میں جب گوروں کو بتاتا ہوں

میں جب گوروں کو بتاتا ہوں تو وہ حیران ہوتے ہیں کہ 

 میرے ملک میں گرمی میں کسی تندور پہ قطار لگی ہوئی ہو اور کہیں سے ایک خاتون یا کوئی بچی روٹی لینے آ جائے تو تندور والا قطار میں پہلے سے لگے مردوں میں سے کسی سے بھی پوچھے یا اجازت لیئے بغیر پہلے اس عورت یا بچی کو روٹی دے دیتا ہے. 

کسی بنک میں بل جمع کروانے کی قطار ہو تو وہاں بھی مردوں پر ترجیح کسی بھی آ جانے والی خاتون کو دی جاتی ہے۔

کسی سڑک کنارے کوئی کار یا موٹر سائکل خراب ہوجائے اور اُس پر فیملی یا لیڈیز موجود ہوں تو گزرنے والے عام طور پر اُن کی مدد کیلئے ضرور رکتے ہیں، بائیک والے اپنی موٹر سائیکل سے پیٹرول نکال کر اُن کو پیش کردیتے ہیں. 

کہیں سامان یا وزن اٹھانے کا معاملہ درپیش ہو تو بھی صنف نازک کو خصوصی احترام اور مدد دینا ہماری تہذیب کا بنیادی وصف ہے اور کم و بیش یہی معاملہ زندگی کے ہر شعبہ کا ھے میرے اس معاشرے میں ، ہاں کبھی کبھار اسکے برعکس بھی ہوجاتا ہوگا لیکن اسکو کوئی بھی پسند نہیں کرتا نہ اچھی نظر سے دیکھا جاتا ھے ۔ 

یقین جانیں کہ مغربی سوسائٹی میں اس طرح کے بیشتر معاملات میں عورت کو مجبور کیا جاتا ہے کہ اپنے کمزور ہونے اور صنف نازک سے تعلق رکھنے کا وہ ہرگز فائدہ حاصل نہ کرسکے، لیکن شکر ہے میرے معاشرے میں عورت کو مرد کے برابر نہیں، عام طور پر اُس سے بالاتر اور زیادہ قابل احترام سلوک کا مستحق سمجھا جاتا ہے۔

 ماں، بہن، بیوی اور بیٹی میرے دین نے ہر روپ میں خواتین کو خصوصی اور بہتر سلوک کا مستحق قرار دیا ہے 

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں