خدا کا وجود

 بوڑھے آدمی نے اطمینان سے بسم اللّٰہ پڑھی اور حجام کی کرسی پر بال کٹوانے کے لئے بیٹھ گیا۔ بوڑھے کے چہرے پر موجود نرم مسکراہٹ سے حجام کو بات چیت کا حوصلہ ہوا۔۔۔ 

حجام نے کہا: "دنیا میں بہت سے مذاہب خدا کو مانتے ہیں، لیکن میں خدا کے وجود کو نہیں مانتا۔"

مسلمان بوڑھے نے پوچھا: "کیوں نہیں مانتے؟"

حجام نے کہا: "دنیا میں بہت پریشانیاں، مصیبتیں بدحالی اور افراتفری ہے۔ اگر خدا کا وجود ہوتا تو یہ سب مصیبتیں اور پریشانیاں بھی موجود نہ ہوتیں۔" 

بوڑھے نے مسکراتے ہوئے کہا: "میں بھی اس دنیا میں حجام کے وجود کو نہیں مانتا۔" 

حجام نے پریشان ہو کر پوچھا: "کیا مطلب؟ میں آپ کی بات نہیں سمجھا." 

بوڑھے نے حجام کی دکان سے باہر گزرتے ایک گندے اور لمبے بالوں والے شخص کی طرف اشارہ کر کے کہا: "کیا تم اس شخص کے لمبے اور گندے بال دیکھ رہے ہو؟ 

حجام نے کہا: "جی ہاں۔ لیکن اسکا میری بات سے کیا تعلق؟"

بوڑھے نے نرم لہجے میں کہا: "اگر حجام ہوتے تو لمبے اور گندے بالوں والے لوگ بھی نہ ہوتے۔" 

حجام نے کہا: "ہم موجود ہیں، لیکن ایسے لوگ ہمارے پاس نہیں آتے!" 

بوڑھے نے مسکراتے ہوئے کہا: "بالکل۔ خدا بھی موجود ہے لیکن لوگ ہدایت کے لئے خدا کی طرف رجوع نہیں کرتے۔ اسی لیے دنیا میں بہت سے مسائل اور پریشانیاں ہیں۔"

اللہ کا شکر

 حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور کی طرف جانے لگے تو راستے میں ایک شخص ملا جو کہ اپنے وقت کا رئیس اور صاحب ثروت آدمی تھا، وہ موسیٰ علیہ السلام سے مخاطب ہوتے ہوئے بولا، "اے موسیٰ علیہ السلام! جب آپ کوہِ طور پر اللہ سے ہمکلام ہونگے تو اُسے کہنا کہ اب بس کر دے میرے پاس اُسکی دی ہوئی ہر نعمت موجود ہے، اب مجھے مزید کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے، لہٰذا اب وہ اپنی نعمتیں مجھے دینا بند کرے دے۔۔۔!" موسیٰ علیہ السلام نے اثبات میں سر ہلایا اور آگے بڑھ گئے۔

کچھ دور گئے تو کیا دیکھا ایک نیم برہنہ، متروک الحال شخص بیٹھا ہوا تھا جس نے اپنی شرمگاہ کو ریت سے چھپایا ہوا تھا، وہ موسیٰ علیہ السلام سے گویا ہوا، "اے موسیٰ علیہ السلام! اللہ سے کہنا میری طرف بھی کوئی نظرِ رحمت کرے، دیکھو میں کس حال میں بیٹھا ہوا ہوں، نہ تن پر کپڑا ہے اور نہ جسم میں کوئی نوالا، زیرِ آسمان رہتا ہوں اور سکون نام کی کوئی چیز میری زندگی میں نہیں ہے۔۔۔!" آپؑ نے اُسکی بات بھی سنی اور کوہِ طور کی طرف روانہ ہو گئے۔۔۔!

وہاں آپؑ، اللہ سے ہمکلام ہوئے تو اللہ نے کہا، "اے موسیٰ! وہ جو رئیس شخص تمہیں ملا تھا، اُسے کہنا، میرا شکر ادا کرنا چھوڑ دے، تو میں بھی اپنی نعمتوں کے در اُس پر بند کر دوں گا۔ اور وہ جو متروک الحال شخص ملا تھا، اُسے کہنا، میرا شکرا ادا کرنا شروع کر دے تو اُسکی زندگی بھی میری نعمتوں سے پُرسکون ہو جائے گی۔۔۔!"

موسیٰ علیہ السلام، کوِ طور سے واپس آئے اور پہلے شخص کو اللہ تعالیٰ کا پیغام دیا کہ، "تم اللہ کا شکر ادا کرنا چھوڑ دو، اللہ بھی تمہیں نعمتیں دینا بند کر دے گا" تو وہ شخص چونک کر بولا، "اے موسیٰ علیہ السلام! میں بھلا اللہ کا شکر ادا کرنا کیسے چھوڑ سکتا ہوں، جبکہ میری ایک ایک سانس بھی اُسکی عطا کردہ نعمت ہے۔

بعد ازاں آپؑ دوسرے متروک الحال شخص کے پاس گئے اور اُسے بھی اللہ کا پیغام دیا کہ، "تم اللہ کا شکر ادا کرنا شروع کر دو تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا" وہ حیران ہوتے ہوئے بولا، "اے موسیٰ ؑ! میرے پاس کچھ ہوگا تو میں شکر ادا کروں گا، آپؑ ہی بتاؤ ریت سے میں نے اپنا جسم ڈھانپا ہوا ہے، صبح سے ایک اناج کا دانہ تک میں نے کھایا نہیں ہے، تو اِس میں میں بھلا کس چیز کا شکر ادا کروں؟" اتنے میں تیز ہوا چلی، ریت اُڑی اور اُسکا پورا جسم برہنہ ہوگیا۔۔۔!

حوالہ: "قصص الانبیاء"