بہروپ

 اورنگزیب عالمگیر کے دربار میں ایک بہروپیا آیا اور اس نے کہا :

" باوجود اس کے کہ آپ رنگ و رامش ، گانے بجانے کو برا سمجھتے ہیں -

شہنشاہ معظم ! لیکن میں فنکار ہوں اور ایک فنکار کی حیثیت سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور میں بہروپیا ہوں - میرا نام کندن بہروپیا ہے -

اور میں ایسا بہروپ بدل سکتا ہوں آپ کو جو اپنے علم پر بڑا ناز ہے کو دھوکہ دے سکتا ہوں اور میں غچہ دے کر بڑی کامیابی کے ساتھ نکل جاتا ہوں -

اورنگزیب عالمگیر نے کہا : تمھاری بات وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے - میں تو شکار کو بھی بیکار کام سمجھتا ہوں یہ جو تم میرے سامنے دعوہ کر رہے ہو اس کو میں کوئی اہمیت نہیں دیتا - "

اس نے کہا : " ہاتھ کنگن کو آرسی کیا - آپ اتنے بڑے شہنشاہ ہیں اور دانش میں اپنا جواب نہیں رکھتے - میں بھیس بدلونگا آپ پہچان کر دکھائیے - "

تو انھوں نے کہا ! " منظور ہے "

اس نے کہا حضور آپ وقت کے شہنشاہ ہیں - اگر تو آپ نے مجھے پہچان لیا تو میں آپ کے دینے دار ہوں -

لیکن اگر آپ مجھے پہچان نہ سکے اور میں نے ایسا بھیس بدلہ تو آپ سے پانچ سو روپیہ لونگا -

شہنشاہ نے کہا شرط منظور ہے -

اسے پتا چلا کے اگلے سال شہنشاہ مرہٹوں پر حملہ کریگا چانچہ وہ وہاں سے پا پیادہ سفر کرتا ہوا اس مقام پر پہنچ گیا -

ایک سال کے بعد جب اپنا لاؤ لشکر لے کر اورنگزیب عالمگیر ساؤتھ انڈیا پہنچا اور پڑاؤ ڈالا تو تھوڑا سا وہ خوفزدہ تھا -

اور جب اس نے مرہٹوں پر حملہ کیا تو وہ اتنی مضبوطی کے ساتھ قلعہ بند تھے کہ اس کی فوجیں وہ قلعہ توڑ نہ سکیں -

لوگوں نے کہا یہاں ایک درویش ولی الله رہتے ہیں ان کی خدمت میں حاضر ہوں - پھر دعا کریں پھر ٹوٹ پڑیں -

شہنشاہ پریشان تھا بیچارہ بھاگا بھاگا گیا ان کے پاس - سلام کیا اور کہا ؛ " حضور میں آپ کی خدمت میں ذرا ............ "

انھوں نے کہا ! " ہم فقیر آدمی ہیں ہمیں ایسی چیزوں سے کیا لینا دینا - "

شہنشاہ نے کہا ! " نہیں عالم اسلام پر بڑا مشکل وقت ہے ( جیسے انسان بہانے کرتا ہے ) آپ ہماری مدد کریں میں کل اس قلعے پر حملہ کرنا چاہتا ہوں - "

تو فقیر نے فرمایا ! " نہیں کل مت کریں ، پرسوں کریں اور پرسوں بعد نماز ظہر - "

اورنگزیب نے کہا جی بہت اچھا ! چانچہ اس نے بعد نماز ظہر جو حملہ کیا ایسا زور کا کیا اور ایسے جذبے سے کیا اور پیچھے فقیر کی دعا تھی ، اور ایسی دعا کہ قلعہ ٹوٹ گیا اور فتح ہو گئی - مفتوح جو تھے پاؤں پڑ گئے -

بادشاہ مرہٹوں کے پیشوا پر فتح مند کامران ہونے کے بعد سیدھا درویش کی خدمت میں حاضر ہوا - باوجود اس کے کہ وہ ٹوپیاں سی کے اور قران پاک لکھ کے گزارا کرتا تھا لیکن سبز رنگ کا بڑا سا عمامہ پہنتا تھا بڑے زمرد اور جواہر لگے ہوتے تھے - اس نے جا کر عمامہ اتارا اور کھڑا ہوگیا دست بستہ کہ حضور یہ سب آپ ہی کی بدولت ہوا ہے -

اس فقیر نے کہا : " نہیں جو کچھ کیا الله ہی نے کیا "

انھوں نے کہا کہ آپ کی خدمت میں کچھ پیش کرنا چاہتا ہوں

درویش نے کہا : " نہیں ہم فقیر لوگ ہیں - '

اورنگزیب نے کہا دو پرگنے یعنی دو بڑے بڑے قصبے - اتنے بڑے جتنے آپ کے اوکاڑہ اور پتوکی ہیں - وہ آپ کو دیتا ہوں اور اور آئندہ پانچ سات پشتون کے لئے ہر طرح کی معافی ہے -

اس نے کہا : " بابا ہمارے کس کام کی ہیں یہ ساری چیزیں - ہم تو فقیر لوگ ہیں تیری بڑی مہربانی - "

اورنگزیب نے بڑا زور لگایا لیکن وہ نہیں مانا اور بادشاہ مایوس ہو کے واپس آگیا -

اور اورنگزیب اپنے تخت پر آ کر بیٹھ گیا جب وہ ایک فرمان جاری کر رہا تھا عین اس وقت کندن بہروپیا اسی طرح منکے پہنے آیا -

تو شہنشاہ نے کہا : " حضور آپ یہاں کیوں تشریف لائے مجھے حکم دیتے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا - "

کندن نے کہا ! " نہیں شہنشاہ معظم ! اب یہ ہمارا فرض تھا ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو جناب عالی میں کندن بہروپیا ہوں - میرے پانچ سو روپے مجھے عنایت فرمائیں - "

اس نے کہا : " تم وہ ہو -

کندن نے کہا ہاں وہی ہوں - جو آج سے ڈیڑھ برس پہلے آپ سے وعدہ کر کے گیا تھا -

اورنگزیب نے کہا : " مجھے پانچ سو روپے دینے میں کوئی اعتراض نہیں ہے - میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں جب میں نے آپ کو دو پرگنے اور دو قصبے کی معافی دی جب آپ کے نام اتنی زمین کر دی جب میں نے آپ کی سات پشتون کو یہ رعایت دی کہ اس میری ملکیت میں جہاں چاہیں جس طرح چاہیں رہیں - آپ نے اس وقت کیوں انکار کر دیا ؟

یہ پانچ سو روپیہ تو کچھ بھی نہیں -

اس نے کہا : " حضور بات یہ ہے کہ جن کا روپ دھارا تھا ، ان کی عزت مقصود تھی - وہ سچے لوگ ہیں ہم جھوٹے لوگ ہیں - یہ میں نہیں کر سکتا کہ روپ سچوں کا دھاروں اور پھر بے ایمانی کروں - "


اشفاق احمد

زاویہ

بہروپ

40 تا 60 سال کے لوگوں کے لیے نصیحت

نصیحت ان لوگوں کو کرتا ہںوں جو 40، 50، 60 سال یا اس سے اوپر کی عمر کو پہنچ چکے ہیں ، حتی کہ 80 سال کی عمر تک بھی !

اللہ آپ کو فرمانبرداری، صحت، اور عافیت عطا فرمائے۔

1. پہلی نصیحت:

   ہر سال حجامہ کروائیں ، چاہںے آپ بیمار نہ ہںوں یا کوئی مرض نہ ہںو ۔

2. دوسری نصیحت:

   ہمیشہ پانی پیئیں ، چاہںے پیاس نہ لگے ۔ بہت سی صحت کے مسائل جسم میں پانی کی کمی کی وجہ سے پیدا ہںوتے ہیں ۔

3. تیسری نصیحت:

   جسمانی سرگرمی کریں ، چاہںے آپ مصروف ہںوں ۔ اپنے جسم کو حرکت دیں ، چاہںے وہ صرف چلنا ہںو یا تیراکی کرنا ہںو ۔

4. چوتھی نصیحت:

   کھانے میں کمی کریں ۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا،

"آدمی کے لیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی کمر کو سیدھا رکھ سکیں۔"

زیادہ کھانے سے پرہیز کریں؛ اس میں کوئی بھلائی نہیں ہںے ۔

5. پانچویں نصیحت:

   جتنا ممکن ہو، گاڑی کا استعمال نہ کریں جب تک کہ ضرورت نہ ہںو ۔ اپنے مقامات تک پیدل چل کر جائیں ، جیسے مسجد ، دکان ، یا کسی سے ملنے ۔

6. چھٹی نصیحت:

   غصے کو پیچھے چھوڑ دیں ... 

غصہ اور فکر آپ کی صحت کو ختم کرتے ہیں اور آپ کی روح کو کمزور کرتے ہیں ۔

اپنے آپ کو ایسے لوگوں کے ساتھ رکھیں جو آپ کو سکون دیتے ہیں۔

7. ساتویں نصیحت:

   جیسا کہ کہا جاتا ہںے ، "اپنے پیسے کو دھوپ میں رکھو اور خود سایہ میں بیٹھو۔" یعنی حتیٰ الوسع پیسے کو استعمال میں لائیں اور سہولیات حاصل کریں یہ نہیں کہ پیسے بچائیں اور خود مشقت اٹھائیں ۔ اپنے آپ کو یا اپنے ارد گرد کے لوگوں کو محروم نہ رکھیں ، پیسہ زندگی کو سہارا دینے کے لیے ہںے ، خود زندگی نہیں ہںے ۔

8. آٹھویں نصیحت:

   اپنی روح کو کسی کے لیے ، کسی ایسی چیز کے لیے جسے آپ حاصل نہیں کر سکتے ، یا کسی ایسی چیز کے لیے جو آپ حاصل نہیں کر سکے ، افسوس میں نہ ڈوبنے دیں ۔ اسے بھول جائیں —

اگر یہ آپ کے لیے مقدر ہںوتا ، تو یہ آپ کے پاس آ جاتا ۔

9. نویں نصیحت:

   عاجزی اختیار کریں ، کیونکہ دولت ، مرتبہ ، طاقت ، اور اثر و رسوخ سب غرور کے ساتھ زوال پذیر ہںو جاتے ہیں ۔ عاجزی آپ کو لوگوں کے قریب لاتی ہںے اور اللہ کے ہاں آپ کے مقام کو بلند کرتی ہںے ۔

10. دسویں نصیحت:

   اگر آپ کے بال سفید ہںو گئے ہیں ، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی ختم ہںو گئی ہںے ۔ یہ ایک نشانی ہںے کہ زندگی کا بہترین حصہ ابھی شروع ہںو رہا ہںے ۔

پر امید رہیں ، اللہ کی یاد کے ساتھ جئیں ، سفر کریں ، اور حلال طریقوں سے لطف اندوز ہںوں ۔

*آخری اور سب سے اہم نصیحت:*

کبھی بھی نماز نہ چھوڑیں ، یہ آپ کے جیتنے کا کارڈ ہںے اس زندگی میں اور اس دن میں جب نہ دولت کام آئے گی اور نہ اولاد ۔

اگر آپ کو یہ مفید لگے ، تو اسے پھیلائیں ، اور دوسروں کو محروم نہ کریں جو اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں !!!

 حضور خاتم النبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ " لوگوں میں سب سے بہترین وہ ہے جو لوگوں کے لیے نفع بخش اور فائدہ مند ہو " !!!

اس لیے دوسروں کیلئے ہر طرح نفع مند ثابت ہوں !!!!

پاکستان کا منفرد اورگینک گاؤں

 پاکستان کا ایسا گاؤں جہاں آج تک کوئی گاڑی نہیں جا سکی

پاکستان کا منفرد اورگینک گاؤں (نانسوک)

نانسوک، سکردو کے قریب واقع ایک ایسا گاؤں ہے جو اپنی قدرتی خوبصورتی، صاف ماحول، اور منفرد طرزِ زندگی کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس گاؤں کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہاں آج تک نہ تو کوئی گاڑی پہنچی ہے اور نہ ہی موٹرسائیکل۔

نانسوک تک کا راستہ:

نانسوک تک پہنچنے کے لیے تقریباً 30 منٹ کا پیدل سفر کرنا پڑتا ہے۔ یہ راستہ ایک پہاڑ کے ساتھ ساتھ چھوٹی سی پکڈنڈی پر مشتمل ہے، جو نہایت ہی دلکش مناظر پیش کرتا ہے۔

 یہ راستہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے بہترین ہے جو ٹریکنگ یا پیدل چلنے کے شوقین ہیں۔ راستے میں سرسبز مناظر، پہاڑی جھرنے، اور پرندوں کی چہچہاہٹ آپ کا استقبال کرتے ہیں۔

 یہ راستہ صرف ایک سفر نہیں بلکہ ایک ایڈونچر ہے جو آپ کو فطرت کے قریب لے جاتا ہے۔

نانسوک کے نمایاں پہلو

 1. قدرتی ماحول:

چونکہ یہاں گاڑیاں اور مشینری نہیں پہنچ سکتیں، اس لیے گاؤں کی فضا انتہائی صاف اور تازہ ہے۔ ایک طرف دریا کا دلکش منظر اور دوسری طرف پہاڑوں کی بلندیاں اس جگہ کو مزید خوبصورت بناتی ہیں۔

 2. خرپوچو فورٹ کے قریب:

نانسوک خرپوچو فورٹ کی بیک سائیڈ پر واقع ہے، جو اسے تاریخی اہمیت بھی دیتا ہے۔ اگر آپ فورٹ دیکھنے جائیں، تو نانسوک کا سفر لازمی کریں۔

 3. سادگی اور سکون:

گاؤں کے مکین سادہ طرزِ زندگی اپنائے ہوئے ہیں۔ یہاں کے لوگ اپنی زراعت اور قدرتی وسائل پر انحصار کرتے ہیں، اور اپنی مہمان نوازی کے لیے مشہور ہیں۔

 4. اورگینک طرزِ زندگی:

یہاں اگائی جانے والی سبزیاں، پھل، اور دیگر کھانے کی اشیاء مکمل طور پر اورگینک ہیں۔ یہ گاؤں ایک مثال ہے کہ کس طرح قدرتی وسائل کا صحیح استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دریائے سندھ کا دلکش منظر

نانسوک کے ایک جانب دریائے سندھ بہتا ہے، جو گاؤں کے قدرتی حسن کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ دریا کے ساتھ ساتھ چہل قدمی یا صرف اس کے کنارے بیٹھ کر وقت گزارنا سکون کا باعث بنتا ہے۔

نانسوک: ایڈونچر اور سکون کا امتزاج

نانسوک ان لوگوں کے لیے مثالی مقام ہے جو نہ صرف فطرت سے قریب رہنا چاہتے ہیں بلکہ ایک منفرد تجربہ بھی چاہتے ہیں۔

یہ گاؤں نہ صرف سکردو کے حسن میں اضافہ کرتا ہے بلکہ یہ ایک ایسی جگہ ہے جو ہمیں سادگی، فطرت، اور سکون کا اصل مطلب سمجھاتی ہے۔

اگر آپ سکردو جائیں، تو نانسوک کا یہ منفرد سفر ضرور کریں اور قدرت کی انمول نعمتوں کا لطف اٹھائیں۔

چیزوں کو قبول کرنا سیکھیں

 شادی شُدہ جوڑوں کو اکثر اس بات پر روتے دیکھا گیا ھے کہ ہماری”بےجوڑ“ شادی ہوئی ھے کیونکہ میرا جیون ساتھی مُجھ سے بالکل مُختلف بلکہ میری الٹ ھے.

یعنی میرے جیسا نہیں.

تو  جان لیجئے!!

جوڑا ہمیشہ الٹ ہی ہوتا ھے تب ہی جوڑا بنتا ھے.

کُچھ نہیں تو اپنے جوتوں پر ہی غور کرلیجیے.

دونوں بظاہر ”پرفیکٹ“ لگتے ہیں لیکن غور کیجیے تو دونوں ہی ایک دوسرے سے مُختلف ہیں.

ایک جیسے ہوں تو انکا جوڑ پھر کوئی دوسرا ھے. 

یاد رکھئے...!!

ہم سب”پزل“ میں پیدا ہوئے ہیں اور جُڑ کر ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں.

ایک کی کمی دُوسرا پُوری کرتا ھے.

اس لئے اپنا جیون کسی غلط فہمی میں برباد نہ کریں.

چیزوں کو قبول کرنا سیکھیں.

نکاح کے وقت قبول ھے محض الفاظ نہ تھے بلکہ یہ عہد تھا کہ تمام کمی بیشی کے ساتھ سب کچھ قبول ھے.

دیکھیں ”Idealism“ ایک دھوکہ ھے، فریب ھے، سراب ھے، زندگی رومانوی ناولوں، ڈائجسٹوں کے فرضی قصے کہانیوں، ڈراموں اور فلموں سے یکسر مُختلف ہوتی ھے.

ایک دُوسرے کو ”جیسا ھے، جہاں ھے“ کی بُنیاد پر قبول کیجیے.

یہی قبولیت، یہی ایکسیپٹینس زندگی میں سکون لاتی ھے.

 ایکسیپٹ کرنا سیکھئے. ایکسیپٹ کرلیئے جائیں گے.

خُوابوں اور سرابوں کے پیچھے دوڑنے والے بالآخر ”بندگلی“ میں جاپہنچتے ہیں جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا، واپسی کی ساری راہیں مفقود ہوجاتی ہیں.

اپنی سو فیصد پسند کا جوڑا بنانے کی جُستجو کرنا ایک مقبول فلسفہ ھے.

لیکن...

اگر ازدواجی زندگی کی رعنائیوں کو انجوائے کرنا ھے تو مقبولیت نہیں، قبولیت کو معیار بنائیے، زندگی آسان ہوجائے گی.

تین فطری قوانین

 تین فطری قوانین جو کڑوے لیکن حق ہیں :-

پہلا قانون فطرت:

اگر کھیت میں" دانہ" نہ ڈالا جاۓ تو قدرت اسے "گھاس پھوس" سے بھر دیتی ہے....

 اسی طرح اگر" دماغ" کو" اچھی فکروں" سے نہ بھرا جاۓ تو "کج فکری" اسے اپنا مسکن بنا لیتی ہے۔ یعنی اس میں صرف "الٹے سیدھے "خیالات آتے ہیں اور وہ "شیطان کا گھر" بن جاتا ہے۔

اس لئے مثبت سوچیں، اچھا سوچیں 


دوسرا قانون فطرت:

جس کے پاس "جو کچھ" ہوتا ہے وہ" وہی کچھ" بانٹتا ہے۔ ۔ ۔

* خوش مزاج انسان "خوشیاں "بانٹتا ہے۔

* غمزدہ انسان "غم" بانٹتا ہے۔

* عالم "علم" بانٹتا ہے۔

* دیندار انسان "دین" بانٹتا ہے۔

* خوف زدہ انسان "خوف" بانٹتا ہے۔

اس لئے خود میں مثبت احساس پیدا کریں۔ اچھی چیزیں سیکھیں۔ مصروف رہیں۔ خوش رہیں۔


تیسرا قانون فطرت: 

آپ کو زندگی میں جو کچھ بھی حاصل ہو اسے "ہضم" کرنا سیکھیں، اس لۓ کہ۔ ۔ ۔

* کھانا ہضم نہ ہونے پر" بیماریاں" پیدا ہوتی ہیں۔

* مال وثروت ہضم نہ ہونے کی صورت میں" ریاکاری" بڑھتی ہے۔

* بات ہضم نہ ہونے پر "چغلی" اور "غیبت" بڑھتی ہے۔

* تعریف ہضم نہ ہونے کی صورت میں "غرور" میں اضافہ ہوتا ہے۔

* غم ہضم نہ ہونے کی صورت میں "مایوسی" بڑھتی ہے۔

اس لئے ہضم کرنا سیکھیں۔

اپنی زندگی کو آسان بنائیں اور ایک" با مقصد" اور "با اخلاق" زندگی گزاریں، لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں

خوش رہیں۔۔۔خوشیاں بانٹیں۔۔۔۔

منقول

آگے بڑھنے کے لیے ضروری چیزیں

 آپ ہزاروں موٹیویشنل سپیکرز کی لاکھوں باتیں سن لیں، آپ کو اندازہ ہو گا کہ آگے بڑھنے کے لیے سب سے ضروری چیزیں صرف تین ہیں:

وژن: منزل کا تعین

روڈ میپ: اخلاص نیت سے درست راستے پر چلنا

مستقل مزاجی: کئی سال تک مسلسل بس وہی کام کرتے رہنا


زمانہ شاہد ہے کسی کو آج تک یہ تین چیزیں اپنائے رکھنے کے بعد ناکام ہوتے نہیں دیکھا گیا

دھیرے سے مرنا ترک کردو

 تم دھیرے سے مرنا شروع کر دیتے ھو"

اگر تم سفر نہیں کرتے،

اگر تم مطالعہ نہیں کرتے،

اگر تم زندگی کی آواز(پکار) کو نہیں سنتے،

اگر تم اپنی حوصلہ افزائی نہیں کرتے،


"تم دھیرے سے مرنا شروع کر دیتے ھو"

اگر تم اپنی عادات کے قیدی بن گئے ھو،

اگر تم روز ایک ہی پگڈنڈی(راہ) پر چلتے جاتے ھو،

اگر تم اپنی روزانہ کی معمولات میں تغیر نہیں لاتے،

اگر تم مختلف رنگوں میں نہیں ڈھلتے،

اگر تم انجانے لوگوں سے باتیں نہیں کرتے،


"تم دھیرے سے مرنا شروع کر دیتے ھو"

اگر تم انکی جوش کی تپش اور ھنگامہ خیز جذبات کو محسوس کرنا ترک کردیتےھو،

اور وہ جو تمہاری آنکھوں میں چمک پیدا کردیں اور دل کی دھڑکنوں کو تازیانہ دیں۔


" تم دھیرے سے مرنا شروع کر دیتے ھو"

اگر تم اپنے خوابوں کا پیچھا نہیں کرتے،

اگر تم زندگی میں کم از کم ایک بار خود کو سمجھدار رائے(نصیحت) سے فرار کی اجازت نہیں دیتے،


" دھیرے سے مرنا ترک کردو"


" چلی کے شاعر " پیبلو نیرودا" کے کچھ اشعار کا اردو  ترجمہ"

چھوٹی لکیر

 استاد نے کلاس روم میں داخل ہوتے ہی بغیر کوئی بات کیے.

بلیک بورڈ پر چاک سے ایک لمبی لکیر کھینچ دی اور پورے کلاس کو مخاطب ہوکر کہا :

“تم میں سے کون ہے جو بلیک بورڈ پر موجود اس لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کر دے؟ ”

استاد کے سوال کا جواب کلاس میں موجود طلباء میں کسی کے پاس بھی نہیں تھا۔ سوال ہی ایسا عجیب و غریب تھا۔

ساری کلاس سوچ میں پڑ گئی کیونکہ استاد نے ایک ناممکن بات کہہ دی تھی.

کلاس کے سب سے ذہین طالب علم نے کھڑے ہو کر کہا کہ استاد محترم

“یہ ناممکن ہے ، لکیر کو چھوٹا کرنے کے لیے اسے تھوڑا سا مٹانا پڑے گا جو چھوئے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا اور آپ نے چھونے سے منع کیا ہے“ .

باقی طلباء نے بھی سر ہلا کر اس طالبعلم کی بات کی تائید کی۔

استاد نے گہری نظروں سے طلباء کی طرف دیکھا

اور کچھ کہے بغیر بلیک بورڈ پر چاک سے اس لکیر کے متوازی لیکن اس سے بڑی ایک اور لکیر کھینچ دی،

جس کے بعد سب نے دیکھ لیا کہ اب پہلے والی لکیر چھوٹی نظر آ رہی ہے،

استاد نے اس لکیر کو چھوئے بغیر ، اسے ہاتھ لگائے بغیر اُسے چھوٹا کر دیا۔

طلباء نے آج اپنی زندگی کا سب سے بڑا سبق سیکھا تھا کہ دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر , دوسروں پر تنقید کیے بغیر ، اُن کو بدنام کیے بغیر ، اُن سے حسد کیے بغیر , اُن سے آگے بڑھ جانے کا ہنر انہوں نے چند منٹ میں سیکھ لیا تھا.

کہ اپنے آپ کو اخلاق میں ، کردار میں اور عمل سے دوسرے سے آگے بڑھا لو تو تم خودبخود دوسروں سے بڑے نظر آنے لگو گے. دوسروں کو چھوٹا کر کے کوئی بڑا نہیں بن سکتا بلکہ خود بڑا ہوکر بڑا بن سکتا ہے

پچاس کا نوٹ

 ایک بجلی کے کھمبے پر ایک کاغذ چپکا دیکھ کر میں قریب چلا گیا اور اس پر لکھی تحریر پڑھنے لگا ,

لکھا تھا  .. .. .. .. .

براۓ کرم ضرور پڑھیں . .

اس راستے پر میرا کل 50 روپے کا نوٹ کھو گیا ہے, مجھے ٹھیک سے دکھائی نہیں دیتا جسے بھی ملے براۓ کرم پہنچا دے نوازش ہو گی . . . . .

 ایڈریس :....**.....*....***...       ....*.....**....**..

یہ پڑھنے کے بعد مجھے بہت حیرت ہوئی کے پچاس کا نوٹ کس کیلئے اتناضروری ہے تو اس پتہ پر جانے کا ارادہ کیا

اوراس گلی میں اس مکان کے دروازے پر آواز لگائی, 

ایک ضعیفہ لاٹھی ٹیکتی ہوئی باہر آئیں, پوچھنے پر معلوم ہوا کے بڑی بی اکیلی رہتی ہیں اور کم دکھائی دیتا ہے, 

میں نے کہا "ماں جی آپ کا 50 روپے  کا نوٹ مجھے ملا ہے ،  اسے دینے آیا ہوں '"

یہ سن کر بڑھیا رونے لگی,

بیٹا ابھی تک قریب 50 لوگ مجھے پچاس کا نوٹ دے گئے ہیں  ..!

میں ان پڑھ ہوں ٹھیک سے دکھائی بھی نہیں دیتا, 

معلوم نہیں کون میری اس حالت کو دیکھ کر میری مدد کرنے کے لیے لکھ کر چلا گیا ..   ..

بہت اصرار کرنے پر مائی نے پیسے تو رکھ لیے لیکن ایک درخواست کی کہ بیٹا وہ میں نے نہیں لکھا کسی نے میری مدد کی خاطر لکھ دیا ہے جاتے ہوۓ اسے پھاڑ کر پھنک دینا, بیٹا ..   ..  

میں نے ہاں کہہ کر ٹال تو دیا.....

لیکن میرے ضمیر نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا, کہ ان سبھی لوگوں سے بڑھیا نے وہ کاغذ پھاڑنے کیلئے کہا ہو گا, 

مگر کسی نے نہیں پھاڑا,,. 

زندگی میں ہم کتنے صحیح ہیں اور کتنے غلط یہ صرف دو ہی جانتے ہیں . . 

ایک "اللّه  تعالی"

دوسرا ہمارا " ضمیر "

 میرا دل اس شخص کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو گیا,کہ وہ شخص کتنا مخلص ہو گا جس نے بڑھیا کی مدد کا یہ طریقہ تلاش کیا, ضرورت مندوں کی مدد کے کئی طریقے ہیں . . 

میں نے اس شخص کو دل سے دعائیں دیں کہ کسی 

کی مدد کرنے کے کتنے طریقے ہیں صرف مدد کرنے کی نیت ہونی چاہیئے۔۔راستہ اور رہنمائی اللّه پاک

کی طرف سے ہو جاتی ہے۔ 

کڑواہٹ

        " مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے _" 

      وہ چائے کا کپ ہاتھ میں لیے دروازے سے اندر آتی ہوئی بولی _

       عینک کتاب پر رکھتے ہوئے میں نے پلٹ کر کہا :

    " ہاں ہاں ، کیوں نہیں ، بولو ، کیا بات ہے؟ " 

      وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی قریب والی کرسی پر آکر بیٹھ گئی _ چائے میز پر رکھتے ہوئے بولی :

     " چائے پی کر دیکھئے نا ، کیسی بنی ہے؟"

      اس سے پہلے کہ میں چائے پی کر بتاتا کہ کیسی بنی ہے؟ میں نے اس بات کا جاننا زیادہ ضروری سمجھا جو وہ کرنا چاہتی تھی _

      میں نے پوچھا :" کیا بات ہے؟ پہلے وہ بتاؤ _" 

      " ارے پہلے چائے پی کر بتائیے ، کیسی بنی ہے؟ بات بھی بتا دوں گی  _ کون سا میں کہیں بھاگی جا رہی ہوں؟" 

      میں نے اس کی بات پر مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے کپ کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اسے اٹھا کر گھونٹ بھرا _

      لیکن یہ کیا ؟ چائے میں کڑواہٹ اس قدر تھی کہ مجھے فوراً تھوکنا پڑا _

       میں نے چلاتے ہوئے کہا :

" یہ کیا؟

تمھیں چائے بنانی نہیں آتی؟

یہ کیسی چائے بنائی ہے؟

اتنی کڑوی ! "

     وہ مسکراتی ہوئی کرسی سے اٹھ کر کھڑکی میں جا کھڑی ہوئی ۔

      اس کا مسکرانا میرے غصے میں اضافہ کر رہا تھا ، لیکن میں نے برداشت کیا _ میں نے کہا :

     " ایک تو چائے ایسی بنائی ہے ، اوپر سے ہنس رہی ہو _ آخر چاہتی کیا ہو ؟"

     وہ مسکراتی ہوئی بولی :

" کچھ نہیں .... 

بس اتنا بتانا چاہتی تھی کہ آپ کا لہجہ اس چائے سے زیادہ کڑوا ہوتا ہے _

اگر آپ اس کڑوی چائے کا ایک گھونٹ حلق سے نہیں اتار سکے تو سوچیں کہ آپ کے لہجے کے بیسیوں کڑوے گھونٹ ایک نازک عورت کیسے روز سہ لیتی ہوگی ؟

    اتنا کہہ کر وہ چائے کا کپ لے کر خاموشی سے چلی گئی _

      کمرے میں موت کا سنّاٹا چھا گیا _ گھڑی کی ٹک ٹک میرے دماغ پر ہتھوڑے برسا رہی تھی _ میں نے اپنے رویّے پر غور کیا _

تخلیق ہوتی ہے محبت سے

ایک شخص روزانہ چہل قدمی کے لئے جایا کرتا تھا۔ اس راستے پر ایک کمہار کا گھر تھا، جو مٹی کے برتن بنایا کرتا تھا۔

 وہ کمہار کے پاس جا کر بیٹھ جاتا اور اسے غور سے تکتا رہتا ۔ اسے برتن بننے کا عمل دیکھنا بہت اچھا لگتا تھا ۔

ایک دن کمہار نے اس کی محویت دیکھ کر اپنے پاس بلایا اور پوچھا، "بیٹا ! تم یہاں سے روز گزرتے ہو اور میرے پاس بیٹھ کر دیکھتے رہتے ہو ، تم کیا دیکھتے ہو؟"

شخص : میں آپ کو برتن بناتے دیکھتا ہوں اور یہ عمل دیکھنا مجھے بہت اچھا لگتا ہے ۔ اس سے میرے ذہن میں چند سوال پیدا ہوئے ہیں ۔ میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں۔

کمہار : یہ تو بہت اچھی بات ہے ۔ تم پوچھو ، جو پوچھنا چاہتے ہو ۔

شخص : آپ جو برتن بناتے ہیں ، اس کا خاکہ کہاں بنتا ہے؟

کمہار : اس کا خاکہ سب سے پہلے میرے ذہن میں بنتا ہے۔

یہ سن کر وہ شخص جوش سے بولا، میں سمجھ گیا ۔

کمہار نے حیرت سے پوچھا، کیا سمجھے؟

شخص : یہی کہ ہر چیز تخلیق سے پہلے خیال میں بنتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خالق کے خیال میں ہم پہلے بن چکے تھے ، تخلیق بعد میں ہوئی ۔ اب میرا اگلا سوال یہ ہے کہ جب آپ برتن بنا رہے ہیں، تو ایسا کیا کرتے ہیں کہ یہ اتنا خوب صورت بنتا ہے؟

کمہار : میں اسے محبت سے بناتا ہوں۔ میں جو بھی چیز بناتا ہوں، اسے خلوص سے بناتا ہوں اور اسے بناتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتا ہوں تاکہ کوئی کمی کوتاہی نہ رہ جائے ۔

شخص نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا، اس کی بھی سمجھ آ گئی، کیوں کہ بنانے والا ہم سے محبت کرتا ہے ، کیوں کہ اس نے ہمیں بنایا جو ہوتا ہے ۔ اگلا سوال یہ ہے کہ آپ اتنے عرصے سے برتن بنا رہے ہیں ، کوئی ایسی خواہش ہے ، جو آپ چاہتے ہیں کہ پوری ہو ۔

کمہار : ہاں ! ہے ۔ میں چاہتا ہوں کہ ایسا برتن بناؤں کہ دنیا عش عش کر اٹھے اور پھر ویسا برتن میں کبھی نہ بنا سکوں۔۔ کمہار نے حسرت سے کہا۔

یہ سنتے ہی وہ شخص اچھل پڑا۔ واہ ! خالق ہر بار ایسی تخلیق کرتا ہے کہ دنیا بے اختیار عش عش کر اٹھے ، کیوں کہ خالق کو پتا ہے کہ میں جو یہ انسان اس دنیا میں بھیج رہا ہوں ، اس جیسا کوئی اور دوبارہ نہیں آئے گا ۔۔

آپ یونیک ہیں ، اپنے ربّ کی بہترین تخلیق ۔ آپ کے خالق نے آپ کو بہترین بلکہ احسنِ تقویم سے خلق کیا ہے۔ اپنے آپ کو فضول دھندوں میں برباد نہ کریں ۔ لوٹ آئیں اپنے ربّ کی طرف، وہ تمہاری راہ تک رہا ہے۔

دل بنا دیا

 ہندوستان میں ایک جگہ مشاعرہ تھا۔

ردیف دیا گیا:

"دل بنا دیا"

اب شعراء کو اس پر شعر کہنا تھے۔

سب سے پہلے حیدر دہلوی نے اس ردیف کو یوں استعمال کیا:

اک دل پہ ختم قدرتِ تخلیق ہوگئی

سب کچھ بنا دیا جو مِرا دل بنا دیا

اس شعر پر ایسا شور مچا کہ بس ہوگئی ، لوگوں نے سوچا کہ اس سے بہتر کون گرہ لگا سکے گا؟

لیکن جگر مراد آبادی نے ایک گرہ ایسی لگائی کہ سب کے ذہن سے حیدر دہلوی کا شعر محو ہوگیا۔

انہوں نے کہا:

بے تابیاں سمیٹ کر سارے جہان کی

جب کچھ نہ بَن سکا تو مِرا دل بنا دیا۔

حیدر دہلوی اپنے وقت کے استاد تھےاور خیام الہند کہلاتے تھے۔ جگر کے کلام کو سنتے ہی وہ سکتے کی کیفیت میں آگئے، جگر کو گلے سے لگایا،ان کے ہاتھ چومے اور وہ صفحات جن پر ان کی شاعری درج تھی جگر کے پاوں میں ڈال دیے۔

اس واقع سے قبل دہلی کے لال قلعہ میں ایک طرحی مشاعرہ تھا۔ قافیہ " دل" رکھا گیا تھا۔ اُس وقت تقریبا سبھی استاد شعراء موجود تھے۔ان میں سیماب اکبرآبادی اور جگر مرادآبادی بھی تھے۔سیماب نے اس قافیہ کو یوں باندھا۔۔۔۔۔

خاکِ پروانہ،رگِ گل،عرقِ شبنم سے

اُس نے ترکیب تو سوچی تھی مگر دل نہ بنا

شعر ایسا ہوا کہ شور مچ گیا کہ اس سے بہتر کوئی کیا قافیہ باندھے گا؟۔ سب کی نظریں جگر پر جمی ہوئی تھیں۔

معاملہ دل کا ہو اور جگر چُوک جائیں۔۔وہ شعر پڑھا کہ سیماب کا شعر لوگوں کے دماغ سے محو ہوگیا۔

زندگانی کو مرے عقدہء مشکل نہ بنا

برق رکھ دے مرے سینے میں، مگر دل نہ بنا.



مانگیں تو سہی

 مولانا رومی جس انداز سے لوگوں کو مثالوں سے سمجھاتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

کہتے ہیں محمود غزنوی کا دور تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ايک شخص کی طبیعت ناساز ہوئی تو  طبیب کے پاس گیا

اور کہا کہ  مجھے دوائی بنا کے دو طبیب نے کہا کہ دوائی کے لیے جو چیزیں درکار ہیں سب ہیں سواء شہد کے تم اگر شہد کہیں سے لا دو تو میں دوائی تیار کیے دیتا ہوں اتفاق سے موسم شہد کا نہیں تھا ۔۔

اس شخص نے حکیم سے ایک ڈبا لیا  اور چلا گیا لوگوں کے دروازے  کھٹکھٹانے لگا 

 مگر ہر جگہ مایوسی ہوئی

جب مسئلہ حل نہ ہوا  تو وہ محمود غزنوی کے دربار میں حاضر ہوا 

کہتے ہیں وہاں ایاز نے دروازہ  کھولا اور دستک دینے والے کی رواداد سنی اس نے وہ چھوٹی سی ڈبیا دی اور کہا کہ مجھے اس میں شہد چاہیے ایاز نے کہا آپ تشریف رکھیے میں  بادشاہ سے پوچھ کے بتاتا ہوں ۔

ایاز وہ ڈبیا لے کر  بادشاہ کے سامنے حاضر ہوا اور عرض کی کہ بادشاہ سلامت ایک سائل کو شہد کی ضرورت ہے ۔۔

بادشاہ نے وہ ڈبیا لی  اور سائیڈ میں رکھ دی ایاز کو کہا کہ تین بڑے ڈبے شہد کے اٹھا کے اس کو دے دیے جائیں 

ایاز نے کہا حضور اس کو تو تھوڑی سی چاہیے 

آپ  تین ڈبے  کیوں دے رہے ہیں ۔

بادشاہ نے ایاز   سے کہا ایاز 

وہ مزدور آدمی ہے اس نے اپنی حیثیت کے مطابق مانگا ہے 

ہم بادشاہ ہیں  ہم اپنی حیثیت کے مطابق دینگے ۔

مولانا رومی فرماتے ہیں ۔

آپ اللہ پاک سے اپنی حیثیت کے مطابق مانگیں وہ اپنی شان کے مطابق عطا کریگا شرط یہ ہے کہ

مانگیں تو سہی ......

قحط الرجال

 "قحط الرجال" اس حالت کو کہتے ہیں جب قوم یا ملک میں مخلص، قابل، اور باصلاحیت افراد کی کمی ہو اور عوامی امور کو چلانے کے لیے کوئی موزوں رہنما یا ماہر نہ ہو۔

صدارتی تمغوں و ایوارڈ یافتگان میں کوئی ایک بھی سائنسدان ہے جس نے اجناس یا سبزیوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کا کوئی طریقہ دریافت کیا ہو؟ 

کوئی ایک بھی آبی ماہر ہے جس نے بارش اور سیلاب کے پانی کے استعمال کا کوئی نیا طریقہ بتایا ہو؟ 

کوئی ایک بھی ڈاکٹر ہے جس نے کسی زرعی یا انسانی و حیوانی بیماری کے علاج کی دوا ایجاد کی ہو؟

کوئی ایک بھی انجینیئر ہے جس نے تعمیراتی، طبی، یا کیمیائی شعبے میں کوئی نئی ایجاد کی ہو؟ 

کوئی ایک بھی معیشت دان ہے جس نے قرضوں کی معیشت کی دلدل سے نکلنے کا کوئی طریقہ بتایا ہو؟

جب صرف گلوکار، چور، فراڈیے، بھانڈ، اور میراثی ہی قومی ہیروز اور قابلِ فخر قرار پائیں، 

یہی تو قحط الرجال ہے.

(منقول)

مولانا مودودیؒ ملتان جیل میں

 جب مجھے لاہور سے ملتان جیل لے جایا گیا تو دوپہر کا وقت تھا۔ جو کمرہ دیا گیا تھا اس میں چھت کا پنکھا نہیں تھا اور نلکے کی جگہ ہینڈ پمپ تھا۔ یہ اے کلاس قیدی کا کوارٹر تھا۔ سی کلاس کا ایک مشقتی (قیدی ملازم) دیا گیا تھا، جو بیٹھا انتظار کر رہا تھا۔ تقریبا 40 سال کا خوب تنومند آدمی تھا۔ پہلے تو اس نے مجھ کو غور سے دیکھا اور پھر یکدم اٹھ کھڑا ہوا۔ جلدی جلدی سامان سنبھالا۔ ہینڈ پمپ چلا کر غسل خانے میں پانی رکھا اور کہنے لگا: میاں جی، نہا لیجئے۔ ۔ ۔ ۔ میں غسل خانے سے نکلا تو دیکھا کہ پورے کمرے میں ریت بچھی ہوئی ہے اور اس پر پانی چھڑک کر، چارپائی بچھا کر اس پر بستر کر دیا گیا ہے۔ میں نے پوچھا: پہلے تو اس کمرے میں ریت نہیں تھی، یہ کیوں بچھائی ہے؟ تو وہ کہنے لگا: گرمی بہت ہے، میں اس ریت پر پانی ڈالتا رہوں گا تاکہ کمرہ ٹھنڈا رہے اور آپ دوپہر کو آرام کر سکیں۔ 

جتنی دیر میں مَیں نے ظہر کی نماز پڑھی، اتنی دیر میں اس نے کھانا تیار کرلیا اور بڑے سلیقے سے لا کر میرے سامنے رکھا۔ ساتھ میں بڑی معذرت کرتا رہا کہ مجھے آپ کے ذوق کے متعلق کچھ پتہ نہیں ہے، بس جلدی میں جو ہو سکا، کر لیا ہے۔ 

پھر اس مشقتی نے یہ چیز نوٹ کر لی کہ میں کس وقت کون سی دوا کھاتا ہوں۔ اس کے بعد وہ ناشتے کی، دوپہر کے وقت کھانے کی اور رات کو کھانے کی صحیح صحیح دوائیاں سامنے رکھ دیتا تھا۔ کبھی یہ کہنے کی ضرورت پیش نہیں آئی کہ تم نے صبح کے وقت کی دعا نہیں رکھی ہے۔  ۔ ۔ ۔  ابا جان نے بتایا: اس نے جیل میں میری ایسی خدمت کی اور اس محبت سے خدمت کی کہ میں حیران رہ جاتا تھا

 ایک دن اس مشقتی نے مجھ کو یہ بتایا: جب اس کوارٹر میں میری ڈیوٹی لگائی گئی تھی تو مجھے بتایا گیا تھا کہ ایک نہایت خطرناک قیدی آ رہا ہے، جس نے حکومت کو سخت پریشان کر رکھا ہے! بس اس کو راہ راست پر لانا ہے۔ اس کو اتنا تنگ کرو کہ خاموشی سے معافی نامے پر دستخط کر دے اور حکومت جو شرائط منوانا چاہے مان لے، بس تمہارا کام اسے ہر طرح سے تنگ کرنا ہے۔  کھانا اتنا بدمزہ پکانا کہ زبان پر نہ رکھا جائے۔  بس جی، میں کوارٹر میں بیٹھا آپ کا انتظار کر رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ ذرا دیکھوں تو سہی کہ آج ایسے شخص سے پالا پڑتا ہے؟ آخر میں بھی جرائم پیشہ آدمی ہوں، کسی سے کم تو نہیں ہوں۔  پھر جب آپ اندر آئے تو میں آپ کو دیکھ کر بس سوچتا ہی رہا کہ بھلا آپ جیسے شخص سے بھی کسی کو کوئی خطرہ ہو سکتا ہے؟ میاں جی، آپ کو دیکھتے ہی پہلی نظر میں آپ کی محبت نے میرے دل میں گھر کر لیا۔ 

 پھر ایک روز سپرنٹنڈنٹ جیل آئے اور پوچھا:  کوئی شکایت ہو تو بتائیں۔ میں نے کہا: مجھے تو کوئی شکایت نہیں ہے میں بالکل آرام سے ہوں۔ سپرنٹنڈنٹ جیل دوسرے تیسرے دن آتے رہے اور یہی سوال پوچھتے رہے۔ آخر ایک روز پوچھ ہی لیا کہ آپ یا تو تکلفاً یہ کہہ رہے ہیں یا پھر صحیح بات نہیں بتا رہے۔  میں نے کہا: بھائی، اگر کبھی کوئی تکلیف ہوئی تو بلا جھجھک آپ کو بتا دوں گا، فی الحال کوئی تکلیف نہیں ہے۔ اس پر سپرنٹنڈنٹ جیل نے کہا: فلاں فلاں لیڈر اور سیاستدان حضرات اسی جیل کے اسی کوارٹر میں صرف تین دن میں معافی نامے پر دستخط کرکے چلے گئے تھے، یہ معافی نامے حکومت کی فائلوں میں محفوظ رہتے ہیں اور جب یہ حضرات ذرا زیادہ ہی بڑھ بڑھ کر بولتے ہیں، تقریریں کرتے ہیں اور بیانات داغتے ہیں تو ان کو صرف ایک اشارہ کافی ہوتا ہے کہ آپ کا معافی نامہ کل کے اخبارات میں چھپوا دیا جائے گا، بس اتنا سنتے ہی ان کو سانپ سونگھ جاتا ہے اور ایک صاحب تو دو ہی دن میں رو رو کر معافیاں مانگ کر یہاں سے چلے گئے۔ آپ کس قسم کے آدمی ہیں کہ بڑے خوش بیٹھے نظر آرہے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں بالکل آرام سے ہوں۔ 

 اس پر میں نے انہیں سمجھایا: بھائی، جب زندگی ایک خاص مقصد کے حصول کے لیے گزاری جاتی ہے تو پھر یہ گرمی سردی یا جیل کی کوٹھڑی جیسی منزلیں بالکل ثانوی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں۔ میں نے یہ راستہ خوب سوچ سمجھ کر اختیار کیا ہے۔ برتر از اندیشہ سود و زیاں ہے زنگی، کے مصداق ذاتی آرام اور تکلیف سے میں بے نیاز ہو چکا ہوں۔ سپرنٹنڈنٹ صاحب پھر کہنے لگے:  آخر آپ اپنے آٹھ بچوں کو کس بات کی سزا دے رہے ہیں، ان کے بارے میں بھی تو کچھ سوچیے۔ میں نے جواب دیا: بچوں کو تو میں اللہ تعالی کے سپرد کر آیا ہوں۔ اب وہ جانے اور بچے جانیں، ان کی طرف سے میں بالکل فکر مند نہیں ہوں۔ 

کارساز ما بفکر کار ما 

فکر ما در کار ما آزار ما

( ہمارا کارساز دن رات ہمارے کام بنانے میں لگا ہوا ہے جب ہم اپنی فکر خود کرتے ہیں تو یہ ہماری جان کا آزار ہوتا ہے)

 یہ سن کر سپرنٹنڈنٹ صاحب مایوس ہو کر چلے گئے۔ معافی نامے پر دستخط کرانے کی کوششیں ناکام ہوگئیں۔

 پھر ابا جان (مولانا مودودی) نے بتایا: جب میں تفہیم القرآن لکھنے میں مصروف ہوتا تھا یا جب میں نماز پڑھ رہا ہوتا تھا تو مجھے محسوس ہوتا کہ وہ مشقتی (قیدی ملازم) ٹکٹکی لگائے مجھے دیکھتا رہتا ہے۔  کچھ عرصے بعد بقرعید آ گئی۔ اتفاق سے جو راشن جیل سے دیا جاتا تھا وہ ختم ہوچکا تھا۔ اور مزید راشن ابھی پہنچا نہیں تھا کہ عید کی چھٹیاں شروع ہوں گئیں۔ یہاں تک کہ عید کی صبح کو راشن بالکل ختم ہو چکا تھا۔ وہ سخت پریشان تھا کہ راشن پہنچا نہیں، اب آپ کو ناشتہ کیسے دوں؟ یہاں تک بات کرتے کرتے اس کے منہ سے جیل انتظامیہ کے لیے لئے ایک دو مغلظات نکل چکی تھیں۔ میں نے اس سے کہا: رات کو جو چنے کی دال اور روٹی بچی تھی وہی گرم کر کے لے آؤ۔ وہ کہنے لگا وہ تو میں آپ کو کبھی نہیں دوں گا.  بھلا عید کے دن بھی کوئی رات کی باسی دال روٹی کھاتا ہے؟ میں نے اسے سمجھایا:  بھائی، میری فکر نہ کرو، میں بڑی خوشی سے دال روٹی کھا لوں گا (چونکہ ابا جان صبح آٹھ بجے ناشتہ کرنے کے عادی تھے اور اپنے معمولات میں وقت کے سخت پابند تھے اس لئے انہوں نے آرام سے دال روٹی کا ناشتہ کر لیا۔ یہاں پر دادی اماں کی تربیت رنگ لا رہی تھی جو انہیں کبھی سونے کا نوالہ کھلاتی تھیں اور کبھی چٹنی روٹی)……… جس وقت میں ناشتہ کر رہا تھا تو کسی کے سسکیاں بھر کر رونے کی آواز آئی، پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہی مشقتی بیٹھا رو رہا تھا۔ پوچھا: کیا بال بچے یاد آرہے ہیں؟ کہنے لگا میں تو آپ کو دال روٹی کھاتے دیکھ کر رہا ہوں میں سوچ رہا ہوں کہ عید کے دن رات کی باسی دال روٹی تو ہم غریبوں نے بھی کبھی نہیں کھائی، آپ تو بڑے آدمی ہیں آپ نے کہاں کھائی ہوگی؟…… 

 میں نے اسے شفقت سے سمجھایا: دیکھو بھائی ، میں نے یہ راستہ سوچ سمجھ کر اختیار کیا ہے اور میں بڑی خوشی سے اس راہ پر چل رہا ہوں۔ اگر کبھی بالکل بھوکا بھی رہنا پڑا تو ان شاءاللہ آرام سے رہ لوں گا۔ میری وجہ سے رنجیدہ نہ ہوا کرو۔

 اباجان نے مزید بتایا: میں تو ناشتہ کر کے تفہیم القرآن لکھنے بیٹھ گیا لیکن اس بےچارے مشقتی نے احتجاجاً ناشتہ نہ کیا (اگرچہ اس کے لئے دال روٹی بچی ہوئی رکھی تھی ) … اتنے میں کوارٹر کا دروازہ زور زور سے کھٹکھٹایا گیا۔ مشقتی نے دروازہ کھولا تو ایک سنتری کئ ناشتے دان، بڑے بڑے پیکٹ اور گٹھڑیاں اٹھائے کھڑا کہہ رہا تھا: مولانا صاحب آپ کے چاہنے والے تو فجر کے وقت ہی یہ چیزیں لے آئے تھے اور جیل کے دروازے پر کھڑے تھے لیکن سپرنٹنڈنٹ صاحب کا دفتر عید کے بعد کھلا۔ اس کے بعد ان چیزوں کی تلاشی اور جانچ پڑتال ہوئی اس لئے دیر لگ گئی۔  اب قیدی ملازم نے وہ پیکٹ، ناشتے دان اور گٹھڑیاں کھولیں تو ان میں انواع و اقسام کی نعمتیں تھیں۔  میں نے اپنے جیل کے مشقتی ساتھی سے کہا:  دیکھو، یہ سب تمہارے لئے آیا ہے کیونکہ تم ہی اداسی میں بھوکے بیٹھے رو رہے تھے، اب خوب جی بھر کر کھاؤ اور باقی چیزیں دوسرے قیدیوں میں بانٹ  آؤ۔  آخر یہ پراٹھے، شامی کباب، حلوہ پوری، شیرخورمہ اور مٹھائیاں ان کو بھی تو اچھی لگیں گی۔ 

میں یہ کہہ رہا تھا مگر میرا مشقتی ساتھی کف افسوس مل رہا تھا: کاش وہ دال روٹی میں نے آپ کو دینے کی بجائے کووں کھلا دی ہوتی۔  میرے بہت کہنے پر اس نے ناشتہ کیا اور باقی ساری چیزیں دوسرے قیدیوں میں بانٹ آیا اور ساتھ ہی ساتھ ان سے کہتا: میرے میاں جی کے لیے یہ سب چیزیں آئی تھیں انہوں نے تمہیں بھجوائی ہیں!…۔ 

پھر ابا جان نے کہا: عید کے روز دوپہر ہوئی تو اسی طرح دروازہ کھٹکھٹایا گیا اور پھر اسی طرح ناشتے دان اور ہانڈیاں کپڑے میں بندھی ہوئی آگئیں۔ ایسے ایسے کھانے آئے کہ مشقتی ساتھی تو حیران رہ گیا۔  اس نے مجھے کھانا کھلایا اور باقی قیدیوں میں بانٹ آیا۔ رات کو پھر اتنا ہی کھانا آ گیا۔ غرض یہ کہ عید کے تین دن ہمارے رفقا نے ملتان جیل میں اتنا زیادہ اور ایسی ایسی انواع و اقسام کا کھانا پہنچایا کہ سارے جیل والے عش عش کر اٹھے۔ 

 ادھر ابا جان ہمیں یہ تفصیلات بتا رہے تھے، ادھر اماں جان ہمیں متوجہ کرتے ہوئے کہہ رہی تھیں: دیکھو ، سورہ مریم میں یہی بات کہی گئی ہے: 

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجۡعَلُ  لَہُمُ  الرَّحۡمٰنُ  وُدًّا ﴿۹۶﴾

یعنی جو اہل ایمان نیک اعمال کرتے ہیں، رحمان ان کے لئے لوگوں کے دلوں میں محبت ڈال دیتا ہے۔ 

وہ اسی طرح زندگی کے واقعات کو آیات اور احادیث کے ساتھ منطبق کر کے ہمیں ان کا مطلب سمجھایا کرتی تھیں۔ آج بھی اماں جان کے الفاظ کانوں میں گونجتے ہیں۔

" تم عمل تو کر کے دیکھو، پھر آیتیں اور حدیثیں خود اٹھ کر تم کو اپنا مطلب سمجھائیں گی"۔ 


اقتباس از ہمارے والدین۔۔  شجر ہائے سایہ دار 

 سیدہ حمیرا مودودی

بچیوں کی تربیت

 1:   اپنی بچیوں کو کبھی کسی بھی مرد ٹیچر کے پاس سکول پڑھنے،، یا قاری صاحب کے پاس قرآن پڑھنے کے لیے نہ بھیجیں! بچی چھوٹی ہو یا بڑی ہو،، ٹیچر یا قاری صاحب بڑی عمر کے سمجھ دار ہوں یا کم عمر نوجوان..  بچی ہمیشہ استانی کے پاس ہی پڑھے گی

2:   جب بچی کچھ بڑی بڑی لگنے لگے تو اسے دکان پر چیز لینے نہ جانے دیں! خواہ بچی کتنی ہی کم عمر ہو.. اگر صحت مند ہے اور خد و خال واضح ہو رہے ہیں تو دکان پر مت جانے دیں

3:   بچیوں کو کم لباس، یا تنگ لباس کر کے باہر مت بھیجیں! بلکہ گھر میں بھی مکمل کپڑے پہنا کر رکھیں! گھر میں کوئی مرد نہ ہو، صرف عورتیں ہی ہوں پھر بھی پورے ، اور کشادہ کپڑے پہننے کی عادت ڈالیں

4:   بچیوں کو چھوٹے بچوں ، یا بڑے مرد کسی کے سامنے مت نہلائیں! اور نہ ہی پیشاب وغیرہ کروائیں! حتیٰ کہ باپ کے سامنے بھی بچیوں کو برہنہ مت کریں! بچیوں کے اعضاء ستر بچپن سے ہی پردے میں رہنے چاہییں

5:   بچیوں کو بچیوں جیسا تیار کریں! سرخی پوڈر اور میک اپ کروا کر انہیں عورتوں کے مشابہ مت بنائیں! میک اپ کرکے تنگ کپڑے پہن کر چھوٹی چھوٹی عورتیں لگ رہی ہوتی ہیں ۔۔ پھر مردوں کی ہوس کی شکار بنتی ہیں ،، اور ان کی لاشیں ویرانوں سے برآمد ہوتی ہیں

6:   بالغ لڑکیوں کو،، یا قریب البلوغ بچیوں کو غیر محرم خصوصاً کزن، پھوپھا اور خالو وغیرہ کے ساتھ کبھی موٹر سائیکل پر مت بٹھائیں! اگر مجبوراً بھیجنا ہو تو ساتھ کوئی اور بچہ بھیجیں جو درمیان میں بیٹھ جائے۔

7:   بچیاں ہوں یا بچے.. ہاتھ کا مذاق ان سے کوئی نہیں کرے گا۔ نہ استاد ، نہ کوئی بڑا انکل ، نہ ہی قریبی رشتے دار..

اسی طرح گالوں پر ہاتھ پھیرنا ، گود میں بٹھانا ، گدگدی کرنا وغیرہ.. یہ سب چیزیں بالکل ممنوع قرار دیں

8:   بہنوں کے کمرے بھائیوں سے الگ ہونے چاہییں! بھائیوں کو بہنوں کے کمروں میں بلا اجازت جانے پر سخت سزا دیں! بہنوں کے گلے لگنا، گلے میں ہاتھ ڈالنا، مذاق مذاق میں ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہونا بالکل غلط ہے ۔۔ بلکہ موجودہ حالات کے پیش نظر بے ہودگی کے زمرے میں آتا ہے ۔

9: گھر میں کوئی بھی نامحرم مرد مہمان آئے ، قریب سے آئے یا دور سے،، جوان بچیاں اس سے سر پر ہاتھ نہیں رکھوائیں۔ بلکہ بہت قریبی رشتے دار نہ ہو تو سلام کرنا بھی ضروری نہیں۔ یہ بے ادبی کے زمرے میں نہیں آتا ۔

اپنی بچیوں کی جوانی کو ایسے چھپا کر رکھیں کہ کسی مرد کو ان کا سراپا ہی معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ فلاں کی لڑکی اتنی موٹی اور اتنی لمبی تھی وغیرہ ۔۔

10:   بچیوں کو گھر میں محرم رشتے داروں کے سامنے دوپٹہ لینے اور سنھبالنے کی خصوصی مشق کروائیں! دوپٹہ سر سے کبھی سرک بھی جائے تو سینے سے بالکل نہیں ہٹنا چاہیے!

اور کھلے گلوں پر سختی سے پابندی لگائیں! بچیوں کو سمجھائیں کہ دستر خوان پر کبھی کسی کے سامنے جھک کر سالن نہیں ڈالنا، کوئی چیز گر جائے تو جھک کر نہیں اٹھانی.. اور اکیلے میں بھی اگر جھک کر کوئی کام کریں تو گلے اور سینے پر دوپٹے برابر قائم رہے ۔۔ تاکہ انجانے میں بھی کسی کی نظر نہ پڑے..

یہ چند باتیں ہیں جن پر عمل کرنے سے ان شاءاللہ بہت فائدہ ہوگا،، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی بچیاں محفوظ رہیں تو ان پر عمل کریں

ورنہ یاد رکھیں کسی کو آپ کی بچیوں پر ہونے والی زیادتیوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔ان کی لاش گٹر میں ملے ، ندی نالوں میں ملے یا کسی ویرانے میں ملے۔۔  تو یہ صرف اخبار کی ایک خبر ہے ، یا ٹی وی کی نیوز...

 انصاف وغیرہ کو بھول جائیں! وہ یہاں نہیں ملتا ۔

*اس لیے بہتر ہے کہ خود ہی احتیاط کریں ۔

(منقول)

وہابی انگریز

 ہمارے ایک دور پار کے چچا بہت عرصہ غیر ملکی کنسٹریکشن کمپنی میں رہے .... طبیعت میں بذلہ سنجی کوٹ کوٹ کر بھری تھی-

ایک بار فرمانے لگے کہ 1979ء میں ہم مظفرگڑھ کے قریب کسی پراجیکٹ پر کام کر ریے تھے- ہمارا انچارج ایک انگریز تھا جو قدرے سخت مزاج واقع ہوا تھا-

ایک سرد اور دھند آلود صبح جب میں سائٹ پر پہنچا تو بلڈوزر آپریٹر اللہ بخش سخت پریشان کھڑا تھا .... 

مجھے دیکھتے ہی وہ میری طرف لپکا اور ہانپتے کانپتے اطلاع دی کہ " بابا سائیں" ناراض ہو گئے ہیں اور میرا بلڈوزر بند کر دیا ہے- خدا کےلئے میری سفارش کر دو-

میں نے حیرت سے پوچھا کونسے بابا سائیں ؟

وہ بولا قبر والا بابا سائیں ، بہت بڑی سرکار ہیں-

پھر وہ مجھے ساتھ لئے جنگلی جھاڑیوں کے بیچ بنی ایک چھوٹی سی ٹیکری پر لے گیا جو قدرے قبر سے مشابہ تھی-

 اللہ بخش کے مطابق آج صبح کوشش کے باوجود اس کا بلڈوزر  اسٹارٹ نہ ہو سکا تو اچانک اسے یہ قبر نظر آئی ....

 خیر  مشورہ ہوا کہ مسٹر اسٹیفن سے بات کر کے سڑک کی سمت تبدیل کرائی  جائے ..... یہ نہ ہو کہ بابا ہم سب کو ساڑ کر سواہ کر دے ....

وہ بولا سائیں تم خود بات کرو ، ہماری تو نہ بابا سائیں سننے کو تیار ہے نہ ہی اسٹیفن سائیں !!

میں بھاگا بھاگا مسٹر اسٹیفن کے آفس پہنچا اور ماجرا سنایا .... وہ فون پر بزی تھے .... ایک لمحے ہولڈ کہ کر  میری بات سنی ، پھر سرد لہجے میں بولے

" بُل شِٹ !!! "

میں سنی ان سنی کر کے کھڑا رہا- اس کے بعد مسٹر اسٹیفن فون پر بزی ہوگئے .... اور میں استغفار پڑھتا ہوا واپس ہو لیا-

واپس سائٹ پر آکر میں نے ٹیکری والی سرکار کو سجدہ کیا ،  پاؤں چومے اور وعدہ کیا کہ ایک بار بلڈوزر اسٹارٹ کرنے دو ، ہم ریورس کر لیں گے- اور دوبارہ ادھر کا رخ بھی نہ کریں گے- اس کے بعد میں نے خود بلڈوزر اسٹارٹ کرنے کی بہت کوشش کی ... لیکن سائیں بہت تگڑا تھا اور بلڈوزر بہت کمزور !!!

چنانچہ ایک بار پھر جوتے چٹخاتا مسٹر اسٹیفن کے سامنے جا کھڑا ہوا ....

"سر وُہ ...... بابا " میں نے بمشکل کہا-

انہوں نے غصے سے فون کریڈل پر پٹخا ، گودام سے ایک پرانا کپڑا ، لکڑی کا ڈنڈا اور پھاوڑہ لیا اور زیرِلب انگریزی میں کچھ بڑبڑاتے ہوئے میرے ساتھ سائٹ کی طرف چل پڑے-

میں ڈرا کہ یا تو آپریٹر اللہ بخش کی خیر نہیں یا بلڈوزر کو آگ لگانے کا ارادہ ہے-  بلڈوزر کے پاس آکر انہوں نے کپڑا  ڈنڈے کے ساتھ باندھ کر ٹینکی سے تھوڑا ڈیزل نکالا ....اور مشعل جلا کر بلڈوزر کا انجن گرمانے لگے .... اس کے بعد چابی لے کر بلڈوزر پر چڑھے اور پہلی ہی اگنیشن میں اسٹارٹ کر دیا....

میں اور اللہ بخش ایک دوسرے کی طرف حیرت اور شرمندگی سے دیکھنے لگے- اس کے بعد صاحب  نے چابی اللہ بخش کی طرف پھینکی ... پھر بیلچہ لے کر قبر کی اینٹ سے اینٹ بجانے لگے-

 ساتھ ساتھ وہ بڑبڑا بھی رہے تھے....

روڈ فار پیپلز  .... ناٹ فار ڈیڈ باڈیز ... انڈراسٹینڈ یو بابا بلیک شیپ  !!!!!"

میں اور عبدالکریم اس دن شام تک مسٹر اسٹیفن کے سڑ کر سواہ ہونے کا انتظار کرتے رہے ...... لیکن وہ منحوس اگلے روز بھی ہشاش بشاش ہی دکھائی دیا ، وہی مونہہ میں ادھ بجھا سگار اور وہی ٹیڑی گندی ہیٹ !!

پروجیکٹ ختم ہوتے ہی مسٹر اسٹیفن تو ولایت چلے گئے ، مجھے اور اللہ بخش کو ایک نئی ٹیکری مل گئی اور ہم نے اس پر " بابا بلڈوزر شاہ " کا جھنڈا لہرا کر ہی چھوڑا- 

 ایک روز اللہ بخش بولا ..... 

" ملک سائیں  ..... سمجھ نہیں آتی کہ بابا نے اسٹیفن گستاخ کو ساڑ کر سواہ کیوں نہیں کیا تھا ؟؟.."

میں نے ایک ٹھنڈی سانس لیکر کہا....." اللہ بخش !!! بابے صرف انہی کو ساڑ کر سواہ کرتے ہیں جو انہیں مانتے ہوں ....

اسٹیفن تو وہابی انگریز تھا ... اور وہابی تو بابوں کو مانتے ہی نہیں 

(منقول)

بچوں کی اچھی تربیت

 ‏جب بچے نوجوانی(11 سے 19 سال  ) میں داخل ہوں تو انھیں کچھ باتیں خاص طور پر بتائیں 

1- وہ اپنے ناخن ہمیشہ صاف ستھرے اور درست انداز میں کاٹ کر رکھیں اس لیے کہ لوگ سب سے پہلے آپ کے ناخن دیکھتے ہیں۔ صرف دیکھتے ہیں، کہتے کچھ نہیں، 

2:-ڈیڈورنٹ یا کوئی خوشبو ضرور لگایا کریں۔ آپ کے پاس سے کوئی بدبو نہیں آنی چاہیے، کیونکہ آپ کے پاس سے بیڈ اسمیل آنے پر آپ کے دوست، اسکول فیلو، ہمسفر، آفس کولیگز اور آس پاس کے لوگ اس سے سخت پریشان ہوں گے۔

لیکن بولیں گے کچھ نہیں۔۔۔! کیونکہ یہ بہت پرسنل معاملہ ہے 

3:-اس کے بعد اپنے دانت بہت اچھی طرح صاف رکھیں، منہ سے آنے والی بدبودار سانسیں آپ کے مخاطب کو سخت ناگوار گزرتی ہیں۔

مگر لوگ کچھ کہیں گے نہیں۔۔۔!

ایسے معاملات میں آپ کو کچھ کہہ ہی نہیں سکتے، کہیں آپ ناراض ہی نہ ہوجائیں۔۔۔

4:-گردن اور کان کی صفائی بہت توجہ سے کرنی ہے، ناک کے بال ہر ہفتے کاٹنے ہیں، گردن بہت اچھی طرح مَل کر دھونی ہے، کہ کوئی میل نظر نہ آئے۔۔۔

کیونکہ کوئی اس بارے میں سمجھاتا نہیں ہے۔۔۔

دیکھتا ہے مگر خاموش رہتا ہے۔ لیکن

نمبر کٹ جاتے ہیں۔۔۔!

پھر

ناک کان منہ میں انگلیاں نہیں ڈالنی، ناخن نہیں چبانے، بار بار ناک، چہرہ، سر نہیں کھجانا۔

ضرورت ہو تو بہت نفاست سے سلیقے سے ایسا کرسکتے ہیں۔ مثلاً ناک میں خارش ہورہی ہے تو انگلی سے نہیں، ٹشو، رومال یا الٹے ہاتھ کی پشت سے آہستہ سے کھجا سکتے ہیں۔

سیدھے ہاتھ سے تو ہرگز نہیں کیونکہ اس سے آپ نے کسی سے ہاتھ ملانا ہوتا ہے۔

اس لیے بہتر ہے رومال یا ٹشو پیپر ضرور ساتھ رکھیں۔

کیونکہ

نمبر۔۔۔۔۔۔۔!

اسی طرح جسم کے مخصوص حصوں شرمگاہ وغیرہ پر سر عام کبھی ٹچ نہ کرنا۔

چند مزید ہدایات جو کہ یاد دہانی کے لیے اکثر دہراتے رہیں۔

1۔ چاہے شلوار ہو یا پینٹ، انڈروئیر ضرور پہنیں۔

2۔ گھر سے باہر جاتے وقت منہ اٹھائے جھاڑ جھنکار یا الجھے بکھرے روانہ مت ہونا، اپنا منہ ہاتھ دھو کر، بال بنا کر، درست لباس، اچھے جوتے پہن کر جائیں۔ چاہے قریب کی مارکیٹ سے کچھ سامان ہی کیوں نہ لانا ہو۔

3۔ شوز کی پالش اور صفائی کا خاص خیال رکھیں کیونکہ

آپ کی شخصیت کے بارے میں لباس سے زیادہ آپ کے شوز بتاتے ہیں۔

4۔ آدھے پونے پاجامے، ادھوری شرٹس اور ٹائیٹس سخت معیوب لگتی ہیں، خاص طور پر لڑکوں مسجد میں جاتے ہوئے شلوار قمیض میں ہونا چاہیے۔ آدھے بازو کی چھوٹی شرٹ اور جینز کی قمیض آپ سے پیچھے کھڑے نمازیوں کو بہت پریشان کرتی ہے، ان کی توجہ متاثر ہوت

5۔ گھر کے اندر کا لباس بھی باوقار ہونا چاہیے۔

6۔ ماں باپ اور بہنوں کے کمروں میں کبھی دروازہ بجائے بغیر نہیں جانا۔ بہنوں کے کمرے اور زنان خانہ میں بلاوجہ اور دیر تک نہیں بیٹھنا چاہیے۔

7۔ لڑکیو۔۔۔ اب آپ بڑی ہو گئی ہیں، اپنے میلے کپڑے خود دھونا سیکھیں۔ انھیں واش روم میں لٹکا چھوڑ کر مت آئیں۔

8۔ اپنی ضرورت کی پرسنل چیزیں اپنی الماری میں رکھیں۔

9۔ بچے جب ٹین ایج میں داخل ہوں تو والدین بازار سے ریزر اور بلیڈز لا کر دیں اور اپنے بازو پر بال صاف کر کے سمجھائیں کہ کس طرح اپنے جسم کے اندرونی حصوں کے بال ہر ہفتے صاف کرنے ہیں؟

10۔ اپنی اور دوسروں کی پرسنل اسپیس کا بہت خیال رکھیں۔ پرسنل اسپیس ناپنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ

اپنا ہاتھ اور پورا بازو کھول لیں، یہ اندازاً ڈھائی سے تین فٹ بنتا ہے۔ نہ کبھی کسی کی پرسنل اسپیس میں جائیں۔۔۔

یعنی تین فٹ دور رہ کر بات کریں۔۔۔ نہ کسی کو زیادہ قریب آنے دیں۔ یقیناً سفر میں، کار، بس یا جہاز کی سیٹ کا معاملہ ذرا مختلف ہے لیکن اس کے بھی آداب ہیں اور سفر کے سب آداب سیکھنے چاہییں۔

11۔ بچوں کو سمجھایا جائے کہ کسی کو فون کریں یا کسی کے پاس جائیں تو سب سے پہلے ایک سانس میں یہ چار باتیں بتا دیں۔۔۔

سلام، نام، مقام، کام

یعنی پہلے سلام کریں، پھر اپنا اور اپنے علاقے یا ادارے کا نام بتائیں، پھر آنے کا مقصد بتا کر اجازت لیں کہ

آپ سے بات ہوسکتی ہے؟ میں اندر آسکتا ہوں؟ یا کرسی پر بیٹھ سکتا ہوں؟

اجازت ملے تو ٹھیک ورنہ پھر کبھی سہی۔۔۔!

12۔ بغیر اجازت کسی کی میز سے ایک بال پین یا ٹشو تک نہیں اٹھانا، کیونکہ

"یہ جرم کے زینے کا پہلا قدم ہے۔"

13۔ ایک بات جو اکثر بتائیں کہ بیٹا کسی سے فون پر بات کریں یا کسی کے پاس جائیں تو اپنے چہرے پر ہلکی سی حقیقی مسکراہٹ ضرور رکھیں۔ یہ مسکراہٹ آپ کے لیے کامیابی کے بے شمار دروازے کھول دیتی ہے۔

14۔ لڑکے کسی سے ہاتھ ملائیں تو پورا ہاتھ ملائیں، گرم جوشی سے اس کے ساتھ نظریں بھی ملائیں۔ یہ نہیں کہ منہ اِدھر، ہاتھ اُدھر بات کسی اور سے۔۔۔!

15۔ جب دسترخوان پر بیٹھیں تو ایک دوسرے کا لحاظ کر کے تمیز سے کھائیں۔۔۔ ایسا نہ سمجھیں کہ آج کے بعد کھانا نہیں ملنا۔

مزید آپ نے کون سے اصول بنائے اور اپنائے ہوئے ہیں؟

بچوں کی اچھی تربیت، ان کے لیے ہمارا سب سے اچھا تحفہ ہے۔

گڑھے کی بجائے سمندر

 دو عورتیں قاضی ابن ابی لیلی کی عدالت میں پہنچ گئیں،یہ اپنے زمانے کے مشہور و معروف قاضی تھے. 

قاضی نے پوچھا

تم دونوں میں سے کس نے بات پہلے کرنی ہے؟

ان میں سے بڑھی عمر والی خاتون نے دوسری سے کہا تم  اپنی بات قاضی صاحب کے آگے رکھو.

وہ کہنے لگی قاضی صاحب یہ میری پھوپھی ہے میں اسے امی کہتی ہوں چونکہ میرے والد کے انتقال کے بعد اسی نے میری پرورش کی ہے یہاں تک کہ میں جوان ہوگئی.

قاضی نے پوچھا اس کے بعد ؟

وہ کہنے لگی پھر میرے چچا کے بیٹے نے منگنی کا پیغام بھیجا انہوں نے ان سے میری شادی کر دی،میری شادی کو کئی سال گزر گئے ازدواجی زندگی خوب گزر رہی تھی ایک دن میری یہ پھوپھی میرے گھر آئی اور میرے شوہر کو اپنی بیٹی سے دوسری شادی کی آفر کرلی ساتھ یہ شرط رکھ لی کہ پہلی بیوی(یعنی میں) کا معاملہ پھوپھی کے ہاتھ میں سونپ دے،میرے شوہر نے کنواری دوشیزہ سے شادی کے چکر میں شرط مان لی میرے شوہر کی دوسری شادی ہوئی سہاگ رات کو میری پھوپھی میرے پاس آئی اور مجھ سے کہا تمہارے شوہر کے ساتھ میں نے اپنی بیٹی بیاہ دی ہے تمہارا شوہر نے تمہارا معاملہ میرے ہاتھ سونپ دیا ہے میں تجھے تیرے شوہر کی وکالت کرتے ہوئے طلاق دیتی ہوں.

جج صاحب میری طلاق ہوگئی.

کچھ عرصے بعد میری پھوپھی کا شوہر سفر سے تھکے ہارے پہنچ گیا وہ ایک شاعر اور حسن پرست انسان تھے میں بن سنور کر اس کے آگے بیٹھ گئی اور ان سے کہا کیا آپ مجھ سے شادی کریں گے؟ اسکی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا اس نے فوری ہاں کرلی،میں نے ان کے سامنے شرط رکھ لی کہ آپ کی پہلی بیوی(یعنی میری پھوپھی) کا معاملہ میرے ہاتھ سونپ دیں اس نے ایسا ہی کیا میں نے پھوپھی کے شوہر سے شادی کرلی اور اس کے شوہر کی وکالت کرتے ہوئے اسے طلاق دے ڈالی.

قاضی حیرت سے پھر ؟

وہ کہنے لگی قاضی صاحب کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی.

کچھ عرصہ بعد میرے اس شاعر شوہر کا انتقال ہوا میری یہ پھوپھی وراثت کا مطالبہ کرتے پہنچ گئی میں نے ان سے کہا کہ میرے شوہر نے تمہیں اپنی زندگی میں طلاق دی تھی اب وراثت میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے، جھگڑا طول پکڑا اس دوران میری عدت بھی گزر گئی ایک دن میری یہ پھوپھی اپنی بیٹی اور داماد(میرا سابقہ شوہر) کو لیکر میرے گھر آئی اور وراثت کے جھگڑے میں میرے اسی سابق شوہر کو ثالث بنایا اس نے مجھے کئی سالوں بعد دیکھا تھا مرد اپنی پہلی محبت نہیں بھولتا ہے چنانچہ مجھ سے یوں مل کر اس کی پہلی محبت نے انگڑائی لی میں نے ان سے کہا کیا پھر مجھ سے شادی کروگے؟

اس نے ہاں کرلی 

میں نے ان کے سامنے شرط رکھ لی کہ اپنی پہلی بیوی(میری پھوپھی کی بیٹی) کا معاملہ میرے ہاتھ میں دیں،اس نے ایسا ہی کیا.

میں نے اپنے سابق شوہر سے شادی کرلی اور اس کی بیوی کو شوہر کی وکالت کرتے ہوئے طلاق دے دی.

قاضی ابن ابی لیلی سر پکڑ کر بیٹھ گئے  پھر پوچھا کہ 

اس کیس میں اب مسئلہ کیا ہے؟

میری پھوپھی کہنے لگی :

قاضی صاحب کیا یہ حرام نہیں کہ میں اور میری بیٹی دونوں کی یہ لڑکی طلاق کروا چکی پھر میرا شوہر اور میری بیٹی کا شوہر بھی لے اڑی اسی پر بس نہیں دونوں شوہروں کی وراثت بھی اپنے نام کرلیا۔

قاضی ابن ابی لیلی کہنے لگے:

مجھے تو اس کیس میں حرام کہیں نظر نہیں آیا،طلاق بھی جائز ہے،وکالت بھی جائز ہے،طلاق کے بعد بیوی سابقہ شوہر کے پاس دوبارہ جاسکتی ہے بشرطیکہ درمیان میں کسی اور سے اس کی شادی ہو کر طلاق یا شوہر فوت ہوا ہو تمہاری کہانی میں بھی ایسا ہی ہوا ہے.

اس کے بعد قاضی نے خلیفہ منصور کو یہ واقعہ سنایا خلیفہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگئے اور کہا کہ جو کوئی اپنے بھائی کیلئے گڑھا کھودے گا خود اس گڑھے میں گرے گا یہ بڑھیا تو گڑھے کی بجائے گہرے سمندر میں گر گئی۔

منقول

ارسطو اور سکندر

 ارسطو اپنے شاگرد سکندر کو کہا کرتا تھا کہ عورتوں سے دور رہا کرو۔

 محل کی عورتوں نے ارسطو کے پیچھے ایک خوبصورت لڑکی لگا دی ۔۔تاکہ اسے سبق سکھایا جائے اور وہ ان کے اور سکندر کے بیچ مداخلت نہ کرے

ایک دن اس لڑکی نے ارسطو سے فرمائش کی کہ اسے گھوڑے کی سواری کرنی ہے ، ارسطو گھوڑا بنا اور اس لڑکی نے سواری کی

اسی دوران سکندر کو اطلاع کر دی گئ کہ جو استاد آپ کو ہم سے روکتا ہے اسکی اپنی حالت ملاحظہ کی جائے

 جب سکندر وہاں پہنچا اور پوچھا استاد جی یہ کیا ؟؟

  ارسطو نے جواب دیا ۔۔اسی لئے تو تمہیں روکتا ہوں کہ یہ عورتیں مجھ جیسے فلسفی کو بھی گدھا بنا دیتی ہیں۔۔



ایک سُکھی گھرانے کے آزمودہ فارمولے

 بیوی:- دیکھو ناں، ہمارے پڑوسی نے 50 انچ کا LED ٹی وی خریدا ہے آپ بھی خرید لائیے ناں۔۔؟؟🙁

شوہر:- ارے ڈارلنگ ۔۔ جس کے پاس تم جیسی خوبصورت بیوی ہو۔۔ وہ کیوں کر فالتو کا وقت 📺 TV دیکھنے میں برباد کرے گا۔۔؟؟ 😉

بیوی:- اوہ آپ بھی نا۔۔ ابھی آپ کے لئے پکوڑے بنا کر لاتی ہوں

😘

بیوی:- آپ میری سالگرہ کا دن کیسے بھول گئے۔۔؟؟

😡

شوہر:- بھلا تمہاری سالگرہ کا دن کوئی کیسے یاد رکھے۔۔ تمہیں دیکھ کر ذرا بھی نہیں لگتا کہ تمہاری عمر بڑھ رہی ہے۔۔!!! 🤗

بیوی:- ( آنسو پونچھتے ھوئے) سچی۔۔ آپ کے لئے کھیر بنا کر آتی ھوں۔

😘

(شوہر بیوی میں جھگڑا ہو رہا تھا)

بیوی:- میں پورا گھر سنبھالتی ہوں۔۔!!!

کچن کو سنبھالتی ہوں۔۔!!!

بچوں کو سنبھالتی ہوں۔۔!!!

تم کیا کرتے ہو۔۔؟؟؟؟؟ 😏

#شوھر:- میں خود کو سنبھالتا ہوں۔۔ تمہاری نشیلی آنکھیں دیکھ کر۔۔!!!! 🤗

#بیوی:- آپ بھی نہ۔۔۔

چلو بتاؤ آج کیا بناؤں آپ کی پسند کا۔۔؟؟؟ 😘

رابطہ اور تعلق

ایک بوڑھے شخص (ریٹائرڈ پروفیسر) کا انٹرویو نیویارک کے ایک صحافی نے کیا۔ صحافی نے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق بوڑھے شخص سے انٹرویو شروع کیا۔

صحافی: "جناب، آپ نے اپنی ایک تقریر میں 'رابطہ' اور 'تعلق' کے بارے میں بتایا تھا۔ یہ واقعی الجھن پیدا کرتا ہے۔ کیا آپ براہ کرم وضاحت کر سکتے ہیں؟"

بوڑھے شخص نے مسکراتے ہوئے اور بظاہر سوال سے ہٹ کر صحافی سے پوچھا:

"کیا آپ نیویارک سے ہیں؟"

صحافی: "جی ہاں..."

بوڑھے شخص: "آپ کے گھر میں کون کون ہیں؟"

صحافی نے محسوس کیا کہ بوڑھا شخص سوال کا جواب دینے سے گریز کر رہا ہے کیونکہ یہ بہت ذاتی اور غیر ضروری سوال تھا۔ پھر بھی، صحافی نے کہا: "والدہ کا انتقال ہو چکا ہے۔ والد ہیں۔ تین بھائی اور ایک بہن۔ سب شادی شدہ ہیں..."

بوڑھے شخص نے مسکراتے ہوئے پھر پوچھا: "کیا آپ اپنے والد سے بات کرتے ہیں؟"

صحافی نے محسوس کیا کہ بوڑھا شخص سوال کا جواب دینے سے گریز کر رہا ہے کیونکہ یہ بہت ذاتی اور غیر ضروری سوال تھا۔ پھر بھی، صحافی نے کہا: "والدہ کا انتقال ہو چکا ہے۔ والد ہیں۔ تین بھائی اور ایک بہن۔ سب شادی شدہ ہیں..."

بوڑھے شخص نے مسکراتے ہوئے پھر پوچھا: "کیا آپ اپنے والد سے بات کرتے ہیں؟"

صحافی کا چہرہ واضح طور پر ناراض نظر آیا...

بوڑھے شخص نے کہا: "آپ نے آخری بار ان سے کب بات کی؟"

صحافی نے اپنی ناراضگی کو دبانے ہوئے کہا: "شاید ایک مہینہ پہلے۔"

بوڑھے شخص: "کیا آپ کے بھائی اور بہنیں اکثر ملتے ہیں؟ آپ نے آخری بار کب ایک خاندانی اجتماع میں ملاقات کی؟"

اس موقع پر، صحافی کے ماتھے پر پسینہ آ گیا۔

ایسا لگا کہ بوڑھا شخص صحافی کا انٹرویو کر رہا تھا۔

صحافی نے آہ بھرتے ہوئے کہا: "ہم آخری بار کرسمس پر دو سال پہلے ملے تھے۔"

بوڑھے شخص: "آپ سب کتنے دن ایک ساتھ رہے؟"

صحافی (اپنے ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے) نے کہا: "تین دن..."

بوڑھے شخص: "آپ نے اپنے والد کے ساتھ کتنا وقت گزارا، ان کے بالکل پاس بیٹھ کر؟"

صحافی پریشان اور شرمندہ نظر آیا اور کاغذ پر کچھ لکھنا شروع کر دیا...

بوڑھے شخص: "کیا آپ نے ایک ساتھ ناشتہ، دوپہر یا رات کا کھانا کیا؟ کیا آپ نے ان سے پوچھا کہ وہ کیسے ہیں؟ کیا آپ نے ان سے پوچھا کہ والدہ کے انتقال کے بعد ان کے دن کیسے گزر رہے ہیں؟"

صحافی کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

بوڑھے شخص نے صحافی کا ہاتھ پکڑا اور کہا: "شرمندہ، پریشان یا اداس نہ ہوں۔ اگر میں نے آپ کو انجانے میں تکلیف پہنچائی ہو تو معذرت چاہتا ہوں... لیکن یہ بنیادی طور پر آپ کے سوال کا جواب ہے "رابطہ اور تعلق" کے بارے میں۔ آپ کا اپنے والد سے 'رابطہ' ہے، لیکن آپ کا ان سے 'تعلق' نہیں ہے۔ آپ ان سے جڑے ہوئے نہیں ہیں۔ تعلق دل سے دل کے درمیان ہوتا ہے... ایک ساتھ بیٹھنا، کھانا شیئر کرنا اور ایک دوسرے کا خیال رکھنا، چھونا، ہاتھ ملانا، آنکھوں سے رابطہ کرنا، کچھ وقت ایک ساتھ گزارنا... آپ کے تمام بھائیوں اور بہنوں کا 'رابطہ' ہے لیکن ایک دوسرے سے 'تعلق' نہیں ہے..."

صحافی نے اپنی آنکھیں پونچھتے ہوئے کہا: "مجھے ایک عمدہ اور ناقابل فراموش سبق سکھانے کا شکریہ۔"

یہ آج کی حقیقت ہے۔

چاہے گھر میں ہو یا معاشرے میں، سب کے پاس بہت سارے "رابطے" ہیں، لیکن کوئی "تعلق" نہیں ہے۔ ہر کوئی اپنی دنیا میں مصروف ہے...

آئیے صرف "رابطے" نہ رکھیں بلکہ "تعلق" بھی رکھیں۔ ایک دوسرے کا خیال رکھنا، شیئر کرنا اور اپنے پیاروں کے ساتھ وقت گزارنا...

چڑھدے پنجاب تہ لہندے پنجاب دا انوکھا پیار

 ارشد ندیم رات گولڈ میڈل جیتے ۔سب نے خوشی کا اظہار کیا اپنے اپنے انداز میں لیکن سب سے خوبصورت ویڈیو جو میرے  دل کو چھو گئ۔جس نے میری سوئ حسرتوں  کو پھر جگا دیا کہ 

دنیا میں چند دن کے مہمان ہیں جانے کب بلاوا آجاے تو دنیا کے اس باغ میں محبت کے پودے آگا جائیں 

وہ ویڈیو تھی 👇

۔۔۔۔نیرج چوپڑا ( انڈیا ) کی والدہ کی ۔خالص ہریانوی زبان میں ممتا سے بھرپور جذبات ارشد ندیم کے لیے ۔۔۔۔

انہوں نے نفرت پھیلانے والوں کے خیالات کو بحیرہ عرب میں غرق کر دیا صرف ایک جملے کہ ۔۔۔۔ارشد بھی میرا بیٹا ھے ۔۔۔۔

تجسس بڑھا کہ ایک انڈین پاکستان کے بارے یہ جذبات کیسے رکھ سکتا ھے تو حیران رہ گیا کہ 

دونوں ایتھلیٹ حریف ھونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھے دوست بھی ہیں اور ارشد ندیم کی اپنے خوابوں کی تعبیر کے سفر کے دوران انتھک محنت کے بعد نیرج چوپڑا نے ہر قدم پر انکا ساتھ دیا اس سفر میں 

اگر یہ محبت بھری سوچ پروان چڑھ جاے دونوں طرف کہ سب سے پہلے ۔۔۔۔انسانیت ۔۔۔۔تو نفرت کے کاروبار کی بہت سی دوکانوں کو تالے لگ جائیں اور دونوں طرف کی عوام کی مشکلات میں بہت حد تک آسانیاں پیدا ھو جائیں ۔نفرت کی آگ میں جلتے سینے جو دونوں طرف بے تحاشہ دولت آگ بنانے میں جھونک دیتے ہیں اس سے دونوں ممالک اپنی عوام کو بہترین سہولیات فراہم کر سکتے ہیں 

لیکن 

۔۔۔۔ہزاروں خواہشیں ایسی ۔۔۔۔

لیکن ایک بات تاریخ میں  ہمیشہ کے لیے امر ھو گئ ھے 



اسلام کی دس بنیادی باتیں

1- اللہ کے نزدیک ، دین صرف اسلام ہی ہے۔ (ال عمران :19)

ا2-سلام کے علاوہ کوئی اور دین قبول نہیں کیا جائے گا۔ ( ال عمران : 85)

3- اس " حقیقت" کے باوجود ، اللہ ہر فکر ، ہر مذھب اور ہر رائے کو ازادی دیتا ہے۔ ( الدھر: 3 )

4- سلامی ریاست ،نماز قائم کرے گی ، نماز زکوٰۃ قائم کرے گی۔ معروفات کا حکم دے گی۔ منکرات سے روکے گی۔( الحج :41)  5-  ریاست قران و سنت کے مطابق ہوگی ، جہاں غیر مسلموں کی جان ،  مال ، عزت ابرو وغیرہ کا تحفظ کیا جائے گا۔

6- سیکیولرازم بھی ایک دین ہے، اور یہ  بھی کفر  ہے ۔ اس دین کا مطلب یہ ہے کہ دین کو گھر اور عبادت گاہوں تک محدود کردیا جائے۔ اسلام اس تحدید کو قبول نہیں کرتا۔

7- وحدت ادیان کا عقیدہ کفر ہے۔ 

دین الہی اور بہائیت کے رجحانات مسلمانوں کے لیے زہر ہیں۔

8- ایک مسلمان ، دوسرے مذاہب کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے نہیں دیکھ سکتا۔ وہ اسلام پر راضی اور مطمئن رہتا ہے۔

9- مسلمان ، دوسرے مذاہب کا مطالعہ اس نیت سے کرے کہ انہیں جان کر اسلام کی تبلیغ بہتر انداز میں کی جاسکے۔

10- اسلامی رواداری کا مطلب مسلمانوں کا دوسرے مذاہب کے مراسم ، تہذیب اور ثقافت کو قبول کرنا نہیں ہے۔

دوسرے مذاہب کو برداشت کرنا اور چیز ہے ، انہیں صحیح سمجھنا اور ان پر ایمان لانا ایک بالکل الگ چیز ہے۔


خلیل الرحمٰن چشتی 

صدقہ ایسے بھی دیا جاتا ہے

 ایک اسکول ٹیچر بس میں سوار ہوئی تو کوئی سیٹ خالی نہیں تھی....ایک غریب عورت جو سیٹ پر بیٹھی تھی۔ اِس نے بڑی عزت کے ساتھ آواز دی، آجائیے میڈم ، آپ یہاں بیٹھ جائیں ، کہتے ہوئے اس نے اپنی سیٹ پر استانی کو بیٹھا دیا اور خود کھڑی ہو گئی۔ میڈم نے شکریہ ادا کرتے ہوئے اُسے دعائیں دیتے ہوئے کہا میری تو بری حالت تھی۔یہ سن کر اس غریب عورت کے چہرے پر ایک خوش کن مسکان پھیل گئی۔

 کچھ دیر بعد استانی کی پاس والی سیٹ خالی ہو گئی، لیکن اس عورت نے ایک اور عورت کو (جو ایک چھوٹے بچے کے ساتھ سفر کر رہی تھی اور مشکل سے بچے کو اٹھا پا رہی تھی) سیٹ پر بیٹھا دیا اگلے اسٹاپ پر وہ عورت بھی اتر گئی ، سیٹ پھر خالی ہوگئی ، لیکن اس نیک دل عورت نے پھر بھی بیٹھنے کی کوشش نہیں کی بلکہ ایک کمزور اور بزرگ آدمی کو بیٹھا دیا ، جو ابھی ابھی بس میں سوار ہوئے تھے، کچھ دیر کے بعد وہ بزرگ بھی اتر گئے ، سیٹ پھر سے خالی ہو گئی ۔بس میں چند مسافر ہی رہ گئے تھے۔

 استانی نے غریب خاتون کو اپنے پاس بٹھایا اور پوچھا کہ کتنی بار سیٹ خالی ہوئی لیکن آپ لوگوں کو بٹھاتی رہیں، خود نہیں بیٹھیں، کیا بات ہے؟

 اس خاتون نے جواب دیا میڈم میں مزدور ہوں، میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ میں کچھ صدقہ خیرات کر سکوں، تو میں یہ کرتی ہوں کہ ،کبھی سڑک پر پڑے پتھروں کو اٹھا کر ایک طرف رکھ دیتی ہوں، کبھی کسی پیاسے کو پانی پلا دیتی ہوں، کبھی بس میں کسی کے لیے سیٹ چھوڑ دیتی ہوں ، پھر جب سامنے والا مجھے دعائیں دیتا ہے تو میں اپنی غربت بھول جاتی ہوں، میری دن بھر کی تھکن دور ہو جاتی ہے اور تو اور جب میں روٹی کھانے کے لیے کسی سڑک کنارے بیٹھتی ہوں، کچھ پرندے میرے قریب آکر بیٹھ جاتے ہیں، میں روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے ان کےسامنے ڈال دیتی ہوں، جب وہ خوشی سے چلاتے ہیں تو خدا کی اس مخلوق کو خوش دیکھ کر میرا پیٹ بھر جاتا ہے، سوچتی ہوں، روپے پیسے نہ سہی ، مفت میں دعائیں تو مل ہی جاتی ہیں ، یہ فائدہ ہی ہے نا اور ہمیں دنیا سےکیا لے کر جانا ہے،

 غریب عورت کی باتیں سن کر۔ استانی ہکا بکا رہ گئیں ، ایک ان پڑھ غریب عورت نےاتنا بڑا سبق انہیں پڑھا دیا۔

 اگر دنیا کے آدھے لوگ بھی ایسی خوبصورت اور مثبت سوچ اپنا لیں تو یہ زمین جنت بن جائے گی سب کے لئے، صدقہ و خیرات صرف پیسے سے نہیں دل سے بھی کیا جاتا ہے۔

زندگی کو مفید بنائیے

 سیدہ مریم کی شادی نہیں ہوئی پھر بھی ایک کامیاب خاتون تھیں۔ ان کی حیا اور عبادت گزاری کا تذکرہ ان کے نام کے ساتھ قرآن میں موجود ہے ۔

اماں خدیجہؓ کے بیٹے نہیں تھے پھر بھی رب نے انکو سلام کہلوائے۔

اماں عائشہؓ کی اولاد نہیں تھی پھر بھی ساری عمر اس غم میں نہیں کھپائی بلکہ کم عمری میں بیوگی کے باوجود بامقصد اور پروقار زندگی گزاری۔ 48 سال ترویج دین میں مشغول رہیں۔ 

حضرت آسیہ کو اچھا شوہر نہیں ملا پھر بھی آخر دم تک حق کے راستے پر ڈٹی رہیں۔

* اپنی زندگی کی محرومیوں کو اپنی کمزوری نہیں طاقت بنائیے *

لوگ بھی تبھی آپکی محرومیوں کو زبان کی نوک پر رکھ لیتے ہیں جب آپ اس بات پر خود بہت حساس ہوں۔۔

ہر حال میں رب کا شکر ادا کیجئے اور اپنی ذات کی نفی کرنے کے بجائے جو جیسا ہے اسے ویسا قبول کرنے کی صلاحیت پیدا کیجئے۔۔

جب تک زندہ ہیں زندگی کو بوجھ نہ بنائیے۔۔

زندگی کو مفید بنائیے اور اوروں کیلئے مفید بن جائیے۔



منہ بند رکھنا حکمت ہے

 کہتے ہیں کہ کسی جگہ پر بادشاہ نے تین بے گناہ افراد کو سزائے موت دی،* بادشاہ کے حکم کی تعمیل میں ان تینوں کو پھانسی گھاٹ پر لے جایا گیا جہاں ایک بہت بڑا لکڑی کا تختہ تھا جس کے ساتھ پتھروں سے بنا ایک مینار اور مینار پر ایک بہت بڑا بھاری پتھر مضبوط رسے سے بندھا ہوا ایک چرخے پر جھول رہا تھا، رسے کو ایک طرف سے کھینچ کر جب چھوڑا جاتا تھا تو دوسری طرف بندھا ہوا پتھرا زور سے نیچے گرتا اور نیچے آنے والی کسی بھی چیز کو کچل کر رکھ دیتا تھا، چنانچہ ان تینوں کو اس موت کے تختے کے ساتھ کھڑا کیا گیا، ان میں سے ایک 

 ■ایک عالم

 ■ ایک وکیل

 ■ اور ایک فلسفی

تھا. سب سے پہلے عالم کو اس تختہ پر عین پتھر گرنے کے مقام پر لٹایا گیا اور اس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو عالم کہنے لگا میرا خدا پر پختہ یقین ہے وہی موت دے گا اور زندگی بخشے گا، بس اس کے سوا کچھ نہیں کہنا. اس کے بعد رسے کو جیسے ہی کھولا تو پتھر پوری قوت سے نیچے آیا اور عالم کے سر کے اوپر آکر رک گیا، یہ دیکھ کر سب حیران رہ گئے اور عالم کے پختہ یقین کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی اور رسہ واپس کھینچ لیا گیا. 

اس کے بعد وکیل کی باری تھی اس کو بھی تختہ دار پر لٹا کر جب آخری خواہش پوچھی گئی تو وہ کہنے لگا میں حق اور سچ کا وکیل ہوں اور جیت ہمیشہ انصاف کی ہوتی ہے. یہاں بھی انصاف ہوگا. اس کے بعد رسے کو دوبارہ کھولا گیا پھر پتھر پوری قوت سے نیچے آیا اور اس بار بھی وکیل کے سر پر پہنچ کر رک گیا، پھانسی دینے والے اس انصاف سے حیران رہ گئے اور وکیل کی جان بھی بچ گئی. 

اس کے بعد فلسفی کی باری تھی اسے جب تختے پر لٹا کر آخری خواہش کا پوچھا گیا تو وہ کہنے لگا عالم کو تو نہ ہی خدا نے بچایا ہے اور نہ ہی وکیل کو اس کے انصاف نے، دراصل میں نے غور سے دیکھا ہے کہ رسے پر ایک جگہ گانٹھ ہے جو چرخی کے اوپر گھومنے میں رکاوٹ کی وجہ بنتی ہے جس سے رسہ پورا کھلتا نہیں اور پتھر پورا نیچے نہیں گرتا، فلسفی کی بات سن کر سب نے رسے کو بغور دیکھا تو وہاں واقعی گانٹھ تھی انہوں نے جب وہ گانٹھ کھول کر رسہ آزاد کیا تو پتھر پوری قوت سے نیچے گرا اور فلسفی کا ذہین سر کچل کر رکھ دیا. 



حکایت کا نتیجہ.. 

بعض اوقات بہت کچھ جانتے ہوئے بھی منہ بند رکھنا حکمت میں شمار ہوتا ہے..

ایسے گھر نہیں بستے

 کل رات ساسو ماں کی ٹانگیں دبا رہی تھی تو فرمانے لگیں اگر بہو ساس کو ماں سمجھنے لگے تو کسی گھر  میں ساس بہو کا جھگڑا نہ ہو..

تو میں نے کہا میری شدید ترین خواہش ہے کہ میں اس گھر میں ایک دن صرف ایک دن اپ کی بیٹی بن کر گزاروں اپ بھی مجھے اپنی بیٹی سمجھیں کیا برداشت کر لیں گئیں اپ ساسو ماں نہ سمجھی کی حالت میں بولی کیوں نہیں میں تو تمھیں بیٹی ہی سمجھتی ہو بیٹی سمجھ کر ہی بیاہ کر لائی تھی تم نہ سمجھو تو الگ بات ہے .

میں نے کہا آپ نے ایک گھنٹہ بھی پورا نہیں کرنا اور آپ نے فوری ساس بن جانا ہے پوچھنے لگیں  کیوں بیٹی بن کر کیا کرنا چاہتی ہو.

میں نے کہا اپنی مرضی کا دن گزارنا چاہتی ہوں آپ کے سامنے بیٹھ کر ٹی وی دیکھنا چاہتی ہوں آپ کچھ کہیں تو آپ کو ٹھوک کر جواب دینا چاہتی ہوں اونچا میوزک سننا چائتی ہوں آپ کی آواز  کو اگنور کرنا چاہتی ہوں کمرے میں آنے پر آپ کو کہنا چاہتی ہوں جاتے ہووے دروازہ بند کر جاہیں لائٹ آف کر جائیں چائے کا ایک کپ بنا دیں.

کل میری دوستیں آ رہی ہیں ان کے لیے بریانی آپ نے بنانی ہے اور وہ سب کچھ جو آپ کی بیٹیاں میرے سامنے کرتی ہیں اور آپ کو ان کی ہر بات پر پیار اور میری انھی باتوں پر غصہ آتا ہے .

ساسو ماں کو چڑھ غصہ گیا اور فوری  پیر پیچھے کھینچ لیے اور کہنے لگیں 

ایسے گھر نہیں بستے !



اسلام ایک پیارا مذہب

 کسی زمانے میں ایک غیر مسلم نے اسلام قبول کیا تو اس سے پوچھا گیا کے اسلام کی کس بات نے تجھے متاثر کیا.

تو وہ بولا کہ  صرف ایک واقعہ میری ہدایت کا سبب بن گیا.

کہا مجلس رسول صلہ اللہ علیہ وسلم لگی ہوئی تھی لوگوں کا ہجوم تھا. ایک شخص نے عرض کی حضور  میرے لیے دعا کر دیں میرا بچہ کئی دنوں سے مل نہیں‌رہا مل جائے.قبل اس کے کہ حضور کے ہاتھ اٹھتے ۔۔۔۔

ایک شخص مجلس موجود تھا کھڑا ہو گیا حضور میں ابھی ابھی فلاں باغ سے گزر کر آیا ہوں . اس کا بچہ وہاں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا.باپ نے جب سنا کے میرا بچہ فلاں باغ میں ہے تو اس نے دوڑ لگا دی.

آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا  اس کو روکو واپس بلاو۔۔ 

اس نے کہا  حضور  آپ جانتے ہیں کے ایک باپ کے جذبات کیا ہوتے ہیں.کہا اچھی طرح سے آگاہ ہوں..                                          لیکن تمہیں بلایا ہے بلانے کا بھی ایک مقصد ہے. اس نے کہا جی حضور ارشاد فرمائیں.

کہا جب باغ جاؤ بچوں کے ساتھ اپنے بچے کو کھیلتا ہوا دیکھ لو تو بیٹا بیٹا کہہ کر آوازیں نا دینے لگ جانا. جو نام رکھا ہے اس نام سے پکارنا 

کہا حضور میرا بیٹا ہے اگر میں بیٹا کہ کر بلاؤں تو ہرج بھی کیا ہے.

فرمایا تم کئی دنوں کے بچھڑے ہو تمہارے لہجے میں بلا کا رس ہو گا، اور تم نہیں جانتے کے کھیلنے  والوں میں کوئی یتیم بھی ہو. اور جب تم اپنے بیٹے کو بیٹا کہہ کر پکارو گے اتنا میٹھا لہجہ ہو گا تو اس کے دل پر چوٹ لگے گی اور کہے گا کاش آج میرا بھی باپ ہوتا مجھے  بیٹا کہ کر پکارتا.فرمایا یہ شوق گھر جا کر پورا کرنا.

آپ نے فرمایا کسی بیوہ کے سامنے اپنی بیوی سے پیار نہ کرو،غریب کے سامنے اپنی دولت کی نمائش کرنے سے روکا گیا.

حضور صل اللہ  علیہ وسلم نے یہاں تک  فرمایا کے اپنے گوشت کی خوشبو سے اپنے ہمسائے کو تنگ نا کرو.

لاھور اور دلّی میں فرق

 کسی نے خشونت سنگھ سے پوچھا ، "سردار جی آپ یہ فرمائیں کہ لاھور اور دِلّی میں کیا فرق ھے؟؟

خشونت نے سر ھِلا کر کہا ، ''بھئی جب میں لاھور گیا تو مجھے کنیئرڈ کالج میں مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا۔ تقریر کے دوران میں نے ھال میں براجمان سینکڑوں لڑکیوں میں سے کسی ایک ایسی لڑکی کو تلاش کرنا چاھا جو شکل کی اچھی نہ ھو۔ ایک بھی نہ تھی۔

پچھلے ھفتے میں یہاں دلّی کے ایک گرلز کالج میں بلایا گیا تو تقریر کرتے ھُوئے میں نے ھال میں بیٹھی ھُوئی لڑکیوں میں سے کسی ایک ایسی لڑکی کو تلاش کیا جس کی شکل اچھی ھو ، ایک بھی نہ تھی۔

یہ فرق ھے لاھور اور دلّی میں۔ 



دوستی کے درجے

 عربی میں دوستی کے 13 درجے ہیں۔   زیادہ تر لوگ 'دوست' کے لیول 5 یا اس سے نیچے کے ہوتے ہیں، اور ہم میں سے بہت سے لوگوں کا ایک بھی لیول 12 کا دوست نہیں ہے۔

       دوستی کے درجات یہ ہیں:

1. زمیل

 کوئی ایسا شخص جس سے آپ صرف ملاقات کی حد تک واقف ہوں۔

 2. جلیس

 کوئی ایسا شخص جس کے ساتھ آپ کچھ وقت بغیر کسی پریشانی کے گزار سکیں۔

 3. سمیر

 ایسا شخص جس کے ساتھ بات چیت کرنے میں آپ کو کوئی دقت نہ ہو۔

 (یہ وہ مقام ہے جہاں سے معاملات سنجیدہ ہونا شروع ہوتے ہیں)

 4. ندیم

 پینے پلانے والا ایک ساتھی (صرف چائے) جسے آپ فرصت کے لمحوں میں یاد کر سکیں۔

 5. صاحب 

 کوئی ایسا شخص جو آپ کی خیریت کے لیے فکرمند ہو۔ (اب ہم دوستی کے حقیقی مقام کی طرف بڑھ رہے ہیں)

 6. رفیق

 کوئی ایسا شخص جس پر آپ انحصار کر سکیں۔  آپ شاید ان کے ساتھ اپنی چھٹیاں بھی گزارنا چاہیں

 7. صدیق

 ایک سچا دوست، کوئی ایسا شخص جو آپ سے کسی مطلب برآری کے لیے دوستی نہیں کرتا۔ بلکہ اس سے آپ کے تعلقات کی بنیاد بےلوث اور اخلاص پر مبنی ہو

 8. خلیل

 ایک قریبی دوست، کوئی ایسا شخص جس کی موجودگی آپ کو خوش کر دے۔

 9. انیس- 

کوئی ایسا شخص جس کی موجودگی میں آپ راحت محسوس کریں

 10  نجی -

 قابل بھروسہ/اعتماد

 کوئی ایسا شخص جس پر آپ کو گہرا اعتماد ہو۔

 11. صفی- 

آپ کا بہترین دوست، کوئی ایسا شخص جسے آپ دوسرے دوستوں پر فوقیت دیتے ہیں۔

 12. قرین 

کوئی ایسا شخص جو آپ سے الگ نہ ہو اور نہ صرف آپ جانتے ہوں کہ وہ کیسا سوچتا ہے بلکہ وہ بھی آپ کے خیالات سے واقف ہو آپ دونوں ایک دوسرے کے مزاج آشنا ہوں ۔ 

13۔ حبیب

یہ دوستی کی اعلیٰ ترین شکل ہے جس میں دوستی کے باقی سب اوصاف کے ساتھ دوست محبوب کے مرتبه پر فائز ہوتا ہے۔ يعنی  . . . وہ انسان جس سے بے لوث محبت ہو۔

  آپ بتائیے آپکے اردگرد کس درجے کے اور کتنے دوست ہیں؟

انسانی زندگی کے مستعار سال

 حالانکہ یہ تلخ حقیقت ہے۔

پرانے زمانے میں کہا جاتا تھا:

کتے سے کہا گیا: "تم انسانوں کے گھروں کی حفاظت کرو گے، اور انسان کے بہترین دوست بنو گے۔ تمہیں ان کے چھوڑے ہوئے کھانے سے گزارا کرنا ہوگا، اور میں تمہیں تیس سال کی زندگی دوں گا۔"

کتے نے کہا: "تیس سال بہت زیادہ ہیں، مجھے صرف پندرہ سال چاہیے۔" چنانچہ اسے اس کی مرضی کے مطابق مل گیا۔


بندر سے کہا گیا: "تم درخت کی شاخوں پر جھولتے رہو گے، اور لوگوں کو ہنسانے کے لیے کرتب دکھاؤ گے۔ تمہیں بیس سال کی زندگی دی جائے گی۔"

بندر نے کہا: "بیس سال بہت زیادہ ہیں، مجھے صرف دس سال چاہیے۔" چنانچہ اسے اس کی مرضی کے مطابق مل گیا۔


گدھے سے کہا گیا: "تم بغیر کسی شکایت کے دن بھر کام کرو گے، اور اپنے اوپر بھاری بوجھ اٹھاؤ گے۔ تمہیں جو اور کھانا پڑے گا، اور تمہاری کوئی عقل نہیں ہوگی۔ تمہیں پچاس سال کی زندگی دی جائے گی۔"

گدھے نے کہا: "پچاس سال بہت زیادہ ہیں، مجھے صرف بیس سال چاہیے۔" چنانچہ اسے اس کی مرضی کے مطابق مل گیا۔


انسان سے کہا گیا: "تم زمین پر سب سے زیادہ عقل مند مخلوق ہو، اور تم اپنی عقل کو استعمال کر کے باقی مخلوقات پر حاکم بنو گے۔ تمہیں ایک خوبصورت زندگی دی جائے گی اور تم بیس سال تک زندہ رہو گے۔"

انسان نے کہا: "بیس سال بہت کم ہیں! مجھے ان تیس سالوں کی بھی ضرورت ہے جو گدھے نے نہیں چاہے، اور ان پندرہ سالوں کی جو کتے نے نہیں چاہے، اور ان دس سالوں کی جو بندر نے نہیں چاہے۔" چنانچہ اسے اس کی مرضی کے مطابق مل گیا۔


تب سے انسان بیس سال تک انسان کی طرح زندہ رہتا ہے، پھر شادی کے بعد:

تیس سال گدھے کی طرح کام کرتا ہے، صبح سے شام تک مشقت کرتا ہے اور بوجھ اٹھاتا ہے۔

پھر جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں، تو پندرہ سال کتے کی طرح گھر کی حفاظت کرتا ہے، دروازے بند کرتا ہے اور کم کھاتا ہے یا اپنے بچوں کے چھوڑے ہوئے کھانے پر گزارا کرتا ہے۔

پھر جب بوڑھا ہو جاتا ہے اور ریٹائر ہو جاتا ہے، تو دس سال بندر کی طرح زندہ رہتا ہے۔ ایک گھر سے دوسرے گھر، ایک بیٹے سے دوسرے، ایک بیٹی سے دوسری، اور اپنے پوتے پوتیوں کو ہنسانے کے لیے کہانیاں سناتا ہے۔


تو، اے ابن آدم، کیوں غرور کرتے ہو؟

(منقول فرضی کہانی)

بچے کہنا کیوں نہیں مانتے

بچے کہنا کیوں نہیں مانتے

👈🏻  اس لیے کہ

آپ کو اپنی بات منوانے کا طریقہ نہیں آتا..!!

ہمارے استاد کہتے ہیں

ٹریننگ بچوں کی نہیں تمہاری ہونی چاہیئے

میں نے کہا استاد پھر بتائیے

بچے کیسے ہماری بات مان لیں...؟

✔ وقت پر پڑھائی کریں

✔ کھانا  ٹھیک سے کھائیں

✔  اپنے سامان کپڑے، کھلونے سمیٹ کر رکھیں

✔  اپنا کمرہ صاف رکھیں

✔  وقت پر ہوم ورک کر لیں

✔  بڑوں کے ساتھ  تمیز سے پیش آئیں

✔  بچے آپس میں لڑائی جھگڑا نہ کریں

وغیرہ وغیرہ وغیرہ...!!!


استاد محترم نے جواب دیا

بچے ہر بات مان لیں گے

بس انہیں زبان سے کہنا چھوڑ دو..!

اور اپنی برین پاور سے کام لو

ابھی 

تم سارا سارا دن رات صبح شام ہفتوں ان کے ساتھ

جھک جھک کرتے ہو

اور صرف ایک منفی لائن بار بار دھراتے ہو

🥀 تم ایسا کیوں نہیں کرتے..!

🥀 تم پڑھائی کیوں نہیں کرتے.!

🥀 تم کھانا کیوں نہیں کھاتے.!

🥀  تم اتنا لڑتے کیوں ہو.!

🥀  تم اتنے گندے کیوں رہتے ہو.!

🥀 تم آپس میں لڑتے کیوں ہو.!

🥀 تم نے میرا دماغ کھا لیا ہے.!

تم

تم

تم

♨ آپ نے بچوں سے شکوہ کر کر کے

ان تک منفی انرجی پہنچا کر انہیں تھکا دیا ہے..!

🧠 ان کے دل دماغ میں منفی سوچوں کا انبار لگ گیا ہے

وہاں کسی اچھے کام کی پازیٹو سوچ کو رکھنے کی جگہ ہی نہیں ہے

اور تم نے خود ایسا کیا ہے

اب

آپ ان سے

ان ہی کے بھلے کی فائدہ کی کوئی بات

کہتے ہو

وہ اس کا الٹ کرتے ہیں

وجہ آپ خود ہو

آپ انہیں زبان سے ھدایات دینا بند کر دو

اب ایک نیا تجربہ کرو 

اور چوبیس گھنٹے میں دو بار 

رات کو جب بچے سوئے ہوں

اور صبح انہیں جگاتے وقت 

ان کے قریب بستر پر بیٹھ کر

کان کے پاس سرگوشی کے انداز میں

✔ ان کے اچھے کاموں کی تعریف کرو

✔ انہیں ایپریشیٹ کرو

✔ انہیں حوصلہ دو

✔  ان سے کہو:

🌷 تم بہت سمجھدار ہو

🌷 تم بہت ذہین ہو

🌷 تم بہت ذمہ دار ہو

🌷  تم بہت تمیز دار ہو 

غرض یہ کہ

آپ ان میں جو جو خوبی دیکھنا چاہتے ہو

اور ان کی جو بھی کی خراب عادات تبدیل کرنا چاہتے ہو

ان کے لاشعوری ر ذہن میں محفوظ کر دو

یاد رکھو! 

جو بات لاشعور میں محفوظ ہوگئی

وہ زندگی بھر اسے یاد رکھیں گے

اور اس پر عمل پیرا ہونگے

رات  کو بچوں کے سونے کے فوری بعد اور صبح

انہیں جگاتے وقت ان کے سب کانشز مائنڈ سے

گفتگو کرو

زیادہ بہتر ہے یہ گفتگو زبان کی بجائے

اپنی مائنڈ سے کی جائے

پھر دن اور رات

میں اپنی عبادات کے بعد کچھ وقت مراقبہ

بھی کیجئے

👈🏻 اس مراقبہ کے دوران اپنے بچوں کو

اپنے رشتوں کو، دوست احباب اہل خانہ کو

ان سب کو جنہیں آپ بہت اچھا دیکھنا چاہتے ہیں

اپنی مثبت سوچ، پازیٹو انرجی

ان تک پہنچاؤ

پھر دیکھو

چند روز میں

مشکل سے مشکل بچہ

یا کوئی بھی اور رشتہ کس طرح

تمہاری بات مانتا ہے

🤚🏻 ایک اور بات

🤚🏻🤚🏻  بہت ہی اہم بات

بچوں اور دیگر رشتہ داروں سے 

❌ گلے شکوہ کرنا چھوڑ دو 

نہ ان سے کوئی شکوہ کرو

نہ ان کے بارے میں کسی اور سے گلے شکوے کرو

یہ گلہ، شکوہ، طعنہ، طنز یہی وہ

بیڈ انرجی ہے

جو آج کل بچوں کو، رشتوں کو

تعلقات کو سخت نقصان پہنچا رہی ہے

ابھی دیر نہیں ہوئی..!

آج سے اپنے سمجھانے کے انداز کو بدل کر

زبان کی بجائے مائنڈ سے شروع کر کے دیکھو

پھر

🤝🏻 خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں