قدیم ٹول مگر تاثیر جدید - سٹوری ٹیلنگ

تعلیم و تربیت  اور لرننگ کے چند قدیم ترین ٹول میں سے ایک۔۔۔۔ سٹوری ٹیلنگ یا قصّہ گوئی۔۔۔

اپنی قدامت سے قطع نظر اس کی افادیت جدید ترین تحقیقات، ادارے اور ماہرین بھی مانتے ہیں:

ریسرچ کے مطابق سٹوری ٹیلنگ مختلف انداز اور پہلوؤں (Dimensions) سے بچوں کی ڈیولپمنٹ میں موثر ثابت ہوتی ہے۔

1- سوشل اسکل اور استعداد

اس سے بچوں میں دیگر افراد اور سماج کے لیے بہتر احساس پیدا ہوتا ہے، وہ اپنے ارد گرد موجود لوگوں کے جذبات اور احساسات کو بہتر سمجھنے کی پوزشن میں ہوتے ہیں۔

2 - ذہنی اسکل

اسی طرح کہانی سنانا علم اور لرننگ کو بڑھانے اور علم کو یاد کرنے کے حوالے سے بہت موثر طریقہ ہے، یہ بچوں کی زبان و بیان میں وسعت و پختگی (Language Development)میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

3 - لٹریسی میں معاونت

چھوٹے بچوں میں پڑھنے لکھنے کی استعداد (لٹریسی) کے لیے اسٹوری ٹیلنگ کو بہت مفید پایا گیا ہے۔

4 - تخیل اور تخلیقیت(Imagination & Creativity) میں اضافہ

یہ جہاں ایک طرف لٹریسی اور لرننگ میں معاون ہے وہیں دوسری طرف بچوں کے ذہن کو رنگا رنگ کہانیوں کے تخیل اور تخلیقیت سے بھر دیتی ہے۔

نبی کریمؐ کی بہن، سیدہ شیما

 حضور ﷺ کی کوئی بہن نہیں تھی لیکن جب آپ سیدہ حلیمہ سعدؓیہ کے پاس گئے تو وہاں حضور کی ایک رضاعی بہن کا ذکر بھی آتا ہے جو آپ کو لوریاں دیتی تھیں ان کا نام سیدہ شیؓما تھا ۔

شام کے وقت جب خواتین کھانا پکانے میں مصروف ہو جاتیں ،تو بہنیں اپنے بھائی اٹھا کر باہر لے جاتیں اور ہر بہن کا خیال یہ ہوتا کہ میرے بھائی زمانے میں سب سے زیادہ خوب صورت ہے ۔ ۔ 

بنوسعد کے محلے میں بچیاں اپنے بھائی اٹھاتیں ایک کہتی میرے بھائی جیسا کوئی نہیں اور دوسری کہتی میرے بھائی جیسا کوئی نہیں 

اتنے میں سیدہ شیمؓا اپنا بھائی سیدنا محمد ﷺ اٹھا کے لے آتیں اور دور سے کہتی میرا بھائی بھی آ گیا ہے تو سب کے سر جھک جاتے اور سب کہتیں ، نہیں نہیں تیرے بھائی کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا ہم تو آپس کی بات کر رہے ہیں ۔۔۔   

سیدہ شیمؓا حضور ﷺ کو اپنی گود میں لے کے سمیٹتیں اور پھر جھومتیں اور پھر وہ لوری دیتیں اور لوری کے الفاظ بھی لکھ دیئے ہیں جن کا ترجمہ ہے

اے ہمارے رب میرے بھائی محمد کو سلامت رکھنا آج یہ پنگوڑے میں بچوں کا سردار ہے کل وہ جوانوں کا بھی سردار ہوگا اور پھر جھوم جاتیں ۔

پھر وہ زمانہ بھی آیا کہ حضور ﷺ مکے چلے گئے اور سیدہ شیمؓا بھی جوان ہوئیں ، اُن کی شادی بھی کسی قبیلے میں ہوگئی حضور ﷺ نے اعلان نبوت کیا تیرہ سال کا وقت بھی گزر گیا اور آپ ﷺ مدینہ تشریف لے گئے ۔ 

جب غزوات کا سلسلہ شروع ہوا تو جس قبیلے میں سیدہ شیمؓا کی شادی ہوئی تھی اس قبیلے کے ساتھ مسلمانوں کا ٹکراؤ ہو گیا ۔۔۔ اللہ رَبُّ العِزَّت نے مسلمانوں کو فتح عطا کر دی تو اس قبیلے کے چند لوگ صحابہ کرام ؓ کے ہاتھوں گرفتار ہوکر قید کر دیئے گئے ، تب وہ لوگ اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے لئے فدیہ جمع کرنے لگے ، قبیلے کے سردار بھی گھر گھر جا کر رقم جمع کر رہے تھے ۔ 

چلتے چلتے وہ سیدہ شیمؓا کے گھر پہنچ گئے جو کہ اپنی عمر کا ایک خاصا حصہ گزار چکی تھیں،  کہنے لگے کہ اتنا حصہ آپکا بھی آتا ہے ۔ 

سیدہ شیمؓا نے کہا   حصہ کس لئے ؟ 

 لوگوں نے کہا جو لڑائی ہوئی ہے اور اس میں ہمارے آدمی گرفتار ہوچکے ہیں ، باتیں کرتے کرتے کسی کے لبوں پر محمد ﷺ کا نام بھی آ گیا تو سیدہ شیؓما سن کر کہنے لگی اچھا تو کیا انہوں نے تمہارے لوگ پکڑے ہیں ؟

کہا ۔۔۔ ہاں 

سیدہ شیمؓا نے کہا   تم رقم اکٹھی کرنا چھوڑ دو مجھے ساتھ لے چلو ۔ 

سردار نے کہا آپ کو ساتھ لے چلیں ؟ 

سیدہ شیؓما کہنے لگیں   ہاں تم نہیں جانتے وہ میرا بھائی لگتا ہے ۔

قبیلے کے سردار کے ساتھ جب سیدہ شیؓما حضور ﷺ کے نوری خیموں کی طرف جا رہی تھیں اور صحابہ کرامؓ ننگی تلواروں سے پہرہ دے رہے تھے ، وہ مدنی دور تھا ۔ 

 سیدہ شیمؓا قوم کے سرداروں کے ساتھ جب آگے بڑھنے لگیں تو صحابہ ؓ نے تلواريں سونتیں اور پکارا

او دیہاتی عورت رک جا ، دیکھتی نہیں آگے کوچہء ِ رسول ﷺ ہے ۔۔۔آ گے بغیر اذن کے جبریلؑ بھی نہیں جا سکتے تم کون ہو؟

 سیدہ شیمؓا نے جواب میں جو الفاظ کہے ان کا اردو ترجمہ یہ ہے ۔۔۔۔ میری راہیں چھوڑ دو تم جانتے نہیں میں تمہارے نبی ﷺ کی بہن لگتی ہوں ۔

تلواریں جھک گئیں ، آنکھوں پر پلکوں کی چلمنیں آ گئیں راستہ چھوڑ دیا گیا۔۔۔ سیدہ شیمؓا حضور ﷺ کے خیمہء ِ نوری میں داخل ہو گئیں تو حضور ﷺ نے دیکھا اور پہچان گئے ۔ فورا اٹھ کھڑے ہوئے فرمایا بہن کیسے آنا ہوا ؟ 

کہا آپ ﷺ کے لوگوں نے ہمارے کچھ بندے پکڑ لئے ہیں ان کو چھڑانے آئی ہوں ۔ 

حضور ﷺ نے فرمایا بہن تم نے زحمت گوارا کیوں کی ۔پیغام بھیج دیتیں میں چھوڑ دیتا لیکن تم آ گئیں اچھا ہوا ملاقات ہو گئی ۔

پھر حضور ﷺ نے قیدیوں کو چھوڑنے کا اعلان کیا کچھ گھوڑے اور چند جوڑے سیدہ شیؓما کو تحفے میں دیدیئے کیونکہ بھائیوں کے دروازے پر جب بہنیں آتی ہیں تو بھائی خالی ہاتھ تو بہنوں کو نہیں لوٹایا کرتے ۔ 

حضور ﷺ نے بہت کچھ عطا کیا اور رخصت کرنے خیمے سے باہر تشریف لے آئے تو صحابہ ؓ کی جماعت منتظر تھی 

فرمایا اے صحابہ ! آپ جانتے ہیں کہ جب بھی میں قیدی چھوڑا کرتا ہوں تو میری یہ عادت ہے کہ آپ سے مشاورت کرتا ہوں لیکن آج ایسا موقع آیا کہ میں نے آپ سے مشاورت نہیں کی اور قیدی بھی چھوڑ دیئے۔

 صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ حضور ﷺ مشاورت کیوں نہیں کی؟ ارشاد تو فرمائیں ۔۔۔

فرمایا آج میرے دروازے پر میری بہن آئی تھیں


(ابن ہشام سیرت کی سب سے پہلی کتاب سے انتخاب)

بعض لوگ کس قدر خوبصورت ہوتے ہیں یار

 میں بچے کے فٹبال میں ہوا بھروانے کےلئے ایک انتہائ بوسیدہ سائیکل مرمت کی دکان پر گیا تو وہاں ایک غریب اور میلا کچیلا سا مکینک اپنے مقدر کی طرح ایک خستہ حال ٹیوب کو پنکچر لگا ریا تھا ۔  فٹبال دیکھ کر بولا "یہ فٹبال بڑوں کا ہے یا بچوں کا "   میں نے کہا " بچوں کا ہے مگر تم نے یہ کیوں پوچھا " مسکراتے ہوئے گویا ہوا " اس لئے پوچھ رہا ہوں کیونکہ میں بچوں کے فٹبال میں ہوا بھرائی کے ہیسے نہیں لیتا 

کمفرٹ زون (سہل پسندی)

 کمفرٹ زون ایک ایسی ذہنی حالت ہے جس میں آپ نئے چیلنجز قبول کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اس میں رہتے ہوئے آپ زندگی کو بہتر بنانے یا پروفیشنل لائف میں ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کی منصوبہ بندی نہیں کرتے۔ آپ ایک خاص لیول تک کامیابی اور اپنے مقاصد حاصل کر چکے ہوتے ہیں لیکن اگلے لیول پر جانے کی کوشش نہیں کرتے۔

کمفرٹ زون میں رہتے ہوئے آپ آرام طلب اور سست ہو جاتے ہیں۔ اس میں چیزیں آپ کے لیے آسان بن چکی ہوتی ہیں۔ جو عادات پختہ ہو چکی ہوتی ہیں زندگی بس ان کے اردگرد گھوم رہی ہوتی ہے ۔ چیزیں آٹو پائلٹ پر ہوتی ہیں۔ آپ کی زندگی میں ایک روٹین اور یکسانیت ہوتی ہے۔

کمفرٹ زون میں زیادہ عرصہ رہنا آپ کے لیے خطرناک ہے۔ یہ رویہ آپ کو اعتماد اور خوشی سے محروم کرتا ہے اور زندگی کی کوالٹی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ کمفرٹ زون میں مستقل رہنے سے صلاحیتیں ماند پڑنے لگتی ہیں۔ انسان کو اس انداز سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ صرف اسی وقت اچھا محسوس کرتا ہے جب اس کے پاس چیلنجز ہوں، جب وہ گروتھ کر رہا ہو. 

سیلف امپروومنٹ کے مطابق اگر آپ grow کرنا چھوڑ دیتے ہیں  تو زوال کی طرف جانا شروع کر دیتے ہیں۔ grow کرنے کے لیے آپ کو کمفرٹ زون سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔ جب آپ کوئی نیا اور مشکل کام کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو آپ کمفرٹ زون سے باہر قدم رکھتے ہیں۔

یہ نیا کام کوئی skill یا مہارت ہو سکتی ہے جیسے پبلک سپیکنگ یا کسی نئی زبان میں مہارت حاصل کرنا۔

یہ نیا کام کوئی نئی عادت ہو سکتی ہے جیسے ٹائم مینجمنٹ سیکھنا۔

یہ نیا کا م کوئی رویہ ہو سکتا ہے جیسے دوسرے کے بارے میں اپنا تنقیدی رویہ کم کرنا یا زیادہ سوشل اور ملنسار بننا۔

کیسے پتا چلے گا کہ ہم کمفرٹ زون سے باہر قدم رکھتے ہیں یا نہیں ؟ یاد رکھیں کہ کمفرٹ زون سے باہر جو بھی کام ہو گا وہ آپ کےلیے کچھ مشکل ہو گا۔

جب آپ اس کو کرنے کا سوچیں گے تو یہ آپ کو خوف سے بھر دے گا۔ اس میں رسک ہو گا کہ شاید آپ ناکام ہو جائیں گے۔ اس میں ناکامی کی صورت میں آپ کو مذاق کا نشانہ بنایا جا سکتا ہیں۔ کمفرٹ زون سے باہر جو بھی کام ہو گا اس کے لیے آپ کو اپنی ہمت جمع کرنا پڑے گی، خود کو بار بار قائل کرنا پڑے گا، آپ کو سٹریس میں سے گزرنا پڑے گا، آپ کو خود کو stretch کرنا پڑے گا، خود کو بدلنا پڑے گا، آپ کو پورا زور لگانا پڑے گا، اس کے لیے آپ کو اپنا علم بڑھانا ہو گا، نئی منصوبہ بندی کرنا ہو گی، تخلیقی صلاحیت کو جگانا پڑے گا۔

اپنا جائزہ لیں کہ کیا آپ سیلف امپروومنٹ کے لیے کچھ نیا سیکھنے یا کرنے کا سوچ رہے ہیں؟ جو آپ کے لیے چیلنج ہو۔

نئے خوابوں ، نئے منصوبوں پر کام شروع کریں۔ نئے لیول پر جانے کی تیاری کریں۔ اپنی زندگی کو جامد نہ ہونے دیں، اس میں نیا ولولہ، نیا جوش لے کر آئیں۔

زندگی کا مزہ اسی میں ہے کہ کمفرٹ زون سے باہر قدم رکھا جائے۔ کمفرٹ زون سے باہر ایک شاندار زندگی آپ کی منتظر ہے۔

مفت کھانا کھائیں

 جگہ جگہ یہ لکھا دیکھ کے خیال آتا ہے ، ایسا بینر کہیں نہیں نظر آتا جس پر لکھا ہو ۔

مفت ویلڈنگ سیکھیں , مفت پلمبرنگ سیکھیں , مفت گاڑی مستری بنیں , مفت انجینئرنگ سیکھیں , مفت کمپیوٹر سیکھیں , مفت چائینیز ، کورین ، جاپانی ، عریبک ، انگلش لینگویج کورس کریں , مفت درزی بنیں وغیرہ وغیرہ ۔

خیرات کرنے والے قوم کو نکما اور بھکاری بنا رہے ہیں ۔ دو دیگوں پر جتنا خرچہ آتا ہے اتنے پیسوں میں ویلڈنگ کی مشین اور ضروری آلات آجاتے ہیں آپ تنخواہ پر ایک استاد رکھ لیں اور صرف ایک ہفتے کی ویلڈنگ لرننگ کلاس دیں اور آخر میں دس ہزار کی ایک ویلڈنگ مشین ہر سیکھنے والے کے حوالے کریں آئندہ کے لئے وہ خود کفیل ہو جائے گا ۔ اور تاحیات عزت کی روزی روٹی کمائے گا ۔

قوم کو بھکاری نہیں ہنر مند بنائیں

ہمارے پاس اب مزید وقت نہیں رہا

شہری علاقوں میں ہر وقت رواں رہنے والی ٹونٹیاں ہماری زندگی میں ہی صرف ایک خواب بننے والی ہیں۔ ان کا ذکر کہانیوں میں ملے گا۔
بلوچستان کے ایک تھکا دینے والے فیلڈ وزٹ کے دوران ویرانے میں موجود ایک کلی (چند گھروں والی آبادی) میں ایک مہربان نے چائے کے لئے روک لیا۔ ہم سرد موسم میں اس کی جھونپڑی میں لگی فرشی نشتوں پر کچھ دیر سکون لینے کے لئے دراز ہوگئے جب کہ وہ مہربان ہمارے لئے چائے کا انتظام کرنے لگ گیا۔کچھ دیر بعد چائے اور ساتھ دیگر لوازمات آنے پر ہمارے ایک ساتھی نے ہاتھ دھونے کی خواہش ظاہر کی تو میزبان پہلے کچھ سوچ میں پڑا پھر ہمارے ساتھی سے کہا کہ آپ بیٹھو میں پانی لاتا ہوں۔
چند منٹ کے بعد ہمارا میزبان ایک چھوٹے سے برتن میں پانی لے کر دوبارہ اندر آیا۔ اس کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا جس نے ایک چھوٹا پرات نما برتن پکڑا ہوا تھا۔ انہوں نے ادھر نشست پر بیٹھے بیٹھے ہی ہمارے ساتھی کے ہاتھ اس طرح دھلوائے کہ سارا استعمال شدہ پانی نیچے پرات میں اکٹھا کر لیا اور اس کا ایک قطرہ بھی نیچے نہ گرنے دیا۔ میں یہ ساراعمل انتہائی غور سے دیکھ رہا تھا۔ میں نے میزبان سے پوچھا کہ وہ اس پرات والے گندے پانی کا کیا کرے گا۔ اس نے میری طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا کہ یہ گندا تھوڑی ہے، یہ تو اللہ کی رحمت ہے اسے جانوروں کو پلائیں گے۔یہ بات سن کر مجھے پنجاب کے ہوٹلوں کے واش بیسنوں اور پبلک باتھ روموں پر ہر وقت لیک کرتی یا کھلی ہوئی ٹونٹیاں بہت یاد آئیں۔
اسی طرح جب مغربی دارفور کے فیلڈ وزٹ میں ریاستی دارلحکومت الجنینہ کے سرکاری ریسٹ ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے تھے تو وہاں ہر بندے کے لئے پانی کی راشننگ تھی ۔ پانی ایک ڈرم میں اسٹور ہوتا جس سے ہر ایک کو روزانہ ایک بالٹی پانی ملتا جس سے آپ نے پورا دن گزارنا ہوتا۔ وہاں ہم آدھا بالٹی پانی سے نہاتے تھے اور باقی آدھی بالٹی وضو اور دن کے دیگر لوازمات کے لئے استعمال کرتے۔ وہاں یہ پتہ چلا کہ آدھی بالٹی سے بھی غسل ممکن ہے اور شاور کھول کر غسل کرنا کتنی بڑی عیاشی ہے۔
کوئٹہ شہر میں چند سال پہلے اپنی ٹیم کے لئے ہاسٹل بنایا تو چند دن بعد ہی مالک مکان نے عمارت خالی کرنے کی دھمکی اس بات پر لگائی کہ آپ کے لوگ پانی بہت ضائع کرتے ہیں۔ اس نے آکر باقاعدہ ہمارے آفس مینیجر کے ساتھ لڑائی کی کہ آپ کے لڑکے روز ایک ٹینکر پانی گٹر میں بہا دیتے ہیں۔ حالانکہ وہ ٹینکر ہم خود خرید رہے تھے لیکن وہ رحمانی بندہ پانی کے ضائع ہونے کو برداشت نہیں کرپایا تھا کیونکہ وہ پانی کی کمی کے اثرات کو بھگت رہا تھا۔
ہمارے لڑکے نئے تھے اور لاہور سے گئے ہوئے تھے لہذا یہاں والی پانی کے استعمال کی عیاشیاں وہاں بھی جاری تھیں۔ اگرچہ ہم خود پانی کی بچت کے لئے کام کر رہے تھے لیکن اس مالک مکان نے ہماری توجہ مائیکرو مینیجمنٹ کی طرف کروائی جس کے بعد لڑکوں کا پانی کو دیکھنے کا زاویہ ہی بدل گیا۔ مالک مکان کی طرف سے ہمارے لڑکوں پر لگائی گئی فرد جرم ملاحظہ فرمائیں۔
ا1- یہ لوگ چھوٹی بالٹی میں پانی بھر کر مگ سے نہانے کی بجائے لمبے شاور لیتے ہیں
2- دن میں ایک سے زیادہ دفعہ نہاتے ہیں۔
3۔ باتھ روموں کے فلش ٹینک بار بار استعمال کرتے ہیں ۔ حتی کہ چھوٹی کاروائی کے بعد بھی۔
4۔ واش بیسن پر وضو کرنے کی بجائے ٹونٹی سے وضو کیوں نہیں کرتے تاکہ نیچے بالٹی رکھ لیں اور یہ استعمال شدہ پانی فلش کرنے کے لئے استعمال کریں۔
5۔ ایک وضو سے دو یا اس سے زیادہ نمازوں پڑھنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے۔
6۔ کچن میں سبزی اور چاول دھونے والا پانی بھی بچا کر فلش یا فرش دھونے میں استعمال کیوں نہیں کرتے۔
پنجاب اور سندھ کے شہری علاقوں میں عام سے عام جگہ پریا ہوٹل میں چلے جائیں گلاس صاف بھی ہوگا تو کہیں گے کہ یار اسے پانی مار کر لاؤ۔اور آدھا گلاس پانی اسی میں ضائع ہوجائے گا۔
لان میں بچے پانی کے پائپ سے کھیلتے کھیلتے ٹینکی گٹر میں بہا دیں گے۔ ہاوسنگ سوسایئٹیز میں صبح سویرے ڈرائیور حضرات موٹر چلا کر پائپ سے گاڑیاں دھونے میں مشغول ہوں گے اور اندر صاحب شاور کھول بالٹیوں کے حساب سے پانی ضائع کر رہے ہوں گے۔
کام والی ماسیاں موٹر چلا کر پائپ سے فرش دھو رہی ہوں گی جس سے گھر کے باہر ساری سڑک پر پانی کھڑا ہوگا۔ سردیوں میں ہم ٹونٹی کھول کر گیزر کے گرم پانی کے انتظار میں کئی لٹر صاف پانی واش بیسن کے ذریعے گٹر میں منتقل کر رہے ہوں۔
ان باتوں پر سوچنے کی ضرورت ہےہمارے پاس اب مزیذ وقت نہیں رہا ۔ اگر ہم اسی طرح پانی ضائع کرتے رہے تو شہری علاقوں میں بہنے والی ٹونٹیاں ہماری زندگی میں ہی ایک خواب بننے والی ہیں۔

تحریر ۔انجینیئر ظفراقبال وٹو

مہمان کی خدمت کے فائدے

 ‏ایک عورت کا شوہر ہر وقت کسی نہ کسی مہمان کو گھر لے آتا اور اپنی بیوی سے کہتا ان کے لیے کھانے کا انتظام کرو روزانہ وہ مہمان کے لیے کھانے تیار کرتی

‏آخر کار وہ روز کے معمول سے تنگ آ گٸی اور ایک دن رسول پاک ﷺ کے پاس گٸی اور کہنے لگی یا رسول اللہ ﷺ میرا شوہر روزانہ کسی مہمان کو گھر

‏لے آتا ھے اور میں کھانے بنا کے تھک جاتی ھوں.

‏یا رسول اللہ ﷺ کوٸی ایسا طریقہ بتاٸیں کے میرا شوہر گھر میں مہمان نہ لے آٸے

‏اس وقت نبی پاک ﷺ خاموش رہے اور وہ عورت نبی پاک کی خاموشی دیکھ کے گھر واپس آ گٸی

‏اگلے دن نبی پاک ﷺ نے اس عورت کے شوہر کو بلایا اور کہا کے کل میں تمھارا مہمان ‏ھوں۔ وہ آدمی بہت خوش ہوا اور آ کے اپنی بیوی کو بتایا کے آج نبی پاک ھمارے مہمان بن کے آٸے گے اس کی بیوی بہت خوش ھوٸی اور جلدی سے اچھے اچھے کھانے بنانے لگی

‏جب نبی پاک ﷺ اس عورت کے گھر آے تو نبی پاک نے اس کے شوہر سے کہا کے جب میں کھانا کھا کے واپس جانے لگو تو اپنی بیوی سے کہنا میرے گھر سے نکلتے تک پیچھے دیکھتی رھے اس کی بیوی نے ایسا ہی کیا

‏جب نبی پاک ﷺ واپس جانے لگے تو اس عورت نے کیا دیکھا کے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بچھو سانپ اور کیڑے مکوڑے سب ساتھ جا رھے تھے وہ یہ منظر دیکھ کے بے ھوش ھو گئی۔ 

‏اگلے دن وہ پھر نبی پاکﷺ کے پاس گٸی تو نبی پاک ﷺ نے اس عورت کو ‏بتایا کے مہمان اپنا نصیب خود لے کے آتا ھے اور جو مہمان کے لیے محنت کی جاتی ہے اس کے بدلے جب وہ واپس جاتا ہے تو ساتھ اس گھر سے ساری بلاٶں اور اس گھر کے سارے گناہ ساتھ لے جاتا ھے

کسی کے لیے ڈسٹ بن نہ بنیں

معروف عرب مفکر ڈاکٹر علی طنطاوی مرحوم لکھتے ہیں ایک دن میں ٹیکسی میں ائیرپورٹ جا رہا تھا، ہم سڑک پر اپنی لائن پر جا رہے تھے کہ اچانک کار پارکنگ سے ایک شخص انتہائی سرعت کے ساتھ گاڑی لیکر روڑ پر چڑھا قریب تھا کہ ان کی گاڑی ہماری ٹیکسی سے ٹکرائے لیکن ٹیکسی ڈرائیور نے لمحوں میں بریک لگائی اور ہم کسی بڑے حادثے سے بچ گئے، ہم ابھی سنبھلے نہیں تھے کہ خلاف توقع وہ گاڑی والا الٹا ہم پر چیخنے چلانے لگ گیا اور ٹیکسی ڈرائیور کو خوب کوسا، ٹیکسی ڈرائیور نے اپنا غصہ روک کر اس سے معذرت کرلی اور مسکرا کر چل دیا 

مجھے ٹیکسی ڈرائیور کے اس عمل پر حیرت ہوئی میں نے ان سے پوچھا کہ غلطی اس کی تھی اور غلطی بھی ایسی کہ کسی بڑے حادثے سے دو چار ہو سکتے تھے پھر آپ نے ان سے معافی کیوں مانگی؟

ٹیکسی ڈرائیور کا جواب میرے لیے ایک سبق تھا وہ کہنے لگے کہ کچھ لوگ کچرے سے بھرے ٹرک کی طرح ہوتے ہیں، وہ گندگی اور کچرا لاد کر گھوم رہے ہوتے ہیں، وہ غصہ، مایوسی، ناکامی اور طرح طرح کے داخلی مسائل سے بھرے پڑے ہوتے ہیں، انہیں اپنے اندر جمع اس کچرے کو خالی کرنا ہوتا ہے، وہ جگہ کی تلاش میں ہوتے ہیں، جہاں جگہ ملی یہ اپنے اندر جمع سب گندگی کو انڈیل دیتے ہیں لہذا ہم ان کے لئے ڈسٹ بِن اور کچرا دان کیوں بنیں؟

اس قبیل کے کسی فرد سے زندگی میں کبھی واسطہ پڑ جائے تو ان کے منہ نہ لگیں بلکہ مسکرا کر گزر جائیں اور اللہ تعالی سے ان کی ہدایت کے لئے دعا کریں۔

عربی حکایت سے منقول