اب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گا


دنیا میں ماں ایک ایسا رشتہ ہے جس کاکوئی نعم البدل نہیں ہے ۔ ماں خدا کی محبت کا دنیا میں ایک روپ ہے ۔ ماں سے زیادہ اولاد سے محبت کرنے والا کوئی اور نہیں ۔ ماں کے قدموں میں جنت رکھی گئی ہے ۔ماں اپنے بچوں کے لیے جیتی ہے اور بچے اس کی سب سے بڑی دولت ہوتے ہیں۔
 ماں شفقت، خلوص، بے لوث محبت اور قربانی کا دوسرا نام ہے۔ ماں دُنیا کا وہ پیارا لفظ ہے جس کو سوچتے ہی ایک محبت، ٹھنڈک، پیار اور سکون کا احساس ہوتا ہے۔5مئی، بائیسویں روزے کو میری پیاری ماں مجھے ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر اس دارِ فانی سے چلی گئیں۔ اس دن کے بعد سے یہ دنیا بے رنگ دکھائی دیتی ہے، سارے رشتے بے مطلب سے لگتے ہیں مگر صد افسوس کہ وہ ہر پل دعائیں دینے والے لب خاموش ہو چکے ہیں۔ ماں کا محبت بھرا سراپا ایک مٹی کی ڈھیری بن چکا ہے جہاں انہیں صدا دیں بھی تو کوئی جواب نہیں ملتا۔ امی جان کی مجھ سے والہانہ محبت بلکہ عشق کو بیان کرنا کما حقہ میرے بس میں نہیں بس چند منتشر اور بے ہنگم الفاظ کو اپنی سوچ اور کم علمی کے مطابق صفحہ قرطاس پر بکھیرنے کی کوشش کررہا ہوں۔

ہم لوگ دیہات میں رہتے ہیں اور سادہ سی زندگی ہے۔ کبھی اچھے کبھی برے دن آتے رہتے تھے مگر امی کے لباس سے سادگی گئی اور نہ رہن سہن میں بناوٹ آئی۔ فضول خرچی نام کی کوئی چیز میں نے اپنے گھر میں کبھی نہ دیکھی۔ امی کو اپنی ساری اولاد میں مجھ سے زیادہ محبت تھی۔بچپن میں میں اپنے ہم عمر کزنوں کے ساتھ مٹی کے کھلونوں سے کھیلتا تھا اور ہروقت میلا کچیلا رہتا تھا۔ تختی لکھتے ہوئے قلم اکثر  سر کے بالوں سے صاف کرتا تھا۔ جمعہ کے دن سکول سے چھٹی ہوتی تھی اور اس دن امی مجھے ایسے نہلاتی تھیں کہ سر سے سیاہی اور جسم سے میل نکل جاتی ، میرے چہرے، ناک اور کان کو ایسے ملتیں کہ اگلے دو گھنٹے درد رہتا تھا۔

اچھے سے اچھے ہوٹلوں میں کھانے کھائے پر امی کے پراٹھے اور سالن کے ذائقے کے قریب سے بھی کوئی نہیں گزرا۔ بچپن میں دہی مجھے بہت پسند تھا، امی رات کو دودھ کو جاگ لگاتے ہوئے دس بارہ بادام بھی اس میں پھینک دیتی تھیں۔ صبح تازہ دہی کا بڑا سا پیالہ اور بادام کی گریاں میرے اٹھنے سے پہلے میرے سرہانے کے نزدیک ہوتی تھیں۔ مجھے نہیں یاد کہ کوئی خواہش میں نے کی اور امی نے پوری نہ کی ہو۔ میری عیبوں کو ہمیشہ میرے رب کی طرح  چھپایا۔  کم آمدنی کے باوجود اچھا پہنایا ، اچھا کھلایا۔  جب جب امی نے مجھے گلے لگایا میں نے زندگی کی ہر پریشانی کو خود سے کوسوں دور پایا۔ ان کے سایہ عاطفت میں سکون  ہی سکون ملا۔ زمانے کی کڑی دھوپ اور غبار سے ان کا وجود میرے لیے ہمیشہ سائبان رہا۔میرا نام ہمیشہ ان کی  نمازوں اور ریاضتوں میں پہلی ترجیح میں رہا۔

اسلام آباد پڑھنے کے لیے گیا تو ایک دو ماہ بعد گھر آنا ہوتا تھا۔ موبائل فون اس وقت کسی کسی کے پاس ہوتا تھا۔ مجھے فون لے کر دیا۔ مجھے کہتی تھیں کہ دوسرے تیسرے دن گاؤں کے  کسی  شخص کے رابطہ نمبر پہ کال کر کے مجھ سے بات کر لیا کرو بیلنس میں بھجوا دیا کروں گی۔ جب چھٹیوں پہ گھر آتا تو میری کسی مہمان کی طرح آؤ بھگت ہوتی،  اچھے اچھےپکوان بنتے۔ جب اسلام آباد جانے لگتا تو سوہن حلوہ، پنجیری، برفی وغیرہ امی خود بناکے دیتیں۔

سال 2016میں مجھے امی کے ساتھ دیارِ عرب حاضری کا شرف ملا۔ ایسے بیس دن نہ زندگی میں پہلے ملے تھے اور نہ بعد میں کبھی نصیب ہوئے۔ مکہ اور مدینہ دونوں شہروں میں بیت اللہ اور مسجد نبوی سے ایک منٹ کی مسافت پہ ہماری رہائش تھی۔ دونوں جگہ کمرے میں دو ہی بیڈ تھے جہاں ہم دونوں ماں بیٹے نے زندگی کے بیس خوبصورت دن گزارے ۔ مکہ مکرمہ میں اکثر امی اور میں رات کو ایک یا دو بجے اٹھ کر خانہ کعبہ کی زیارت کے لیے آجاتے اور نماز فجر تک طواف، نوافل، اللہ کے گھر کی زیارت اور تسبیح میں گزارتے۔ پھر تہجد اور نماز فجر ادا کرکے ہوٹل لوٹتے۔ ہوٹل میں پھل  اور جوس سے ناشتہ کرتے اور ظہر تک آرام کرتے  تھے۔ ظہر کے بعد اکثر زیارات کے لیے نکلتے کبھی عصر اور کبھی مغرب تک لوٹتے۔ مغرب مسجد حرام میں ادا کرتے اور عشا ء تک وہیں رہتے۔عشا ء ادا کر کے ہوٹل لوٹ جاتے۔  مکہ میں قیام کے دوران ہمارا تقریباً یہی معمول رہا۔

مدینہ میں ہمارا شیڈول یہ تھا کہ علی الصبح اٹھ کر فجر کی نماز مسجد نبوی میں  پڑھتے تھے۔ اس کے بعد جنت البقیع میں جا کر فاتحہ پڑھتے اور پھر کبھی زیارات کے لیے چلے جاتے یا کبھی ہوٹل میں آ کر  آرام کرتے۔ ظہر کی نماز کے لیے مسجد جاتے اور اس کے بعد کھانا کھانے کے لیے واپس ہوٹل آ جاتے۔ عصر تک آرام کرتے پھر عصر سے مغرب کبھی بلال مسجد، کبھی جنت البقیع، کبھی مارکیٹ، کبھی شہر، کبھی گپ شپ، کبھی مسجد کو چاروں طرف گھوم کر دیکھنا، کبھی ریاض الجنت اور کبھی روضہ رسول پر حاضری۔ مغرب سے عشاء کے مابین مسجد میں رہتےاور نماز عشاء کی ادائیگی کے بعد واپس ہوٹل چلے جاتے۔ رات کاکھانا کھاتے اوراس کے بعد گھنٹوں امی اور میں بیٹھ کر گپیں لگاتے۔ ہوش سنبھالا تو پڑھائی پھر ملازمت ، امی کے ساتھ دنیا سے ماورا ہوکر پہروں باتیں کرنے کاموقع بھی یہاں میسر آیا۔

لاہور میں ملازمت ہوئی تو تھوڑی سی تنخواہ  لگی، اس میں بمشکل گزارہ ہوتا تھا۔ اگر میں ہر ویک اینڈ پہ گھر جاتا تو مہینہ ختم ہونے سے قبل تنخواہ ختم ہوتی تھی۔ امی مجھے کہتی تھیں تم ویک اینڈ پہ لازمی آیا کرو آنے جانے کا کرایہ میں دے دیا کروں گی۔ جو برکت امی کے دیے ہوئے ان روپوں میں تھی وہ کبھی میری کمائی میں نہیں دیکھی۔

پچھلے دو سال سے ان کی صحت مسلسل کمزور ہو رہی تھی۔ ٹیسٹ کروائے لیکن کوئی بیماری  نہیں تھی۔ معدے میں تیزابیت کبھی کبھار ہوتی  اور کبھی بلڈ پریشر ۔ مجھے اکثر کہتیں کہ اللہ کرے جب مجھے موت آئے تم گھر پہ ہو، ایسا نہ ہو کہ تم لاہور میں ہو اورتمہیں میرے مرنے کی خبر فون پہ ملے ،  میں بھی ان کی ایسی باتیں ہنس کے سُن لیتا ۔ اپنی زندگی کی آخری رات میں ان کے چہرے پر بہت زیادہ سکون تھا۔ ہسپتال کے بیڈ پر ہم کہتے کہ لیٹی رہیں مگر وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد اٹھ کے بیٹھ جاتیں۔ ان کے ایک جانب میری خالہ بیٹھی تھیں دوسری جانب مجھے کہا تم بیٹھو، میں بیٹھا تو کہا مزید قریب ہو کے بیٹھو، مزید قریب ہوا تو کہا مزید قریب ہو جاؤ۔ میرے ساتھ ڈھیروں باتیں  کیں۔مجھے کہا کہ موت پریشانی کی بات نہیں،  ایک نہ ایک دن اللہ کے پاس جانا ہی ہوتا ہے۔ میں زندگی سے خوش ہوں کہ تم سبھی بھائیوں کو اپنے اپنے بچوں کے ساتھ آباد دیکھتی ہوں۔ مزید کہا کہ میں تم سے خوش ہوں  اور ڈھیروں دعائیں دیں۔پھرکہا کہ  بڑے بھائی کو برداشت کر لینا کبھی اس جیسا بن  کے جگ ہنسائی کا سبب نہ بننا، چھوٹے بھائی کا ہاتھ کبھی مت چھوڑنا،  مل کے رہنا۔

زندگی میں کئی نشیب و فراز آئے مگرامی جان کی محبت میں کبھی کمی نہیں آئی ۔ انہوں نے نہ ہی کبھی احسان جتایا اور نہ ہی کبھی اپنی محبتوں کا صلہ مانگا بلکہ بے غرض ہو کر اپنی محبت ہم پر نچھاورکرتی رہیں ۔ مجھے کوئی بھی مسئلہ پیش آیا اس کا حل مجھے میری ان پڑھ ماں سے ملا۔ یہ حقیقت ہے کہ ماں کی محبت ایک بحرِ بیکراں کی طرح ہے اور اس بے پایاں محبت کو لفظوں میں نہیں پرویا جا سکتا۔امی جان  محتاجی اور بری موت سے ہمیشہ پناہ مانگتی تھیں۔  اللہ تعالیٰ نے اپنی نیک بندی کو رمضان کے بائیسویں روزے کے دن صبح  سحری کے وقت اس حال میں  اپنے پاس بُلا لیا کہ وہ اس رات مسلسل کئی گھنٹوں سے  کلمہ، درود شریف، آیت الکرسی و دیگر دعائیں  پڑھ رہی تھیں۔ اللہ تعالیٰ امی جان کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائےاور ہمیں ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔

(مالک خان سیال)


0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں