماز جیسے اہم فریضے کو تھوڑی دیرکے لیے مؤخر کر دیا۔ اگر آپ صبح کے وقت مریض کی عیادت کرتے ہیں تو ستر ہزار فرشتے آپ کے لیے مغرب تک مغفرت کی دعا کرتے ہیں اور اگر شام کو بیمار پُرسی کے لیے جاتے ہیں تو صبح تک دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح ملازمین سے کسی کام کے دوران غلطی سرزد ہوجائے تو انہیں ڈانٹنے یا غصے ہونے کے بجائے پیار بھرے لہجے میں سمجھائیں کہ کام ایسے کیا جاتا تو درست ہوتا یا اس طریقے سے کام ہوتا ہے، وغیرہ۔ 
3.     یقین
جب بھی آپ کوئی کاروباری فیصلہ یا کام کرنے لگیں تو اس میں آپ کو پختہ یقین ہونا چاہیے۔ اگر آپ کو اس کام میں شک اور شبہہ ہے تو پھر وہ کام نہ کریں۔ آپ کو تو اس کام میں یقین نہیں ہے اور اپنے ملازمین کووہ کام کرنے کا کہہ رہے ہیں تو وہ کیسے اس کام کو اعتماد اور یقین کے ساتھ کریں گے؟ اسی طرح جب آپ مشاورت وغیرہ کے بعد فیصلہ کر لیں تو اس پر ڈٹ جائیں اور اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اس کام میں لگ جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو تعلیم دی کہ جب باہم مشورے کے نتیجے میں کسی کام کا فیصلہ کر لیں تو اللہ پر توکل کرتے ہوئے اس کام میں جُت جائیں اور اس کا نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں۔ 
4.     عزت و احترام 
جب آپ باس یا لیڈر بن جاتے ہیں تو آپ کی خواہش ہوتی ہے کہ ملازمین اور دوسرے لوگ آپ کی دل و جان سے عزت و احترام کریں۔ اس کا بہترین اور آسان حل یہ ہے کہ آپ دوسروں کی عزت کرنا شروع کر دیں۔ عزت و احترام ایسی چیزیں ہیں، جو جانبین سے تقاضا کرتی ہیں۔ ملازمین پیسے سے زیادہ کمپنی میں عزت کو دیکھتے ہیں۔ اگر ایک کمپنی میں ان کی عزتِ نفس مجروح ہو رہی ہے یا ان کو رسوائی اور ذلت کا سامنا ہے تو وہ کبھی بھی اس کمپنی یا فیکٹری میں نہیں ٹھہرتے۔ ملازمین آپ کے بھائی ہیں۔ ان کے ساتھ بھائی چارے اور اخوت کا معاملہ کیا جائے۔ غریب لوگ پیسے کو اتنی اہمیت نہیں دیتے ہیں، جتنا وہ عزت و احترام کو مقام دیتے ہیں۔ آپ ان کے ساتھ عزت و شفقت کے ساتھ پیش آ کر دیکھیں تو سہی، یہ آپ پر جان نچھاور کریں گے۔ 
5.      سیکھتے رہنا
بہترین لیڈر اور باس وہ ہوتا ہے، جو ہمیشہ نئی نئی چیزیں سیکھنے کی جستجو میں رہتا ہے۔ وہ نئے آئیڈیے کی تلاش اور نت نئی معلومات کی کھوج میں لگا رہتا ہے۔ جب آپ سیکھنے میں دلچسپی اور محنت کرتے ہیں تو ملازمین بھی سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ ان کے لیے مثال اور نمونہ ہوتے ہیں کہ اتنے بڑے عہدے پر ہو کر بھی آپ مزید آگے بڑھنے کی سوچ رکھتے ہیں، وہ بھی آپ کو دیکھ کر ترقی کی راہ ہموار کرنے کے لیے تگ و دو کرنے لگتے ہیں۔ یہ صرف ملازمین کے لیے مفید نہیں، بلکہ آپ کے کاروبار اور کمپنی کے لیے بھی کارآمد ہے۔

از
انعام اللہ بھکروی

گرمیوں کی چھٹیوں میں مطالعاتی دورہ



کامیابی کا سفر مختصر نہیں ہوتا

امریکا کے اس نوجوان کے لیے جنوری کی ایک عام رات تھی، سرد، اداس اور اجنبیت لیے ہوئے۔ وہ ایک سائنس کا طالب علم تھا، مگر اسے بزنس پڑھنے کا جنون تھا۔ کاروبار سے اسے بے حد دلچسپی تھی، مگر کبھی اس نے تجارت کے لیے عملی قدم نہیں اٹھایا تھا۔ وہ دنیا کے معروف کامیاب تاجروں کی داستانیں پڑھتا اور لطف اٹھاتا… اور بس۔ ایک دو بار کسی دوست نے اسے کہا کہ تم بزنس کے بارے میں اتنا پڑھتے ہوں اور اٹھتے بیٹھے اس کا تذکرہ کرتے رہتے ہو، کبھی خود بھی کوئی کاروبار کرو، نوجوان یہ سن کر ہنس دیا۔ اس نے کہا یہ میرے بس کی بات نہیں۔ پھر اس کی زندگی میں ایک ایسی رات اتری، جس نے اس کی زندگی اور تقدیر بدل ڈالی۔
ایک رات اس کے دوست نے بزنس کی ایک کتاب پڑھنے کو دی۔ نصف شب کو اپنے خستہ حال بستر پر لیٹ کر اس نے کتاب پڑھنا شروع کی۔ اس میں بیسویں صدی کے ہنری فورڈ جو فورڈ کمپنی کا بانی تھا، کے ابتدائی ایام اور حالات ذکر کیے گئے تھے کہ وہ ایک کسان کا بیٹا ہو کر کس طرح کمپنی بنانے میں کامیاب ہوا۔ یہ پڑھ کر نوجوان کے جوش اور ولولے نے انگڑائی لی۔ اس نے سوچا، اچھا تو بزنس یوں بھی کیا جا سکتا ہے۔ اگلی صبح اس نے فیصلہ کیا کہ سائنس دان بننے کے بجائے اس نے بزنس مین بننا ہے۔ اس کے لیے تقریباً دو سال بزنس کے موضوع پر لکھی گئی کتابوں کو پڑھتا رہا اور مختلف تاجروں سے ملتا رہا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ بزنس کس طرح شروع کرے، حالانکہ وہ تو سائنس کا طالب علم ہے۔ تعلیم اور بزنس ایک ساتھ کیسے چل سکتے ہیں؟ یہ دو باتیں اس کے لیے بزنس کا سفر طے کرنے میں رکاوٹ بن جاتی تھیں،لیکن اس نے بڑے بڑے تاجروں کے بارے میں پڑھ اور سُن رکھا تھا۔ یہ بھی بڑا تاجر بننا چاہتا تھا۔ آخر کار یہ جذبہ اور جوش و خروش رکاوٹوں کے پہاڑ کاٹنے میں کامیاب ہوگیا۔ 
اس نے دنیا کے مشہور اور معروف تاجروں کے ابتدائی حالات پڑھے تو اسے اندازہ ہوا کہ بڑا بزنس کرنے لیے اس کی ابتدا چھوٹے پیمانے سے کرنی پڑتی ہے۔ اب اس نے مرغیوں کے انڈے بیچنے شروع کر دیے۔ اس کی توقع سے کہیں زیادہ یہ کام نفع بخش ثابت ہوا۔ کچھ عرصے اس کام کو کرتا رہا۔ اس کے سود مند ہونے کو دیکھ کر ایک اور قدم اٹھایا کہ مرغیوں کے انڈوں کے ساتھ اب مرغیوں کی خرید و فروخت بھی کرنے لگا۔ اپنے اس بزنس کے لیے اس کی کوششیں مزید تیز ہو گئیں۔ وہ اسکول سے واپسی پر مختلف ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کے چکر لگاتا۔ ان سے کاروباری تعلق استوار کرتا اور پھر اس کو برقرار رکھنے کے لیے ایک مستقل محنت کرتا۔ وہ جانتا تھا کہ کسی کو گاہک بنانے کے لیے کتنے پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں۔ جب یہ کاروباری تعلق بن جائے اور پھر ٹوٹ جائے، یہ کسی بھی بزنس اور بزنس مین کے لیے ایک جانکاہ حادثہ ہوتا ہے۔ 
اس کا اگلا پڑاؤ امریکا کے شمالی علاقے تھے، جن کے بارے میں اس نے سنا کہ یہاں مرغیوں کا بزنس عروج پر ہے۔ اس نے اپنی قسمت چمکانے کے لیے ادھر کا رُخ کیا۔ یہاں اس کے لیے بزنس کے دَر کھلتے چلے گئے۔ روز بروز کاروبار ترقی کا سفر طے کرنے لگا۔ چھوٹے سے بڑے پیمانے پر کاروبار لانے کے لیے یہ مختلف طریقے اور کاوشیں کرتا۔ سارا دن کام کرتا۔ جسم تھکن سے چور ہو جاتا۔ رات کو نیند کی اشد ضرورت ہوتی تھی، لیکن یہ کچھ تاجروں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی باتیں سنتا۔ وہ تجارت کے موضوع پر بحث مباحثہ کرتے۔ ہر ایک اپنا تجربہ اور مشاہدہ بیان کرتا۔ اس طرح رات کا اکثر حصہ بیت جاتا۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا کہ باتوں باتوں میں صبح طلوع ہو جاتی اور انہیں وقت گزرنے کا احساس بھی نہ ہوتا۔ یہ اس کی زندگی کا معمول بن گیا۔ اسے یہاں سیکھنے کے لیے وہ انوکھی باتیں مل رہی تھیں جو کئی کتابیں پڑھنے سے نہ مل پاتیں۔ 
اس نے اپنے تجارتی سفر کو کو رُکنے نہیں دیا بلکہ ہمیشہ جاری رکھا۔ اس سفر میں رکاوٹیں بھی تھیں۔ مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ کبھی حالات کے تھپیڑے بزنس پر اثر انداز ہوتے، اس کی تیز رفتاری کو سست روی کا شکار بنا دیتے، لیکن یہ ان سے گھبرا کر پیچھے ہٹنے والا نہ تھا۔ قدرت بھی اس پر مہربان ہوتی رہی۔ 
1940ء میں اس نے مرغیوں کا ایک فارم خریدا۔ مرغیوں کی فارمنگ انڈسٹری کا میدان ابھی تک خالی پڑا تھا۔ کسی بزنس مین نے اس کی طرف کوئی خاص توجہ نہ دی تھی۔ اس نے اکھاڑے میں اُترنے میں دیر نہ کی اور یہ بھی اس کے لیے کار آمد ثابت ہوا۔ اس طرح ایک نئی انڈسٹری کی داغ بیل اس کے ہاتھوں پڑ گئی۔ 
1947 ء میں اس نے ’’Tyson‘‘ نامی کمپنی کی بنیاد رکھی۔ اس کے ایک حصے میں چکن فارمنگ تھی۔ دوسرے میں دیگر فارموں کو مرغیاں اور ان کی غذا وغیرہ سپلائی کرنے کا سیٹ اپ موجود تھا۔ ہر آنے والا دن اس کے لیے ترقی کی نویدلے کر طلوع ہوتا۔ 1950 ء میں اس کی کمپنی سے سالانہ 5 لاکھ مرغیوں کی پیداوار ہوئی۔ اس کا کاروباری سفر امریکا کے شہر آرکنساس سے ہوتا ہوا دنیا بھر میں بڑھتا چلا گیا۔ اس سفر ’’Tyson‘‘ نے اسے امریکا ایک بڑا بزنس مین بنا دیا۔ آج دنیا اسے جوہن ٹائی سن کے نام سے جانتی ہے۔ 
ٹائی سن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ لوگ مجھے کامیاب بزنس مین سمجھتے ہیں۔ یہ درست ہے، مگر اس کامیابی کے پیچھے ایک طویل مدت… برسوں کی محنت شاقہ کار فرما ہے۔ ان سب کا پھل میری کمپنی ’’Tyson‘‘ میں ملا۔ کامیابی کا راستہ کبھی مختصر نہیں ہوتا۔
از
انعام اللہ بھکروی

اچھا طالب علم کیسے بنا جائے؟

پرائمری سے اعلی تعلیم تک کے تمام مراحل میں پڑھنے والے کی ساری توجہ اس بات پر ہوتی ہے کہ وہ ایک اچھا اور قابل طالب علم کیسے بن سکتا ہے؟یہ بات وہ بچے یا نوجوان سوچتے ہیں جنہیں پڑھنے میں نہ صرف دلچسپی ہوتی ہے بلکہ وہ زندگی میں کچھ کر دکھانے یا بننے کی لگن سے مالا مال ہوتے ہیں۔ علم کی اہمیت اور افادیت سے کسی دور میں بھی انکار نہیں رہا، ایک باشعور اور ذہین طبقہ ہمیشہ اس امر کی حمایت کرے گا کہ تعلیم انسان کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ وہ نوجوان یا بچے جو اپنی پڑھائی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور اپنی کلاس کا سب سے بہترین سٹوڈنٹ بننا چاہتے ہیں، ان کے لئے کچھ آزمودہ نسخے پیش کئے جا رہے ہیں، جن پر عمل کرکے ایک اچھا طالب علم ضرور بنا جا سکتا ہے۔
رویہ: ایک طالب علم اپنے رویے سے یہ بات بتاتا ہے کہ وہ کتنا اچھا طالب علم ہے، اس کی سب سے اہم خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف اپنے نصاب میں دلچسپی رکھتا ہے بلکہ وہ دوسر ے موضوعات کی کتابیں بھی پڑھنا چاہتا ہے۔
تعلیمی دلچسپی: کسی بھی اچھے طالب علم کی یہ سب سے اہم خوبی ہوتی ہے کہ اس کے اندر پڑھائی میں دلچسپی کا معیار کس حد تک ہے۔ صیحح تلفظ کے ساتھ ریڈنگ،الفاظ کا ذخٰیرہ،لکھنے میں دلچسپی،کلاس میں مکمل اعتماد کے ساتھ گفتگواور اپنی بات کو دوسرں تک پہچانے کا فن، یہ تمام وہ نسخے ہیں جن پر ایک اچھے طالب علم کو پورا اترنا چائیے۔
قابلیت: اپنے نصاب کے علاوہ دیگر پروجیکٹس یا تعمیری سرگرمیوں میں دلچسپی اسے اچھا طالب علم ثابت کرسکتی ہے۔ ایک اچھا طالب علم بننے کے لئے مندرجہ زیل باتوں پر عمل کرنا ازحد ضروری ہے۔
٭… ایک طالب علم کی پڑھائی پر بہت سارے اخراجات اٹھتے ہیں، اس لئے یہ ضروری ہے کہ ان پیسوں کو ضائع نہ کیا جائے اور اپنی پڑھائی میں دلچسپی پیدا کی جائے۔ دوران تعلیم ہر ممکن طور پر یہ کوشش کریں کہ آپ اپنی کلاس سے غیر حاضر نہ ہوں۔ روزانہ کلاس لینے والا طالب علم کبھی ٹیچر کے لیکچر کومس (چھوڑنا) نہیں کرتا اور وہ اپنی کلاس میں اپنے اساتذہ کے ساتھ اپ ٹو ڈیٹ رہتا ہے۔ صرف حاضری لگانے کے لئے روزانہ کلاس نہ لی جائے بلکہ اس کا مقصد تعلیم اور کچھ نہ کچھ سیکھنا ہونا چاہیے۔
٭… وہ طالب علم جن میں خود اعتمادی کی کمی ہوتی ہے اور وہ کسی سے بھی بات کرتے وقت گبھراتے ہیں یا اگر ٹیچر کلاس میں ان سے کوئی سوال پوچھ لے تو ان کے ہاتھ پاؤں کانپنے لگتے ہیں، ان سب کی بنیادی وجہ ان کا شرمیلا پن اور اعتماد کی کمی ہوتا ہے۔ ایسے طالب علموں کے لئے ضروری ہے کہ وہ کلاس میں سب سے پہلی قطار میں بیٹھیں ابتداء میں اپنے اس عمل میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن ایک ذرا سی کوشش سے وہ اپنی اس خامی پر قابو پا سکتے ہیں۔
کلاس میں سب سے پہلی قطار میں بیٹھنے سے طالب علم کی مکمل توجہ صرف اس کی تعلیم پر ہوتی ہے۔ وہ ٹیچر کی نظروں کے سامنے رہتا ہے، وہ با آسانی سب سن سکتا ہے اور بورڈ پر لکھا جانے والا مواد آسانی سے دیکھ سکتا ہے۔ اپنے ٹیچر کے سامنے رہنے سے آپ کے اعتماد میں اضافہ ہوگا اور جب ٹیچر کو بھی اس بات کا اندازہ ہو گا کہ آپ کی ساری توجہ صرف اپنی اسٹڈی پر ہے تو پھر وہ آپ پر زیادی توجہ دینے لگے گا کیونکہ اپنی پڑھائی میں دلچسپی لینے والے طالب علم سے اساتذہ ضرور متاثر ہوتے ہیں۔
٭… دوران لیکچر اگر آپ کو کوئی بھی بات یا پوائنٹ سمجھ میں نہیں آ رہا تو اس سے متعلق اپنے ٹیچر سے فورا سوال کریں۔ اگر آپ پہلی قطار میں بیٹھیں ہیں اور ٹیچر کی نظروں میں بھی ہیں، تو آپ کے چہرے کے تاثرات کو دیکھ کر استاد کو اس بات کا فورا ادراک ہوگا کہ ان کے لیکچر میں آپ کسی بات کو ٹھیک طرح سے سمجھ نہیں پارہے ہیں۔ اگر کلاس کے دوران کسی وجہ سے سوال نہیں پوچھ پا رہے، توآپ اس پوائنٹ کو نوٹ کر لیں اور کلاس ختم ہوجانے کے بعد اپنے ٹیچر سے سوال پوچھ کر اپنی الجھن کو ضرور رفع کرلیں۔ یہ ضروری ہے کہ دوران کلاس اپنی اسٹڈی میں مکمل توجہ رکھی جائے ۔
٭… ایک اچھا طالب علم وہ ہوتا ہے جو نہ صرف اپنے تعلیمی ادارے میں بلکہ گھر پر بھی اپنی تعلیم کو پورا وقت دیتا ہے۔ اس مقصد کے لئے گھر کے کسی ایسے حصے کا انتخاب کیا جاسکتا ہے، جہاں شور شرابہ اور کسی قسم کی دخل اندازی نہ ہو۔ مختلف طالب علم پڑھائی کے دوران کسی دوسری سرگرمی میں بھی مصروف رہتے ہیں جو کہ غلط ہے گھر والوں کو بھی اس بات کابہ خوبی احساس دلایا جائے کہ وہ دوران اسٹڈی آپ کو بالکل ڈسٹرب نہ کریں۔
٭… یہ ضروری ہے کہ اپنے تعلیمی ادارے میں صرف کورس یا نصاب کی کتابوں اور اساتذہ کے لیکچر پر ہی انحصار نہ کیا جائے بلکہ متعلقہ مضمون کی مناسبت سے انٹرنیٹ یا لائبریری میں موجود دوسری کتابوں سے ضرور استفادہ کیا جائے، اس سے آپ کی تعلیمی استعداد میں اضافہ ہوگااور عام معلومات بھی بڑھیں گی۔
٭…کلاس میں ہونے والے ماہانہ یا پھر سالانہ امتحان سے پہلے اس کی تیاری کے لئے ایک ایک سوال نامہ آپ خود اپنے لئے تیار کریں اور بڑی ایمانداری سے امتحان دیں، کیوں کہ خود کو جانچنے کا یہ سب سے بہترین طریقہ ہے۔ اس عمل سے نہ صرف امتحان کی تیاری شاندار ہو گی بلکہ آپ کا اعتماد بھی بڑھے گا۔
از
نرگس ارشد رضا

پانچ ایسے کاروبار جن کے لیے سرمائے کی ضرورت نہیں


آج دنیا بھر کے لوگ ملازمت کے بجائے اپنے کام کو ترجیح دے رہے ہیں، اپنے کام میں بھی اسٹارٹ اپ کا آئیڈیا سب سے زیاد ہ فروغ پا رہا ہے ، اس کی سب سے اہم وجہ ترقی کے بے پناہ مواقع اور آزادی کا احساس ہے جو کہ ملازمت کرتے ہوئے آپ کو کبھی میسر نہیں آسکتا۔
اس آرٹیکل میں ہم آپ کو پاکستان کے کاروباری ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے بتائیں گے کہ وہ کون سے ایسے کام ہیں جو آپ بغیر سرمائے کے ، یا انتہائی قلیل سرمائے کے شروع کرسکتے ہیں۔ اپنا کام شروع کرنے کی راہ میں سب سے پہلے جو شے آڑے آتی ہے وہ آپ کی ملازمت ہے ، کاروبار شرو ع کرنے سے پہلے آپ کو اپنے وقت کو منظم کرنا ہوگا کہ ابتدا میں نوکری کےساتھ اپنے کام کے لیے معقول وقت نکال سکیں۔
اپنے کاروبار اوراسٹارٹ اپ میں فرق
کاروبار اور اسٹارٹ اپ درحقیقت ایک ہی کام کے دو مختلف پہلو ہیں ، کچھ بھی کرنے سے پہلے آپ کو اپنے ماضی اور حال کی صلاحیتوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ کاروبار یہ ہے کہ آپ پہلے سے موجود کسی بھی شعبے میں کام کرنا شروع کردیں اور اسے آگے بڑھائیں جیسا کہ آن لائن بزنس سب ہی کررہے ہیں ، آپ بھی کچھ پراڈکٹس میدان میں لے آئیں اور اپنا روزگار کمانا شروع کردیں۔
کاروبار کرنے کا دوسراپہلو یہ ہے کہ آپ کسی ایسے خیال پر کام کریں جسے اس سے پہلے کسی نے نہ برتاہو، یعنی اگر آپ آن لائن کام کرنا چاہتے ہیں تو کوئی ایسی پراڈکٹ متعارف کرائیں جو کہ اس سے قبل کوئی فروخت نہ کررہا ہو، یہ اسٹارٹ اپ ہے یعنی ایسا خیال جو آئندہ کے لیے مشعلِ راہ بنے اور لوگ آپ کے آئیڈیا کو فالو کریں۔
آن لائن خرید و فروخت
آج کی دنیا آپ کے ہاتھ کی ہتھیلی پر دھرے اینڈرائڈ فون میں سمٹی ہوئی ہے، آن لائن خرید و فروخت ہورہی ہے۔ ایسے میں کسی بھی شخص کے پاس بے پناہ مواقع ہیں کہ وہ فیس بک ، انسٹا گرام اور واٹس ایپ کے ذریعے اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ کرسکے۔ اب آپ کے سامنے دو آپشن ہیں، یا تو اگر آپ کوئی شے خود بنا رہے ہیں تو اسے آن لائن فروخت کے لیے پیش کریں ۔ بصورت دیگر آپ مارکیٹ میں سے کوئی ایسی منفرد شے اٹھا کر فروخت کرسکتے ہیں جو آپ کے مدمقابل فروخت نہ کررہے ہوں ، یا ان کی فروخت کم مقدار میں کی جارہی ہو۔ آپ کو کرنا یہ ہوگا کہ اپنی پراڈکٹ مختلف آن لائن کمپنیوں کے ساتھ رجسٹر کرائیں ۔
یاد رکھیں پاکستان میں ڈیجیٹل مارکیٹ پر حکومتی کنٹرول نہ ہونے کے سبب یہاں دھوکہ دہی بہت زیادہ ہے، آپ اپنی جگہ تب ہی بنا سکیں گے جب آپ معیار پر سمجھوتا نہیں کریں گے ، ایک بار جس صارف کو آپ نے معیاری پراڈکٹ ڈیلیور کردی ، وہ با ر بار آپ کے پاس آئے گا۔
ایونٹ مینجمنٹ
پاکستان میں ایونٹ مینجمنٹ ایک ایسا کاروبار ہے جس میں ترقی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں، لیکن ا س کو شروع کرنے سے قبل بہترین مارکیٹ اسٹڈی اور تعلقات ضروری ہیں، بہتر ہے کہ کچھ عرصہ کسی ایونٹ مینجمنٹ کمپنی میں ملازمت کی جائے اور اس کے بعد اپنے کام کا آغاز کیا جائے۔
ایونٹ مینجمنٹ کا کام شروع کرنے سے پہلے یقین کرلیں کہ آیا آپ ایک اچھے منتظم ہیں، کام کی منصوبہ بندی اور اسے بروقت انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو یہ شعبہ آپ کے لیے ہے۔ اپنے ساتھ کچھ لوگوں کو ملائیے ، انہیں کام بانٹیں اور کام کا آغاز کریں۔ ابتدا آپ کو اپنےعزیز و اقارب اور احباب کی تقاریب مینج کرکے کرنا ہوگی، اس کے بعد آپ کے پاس کام آنا شروع ہوجائے گا۔
آپ کا فوٹو گرافرز، مووی میکرز، ساؤنڈ ، اسپاٹ لائٹ، کیٹرنگ اور ڈیکوریشن کے شعبے سے وابستہ افراد سے مضبوط تعلق ہونا ضروری ہے ، اس کے بغیر آپ اس کام میں آگے نہیں بڑھ سکتے۔
سروسز
آج کی دنیا میں شہروں کے رہنے والوں کے پاس جس چیز کی سب سے زیادہ قلت ہے وہ وقت ہے، اگر آپ خود کوئی ہنر جانتے ہیں جیسے الیکٹریشن، پلمبگ وغیرہ تو کیا ہی بات ہے، اگر ایسا نہیں بھی ہے تو بطور منتظم آگے آئیں ، اپنے ہمراہ مختلف شعبہ جات کے ماہرین کو ملائیں جن میں الیکٹریشن، پلمبر، کار مکینک، الیکٹرانک اشیا کی مرمت کرنے والے، فریج اے سی کی مرمت کرنے والے شامل ہوں۔ ان لوگوں کی ٹیم کے ساتھ اپنے حلقہ احباب سے کام شروع کریں اور مناسب دام میں یہ ساری سہولیات لوگوں کو گھر بیٹھے مہیا کریں، بس ایک بار کلائنٹ کو مطمئن کرنا ہے ، اس کے بعد کام خود آئے گا اور آپ کو ہرمہینے اپنا اسٹاف بڑھانا پڑے گا۔
کاروباری مشاورت
جیسا کہ آج ہر شخص اپنا کاروبار کرنا چاہتا ہے لیکن اس کے پاس اس کام کے لیے ضروری معلومات موجود نہیں ہوتی۔ اگر آپ کسی کاروباری ادارے سے طویل عرصے سے وابستہ ہیں اور اس کام کی وسیع نالج اور تجربہ رکھتے ہیں توآپ ایک بہت اچھے بزنس کاؤنسلر بن کر نہ صرف نئے بزنس کاروباری افراد کو ٹرینڈ کر سکتے ہیں بلکہ ایک اچھا منافع کما سکتے ہیں۔
آپ یہ بھی کرسکتے ہیں کہ مارکیٹ تک ان نئے کاروباریوں کی رہنمائی کریں اور انہیں مناسب دام پر چیزیں دلوا کر اپنا کمیشن حاصل کریں۔
یو ٹیوبنگ
آج کے نوجوانوں میں یو ٹیوبنگ ایک انتہائی مقبول شے ہے ، یونی ورسٹی میں زیرِ تعلیم ہر طالب علم چاہتا ہے کہ وہ یوٹیوبنگ شروع کرے اور راتوں رات مشہور بھی ہوجائے اور امیر بھی۔ ایسا نہیں ہے جناب اگر آپ دیکھیں تو یوٹیوب پر جو لوگ آج بہت مشہور ہیں ، انہوں نے ماضی میں بہت محنت کی ہے ، وہ جس موضوع پر ویڈیو بناتے ہیں ان کے پاس اس کی وسیع نالج ہوتی ہے۔
اگر آپ کسی شعبے میں مہارت رکھتے ہیں تو اس شعبے سے متعلق ویڈیوز بنا کر انہیں یوٹیوب کی نذ ر کریں اور پھر سوشل میڈیا پر اس کی اچھی سی مارکیٹنگ کریں ۔ اگر آپ کی پیشکش میں دم ہوگا تو کوئی بعید نہیں کہ جلد ہی آپ کا چینل چل پڑے اور لاکھوں لوگ آپ کے سبسکرائبر بن جائیں۔

میں کیسے کاروبار کروں

اکیسویں صدی جہاں دنیا بھر میں مختلف رجحانات لیے نمودار ہوئی ہے، وہیں آج کا طالب علم اس فکر سے آزاد ہے کہ ہاتھ میں ڈگری آئے تو ملازمت کے لیے بھاگ دوڑ شروع کی جائے۔ ہمارے کتنی ہی طالب علم ایسے ہیں، جو پڑھائی کےساتھ ساتھ کم عمری میں روزگار بھی حاصل کررہے ہیں، چاہے وہ کام چھوٹے پیمانے پر ہی شروع کیوں نہ کیا گیاہو۔ لیکن اپنا کام کرنے کے دوران جو سب سے پہلی مشکل طالب علموں کو پیش آتی ہے، وہ ایک باقاعدہ آفس کا نہ ہونا ہے۔ کیریئر کے آغاز اور سرمائے کی قلت کے سبب اکثر افراد یہ سوچ کر اپنا کاروبار شروع نہیں کرتے کہ آفس کہاں سےآئے گا؟ اگر کرائے پرآفس لیا جائے تو ہر ماہ ہزاروںروپے کا کرایہ کیسے ادا کیا جائے گا ۔بطور طالب علم کسی بھی کاروبار کے آغاز میں اگر آپ اس مشکل کا شکار ہیں تو ایسا کاروبار کرنے کا سوچیں، جو بغیرآفس ہی آپ کو کامیابی کی جانب راغب کرسکے۔ اب آپ یقیناً یہ سوچ رہے ہوں گے کہ ایسے کام کون سے ہیں، جن کو آفس کے بغیر شروع کیاجاسکتا ہے، آئیے جانتے ہیں۔
آن لائن بزنس
دنیا کی آبادی تیزی سے آن لائن کاروبار کی جانب منتقل ہورہی ہے اور اب اس مارکیٹ کو دنیا کی سب سے بڑی کاروبار ی مارکیٹ بھی کہا جارہا ہے۔ آن لائن دنیا بہت ہی وسیع ہے، صرف اس لحاظ سے نہیں کہ یہاں آپ کو ہر قسم کی معلومات اور ہر طرح کی انٹرٹینمنٹ کا سامان میسر آتا ہے بلکہ یہاں کیا جانے والا کاروبار اس نوعیت کا ہوتا ہے، جس کے لیے آپ کوعام بزنس کی طرح ملازمین سے بزنس آئیڈیاز شیئر کرنے یا ان کی کارکردگی جانچنے کے لیےکسی آفس کی ضرورت نہیں پڑتی۔
ویڈیو بلاگنگ
وی بلاگنگ یا ویڈیو بلاگنگ ایک ایسا کاروبار ہے، جس کےلیے آپ کو نہ ہی زیادہ سرمائے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی آفس کی چار دیواری کی۔2003ء میں گوگل نے ویڈیو بلاگنگ کا آغاز کیا۔ آپ کا اسمارٹ فون،ٹیبلٹ یا آپ کےلیپ ٹاپ کا کیمرہ ہی اس کاروبارکا سرمایہ ثابت ہوتا ہے۔ اگر آپ کے پاس ایک اچھے کیمرے والا لیپ ٹاپ،اسمارٹ فون یا پھر ٹیبلٹ موجود ہے، تو آپ مختلف موضوعات پر ویڈیوز بناکر انہیں یوٹیوب پر اَپ لوڈ کرسکتے ہیں۔ یہ ویڈیو ز کسی بھی ہنر یا پھر کسی بھی موضوع پر بنائی جاسکتی ہیں اور ان پر اشتہارات کے ذریعے آپ لاکھوں کماسکتے ہیں۔
ایونٹ مینجمنٹ
کیا آپ کے اندر ایک اچھا ایونٹ آرگنائزر موجود ہے یا آپ کی ماسٹرز کی ڈگری ایونٹ مینجمنٹ کی ہے؟ کیا آپ اس بات پر پُراعتماد ہیں کہ آپ ایک ایونٹ کے لیے پلاننگ، ڈیزائننگ اور چیزوںکو ترتیب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں ؟ ایونٹ مینجمنٹ ایک ایسا کاروبار ہے، جسے کم سرمائے اور چھوٹی چھوٹی تقاریب کا اہتمام کرنے کی صورت شروع کیا جاتا ہے۔ پھر اس کاروبار کا دائرہ کار بڑی بڑی کمپنیوں، تعلیمی اداروں، شادی کی تقریبات اور سیاسی جماعتوں کے ایونٹس کی مینجمنٹ کے ذریعے وسیع سے وسیع تر کیا جاسکتا ہے۔
ٹیوشن
اگر آپ مختلف مضامین کو پڑھانے میں اچھے ہیں یا پھر آپ کو کسی زبان پر عبور حاصل ہے تو کوچنگ کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔ کوچنگ یا ٹیوشن کے لیے بھی آپ کو کسی آفس کی ضرورت نہیں پڑتی سوائے آپ کی مہارت کے۔ آپ تعلیم یافتہ ہیں تو گھر میں ٹیوشن پڑھانے یا آن لائن ٹیچنگ کی جانب رُخ کریں۔ ان دنوں آن لائن ٹیچنگ، ہوم ٹیچنگ سے زیادہ عام ہے۔ آ ن لائن ٹیوشن پڑھانے کے لیے اسکائپ کو استعمال کیا جاتا ہے۔ا سکائپ کے ذریعے بچوں کو مختلف مضامین پڑھائے جاسکتے ہیں۔یہی نہیں، آن لائن ٹیچنگ اکیڈمی بناکر دوسروں کو بھی اس میں شامل کرکے پیسے کمائے جاسکتے ہیں۔
ٹور گائیڈ
کیا آپ کو سیرو تفریح پسند ہے ؟جیساکہ نئی جگہوں پر جانا،نئے لوگوں سے ملنا اور ان سے بات چیت کرنا اچھا لگتا ہے۔ کیا آپ کو بھی لگتا ہے کہ گھومنے پھرنے سے جسم،قلب اور ذہن تر وتازہ ہو جاتا ہے؟ اگر آپ کو یہ سب پسند ہے تو بطور ’ٹور گائیڈ‘ اپنا مستقبل بنا سکتے ہیں۔ ٹور گائیڈ بن کر نہ صرف آپ اپنا سیر و تفریح اور گھومنے پھرنے کا شوق پورا کر سکتے ہیں بلکہ معقول آمدنی بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ ٹور گائیڈ بننے کے لیے بھی آپ کو آفس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
رئیل اسٹیٹ
آبادی میں بڑھتے اضافے کے سبب رئیل اسٹیٹ کاروبار کی مانگ میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہےاور بات کی جائےکراچی کی تو یہ شہر پاکستان کے دیگر شہروں کی بنسبت بہت زیادہ آبادی والا مانا جاتا ہے اور اس کی آبادی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اس اضافے کی وجہ سے مکان اور فلیٹس کی قیمتوں اور کرایوں میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ آپ گھر بیٹھے سوشل میڈیا اور اخبارات سے استفادہ حاصل کرکے رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں کام کرسکتے ہیں اور مکانات کی خرید و فروخت اور کرائے کے ذریعے معقول آمدنی حاصل کرسکتے ہیں۔ کوشش کریں کے اس حوالے سے کسی تجربے کار شخص کی رہنمائی بھی حاصل کرلیں۔
از
رابعہ شیخ


دو روٹیاں

ابو نصر الصیاد نامی ایک شخص، اپنی بیوی اور ایک بچے کے ساتھ غربت و افلاس کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ ایک دن وہ اپنی بیوی اور بچے کو بھوک سے نڈھال اور بلکتا روتا گھر میں چھوڑ کر خود غموں سے چور کہیں جا رہا تھا کہ راہ چلتے اس کا سامنا ایک عالم دین احمد بن مسکین سے ہوا، جسے دیکھتے ہی ابو نصر نے کہا؛ اے شیخ میں دکھوں کا مارا ہوں اور غموں سے تھک گیا ہوں۔
شیخ نے کہا میرے پیچھے چلے آؤ، ہم دونوں سمندر پر چلتے ہیں۔
سمندر پر پہنچ کر شیخ صاحب نے اُسے دو رکعت نفل نماز پڑھنے کو کہا، نماز پڑھ چکا تو اُسے ایک جال دیتے ہوئے کہا اسے بسم اللہ پڑھ کر سمندر میں پھینکو۔
جال میں پہلی بار ہی ایک بڑی ساری عظیم الشان مچھلی پھنس کر باہر آ گئی۔ شیخ صاحب نے ابو نصر سے کہا، اس مچھلی کو جا کر فروخت کرو اور حاصل ہونے والے پیسوں سے اپنے اہل خانہ کیلئے کچھ کھانے پینے کا سامان خرید لینا۔
ابو نصر نے شہر جا کر مچھلی فروخت کی، حاصل ہونے والے پیسوں سے ایک قیمے والا اور ایک میٹھا پراٹھا خریدا اور سیدھا شیخ احمد بن مسکین کے پاس گیا اور اسے کہا کہ حضرت ان پراٹھوں میں سے کچھ لینا قبول کیجئے۔ شیخ صاحب نے کہا اگر تم نے اپنے کھانے کیلئے جال پھینکا ہوتا تو کسی مچھلی نے نہیں پھنسنا تھا، میں نے تمہارے ساتھ نیکی گویا اپنی بھلائی کیلئے کی تھی نا کہ کسی اجرت کیلئے۔ تم یہ پراٹھے لے کر جاؤ اور اپنے اہل خانہ کو کھلاؤ۔
ابو نصر پرااٹھے لئے خوشی خوشی اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا کہ اُس نے راستے میں بھوکوں ماری ایک عورت کو روتے دیکھا جس کے پاس ہی اُس کا بیحال بیٹا بھی بیٹھا تھا۔ ابو نصر نے اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے پراٹھوں کو دیکھا اور اپنے آپ سے کہا کہ اس عورت اور اس کے بچے اور اُس کے اپنے بچے اور بیوی میں کیا فرق ہے، معاملہ تو ایک جیسا ہی ہے، وہ بھی بھوکے ہیں اور یہ بھی بھوکے ہیں۔ پراٹھے کن کو دے؟ عورت کی آنکھوں کی طرف دیکھا تو اس کے بہتے آنسو نا دیکھ سکا اور اپنا سر جھکا لیا۔ پراٹھے عوررت کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا یہ لو؛ خود بھی کھاؤ اور اپنے بیٹے کو بھی بھی کھلاؤ۔ عورت کے چہرے پر خوشی اور اُس کے بیٹے کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
ابو نصر غمگین دل لئے واپس اپنے گھر کی طرف یہ سوچتے ہوئے چل دیا کہ اپنے بھوکے بیوی بیٹے کا کیسے سامنا کرے گا؟
گھر جاتے ہوئے راستے میں اُس نے ایک منادی والا دیکھا جو کہہ رہا تھا؛ ہے کوئی جو اُسے ابو نصر سے ملا دے۔ لوگوں نے منادی والے سے کہا یہ دیکھو تو، یہی تو ہے ابو نصر۔ اُس نے ابو نصر سے کہا؛ تیرے باپ نے میرے پاس آج سے بیس سال پہلے تیس ہزار درہم امانت رکھے تھے مگر یہ نہیں بتایا تھا کہ ان پیسوں کا کرنا کیا ہے۔ جب سے تیرا والد فوت ہوا ہے میں ڈھونڈتا پھر رہا ہوں کہ کوئی میری ملاقات تجھ سے کرا دے۔ آج میں نے تمہیں پا ہی لیا ہے تو یہ لو تیس ہزار درہم، یہ تیرے باپ کا مال ہے۔
ابو نصر کہتا ہے؛ میں بیٹھے بٹھائے امیر ہو گیا۔ میرے کئی کئی گھر بنے اور میری تجارت پھیلتی چلی گئی۔ میں نے کبھی بھی اللہ کے نام پر دینے میں کنجوسی نا کی، ایک ہی بار میں شکرانے کے طور پر ہزار ہزار درہم صدقہ دے دیا کرتا تھا۔ مجھے اپنے آپ پر رشک آتا تھا کہ کیسے فراخدلی سے صدقہ خیرات کرنے والا بن گیا ہوں۔
ایک بار میں نے خواب دیکھا کہ حساب کتاب کا دن آن پہنچا ہے اور میدان میں ترازو نصب کر دیا گیاہے۔ منادی کرنے والے نے آواز دی ابو نصر کو لایا جائے اور اُس کے گناہ و ثواب تولے جائیں۔
کہتا ہے؛ پلڑے میں ایک طرف میری نیکیاں اور دوسری طرف میرے گناہ رکھے گئے تو گناہوں کا پلڑا بھاری تھا۔
میں نے پوچھا آخر کہاں گئے ہیں میرے صدقات جو میں اللہ کی راہ میں دیتا رہا تھا؟
تولنے والوں نے میرے صدقات نیکیوں کے پلڑے میں رکھ دیئے۔ ہر ہزار ہزار درہم کے صدقہ کے نیچے نفس کی شہوت، میری خود نمائی کی خواہش اور ریا کاری کا ملمع چڑھا ہوا تھا جس نے ان صدقات کو روئی سے بھی زیادہ ہلکا بنا دیا تھا۔ میرے گناہوں کا پلڑا ابھی بھی بھاری تھا۔ میں رو پڑا اور کہا، ہائے رے میری نجات کیسے ہوگی؟
منادی والے نے میری بات کو سُنا تو پھر پوچھا؛ ہے کوئی باقی اس کا عمل تو لے آؤ۔
میں نے سُنا ایک فرشہ کہہ رہا تھا ہاں اس کے دیئے ہوئے دو پُراٹھے ہیں جو ابھی تک میزان میں نہیں رکھے گئے۔ وہ دو پُراٹھے ترازو پر رکھے گئے تو نیکیوں کا پلڑا اُٹھا ضرور مگر ابھی نا تو برابر تھا اور نا ہی زیادہ۔
مُنادی کرنے والے نے پھر پوچھا؛ ہے کچھ اس کا اور کوئی عمل؟ فرشتے نے جواب دیا ہاں اس کیلئے ابھی کچھ باقی ہے۔ منادی نے پوچھا وہ کیا؟ کہا اُس عورت کے آنسو جسے اس نے اپنے دو پراٹھے دیئے تھے۔
عورت کے آنسو نیکیوں کے پلڑے میں ڈالے گئے جن کے پہاڑ جیسے وزن نے ترازو کے نیکیوں والے پلڑے کو گناہوں کے پلڑے کے برابر لا کر کھڑا کر دیا۔ ابو نصر کہتا ہے میرا دل خوش ہوا کہ اب نجات ہو جائے گی۔
منادی نے پوچھا ہے کوئی کچھ اور باقی عمل اس کا؟
فرشتے نے کہا؛ ہاں، ابھی اس بچے کی مُسکراہٹ کو پلڑے میں رکھنا باقی ہے جو پراٹھے لیتے ہوئے اس کے چہرے پر آئی تھی۔ مسکراہٹ کیا پلڑے میں رکھی گئی نیکیوں والا پلڑا بھاری سے بھاری ہوتا چلا گیا۔ منادی کرنے ولا بول اُٹھا یہ شخص نجات پا گیا ہے۔
ابو نصر کہتا ہے؛ میری نیند سے آنکھ کھل گئی اور میں نے اپنے آپ سے کہا؛ اے ابو نصر آج تجھے تیرے بڑے بڑے صدقوں نہیں بلکہ
"آج تجھے تیری 2 روٹیوں نے بچا لیا".
Copied

دو بھائی

وہ دونوں بھائی چالیس سال سے آپس میں اتفاق سے رہ رہے تھے ۔ ایک بہت بڑا زرعی فارم تھا جس میں ساتھ ساتھ گھر تھے۔ دونوں خاندان ایک دوسرے کا خیال رکھتے، اولادوں میں بھی بہت پیار اور محبت تھی۔
ایک دن دونوں بھائیوں میں کسی بات پر اختلاف ہو گیا اور ایسا بڑھا کہ نوبت گالی گلوچ تک جا پہنچی۔
چھوٹے بھائی نے غصے میں دونوں گھروں کے درمیان ایک گہری اور لمبی کھائی کھدوا کر اس میں قریبی نہر کا پانی چھوڑ دیا تا کہ ایک دوسرے کی طرف آنے جانے کا راستہ ہی نہ رہے۔
اگلے روزبڑے بھائی نے ایک ترکھان کو اپنے گھر بلایا اور کہا کہ وہ سامنے والا فارم ہاؤس میرے بھائی کا ہے جس سے آج کل میرا جھگڑا چل رہا ہے۔ اس نے میر ے اور اپنے گھروں کے درمیان جانے والے راستے پر ایک گہری کھائی بنا کر اس میں پانی چھوڑ دیا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ میرے اور اس کے فارم ہاؤس کے درمیان تم آٹھ فٹ اونچی باڑ لگا تاکہ نہ میں اس کی شکل دیکھوں اور نہ ہی اس کا گھر میری نظروں کے سامنے آئے۔اور یہ کام جلد از جلد مکمل کر کے دو جس کی میں تمہیں منہ مانگی اجرت دوں گا ۔

ترکھان نے سر ہلاتے ہوئے کہا کہ مجھے پہلے آپ وہ جگہ دکھائیں جہاں سے میں نے باڑھ کو شروع کرنا ہے تاکہ ہم پیمائش کے مطابق ساتھ والے قصبہ سےضرورت کے مطابق مطلوبہ سامان لا سکیں .
موقع دیکھنے کے بعد ترکھان بڑےبھائی کو ساتھ لے کر قریبی قصبے میں گیا اور چار پانچ کاریگروں کے علا وہ ایک بڑی پک اپ پر ضرورت کا تمام سامان لے کر آ گیا۔
ترکھان نے اسے کہا کہ اب آپ آرام کریں اور یہ کام ہم پر چھوڑ دیں۔ ترکھان اپنے مزدوروں کاریگروں سمیت سارا دن اور ساری رات کام کرتا رہا ۔
صبح جب بڑے بھائی کی آنکھ کھلی تو یہ دیکھ کر اس کا منہ لٹک گیا کہ وہاں آٹھ فٹ تو کجا ایک انچ اونچی باڑھ نام کی بھی کوئی چیز نہیں تھی ۔
غور کرنے پر معلوم ہوا کہ وہاں تو ایک بہترین پل بنا ہوا تھا ۔
ترکھان کی اس حرکت پر حیران ہوتا ہوا وہ جونہی اس پل کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ پل کی دوسری طرف کھڑا ہوا اس کا چھوٹا بھائی اسکی طرف دیکھ رہا تھا۔
 چند لمحے وہ خاموشی سے کھڑے کبھی کھائی اور کبھی اس پر بنے ہوئے پل کو دیکھتےرہے۔ چھوٹے کی آنکھوں میں آنسو آگئے کہ میں نے باپ جیسے بڑے بھائی کا دل دکھایا مگر اس کے باوجود وہ مجھ سے تعلق نہیں توڑنا چاہتا۔
بڑے نے جب اپنے چھوٹےبھائی کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو اس کا بھی دل بھر آیا اور سوچنے لگا کہ غلطی جس کی بھی تھی مجھے یوں جذباتی ہو کر معاملہ بگاڑنا نہیں چاہیے تھا۔
دونوں اپنے اپنے دل میں شرمندہ ، آنکھوں میں آنسو لئے ایک دوسرے سے بغل گیر ہو گئے۔ ان کی دیکھا دیکھی دونوں بھائیوں کے بیوی بچے بھی اپنے گھروں سے نکل کر بھاگتے اور شور مچاتے ہوئے پل پر اکٹھے ہو گئے۔
بڑے بھائی نے ترکھان کو ڈھونڈنے کے لئے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو دیکھا کہ وہ اپنے اوزار پکڑے جانے کی تیاری کر رہا تھا۔ بڑا بھائی جلدی سے اس کے پاس پہنچا اورکہا کہ اپنی اجرت تو لیتے جاؤ۔
ترکھان نے کہا اس پل کو بنانے کی اجرت آپ سے نہیں لوں گا بلکہ اس سے لوں گا جس کا وعدہ ہے
"جو شخص اللّٰہ کی رضا حاصل کرنے کیلئے کہ لئے لوگوں میں صلح کروائے گا، اللّٰہ جلد ہی اسے عظیم اجر سے نوازے گا۔"
یہ کہہ کر ترکھان نے اللّٰہ حافظ کہا اور چل دیا۔
اس تحریر کو پڑھنے والے تمام محترم قا رئین سے بے حد ادب سے گزارش ہے کہ کوشش کریں کہ اس ترکھان کی طرح لوگوں کے درمیان پل بنائیں۔۔۔برائے مہربانی دیواریں نہ بنائیں ۔“

Copied

چھٹیاں یہ گرمیوں کی

موسم گرما کی چھٹیوں میں طلبہ کو تعلیمی و با مقصد سر گر میوں میں مصروف رکھنا ایک اہم ترین ہدف ہے ۔ تا کہ چھٹیوں سے پہلے پڑ ھا ئے گئے اسباق چھٹیوں کے دوران یا بعد میں بھی یادرہ سکیں۔ عصر حا ضرمیں طلبہ و طالبات کو گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران مصروف رکھنا اساتذہ و والدین کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔معا شر ہ میں مو جود بے شمارمنفی تفریحی ذرائع اورطلبہ و طالبات کو اُ ن کے ہدف کے راستہ سے بھٹکانے والے عوامل کی مو جودگی میں طلبہ و طالبات کو موسم گرما کی چھٹیوں کے دوران بھی ٹریک پر رکھنا بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ لہذا والدین کو اس چیلنج کی مو جودگی میں اس مسئلہ کے حل کے لیے غو رو خوض کی بہت ضرورت ہے۔
ایک حدیث مبارکہ کے مفہوم کے مطابق’’ وہ علم ضا ئع گیا جس میں اضافہ نہ ہو‘‘۔او رتعلیمی نفسیا ت کے مضمون میں آموزش کے قوانین کے مطابق ایک اہم قانون (قانون برائے دوہرائی Law of Repitition (کے مطابق جب تک طلبہ وطالبات پڑھائے گئے سبق کو بذاتِ خو د نہیں دوہرائیں گے اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ لہذا آموزش کے اس اہم قانون کی روشنی میں طلبہ و طالبات کو موسمِ گرما کی چھٹیو ں کے دوران بھی اپنی تدریسی سرگرمیوں کے ساتھ منسلک رکھنا بہت ضروری ہے ۔ تا کہ چھٹیوں سے پہلے پڑھائے گئے کورسز کو چھٹیوں کے دوران اور بعد میں بھی موثر اور کارآمد بنایا جا سکے ۔
ایسا کام (تحریری یازبانی) جو کمرہ جماعت میں پڑ ھا ئے گئے اسباق ، معلومات ،نصاب وغیرہ کی دوہرائی کے لیے گھر میں قیا م کے دوران کر نے کو دیا جا ئے ہو م ورک کہلا تا ہے۔ڈکشنری آف ایجو کیشن کے مطابق’’ سکول میں اساتذہ کی طرف سے دیا جانے والا وہ کام جو طلبہ سکول ٹا ئم کے بعد گھر میں مکمل کرتے ہیں ہوم ورک کہلاتا ہے‘‘۔ گرمیوں کی چھٹیو ں کے دوران طلبہ و طالبات کو با مقصد تعلیمی سر گرمیوں میں مصروف رکھنے کے لیے روایتی طریقہ ہوم ورک سے ہٹ کر جدید تحقیقی قسم کے منصوبہ جات کی با مقصد اور تعلیمی سر گرمیوں میں مصروف رکھنے کے لیے تکمیل پر مبنی ہوم ورک دیناوقت کی اہم ضرورت ہے۔

چھٹیوں کے ہوم ورک کی اہمیت
طلبہ کی تعلیمی ترقی اور علم میں اضا فے کے لیے چھٹیو ں کا کا م بہت اہمیت کا حامل ہے۔ چھٹیو ں کے کا م کی اہمیت اور افادیت سے کسی کو انکار نہیں ہے بلکہ اگر یہ کام مخصو ص طریقہ اور انداز سے دیا جائے اور اس کو چھٹیوں کے بعد دوبارہ جانچا بھی جائے تو یہ تعلیم کی ترقی کے لیے بہت موثر ذریعہ ہے ۔اس سے بہت سے فوائد حاصل  ہوتے ہیں۔

چھٹیو ں کے کام کے مقاصد
سکول میں بچوں کو جو کام گرمیوں کی چھٹیوں کے لیے دیا جا تا ہے اس کے چند اہم مقاصد درج ذیل ہیں:
v    طلباء کی ذ ہنی قا بلیت کو پروان چڑ ھا نا
v    طلباء کو فارغ اوقات میں مصر و ف رکھنا
v     طلبا ء کی خوشحطی میں اضا فہ کرنا
v    بچوں کی تحریر میں روانی پیدا کرنا
v    احساس ذمہ داری پیدا کرنا
v    سکول میں پڑھائے گئے اسباق/ابواب کی دوہرائی کا موقع دینا
v    طلباء کو شامل نصاب اسباق کو یا د کر نے کے قابل بنانا
v    نصا بی کتب تک ہی دوہرائی اور معلومات محدود نہ رہیں بلکہ مزید معلومات حا صل کرنے کے مواقع فراہم کر نا

گرمیوں کی چھٹیو ں کا کا م کیسا ہو نا چا ہیے؟
استاد اور شاگرد تعلیم یا علم کے پروگرام کے دو لا زمی عنا صر ہیں ۔ایک مثا لی معلم طلبہ کو سکول میں پڑھا نے کے بعد گرمیوں کی چھٹیو ں کے لیے بھی کام دیتا ہے ۔گرمیوں کی چھٹیوں کا کام بچوں کی ضروریات اور دلچسپیوں کے مطابق ہو نا چا ہیے ۔براہ راست کتب سے سوالات کے انتخا ب کی بجائے معلم یا معلمہ خو د تخلیقی نوعیت کے سوالات بنا کر طلبہ کو ان کے جوابات تیا ر کر نے کی تر غیب دیں۔جماعت کے طلبہ سے مشاورت کر کے چھٹیوں کا کام تفویض کیا جا ئے اور چھٹیوں کا کام تحریری اور زبانی یادداشت دونوں طرح کا ہونا چا ہیے ۔چھٹیو ں کا کام اتنا زیا دہ نہ ہو کہ طلبہ کی تفریح ، آرام و سکون،ذاتی اور گھریلو مصروفیات کا وقت بھی چھین لیا جائے ۔چھٹیوں کا کام سزا کے طور پر نہ دیاجائے۔
چھٹیو ں کا کام تفویض کرتے وقت دونوں یعنی نصا بی اور ہم نصا بی سر گرمیوں پر مشتمل کام اور ہدایات جاری کر نی چاہیں ۔چھٹیوں کا کا م طلبہ کے مقامی مسائل ،طلبہ کی عمر اور ذہنی سطح سے مطا بقت رکھتا ہو ایسا کام ہی طلبہ پر خوشگوار اثرات مرتب کر کے مطلوبہ نتائج پیدا کر سکتا ہے ۔اردو اور انگریزی کے مضامین کے خلاصہ جات شامل ہوں ۔ یہ کام چھٹیو ں کے دورانیہ کے مطابق ہوتاکہ طلبہ معلوم سے نامعلوم کا طریقہ اختیار کر کے کام مکمل کر سکیں ۔چھٹیوں کا کام مقاصدِ تعلیم سے ہم آہنگ ہو ۔یہ کام طلبہ کی صحت پر بُر ے اثرات مرتب نہ کرے اور یہ کمرہ جماعت سے ملتا جلتا ہو تا کہ وہ آسا نی سے حل کر سکیں ۔

مطلوبہ نتا ئج کے لیے چھٹیو ں کا کا م کتنا ہو نا چا ہیے ؟
چھٹیو ں کا کا م اتنا ہو جس کو بچے آسانی سے کر سکیں نہ کہ اتنازیادہ کہ طلبہ کی باقی تمام دلچسپیاں ختم ہی ہو جا ئیں ۔اعلیٰ نتائج کے لیے بہترین چھٹیو ں کا کام یہ ہو سکتا ہے کہ طلبہ اس کو بآسانی کر نے کے ساتھ ساتھ کچھ وقت سیروتفریح اور کھیل کود کے لیے بھی نکال سکیں ۔ کیونکہ ایک صحت مند جسم میں ہی ایک صحت مند دماغ ہو تا ہے ۔اسی لیے ذہنی اورجسمانی صحت کے لیے سیر و تفریح اور کھیل کود نہایت ضروری ہے۔

چھٹیو ں میں طلبہ و طالبات کو با مقصد علمی ، ادبی ا ور تفریح سر گرمیوں میں مصرو ف رکھنے کے طریقے
v    مطا لعہ کی عادت پیدا کر نے کے لیے لائبریری ممبرشپ دلوائی جا ئے ۔
v    مختلف لینگوئج کو رسز کا اہتما م کیا جا ئے
v    کمپیو ٹر میں مہارت پیدا کر نے کے لیے کو ر سز کر وا ئے جائیں۔
v    خو شخطی کی کلاسز Arrangeکی جائیں۔
v    تعلیمی سیر ،عجائب گھر ،سا ئنس میوزیم ،تا ریخی مقامات وغیرہ کا اہتمام کیا جا ئے ۔
v    معلومات پر مبنی ٹیلی ویژن پروگرامز سب گھر والے مِل کر دیکھیں ۔
v    اخبار بینی کی عادت پیدا کی جائے
v    بچوں میں لکھنے کی عادت پیدا کر نے کے لیے روزانہ ڈائری لکھوانے کا اہتما م کیا جائے ۔
v    چھٹیو ں کا ہوم ورک صر ف تحریری نہ ہو بلکہ بچو ں کو تحقیقی اور تخلیقی Projectsدئیے جا ئیں تا کہ ان میں تعلیمی مہارتیں پیدا ہوں ۔
v    سماجی بہبود کے حوالے سے کوئی نہ کو ئی ذمہ داری بچے کو ضرور دی جائے مثلاگھر کے بزرگ یا بچے کی دیکھ بھال وغیرہ۔
v    سکول کے اندر سمر کیمپ کے ذریعے بھی طلبہ و طالبات کو موسمِ گرما کی چھٹیوں میں روزانہ یا ہفتہ وارتعلیمی سر گرمیوں میں مصروف رکھا جا سکتا ہے۔اس سلسلہ میں صبح سے لیکر دو یا تین گھنٹے تک مختلف سر گرمیو ں کو سر انجام دیا جا سکتا ہے ۔
v    طلبہ و طا لبات کو روزانہ کی بنیاد پر ٹا ئم ٹیبل تیا ر کر کے بھی دیا جا سکتا ہے ۔تا کہ وہ دن کا مخصوص حصہ صرف تعلیمی سر گرمیوں میں گزار سکیں۔
v    اس کے علاوہ لکھائی کی مہارت کے لیے انگریزی اور اردو مضامین، سائنس مضامین کے ماڈلز کی تیاری، اخبارات، میگزین اور کتابیں پڑھنا، علم کے اضافے کے لیے معلوماتی پروگرامات دیکھنا، انگریزی کی لکھائی اور بولنے کی مہارت کے لیے انگریزی پروگرامات دیکھنااور چارٹس کی تیاری وغیرہ کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔

از
مالک خان سیال