تعلیم کیا ہے


خوف کو دور بھگائیں

جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس میں تین بنیادی جذبات پائے جاتے ہیں۔خوف، غصہ اور محبت۔ لیکن جب بچہ بڑا ہوتاجاتا ہے تو اس میں دیگر جذبات مثلاًحسد،نفرت وغیرہ بھی پروان چڑھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ جس طرح عادات گھریلوتربیت کیوجہ سے بنتی اور بگڑتی رہتی ہیں اسی طرح بچوں کے ڈر اور خوف بھی زیادہ تر گھریلو تربیت کیوجہ سے ہی پیدا ہوتے ہیں ۔بچوں کی بہتر تربیت اور اُن کے جذبات و احساسات کی تعمیر کے لیے معلم اہم کردار ادا کرتا ہے۔وہ ناصرف اُن کے خوف کو دور کر سکتا ہے بلکہ خوف کا مثبت استعمال کر کے بچوں کی شخصیت کو نکھا ر سکتا ہے۔
خوف کی انواع و اقسام اور کیفیات:
ہر وہ شے جس سے بچہ اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرے اس سے بچے کو خوف آتا ہے۔ جب بچے پانچ چھ ماہ کے ہوتے ہیں تو اس وقت ان میں برائے نام قسم کے خوف ہوتے ہیں لیکن بچے کی ذہنی نشوونما کے ساتھ ساتھ خوف کی نوعیت بھی بدل جاتی ہے اور ان میں وسعت پیدا ہوجاتی ہے۔
بچے کے خوف اس کے قریبی ماحول میں انسانوں اور اشیاء سے منسلک ہوتے ہیں۔ بچوں میں سب سے زیادہ خوف مافوق الفطرت اور پراسرارچیزوں سے پایا جاتا ہے۔ بچوں میں عموماً جانوروں کاخوف پایا جاتا ہے بالخصوص ایسے جانور جن کو بچوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھاہوتا۔بچے عام طور پر ڈاکٹروں، کتوں،اونچی آواز،شور،طوفان ،اجنبی اشخاص ،اونچی جگہوں اور اندھیرے سے خوف محسوس کرتے ہیں۔اس کے علاوہ بچے گرنے سے بھی خوفزدہ ہوتے ہیںیا ایسی اشیا سے جو تکلیف دہ تجربات سے منسلک ہوں۔
اگر موقع بدل جائے تو بچے میں خوف کی نوعیت بھی بدل جاتی ہے ۔مثلاً اگر بچہ اکیلا ہے تو پھر کتے کی موجودگی اس کے لیے خوف کاباعث بن سکتی ہے۔ لیکن اگر بچے کے پاس اس کی والدہ یاپھر ایسا بالغ آدمی جس پر بچہ بھروسہ کر سکے، کھڑا ہو تو پھر وہ زیادہ خوف محسوس نہیں کرے گا۔
خوف پیدا کرنے والے مواقع:۔
1)     ایک بچہ جس نے اپنی آنکھوں سے کسی حادثے کو وقوع پذیر ہوتے دیکھا ہو تو وہ اس حادثہ والی جگہ کو خوفناک سمجھ کر وہاں جانے سے بھی ڈرتا ہے یا اس آدمی سے ملنے سے بھی ڈرتا ہے جس کو اس نے کسی آدمی کو بے دردی سے مارتے دیکھا ہو۔
2)     ایک بچہ اس وقت بھی خوف محسوس کرے گا جب اس نے کوئی غلط قسم کی شرارت کی ہو اور وہ محسوس کرے کہ اس کے استاد، والدین اور دوسرے لوگوں کو پتہ چل گیا تو پھر نہ جانے کیا ہو۔
3)      سکول میں بچے اس وقت بھی خوف محسوس کرتے ہیں جب انہیں کہا جائے کہ آپ کاٹیسٹ لیا جائے گا وہ سمجھتے ہیں کہ فیل ہونے کی صورت میں انہیں سزا ملے گی یا پھر گھر سے بے عزتی ہوگی اور بعض اوقات وہ ٹیسٹ کے خوف سے بیمار بھی ہوجاتے ہیں۔
4)      بعض اوقات دوسروں سے کوئی بات سننے سے ہی خوف پیدا ہوجاتا ہے ایک فرد سانپوں سے صرف اس لیے ڈرتا ہے کہ اس نے دوسروں سے سن رکھا ہے کہ یہ خطرناک ہوتے ہیں اور نقصان دہ بھی۔
5)      اکثر بچے سامعین کے سامنے بولنے سے ڈرتے ہیں اس لیے نہیں کہ وہ بول نہیں سکتے بلکہ وہ خوف محسوس کرتے ہیں کہ سامعین کو خطاب کرنے وہ بعض سامعین کی تضحیک اور تنقید کانشانہ بنیں گے۔
6)      بعض بچوں کی پرورش ایسے گھر یا ماحول میں کی جاتی ہے کہ جہاں بار بار انہیں خوفزدہ کر کے انہیں قابو میں رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے جس سے بچوں کے لیے اُن خوائف سے نکلنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
خوف کے اچھے اثرات:۔
خوف کے کچھ اچھے اثرات درج ذیل ہیں:۔
1)     خوف تحریک کاذریعہ بنتا ہے ۔ فیل ہونے کاخوف ہمیں مطالعہ کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔
2)      ایک فرد کوئی کام کرتا ہے تو اُس کی بنیاد بھی خوف ہو سکتا ہے کہ کہیں وہ توقع پر پورا نہ اترنے کی صورت میں ذلیل نہ ہوجائے۔
3)      خوف جسم کوطاقت دیتا ہے۔ جذباتی حالت میں وہ مشکل کام کیاجاسکتا ہے جو ایک فرد عام حالت میں نہیں کرسکتا ۔مثال کے طور پر ایک فرد جس کے پیچھے کتا بھاگ رہاہو وہ پانچ فٹ کی اونچی دیوار بھی پھلانگ جائیگا جو وہ عام حالت میں نہیں پھلانگ سکتا۔
4)      کسی فرد کو تعمیری کاموں کی طرف لگانے کے لیے بھی خوف کااستعمال کیاجاسکتا ہے ۔ ایک آدمی اپنے غصہ، محبت، نفرت یاحسد کی بنا پر کوئی فعل سرانجام دے سکتا ہے لیکن نتائج کا خوف اس فرد کو حدود کے اندر رکھتا ہے۔
5)      خوف کاعنصر ہی ہے جو ایک فرد کو روایتی اور معاشرتی پابندیاں برقرار رکھنے پر مجبور کرتا ہے۔
6)      خوف انسانوں کو نیک کاموں کی طرف راغب کرتا ہے۔ ایک مسلمان کو دوزخ کاخوف ہی نیک کام کی طرف مائل کرتا ہے اور برائی سے روکتا ہے۔
خوف کے برے اثرات:
خوف کے برے اثرات درج ذیل ہیں:۔
1)     خوف سے بے چینی ، بے خوابی، سردرد، اور تھکاوٹ ہوجاتی ہے۔
2)      خوف سے تعلم کی اہلیت متاثر ہوتی ہے۔ فراموشی میں اضافہ اور حافظہ میں کمی ہوتی ہے۔
3)      خوف کی وجہ سے فرد کسی مسئلہ کی طرف توجہ مرکوز نہیں کرسکتا اور ذہنی کشمکش کاشکار ہتا ہے۔
4)      خوف کی وجہ سے سوچنے کاعمل شدید حد تک متاثر ہوتا ہے۔
5)      خوف کی وجہ سے معدہ کاعمل بھی متاثر ہوتا ہے۔
6)      خوف انسانی شخصیت کو بھی کافی حد تک متاثر کرتا ہے۔
خوف کی روک تھام اور معلم کاکردار:۔
بچوں میں خوف کی روک تھام کے لیے مندرجہ ذیل وسائل سے کام لیاجاسکتا ہے۔ اس میں معلم اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
1)     خوف پیدا کرنے والی اشیاء یا مقامات سے بتدریج روشناس کرانے سے خوف کی شدت کو کم کیاجاسکتا ہے۔ اس طرح تدریجی تربیت سے معلم بچوں میں موجود کئی قسم کے خوف دور کرسکتا ہے۔
2)      بچوں کے بارے میں یہ معلوم کیاجائے کہ وہ کن چیزوں سے ڈرتے ہیں پھر ان اشیاء کے متعلق دلچسپ باتیں بتائی جائیں تاکہ بچوں میں ان چیزوں سے انسیت بڑھے۔
3)      بعض کام ایسے ہوتے ہیں جو بچوں کی استعداد سے باہر ہوتے ہیں ۔ معلم کو چاہیے کہ وہ بچوں کو ایسے کام کرنے پر مجبور نہ کرے جو ان کی استعداد سے باہر ہوں۔ استعداد سے باہر ہونے کی صورت میں بچے اس کام کو کرنہیں پائیں گے اور خوف کاشکار ہوجائیں گے۔
4)      بچوں میں خوف دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ معلم ان میں خود اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ معلم بچوں کو مختلف کاموں کے لیے ذمہ داریاں سونپیں اور ان میں کام کرنے کے لیے پہل کاجذبہ پیدا کرے۔
5)      اگر کوئی بچہ خیالی خدشات اور توہمات کاشکار ہو تو معلم کو چاہیے کہ وہ ایسے بچے کو کسی نفسیاتی کلینک میں علاج کے لیے بھیجے۔
6)      بچوں سے خوف کو دور کرنے کے لیے استاد غصہ کااستعمال بھی کرسکتا ہے ۔
7)      معلم اور تعلیمی ادارہ کافرض ہے کہ وہ خوف سے چھٹکارے کے لیے بچوں کی رہنمائی اور مشاورت کااہتما م کرے۔
8)      معلم کو چاہیے کہ وہ بچوں کے لیے تفریحی اور تعمیری سرگرمیاں ترتیب دے اس سے اُن میں راحت اور خوشی کے جذبات پروان چڑھیں گے۔
9)      معلم کو چاہیے کہ گھرکے لیے بچوں کو مناسب کام دے تاکہ ان کے ذہن میں یہ خوف نہ آئے کہ کام نہ کرنے کی صورت میں اُن کی پٹائی ہو گی۔
10) معلم کو چاہیے کہ وہ بچے کی مسلسل تربیت کافریضہ سرانجام دے کیونکہ تربیت سے بچے کے رویے میں تبدیلی آتی ہے۔
11)             معلم کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کو فیل ہونیکی دھمکی نہ دیتا رہے بلکہ ہر لمحہ ان کی حوصلہ افزائی کرتا رہے۔ حوصلہ افزائی سے بچے میں پڑھنے کی طرف رجحان پیدا ہوتا ہے۔
12)             معلم کو چاہئے کہ وہ بچوں کو تضحیک اور تنقید کانشانہ نہ بنائے بلکہ اُن کی نفسیات اور حالات و واقعات کے مطابق تعریفانہ اور والہانہ جملے کہے۔
13)             سکول میں بچوں کو تفویض کیاجانے والا کام ایسا نہ ہو جو ان کی بساط سے باہر ہو۔ ایسے کام سے بچوں میں خوف اور تشویش کی لہردوڑ جاتی ہے۔ بچے اگر کسی مشکل کاشکار ہوں تو استاد کو چاہیے کہ وہ ان کی مدد کرے۔
14) جس طرح ایک لوہار نرم اور گرم لوہے کو ہتھوڑے مار مار کر اپنی پسند کے مطابق شکل دیتا ہے ۔ اسی طرح ایک معلم اپنی قابلیت سے بچوں کی تربیت کرکے ان کو اپنی خواہش اور پسند کے مطابق ڈھال سکتا ہے ۔معلم کی تربیت سے ہی بچے ایسے خوائف سے دور رہ سکتے ہیں جو ان کی تعلیم میں حائل ہوں۔
15)             بچوں کا خوف دور کرنے کے لیے اُن کے والدین سے مسلسل رابطے اور رہنمائی بہت ضروری ہے۔بلاشبہ بچوں کی عمدہ تعلیم و تربیت معلم، ادارہ اور والدین کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
از
مالک خان سیال

سر سبز پاکستان، خوشحال پاکستان



بچوں کی اصلاح اور معلم

بچوں کو اوائل عمری میں اگر پسندیدہ عادات و اطوار کا پابند بنانے کی کوشش نہ کی جائے تو بچے اپنے تجربے اور دوسروں کی تقلید کر کے کچھ نہ کچھ عادات ڈال ہی لیں گے اور ایسی صورت میں قوی اندیشہ اسی بات کا ہوتا ہے کہ پسندیدہ کی عدم موجودگی میں ان کے عادات و اطوار عموماً نا پسندیدہ ہی ہوں گے جو ان کی سیرت و شخصیت کو سب کی نظروں میں برا بنا دیں گے اور بعد میں اصلاح کرنا بھی مشکل ہو جاتاہے۔
1)     بچوں میں بگڑنے کی عموماً درج ذیل وجوہات ہوتی ہیں جن کی بنا پر ان میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔ جب تک صحیح اسباب کی تشخیص کر کے ازالے کی کوشش نہ کی جائے بچے کا سدھرنا بہرحال مشکل ہوتا ہے۔بچے اپنے ماحول کی پیدا وار ہوتے ہیں اور اپنے گردو پیش لوگوں کو جو کچھ کرتے دیکھتے ہیں شعوری یا غیر شعوری طور پر انہی کی تقلید کرتے ہیں ۔اگر گھریلو ماحول اچھا نہ ہو گا اور گھر کے لوگ مختلف قسم کی خرابیوں میں مبتلا ہوں گے تو بچے پر لازمی طور پر ان خرابیوں کا اثر پڑے گا۔
2)     والدین یا گھر کے دوسرے افراد کے باہمی تعلقات کی ناخوشگواری بھی بچوں کے بگاڑ کا موجب بنتی ہے ۔روز کی تو تو میں میں ،جھگڑا بکھیڑا اور شکوہ شکایت اچھے بھلے گھر کو جہنم بنا دیتی ہے۔جو بچے ایسے گھروں میں پلتے ہیں وہ مختلف قسم کی اخلاقی اور ذہنی امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ایسے سکولز اور ادارے جہاں اساتذہ کے باہمی تعلقات خوشگوار نہ ہوں بچوں کے بگاڑ کا اڈہ بن جاتے ہیں۔
3)     ناروا سلوک خواہ والدین کی طرف سے ہو یا اساتذہ کی طرف سے ، بہن بھائیوں کی طرف سے ہو یا جماعت کے ساتھیوں اور ہم جولیوں کی طرف سے یہ بھی بچوں کے بگاڑ کی وجہ بن جاتا ہے مثلاً نفرت ، تحقیر، تمسخر، بار بار کی مار پیٹ یا ڈانٹ پھٹکاروغیرہ۔
4)     بعض کو تاہیوں ، کمزوریوں یا جسمانی نقائص کی وجہ سے جب ایک بچے کو عام طور پر کمتر سمجھا جانے لگتا ہے تو وہ احساس کمتری کا شکار ہو کر بگڑنے لگتا ہے۔
5)     بچے اپنی صحبت سے بہت گہرا اثر لیتے ہیں اور برے اور بگڑے ہوئے بچوں کی صحبت میں پڑ کر اکثر شریف والدین کے بچے بھی بگڑ جاتے ہیں۔
6)     بچے بہت سی باتیں کھیل میں اپنے ہم جولیوں سے سیکھتے ہیں ۔متوازن شخصیت پروان چڑھانے کے لیے اچھے ہم جولیوں کی صحبت نہایت ضروری ہے۔اپنے ہم عمر بچوں کی صحبت سے محرومی بھی بگاڑ اور خرابیوں کا موجب ہوتی ہے۔
7)     فرصت کے اوقات کے لیے اگر مناسب مصروفیات اور تعمیری مشاغل کا بندوبست نہ ہو تو بے کاری بھی بچوں کے بگڑنے کا سبب بن سکتی ہے۔
8)     بچوں سے بعض کوتاہیاں اس لیے بھی سرزد ہو تی ہیں کہ وہ بعض ناروا باتوں کا تجربہ کر کے معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ دیکھیں ایسا کرنے سے کیا ہوتا ہے اور یہی تجربہ نادانی کے باعث بگاڑ کا موجب بن جاتا ہے۔
9)     بچوں میں خود اعتمادی اور قوت ارادی کی کمی بھی بعض اوقات ان کے بگاڑ کا سبب بن جاتی ہے۔
10)  بہت سی نا زیبا حرکات بچوں سے اس لیے بھی سرزد ہوتی ہیں کہ وہ بڑا بننااور ہم جولیوں میں نمایاں ہونا چاہتے ہیں۔جب اس جذبے کی تسکین کے لیے مناسب راستہ نہیں ملتا تو غلط راستہ اختیار کرتے ہیں۔
11)            بچوں میں محبت ،شفقت اور جائز ناز برداری سے محرومی بھی بگاڑ کا موجب بن سکتی ہے۔
12)            غیر معمولی لاڈ پیار بھی بچوں کے بگڑنے کا بہت برا سبب ہے۔
13)             اعلیٰ تخیلات، پاکیزہ تصورات اور معیاری نصب العین کا فقدان بھی بچوں کے بگڑنے کا ایک سبب ہے۔
14)  کاہلی و سستی اور نکما پن خواہ خود غرضی ،لاپرواہی اور بے تعلقی کی بنا پر ہو یا جسمانی و ذہنی کمزوریوں کے باعث یہ بھی بچوں کے بگاڑ کا موجب بنتا ہے۔
15)              دن بدن بڑھتی ہوئی فحاشی ، بے حیائی اور فیشن پرستی حالیہ دور میں بچوں کے بگڑنے کا بہت بڑا سبب ہے۔
16)  سنسنی خیز فلمیں ، جاسوسی ناول ، عریاں تصاویر اور فحش لٹریچر کی بدولت بھی ہزاروں بچے بگاڑ کا شکار ہو رہے ہیں۔

معلم کا کردار
اکثر والدین اور اساتذہ بچوں کی بری حرکات پر انہیں یا تو سزا دیتے ہیں یا کڑی نگرانی کر کے کوشش کرتے ہیں کہ وہ آ ئندہ باز آ جائیں۔اگرچہ یہ دونوں طریقے بھی بسا اوقات کارگر ثابت ہوتے ہیں ۔ بچے کو جب کسی نا شائستہ حرکت کے نتیجے میں سزا بھگتنا پڑتی ہے تو وہ درد اور تکلیف کے تلخ تجربات کی وجہ سے باز آ جاتا ہے ۔اسی طرح جب کسی لغو حرکت کے اعادے کا زیادہ دنوں تک موقع نہیں ملتا تو اس کی طرف میلان کمزور پڑجاتا ہے لیکن بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ سزا کی وجہ سے بچہ اور زیادہ بے باک ہو کر بری عادات کی طرف راغب ہو جائے۔اس لیے سزا یا کڑی نگرانی پر بہت زیادہ بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔
ہر بچہ کے بگاڑ کی نوعیت اور اسباب جدا جدا ہوتے ہیں۔اس لیے سب کا علاج بھی ایک ہی نسخہ سے نہیں کیا جاسکتا۔سب سے پہلے معلم کے لیے ضروری ہے کہ وہ بگاڑ کے بنیادی اسباب کا پتہ لگائے اور کوشش کرے کہ اصل سبب دور ہو جائے۔
والدین اور معلم اگردرج ذیل تدابیر اختیار کر یں تو بچوں کے ہر قسم کے بگاڑ کو روکنے میں کامیاب ہوا جا سکتا ہے۔بچے کی کوتاہیوں کے باعث معلم کے رویے میں تبدیلی نہیں آنی چاہیے۔ اُس سے غیر مشروط محبت کیجئے یعنی اس کی ذات نہ کہ صفات سے اور اپنے قول و فعل اور سلوک وبرتاؤسے اسے اپنی محبت و شفقت کا یقین دلائیے۔ بچوں کو دلچسپی ، عمر اور صلاحیت کے مطابق تعمیری مشاغل اور گھر کی ذمہ داریوں میں حصہ لینے کے مواقع دیں۔بچوں کو ان کی کوتاہیوں پر تنہائی میں پیار سے سمجھائیں۔ دوسروں کے سامنے ٹوکنے اور سزادینے سے گر یز کر یں ۔ بچے بہر حال نادان اور ناتجربہ کار ہوتے ہیں اور بہت سی حرکات بنیادی خواہشات اور جبلی تقاضوں سے مجبور ہو کر کر گزرتے ہیں اس لیے اُن سے بہت زیادہ یا ناممکن توقعات وابستہ نہ کریں ۔
بچوں کو کھیل اور اچھے ہم جو لیوں سے ملنے جلنے کے موقع فراہم کریں۔بچے کو اعتماد میں لیجئے اور سبق آموز کہانیوں ،واقعات وغیرہ کی مدد سے اچھائیو ں سے لگاؤ اور برائیوں سے نفرت پیدا کرائیے۔بچے میں بگاڑ زیادہ ہو جانے کے سبب اُسے کسی دوسرے ماحول میں لے جائیں جہاں لوگ اس کے عیوب سے واقف نہ ہوں اور اس کی شخصیت کا احترام کر یں۔ امید ہے اس طرح وہ نئے ماحول میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر لے گا اور اسے برقرار رکنے کی کوشش میں کوتاہیوں سے بچے گا۔
بچے کی اعلیٰ خطوط پر تربیت والدین اور اساتذہ دونوں کی ذمہ داری ہے اور دونوں کو کما حقہ اپنی ذمہ داری سے عہدہ برا ہو نا چاہیں۔ معلمین کو سکولز میں ہر قسم کے بچوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ یہی عمر ہے کہ جس میں بچہ بگڑ بھی سکتا ہے اور سنور بھی۔ معلم کی تھوڑی سی غفلت سے بچے کی زندگی تاریک ہو سکتی ہے اور تھوڑی توجہ سے روشن بھی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معلم ہر بچے کو انفرادی توجہ دے۔ اُن کے انفرادی اختلافات ،میلان طبع اور پسند ناپسند کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوتے ان کی اس طر ح تر بیت کرے کہ ان کی طبیعت کی کجی دور ہو سکے۔ انہیں مارپیٹ یا ڈرا دھمکا کر نہیں مشورے دے کر ان کی شخصیت کو نکھارے۔
معلم خود بطور رول ماڈل بچوں کے سامنے نہایت اعلیٰ اوصاف کا مظاہرہ کرے گا تو یقیناًبچے بھی اس کی تقلید کرتے ہوئے اعلیٰ اوصاف ہی اپنائیں گے۔
از
مالک خان سیال

تعلیمی کیلنڈر

تعلیمی کیلنڈر  
تعلیمی کیلنڈر  بنیادی طور پر ایک سال کے اندر کروائی جانے والی سرگرمیوں کے اظہار کا ذریعہ ہوتا ہے۔ یہ کیلنڈر پورے تعلیمی سال کے اندر تدریسی ایام، امتحانات، گرما و سرما کی چھٹیاں، سمر کیمپ، سرکاری چھٹیاں غرض ہر قسم کی متعلقہ تفصیلات فراہم کرتا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ  جب تک ہمیں اپنے راستے اور منزل کی خبر نہیں ہوتی ہم گرد راہ میں بھٹکنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے ۔ تعلیمی کیلنڈر  ہمیں راستہ فراہم کرتا ہے  جو ہمیں ہماری منزل کی طرف  رہنمائی کرتا ہے۔ تدریس ایک ایسا کام ہے جسے بغیر منصوبہ بندی نہیں کیا جا سکتا ۔ تعلیمی کیلنڈر  بنیادی طور پر اسی منصوبہ بندی کا نام ہے۔  اگر مناسب منصوبہ بندی نہ ہو تو  ذہین ترین اور محنتی استاد بھی اچھے نتائج حاصل نہیں کرپاتا اس کے برعکس اگر منصوبہ بندی کر کے مقاصد کا تعین کیا جائے اور طے کیے گئے مقاصد کے مطابق سرگرمیاں ڈیزائن کی جائیں تو کم محنتی اساتذہ بھی عمدہ نتائج دینے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ تعلیمی کیلنڈر  بنیادی طور پر ہمیں منصوبہ بندی کرنے کے قابل بناتا ہے۔

تعلیمی کیلنڈر  کیسے بنایا جائے؟
تعلیمی کیلنڈر  بناتے ہوئے درج ذیل باتوں کو ذہن میں رکھا جائے:
1)    سال کے تمام مہینوں کو ایک کاغذ یا ایکسل شیٹ میں  نیچے دیے گئے ٹیبل کے مطابق بنائیں۔
2)    مہینے میں کل ایام کو یوم وائز بائیں سے دائیں تحریر کریں۔
3)    آپ کب تعلیمی سیشن کا آغاز کر رہے ہیں اور کب اختتام کرنا ہے۔
4)    مختلف رنگوں کی مدد لیتے ہوئے آپ سرکاری چھٹیوں کے خانےمیں ایک رنگ بھریں، تقریبات کے خانےمیں دوسرا اسی طرح امتحانات کب لینے ہیں انہیں کلر کریں۔ غرض جو جو سرگرمی آپ سال کے دوران کرنے والے ہیں کو کیلنڈر میں ظاہر کریں۔
5)    چھٹیوں، امتحانات و دیگر غیر تدریسی ایام کو نکال کر ہر ماہ کے تدریسی ایام نکالیں۔ اس طرح آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ آپ کے پاس بچوں کو پڑھانے کے لیے سال میں کتنے دن ہیں۔
6)    تعلیمی کیلنڈر  آپ کو  ہر ماہ کے تدریسی ایام کو دیکھتے ہوئے نصاب کی تقسیم کار میں معاون ثابت ہو گا۔
7)    تعلیمی کیلنڈر   پر سکول اوقات کا شیڈول مہینوں کے حساب سے ظاہر کیا جائے۔
8)    سکول کے اندر سال بھر میں کروائی جانے والی تقریبات ، بزم ادب، شجرکاری، سپورٹس کی سرگرمیاں و دیگر کے حوالے سے تفصیل فراہم کی جائے۔
9)    داخلہ مہم  کے حوالے سے ایام کو نامزد کیا جا سکتا ہے۔

تعلیمی کیلنڈر  کی افادیت
1)    تعلیمی کیلنڈر   منصوبہ بندی  کرنے میں ممد ثابت ہوتا ہے۔
2)    تعلیمی کیلنڈر  امتحانات ، چھٹیوں اور مختلف پروگرامات کی تواریخ ظاہر کرتا ہے جس کی مدد سے روزمرہ سرگرمیوں کو ترتیب دیا جا سکتا ہے۔
3)    تعلیمی کیلنڈر  سکول اوقات کو ظاہر کرتا ہے۔
4)    تعلیمی کیلنڈر  ادارے کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے بنایا جائے مگر بعد میں اس کی مکمل طور پر پیروی کی جائے تاکہ اس کے مقاصد کا حصول ممکن ہو سکے۔
5)    تعلیمی کیلنڈر  سال بھر کی سرگرمی کو ایک صفحہ پر لانے  میں اہمیت کا حامل ہے۔
6)    والدین تعلیمی کیلنڈر  کی مدد سے سکول کی تمام سرگرمیوں سے ان کے اوقات کے مطابق آگاہ ہو جاتے ہیں۔ اور وہ چھٹیوں و امتحانات کو پہلے سے دیکھ کر اپنے دیگر پروگرامات کو بآسانی مرتب کر سکتے ہیں۔
7)    تعلیمی کیلنڈر  کو دیکھتے ہوئے اساتذہ اور سربراہان ِ ادارہ اپنے مقاصد مرتب کر سکتے ہیں۔

تعلیمی کیلنڈر  کا استعمال
1)    تعلیمی کیلنڈر  صدر معلم کے دفتر کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔
2)    تعلیمی کیلنڈر  میں لچک رکھی جائے تا کہ تھوڑی بہت تبدیلی سے کیلنڈر متاثر نہ ہو۔البتہ اسے مرتب کرتے ہوئے  کوشش کی جائے کہ اس میں بعد ازاں تبدیلی کی ضرورت نہ پڑے۔
3)    تعلیمی کیلنڈر  کا فلیکس بنا کر سٹاف روم، گیلری یا سکول میں اہم گزرگاہ پر لگانا چاہیے تاکہ طلبا اور ان کے والدین بھی استفادہ کر سکیں۔
از
مالک خان سیال