فیڈرل کالج سے آج تک محبت ھے
میرے کالج مری یادوں کے پیکر سن لے
میں ترے واسطے روتا ہوں برابر سن لے
تیرے استادوں نے محنت سے پڑھایا ہے مجھے
تیرے بینچوں نے ہی انسان بنایا ہے مجھے
نا تراشیدہ سا ہیرا تھا تراشا تو نے
ذہن تاریک کو بخشا ہے اجالا تو نے
علم کی جھیل کا تیراک بنایا ہے مجھے
خوف کو چھین کے بے باک بنایا ہے مجھے
تجھ سے شفقت بھی ملی تجھ سے محبت بھی ملی
دولت علم ملی مجھ کو شرافت بھی ملی
شفقتیں ایسی ملی ہیں مجھے استادوں کی
پرورش کرتا ہو جیسے کوئی شہزادوں کی
تیری چاہت میں میں اس درجہ بھی کھو جاتا تھا
تیرے بینچوں پہ ہی کچھ دیر کو سو جاتا تھا







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں