سب سے پہلی بات
تو یہ جان لیجیے کہ ڈسلیکسیا کوئی بیماری نہیں بلکہ یہ بچے کے سیکھنے کی راہ میں
حائل رکاوٹوں(Learning
Difficulties)میں سے ایک
رکاوٹ ہے۔ ایسا بچہ عموماً نالائق نہیں ہوتا بلکہ وہ بعض معاملات مثلاً ڈرائنگ،
کیلکولیشن اور ماڈلز وغیرہ بنانے یا مختلف آلات اور اوزاروں کا استعمال کرنے میں
عموماً دوسرے بچوں سے آگے ہوتا ہےلیکن چند مسائل کی وجہ سے کلاس کے عمومی کاموں
مثلاً اسباق کو پڑھنے اور لکھنے وغیرہ میں پیچھے رہ جاتا ہے۔
ڈسلیکسیا کی
علامات:
ایسا بچہ حروف
اور عبارات کے پڑھنے میں دقت محسوس کرتا ہے۔بعض ایسے بچوں کو حروف حرکت کرتے محسوس
ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے ان کی شناخت مشکل ہوجاتی ہے۔
چونکہ بچہ پڑھنے
میں دقت محسوس کرتا ہے لہٰذا یہی دقت لکھنے میں بھی مشکل پیدا کرنے کا باعث بنتی
ہے۔ بالخصوص ملتے جلتے حروف لکھنے میں بچہ غلطی کرتا ہے۔ مثلاً bاور d میں فرق نہیں
کرسکتا، sکو الٹا لکھ جاتا ہے ۔ اسی طرح اردو میں حروف کے نقطے یاد نہیں رکھ پاتا، ایک
ہی خاندان کے حروف مثلاً ب، پ، ت وغیرہ میں فرق نہیں کرپاتا وغیرہ وغیرہ۔
حروف کو درست
انداز سے شناخت نہ کرسکنے کا ایک نتیجہ سپیلنگ اور املا کی اغلاط کی صورت میں
سامنے آتا ہے۔
ایسے بچے کی
یادداشت کمزور دیکھنے میں آئی ہے جس کے باعث وہ ایک کام کو کئی دن تک یاد نہیں رکھ
پاتا اور نتیجتاً ہفتہ وار، ماہانہ اور ٹرم ٹیسٹ وغیرہ میں ناکام ٹھہرتا ہے۔
ایک عمومی شکایت
جوتوں کو الٹا پہننے، دائیں اور بائیں سمتوں میں تمیز نہ کرسکنے اورجوتوں کے تسمے
بند نہ کرسکنے میں بھی دیکھنے میں آئی ہے۔
والدین کے لیے
تجاویز:
ڈسلیکسیا ساری
زندگی کا مسئلہ نہیں ، عموماً بچے کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اس پر قابو پالیتے ہیں ۔
زیادہ تر یہ مسئلہ پرائمری جماعتوں تک درپیش ہوتا ہے۔ تاہم کئی بچے ہائی سکول تک
بھی اس مشکل سے دوچار رہتے ہیں۔ بہرحال اگر والدین کو اوپر دی گئی علامات کے ذریعے
یہ اندازہ ہوجائے کہ ان کا بچہ یا بچی ڈسلیکسیا کا شکار ہے تو گھبرانے کی بجائے
ذیل کی تجاویز اور ہدایات پر عمل کرنے سے بچے کی مدد ہوسکتی ہے۔ ان ہدایات پر عمل
درآمد کرنا اگرچہ صبر آزما ہوسکتا ہے تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ ان کے ذریعے آپ
بچے کی بھرپور مدد کرسکتے ہیں۔ یہ تجاویز انٹرنیشنل ایسوسی ایشن برائے ڈسلیکسیا نے تیار کی ہیں۔
پڑھنے یا ریڈنگ
میں مدد:
اوپر دی گئی
علامات کو اگر آپ نے بغور پڑھا ہے تو آپ یہ جان چکے ہوں گے کہ ان بچوں کا بنیادی
مسئلہ پڑھنا یا ریڈنگ ہی ہے۔ لہٰذا اگر اس میں ان کی مدد کردی جائے تو وہ دیگر
تمام مشکلات پر قابو پالیں گے۔ ان بچوں کو ریڈنگ میں آپ مندرجہ ذیل طریقوں سے مدد
دے سکتے ہیں:
بچوں کو موقع بے
موقع پڑھنے کے لیے کچھ نہ کچھ دیتے رہیے، اور اگر ہوسکے تو ذرا دلچسپ انداز میں،
مثلاً کمپیوٹر پر کچھ الفاظ بڑے سائز میں
لکھ کر انہیں پڑھوائیں۔
انگریزی الفاظ
میں موجود حروف کو مختلف رنگ دیں۔ مثلاً اگر بچے کے سامنے d اور b کا فرق واضح
کرنا ہے تو اس کے سامنے لفظ bed اس طرح لکھیے کہ دونوں مشابہ حروف کا رنگ مختلف ہو۔ یہ کام
کمپیوٹر یا موبائل سکرین پر بآسانی کیا جاسکتا ہے۔
کہانیوں کی ایسی
کتب مارکیٹ میں دستیاب ہیں جن میں کہانی تصویری صورت میں بھی بیان کی جاتی ہے اور
محض چند الفاظ یا جملے ہر تصویر کے نیچے دیےجاتے ہیں۔ ایسی کتابیں ڈسلیکسیا کا
شکار بچوں کے لیے بہت معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔
سفر کے دوران ،
بازار میں شاپنگ کرتے ہوئے یا کہیں بھی آتے جاتے بچے سے مختلف سائن بورڈز، مقامات
کے نام اور ٹریفک کنٹرول کی ہدایات وغیرہ پڑھنے کا کہیں اور درست پڑھنے پر حوصلہ
افزائی کریں۔
لکھنے میں مدد:
لکھنے میں دقت
کی وجہ سے عموماً ایسے بچے کے لیے ہوم ورک درد سر بن جاتا ہے، اور پھر ہوم ورک نہ
کرنے کی وجہ سے ٹیچر کی جانب سے ہونے والی سرزنش بچے کو تعلیم ہی سے دلبرداشتہ
کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ لہٰذا سب سے پہلا قدم یہ ہوگا کہ بچے کے ٹیچر سے ملاقات
کی جائے اور قدرے کم ہوم ورک دے کر زیادہ حوصلہ افزائی کی درخواست کی جائے۔
ہوم ورک کے وقت
بچے کو اکیلا نہ چھوڑیں بلکہ اس کے قریب رہیں تاکہ اسے آپ کی قربت اور سرپرستی کا
احساس رہے۔
جن الفاظ کو
لکھنا بچے کے لیے مشکل ہے انہیں کاپی پر لکھوانے سے پہلے کسی بڑی سلیٹ یا بورڈ
وغیرہ پر لکھوائیں۔ ایسا کرنے سے بچہ حروف درست بنا پائے گا اور انہیں شناخت بھی
بہتر طور پر کرسکے گا۔
الفاظ یا جملے
لکھنے کے بعد بچے کو انہیں خود پڑھنے اور سپیلنگ یا املا کی اغلاط خود درست کرنے
کا کہیں، پھر آپ خود غلطیوں کی نشان دہی کریں۔ لیکن یہ تمام کام انتہائی صبر اور
حوصلہ افزائی کے ذریعے انجام دیا جانا چاہیے اور بچے کو خوفزدہ ہونے سے بچانا
چاہیے۔
صرف کاپی پر
لکھوانے کی بجائے بچے کو لکھنے کے دیگر میڈیم استعمال کروائیں۔ مثلاً کوئی مضمون ،
چند جملے یا الفاظ کاپی کی بجائے کمپیوٹر یا موبائل پر بھی ٹائپ کروائیں۔ اس سے
بچے میں دلچسپی پیدا ہوگی اور وہ خوشی خوشی لکھنے لگے گا۔
متفرق ہدایات:
v بچے کے لیے چونکہ پڑھنا ایک مشکل کام ہے
لہٰذا اس کے لیے کسی عبارت کو پڑھ کر یاد کرنا بھی مشکل ہوگا۔ اس صورت میں اگر آپ
خود اسے پڑھ کر سنائیں اور یاد کروادیں تو اس کے لیے آسانی ہوسکتی ہے۔
v بچے کو جب کوئی عبارت خود پڑھنے کے لیے
دیں تو اسے کہیں کہ وہ بآواز بلند اسے پڑھے، اس سے بچے کو الفاظ کو ان کی آوازوں
کی مدد سے یاد رکھنا آسان ہوجائے گا۔
v بچے کی دلچسپیوں کا مشاہدہ کیجیے۔ ایسے
بچے عموماً ڈرائنگ یا آرٹ ورک میں اچھے ہوتے ہیں یا پھر اشیاء کو بنانے جوڑنے میں۔
بچے کو کچھ وقت اپنی دلچسپی کے مطابق گزارنے دیجیے۔ اس سے بچے کو کامیابی کا احساس
ہوگا اور وہ پڑھائی میں بھی آگے بڑھ سکے گا۔
v بڑی عمر کے بچوں کو آڈیو بکس، ویڈیو
لیکچرز اور الیکٹرانک ڈکشنریز کے ذریعے بھی اپنی اس مشکل پر قابو پانے کا مشورہ
دیجیے۔
v بچے کی یادداشت بہتر بنانے کے لیے اسے
منظم کرنے کی کوشش کیجیے۔ اس کی اشیا ء مخصوص جگہوں پر رکھیے، بیگ میں موجود اشیاء
کی فہرست بیگ پر لگادیجیے تاکہ بچہ کچھ بھول جانے کی صورت میں اس سے مدد لے سکے۔
کیا آپ کو معلوم
ہے:
بالی ووڈ سٹار عامر خان نے ڈسلیکسیا کا شکار بچوں کے مسائل
کو اجاگر کرنے اور ان مسائل میں اساتذہ کی معاونت کے حوالہ سے ایک خوبصورت تعلیمی
فلم ’تارے زمین پر‘ کوئی دس سال قبل تیار کی تھی۔ یہ فلم یوٹیوب پر دستیاب ہے جس
سے اساتذہ کے ساتھ ساتھ والدین بھی مدد لے سکتے ہیں۔











