Sir Ganga Raam- Father of Modern Lahore

 Sir Ganga Ram (13 April, 1851 - 10 July, 1927) was a civil engineer and leading philanthropist of his times, who established the Renala Hydral Power Station in Renala Khurd in 1925.

(Today Renala Khurd is in the Okara District in the northeast Punjab province of Pakistan)..

Sir Gangaram; Father of Modern Lahore


Known for; 

* Aitchion College, Lahore 

* Mayo Hospital, Lahore 

* Sir Gangaram Hospital, Lahore 

* General Post Office, Lahore 

* Hailey College of Banking and Finance, Lahore (formerly Hailey College of Commerce)

* The Mall, Lahore 

* National College of Arts, Lahore (formerly Mayo College of Arts)

* Lahore Museum

* Lahore College for Women University (formerly Sir Gangaram High School)

In 1873, after a brief Service in Punjab P.W.D devoted himself to practical farming. He obtained on lease from Government 50,000 acres (200 km²) of barren, unirrigated land in Montgomery district, and within three years converted that vast desert into smiling fields, irrigated by water lifted by a hydroelectric plant and running through a thousand miles of irrigation channels, all constructed at his own cost. This was the biggest private enterprise of the kind, unknown and unthought-of in the country before. Sir Ganga Ram earned millions most of which he gave to charity.

In the words of Sir Malcolm Hailey, the Governor of Punjab, "he won like a hero and gave like a Saint". He was a great engineer and a great philanthropist.

He designed and built General Post Office, Lahore Museum, Aitchison College, Mayo School of Arts (now the NCA), Ganga Ram Hospital, Lady Mclagan Girls High School, the chemistry department of the Government College University, the Albert Victor wing of Mayo Hospital, the Hailey College of Commerce, Ravi Road House for the Disabled, the Ganga Ram Trust Building on The Mall and Lady Maynard Industrial School. He also constructed Model Town, once the best locality of Lahore, the powerhouse at Renala Khurd as well as the railway track between Pathankot and Amritsar

He built Sir Ganga Ram Hospital, Lady Mclagan School and Renala Khurd Power House with his own money.

He was a promising agriculturist, too. He purchased thousands acres of barren land in Lyallpur (now Faisalabad) on lease and by using engineering skills and modern irrigation methods, turned the arid lands into fertile fields. He retired in 1903. He died in London on July 10, 1927. His body was cremated and his ashes were brought back to India. A portion of the ashes were consigned to Ganga River and the rest buried in Lahore on the bank of the Ravi.

A statue of Sir Ganga Ram once stood on Mall Road in Lahore. Saadat Hasan Manto, the famous Urdu writer, in one of his stories on the frenzy of religious riots of 1947writes that an inflamed mob in Lahore, after attacking a Hindu residential area, ‘turned to attacking the statue of Sir Ganga Ram, the Hindu philanthropist. They first pelted the statue with stones; then smothered its face with coal tar. Then a man made a garland of old shoes climbed up to put it round the neck of the statue. The police arrived and opened fire. Among the injured were the fellow with the garland of old shoes. As he fell, the mob shouted: “Let us rush him to Sir Ganga Ram Hospital.

Copied



کفالت یتیم میں سکون ہی سکون ہے

 ایک حاجی صاحب کافی بیمار تھے .کئی سالوں سے ہر ہفتے پیٹ سے چار بوتل پانی نکلواتے تھے۔ اب ان کے گردے واش ہوتے ہوتے ختم ہوچکے تھے۔ایک وقت میں آدھا سلائس ان کی غذا تھی۔ سانس لینے میں بہت دشواری کا سامنا تھا۔نقاہت اتنی کہ بغیر سہارے کے حاجت کیلئے نہ جاسکتے تھے۔ایک دن چوہدری صاحب ان کے ہاں تشریف لے گئے۔ اور انہیں سہارے کے بغیر چلتے دیکھا تو بہت حیران ہوئے انہوں نے دور سے ہاتھ ہلا کر چوہدری صاحب کا استقبال کیا‘چہل قدمی کرتے کرتے حاجی صاحب نے دس چکر لان میں لگائے‘پھر مسکرا کر ان کے سامنے بیٹھ گئے‘ان کی گردن میں صحت مند لوگوں جیسا تناؤ تھا۔

چوہدری صاحب نے ان سے پوچھا کہ یہ معجزہ کیسے ہوا؟

کوئی دوا‘ کوئی دعا‘ کوئی پیتھی‘ کوئی تھراپی۔ آخر یہ کمال کس نے دکھایا۔

حاجی صاحب نے فرمایا میرے ہاتھ میں ایک ایسا نسخہ آیا ہے کہ اگر دنیا کو معلوم ہوجائے تو سارے ڈاکٹر‘ حکیم بیروزگار ہوجائیں۔سارے ہسپتال بند ہوجائیں اور سارے میڈیکل سٹوروں پر تالے پڑجائیں۔

چوہدری صاحب مزید حیران ہوئے کہ آخر ایسا کونسا نسخہ ہے جو ان کے ہاتھ آیا ہے۔

حاجی صاحب نے فرمایا کہ میرے ملازم کی والدہ فوت ہوگئی‘میرے بیٹوں نے عارضی طورپر ایک چھ سات سالہ بچہ میری خدمت کیلئے دیا‘

میں نے ایک دن بچے سے پوچھا کہ آخر کس مجبوری کی بنا پر تمہیں اس عمر میں میری خدمت کرنا پڑی‘بچہ پہلے تو خاموش رہا پھر سسکیاں بھر کر بولا کہ ایک دن میں گھر سے باہر تھا‘میری امی‘ ابو‘ بھائی‘ بہن سب سیلاب میں بہہ گئے۔ میرے مال مویشی ڈھور ڈنگر‘ زمین پر رشتہ داروں نے قبضہ کرلیا۔اب دنیا میں میرا کوئی نہیں۔اب دو وقت کی روٹی اور کپڑوں کے عوض آپ کی خدمت پر مامور ہوں۔

یہ سنتے ہی حاجی صاحب کا دل پسیج گیا اور پوچھا بیٹا کیا تم پڑھوگے بچے نے ہاں میں سرہلا دیا۔

حاجی صاحب نے منیجر سے کہا کہ اس بچے کو شہر کے سب سے اچھے سکول میں داخل کراؤ۔

بچے کا داخل ہونا تھا کہ اس کی دعاؤں نے اثر کیا‘قدرت مہربان ہوگئی‘میں نے تین سالوں کے بعد پیٹ بھر کر کھانا کھایا‘

سارے ڈاکٹر اور گھروالے حیران تھے۔

اگلے روز اس یتیم بچے کو ہاسٹل میں داخلہ دلوایا اور بغیر سہارے کے ٹائلٹ تک چل کرگیا‘ میں نے منیجر سے کہا کہ شہر سے پانچ ایسے اور بچے ڈھونڈ کرلاؤ جن کا دنیا میں کوئی نہ ہو۔

پھر ایسے بچے لائے گئے انہیں بھی اسی سکول میں داخل کرادیا گیا۔

اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور آج میں بغیر سہارے کے چل رہا ہوں۔سیر ہوکر کھاپی رہا ہوں اور قہقہے لگارہا ہوں۔ حاجی صاحب سینہ پھلا کر گلاب کی کیاریوں کی طرف چل دئیے۔ اور فرمایا میں اب نہیں گروں گا جب تک کہ یہ بچے اپنے قدموں پر کھڑے نہیں ہوجاتے۔حاجی صاحب گلاب کی کیاریوں کے قریب رک گئے اور ایک عجیب فقرہ زبان پر لائے ..

’’قدرت‘ یتیموں کو سائے دینے والے درختوں کے سائے لمبے کر دیا کرتی ہے

درود شریف

 ایک یہودی کسی مسلمان کا پڑوسی تھا۔ اس یہودی کے ساتھ۔ اس کا مسلمان پڑوسی بہت اچھا سلوک کرتا تھا۔ اس مسلمان کی  یہ عادت تھی کہ وہ ہر تھوڑی دیر بعد یہ جملہ کہتاتھا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجنے سے ہر دعا قبول ہوتی ہے اور ہر حاجت اور مراد پوری ہوتی ہے۔ جو کوئی بھی اس مسلمان سے ملتا۔ وہ مسلمان اسے اپنا یہ جملہ ضرور سناتا اور جو بھی اس کے ساتھ بیٹھتا اسے بھی ایک مجلس میں کئی بار یہ جملہ مکمل یقین سے سناتا تھا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجنے سے ہر دعا قبول ہوتی ہے اور ہر حاجت اور مراد پوری ہوتی ہے۔ اس مسلمان کا یہ جملہ اس کے دل کا یقین تھا۔

اس نے ایک سازش تیار کی تاکہ اس مسلمان کو ذلیل و رسوا کیا جائے۔ اور ’’درود شریف‘‘ کی تاثیر پر اس کے یقین کو کمزور کیا جائے۔ اور اس سے یہ جملہ کہنے کی عادت چھڑوائی جائے۔ یہودی نے ایک سنار سے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی۔ اور اسے تاکید کی کہ ایسی انگوٹھی بنائے کہ اس جیسی انگوٹھی پہلے کسی کے لئے نہ بنائی ہو۔ سنار نے انگوٹھی بنا دی۔

وہ یہودی انگوٹھی لے کر مسلمان کے پاس آیا۔ حال احوال کے بعد مسلمان نے اپنا وہی جملہ ، اپنی وہی دعوت دہرائی کہ ’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجنے سے ہر دعا قبول ہوتی ہے ہر حاجت اور مراد پوری ہوتی ہے‘‘۔ یہودی نے دل میں کہا کہ۔ اب بہت ہو گئی۔ بہت جلد یہ ’’جملہ ‘‘ تم بھول جاؤ گے۔ کچھ دیر بات چیت کے بعد یہودی نے کہا۔ میں سفر پر جا رہا ہوں۔ میری ایک قیمتی انگوٹھی ہے۔ وہ آپ کے پاس امانت رکھ کر جانا چاہتا ہوں۔ واپسی پر آپ سے لے لوں گا۔ مسلمان نے کہا۔

کوئی مسئلہ نہیں آپ بے فکر ہو کر انگوٹھی میرے پاس چھوڑ جائیں۔ یہودی نے وہ انگوٹھی مسلمان کے حوالے کی اور اندازہ لگا لیا کہ مسلمان نے وہ انگوٹھی کہاں رکھی ہے۔ رات کو وہ چھپ کر اس مسلمان کے گھر کودا اور بالآخر انگوٹھی تلاش کر لی اور اپنے ساتھ لے گیا۔ اگلے دن وہ سمندر پر گیا اور ایک کشتی پر بیٹھ کر سمندر کی گہری جگہ پہنچا اور وہاں وہ انگوٹھی پھینک دی۔ اور پھر اپنے سفر پر روانہ ہو گیا۔ اس کا خیال تھا کہ جب واپس آؤں گا۔ اور اس مسلمان سے اپنی انگوٹھی مانگوں گا تو وہ نہیں دے سکے گا۔ تب میں اس پر چوری اور خیانت کا الزام لگا کر خوب چیخوں گا اور ہر جگہ اسے بدنام کروں گا۔ وہ مسلمان جب اپنی اتنی رسوائی دیکھے گا تو اسے خیال ہو گا کہ درود شریف سے کام نہیں بنا اور یوں وہ اپنا جملہ اور اپنی دعوت چھوڑ دے گا ۔ مگر اس نادان کو کیا پتا تھا کہ۔ درود شریف کتنی بڑی نعمت ہے۔ یہودی اگلے دن واپس آ گیا۔

سیدھا اس مسلمان کے پاس گیا اور جاتے ہی اپنی انگوٹھی طلب کی۔ مسلمان نے کہا آپ اطمینان سے بیٹھیں آج درود شریف کی برکت سے میں صبح دعا کر کے شکار کے لئے نکلا تھا تو مجھے ایک بڑی مچھلی ہاتھ لگ گئی۔ آپ سفر سے آئے ہیں وہ مچھلی کھا کر جائیں۔ پھر اس مسلمان نے اپنی بیوی کو مچھلی صاف کرنے اور پکانے پر لگا دیا۔ اچانک اس کی بیوی زور سے چیخی اور اسے بلایا۔ وہ بھاگ کر گیا تو بیوی نے بتایا کہ مچھلی کے پیٹ سے سونے کی انگوٹھی نکلی ہے۔ اور یہ بالکل ویسی ہے جیسی ہم نے اپنے یہودی پڑوسی کی انگوٹھی امانت رکھی تھی۔ وہ مسلمان جلدی سے اس جگہ گیا جہاں اس نے یہودی کی انگوٹھی رکھی تھی۔ انگوٹھی وہاں موجود نہیں تھی۔ وہ مچھلی کے پیٹ والی انگوٹھی یہودی کے پاس لے آیا اور آتے ہی کہا: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجنے سے ہر دعاء قبول ہوتی ہے اور ہر حاجت پوری ہوتی ہے۔

پھر اس نے وہ انگوٹھی یہودی کے ہاتھ پر رکھ دی۔ یہودی کی آنکھیں حیرت سے باہر، رنگ کالا پیلا اور ہونٹ کانپنے لگے۔ اس نے کہا یہ انگوٹھی کہاں سے ملی؟۔ مسلمان نے کہا۔ جہاں ہم نے رکھی تھی وہاں ابھی دیکھی وہاں تو نہیں ملی۔ مگر جو مچھلی آج شکار کی اس کے پیٹ سے مل گئی ہے۔ معاملہ مجھے بھی سمجھ نہیں آ رہا مگر الحمد للہ آپ کی امانت آپ کو پہنچی اور اللہ تعالیٰ نے مجھے پریشانی سے بچا لیا۔ بے شک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے سے ہر دعاء قبول ہوتی ہے اور ہر حاجت و مراد پوری ہوتی ہے۔ یہودی تھوڑی دیر کانپتا رہا پھر بلک بلک کر رونے لگا۔ مسلمان اسے حیرانی سے دیکھ رہا تھا۔

یہودی نے کہا مجھے غسل کی جگہ دے دیں۔ غسل کر کے آیا اور فوراً کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت پڑھنے لگا اشھد ان لا الہ الا اللّٰہ وحدہ لاشریک لہ واشھد ان محمد عبدہ ورسولہ وہ بھی رو رہا تھا اور اس کا مسلمان دوست بھی۔ اور مسلمان اسے کلمہ پڑھا رہا تھا اور یہودی یہ عظیم کلمہ پڑھ رہا تھا۔ جب اس کی حالت سنبھلی تو مسلمان نے اس سے ’’وجہ‘‘ پوچھی تب اس نومسلم نے سارا قصہ سنا دیا۔ مسلمان کے آنسو بہنے لگے اور وہ بے ساختہ کہنے لگا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درودشریف بھیجنے سے ہر دعاء قبول ہوتی ہے ۔ اور ہر حاجت و مراد پوری ہوتی ہے۔

Copied