مسٹر بین

 مسٹر بین کا اصل نام روون ایٹکنسن ہے، وہ ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوا، تین سال کا ہوا تو ماں باپ پریشان ہوئے کہ ہمارا بچہ بولتا کیوں نہیں اسے بچپن سے ہکلانے کی بیماری تھی. کمزور نحیف نزار جسامت کے ساتھ ساتھ اس کا چھوٹا سا منہ دیکھ کر سکول کے بچے اس کا مذاق اڑاتے اس کے ساتھ غنڈہ گردی کرتے. سکول کے استاد بھی اس کا مذاق اڑاتے ہر کلاس میں اسے نشانہ بنایا جاتا یوں کی خود اعتمادی بچپن سے ہی مار دی گئی. 

اس نے سائنس سبجیکٹ پاس کیا اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا. اسے بچپن سے فلموں ڈراموں کا شوق تھا لیکن ہکلاہٹ کی وجہ سے وہ کبھی سکول فنکشن میں بھی پرفارم نہیں کر سکا. الیکٹرکل انجینئرنگ میں ڈگری لینے کے بعد اس نے اداکاری میں جانے کا مشکل ترین فیصلہ کیا. شروع میں ہر آڈیشن نے اسے مسترد کر دیا، جہاں بھی جاتا سامنے سے انکار سننے کو ملتا لیکن اس نے محنت جاری رکھی. اس نے دیکھا کہ جتنے بھی کامیڈین ہیں سب کے سب روانی سے بولنے والے ہیں. 

وہ رائیٹر تھا اور چارلی چیپلن سے متاثر تھا، اس نے اپنے لیے خاکے لکھنے شروع کیے. مسٹر بین کا کردار تخلیق کیا جسے زیادہ بولنے کی ضرورت نہیں تھی. آہستہ آہستہ اس کا یہ کردار مشہور ہونا شروع ہوا اور پھر ایک دن پوری دنیا اسے مسٹر بین کے نام سے جاننے لگی. اپنی عجیب سی شکل اور بولنے کی مشکل کے باوجود اس نے ثابت کیا کہ کامیابی کے لیے خوبصورت شکل اور آواز لازمی نہیں. آپ کی محنت، جذبہ اور لگن آپ کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں. 

ڈرو مت کوئی بھی کامل پیدا نہیں ہوتا، اپنی کمزوریوں اور ناکامیوں کے باوجود بھی آپ حیرت انگیز کارنامے سرانجام دے سکتے ہیں. آپ کو ایک ہی زندگی ملی ہے اسے خوب محنت سے جی بھر کر جئیں.

جلی ہوئی روٹی

 ابوالکلام کہتے ہیں.

ایک رات کھانے کے وقت میری والدہ نے سالن اور جلی ہوئی روٹی میرے والد کے آگے رکھ دی۔۔۔۔۔۔۔ میں والد کے ردِعمل کا انتظار کرتا رہا کہ شاید وہ غصّے کا اظہار کرینگے لیکن انہوں نے اِنتہائی سکون سے کھانا کھایا اور ساتھ ہی مجھ سے پوچھا کہ آج سکول میں میرا دن کیسا گزرا مجھے یاد نہیں کہ میں نے کیا جواب دیا. 

لیکن۔۔۔۔۔۔۔اُسی دوران میری والدہ نے روٹی جل جانے کی معذرت کی. 

میرے والد نے کہا کوئی بات نہیں بلکہ مجھے تو یہ روٹی کھا کر مزا آیا. 

اُس رات جب میں اپنے والد کو شب بخیر کہنے اُن کے کمرے میں گیا تو اُن سے اِس بارے میں پوچھ ہی لیا کہ۔۔۔۔۔۔۔ کیا واقعی آپ کو جلی ہوئی روٹی کھا کر مزا آیا؟

انہوں نے پیار سے مجھے جواب دیا بیٹا ایک جلی ہوئی روٹی کچھ نقصان نہیں پہنچاتی مگر تلخ ردعمل اور بد زبانی انسان کے جذبات کو مجروح کر دیتے ہے۔۔۔۔۔۔۔

میرے بچے یہ دُنیا بے شمار ناپسندیدہ چیزوں اور لوگوں سے بھری پڑی ہے، میں بھی کوئی بہترین یا مکمل انسان نہیں ہوں اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ۔۔۔۔۔۔۔ہمارے ارد گرد کے لوگوں سے بھی غلطی ہو سکتی ہے ایک دوسرے کی غلطیوں کو درگزر کرنا، رشتوں کو بخوبی نبھانا اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرنا ہی تعلقات میں بہتری کا سبب بنتا ہے ہماری زندگی اتنی مختصر ہے کہ اِس میں معذرت اور پچھتاووں کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔

زندگی کو شکر صبر کیساتھ خوشحال بنائیں۔

بیشک اللہ شکر کرنے والوں کو پسند کرتاہے

سٹریس مینجمنٹ کے زریں اصول

 1. آپ بہت کچھ کر سکتے ہیں مگر سب کچھ نہیں.

2. اپنا دن کا پلان بنائیں.

3. اپنا کام صبح جلد شروع کریں.

4. اپنا مساج کریں.

5. اپنا موازنہ کسی سے نہ کریں اللہ پاک نے آپ کو سب سے جدا پیدا کیا ہے۔

6. اپنے مقاصد کی ایک فہرست بنائیں.

7. اپنی اہم اشیاء کی کاپی یا بیک اپ اپنے پاس محفوظ رکھیں.

8. اپنے اہم امور کو لکھ لیں.

9. اپنے پاس ایک ڈائیری رکھیں اور اس میں لکھتے رہیں.

10. اپنی پسند کی خوشبو سونگھیں.

11. اپنی ترجیحات کا تعین کریں.

12. اپنے دوستوں کو سلام کریں اور گلے لگائیں.

13. اپنے کام سے جلد واپس آ جائیں.

14. اپنی کامیابیوں اور خوبیوں کو شمار کریں.

15. اپنی نیند پوری کریں.

16. اپنے والدین سے گپ شپ لگائیں.

17. اسلام کی تعلیمات پر عمل کریں.

18. اگلے دن کی تیاری رات کو کرکے سوئیں.

19. ایک درخت لگائیں.

20. ایک وقت میں کسی ایک کام پر غور کریں.

21. بارش میں چلیں.

22. ببل گم چبائیں.

23. بہتر کے لیے کوشش کریں نہ کہ کاملیت کے لیئے.

24. پر اعتماد رہیں.

25. نئ اشیاء کی خریداری پر پرانی اشیاء سے جان چھڑائیں.

26. تمباکو نوشی چھوڑ دیں.

27. ٹال مٹول سے بچیں.

28. جو کام آپ نہیں کر سکتے یا آپ کے پاس وقت نہیں ہے, تو اس کے لیے "نہ" کر دیں.

29. چابیوں کا ایک فالتو گچھا بنوا کے پاس رکھ لیں.

30. خاموش رہیں.

31. خود پہ یقین رکھیں.

32. خود سے پیار کریں.

33. دوست بنائیں.

34. دوسروں سے مدد حاصل کریں.

35. دوسروں کو معاف کریں.

36. دوسروں کی حوصلہ آفزائی کریں.

37. رنگ کریں.

38. سادگی اختیار کریں.

39. سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیں.

40. سوشل میڈیا سے دور رہیں.

41. سیر کو جائیں.

42. شکر گزار رہیں.

43. صبر سے کام لیں.

44. عاجز رہیں.

45. غسل اور کنگھی کریں.

46. غور فکر کریں.

47. دن کے کھانے کے بعد کچھ سستا لیں. 

48. کچھ وقت روشنی میں گزاریں.

49. کسی جاہل سے بحث نہ کریں, اس سے آپ کو پریشانی کے سوا کچھ حاصل نہ ہو گا۔

50. کسی کی کوئی مشکل دور کریں.

51. کھلا اور ہوادار لباس پہنیں.

52. کوئی کھیل کھیلیں.

53. گنگنائیں.

54. گہری سانس لیں.

55. مثبت سوچیں.

56. مطالعہ کریں.

57. نماز پڑھیں.

58. ہائیکنگ پہ جائیں.

59. ہر چیز ترتیب سے رکھیں.

60. ہر چیز کا روشن پہلو دیکھیں.

61. ہر غم عارضی ہے, حتی کہ ہر چیز۔

62. ہر کام اعتدال سے کریں.

63. ہمیشہ مسکرائیں.

64. ورزش کریں.

65. وقت کا مؤثر استعمال کریں.

66. یاد رکھیں پریشانیاں آپ کو مضبوظ بنانے کے لیے آتی ہیں, ان کا مقابلہ کریں۔

آسان زندگی گزارنے کا ۹ نکاتی ایجنڈآ

 سورت الحجرات کا  آسان زندگی گزارنے کا ۹ نکاتی  ایجنڈآ

آپس کے معاملات سدھارنے کے لیے کتنی زبردست ہیں قران حكيم كى یہ 9 باتیں ، کاش ہم اسے اپنے عمل میں لائیں!!!

1- فتبينوا:

کوئی بھی بات سن کر  پھیلانے سے پہلے تحقیق کر لیا کرو . کہیں ایسا نہ ہو کہ بات سچ نہ ہو اور کسی کوانجانے میں نقصان پہنچ جائے۔

2 - فأصلحوا:

دو بھائیوں کے درمیان صلح کروا دیا کرو. تمام ایمان والے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔

3- وأقسطوا:

ہر جھگڑے کو حل کرنے کی کوشش کرو اور دو گروہوں کے درمیان انصاف کرو. الله کریم انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

4 - لا يسخر:

کسی کا مذاق مت اڑاؤ. ہو سکتا ہے کہ وہ الله کے نزدیک تم سے بہتر ہو۔

5 - ولا تلمزوا:

کسی کو بے عزّت مت کرو۔

6- ولا تنابزوا:

لوگوں کو برے القابات

(الٹے ناموں) سے مت پکارو.

7- اجتنبوا كثيرا من الظن:

برا گمان کرنے سے بچو کہ کُچھ گمان گناہ کے زمرے میں آتے ہیں۔

8 - ولا تجسَّسُوا:

ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ رہو۔

9- ولا يغتب بعضكم بعضا:

تُم میں سےکوئی ایک کسی دوسرے کی غیبت نہ کرے کہ یہ گناہ کبیرہ ہے اور اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف ہے۔

(سورہ الحجرات)

الله کریم اخلاص کیساتھ عمل کرنے کی تو فیق دے۔

حضرت سالم بن عبداللہ

 خلیفہ سلیمان بن عبدالملک بن مروان بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا- اس کی نظر ایک نوجوان پر پڑی- جس کا چہرہ بہت پُر وقار تھا- مگر وہ لباس سے مسکین لگ رہا تھا- خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نے پوچھا، یہ نوجوان کون ھے۔ تو اسے بتایا گیا کہ اس نوجوان کا نام سالم ھے اور یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیٹا اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا پوتا ھے۔

خلیفہ سلیمان کو دھچکا لگا۔ اور اُس نے اِس نوجوان کو بلا بھیجا-

خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نے پوچھا کہ بیٹا میں تمہارے دادا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بڑا مداح ھوں۔ مجھے تمہاری یہ حالت دیکھ کر بڑا دکھ ہوا ھے۔ مجھے خوشی ہو گی اگر میں تمھارے کچھ کام آسکوں ۔ تم اپنی ضرورت بیان کرو۔ جو مانگو گے تمہیں دیا جائے گا-

نوجوان نےجواب دیا، اے امیر المومنین! میں اس وقت اللہ کے گھر بیتُ اللّٰہ میں ھوں اور مجھے شرم آتی ھے کہ اللہ کے گھر میں بیٹھ کر کسی اور سے کچھ مانگوں۔

خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نے اس کے پُرمتانت چہرے پر نظر دوڑائی اور خاموش ہو گیا۔

خلیفہ نے اپنے غلام سے کہا  کہ یہ نوجوان جیسے ہی عبادت سے فارغ ھو کر بیتُ اللّٰہ سے باہر آئے، اسے میرے پاس لے کر آنا-

سالم بن عبداللہؓ بن عمرؓ جیسے ہی فارغ ھو کر حرمِ کعبہ سے باہر نکلے تو غلام نے اُن سے کہا کہ امیر المؤمنین نے آپکو یاد کیا ھے۔

سالم بن عبداللہؓ خلیفہ کے پاس پہنچے۔

خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نےکہا، 

نوجوان! اب تو تم بیتُ اللّٰہ میں نہیں ھو، اب اپنی حاجت بیان کرو۔ میرا دل چاہتا ھے کہ میں تمہاری کچھ مدد کروں۔

سالم بن عبداللہؓ نےکہا، 

اے امیرالمؤمنین! آپ میری کونسی ضرورت پوری کر سکتے ہیں، دنیاوی یا آخرت کی؟

امیرالمؤمنین نےجواب دیا، 

 میری دسترس میں تو دنیاوی مال و متاع ہی ھے۔ سالم بن عبداللہؓ نے جواب دیا- امیر المؤمنین! دنیا تو میں نے کبھی اللّٰہ سے بھی نہیں مانگی۔ جو اس دنیا کا مالکِ کُل ھے۔ آپ سے کیا مانگوں گا۔ میری ضرورت اور پریشانی تو صرف آخرت کے حوالے سے ھے۔ اگر اس سلسلے میں آپ میری کچھ مدد کر سکتے ہیں ؟

خلیفہ حیران و ششدر ہو کر رہ گیا-

اور کہنے لگا- کہ نوجوان یہ تُو نہیں، تیرا خون بول رہا ھے۔

خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کو حیران اور ششدر چھوڑ کر سالم بن عبداللہؓ علیہ رحمہ وہاں سے نکلے اور حرم سے ملحقہ گلی میں داخل ہوئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے۔

یوں ایک نوجوان حاکمِ وقت کو آخرت کی تیاری کا بہت اچھا سبق دے گیا۔


حیات تابعین کے درخشاں پہلو ص 443-445