ہمارے ہاں ایسے افراد جنہیں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق دی ہوتی ہے وہ مستحق افراد کو تلاش کرتے ہیں کہ ان کی مالی مدد کی جا سکے۔ لیکن اکثر اوقات ہم صحیح حقدار کی تلاش نہیں کر پاتے۔ یہ تحریر اسی پسِ منظر میں لکھ رہا ہوں۔
آپ نے دیکھا ہو گا کہ کئی دکانوں پر ادھیڑ عمر لوگ کہیں سیلز مین ہیں یا کسی نجی ادارے میں بہت کم تنخواہ یعنی دس سے پندرہ ہزار ماہانہ پر ملازمت کرتے ہیں اس عمر کے شخص کے عام طور پر تین چار بچے بچیاں کسی نہ کسی سکول و کالج میں زیر تعلیم ہوتے ہیں، وسائل کم ہیں،خرچ بہت زیادہ ہیں، اوپر سے سفید پوشی کا بھرم بھی قائم رکھنا ہے ۔ ایسے ہی کئی لوگ کہیں نہ کہیں ٹھیلا لگائے کھڑے ہوتے ہیں تمام اخراجات نکال کر بمشکل تین چار سو روپے بچت روزانہ کی نکال پاتے ہیں ۔
نوجوان بچیاں تعلیمی اداروں یا دیگر پرائیوٹ اداروں میں بہت کم تنخواہ پر ملازمت کرتی ہیں، اگر ان کے وسائل مناسب ہوں تو وہ ایسی جاب کبھی نہ کریں۔
بظاہر اچھے کپڑے پہنے ، چہرے سے خوش دکھائی دینے والے، ہنسی مذاق کرتے یہ لوگ ہماری مالی مدد کے اصلی مستحق ہیں۔ کوویڈ 19 کے لاک ڈاؤن نے ان پر ملازمت کے دروازے بند کر دیئے ہیں ۔ کئی لوگ بیروزگار ہو چکے ہیں۔
ایسے لوگ آپ کے محلے ، ٹاؤن ، گاؤں میں بھی ہوں گے۔ اپنے ہمسایوں اور قرابت داروں کو دیکھیے۔ کوئی بیوہ بچوں کا پیٹ پالنے کی تگ و دو کر رہی ہو گی، کالج یا یونیورسٹی میں زیر تعلیم کوئی بچہ یا بچی ٹیوشن پڑھا کر اپنے اخراجات پورے کرنے کی کوشش کر رہا ہو گا، کوئی غریب کسان بجلی کے بل ادا کرنے کے لیے گھر میں رکھی گندم فروخت کرنے پر مجبور ہوگا، کہیں کوئی مزدور مزدوری نہ ملنے پر اپنے بیوی بچوں سے آنکھ نہ ملا پا رہا ہوگا
۔ ہمیں چاہئے کہ ہم انہیں کسی نہ کسی طریقے سے رقم دے دیں ۔ کسی مزدور کو اس کی طے شدہ رقم سے زائد دے دیں۔
یقین رکھئے کہ کسی مستحق کی یہ مالی مدد ان سفید پوش گھرانوں کی آزمائشوں میں کمی لا سکتی ہے، ان کے بچے نئے لباس پہن سکتے ہیں ۔ بچوں کے لئے نئے کھلونے خریدنا ممکن ہو سکتے ہیں ۔یونیورسٹی میں جانے والے اعتماد سے جا سکتے ہیں ۔
آپ نے بازاروں میں چھوٹے چھوٹے بچوں بچیوں کو دیکھا ہو گا جن کے لباس بہت گندے اور میلے ہوتے ہیں سرکے بال الجھے ہوئے ہوتے ہیں پاوں میں چپل تک نہیں ہوتے ۔یہ کہیں فٹ پاتھ پر سوئے ہوئے بھی دکھائی دے جاتے ہیں فیس بک پر ان کی تصویریں اکثر پوسٹ کی جاتی ہیں ۔ یہ بچے خانہ بدوشوں کے بچے ہوتے ہیں جن کو پکھی واس یا چنگڑ بھی کہتے ہیں یہ خاندان کی صورت میں اکثر سفر میں رہتے ہیں زمین پر سوتے ہیں ان کی عورتیں اور بچے بھیک مانگتے ہیں یہ جان بوجھ کر گندے رہتے ہیں کئی کئی روز تک نہ نہاتے ہیں نہ ہاتھ منہ دھوتے ہیں تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ خیرات مل سکے ۔ ان کے مرد جھونپڑیوں میں ایل ای ڈی ٹی وی پر فلمیں دیکھتے رہتے ہیں اور چرس بھرے سگریٹ پیتے ہیں ۔
اگر آپ ان کو ایک لاکھ روپے بھی دے دیں تب بھی یہ لوگ جھونپڑی میں ہی رہیں گے اور ان کے بچے اور عورتیں اسی طرح بھیک مانگتے رہیں گے ۔ گذشتہ دنوں کراچی کے صاحب نے ان جھونپڑی والوں کو روزگار فراہم کرنے کی کوشش کی مگر اس ایریا کے تمام مرد وں نے ملازمت کرنے سے انکار کر دیا ۔ مطلب یہی تھا کہ جب خیرات کی رقم سے گھر چل رہا ہے تو کیا ضرورت ہے نوکری کرنے کی ۔
اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ کس کو اپنی مالی مدد کا اصلی مستحق سمجھتے ہیں ۔







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں