بچے 'بہت بڑا' مسئلہ پیدا کریں تو والدین کیا کریں؟

ایک دفعہ ام ایمن رضی اللہ عنھا  نبوی میں داخل ہوئیں اور آپﷺ کو بتایا امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنھما کھو گئے ہیں،

دونوں بہت ہی کم سن بچے تھے تو نانا کا پریشان ہونا فطری۔۔۔ساتھ میں حسن و حسین سے گہری محبت نے یقینا ایک تڑپ سی پیدا کر دی ہوگی۔

 تو آپ ﷺ اور صحابہ کرام فورا ان کی تلاش میں نکل گئے۔۔۔وہ دونوں ایک ویرانے میں ملے جہاں ایک خطرناک سانپ ان پر حملے کو تیار تھا اور دونوں بچے خوف سے ایک دوسرے سے چمٹے ہوئےتھے۔

راوی کے مطابق سانپ اور رسولﷺ کی درمیان گفتگو شروع ہو گئی۔۔۔۔یہ گفتگو کیا تھی اور کیسی ہوئی، یہ یقینا ایسا معاملہ ہے جہاں ہم اندازہ ہی لگا سکتے ہیں۔۔۔۔

خیر سانپ فورا اس جگہ سے نکل گیا۔۔۔۔

اب سوچیں ہمارے زمانے میں یہ ہوتا تو سب سے پہلے والدین یا بزرگوں کا ردعمل کیا ہوتا؟

چیخنا۔۔۔چلّانا۔۔۔ایک دو چپتیں اور دیر تک لیکچر وغیرہ وغیرہ

ایسے موقع پر جب بچے پہلے ہی خوف سے سن ہو اور محبت کی لہروں اور الفاظ سے 'پرسکون' ہونا چاہتا ہو تو یہ اشتعال انگیز رویہ کیا شخصیت ڈویلپ کرے گا؟

خیر تو آپ  ﷺ نےجلدی سے انہیں اٹھایا اورسر سہلانے لگے اور ایک کو ایک کندھے اور دوسرے کو دوسرے کندھے پر اٹھا لیا اور کہا کہ تم اللہ کی نظر میں اتنے مکرم ہو کہ تمہیں بچانے کے لیے جو مجھ سے ہو سکا میں وہ کروں گا۔ (رواہ الطبرانی)

والدین کیا کریں؟؟؟

1۔سیرت کو جاننے۔۔۔سمجھنے۔۔۔اور روح میں اتارنے کی 'شدید ترین تڑپ' پیدا کریں

2۔یہاں اہم نکتہ یہ ہے کہ ہو سکتا ہے آپ کا بچہ کچھ خطرناک یا غلط کر دے تو پہلے سے خوفزدہ بچے کو فورا ہی برا  بھلا یا ڈانٹنا نہ شروع کر دیں۔۔۔۔۔۔۔ 

3۔ ایسے کسی موقع پر'کمفرٹ' فراہم کریں۔۔۔۔گلے لگا کر، محبت بھرے الفاظ سے ۔

4۔ جیسے رسولﷺ گمشدگی سنتے ہی فورا اٹھ کر چلے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔بچے کو تکلیف پر فورا رسپانس دیں۔ 

5۔ یہ جانتے رہیں کہ آپ کے بچے کس وقت۔۔۔۔ کیا کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

6۔ اپنے بچوں کو آج کے سانپوں سے بچانے کے لیے 'ہمہ وقت' الرٹ رہیں۔


#ننھے صحابہ۔۔۔۔تربیت نبی ﷺ کے سائے میں

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں