کوئی ہے جو مجھے سعد کی خبر لا دے

نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے غزوہ احد کے دن جب جنگ ختم ہو گئی تھی تو فرمایا، کوئی ہے جو مجھے سعد ابن ربیع کی خبر لا دے،

ابی بن کعب رضی اللہ عنہ عرض کرتے ہیں اللہ کے رسول میں یہ حکم بجا لاؤں گا، نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر سعد تمہیں زخمی حالت میں ملے تو اس کو میرا سلام کہنا، صحابی کہتا ہے میں لاشوں میں دیکھتا رہا مجھے سعد کی لاش نہ ملی، میں نے زندوں میں دیکھا سعد نہیں ملا، زخمیوں میں گیا تو میں نے دیکھا سترہ آدمی زخمی ہیں ان زخمیوں کے نیچے زخموں سے چور سعد تڑپ رہا ہے،
میں نے نیچے سے سعد کو نکالا اور نکال کر کہا، تجھے نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے سلام بھیجا ہے، ہاں ہاں، اس نبی نے کہ ساری کائنات جس پر سلام بھیجتی ہے دیکھو اس نے سعد کو سلام بھیجا ہے،
اتنا کہنا تھا سعد ابن ربیع جوش سے اٹھتا ہے، زخمی شیر کی طرح اٹھنا چاہتا ہے، کہا نبی نے مجھے سلام بھیجا ہے، اٹھنا چاہتا ہے مگر تڑپ کر زمین پر گر جاتا ہے جب اٹھا نہ گیا تو سعد نے کہا، اے بھائی ! میرے نبی کو میرا سلام کہنا اور میرے نبی کو کہنا کہ میرے لیے دعا کریں، اور میرا یہ پیغام دینا کہ اگرچہ نیزے اور تیر میرے جسم سے آڑ پار ہو گئے لیکن میں نے اپنے قاتل کے جسم سے بھی نیزہ پار کر دیا اور اسے جہنم واصل کر دیا ہے اور میری قوم انصاریوں کو جمع کرنا، اور کہنا
انصاریو! میرے نبی کے نام پر کٹ جانا، مٹ جانا، لٹ جانا، ذبح ہو جانا، ٹکڑے ٹکڑے ہو جانا،
اگر نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر آنچ بھی آئی تو قیامت کے دن تمہارا سردار تمہیں پکڑے گا، اگر رسول پاک کو کچھ ہو گیا اور تم میں سے ایک بھی زندہ ہوا تو قیامت کے دن بارگاہ الہی میں تمہارا کوئی عذر قبول نہیں ہو گا
ہم نے لیلۃ العقبہ میں رسول پاک پر فدا ہونے کا حلف اْٹھایا تھا۔‘‘ یہ کہا اور ہچکی لے کر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن ربیع کے آخری الفاظ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیے تو نبوت کے ہاتھ بلند ہوئے :
اللہ سعدؓ کو اپنے دامن رحمت میں جگہ دے۔ زندگی اور موت دونوں میں اللہ اور اللہ کے رسول کے بہی خواہ رہے،
طبقات الکبری ابن سعد،
یہی وہ سعد بن ربیع ہیں جن کا رسول پاک نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے بھائی چارہ کروایا، اور انہوں نے عبدالرحمن بن عوف کو کہا تھا میرے پاس بہت دولت ہے آدھا مال تم کو دے دیتا ہوں میری دو بیویاں ہیں تم دونوں کو ایک نظر دیکھ لو جس کو کہو گے طلاق دے دوں گا اس کے بعد تم اس سے نکاح کر لینا، لیکن عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان کی پیشکش قبول نہ کی مگر ان کو بہت دعائیں دی اور کہا آپ مجھے صرف بازار کا راستہ دکھا دیں،
پھر ایک وقت آیا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ مدینہ کے سب سے بڑے تاجر بن گئے،
صحیح بخاری۔ کتاب المناقب باب اخاء النبی بین المہاجرین و الانصار
وہی صحابی ابی بن کعب جو سعد کو لینے گئے تھے، مدینہ منورہ کی ایک گلی سے گزر رہے ہیں ، کہتے ہیں میں نے دیکھا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے مکان کے دروازے پر چٹائی بچھا کر لیٹے ہیں اور ایک چھوٹی سی بچی ابوبکر کے سینے پر کھیل رہی ہے،
ابوبکر صدیق بچی کو چومتے ہیں، اسے سینے لگاتے ہیں، میں نے کہا ابوبکر یہ آپ کی بچی ہے؟
ابوبکر صدیق تڑپ گئے
کہا یہ میری بچی نہیں سعد ابن ربی کی بچی ہے، میں اس لیے اسے پیار کر رہا ہوں، کہ جب سعد کا آخری وقت تھا
اس نے یہ تو کہا تھا کہ میرے نبی کی حفاظت کرنا، اس نے یہ نہیں کہا میری بچی کا خیال کرنا،
وہ یتیم بچی چھوڑ کر دنیا سے چلا گیا، اور رہتی دنیا تک کے لوگوں کو بتا گیا،
اگر نبی محمد صل اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم باقی ہیں تو سارا جہاں باقی ہے،
ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ
قدرو قیمت میں خون جن کا حرم سے بڑھ کر

جھوٹ نہیں بولنا

 حضرت عبداللہ بن عامر ؓ فرماتے ہیں: ایک دن حضور ؐ ہمارے گھر تشریف فرما تھے۔ میری والدہ نے مجھے بلایا (اور کہا) :یہاں آؤ، میں تمھیں ایک چیز دوں گی۔ حضور ؐنے فرمایا کہ تواسے کیا دینا چاہتی ہے؟ والدہ نے کہا: ‘‘میں اسے کھجور دینا چاہتی ہوں۔ ’’ آپ ؐ نے میری والدہ سے فرمایا : اگر تو دینے کے لیے بلاتی اور نہ دیتی تو تیرے نامہ اعمال میں جھوٹ لکھ دیا جاتا۔ سنن ابو داؤد 1994

 مندرجہ بالا حدیث نبویؐ اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ بچوں کے ساتھ بھی کِذب بیانی ناقابلِ قبول ہے۔یوں تو بظاہربچوں سے جھوٹ بول کر اور جھوٹے وعدے کر کے اپنی بات منوائی جاسکتی ہے، لیکن اس طرح سے بچے جھوٹ بولنا اور دھوکہ دینا سیکھ جاتےہیں ۔

لہٰذا اپنےبچوں سے ہمیشہ سچ بولیے اور جب بھی ان سے کوئی وعدہ کیجیے تو اسے لازماً پورا کیجیے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے جھوٹ بولنے اور جھوٹے دلاسےدینے کے باعث وہ بھی جھوٹ بولنا سیکھ جائیں اور بڑے ہوکر ہمارے ساتھ بھی جھوٹے وعدے کرنے سے گریز نہ کریں۔ اُس وقت ایسے والدین اپنے بچوں پرتو خوب ناراض ہو تے ہیںلیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ انھی کا سکھلایا ہوا سبق ہے جو آج بچے اُن کے سامنے دہرارہے ہیں ۔

’’ عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں: ’’ جھوٹ بولنا کسی حال میں جائز نہیں ، نہ سنجیدگی کے ساتھ اور نہ مذاق کے طور پر،اور یہ بھی جائز نہیں ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے بچے سے کوئی چیز دینے کا وعدہ کرے اور پھر پورا نہ کرے ‘‘ ( ادب المفرد)

مذاق میں جھوٹ بولنا بھی اسی طرح کِذب بیانی ہےجس طرح سے جھوٹے وعدے کرنا۔ اپنے بچوں کو اچھے اور جھوٹے مذاق کا فرق سمجھائیے۔اسی طرح آج کل (Prank)کی شکل میں بھی جھوٹ بولا جاتا ہے، جو جھوٹ ہی کی ایک عملی شکل(Practical Lie) ہے۔ آج کل بچے مختلف ویڈیوز دیکھ کر جھوٹا عملی مذاق (Prank)کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عملی مذاق (Practical Joke) اور شرارت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن مذاق کے نام پرجھوٹ کے عملی مظاہرے کی قطعاََ اجازت نہیں۔ لہٰذا ہمیں خود بھی ہر طرح کے قولی اور عملی جھوٹ سے پرہیز کرنا چاہیے اور اپنے بچوں کو بھی اس طرح کی قبیح عادات سے دور رکھنا چاہیے۔خدا ہمیں اور ہمارے بچوںکو سچا انسان بننے اورسچے لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

بچوں کااللہ سے روحانی تعلق کیسے پیدا کریں؟


اللہ تعالیٰ سے روحانی تعلق دین کا بنیادی مقصد ہے ۔ قرآن کے مطالعے سےیہ بات معلوم ہوتی ہے کہ قرآن ہمارے نفوس کو پاک کرنا چاہتا ہے تاکہ اس پاکیز گی کوحاصل کرنے کے بعد ہم عبادت کے ذریعے اپنےخدا سے روحانی تعلق قائم کریں ۔موجودہ دور میں بچوں کی تربیت میں مذہبیت کےا ظہارکی روش تو عام ہے لیکن دیکھنے میں یہ آرہاہے کہ ہماری نئی نسل روحانی تعلق سے خالی ہوتی جارہی ہے۔ مذہبی شناخت اور مذہبی رسومات کی ادائیگی اپنی جگہ اہم ہیں لیکن ان کے ذریعے اگر خُدا سے تعلق ہی پیدا نہ ہوتو پھر کیا فائدہ … یہ توبالکل ایسی ہی بات ہوئی کہ وہ غذا کھائی جائے کہ جس سے بھوک تو مٹ جائےمگر جسم کو طاقت حاصل نہ ہو۔ ہماری نمازیں ، روزے، حج اور خُدا کی راہ میں خرچ کرنا روحانیت سے خالی ہوتا جا رہا ہے۔سب میں نمودو نمائش حاوی ہے۔ عبادات کی اصل کہیں غائب ہو گئی ہے۔

قرآن کے مطالعے اور بچوں پر کیے گئے تجر بات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کون کون سے کام انسان کا خداسے روحانی تعلق قائم کرنے کی بنیاد بنتے ہیں۔ اگر بچوں سے بچپن ہی سے یہ کام کروائے جائیں تو ان کو عبادات میں لذت محسوس ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ قرآن سے رہنمائی لینے میں لطف آتا ہے۔ سنتِ رسول پر عمل کرنےمیں راحت محسوس ہوتی ہے۔ رسول ؐ نے تو فرمایا تھاکہ” نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔”لیکن آج کل جب لوگوں سے پوچھا جائے تو ان کو یہ ٹھنڈک نماز پڑھ کر محسوس نہیں ہوتی۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہمارے روحانی تعلق کی بنیادیں کمزور ہو گئی ہیں۔ جس کی وجہ سے ہماری عبادت میں سےروح نکل گئی ہے۔

ذیل میں ہم نے ان کاموںکی تفصیل بیان کررہے ہیں جن کو کرنے سےبچوں میں بچپن ہی سے خدا کے ساتھ ایک روحانی تعلق پروان چڑھناشروع ہو جاتا ہے۔

1۔ اجر ام فلکی کا مشاہدہ:

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ قدرت الٰہی جن چیزوں میں ظہور کرتی ہے، روز مرہ زندگی میںاُن کا مشاہدہ خدا سے تعلق بناتا ہے۔ گھٹتا بڑھتا چاند دیکھنا، ستاروں کا مشاہدہ کرنا، طلوع اور غروب آفتاب کا مشاہدہ کرنا،آتے جاتے بادلوں ، بارشوں ،طوفانوںاور آندھیوں کا مشاہدہ کرناانسان کو غورو فکرپر اُکساتا ہےاوراُس کا دھیان اِس جانب لے کر جاتا ہے کہ یہ سب چیزیںاِس بات پر دلالت کرتی ہیںکہ اس نظام کو بنانے والا اور چلانے والا کوئی موجود ہے۔ بچوں کو ان کا مشاہدہ کرواکر یہ سوال بار بار پوچھا جائےکہ یہ چاند بنانے والا کون ہے؟ یہ سورج بنانے والاکون ہے؟ سورج اور چاند آپس میں کس کے کہنے کی وجہ سے نہیں ٹکراتے؟ یہ سردی گرمی کا نظام کون اُلٹتا پلٹتا رہتا ہے؟
بچے جب غور کر تے ہیںکہ یہ سب کچھ کرنے والا رب العالمین ہے تو اُن کا روحانی تعلق خدا سے جڑ جاتا ہے۔

 نباتات کا مشاہدہ:

بچوں کو پھولوں ، پودوں ، درختوں ، سبزیوں،پھلوںاور جڑی بوٹیوںکا مشاہدہ کروائیے۔ ان کو بتائیے کہ یہ کس طرح اُگتے ہیں۔ پانی ، سورج کی گرمی اور ہوا، ان کی پرورش کرتی ہے۔ ان پودوں میں جوتبدیلیاں آتی ہیں، ان پر غور و فکر کروائیے اور پوچھیےکہ یہ تبدیلیاں لانے والاکون ہے؟ مختلف سبزیوں اور پھلوں کے رنگوںکا مشاہدہ کروائیے۔ پھر یہ پوچھیے کہ ان کو مختلف رنگ کس نے دیے ہیں؟ مختلف ذائقے کے پھل چکھائیے اور پوچھیے اتنے ذائقوں کا اہتمام کرنے والا کون ہے؟
مختلف درختوں اور پودوں کے پتوں پر غور کروائیےپھر پوچھیے کہ یہ مختلف انواع کے پتوں کو مختلف شکل دینے والا کون ہے؟پھولوں کی خوشبو سنگھوائیے اور پوچھیے کہ اتنی خوشبووں کو کس نے بنایا ہے؟یہ سوالات بچے کے ذہن میں خُدا سے تعلق کی بنیاد بنتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ سب کچھ بلاوجہ نہیں بن گیا ہے اوراِس رنگ برنگی خوب صورتی کے پیچھے لازماََ کوئی بڑا ذہن موجود ہے۔

 جمادات:
بچوں کو پہاڑوں کا سفر کروائیے۔ مختلف رنگ اوراشکال کے پہاڑ دکھائیے۔پہاڑکی ہیبت کا احساس دلائیے۔ بچوں سے پوچھیےکہ پہاڑ کو زمین میں گاڑنے والا کون ہے؟پہاڑسےنکلنے والے چشموں کا مشاہدہ کروائیےکہ کس طرح سخت پہاڑوں کو پھاڑ کر اللہ تعالیٰ پانی نکالتا ہے۔ سنگلاخ پہاڑ، برفیلے پہاڑ،ہرے بھرے پہاڑپر غور کروائیے۔ بچوں سے سوال پوچھیے کہ اگر یہ پہاڑ نہ ہوتے تودُنیا میں ان کے نہ ہونے سے کیا نقصان ہوتا؟جیسے آج ہمالیہ کے پہاڑنہ ہوں تو ہمارے دریا خشک ہو جائیں۔
بچے کو مختلف پتھروں کی شناخت کر وائیے۔ نرم، سخت، گول، مختلف شکلوں کے پتھر۔ اُن کو بتائیے کہ کس طرح پتھر تعمیر کے کام میں استعمال ہوتے ہیں۔اگر یہ پہاڑ نہ ہوتے تو ہمیں تعمیرات میں بہت مشکل پیش آتی ۔ جواہرات کا مشاہدہ کر وائیے ، کس طرح رنگ اور چمک ڈالنے سے وہ انتہائی قیمتی ہو جاتے ہیں ۔اس زینت کا اہتمام کرنے والا کون ہے؟

 حیوانات:
حیوانات کا مشاہدہ کروائیے۔ اُن کے استعما ل کا ذکر، ان کو غذا فراہم کرنا، اُن کو سُدھانا اور انسان کا حیوانات پر قابو پانا، اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ کوئی تو ہے جس نے ان کے اندریہ صلاحیت رکھی ہے کہ یہ انسان کی اطاعت کریں۔جانوروں کا غذا،سواری اوردوائوں کے لیے استعمال، انسان کو یہ سوچنے پرآمادہ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے مخلوق کو تابع اور فرماں بردار بنا کر رکھا ہے۔ بہت سے جان دار کس طرح خوب صورتی کی علامت ہیں۔ جن کو دیکھنے سےان کے خالق کی تعریف کیے بغیر انسان رہ نہیں سکتا۔ یہ سب مشاہدات بچے کا خدا سے روحانی تعلق بننے میں مدد گار ثابت ہوتےہیں۔

 پانی:
بچے کو بتائیے کہ پانی سے کیسے زندگی رواں دواں ہے۔ ہم بارش سے کیسے کیسے فائدے اُٹھا تے ہیں ۔ اگر بارش نہ ہو تو کیا کیا نقصانات ہوتےہیں ۔قحط پڑجاتا ہے۔ نباتات ،حیوانات اور انسانوں کی زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ کس طرح برف باری گلیشیٔر بناتی ہے۔یہ گلیشیٔرسردیوں میں جمے رہتے ہیں اور گرمیوں میں پگھل کر دریاوں کی شکل میں دور دراز علاقوں میں میٹھا پانی پہنچا تےہیں۔ کس طرح ان دریائوں اور جھیلوں سے انسان کو مچھلی کی صورت میں غذا ملتی ہے۔ پھریہ دریا سمندر میں گرتے ہیں۔ سمندر میں آبی حیات انسان کی غذا کا باعث بنتی ہے۔ یہی سمندر کا پانی بھاپ بن کر بارش کا سبب بنتا ہے۔ سمندر ہی سے دُنیا میں ہوا کانظام چل رہا ہے۔کس طرح ٹھنڈی گرم ہوائیں بادل لے کر بارش اور برف باری کا باعث بنتی ہیں ۔ مظاہر قدرت کا یہ مشاہدہ روحانی تعلق کی بنیادیں بناتا ہے۔ قرآن نےکئی مقامات پر ان کا مشاہدہ کرنے اور ان پر غور وفکر کرنے کا حکم دیا ہے۔

 معدنیات:
بچوں کو معدنیات کا تجربہ کروائیے۔ لوہا، تانبا، سیسہ، ٹنِ، شیشہ… کس طرح ہماری زندگی میں کام آتے ہیں۔ کس طرح اللہ تعالیٰ نے انھیں ہماری دسترس میں دیا ہے۔ ان کے استعمال سے ہم دُنیا میں کیا کیا ایجاد ات کر رہے ہیں۔معدنیات اگر نہ ہوتیں تو ہمیں کس قدر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔ خدانے معدنیات کے ذریعے ہمیں کتنی آسانیاں فراہم کی ہیں۔ ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ اس وسیع و عریض کائنات میں جو کچھ بھی اُسے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی خدمت پر معمور کر رکھا ہے۔ لازماََ ان تمام انتظامات کے پیچھے کوئی ذہین ہستی کارفرما ہے جس کو یاد کرنا بہت ضروری ہے۔

تین کلمات ایسے ہیں جو بچوںسے ان مشاہدات کے وقت لازماً کہلوانے چاہییں۔

  • جہاں خوب صورت اور غلطی سے پاک چیز نظر آئے وہاں ” سبحان اللہ ” کہلوائیے۔
  • جہاں انسان کو نعمتیں مل رہی ہوں ان کو دیکھ کر ” الحمد للہ” کہلوائیے۔
  • جن چیزوں کو دیکھ کر ہیبت طاری ہوجیسے بڑے پہاڑ، بڑے درخت وغیرہ ۔وہاں ” اللہ اکبر” کہلوائیے۔

مشاہدات اورپاک کلمات مل کر بچوں کا اپنے رب سے روحانی تعلق مضبوط بناتے ہیں۔

  • قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ قدرت الٰہی جن چیزوں میں ظہور کرتی ہے، روز مرہ زندگی میںاُن کا مشاہدہ خدا سے تعلق بناتا ہے۔
  • جانوروں کا غذا،سواری اوردوائوں کے لیے استعمال، انسان کی سوچ کو اس بات تک لے جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے مخلوق کو تابع اور فرماں بردار بنا کر رکھا ہے۔
  • مظاہر قدرت کا یہ مشاہدہ روحانی تعلق کی بنیادیں بناتا ہے۔ قرآن نے بار بار ان کا مشاہدہ کرنے کو کہا ہے اور ان سے جو فائدہ حاصل ہوتا ہے اس کا تذکرہ کیا ہے۔

بچوں کے لئے اسکول کا انتخاب کیسے کریں

 ابتدائے افرینش سے یہ بات انسان کی فطرت میں شامل ہے کہ وہ خود کو کسی چیز پر قانع نہیں پاتا اور خوب سے خوب تر کی تلاش میں لگاتار سرگرداں و پریشاں رہتا ہے۔دنیا کی تمام ترقی او رارتقاء میں اسی کلیے کو اساسی اہمیت حاصل رہی ہے۔ آدمی نے جس چشمے سے پانی پی کر اپنی علمی تشنگی کو دور کیا اور جس تعلیمی ادارے نے اس کے مستقبل کو روشن اور تابناک بنایا انھیں اداروں کو اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں کمتر پانا اور اس اسکول میں اپنے بچوں کو داخل کرنے سے احتراز میں بھی انسان کے اسی خوب سے خوب ترکی تلاش کا نظریہ کارفرما نظرآتا ہے۔خوب سے خوب تر کی تلاش یقیناًانسان کے لئے بہتر ہے لیکن میسر معیار کو کمتر سمجھ کر اپنی ذات کو ہلاکت میں ڈال کر اونچے معیار کے حصول کے لئے دنیا بھر کی مشقتوں اور پریشانیوں کو اپنا ہم جلیس بنالینا عقل سے بعید فعل نظر آتا ہے۔کسی بھی شئے کے انتخاب سے قبل انسان کو اپنے معیار اور قوت خرید کا بھی بخوبی اندازہ ہونا چاہئے۔انسان اگر اپنے معیارات کے تعین اور مقاصد میں شفافیت نہ رکھ پائے تب اسے اپنے فیصلوں پر کف افسوس ملنا پڑتا ہے۔معیار و ترجیحات کے تعین کے وقت ہر شخص کو اپنی معاشی حالت کو بھی پیش نظر رکھناضروری ہے تاکہ وہ مستقبل کی پریشانیوں سے خود کو محفوظ رکھ سکے۔یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ زندگی کے تمام شعبہ جات کی راہ گزر تعلیمی اداروں سے ہوکر ہی گزرتی ہے ۔اسی لئے والدین کو اپنی اولاد کی بہتر تعلیم کے لئے مناسب اور عمدہ تعلیمی اداروں کے انتخاب میں غایت درجہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔

آج کے تاجرانہ ماحول میں تعلیمی اداروں کی جانچ و پرکھ کے لئے والدین کو اپنے عقل و دانش کے ناخن تیز کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ تعلیمی اداروں کی نعرہ بازی ،اشتہاربازی اور استحصال سے اپنے بچوں کے مستقبل کو بچاسکے۔والدین اولاد کے رشتے کے انتخابمیں جس طرح حد درجہ احتیاط سے کام لیتے ہیں بالکل اسی طرح اچھے اسکول کی تلاش میں بھی بہت محتاط رہیں۔والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے ایسے اسکول میں تعلیم حاصل کریں جس کی نہ صرف عمارت بہتر ہو بلکہ اسکول کے اساتذہ ،پرنسپال اور دیگر اسٹاف تربیت یافتہ، اعلیٰ تعلیم یافتہ ،تجربہ کار مشفق اور اعلیٰ اوصاف کا حامل ہوں۔والدین اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری ایسے اسکولوں کو تفویض کرنا پسند کرتے ہیں جہاں بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی، ذہنی ،جذباتی اور جسمانی تربیت کے وافر مواقع دستیاب ہوں۔والدین کا یہ فرض ہے کہ وہ بچوں کو ایسی تعلیم فراہم کریں جو انھیں ایک ذمہ دار شہری ،ایک کامیاب انسان بنا سکے اور وہ نہ صرف اپنی گھریلو زندگی بہتر طریقے سے گزارنے کے قابل ہوجائیں بلکہ معاشرتی تقاضوں کو بھی احسن طریقے سے پورا کرسکیں۔

والدین بچوں کے اسکول کے انتخاب کے وقت خاص خیال رکھیں کہ جس تعلیمی ادارے میں و ہ اپنے نور نظر کو داخل کرنے جارہے ہیں وہ نہ صرف بچے کو غوغائے علم سے آراستہ کرے بلکہ اللہ سے ڈرنے والے ،انسان دوست،ہمدرد،صلہ رحم معاشرے کے لئے کارآمد انسان تیار کرنے کے اہل ہوں۔ وہ ایسی تعلیم و تربیت فراہم کریں کہ بچے اپنی تعلیم اور کامیابی پر تکبر و غرور کا شکار نہ ہوں۔والدین کی عزت و تکریم کریں ان کا سہارا بنیں۔اکرام انسانیت کے جذبے سے سرشار ہوں۔ بچوں کی تعلیم والدین کی عزت میں اضافے کا سبب بنے ۔بچو ں کے مستقبل کا دارو مدار یقیناًاسکول اور اس کی فراہم کردہ تعلیم و تربیت پر ہوتا ہے اسی لئے والدین اپنے بچوں کو اسکول میں داخل کرتے وقت چند باتوں کا خاص خیال رکھتے ہوئے اپنے بچوں کے مستقبل کو درخشاں اور تابناک بناسکتے ہیں ۔اگر تعلیم و تربیت کی ذمہ داری غلط ہاتھوں میں سونپ دی گئی تو بچوں کا مستقبل تباہ ہوجائے گا۔بچوں کے اسکول کا انتخاب کرتے وقت والدین اس مضمون میں بیان کردہ نکات کا خاص خیال رکھیں۔بیان کردہ ہر خوبی ہر اسکول میں پائی جائے یہ ضروری نہیں ہے لیکن آپ ان اداروں پر اعتماد کرسکتے ہیں جن میں مذکورہ خوبیوں کا ستر یا اسی فیصد حصہ بھی اگر پایا جاتاہو۔

(1)اسکول کے قیام کا مقصد:

اسکول مردم سازی کی فیکٹریاں ہوتی ہیں جہاں انسان ڈھالے جاتے ہیں۔اسکول قلب و نگاہ اور ذہن و دماغ کی تربیت کا کام انجام دیتے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو کسی بھی اسکول میں شریک کرنے سے قبل معلوم کریں کہ یہ مدرسہ و اسکول کس مقصد سے قائم کیا گیا ہے۔تعلیم کے مقصد میں سب سے پہلی اور بنیادی چیز جس کی طرف سب سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے وہ تعلیم کا اعلیٰ مقصد اور بلند نصب العین ہے ۔والدین جس اسکول یا کالج میں اپنے لخت جگر کو داخل کررہے ہیں معلوم کریں کہ وہ اسکول اور کالج کے بانیان کے آگے تعلیم کے اعلیٰ مقاصد ونصب العین موجود ہیں یا نہیں۔دور حاضر میں خانگی اسکولس اور کالجوں کی بہتات ہے ۔تعلیمی اداروں کے بانیان خود اپنے مدرسے اور اسکول کے قیام کے مقاصد اور مشن سے واقف نہیں ہوتے ہیں۔ ان کا واحد مقصد پیسہ لگاؤ اور پیسہ کماؤ ہوتا ہے۔ان کے نزدیک تعلیم ایک جنس تجارت کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ رجحان معاشرے اور بچوں کے لئے بہت ہی تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔

اگر بانیان مدارس کا مقصد ہی صرف مادی فوائد حاصل کرنا ہوتو پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ یہاں کے فارغین معاشرے کی صلح و فلاح میں اپنا گرانقدر رول انجام دیں گے ۔ ایسے اسکولوں کے طلبہ کے نزدیک پڑھنے لکھنے کا مقصد اچھی ملازمتوں کے حصول سے زیادہ کچھ اور نہیں ہوتا ۔ایسی صورت میں خواہ تعلیم کتنی ہی پھیل جائے نہ اس سے ملک کو اجتماعی سطح پر کوئی خاطر خواہ فائدہ پہنچ سکتا ہے اور نہ کوئی ایسی قوم وجود میں آسکتی ہے جو اپنی روٹی اور پیٹ سے آگے سوچ سکتی ہو۔ہمارے معاشرے میں موجود بیشتر تعلیمی ادارے تعلیم و تربیت کے صحیح مقصد سے نا آشنا ہیں ۔والدین اپنے بچوں کو اسکول میں داخل کرنے سے پہلے اس اسکول کے نظریات،مقاصد اور مشن کے بارے میں معلومات حاصل کریں اور ان کی اشتہار بازی کا شکار نہ ہوں ۔ان کی تشہیری باتوں پر بھروسہ نہ کرتے ہوئے خود سے حقائق کا پتہ چلائیں۔آج ہمارے اردگرد پائے جانے والے تعلیمی ادارہ جات جو اپنے آپ کو تعلیمی کاز اور مشن میں مصروف گردانتے ہیں در حقیقت یہ اپنی بغیر گھاٹے اور خسارے کی تجارت میں مصروف ہیں اگر یہ تعلیم کو تجارت نہیں سمجھتے ہیں تو پھر کیوں ہر دن بڑے بڑے اخبارات میں مکمل ایک دو صفحوں کے اشتہارات پر پیسہ صرف کر رہے ہیں۔اس پہلو پر والدین کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔اپنے بچوں کو ایسے اسکولوں میں داخل کریں جس کے بانیان اور منتظمین تعلیم کے اصل مقاصد سے پوری طرح آشنا و واقف ہوں۔برائیوں اور منکرات کو مٹانے میں سعی و جستجو کے حامل ہوں۔ایک نیک اور صالح معاشرے کی تشکیل میں تعلیم کو ایک کارگر ہتھیار گردانتے ہوں۔

(2)اسکول کے بانی اور انتظامی کمیٹی کے افراد کے بارے میں معلومات :

کسی بھی اسکول میں اپنے بچوں کو داخل کرنے سے قبل والدین اسکول کے بانی اور اس کو چلانے والی انتظامی کمیٹی کے ممبران و افراد کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ان کی تعلیمی قابلیت اور ان کی شرافت اور معاشرتی اقدار کا تعین کریں ۔تعلیمی ادارے کے بانی اور منتظمین اگر اعلیٰ اوصاف کے حامل ،خداترس اور نیک لوگ ہوں گے اور ان کے نزدیک تعلیم جیسی گراں مایہ متاع عزیز ضرورت اور کاروباری شئے نہیں بلکہ اعلیٰ مقاصد کے حصول کی جستجو و جد وجہد کا ایک ذریعہ ہوگی درحقیقت وہی لوگ قوم و ملت کی تعمیر کے جذبے سے سرشار ہوں گے۔والدین تجارتی مقاصد پر قائم تعلیمی اداروں میں اپنے بچوں کو ہرگز شریک نہ کرائیں تاکہ وہ اور ان کی اولاد تعلیمی استحصال اوردغابازی سے محفوظ رہ سکیں اور معاشرے کے اعلیٰ اقدار کا دفع کیا جاسکے۔

(3)اسکول کی عمارت:

تعلیمی عمل میں مدرسے کی عمارت کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔اسکول کی عمارت کشادہ اور ہر کلاس روم(کمرۂ جماعت) ہوادار ہونا چاہئے۔طلبہ کی تعلیمی ضروریات کی تکمیل کے تمام سامان مہیا ہوں۔ ماحول کو پر فضا اور خوش گوار بنانے میں عمارت کے سامنے یا عقب میں پائے جانے والے پیڑ پودے اور سبزہ زار اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔اسکول کی عمارت خوش نما ،کمرے ہوادار،گرد و پیش صاف ستھرے اور عمارت آلات تعلیم سے لیس ہونی چاہئے۔ اسکول کی عمارت روشن ہو،پڑھنے کھیلنے کودنے کے لئے معقول جگہ دستیاب ہونی چاہئے۔ جس اسکول میں بچوں کو داخل کررہے ہیں پتہ لگائیں کہ وہ عمارت ذاتی ہے یا کسی کرایے کی عمارت میں کام کر رہی ہے۔عموما تجارتی نقطہ نظر سے اسکول کھولنے والے لوگ پہلے اسکول کرایے کی عمارتوں میں قائم کرتے ہیں اور اگر یہ ادارے ان کے لئے منفعت کا ذریعہ بنتے ہیں تو اسے جاری رکھتے ہیں ورنہ انہیں بند کردیتے ہیں۔جس کی وجہ سے بچوں کی تعلیم پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

(4)اسکول کا ماحول:

بچوں کی مناسب تعلیم وتربیت میں اسکول کے ماحول کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔مدرسے کی عمارت ،کلاس رومس ،اور اس کے گردو پیش صاف ستھرے ،روشن ہوادار اور خوش نما ہونے چاہئے۔اسکول میں پانی اور بجلی کی سہولت دستیاب ہو۔ واش رومس صاف ستھرے ہوں۔استعمال اور پینے کے پانی کا معقول انتظام ہو۔ اسکول کی عمارت کھڑکیوں کی کانچ ،برقی تارا ور فرنیچر کا بھی والدین خاص طور پر جائزہ لیں تاکہ بچوں کو زندگی کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔کلاس رومس کشادہ ہیں یا نہیں اس کا بھی والدین جائزہ لیں۔ کلاس رومس میں آویزہ بورڈس کی بھی جانچ کریں۔ اتفاقی حادثات کے وقت بچوں کی زندگی کو تحفظ فراہم کرنے والے انتظامات کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔اسکول کی عمارت میں تازہ ہوا اور روشنی کا اچھی طرح گزر ہونا چاہئے، قرب و جوار میں کوئی نالہ یا کچرادان نہ پایا جائے۔اسکول کی فضا گردو غبار سے پاک اور ماحول پرسکون ہونا چاہئے۔اسکول کے قریب کوئی شراب خانہ ،سینما گھر،قمارخانہ اور چائے خانہ(ہوٹل) بھی نہیں ہونی چاہئے۔اسکول ٹرافک سے پاک علاقے میں ہو۔اسکول اسلامی ماحول کو پروان چڑھانے والا ہو۔اسکول میں نماز گاہ ضروری ہے تاکہ بچوں کو ابتدائی عمر سے ہی نماز کا پابند بنایا جاسکے۔

(5)پری اسکول (کینڈرگارٹن،نرسری،ایل کے جی اور یو کے جی)کا ماحول:

کینڈر گارٹن اسکول جسے ہم پری اسکول بھی کہتے ہیں یہ عموماً ڈھائی سال سے چھ سال کی عمر کے بچوں کے لئے کھیل کھیل میں تعلیم (play way method of education)کے نظریے پر کاربند رہتے ہوئے تعلیم فراہم کرتے ہیں۔کینڈر گارٹن اسکولوں کا ماحول عام اسکولوں کے ماحول سے مختلف ہوتا ہے۔پری اسکول میں طلبہ کی تعلیم کی بنیادیں استوار ہوتی ہیں۔پری اسکول میں کھیل کی بنیاد پر سرگرمیوں اور کلاس روم کی تزئین و تنظیم عمل میں آتی ہے جب کہ پرائمری اور سیکنڈری اسکولس میں پڑھائی کی بنیادپر تعلیمی سرگرمیوں کو وضع کیا جاتا ہے۔ کینڈر گارٹن چونکہ کھیل کھیل میں تعلیم کے نظریے پر کام کرتا ہے اسی لئے کھیل کود کے لئے محفوظ کھلی جگہ ،جھولے ،کھلونے وغیرہ بہت ضروری ہوتے ہیں۔جھولے اور کھلونے بچوں کی عمر کو اور حفظ ماتقدم کے نظریے کو ملحوظ رکھتے ہوئیتیار کئے جائیں تاکہ کھیلتے وقت بچوں کو کوئی چوٹ یا گزند نہ پہنچے۔پری اسکول کے بچوں کے کھیلنے کی جگہ پر بڑے بچوں کے داخلے پر پابندی ہو کیونکہ بڑے بچے اودھم کود زیادہ کرتے ہیں جس سے چھوٹے بچوں کو نقصان ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔پری اسکول میں داخلے سے قبل بچوں کی حفاظت اور دیکھ ریکھ کے انتظامات کا والدین بغور مشاہدہ کر یں تاکہ کسی بھی امکانی پریشانی اور خدشے سے بچوں کو محفوظ رکھا جاسکے ۔پری اسکول میں پڑھانے والے اساتذہ کا ٹرینڈ ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ٹرینڈ اساتذہ کو تربیت دی جاتی ہے کہ وہ چھوٹے بچوں سے کس طرح پیش آئیں اور ان کی دلچسپی اور بچپن کو ختم کیئے بغیر تعلیم سے بچوں میں دلچسپی پیدا کریں ۔

(5)اسکول انفراسٹرکچر:

اسکول تمام تعلیمی سہولتوں سے آراستہ ہونا چاہیے۔بچوں کو حصول تعلیم میں کوئی تکلیف نہ ہو اس کے لئے بہترین آرام دہ فرنیچر کی فراہمی بہت اہم ہے۔حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق واش رومس ،سک روم اسکولس میں ہونے چاہئے ۔صاف و شفاف پینے کے پانی اور استعمال کے پانی کا وافر انتظام ہو۔ اسکول کی صفائی ستھرائی پر والدین خاص توجہ دیں۔عصر تقاضوں سے مطابقت رکھنے والے سہولتوں کا ہر اسکول میں پایا جانا ضروری ہے۔

کمپیوٹر لیاب اور لائبریر :۔ کمپیوٹر لیابس کا اسکول میں پایا جانابے حد ضروری ہے۔ کمپیوٹر س بھی اعلیٰ معیار کیہوں۔ اسکول میں ٹیلی فون اور انٹر نیٹ کی سہولت بھی اہم ہوتی ہے۔اس کے علاوہ بچوں میں ذوق مطالعہ کو پروان چڑھانے کے لئے ایک عمدہ لائبریری کا وجود بہت ہی اہم ہوتا ہے۔بچوں کی عمر اور ان کی قابلیت کے معیار کے مطابق کتابیں لائبریری میں رکھی جانی چاہئے۔لائبریری میں علم و ادب کے علاوہ سائنس،فکشن ،آرٹ ،کرافٹ ،لطائف کی کتابیں اور کامیکس رکھی جانے چاہئے۔طلبہ کو ہفتے میں دو پریڈ لائبریری کے تفویض کیئے جانے چاہئے تاکہ ان میں مطالعہ کا شوق پروان چڑھے۔کتابوں کے ریکارڈ، ترتیب اور آسان حصول کے لئے لائبریرین کا تقرر بھی ضروری ہے۔ اسکول میں ایک بڑی مرکزی لائبریری کے علاوہ ہر کمرہ جماعت میں ایک چھوٹی لائبریری ہونی چاہئے۔والدین اسکول کے انتخاب کے وقت اسکول لائبریری کا تفصیلی معائنہ کریں۔
لیبارٹری:۔ عموماًدیکھنے میں آیا ہے کہ ہائی اسکول کے طلبہ کے لئے تجربہ گاہ (لیبارٹری) کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ سائنسی مضامین سے دلچسپی پیدا کرنے کے لئے اور طلبہ میں تحقیق و دریافت کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے پرائمری جماعتوں کے طلبہ کے لئے بھی سائنس لیابس کی موجودگی بے حد ضروری ہے۔تجربوں کے ذریعے گنجلکسائنسی تصورات طلبہ بہت جلد سمجھ جاتے ہیں ۔تجربات و مشاہدات کے ذریعے بچوں کی ذہانت میں بے پنا ہ اضافہ ہوتا ہے۔ اسی لئے ہر اسکول میں پرائمری اور دیگر جماعتوں کے طلبہ کے لئے سائنس لیابس کا وجود بے حد ضروری ہے۔

کھیل کود اور غیر نصابی سرگرمیاں:۔جسمانی نشوونما کے فروغ اور بچوں میں مسابقت کے جذبے کو پروان چڑھانے میں کھیل اور دیگر غیر نصابی سرگرمیاں بے حد معاون ثابت ہوتی ہیں۔ لگاتار پڑھائی کی وجہ سے بچے تعلیم سے بوریت محسوس کرتے ہیں اور ان میں ذہنی افتادگی جگہ بنانے لگتی ہے ۔کھیل کود اور غیر نصابی سرگرمیاں طلبہ کو پابندی سے اسکول آنے اور تعلیم سے ان کی دلچسپی کو برقرار رکھنے میں مددگار ہوتی ہیں۔ والدین اسکول میں بچوں کو داخل کرنے سے قبل دیکھ لیں کہ اسکول میں کھیل کود کی سہولت اور غیر نصابی سرگرمیوں کی سہولت موجود ہیں یا نہیں اور کھیل کود کے باقاعدہ مقابلہ جات کا انعقاد عمل میں لایا جاتا ہے یا نہیں۔اگر یہ سہولتیں دستیاب نہ ہوتو اپنے بچوں کو ایسے اسکولوں میں داخل کرنے سے پرہیزکریں۔

آرٹ اینڈ کرافٹ:۔جمالیاتی حس کے فروغ میں فنون لطیفہ کا کلید ی کردار ہوتا ہے۔طلبہ میں جمالیاتی حس کے فروغ کے لئے اسکول میں آرٹ اور کرافٹ کی سرگرمیوں کا باقاعدہ نظم ہونا چاہئے۔ آرٹ اور کرافٹ کا ایک علیحدہ مخصوص تجربہ کار تربیت یافتہ ٹیچر بھی ضروری ہے۔آرٹ اور کرافٹ کی سرگرمیوں کے انعقاد کے لئے اسکول میں ایک علیحدہ کمرہ تفویض کیا جائے۔ آرٹ اور کرافٹ کلب قائم کرتے ہوئے طلبہ کو اس کا ممبربنایا جائے تاکہ آرٹ اور کرافٹ سے دلچسپی میں اضافہ ہو اور ان میں تخلیقی صلاحیتیں ،خوب صورتی کی تحسین (جمالیاتی حس) کا جذبہ پروان چڑھ سکے۔ اسکول کے انتخاب سے پہلے والدین مذکورہ بالا سہولیات اور انفرااسٹرکچر کا معائنہ کریں اور اطمینان کے بعد ہی بچوں کو اسکول میں داخل کریں۔

(6) اسکول کا ہیڈ ماسٹر یا پرنسپل:

ہیڈ ماسٹر (پرنسپل) اسکول میں ایک مرکزی حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔کسی بھی اسکول کی کامیابی میں پرنسپل کی لیاقت ،سوجھ بوجھ ،علمی استعداد اور تنظیمی مہارت کا بہت بڑادخل ہوتا ہے۔اسکول کی خوبی یا خرابی کا دار ومدار ہیڈ ماسٹر (پرنسپل) پر ہوتاہے۔پرنسپل کو تعلیم کے اغراض و مقاصد سے مکمل آگہی ہونی چاہئے اور وہ ان مقاصد کے حصول کے طریقے کار سے بھی اس کا واقف ہونا ضروری ہے۔ایک اچھے اسکول کا پرنسپل اساتذہ،طلبہ اور والدین کے خیالات ،خواہشات اور عزائم کو ہمدردی سے سمجھنے کا اہل ہوتا ہے۔اس کی شخصیت میں غیر معمولی اعتدال پایا جاتا ہے ۔وہ اساتذہ،والدین اور طلبہ کا اعتماد حاصل کرنے کے ہنر سے آگاہ ہوتا ہے۔ایک اچھاپرنسپل خوش اخلاق ،باکردار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتاہے ۔بااخلاق اور تہذیب یافتہ پرنسپل ہی طلبہ کی بہتر تعلیم و تربیت کے فرائض انجام دے سکتا ہے۔والدین بچوں کے داخلے سے قبل پرنسپل سے بالمشافہ ملاقات کریں اس کے انداز گفتگو،نشست و برخواست ، اخلاق ،قابلیت ،علمیت،شخصیت اور تجربے کا اندازہ لگائیں۔پرنسپل خوش مزاج ،نفیس مزاج کا حامل ہو اور اس کا دفتر حسن سلیقے کانمونہ ہو۔پرنسپل سے ملاقات کے دوران والدین اس کے تعلیمی نظریات اور مقاصد کا اندازہ قائم کریں۔اسکول کے قیام کا مقصد دریافت کریں یا پھر پرنسپل کی گفتگو سے اس کا اندازہ کریں ۔بچوں کی تعلیم و تربیت میں معاون عناصر پر بات کریں۔

کسی بھی اسکول کا روح رواں اس کا پرنسپل ہوتا ہے۔جہاز میں جو حیثیت کپتان کی ہوتی ہے وہی حیثیت اسکول میں پرنسپل کی ہوتی ہے۔اسی لئے پرنسپل کا غیر معمولی صلاحیتوں کا حامل ہونا ضروری ہے ۔پرنسپل سے دریافت کریں کہ وہ تعلیم و تربیت کے ذریعہ طلبہ کو کیا بنانا چاہتا ہے۔والدین یہ بات یاد رکھیں کہ اسکول ،پرنسپل(سربراہ) کی سوچ و فکرکا پرتو ہوتا ہے۔ایک بہتر پرنسپل ہی عمدہ تعلیم و تربیت کے فرائض انجام دے سکتا ہے۔ آج کے معاشرے میں تعلیمی ادارہ جات بھی ایک برانڈ کی صورت اختیار کرچکے ہیں۔ تعلیم انسان سازی و تیاری کا نام ہے یہ نہ تو کوئی بکاؤ جنس ہے نہ ہی کوئی پروڈکٹ کہ والدین صرف برانڈ نام پر اکتفا کرتے ہوئے بچوں کو اسکول میں داخل کردیں۔والدین پرنسپل اور منتظمین مدرسہ سے مل کر ان کے مزاج اور اطوار کاجائزہ لیں اور کاروباری مزاج کے اسکولس سے لازمی طور پر بچنے کی کوشش کریں۔

(7) اساتذہ کا معیار:

کسی بھی اسکول کی کامیابی اور مقبولیت میں اس کے اساتذہ کا اہم کردار ہوتا ہے۔اسکول کا معیار دراصل اساتذہ کے معیار کی غمازی کرتا ہے۔معیاری تعلیم کا تصور اچھے اساتذہ کے بغیر محال ہے۔والدین جس اسکول میں اپنے بچے کو داخل کر رہے ہیں وہاں کے اساتذہ سے ملاقات کریں ۔ان کی لیاقت ،اخلاق،تجربہ ،تدریسی صلاحیتوں ،مہارتوں اور اوصاف و کردار کے بارے میں تحقیق کریں۔ معلوم کریں کہ آیا اساتذہ تعلیمی سال کے دوران بھی تبدیل ہوتے ہیں یا نہیں۔ اساتذہ کی ان کے پیشے کے تیءں سنجیدگی کا پتہ چلائیں۔ وقت گزاری یا جیب خرچ کے لیے تدریس کا پیشہ اختیار کرنے والے ا ساتذہ عام طور پر سنجیدگی سے کام نہیں کرتے۔خوش اخلاق اور ملنسار اساتذہ بچوں کی تعلیم و تربیت کے فرائض احسن طریقے سے انجام دیتے ہیں۔سخت اور ترش مزاج کے اساتذہ کی وجہ سے بچے تعلیم سے متنفر ہوجاتے ہیں ۔والدین جس اسکول میں بچے کو داخل کر رہے ہیں دریافت کریں کہ وہاں کے اساتذہ نرم خو اور مشفق ہیں یا نہیں ورنہ ایسے اسکولوں میں اپنے بچوں کو ہرگز داخل نہ کریں۔ اساتذہ کے تند و ترش رویوں کی وجہ سے یہ مدرسے مقتل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جہاں بچوں کے مستقبل کا قتل ایک عام بات ہے۔اسکول میں اساتذہ کا تقرر 1:5کے تناسب میں ہونا چاہیے یعنی اگر کسی اسکول میں 10جماعتیں ہوں تو اساتذہ کی تعداد پندرہ ہونی چاہئے۔اور تمام اساتذہ ٹرینڈ (تربیت یافتہ ) ہونے چاہئے۔والدین معلوم کریں کہ انتظامیہ اساتذہ کی فنی و پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لئے ریفریشر کورسس ،ورکشاپس وغیرہ انعقاد کرتا ہے یا نہیں۔اگر نہیں تو پھر ایسے اسکول میں اپنے بچوں کو داخل نہ کریں۔

(8)کلاس روم کا ماحول:

کلاس رومس کشادہ ،ہوادار اور روشن ہونے چاہیے۔ٹوٹافرنیچر اور کھڑکیوں پر شیشے نہیں ہونا چاہئے۔بچوں کی زندگی کے لئے خطرناک ثابت ہونے والی اشیاء و فرنیچر کمرۂ جماعت میں نہ ہوں۔نوک دار اور غیر معیار ی فرنیچر سے بچوں کو نقصان ہوتا ہے۔ بچوں کے لئے بیٹھنے کا مناسب انتظام ہو۔کلاس روم کی تزئین و آرائش بچوں کی دلچسپی کوملحوظ رکھتے ہوئے کی جانی چاہیے۔ کلاس روم اتنے بڑے بھی نہ ہو کہ بچوں کو بورڈ نظر نہ آئے اور نہ ہی اتنے چھوٹے ہوں کہ بچوں کا دَم گھٹنے لگے۔ ہر کمرۂ جماعت میں مناسب روشنی اور ہوا کا انتظام ہونا چاہئے۔ الکٹرک پنکھے،پروجیکٹرس اور دیگر تعلیم و تربیت میں معاون آلات و ساز و سامان سے ہر کمرۂ جماعت آراستہ ہونا ضروری ہے۔ہر کمرۂ جماعت میں کوڑے دان (Dust Bin)ہونے چاہئے۔اسمارٹ بورڈس یا وائٹ بورڈس ہر کمرۂ جماعت میں ہونے چاہئے۔ چاک بورڈس کی وجہ سے بچے امراض تنفس اور شش سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ اسی لئے ہر کمرۂ جماعت میں مارکر بورڈس آویزاں ہونے چاہئے۔کلاس روم کے در و دیوار کی تزئین وآرائش بچوں کی عمر کے مطابق ہونی چاہئے۔

(9) کینٹین:

بچے صحت مند ہوں گے تبھی وہ تعلیم حاصل کر پائیں گے۔صحت، حصول علم میں ایک بہت ضروری عنصر مانا جاتا ہے۔ اسکول میں بچوں کو داخل کرنے سے قبل والدین اسکول کی کینٹین کا معائنہ کریں ۔دیکھیں کہ کینٹین میں صاف پانی کا انتظام ہے یا نہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق رکھی گئیہے یا نہیں۔اشیاپر استعمال کی تاریخ درج ہے کہ نہیں۔والدین توجہ دیں کہ کینٹین میں جنک فوڈہر گز نہ پائی جائے ۔کینٹین میں صحت بخش غذا اور مشروبات ہونے چاہئے۔
اس مضمون میں ایک مثالی اسکول میں پائے جانے والی تقریباً سبھی بنیادی عناصر کا جائزہ لیا گیا ہے جو والدین کو اپنے بچوں کے لئے معیاری اسکول کے انتخاب میں یقیناًمددگار ثابت ہوں گے۔والدین ایک معیار ی اسکول کے انتخاب کے ذریعے اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ اور درخشاں بنا سکتے ہیں اسی لئے وہ اسکول کے انتخاب میں لاپروائی سے کام نہ لیں۔ مذکورہ تمام سہولیات اور خوبیاں ضروری نہیں کہ ایک اسکول میں میسر آجائیں۔ اگر کسی اسکول میں مذکورہ سہولیات و خوبیاں ا 70تا80فیصد بھی پائی جائیں تو والدین اس اسکول میں اپنے بچے کو داخل کرسکتے ہیں۔والدین اپنے بچوں کے اسکول کے انتخاب میں غیر تعلیمی سہولتوں اور انفرااسٹرکچر پر ایک حد تک اگر سمجھوتہ کر بھی لیں لیکن اساتذہ اور پرنسپل کے معیار پر کسی صورت سمجھوتہ نہ کریں۔

 

عورت

عورت اگر بیوی کے روپ میں تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خدیجہ اگر تم میری جلد بھی مانگتی تو میں اتار کے دے دیتا

جب یہی عورت بیٹی کے روپ میں تھی تو نبی نے نہ صرف کھڑے ہو کر اس کا استقبال کیا بلکہ فرمایا میری بیٹی فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے

اور جب یہ عورت بہن کے روپ میں تھی تو فرمایا کہ بہن تم نے خود آنے کی زحمت کیوں کی تم پیغام بھجوا دیتی میں سارے قیدی چھوڑ دیتا

اور جب یہ عورت ماں کے روپ میں آئی تو قدموں میں جنت ڈال دی گئی اور حسرت بھری صدا بھی تاریخ نے محفوظ کی

فرمایا گیا اے صحابہ کرام کاش! میری ماں زندہ ہوتی

میں نماز عشاء پڑھا رہا ہوتا میری ماں ابنی محمد پکارتی میں نماز چھوڑ کے اپنی ماں کی بات سنتا

عورت کی تکلیف کا اتنا احساس فرمایا گیا کہ دوران جماعت بچوں کے رونے کی آواز سنتے ہی قرات مختصر کر دی