ریان اور پانی کے چار سو کنویں

 یہ وہ لڑکا ہے جس نے آدھے ملین افریقیوں کی پیاس بجھائی۔ اس کا نام ریان ہے اور وہ مئی 1991 میں کینیڈا میں پیدا ہوا۔

جب وہ صرف چھ سال کا بچہ تھا، اس کی ٹیچر نے کلاس کو بتایا کہ افریقہ میں بچے کس حالت میں رہتے ہیں۔ یہ سن کر کہ وہاں کچھ بچے پیاس کی وجہ سے مر جاتے ہیں—جبکہ وہ آرام سے نلکا کھول کر صاف پانی پی سکتا تھا—ریان بہت متاثر ہوا اور اس نے ٹیچر سے پوچھا کہ افریقہ میں پانی پہنچانے پر کتنے پیسے لگیں گے؟ ٹیچر نے "واٹر کین" نامی ایک تنظیم کا ذکر کیا، جو تقریباً 70 ڈالر میں کنواں کھود سکتی تھی۔

گھر آ کر ریان نے فوراً اپنی ماں سوسن سے کہا کہ اسے افریقی بچوں کے لیے ایک کنواں خریدنے کے لیے 70 ڈالر چاہییں۔ ماں نے کہا کہ اسے یہ رقم محنت سے کمانا ہوگی، اور اسے چند ایسے کام دیے جن کے ذریعے وہ ہر ہفتے چند ڈالر کما سکتا تھا۔

آخرکار، اس نے 70 ڈالر جمع کر لیے اور "واٹر کین" پہنچا، جہاں اسے بتایا گیا کہ اصل میں کنواں کھودنے کی قیمت 2,000 ڈالر ہے۔ سوسن نے صاف کہا کہ وہ اتنی بڑی رقم نہیں دے سکتی، مگر ریان نے ہار نہیں مانی—اس نے وعدہ کیا کہ وہ پورے 2,000 ڈالر لے کر واپس آئے گا۔

اس نے محلے میں مزید کام کرنا شروع کر دیے اور چندہ جمع کیا، اس کے بھائیوں، ہمسایوں اور دوستوں نے بھی اس کی مدد کی۔ بالآخر، جنوری 1999 میں، شمالی یوگنڈا کے ایک گاؤں میں کنواں کھودا گیا۔

جب کنواں تیار ہو گیا تو ریان کے اسکول نے بھی مدد شروع کی، اور اس گاؤں کے ایک اسکول سے رابطہ قائم کیا گیا۔ اسی دوران ریان کی ملاقات اکنہ نامی ایک لڑکے سے ہوئی، جو ہر دن اسکول جانے کے لیے جدوجہد کرتا تھا۔ ریان اتنا متاثر ہوا کہ اس نے اپنے والدین سے کہا کہ وہ اسے اکنہ سے ملوانے لے جائیں۔ 2000 میں وہ اس گاؤں پہنچا، جہاں سینکڑوں لوگ اس کا استقبال کرنے کے لیے قطار بنائے کھڑے تھے اور اس کا نام پکار رہے تھے۔

ریان حیران ہو کر گائیڈ سے پوچھتا ہے: "انہیں میرا نام کیسے پتا ہے؟"

گائیڈ نے جواب دیا: "یہاں سے 100 کلومیٹر کے دائرے میں ہر شخص جانتا ہے۔"

آج ریان 33 سال کا ہے، اپنی فاؤنڈیشن چلا رہا ہے، اور افریقہ میں 400 سے زائد کنویں بنوا چکا ہے۔ وہ تعلیم بھی فراہم کرتا ہے اور مقامی لوگوں کو سکھاتا ہے کہ کنوؤں کی دیکھ بھال کیسے کرنی ہے اور پانی کا انتظام کیسے کرنا ہے۔

جب ہم اپنی زندگی میں بے شمار بےمعنی کاموں میں مصروف ہوتے ہیں، تب ہمیں ایسے حقیقی ہیرو کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے—اس سے بڑھ کر کوئی نیکی نہیں۔


پہاڑوں کی سیر کو جائیں تو

 پہاڑوں کی سیر کو جائیں تو یہ تحریر محفوظ کرلیں ! 

 سانحہ سکردو ایک دل دہلا دینے والا حادثہ ہے ۔جس میں گجرات کے چار دوست المناک حادثے کا شکار ہوئے۔۔۔نہ جانے کتنی دیر تکلیف سے گزرنے کے بعد موت کی آغوش میں گئے ہوں گے ۔۔۔اور پھر سات دن تک ان کے اجسام کھلے آسمان تلے پڑے رہے اور کسی کو خبر نہ ہوئی ۔ 

 زندگی کا محافظ رب کریم ہے لیکن حفاظتی اسباب اختیار کرنا ہماری ذمہ داری ہے ۔ کبھی بھی دوستوں یا فیملی کے ساتھ سیر کرنے جائیں تو یہ باتیں یاد رکھیں ۔ 

سب سے پہلے تو ڈرائیونگ ! 

یاد رکھیں شاہراہ ریشم کو دنیا کا آٹھواں عجوبہ بھی کہتے ہیں ۔۔جبکہ جگلوٹ سکردو روڈ اس سے بھی بڑا عجوبہ ہے ۔۔ایسے بے پناہ راستے اب شمالی علاقہ جات میں جا بجا بن چکے ہیں ۔۔۔گلگت سے چترال سڑک بن رہی ہے ۔۔شمشال کا ٹریک بذات خود ایک عجوبہ ہے ۔۔استور سڑک کا ابتدائی بیس پچیس کلو میٹر کا حصہ شدید خطرناک ہے ۔۔۔یہاں سڑکیں پہاڑوں کے ساتھ گھومتی ہوئ جاتی ہیں ۔۔سڑک خالی ہے تو گاڑی بھگانے کا جی چاہتا ہے ، تب ساٹھ ستر کی سپیڈ پر چلتی گاڑی کے سامنے یک دم سڑک ختم ہوجاتی  ہے ۔۔۔اگر ڈرائیور نے سڑک پر رہنا ہے تو اسے اسی رفتار پر موڑ کاٹنا ہوگا ۔۔۔اور اگر نہ کاٹ سکا تو پھر سینکڑوں فٹ گہری کھائی یا پھر ٹھاٹھیں مارتا دریا اس کا مقدر ہے ۔ 

مقامی افراد اور ڈرائیور بھی حادثہ کا شکار ہوتے ہیں لیکن بہت کم ۔۔۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے سینکڑوں بار ان راہوں پر سفر کیا ہوتا ہے ۔۔ایک ایک کھڈا اور ایک ایک موڑ ان کی یاداشت میں محفوظ ہوتا ہے ۔۔انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کس رفتار پر کس موڑ سے قابو رکھتے ہوے  گاڑی موڑی جاسکتی ہے ۔۔۔مقامی افراد جب بھی حادثہ کا شکار ہونگے اس کی پچانوے فیصد وجہ اوور لوڈنگ یا حدرفتار سے زیادتی ہوگی ۔۔۔

 اب تمام بڑے شہروں سے گلگت ،استور ،سکردو وغیرہ کے لیے بس ،کوسٹر اور ویگنیں چلتی ہیں ۔۔مطلوبہ مقام پر پہنچ کر مقامی ڈرائیور اور گاڑی کرایہ پر حاصل کریں اور جہاں جی چاہے وہاں جائیں ۔۔۔مقامی ڈرائیور آپ کا محافظ بھی ہوگا اور گائیڈ بھی ۔۔۔اور آپ کو بالکل کہیں بھی یہ پریشانی نہیں ہوگی کہ گاڑی خراب ہوگئ تو کیا ہوگا ۔۔۔یہ نئی گاڑیاں  ۔۔۔بیسویں صدی کی دلہن کی طرح اکڑ جائیں تو جلدی مانتی بھی نہیں ہیں ۔۔۔کیونکہ ان کی پوری مشین ایک کمپیوٹر سے منسلک ہوتی ہے اور ان کا مستری بھی شمالی علاقہ میں ہر جگہ نہیں ملتا ۔۔۔اور ایسی صورت میں یا گاڑی لاد کر لے جائیں یا پھر خراب حالت میں چلانے کی کوشش کریں جوکہ سیدھا سیدھا موت سے پنگا لینے والی بات ہے ۔۔۔

اگر جیپ کرایہ پر لینا جیب پر بھاری ہو تو قریباً ہر جگہ سواریوں والی جیپیں چلتی ہیں جو آپ کو معاشی استحکام بھی دیتی ہیں اور مقامی افراد اور ان کی اقدار کو سمجھنے کا موقع بھی ۔۔۔

فیری میڈوز کا ٹریک چیخیں نکلوانے والا ٹریک مشہور ہے ۔۔لیکن حادثات کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے ۔۔۔وجہ صرف یہ ہے کہ وہاں مقامی افراد کے علاؤہ کسی کو گاڑی لیجانے کی اجازت نہیں ۔۔۔بھلے آپ کے پاس V8  انجن کی حامل جدید گاڑی ہی کیوں نہ ہو ۔۔۔گذشتہ دنوں جدید ترین فرانسیسی  رافیل جہاز کے خاک نشین ہونے کی وجہ بھی طیارے کی خامی نہیں بلکہ اس کو اڑانے والے پائلٹوں کی نااہلی اور مدمقابل کی قابلیت  تھی ۔۔۔یہی اصول یہاں بھی لاگو ہوتا ہے ۔۔جدید گاڑی نہیں بلکہ قابل ڈرائیور ۔۔۔۔اس بات کو تمام حضرات پلے باندھ لیں ۔۔۔کبھی بھی آپ حضرات ایسے ڈرائیور کے ساتھ سفر نہ کریں جو پہلی دوسری یا تیسری بار ان علاقوں کی جانب جارہا ہو۔۔۔جس کے ہمراہ جارہے ہیں اس سے ضرور پوچھیں ۔۔۔

بھائ پہلے کتنی بار گئے ہو ؟

ٹریول کمپنیوں کی اکثریت بھی ناتجربہ کار ڈرائیور بھرتی کرکے کام چلاتی ہے تاکہ کم زیادہ سے زیادہ رقم بٹوری جاسکے ۔۔۔

تو پہلا اصول یہ سمجھ لیں کہ ڈرائیور چاہے آپ خود ہیں یا کوئ اور انتہائ کہنہ مشق ہونا چاہیے ۔۔۔اور اگر کوئ تیس سال سے گاڑی چلا رہا ہے لیکن ان راہوں سے ناآشنا ہے تو اناڑی ہے ۔۔۔

پھر بھی اگر خود گاڑی چلا کر لیجانا ضروری ہے تو جہاں اتنا خرچ ہوتا ہے وہاں جانے سے پہلے گاڑی کے بریک پیڈز ،کلچ پلیٹ ودیگر ضروری پرزہ جات کی جانچ ضرور کروا لی جائے ۔۔

 ضروری معلومات لیتے وقت یہ ضرور معلوم کریں کہ وہاں کون سے نیٹ ورک کے سگنل آتے ہیں ۔۔اس کی سم ساتھ ضرور رکھیں ۔۔اور اگر ایسی جگہ جارہے ہیں جہاں صرف ایس کام چلتا ہے تو وہاں ایس کام یا یو فون کی سم استعمال کریں ۔۔۔

اسی طرح آئ فون اور دیگر ایسے مہنگے فون جن میں سم نہیں چلتی ان کے ساتھ بٹن والا نوکیا کو ضرور رکھیں ۔۔۔سگنل کھینچنے کے معاملہ میں آج بھی نوکیا پہلے نمبر پر ہے ۔ 

گاڑی چلاتے تصاویر بنانا ،گانے لگانا اور پھر من پسند گانے بدلنا ،سٹیک ،سنیپ ،لائیو وڈیو ،ٹک ٹاک ،واٹس ایپ اسٹیٹس ،فیس بک سٹوری ۔۔۔۔۔یہ سب دور حاضر کے وہ خوفناک جن ہیں جو پلک جھپکتے میں ہمیں کسی گہری آندھی کھائ یا کسی ٹھاٹھیں مارتے مچلتے دریا میں دھکیل سکتے ہیں ۔۔۔ان جنات سے ضرور دوستی رکھیں لیکن گاڑی چلانے کے دوران نہیں ۔۔۔

انتظامیہ سے ہر ممکن تعاون کریں ۔۔جہاں آپ کو اندراج کے لیے روکا جائے وہاں رکیں اور مکمل معلومات فراہم کریں ۔۔۔ 

بارش یا خراب موسم میں فورا کوشش کریں کسی محفوظ جگہ پر رک جائیں ۔۔کوئ بھی ایسی جگہ جو قدرے کشادہ ہو ۔۔یہاڑ کے دامن میں گاڑی کھڑی کرنے سے گریز کریں ۔۔۔

آجکل بہت سی جگہوں پر نیٹ کی سہولت موجود ہوتی ہے ۔۔۔اپنی لائیو لوکیشن اپنے کسی قابل بھروسہ آدمی کے ساتھ ضرور شئیر کریں ۔۔۔یہ بھی بہت مفید ثابت ہوتا ہے ۔۔۔

حادثات کی ایک بڑی وجہ طویل سفر ،تھکاوٹ اور نیند کا مکمل نہ ہونا بھی ہے ۔۔

سوشل میڈیا پر دکھائ جانیوالی دیگر چیزوں کی طرح سیاحت کا بھی صرف ایک پہلو دکھایا جاتا ہے ۔۔۔پہاڑ ،دریا ،جھیلیں ،جنگل ،برف زار ،سرسبز میدانوں میں گھومتے رنگ برنگی تصاویر ۔۔۔اور پھر سوشل میڈیا جو کہ پچاس فیصد دکھاوے اور حقیقت سے دور جعل سازی وملمع کاری کا ایک دلکش مجموعہ ہے اس سے متاثر ہوکر لوگ دھڑا دھڑ سیاحتی مقامات کا رخ کرتے ہیں ۔۔۔کوشش کریں اپنے قریب ترین مقام کا انتخاب کریں ۔۔۔یقین مانیں ہمارے اردگرد پورے ملک میں بہت خوبصورتی ہے ۔۔۔

 


ان پہاڑوں پر دل کے قافلے چلا کرتے تھے اور میلوں پیدل چلا کرتے تھے ۔۔۔گاڑیوں کے قافلوں نے جہاں ان کا حسن گہنا دیا ہے وہاں ہمہ وقت سر پر لٹکتی ایک تلوار بھی موجود ہے ۔۔۔نہ جانے کب فون کی گھنٹہ بجے اور کب کیا اطلاع آئے ۔۔۔یا فون ملنا ہی بند ہو جائے ۔۔۔۔

بہت کچھ ہے کہنے کو ۔۔۔۔لیکن شاید میں کہہ نہ پاؤں 

اپنی غلطی کو انتظامیہ اور اداروں کے کھاتے ڈال کر بری الزمہ نہیں ہوا جاسکتا ۔۔۔اداروں میں خامیاں ضرور ہیں ۔۔لیکن ہمیں بھی اپنا احتساب ضرور کرنا چاہیے ۔


تحریر: نوید اشرف خان ( ٹور گائیڈ ۔  شمالی علاقہ جات) 

( لوگوں کی کثیر تعداد شمالی علاقوں کا رخ کر رہی ہے ۔۔ سیاحوں کی زندگیاں بچانے کے لیے اس پوسٹ کو جتنا شئیر کرسکتے ہیں کیجیے ۔۔۔یہ بھی صدقہ جاریہ ہے )

خوف خدا

 یہ واقعہ شام کے شہر دمشق میں ہوا۔ایک نوجوان خوبصورت لڑکی روزانہ اکیلی یونیورسٹی جاتی تھی اسی یونیورسٹی میں اسکا والد ایک ڈپارٹمنٹ کا انچارج تھا ۔

ایک دن چھٹی کے فورا بعد اچانک بادل گرجنے لگے اور زوردار بارش ہونے لگی ،ہر کوئی جائے پناہ کی تلاش میں دوڑ رہا تھا، سردی کی شدت بڑھنے لگی، آسمان سے گرنے والے اولے لوگوں کے سروں پر برسنے لگے،

یہ لڑکی بھی یونیورسٹی سے نکلی اور جائے پناہ کی تلاش میں دوڑنے لگی، اس کا جسم سردی سے کانپ رہا تھا لیکن یہ نہیں جانتی تھی کہ اسے پناہ کہاں ملے گی،جب بارش تیز ہوئی تو اس نے ایک دروازہ بجایا،

گھر میں موجود لڑکا باہر نکلا اور اسے اندر لے آیا اور بارش تھمنے تک اپنے گھر میں رہنے کی اجازت دے دی،

دونوں کا آپس میں تعارف ہوا تو معلوم ہوا کہ لڑکا بھی اسی یونیورسٹی میں پڑھتا ہے جہاں وہ خود زیر تعلیم ہے۔

اور اس شہر میں اکیلا رہتا ہے،ایک کمرہ برامدہ اور باتھ روم اس کا کل گھر تھا نوجوان نے اسے کمرے میں آرام کرنے کو کہا اور اسکے پاس ہیٹر رکھ دیا اور کہا کہ کمرہ جب گرم ہو جائے گا تو وہ ہیٹر نکال لے گا،

تھوڑی دیر لڑکی بستر پر بیٹھی کانپتی رہی،اچانک اسے نیند آ گئی تو یہ بستر پر گرگئی۔ نوجوان ہیٹر لینے کمرے میں داخل ہوا تو اسے یہ بستر پر سوئی ہوئی لڑکی جنت کی حوروں کی سردار لگی وہ ہیٹر لیتے ہی فورا کمرے سے باہر نکل گیا

لیکن شیطان جو کہ اسے گمراہ کرنے کے موقع کی تلاش میں تھااسے وسوسے دینے لگا اس کے ذہن میں لڑکی کی تصویر خوبصورت بنا کر دکھانے لگ اتھوڑی دیر میں لڑکی کی آنکھ کھل گئی،

جب اس نے اپنے آپ کو بستر پر لیٹا ہوا پایا تو ہڑبڑا کر اٹھ گئی 

اور گھبراہٹ کے عالم میں بے تحاشا باہر کی طرف دوڑنے لگی اس نے برامدے میں اسی نوجوان کو بیہوش پایا 

وہ انتہائی گھبراہٹ کی عالم میں گھر کی طرف دوڑنے لگی اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا یہاں تک کہ اپنے گھر پہنچ کر باپ کی گود میں سر رکھ دیا جو کہ پوری رات اسے شہر کے ہر کونے میں تلاش کرتا رہا تھا

اس نے باپ کو تمام واقعات من و عن سنا دیے اور اسے قسم کھا کر کہا کہ میں نہیں جانتی جس عرصہ میں میری آنکھ لگی کیا ہوا 

میرے ساتھ کیا کیا گیا، کچھ نہیں پتا،

اسکا باپ انتہائی غصے کے عالم میں اٹھا اور یونیورسٹی پہنچ گیا اور اس دن غیر حاضر ہونے والے طلبہ کے بارے میں پوچھا تو پتا لگا کہ

ایک لڑکا شہر سے باہر گیا ہے اور ایک بیمار ہے، ہسپتال میں داخل ہے،

باپ ہسپتال پہنچ گیا تاکہ اس نوجوان کو تلاش کرے اور اس سے اپنی بیٹی کا انتقام لے،

ہسپتال میں اسکی تلاش کے بعد جب اسکے کمرے میں پہنچا تو اسے اس حالت میں پایا کہ اسکی دونوں ہاتھوں کی انگلیاں پٹیوں سے بندھی ہوئی تھی اس نے ڈاکٹر سے اس مریض کے بارے میں پوچھا 

تو ڈاکٹر نے بتایا جب یہ ہمارے پاس لایا گیا تو اسکے دونوں ہاتھ جلے ہوئے تھے 

باپ نے نوجوان سے کہاکہ تمہیں اللہ کی قسم ہے!

مجھے بتاؤ کہ تمہیں کیا ہوا ہے باپ نے اپنا تعارف نہیں کروایا، وہ بولا ایک لڑکی کل رات بارش سے بچتی ہوئی میرے پاس پناہ لینے کے لیے آئی،

میں نے اسے اپنے کمرے میں پناہ تو دے دی لیکن شیطان مجھے اس کے بارے میں پھسلانے لگا تو میں اسکے کمرے میں ہیٹر لینے کے بہانے داخل ہوا، 

وہ سوئی ہوئی لڑکی مجھے جنت کی حور لگی، 

میں فورا باہر نکل آیا لیکن شیطان مجھے مسلسل اسکے بارے میں پھسلاتا رہا اور غلط خیالات میرے ذہن میں آ ٓتے رہے تو جب بھی شیطان مجھے برائی پر اکساتا میں اپنی انگلی آگ میں جلاتا تاکہ جھنم کی آگ اور اسکے عذاب کو یاد کروں اور اپنے نفس کو برائی سے باز رکھ سکوں 

یہاں تک کہ میری ساری انگلیاں جل گئی اور میں بے ہوش گیا ،

مجھے نہیں پتا کہ میں ہسپتال کیسے پہنچا۔یہ باتیں سن کر باپ بہت حیران ہوا۔ بلند آواز سے چلایا

اے لوگو۔۔۔۔۔۔! گواہ رہو میں نے اس پاک سیرت لڑکے سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا ہے سبحان اللہ یہ ہے اللہ سے ڈرنے والوں کا ذکر،

اگر اللہ کا خوف نہ ہوتا تو اس لڑکی کی عزت محفوظ نہ رہ سکتی ۔

جو بھی لڑکا یا لڑکی ناجائز تعلقات قائم کرتے ہیں یا غیر شرعی دوستیاں یا محبتیں کرتے ہیں تو وہ اپنے اس برے فعل کو چھپانے کی حتیٰ الامکان کوشش کرتے ہیں ۔

وہ چاہتے ہیں کہ والدین ان کے ان کاموں سے بے خبر رہیں حالانکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ اللہ ان کے ہر فعل سے با خبر ہے……

پھر بھی انکے دل میں اللہ کا خوف پیدا نہیں ہوتا …!!ایسا کیوں ہے…؟؟

کیونکہ والدین نے بچپن سے ان کے دل و دماغ میں اللہ کے خوف کے بجائے اپنا ذاتی خوف، رعب و دبدبہ ، سزا کا ڈر ہی بٹھایا ہے۔

اسی لیے آج وہ اللہ سے بے پرواہ ہو کر والدین سے چھپ کر گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں ۔

اور ایسے بھی والدین ہیں 

جنہوں نے اپنی اولاد کی تربیت خوف خدا پر کی تو انکی اولاد نے بھی ہمیشہ برائیوں سے اپنے آپ کو باز رکھا — مزید پوسٹ کے لیے مجھے فالو ضرور کریں

پیاسا کوا کہانی کا تیا پانچا

 آٹھویں جماعت کے ایک طالبعلم نے پولیس کو رپورٹ درج کرائی کہ اردو کا استاد انہیں جھوٹ پر مبنی پیاسا کوا کی کہانی پڑھا رہا ہے۔

رپورٹ درج ہوئی، FIR چاک ہوئی اور اب طالبعلم کا وکیل استاد پر جرح کر رہا ہے۔

۱۔ پیاسا کوا والا واقعہ کب پیش آیا؟

۲۔ یہ واقعہ کہاں پیش آیا ؟

۳۔ یہ واقعہ جس باغ میں پیش آیا وہ باغ کس کی ملکیت تھا؟

۴۔ اگر کوے کو کہیں بھی پانی نہ ملا تو گھڑے کے اندر پانی کہاں سے آیا ؟

۵۔ گھڑے پر بیٹھتے وقت کوے کا منہ کس سمت تھا ؟

۶۔ گھڑے کے اندر کوے نے کتنے کنکر ڈالے ؟

۷۔ کنکر گھڑے سے کتنے فاصلے پر پڑے تھے ؟

۸۔ ہر کنکر جو گھڑے میں ڈالا گیا، اس کا وزن کتنا تھا ؟

۹۔ کنکر مٹی آلود ہوتے ہیں تو منہ میں اٹھانے سے کوے کا پیٹ کیوں خراب نہ ہوا ؟

۱۰۔ کنکروں کی FSL رپورٹ کیا کہتی ہے ؟

۱۱۔ کوے والے واقعے کا Eye witness کون ہے ؟

۱۲۔ کوے والی کہانی کو سب سے پہلے کس نے رپورٹ کیا ؟

۱۳۔ کوے کی ہوا میں اڑنے کی رفتار 30 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے تو اسے کنکر اٹھانے میں اتنی تکلیف کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟

۱۴۔ گھڑے کے اندر کتنا پانی موجود تھا ؟

۱۴۔ گھڑے کو باغ میں کس نے رکھا تھا ؟

۱۵۔ گھڑے کو باغ میں کب رکھا گیا ؟

۱۶۔ گھڑے پر کوا پہلی دفعہ کس وقت بیٹھ گیا ؟

۱۷۔ کوے کو ٹوٹل کتنا وقت لگا کنکر لانے میں ؟

۱۸۔ کل کتنے کنکر ڈالے ؟

۱۹۔ کوے کے پینے کا پانی نہیں تھا تو باغ کیسے بنا ؟

۲۰۔ گھڑے کا حدود اربعہ بتائیے۔


باقی جرح اگلی تاریخ کو ہو گی..........


کچھ باتیں کام کی

 مرد کے کپڑوں میں عورت کی صفائی دکھائی دیتی ھے

عورت کے لباس میں مرد کی مردانگی ظاھر ھوتی ھـــــے۔۔۔

اور لڑکیوں کے لباس میں ماں کے اخلاق نظر آتے ھیـــــں...

ھم محبت، رواداری، وفاداری، احترام اور تمام اعلیٰ اقدار پر پلی ھوئی نسل ھیـــــں۔۔۔

ھم ان مردوں اور عورتوں کے درمیان رھتے تھے جو پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے، لیکن انہوں نے تعلقات اور احترام میں مہارت حاصل کی تھی...

انہوں نے ادب نہیں پڑھا لیکن ھمیں ادب سکھایا۔۔۔

انہوں نے فطرت کے قوانین اور حیاتیات کا مطالعہ نہیں کیا، لیکن انہوں نے ھمیں شائستگی کا فن سکھایا۔

انہوں نے رشتوں کی ایک بھی کتاب نہیں پڑھی لیکن اچھا سلوک اور احترام سکھایا۔۔۔

انہوں نے مذھب کا گہرائی سے مطالعہ نہیں کیا لیکن ھمیں ایمان کا مفہوم سکھایا۔۔۔

انہوں نے منصوبہ بندی کا مطالعہ نہیں کیا، لیکن انہوں نے ھمیں دور اندیشی سکھائی..

ھم وہ نسل ھیں جو گھر کے صحن میں بجلی بند ھونے پر سو جاتے تھے...

ھم آپس میں ایک دوسرے سے بات کرتے تھے مگر ایک دوسرے کے بارے میں باتیں نہیں کرتے تھے...

میری دلی محبت اور تعریف ان لوگوں کے لیئے جنہوں نے ھمیں یہ سکھایا

کہ والدین کی عزت ھوتی ھـــــے...

استاد کی عزت ھوتی ھـــــے...

محلے دار کی عزت ھوتی ھـــــے...

رفاقت کی عزت ھوتی ھـــــے...

اور دوستی کی عزت ھوتی ھے...

ھم ساتویں پڑوسی کی عزت کرتے تھے.. اور بھائی اور دوست کے ساتھ اخراجات اور راز بانٹتے تھـــــے...

ان لوگوں کے لیئے جنہوں نے وہ خوبصورت لمحات گزارے، اور اس نسل کے لیئے جس نے ھمیں پرورش اور تعلیم دی، اور میں ان سے کہتا ھوں :کہ آپ میں سے جو زندہ ھیـــــں اللہ رب العـــــزت ان کی حفاظت اور صحت عطا فرمائـــــے 

جو ھمیں چھوڑ کر اس دنیا فانی سے چلے گئے ان کی  بخشش فرمائـــــے۔۔۔آمین

میں جب گوروں کو بتاتا ہوں

میں جب گوروں کو بتاتا ہوں تو وہ حیران ہوتے ہیں کہ 

 میرے ملک میں گرمی میں کسی تندور پہ قطار لگی ہوئی ہو اور کہیں سے ایک خاتون یا کوئی بچی روٹی لینے آ جائے تو تندور والا قطار میں پہلے سے لگے مردوں میں سے کسی سے بھی پوچھے یا اجازت لیئے بغیر پہلے اس عورت یا بچی کو روٹی دے دیتا ہے. 

کسی بنک میں بل جمع کروانے کی قطار ہو تو وہاں بھی مردوں پر ترجیح کسی بھی آ جانے والی خاتون کو دی جاتی ہے۔

کسی سڑک کنارے کوئی کار یا موٹر سائکل خراب ہوجائے اور اُس پر فیملی یا لیڈیز موجود ہوں تو گزرنے والے عام طور پر اُن کی مدد کیلئے ضرور رکتے ہیں، بائیک والے اپنی موٹر سائیکل سے پیٹرول نکال کر اُن کو پیش کردیتے ہیں. 

کہیں سامان یا وزن اٹھانے کا معاملہ درپیش ہو تو بھی صنف نازک کو خصوصی احترام اور مدد دینا ہماری تہذیب کا بنیادی وصف ہے اور کم و بیش یہی معاملہ زندگی کے ہر شعبہ کا ھے میرے اس معاشرے میں ، ہاں کبھی کبھار اسکے برعکس بھی ہوجاتا ہوگا لیکن اسکو کوئی بھی پسند نہیں کرتا نہ اچھی نظر سے دیکھا جاتا ھے ۔ 

یقین جانیں کہ مغربی سوسائٹی میں اس طرح کے بیشتر معاملات میں عورت کو مجبور کیا جاتا ہے کہ اپنے کمزور ہونے اور صنف نازک سے تعلق رکھنے کا وہ ہرگز فائدہ حاصل نہ کرسکے، لیکن شکر ہے میرے معاشرے میں عورت کو مرد کے برابر نہیں، عام طور پر اُس سے بالاتر اور زیادہ قابل احترام سلوک کا مستحق سمجھا جاتا ہے۔

 ماں، بہن، بیوی اور بیٹی میرے دین نے ہر روپ میں خواتین کو خصوصی اور بہتر سلوک کا مستحق قرار دیا ہے 

پنجاب کے ڈویژن اور تحصیلیں

 پنجاب بھر کے Division کے اضلاع اور تحصیلوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا

ضلع کوٹ ادو اور تحصیل چوک سرور شہید بھی نئے نوٹیفکیشن میں شامل کر دئیے گئے

پاکستان کا صوبہ پنجاب  10 ڈویژنز، 41 اضلاع اور 156 تحصیلوں پر مشتمل ہے 

لاہور ڈویژن کے 4 اضلاع، لاہور، قصور ،شیخوپورہ، ننکانہ صاحب کی 22 تحصیلیں ہیں 

گوجرانوالہ ڈویژن کے 3 اضلاع گوجرانوالہ ،سیالکوٹ، نارووال کی 11 تحصیلیں ہیں 

گجرات ڈویژن کے 4 اضلاع گجرات ،حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین، وزیر آباد کی 12 تحصیلیں ہیں 

راولپنڈی ڈویژن 6 اضلاع راولپنڈی، مری ،چکوال ،اٹک ،جہلم ،تلہ گنگ کی 24 تحصیلوں پر مشتمل ہے 

ملتان ڈویژن 4 اضلاع ملتان، لودھراں، وہاڑی، خانیوال کی 14 تحصیلوں پر مشتمل ہے 

ساہیوال ڈویژن 3 اضلاع ساہیوال، پاکپتن ،اوکاڑہ کی 7 تحصیلوں پر مشتمل ہے 

بہاولپور ڈویژن 3 اضلاع بہاولپور ،بہاولنگر، رحیم یار خان کی 15 تحصیلوں پر مشتمل ہے 

ڈیرہ غازی خان ڈویژن 6 اضلاع ڈیرہ غازی خان، تونسہ ،راجن پور، لیہ ،مظفرگڑھ، کوٹ ادو کی 16 تحصیلوں پر مشتمل ہے

فیصل آباد ڈویژن 4 اضلاع فیصل آباد ،جھنگ ،چنیوٹ ،ٹوبہ ٹیک سنگھ کی 17 تحصیلوں پر مشتمل ہے 

سرگودھا ڈویژن 4 اضلاع سرگودھا ،خوشاب، میانوالی، بھکر کی 18 تحصیلوں پر مشتمل ہے 

سب سے زیادہ اضلاع راولپنڈی ڈویژن اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں ہیں 

سب سے زیادہ تحصیلیں راولپنڈی ڈویژن اور لاہور ڈویژن میں ہیں..

فیڈرل کالج آف ایجوکیشن، اسلام آباد

 فیڈرل کالج  سے آج تک محبت ھے 

میرے کالج مری یادوں کے پیکر سن لے

میں ترے واسطے روتا ہوں برابر سن لے

تیرے استادوں نے محنت سے پڑھایا ہے مجھے

تیرے بینچوں نے ہی انسان بنایا ہے مجھے

نا تراشیدہ سا ہیرا تھا تراشا تو نے

ذہن تاریک کو بخشا ہے اجالا تو نے

علم کی جھیل کا تیراک بنایا ہے مجھے

خوف کو چھین کے بے باک بنایا ہے مجھے

تجھ سے شفقت بھی ملی تجھ سے محبت بھی ملی

دولت علم ملی مجھ کو شرافت بھی ملی

شفقتیں ایسی ملی ہیں مجھے استادوں کی

پرورش کرتا ہو جیسے کوئی شہزادوں کی

تیری چاہت میں میں اس درجہ بھی کھو جاتا تھا

تیرے بینچوں پہ ہی کچھ دیر کو سو جاتا تھا



حفاظت کرنے والا صرف اللہ ہے

 ایک دفعہ کسی حاملہ ہرن کو بچہ جنم دینے کی حاجت پیش آئی، تو اس نے دریا کے کنارے پر موجود جنگل کی راہ اختیار کی۔

 پھر یوں ہوا کہ اچانک موسم خراب ہو گیا آسمان سے بجلی گری تو جنگل میں آگ لگ گئی، گھبراہٹ میں ہرن نے جان بچانے کیلئے آس پاس دیکھا تو ایک شکاری نشانہ بنا رہا تھا،  دوسری طرف شیر تھا۔

 ہرن کو  الجھن ہوئی کہ اس پھیلتی ہوئی آگ میں جل کر مرنا ہو گا  یا دریا میں ڈوب کر جان دینی ہو گی،  یا شکاری مار دے گا ، یا پھر شیر اپنے بھوک مٹانے کیلئے نوالہ بنا دے گا۔ ہر سمت خطرہ ہے فرار کی کوئی راہ نہیں، اُس وقت ہرن کے اختیار میں جو تھا

 وہ کرنے کا فیصلہ کیا، یعنی پیدائش پر توجہ مذکور کی پھر اہسا ہوا کہ شکاری نے نشانہ لگایا تو اسمان پر بجلی چمکی، اُس کی آنکھیں اچانک بند ہو گئیں اور تیر شیر کو جا لگا، زور دار مینہ برسا جنگل میں پھیلتی آگ ایک دم بجھ گئی۔ ہرن کو اس کے خالق نے بچا لیا۔

زندگی میں جب کبھی مشکلات و مصائب چاروں طرف سے گھیر لیں تو اس وقت وہ کام کریں، جو آپ کر سکتے ہیں، باقی چیزیں اس ذات کیلئے چھوڑ دیں۔ جس نے نظامِ عالم کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ وہی آپ کی حفاظت کرے گا ان شاء اللّه۔